میں نے ایک مضمون لکھا ” سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ” ۔ مارچ برصغیر کی تاریخ میں محض ایک مہینہ نہیں، ایک سوال ہے—ایک ایسا سوال جو ہر سال ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتا ہے: بھگت سنگھ کون تھا؟ ایک دہشت گرد، جیسا کہ سامراجی عدالتوں، نوآبادیاتی پولیس اور ان کے فکری وارثوں نے کہا؟ یا ایک انقلابی، جیسا کہ محکوم عوام، بیدار نوجوانوں اور آزادی کے خواب دیکھنے والوں نے سمجھا؟ اس سوال کا جواب صرف ایک فرد کے مقدمے میں نہیں، بلکہ اس پورے عہد کی سیاسی، اخلاقی اور فکری کشمکش میں پوشیدہ ہے جس میں سامراج اپنے تشدد کو قانون کہتا تھا اور مزاحمت کو جرم۔
زیرِ نظر مضمون اسی بنیادی سوال کے گرد تشکیل پاتا ہے۔ اس میں بھگت سنگھ کی شخصیت کو محض جذباتی عقیدت یا سطحی الزام کے دو انتہاؤں کے درمیان نہیں، بلکہ تاریخ، سیاست، نوآبادیاتی جبر، انقلابی فکر اور قومی آزادی کی جدوجہد کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیس بُک پر ایک پوسٹ کے نیچے ہونے والی بحث کو نقطۂ آغاز بنا کر یہ مضمون اُن اعتراضات کا جواب دیتا ہے جو آج بھی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں پر عائد کیے جاتے ہیں: کیا وہ محض بم اور پستول کے آدمی تھے؟ کیا ان کا راستہ صرف تخریب کی طرف جاتا تھا؟ کیا گاندھی کا عدم تشدد ہی واحد اخلاقی اور سیاسی راستہ تھا؟ اور کیا نوآبادیاتی تشدد اور محکوم کی جوابی مزاحمت کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟
یہ تحریر ان سوالات سے بچتی نہیں، ان کے قلب میں اترتی ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کے مقدمے، سانڈرز اور چانن سنگھ کے واقعات، لالہ لاجپت رائے کی شہادت، اسمبلی بم کیس، گاندھی، نہرو، سبھاش، جناح، فینن اور سارتر—سب ایک بڑی بحث کے اجزا بن کر سامنے آتے ہیں۔ مقصد کسی تاریخی کردار کو معصوم فرشتہ یا خونخوار دیو بنا کر پیش کرنا نہیں، بلکہ اُس بیانیاتی جنگ کو بے نقاب کرنا ہے جس میں آج بھی سامراجی اور نوآبادیاتی ذہنیت مزاحمت کو بدنام کرنے کے لیے زندہ ہے۔
یہ مضمون دراصل ایک نام کے دفاع سے زیادہ، ایک اصول کی بازیافت ہے: یہ سمجھنے کی کوشش کہ جبر کے زمانے میں مزاحمت کی اخلاقیات کیا ہوتی ہیں، آزادی کی سیاست کن راستوں سے گزرتی ہے، اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ سامراجی عدالتوں کی فردِ جرم سے نہیں ہوتا۔ بھگت سنگھ پر یہ بحث ماضی کا باب نہیں؛ یہ ہمارے حال کا آئینہ بھی ہے۔ کیونکہ جب تک ظلم اپنے آپ کو نظم و نسق کہتا رہے گا، تب تک یہ سوال زندہ رہے گا کہ باغی کون ہے اور مجرم کون۔
بیانیوں کی جنگ
بھگت سنگھ اور اُن کے رفقا کے گرد ابتدا ہی سے بیانیوں کی ایک شدید جنگ برپا تھی۔ سب سے پہلا بیانیہ خود برطانوی سامراج کے پروپیگنڈا نظام نے تراشا۔ اس بیانیے میں بھگت سنگھ کوئی سیاسی شخصیت نہیں تھے، نہ ایک تاریخی اضطراب کی علامت، نہ ایک محکوم قوم کے بیدار ضمیر کی آواز؛ بلکہ محض “باغی”، “دہشت گرد” اور “خونخوار قاتل” تھے—ایسے عناصر جو قانون، اخلاق، شرافت اور رعایت کے تمام دائروں سے خارج قرار دیے جائیں۔ سامراجی ریاست کے لیے یہ محض ایک عدالتی درجہ بندی نہ تھی بلکہ ایک سوچی سمجھی بیانیاتی حکمت عملی تھی: تاکہ قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر مزاحمت کو مجرمانہ رنگ دیا جا سکے، اور جبر کے منظم، مسلسل، ریاستی تشدد کو “نظم و نسق” کے مقدس نام میں چھپا دیا جائے۔ مگر یہ بیانیہ، اپنی تمام سرکاری قوت اور نوآبادیاتی تکبر کے باوجود، برصغیر کے عوام کے دلوں میں جگہ نہ بنا سکا۔ قومی آزادی کی جدوجہد کی صفِ اول کی قیادت نے بھی اسے مسترد کر دیا۔ عوام نے بھگت سنگھ کو مجرم نہیں بلکہ اپنے زخمی وقار، اپنی توہین زدہ خودی اور اپنی پامال آزادی کے استعارے کے طور پر دیکھا۔
دوسرا بیانیہ اختلاف کا تھا، انکار کا نہیں۔ یہ آل انڈیا نیشنل کانگریس کے ایک بڑے حصے، اور اس سے باہر موہن داس کرم چند گاندھی اور اُن کے پیروکاروں کا بیانیہ تھا۔ اس زاویۂ نظر میں بھگت سنگھ کی حب الوطنی، جرات، ایثار اور اخلاص محلِ نزاع نہ تھے؛ نزاع اس بات پر تھا کہ کیا سامراج کے خلاف تشدد کو بطور سیاسی حکمت عملی اختیار کیا جا سکتا ہے؟ گاندھی کے نزدیک عدم تشدد محض ایک طریقہ نہ تھا بلکہ ایک اخلاقی اصول تھا، ایک ایسا پیمانہ جس کے بغیر آزادی کی جدوجہد اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔ اُن کے خیال میں اگر محکوم بھی وہی زبان اختیار کرے جو حاکم استعمال کرتا ہے، تو پھر ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔ اس لیے وہ بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کے طریقِ کار سے اصولی اختلاف رکھتے تھے، اگرچہ اُن کے جذبے اور قربانی کو یکسر رد نہیں کرتے تھے۔
