اینٹی کرپشن پنجاب میں شفافیت کا بڑا اقدام، تمام تحریری شکایات کی ای ٹیگنگ اور فوری ہیڈ آفس مانیٹرنگ لازمی قرار، ڈی جی سہیل ظفر چھٹہ نے ریجنل دفاتر کو نئی ہدایات جاری کر دیں۔ اب ہر درخواست پروب سے پہلے ای فارمیٹ میں ہیڈ آفس بھیجی جائے گی تاکہ بلیک میلنگ، جعلی وسل بلور نیٹ ورک اور کرپٹ اہلکاروں کے گٹھ جوڑ کو روکا جا سکے۔
ای ٹیگنگ سے نگرانی سخت
ایسٹرن ٹائمز نیوز کو موصول اطلاعات کے مطابق یہ اصلاحاتی اقدام ان متعدد شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جو ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چھٹہ کو مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ ان شکایات میں بتایا گیا تھا کہ علاقائی دفاتر میں سرکاری ملازمین کے خلاف کرپشن کی درخواستوں کی پراسسنگ کو بعض بلیک میلر گروہوں نے، محکمے کے اندر موجود کرپٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے، ناجائز دباؤ اور وصولی کے ایک منظم ذریعہ میں بدل دیا تھا۔
اب نئی پالیسی کے تحت جیسے ہی کوئی درخواست شکایات سیل میں موصول ہوگی، اسے فوری طور پر ای ٹیگنگ کے نظام سے منسلک کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس درخواست کا مکمل ریکارڈ ہیڈ آفس کی نگرانی میں رہے گا اور ابتدائی تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی اسی شفاف مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت ہوگا۔
جعلی وسل بلور نیٹ ورک بے نقاب
ذرائع کے مطابق اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر ایک فرضی درخواست شکایات سیل میں جمع کراتے تھے جسے وسل بلور کا نام دیا جاتا تھا۔ ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی محکمے کی کالی بھیڑیں اس درخواست کی اطلاع متعلقہ سرکاری افسر یا اہلکار تک پہنچا دیتی تھیں۔ بعد ازاں شکایات سیل سے وابستہ بعض اہلکار مذکورہ افسر کو درخواست واپس لینے کے نام پر بھاری رشوت دے کر معاملہ طے کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
اس سلسلے میں ایک سنگین معاملہ ملتان ریجن سے بھی سامنے آیا، جہاں شکایات سیل کے ایک کلیریکل ملازم پر الزام ہے کہ اس نے اسی بلیک میلنگ نیٹ ورک کے ذریعے دو کوٹھیاں تعمیر کر لیں۔ اس واقعے کے بعد نچلے درجے کے بعض ملازمین، جعلی وسل بلورز اور کرپٹ سرکاری افسران کے درمیان گٹھ جوڑ کی مزید شکایات بھی منظر عام پر آنے لگیں۔
ہیڈ آفس مانیٹرنگ سے شفافیت
اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اینٹی کرپشن پنجاب نے ویجی لینس ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر دونوں کو متحرک کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ جعلی درخواستوں، بلیک میلنگ کے عناصر اور اندرونی سہولت کاروں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ہیڈ آفس ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بعض سماج دشمن عناصر خود کو ڈی جی سہیل ظفر چھٹہ کا رشتہ دار یا فرنٹ مین ظاہر کر کے بھی سرکاری افسران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چھٹہ نے اس معاملے پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی وسل بلورز، محکمے کی کالی بھیڑوں اور کرپٹ سرکاری افسران کے گٹھ جوڑ کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی صوبائی افسر یا اہلکار کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی درخواست کا تعلق سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے سے ہوا تو درخواست گزار کے دستبردار ہونے کے باوجود وہ درخواست ابتدائی پروب سے گزرے گی۔ اگر ابتدائی شواہد سامنے آئے تو اس پر باقاعدہ انکوائری کی جائے گی اور اس پورے عمل کی مکمل نگرانی ہیڈ آفس کرے گا۔
اینٹی کرپشن پنجاب میں شفافیت، ای ٹیگنگ، ہیڈ آفس مانیٹرنگ اور شکایات کے نظام میں یہ نئی اصلاحات شہریوں اور دیانت دار سرکاری ملازمین کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بلیک میلنگ کے غیر قانونی نیٹ ورک کو کمزور کرے گا بلکہ محکمہ اینٹی کرپشن میں احتساب، شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