لیکن یہی پورا منظرنامہ نہ تھا۔ اس کے بالمقابل ایک تیسرا فکری و سیاسی ردِعمل بھی موجود تھا—وسیع، باوزن اور تاریخی اہمیت کا حامل۔ ایسے لوگ کم نہ تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ سامراجی قبضہ اپنی اصل میں ایک منظم تشدد ہے، اور اس کے مقابلے میں محکوم کی طرف سے جوابی قوت کا استعمال بعض حالات میں ایک تاریخی ناگزیریت بن جاتا ہے۔ کانگریس کے اندر موجود سوشلسٹ رجحانات، اور وہ قوم پرست عناصر جو گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کو سیاست کا مستقل اصول ماننے پر آمادہ نہ تھے، بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کے اس موقف کو ایک مخصوص تاریخی پس منظر میں جائز سمجھتے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ اندھا تشدد نہیں تھا بلکہ سامراجی جبر کے مقابل ایک جواب، ایک اعلان کہ قوم ابھی مردہ نہیں ہوئی۔ جواہر لعل نہرو اور سبھاش چندر بوس جیسی اہم شخصیات اسی فضا میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ شاید ہر اقدام سے متفق نہ ہوں، مگر وہ اس بنیادی حقیقت کو سمجھتے تھے کہ سامراجی جبر ایسی فضا پیدا کر دیتا ہے جس میں محض نصیحت اور ضبط سے تاریخ آگے نہیں بڑھتی۔
محمد علی جناح کا موقف اس پوری بحث میں ایک نہایت اہم اور باریک بین مقام رکھتا ہے۔ وہ نہ اصولی طور پر سیاست میں تشدد کے قائل تھے اور نہ اسے کوئی رومانوی تقدیس دیتے تھے۔ مگر اُن کی نگاہ اتنی سطحی نہ تھی کہ وہ صرف نتیجے کو دیکھتے اور اس کے اسباب کو نظرانداز کر دیتے۔ اُن کے نزدیک اصل مسئلہ یہ تھا کہ برطانوی سامراج نے جبر، استبداد اور سیاسی گھٹن کا ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس میں نوجوانوں کے لیے سخت ردِعمل کی راہ اختیار کرنا تقریباً ناگزیر ہو گیا تھا۔ گویا اگر کہیں تشدد ظاہر ہوا تو وہ خلا میں پیدا نہ ہوا؛ وہ اسی نوآبادیاتی حالات کی پیداوار تھا۔ جناح اس کی بنیادی ذمہ داری خود سامراجی حکومت پر عائد کرتے تھے، جیسا کہ انہوں نے لاہور سازش کیس میں بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کے مقدمے کے دوران اپنے دلائل میں واضح کیا۔
یوں بھگت سنگھ کے گرد ابھرنے والے یہ مختلف بیانیے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ مسئلہ کبھی اتنا سادہ نہ تھا کہ ایک طرف “جرم” ہو اور دوسری طرف “قانون”، یا ایک طرف “تشدد” اور دوسری طرف “اخلاق”۔ اصل کشمکش اس سے کہیں زیادہ گہری تھی: یہ جواز کی جنگ تھی، سیاست کی زبان کی جنگ تھی، اور سب سے بڑھ کر اس سوال کی جنگ تھی کہ محکوم قوم اپنی آزادی کی داستان کس لہجے میں لکھے—درخواست کے لہجے میں، اخلاقی احتجاج کے لہجے میں، یا انقلابی بغاوت کے لہجے میں۔ بھگت سنگھ اسی آخری لہجے کے سب سے روشن، سب سے خطرناک، اور اسی لیے سب سے زیادہ غلط سمجھے جانے والے نمائندوں میں سے ایک تھے۔
بھگت سنگھ کا اپنا موقف: تشدد نہیں، شعور کی بیداری
خود بھگت سنگھ نے اُن اعتراضات کا مفصل جواب دیا ہے جو اُن کی سیاست اور طریقِ کار پر اٹھائے جاتے رہے۔ یہ جواب ہمیں اُن کی سیاسی تحریروں اور خطوط میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر کلکتہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ رسالے ماڈرن ریویو کے مدیر رامانند چٹرجی کے ادارتی نوٹ کے جواب میں لکھا گیا اُن کا خط اس بحث کو نہایت وضاحت کے ساتھ سمیٹ دیتا ہے۔ ان تحریروں کو سامنے رکھ کر یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بھگت سنگھ کے نزدیک “تشدد کا استعمال” نہ کوئی مستقل اصول تھا اور نہ ہی ان کی سیاست کی بنیاد۔
بھگت سنگھ اپنی جیل کی تحریروں میں بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اُن کی طرف سے قوت کے استعمال کا سہارا ایک وقتی حکمت عملی تھی—ایک ایسا اقدام جو اُس وقت اختیار کیا گیا جب پورے ہندوستان میں سامراج کے خلاف تحریک ماند پڑ چکی تھی، اور ایک گہری خاموشی اور خوف نے فضا کو جکڑ لیا تھا۔ اُن کے نزدیک پنجاب اسمبلی میں بم پھینکنے کا مقصد کسی کو قتل کرنا نہیں تھا، بلکہ اُن کے اپنے الفاظ میں “بہروں کو سنانا” تھا—یعنی اُس سماج کو جھنجھوڑنا جو جبر کے سامنے ساکت ہو چکا تھا۔ اسی طرح لالہ لاجپت رائے کی موت کا بدلہ بھی محض انتقام نہ تھا، بلکہ اس خوف، جمود اور خاموشی کو توڑنے کی ایک علامتی کوشش تھی جو سامراجی تشدد کے نتیجے میں مسلط ہو چکی تھی۔
بھگت سنگھ نوجوانوں سے مخاطب ہو کر یہ بات نہایت وضاحت سے کہتے ہیں کہ “انقلاب زندہ باد” اور “سامراج مردہ باد” کے نعروں کا مقصد لوگوں کو پستول اٹھانے والے یا بم پھینکنے والے بنانا نہیں ہے۔ اُن کے نزدیک انقلاب کا حقیقی مفہوم یہ تھا کہ سامراجی قبضے سے نجات حاصل کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اُس سماجی نظام کو بھی بدل دیا جائے جس میں انسان، انسان کا استحصال کرتا ہے۔ ان کے نزدیک اصل ہدف ایک ایسا سماج تھا جہاں انصاف، برابری اور آزادی محض نعرے نہ ہوں بلکہ زندہ حقیقت بن جائیں۔
یہی وجہ ہے کہ بھگت سنگھ کے نظریات اور جدوجہد کو اُس عہد کے قومی رہنماؤں نے، چاہے وہ اُن سے مکمل اتفاق رکھتے ہوں یا جزوی اختلاف، کبھی بھی محض “دہشت گردی” یا “قتل و غارت” کے طور پر نہیں دیکھا۔ اختلاف ضرور تھا، طریقِ کار پر تنقید بھی تھی، مگر ان کی نیت، مقصد اور قربانی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ قومی آزادی کی تحریک سے وابستہ قیادت اور عوام، دونوں کے نزدیک بھگت سنگھ ایک ایسے مجاہدِ آزادی تھے جنہوں نے اپنی جان قربان کر کے غلامی کے خلاف مزاحمت کو ایک نئی معنویت عطا کی۔ اسی لیے وہ ایک مجرم نہیں بلکہ ایک شہید کے طور پر یاد کیے گئے—اور آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
اعتراضات کا خلاصہ اور مکالمے کی ضرورت
اس تمہید کے بعد اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُس بحث کی طرف آیا جائے جو مذکورہ پوسٹ کے نیچے بعض خاص تبصروں کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ تبصرے محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک بڑے فکری رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اُن اعتراضات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اُن کا مدلل جواب پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے تحت میں اپنے قارئین کے سامنے اُن اعتراضات کا خلاصہ اور پھر اُن پر اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہا ہوں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے سید شمائل احمد قادری نے مجموعی طور پر جو اعتراضات اٹھائے، اُن کا لبِ لباب یہ ہے کہ جمہوری جدوجہد کے بجائے ہتھیار اٹھانے سے کوئی تحریک اپنی اصل انقلابی روح کھو دیتی ہے اور محض مار دھاڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اُن کے نزدیک کانگریس اور خاص طور پر مہاتما گاندھی کا فلسفۂ عدم تشدد ہی وہ درست راستہ تھا جس کے ذریعے آزادی حاصل کی جا سکتی تھی۔ اسی کے ساتھ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ 1857 کی جنگِ آزادی کو ہمیشہ یک رُخی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ اُس میں ایسے واقعات بھی شامل تھے جن میں انگریز عورتوں اور بچوں کے ساتھ سخت سلوک کیا گیا، جنہیں بیان نہیں کیا جاتا۔ اُن کے خیال میں سامراج سے آزادی اور ایک نئے سماج کی تشکیل صرف گاندھی کے بیانیے کے ذریعے ممکن تھی، جبکہ بھگت سنگھ کا راستہ، خواہ وہ کتنا ہی نظریاتی اور بلند آدرش کیوں نہ رکھتا ہو، بالآخر تخریب کی طرف جاتا ہے۔
یہ اعتراضات اپنی جگہ ایک سنجیدہ فکری چیلنج پیش کرتے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے مختصر تبصروں میں اُن کا تفصیلی جواب دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہاں میں اس پوری بحث کو قدرے وسعت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اپنا وہ فہم بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس مسئلے کے تاریخی، سیاسی اور فکری پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تشکیل پایا ہے۔
تشدد، عدم تشدد اور آزادی: تاریخ کی جدلی منطق
مذکورہ بالا اعتراضات بظاہر اخلاقی سادگی اور “تشدد بمقابلہ عدم تشدد” کی سیدھی تقسیم پر کھڑے ہیں، مگر تاریخ نہ تو اتنی سیدھی ہے اور نہ ہی طاقت کے رشتے اتنے معصوم۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہتھیار اٹھانا بہتر تھا یا عدم تشدد، بلکہ یہ ہے کہ کن حالات میں کون سا طریقِ جدوجہد ابھرتا ہے اور کیوں۔
سب سے پہلے اس خیال پر غور کیجیے کہ “ہتھیار اٹھانا جدوجہد کو مار دھاڑ میں بدل دیتا ہے”۔
فرانز فینن اس سادہ تقسیم کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نوآبادیاتی دنیا میں تشدد پہلے سے موجود ہوتا ہے ریاستی، منظم اور قانونی شکل میں۔ جب ایک پورا نظام کسی قوم کو سیاسی، معاشی اور انسانی سطح پر دبائے، تو مزاحمت کا ابھرنا خود اسی جبر کا ردعمل ہوتا ہے۔ اس ردعمل کو “مار دھاڑ” کہہ کر مسترد کرنا دراصل اس اصل تشدد کو نظرانداز کرنا ہے جو پہلے سے مسلط تھا۔
اب مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کی طرف آئیں۔
گاندھی کا موقف نہایت واضح تھا: ستیہ گرہ—یعنی سچائی اور اخلاقی برتری کے ذریعے ظلم کو بے نقاب کرنا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر محکوم خود تشدد اختیار کرے گا تو وہ اخلاقی برتری کھو دے گا اور ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق دھندلا جائے گا۔ گاندھی کے نزدیک اصل طاقت عوامی عدم تعاون میں تھی—ٹیکس نہ دینا، قانون نہ ماننا، مگر ہتھیار نہ اٹھانا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، جسے ژاں پال سارتر نے بڑی شدت سے اٹھایا ہے
کیا ہر جبر کے سامنے صرف اخلاقی اپیل کافی ہوتی ہے؟
کیا وہ طاقت جو اپنی بنیاد ہی استحصال پر رکھتی ہو، محض اخلاقی شرمندگی سے دستبردار ہو جاتی ہے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ خود برطانوی سامراج نے نہ ہندوستان میں اور نہ ہی افریقہ و ایشیا کے دیگر علاقوں میں محض اخلاقی دباؤ کے تحت اقتدار چھوڑا۔ دوسری جنگِ عظیم، معاشی بحران، عالمی دباؤ، اور مقامی مزاحمتی تحریکوں—سب نے مل کر وہ فضا پیدا کی جس میں استعمار کا تسلط کمزور ہوا۔ اس میں گاندھی کی تحریک بھی شامل تھی اور بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں کی قربانیاں بھی۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینا دراصل تاریخ کو مسخ کرنا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ دونوں نے مختلف سطحوں پر اسی نظام کو چیلنج کیا۔