اینٹی کرپشن پنجاب میں شفافیت کا بڑا اقدام، تمام تحریری شکایات کی ای ٹیگنگ اور فوری ہیڈ آفس مانیٹرنگ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چھٹہ نے ایک اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے تمام ریجنل دفاتر کو پابند کیا ہے کہ شکایات سیل میں موصول ہونے والی ہر تحریری درخواست کو ابتدائی پروب سے پہلے فوری طور پر ای فارمیٹ میں پنجاب ہیڈ آفس ارسال کیا جائے تاکہ درخواستوں کے نظام کو شفاف، قابل نگرانی اور بدعنوانی سے پاک بنایا جا سکے۔
ای ٹیگنگ سے نگرانی سخت
ایسٹرن ٹائمز نیوز کو موصول اطلاعات کے مطابق یہ اصلاحاتی اقدام ان متعدد شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جو ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چھٹہ کو مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ ان شکایات میں بتایا گیا تھا کہ علاقائی دفاتر میں سرکاری ملازمین کے خلاف کرپشن کی درخواستوں کی پراسسنگ کو بعض بلیک میلر گروہوں نے، محکمے کے اندر موجود کرپٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے، ناجائز دباؤ اور وصولی کے ایک منظم ذریعہ میں بدل دیا تھا۔
اب نئی پالیسی کے تحت جیسے ہی کوئی درخواست شکایات سیل میں موصول ہوگی، اسے فوری طور پر ای ٹیگنگ کے نظام سے منسلک کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس درخواست کا مکمل ریکارڈ ہیڈ آفس کی نگرانی میں رہے گا اور ابتدائی تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی اسی شفاف مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت ہوگا۔
جعلی وسل بلور نیٹ ورک بے نقاب
ذرائع کے مطابق اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر ایک فرضی درخواست شکایات سیل میں جمع کراتے تھے جسے وسل بلور کا نام دیا جاتا تھا۔ ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی محکمے کی کالی بھیڑیں اس درخواست کی اطلاع متعلقہ سرکاری افسر یا اہلکار تک پہنچا دیتی تھیں۔ بعد ازاں شکایات سیل سے وابستہ بعض اہلکار مذکورہ افسر کو درخواست واپس لینے کے نام پر بھاری رشوت دے کر معاملہ طے کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
اس سلسلے میں ایک سنگین معاملہ ملتان ریجن سے بھی سامنے آیا، جہاں شکایات سیل کے ایک کلیریکل ملازم پر الزام ہے کہ اس نے اسی بلیک میلنگ نیٹ ورک کے ذریعے دو کوٹھیاں تعمیر کر لیں۔ اس واقعے کے بعد نچلے درجے کے بعض ملازمین، جعلی وسل بلورز اور کرپٹ سرکاری افسران کے درمیان گٹھ جوڑ کی مزید شکایات بھی منظر عام پر آنے لگیں۔
ہیڈ آفس مانیٹرنگ سے شفافیت
اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اینٹی کرپشن پنجاب نے ویجی لینس ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر دونوں کو متحرک کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ جعلی درخواستوں، بلیک میلنگ کے عناصر اور اندرونی سہولت کاروں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ہیڈ آفس ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بعض سماج دشمن عناصر خود کو ڈی جی سہیل ظفر چھٹہ کا رشتہ دار یا فرنٹ مین ظاہر کر کے بھی سرکاری افسران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چھٹہ نے اس معاملے پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی وسل بلورز، محکمے کی کالی بھیڑوں اور کرپٹ سرکاری افسران کے گٹھ جوڑ کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی صوبائی افسر یا اہلکار کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی درخواست کا تعلق سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے سے ہوا تو درخواست گزار کے دستبردار ہونے کے باوجود وہ درخواست ابتدائی پروب سے گزرے گی۔ اگر ابتدائی شواہد سامنے آئے تو اس پر باقاعدہ انکوائری کی جائے گی اور اس پورے عمل کی مکمل نگرانی ہیڈ آفس کرے گا۔
اینٹی کرپشن پنجاب میں شفافیت، ای ٹیگنگ، ہیڈ آفس مانیٹرنگ اور شکایات کے نظام میں یہ نئی اصلاحات شہریوں اور دیانت دار سرکاری ملازمین کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بلیک میلنگ کے غیر قانونی نیٹ ورک کو کمزور کرے گا بلکہ محکمہ اینٹی کرپشن میں احتساب، شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