1857 کی جنگِ آزادی کے بارے میں آپ کا اعتراض—کہ مجاہدین کے ہاتھوں انگریز عورتوں اور بچوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر نہیں کیا جاتا—ایک اہم مگر ادھورا سوال ہے۔
جی ہاں، 1857 میں ایسے واقعات ہوئے، اور انہیں چھپانا درست نہیں۔ لیکن کیا ہم اسی پیمانے سے پورے استعماری دور کا جائزہ لیتے ہیں؟ کیا ہم ان لاکھوں ہندوستانیوں، کسانوں، سپاہیوں اور شہریوں کے قتل، قحط، اور اجتماعی سزاؤں کو بھی اسی شدت سے بیان کرتے ہیں جو برطانوی اقتدار کے دوران ہوئیں؟
یہاں مسئلہ “تشدد کی نفی” نہیں بلکہ “تشدد کی یکطرفہ اخلاقیات” ہے۔ اگر ایک طرف کے تشدد کو اجاگر کر کے دوسری طرف کے منظم اور وسیع تر جبر کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، تو تصویر ادھوری نہیں بلکہ جانبدار ہو جاتی ہے۔ فینن اسی کو “استعماری بیانیہ” کہتا ہے—جہاں محکوم کی ایک حرکت کو وحشت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اور قابض کی پوری صدیوں پر محیط پالیسی کو “نظم و نسق” کہا جاتا ہے۔
( آج جب پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء میں بظاہر نوآبادیاتی راج ختم ہوچکا، انگریز چلے گئے ہیں اور سفید جلد والے آقاؤں کی جگہ بھوری ، سانولی ، کالی ، گندمی جلد والے حکمرانوں نے لے لی تب بھی ان حکمرانوں کی ذہنیت اور طرز حکمرانی وہی نوآبادیاتی راج اور ان کے آقاؤں جیسا ہی ہے۔ پاکستان کی مثال لے لیں بلوچستان ، خیبرپختون خوا، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، یہاں تک کہ خود پنجاب میں بھی ریاست کے منطم اور وسیع تر جبر کو پس تشت ڈال دیا جاتا ہے اور مظلوم و محکوم و مجبور عوامی گروہ اور طبقات میں سے جو ردعمل میں تشدد ابھرتا ہے اسے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ استعماری بیانیہ آج بھی غالب ہے۔ محکوم بلوچ ، پشتون ، گلگتی بلتی ، سندھی ، سرائیکی ، پنجابی کی ایک حرکت کو وحشت ، دہشت گردی ، ہندوستانی پراکسی بناکر پیش کیا جارہا ہے تو قابض حکمران طبقے کی 78 سالوں پر محیط پالیسی کو “نظم و نسق ، ملک کی سلامتی ” پر مبنی اقدامات قرار دیا جاتا ہے )
اب اس دعوے پر آئیں کہ “نیا سماج صرف گاندھی کے بیانیے سے ممکن تھا، جبکہ بھگت سنگھ کا بیانیہ تخریب کی طرف جاتا تھا”۔ یہ بھی ایک سادہ تقسیم ہے۔ بھگت سنگھ کا تصور محض ہتھیار اٹھانے تک محدود نہیں تھا؛ وہ ایک سوشلسٹ، سیکولر اور طبقاتی استحصال کے خاتمے پر مبنی سماج کا خواب دیکھتا تھا۔ اس کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ تشدد کو مقصد نہیں بلکہ ایک عبوری وسیلہ سمجھتا تھا، جبکہ اس کا اصل زور سماجی انصاف اور شعور کی بیداری پر تھا۔
دوسری طرف، گاندھی کا ماڈل ایک اخلاقی اور دیہی مرکزیت رکھنے والے سماج پر مبنی تھا، جس میں طبقاتی تضادات کو اتنی شدت سے نہیں دیکھا گیا جتنا کہ انقلابیوں نے دیکھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ ایک مکمل طور پر درست اور دوسرا مکمل طور پر غلط تھا، تاریخ کو ایک اخلاقی کہانی بنا دینا ہے، نہ کہ ایک پیچیدہ جدلی عمل۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد ایک ہی راستے سے نہیں گزری۔ اس میں عدم تشدد بھی تھا، مسلح مزاحمت بھی؛ اخلاقی اپیل بھی تھی اور انقلابی بغاوت بھی۔ یہ سب مل کر اس تاریخی عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔
لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ گاندھی درست تھے یا بھگت سنگھ، بلکہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں—ایک سادہ اخلاقی سبق کے طور پر یا ایک پیچیدہ جدلی حقیقت کے طور پر، جہاں مختلف راستے، مختلف ادوار میں، ایک ہی مقصد کی طرف بڑھتے ہیں۔
اگر اس بحث کو مزید گہرائی میں لے جائیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ “عدم تشدد بمقابلہ مسلح جدوجہد” دراصل کوئی سادہ اخلاقی انتخاب نہیں بلکہ ایک تاریخی، سماجی اور مادی
(material)
سوال ہے۔ یعنی یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کون سا طریقہ کن حالات میں جنم لیتا ہے اور اس کی حدود کیا ہیں۔
مہاتما گاندھی کا فلسفۂ عدم تشدد ایک مخصوص سیاق میں ابھرا۔ وہ ایک ایسے سماج سے مخاطب تھے جہاں وسیع عوامی شرکت ممکن تھی، جہاں ایک اخلاقی اپیل کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو متحرک کیا جا سکتا تھا، اور جہاں نوآبادیاتی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر “اخلاقی دباؤ” کا سامنا تھا۔ گاندھی کی حکمتِ عملی دراصل طاقت کے ایک خاص توازن
(balance of forces)
پر مبنی تھی: وہ جانتے تھے کہ اگر ہندوستانی عوام منظم ہو کر عدم تعاون کریں—ٹیکس نہ دیں، سرکاری اداروں کا بائیکاٹ کریں، اور گرفتاریوں کو قبول کریں—تو سامراجی نظام کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔
لیکن اسی کے ساتھ گاندھی کی حکمتِ عملی کی حدود بھی تھیں۔ وہ طبقاتی تضادات کو اس شدت سے نہیں دیکھتے تھے جس طرح بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی دیکھتے تھے۔ گاندھی کے نزدیک اصل مسئلہ “اخلاقی اصلاح” تھا—انسان کو بہتر بنانا، جبکہ بھگت سنگھ کے نزدیک مسئلہ “ساختی تبدیلی” تھا—یعنی ایسا سماج بنانا جہاں استحصال کی بنیادیں ہی ختم ہو جائیں۔
یہاں فرانز فینن کی بات اہم ہو جاتی ہے۔ فینن کہتا ہے کہ نوآبادیاتی دنیا میں تشدد محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہوتا ہے—زمینوں پر قبضہ، وسائل کی لوٹ مار، ثقافتی تحقیر، اور سیاسی غلامی۔ ایسے میں مزاحمت کبھی صرف اخلاقی اپیل تک محدود نہیں رہتی، کیونکہ سامراج خود اخلاقیات کے دائرے سے باہر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الجزائر، ویتنام اور افریقہ کے کئی حصوں میں مسلح جدوجہد ناگزیر بن گئی۔
لیکن یہاں ایک اہم غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے: مسلح جدوجہد کا مطلب اندھی تخریب نہیں ہوتا۔ ژاں پال سارتر اس فرق کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محکوم کا تشدد “جوابی”
(reactive)
ہوتا ہے، وہ اپنی انسانیت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، سامراجی تشدد “حاکمانہ”
(dominant)
ہوتا ہے، جو انسان کو غیر انسان بنانے کے لیے ہوتا ہے۔
بھگت سنگھ کی جدوجہد کو اگر اس تناظر میں دیکھیں تو وہ محض “بم اور پستول” تک محدود نہیں تھی۔ اس نے خود کہا تھا کہ انقلاب کا مطلب صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سماج کی تشکیل ہے۔ اس کے لیے اس نے طلبہ، مزدوروں اور نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے پر زور دیا۔ اس کی تحریریں واضح کرتی ہیں کہ وہ اندھی دہشت گردی کے خلاف تھا اور سیاسی عمل کو مرکزی حیثیت دیتا تھا۔
1857 کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف چند واقعات—جیسے عورتوں اور بچوں کے قتل—کو بنیاد بنا کر پوری تحریک کو “وحشیانہ” قرار دیں، تو ہم ایک بہت بڑے تاریخی عمل کو ایک محدود اخلاقی فریم میں قید کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم صرف سامراجی مظالم کو بیان کریں اور مقامی ردعمل کو نظرانداز کریں، تو بھی تصویر ادھوری رہتی ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے—اور یہ سمجھا جائے کہ تشدد کیوں پیدا ہوا، کس نے اسے جنم دیا، اور اس کا رخ کس طرف تھا۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے:
آزادی کسی ایک حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں تھی۔
یہ نہ صرف گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک تھی، نہ صرف انقلابیوں کی مسلح جدوجہد، بلکہ عالمی حالات، معاشی دباؤ، فوجی بغاوتوں، مزدور تحریکوں، اور نوآبادیاتی ریاست کے اندرونی بحرانوں کا مجموعہ تھا۔ اگر ہم اسے صرف ایک بیانیے تک محدود کر دیں، تو ہم تاریخ کو سادہ بنا دیتے ہیں۔
آخر میں، آج کے سیاق میں اس بحث کی اہمیت یہ ہے کہ ہم “طریقۂ جدوجہد” کو جامد اصول نہ سمجھیں۔ ہر عہد کے اپنے تضادات ہوتے ہیں، اور انہی تضادات کے اندر سے مختلف راستے نکلتے ہیں۔ بعض اوقات عدم تشدد زیادہ مؤثر ہوتا ہے، بعض اوقات مزاحمت کی دوسری شکلیں جنم لیتی ہیں۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ گاندھی درست تھے یا بھگت سنگھ، بلکہ یہ ہے کہ ہم جبر، مزاحمت، اور آزادی کے عمل کو کتنی گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم اسے محض اخلاقی سبق بنا دیں گے تو ہم نہ ماضی کو سمجھ پائیں گے اور نہ حال کو۔
“جرم” یا “مزاحمت”: واقعہ نہیں، بیانیہ کا سوال
ایک دوسرے صاحب سلیم عادل صاحب ہیں ، انھوں نے جوابی کمنٹ میں لکھا:
آپ نے اتنی لمبی چوڑی معلوماتی پوسٹ لکھ ڈالی ھے لیکن بھگت سنگھ کے اس جرم کا ذکر دانستہ گول کر گئے جس کی سزا میں اسے پھانسی دی گئی تھی۔ بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں نے ایک نوجوان انگریز زیر تربئیت پولیس افسر، بائیس سالہ اے ایس پی جان سانڈرز کو قتل کر دیا تھا۔ جان سانڈرز کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ انگریز تھا وگرنہ لالہ لاجپت رائے پر تشدد میں اس کا کوئ عمل دخل نہیں تھا۔ اس انگریز افسر کے علاوہ بھگت سنگھ کے گروپ نے وھاں پر موجود ایک بے چارے سکھ کانسٹیبل چانن سنگھ کو بھی قتل کر دیا تھا۔ اس دوھرے قتل کے بعد بھگت سنگھ اپنی داڑھی اور کیس مونڈ کر ، سر پر ھیٹ رکھ کر اپنے ایک دوست کی بیوی کو ساتھ لے کر ٹرین میں سوار ھوا اور لاھور سے فرار ھو گیا۔ کیس ٹھنڈا ھونے پر لاھور واپس آیا اور اسمبلی ھال میں بم پھینکتے ھوئے گرفتار ھوا۔ گرفتاری کے کچھ عرصے بعد اس کے پاس سے برامد ھونے والی پستول ان گولیوں سے میچ کر گئی جن سے دوھرے قتل کی وارات کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھگت سنگھ کے ساتھیوں نے بھگت سنگھ کو آزاد کروانے کے لئے جیل توڑنے کا پلان بنایا اور اس کے لئے بم تیار کرنے شروع کئے۔ لیکن تیاری کے دوران ھی بم حادثاتی طور پر چل گیا اور ایک کامریڈ ھلاک ھو گیا۔ یہ سب معلومات مجھے آپ کی یہ سٹیٹمنٹ دیکھ کر یاد آئ جس کے مطابق بھگت سنگھ نے پنجاب کو ”وحشی پن جہالت اور پہلوانی“ سے عقل و دانش کی طرف موڑا 😃
میں نے ان کو جو جواب دیا اسے یہاں جوں کا توں نقل کر دیتا ہوں
آپ کے کمنٹ میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ “واقعہ” نہیں بلکہ “بیانیہ” ہے—اور یہی وہ نکتہ ہے جسے فرانز فینن اور ژاں پال سارتر دونوں اپنی تحریروں میں بے نقاب کرتے ہیں: استعمار ہمیشہ حقائق کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ ظلم، قانون بن جائے اور مزاحمت، جرم۔
آپ نے جس “جرم” کا ذکر کیا ہے، وہ دراصل ایک نوآبادیاتی سیاق سے کاٹ کر پیش کیا گیا واقعہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بھگت سنگھ نے جان سانڈرز کو قتل کیا یا نہیں—یہ تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ عمل کس تاریخی، سیاسی اور اخلاقی تناظر میں وقوع پذیر ہوا؟ اگر آپ اس سوال کو نظرانداز کرتے ہیں تو آپ دراصل وہی کر رہے ہیں جسے فینن “استعماری اخلاقیات” کہتا ہے—جہاں قابض کی تشدد کو “قانون” اور محکوم کی مزاحمت کو “وحشت” کہا جاتا ہے۔
لالہ لاجپت رائے پر پولیس تشدد، جو سائمن کمیشن کی آمد پر احتجاج کے دوران ہوا، محض ایک “حادثہ” نہیں تھا بلکہ ایک نوآبادیاتی ریاستی تشدد کا اظہار تھا۔ یہ وہی تشدد ہے جسے فینن کہتا ہے کہ “استعمار اپنی اصل میں ہی تشدد ہے”—یہ صرف لاٹھی نہیں، ایک پورا نظام ہے جو انسان کو غیر انسان بناتا ہے۔ اس تناظر میں سانڈرز کا قتل ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ ایک استعماری مشین کے نمائندے پر حملہ تھا۔
آپ کہتے ہیں کہ سانڈرز کا اس تشدد میں “کوئی عمل دخل نہیں تھا”۔ یہی وہ معصومیت کا فریب ہے جسے سارتر رد کرتا ہے۔ سارتر کے مطابق استعمار میں کوئی بھی “غیر جانبدار” نہیں ہوتا؛ ہر وہ شخص جو استعماری ڈھانچے کا حصہ ہے، چاہے وہ ایک افسر ہو یا ایک کلرک، وہ اس جبر کے نظام کا فعال جزو ہے۔ اس لیے سوال فرد کی نیت نہیں، اس کے کردار کا ہے۔
چانن سنگھ کی موت کا ذکر بھی آپ نے کیا، مگر اسے “بے چارہ” کہہ کر آپ نے ایک اور اہم حقیقت چھپا دی—کہ نوآبادیاتی نظام مقامی آبادی کو اپنے ہی خلاف استعمال کرتا ہے۔ فینن کے الفاظ میں، استعمار “مقامی کو مقامی کے خلاف کھڑا کرتا ہے”۔ یہ المیہ ہے، مگر اس المیے کی ذمہ داری اس مزاحمت پر نہیں ڈالی جا سکتی جو اس نظام کو توڑنے کے لیے اٹھتی ہے۔
جہاں تک بھگت سنگھ کے “بھیس بدل کر فرار” ہونے یا بعد میں اسمبلی میں بم پھینکنے کا تعلق ہے، تو یہاں بھی آپ نے سیاق کو دانستہ نظرانداز کیا۔ اسمبلی میں پھینکا جانے والا بم، جیسا کہ خود بھگت سنگھ نے کہا، “مارنے کے لیے نہیں بلکہ بہروں کو سنانے کے لیے تھا”۔ یہ ایک سیاسی عمل تھا، دہشت گردی نہیں۔ اگر وہ قتل کرنا چاہتے تو وہ موقع اس کے لیے کہیں زیادہ موزوں تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ “تشدد” کو ایک یکساں اخلاقی پیمانے پر تول رہے ہیں، جبکہ فینن واضح کرتا ہے کہ نوآبادیاتی دنیا میں تشدد کی نوعیت یکساں نہیں ہوتی۔ ایک طرف ریاستی تشدد ہے—منظم، مسلسل، اور قانونی جواز کے ساتھ؛ دوسری طرف مزاحمتی تشدد ہے—جو اسی جبر کو توڑنے کی کوشش ہے۔ دونوں کو ایک ترازو میں رکھنا دراصل ظلم اور مزاحمت کو برابر قرار دینا ہے، جو بذاتِ خود ایک اخلاقی بددیانتی ہے۔
آپ کی طنزیہ مسکراہٹ—“😃”—درحقیقت اسی نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جسے سارتر نے “خاموش شریکِ جرم” کہا تھا۔ کیونکہ جو شخص جبر کے ڈھانچے کو نظرانداز کر کے صرف ردعمل کو موضوع بناتا ہے، وہ دراصل جبر کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔
بھگت سنگھ کو سمجھنے کے لیے صرف ایک قتل کا ذکر کافی نہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے اس پورے عہد کو دیکھنا ہوگا—وہ عہد جس میں قانون انصاف نہیں بلکہ طاقت کا آلہ تھا، اور جس میں خاموشی سب سے بڑا جرم تھی۔
آپ چاہیں تو اسے جرم کہیں، مگر تاریخ اسے مزاحمت کہتی ہے—اور مزاحمت ہمیشہ قانون کے دائرے میں نہیں آتی، کیونکہ قانون اکثر خود جبر کا محافظ ہوتا ہے۔
زاویۂ نظر، تاریخ اور مزاحمت کی معنویت
اس جواب پر سلیم عادل صاحب نے درج ذیل ردعمل دیا
“جناب۔ سب سے پہلے تو اس بات کا اعتراف ھے کہ آپ کی معلومات میری معلومات کے مقابلے میں بہت وسیع ھیں۔ لیکن اس کے ساتھ ھی ایک اور بات نکلتی ھے کہ آپ اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے اپنی وسیع معلومات کے زور پر بددیانتی بھی کر سکتے ھیں۔ اس کی مثال میں اوپر دے چکا ھوں۔ یعنی آپ نے اپنی پوسٹ میں جان سانڈرز کے قتل کا ذکر تک نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ میں نے صرف آپ کی پوسٹ پر کمنٹ کیا ھے اور اس کا بنیادی مقصد تصویر کا دوسرا رخ دکھانا ھے۔ آپ نے چانن سنگھ کے قتل کو یہ کہہ کر درست قرار دے دیا کہ وہ مقامی ھونے کے باوجود مقامی کے خلاف کھڑا تھا۔ عرض ھے کہ برطانوی ھند میں رھنے والا ھر ھندوستانی اس تعریف کے مطابق کسی نہ کسی طرح اسی استعمار کا حصہ تھا۔ مثال کے طور پر میرے دادا مرحوم 1930s میں بٹالہ کے ایک سکول کے ھیڈماسٹر تھے۔ اسی دور میں میرے نانا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک متوسط زمیندار تھے۔ میرے ایک انکل برٹش انڈئین آرمی میں کمیشنڈ افسر تھے۔ تو کیا یہ سب بھی واجب القتل تھے؟ ایک اور اھم نکتہ۔ برصغیر کو آزادی اس قسم کے روئیے یا مزاھمت سے نہیں ملی۔ اس کا ثبوت یہ ھے کہ بھگت سنگھ کی پھانسی کے برسوں بعد دوسری جنگ عظیم میں پنجاب کے سپوتوں نے انگریز کی جنگ لڑی۔ جنگ کے بعد آزادی اور تقسیم انگریز سے لڑ کر نہیں ملی۔ اس کی اصل وجہ آپ بخوبی جانتے ھیں ۔ چنانچہ ایسے میں بھگت سنگھ اور اس کے ھم نواوں کی جدوجہد کی کوئ اھمئیت نہیں رہ جاتی۔ افسوس ناک بات تو یہ ھے کہ 1947 میں مشرقی پنجاب سے لاھور آتے ھوئے میری دادی سکھوں کے ھاتھوں شہید ھوئیں۔ یعنی اپنے ھم وطنوں کے ھاتھوں۔ چنانچہ میری ناقص رائے میں ھمیں آج اپنے دوستوں اور دشمنوں کو موجودہ دور کے سیاق و سباق میں نظرثانی کرنے کی ضرورت ھے۔ امید ھے میں اپنا موقف سمجھانے میں کامیاب ھو گیا ھوں گا۔ نوازش۔”
میں نے اس کا جواب لکھا ، اسے بھی یہاں نقل کرتا ہوں
آپ کا انداز نسبتاً مہذب ہے اور یہی چیز مکالمے کو ممکن بناتی ہے، لیکن جس نکتے کو آپ “بددیانتی” کہہ رہے ہیں، دراصل وہ “انتخابِ زاویہ” ہے—اور ہر تاریخی تجزیہ کسی نہ کسی زاویے سے ہی کیا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آیا وہ زاویہ جبر کے ڈھانچے کو ظاہر کرتا ہے یا اسے اوجھل کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے سانڈرز کے قتل کے “ذکر نہ کرنے” کا معاملہ۔ یہ کہنا کہ کسی ایک واقعے کا ذکر نہ کرنا بددیانتی ہے، تب درست ہوتا جب پورا بیانیہ اس واقعے کو چھپانے پر قائم ہو۔ مگر یہاں بحث “فردی جرم” کی نہیں بلکہ “استعماری نظام” کی تھی۔ فرانز فینن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ نوآبادیاتی دنیا میں واقعات کو انفرادی اخلاقیات کے بجائے ساختی
(structural)
تناظر میں دیکھا جائے۔ اگر ہم ہر مزاحمتی عمل کو صرف ایک قتل کے فریم میں قید کر دیں، تو ہم اصل سوال—یعنی جبر کے پورے نظام—کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
اب آتے ہیں آپ کے اس سوال پر کہ “کیا ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح نظام کا حصہ تھا، واجب القتل تھا؟”
یہاں آپ نے ایک منطقی مغالطہ پیدا کیا ہے۔ نہ بھگت سنگھ نے کبھی یہ دعویٰ کیا، نہ کسی سنجیدہ انقلابی نظریہ نے۔ فینن اور ژاں پال سارتر دونوں کے ہاں ایک بنیادی فرق موجود ہے:ساخت
(structure)
کا حصہ ہونا اور اس کے جابرانہ عمل کا فعال نمائندہ ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
آپ کے دادا ایک ہیڈماسٹر تھے، نانا ایک زمیندار، انکل ایک فوجی افسر—یہ سب نوآبادیاتی سماج کے اندر “موجود” تھے، مگر ہر موجود شخص “ریاستی جبر کا براہِ راست آلہ” نہیں ہوتا۔ پولیس افسر، خاص طور پر وہ جو ایک سیاسی احتجاج کو کچلنے والی مشینری کا حصہ ہو، ایک مختلف کردار رکھتا ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو عدالت اور جلاد کے درمیان ہوتا ہے—دونوں نظام کا حصہ ہیں، مگر ایک فیصلہ سناتا ہے اور دوسرا اسے نافذ کرتا ہے۔
چانن سنگھ کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اسے “جائز” یا “ناجائز” قرار دینا دراصل ایک اخلاقی سادگی ہے جس سے فینن ہمیں بچنے کو کہتا ہے۔ نوآبادیاتی دنیا میں المیہ یہی ہے کہ مقامی افراد خود جبر کے اوزار بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو بیان کرنا قتل کی توثیق نہیں بلکہ اس سانحے کی تفہیم ہے۔
اس پورے واقعے کو اگر سیاق و سباق سے کاٹ کر محض “دوہرا قتل” کہہ دیا جائے تو نہ صرف تاریخ مسخ ہوتی ہے بلکہ انقلابی عمل کی داخلی منطق بھی اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ پولیس افسر جے پی سانڈرز اصل ہدف تھا اور نہ ہی کانسٹیبل چانن سنگھ۔
ہدف دراصل سپرنٹنڈنٹ سکاٹ تھا، وہی افسر جس نے لاٹھی چارج کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں لالہ لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں انتقال کر گئے۔ اس پس منظر کو سمجھے بغیر پورے واقعے کی اخلاقی و سیاسی معنویت کو سمجھنا ممکن نہیں۔ سانڈرز اور سکاٹ کی ظاہری مشابہت اور فاصلے کی وجہ سے پہچان میں غلطی ہوئی، اور بھگت سنگھ، راج گرو اور چندر شیکھر آزاد نے اسے سکاٹ سمجھ کر گولی چلا دی۔ اس طرح سانڈرز کا قتل ایک منصوبہ بند ہدف کے بجائے ایک شناختی خطا
(mistaken identity)
کا نتیجہ تھا، جسے دانستہ قتل کے برابر رکھنا تاریخی بددیانتی کے مترادف ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس پورے عمل کو کسی انفرادی انتقام یا اندھے تشدد کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی ردِعمل کے طور پر دیکھا جائے۔
فرانز فینن کے مطابق نوآبادیاتی دنیا میں تشدد محض ایک فعل نہیں بلکہ ایک ساختی ردِعمل ہوتا ہے—وہ اس جبر کے خلاف پیدا ہوتا ہے جو پہلے سے ریاستی سطح پر مسلط ہو۔ اسی تناظر میں اس کارروائی کو سمجھنا چاہیے: یہ ایک ایسے نظام کے خلاف اقدام تھا جو خود مسلسل تشدد پر قائم تھا۔
چانن سنگھ کا معاملہ اس سے بھی مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ وہ نہ تو کسی منصوبے کا حصہ تھا اور نہ ہی اسے ہدف بنایا گیا تھا۔ جب سانڈرز پر فائرنگ کے بعد انقلابی فرار ہو رہے تھے تو چانن سنگھ نے ان کا تعاقب کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اسے فوراً نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے وارننگ دی گئی، پلٹ جانے کو کہا گیا، یعنی تصادم سے گریز کی کوشش کی گئی۔ مگر جب اس نے تعاقب جاری رکھا تو وہ ایک ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی جہاں فرار اور بقا کا سوال سامنے آ گیا۔ یہاں گولی چلنا کسی پیشگی ارادے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مجبوری کی پیداوار تھا۔
ژاں پال سارتر اس نوع کے لمحے کو “انتخاب کی تنگ ہوتی ہوئی فضا” (narrowing field of choice)
کہتا ہے، جہاں فرد کے پاس اخلاقی امکانات سکڑ کر چند انتہائی صورتوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ نوآبادیاتی سیاق میں یہ تنگی اور بھی شدید ہو جاتی ہے، کیونکہ ریاستی طاقت ہر لمحہ غالب ہوتی ہے۔ اس لیے چانن سنگھ کا قتل کسی نظریاتی یا انتقامی عمل کے بجائے ایک
situational compulsion
تھا—ایک ایسا ردِعمل جو اس وقت پیدا ہوا جب تعاقب نے فرار کے تمام راستے مسدود کرنے شروع کر دیے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مخالف بیانیہ سانڈرز اور چانن سنگھ کے واقعات کو ایک ہی سطح پر رکھ کر پیش کرتا ہے، حالانکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہے۔ ایک طرف ایک غلط شناخت کے نتیجے میں پیش آنے والا واقعہ ہے، اور دوسری طرف تعاقب کے دوران پیدا ہونے والی مجبوری۔ ان دونوں کو یکساں “قتل” کہہ کر بیان کرنا دراصل اس پورے تاریخی و سیاسی تناظر کو مٹا دینا ہے جس میں یہ واقعات رونما ہوئے۔
لہٰذا اس وضاحت کا مقصد کسی عمل کو “رومانوی” بنانا نہیں بلکہ اس کی درست تاریخی تفہیم پیش کرنا ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نوآبادیاتی حالات میں ہر واقعہ محض ایک فوجداری کیس نہیں ہوتا؛ وہ ایک بڑی ساختی کشمکش کا حصہ ہوتا ہے، جہاں جبر اور مزاحمت ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان واقعات کو سمجھنے کے لیے محض قانونی زبان کافی نہیں، بلکہ ایک گہری تاریخی اور فلسفیانہ بصیرت درکار ہوتی ہے—وہی بصیرت جس کی طرف فینن اور سارتر دونوں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔
اب آپ کے دوسرے بڑے نکتے کی طرف آتے ہیں—کہ آزادی اس قسم کی مزاحمت سے نہیں ملی، لہٰذا اس جدوجہد کی کوئی اہمیت نہیں۔
یہاں آپ تاریخ کو ایک سیدھی لکیر
(linear narrative)
میں دیکھ رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ درست ہے کہ دوسری جنگِ عظیم، عالمی طاقتوں کی کمزوری، اور برطانوی معیشت کا بحران آزادی کے اہم عوامل تھے۔ لیکن یہ کہنا کہ انقلابی تحریکوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی، تاریخ کو یکسر سادہ بنا دینا ہے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے جو کیا، اس نے نوآبادیاتی اقتدار کے “اخلاقی جواز” کو توڑا، عوامی شعور کو جھنجھوڑا، اور خوف کی اس فضا کو چیلنج کیا جس پر سامراج قائم تھا۔
سارتر کے الفاظ میں، مزاحمت ہمیشہ فوری فتح کے لیے نہیں ہوتی؛ وہ انسان کو “فاعل”
(subject)
بناتی ہے، اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ محض محکوم نہیں بلکہ تاریخ کا تخلیق کار بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ صرف اس بنیاد پر کسی جدوجہد کی اہمیت طے کریں کہ اس نے براہِ راست اقتدار کا خاتمہ کیا یا نہیں، تو پھر دنیا کی بیشتر انقلابی تحریکیں “بے معنی” قرار پائیں گی۔
آپ نے اپنی ذاتی خاندانی سانحے کا ذکر کیا—آپ کی دادی کا قتل۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے، اور اسے کسی بھی نظریاتی بحث کے نیچے نہیں دبایا جا سکتا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں فینن کی ایک اور بصیرت یاد رکھنی چاہیے:استعمار صرف زمینوں کو تقسیم نہیں کرتا، وہ انسانوں کے درمیان ایسی دراڑیں پیدا کرتا ہے جو بعد میں خود خونریزی کا سبب بنتی ہیں۔ 1947 کا تشدد اسی نوآبادیاتی تاریخ کی پیداوار تھا—وہی تقسیم، وہی زخم، وہی زہر جو برسوں پہلے بویا گیا تھا۔
آخر میں آپ کی بات کہ ہمیں آج کے سیاق میں دوست اور دشمن کو نئے سرے سے دیکھنا چاہیے—اس سے اصولی اختلاف نہیں۔ مگر “ریویژن” کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ماضی کی مزاحمت کو غیر اہم یا مجرمانہ قرار دے دیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تاریخ کو اس کی پیچیدگی کے ساتھ سمجھیں—جہاں جبر بھی ہے، مزاحمت بھی؛ جہاں المیہ بھی ہے، اور امکان بھی۔
آپ نے “دوسرا رخ” دکھانے کی بات کی—یہ ضروری ہے۔ لیکن دوسرا رخ دکھاتے ہوئے اگر پہلا رخ مٹا دیا جائے، تو تصویر مکمل نہیں ہوتی، بلکہ مسخ ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں