15 اپریل 1985 کو ناظم آباد میں ایک طالبہ کی المناک ہلاکت نے کراچی کو ایسے بحران میں دھکیل دیا جس کے اثرات برسوں محسوس کیے گئے۔ بشریٰ زیدی کی موت ابتدا میں ایک ٹریفک حادثہ تھی، مگر جلد ہی اس نے احتجاج، نسلی کشیدگی، سیاسی صف بندی اور شہری ٹوٹ پھوٹ کے ایک طویل المیے کی شکل اختیار کر لی۔
حادثے کا دن
15 اپریل 1985 کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع سر سید گرلز کالج کی چند طالبات بس کے ذریعے اپنے کالج جا رہی تھیں۔ ناظم آباد چورنگی پہنچنے سے پہلے ان کی بس کے ڈرائیور نے دوسری بس کے ساتھ ریس لگانا شروع کر دی۔ بس اسٹاپ پر مکمل طور پر رکنے کے بجائے اس نے صرف رفتار کم کی۔ چند مرد مسافر تو اس چلتی بس سے اتر گئے، مگر طالبات اترتے ہوئے گر پڑیں۔ انہی میں ایک طالبہ، بشریٰ زیدی، بس کے پہیوں تلے آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
احتجاج سے اشتعال تک
حادثے کی خبر جب قریب واقع کالج پہنچی تو طالبات کی بڑی تعداد ناظم آباد چورنگی پر جمع ہو گئی اور شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ جلد ہی اردگرد کے کالجوں کے طلبہ اور علاقہ مکین بھی وہاں پہنچ گئے۔ پولیس کی آمد پر صورت حال مزید کشیدہ ہوئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی، مگر اس سے ہجوم اور مشتعل ہو گیا۔ جواباً پتھراؤ شروع ہوا اور احتجاج تصادم کی شکل اختیار کرنے لگا۔
لسانی سیاست کی مداخلت
اسی دوران ایک لسانی سیاسی جماعت کے کارکن وہاں پہنچے اور طالبات میں پلے کارڈ تقسیم کیے۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ تھا کہ سانحے کو فوری طور پر سیاسی سمت دی جا رہی ہے۔ چند ہی لمحوں میں ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا، نعرے بازی بڑھ گئی اور ہنگامہ آرائی پھوٹ پڑی۔ بسوں، خاص طور پر منی بسوں، کو آگ لگا دی گئی۔ یوں ایک طالبہ کی ہلاکت عوامی غم سے آگے بڑھ کر سیاسی اشتعال کا نقطۂ آغاز بن گئی۔
ناظم آباد سے پورے شہر تک
فساد زیادہ دیر تک ایک علاقے تک محدود نہ رہا۔ ناظم آباد سے نکل کر ہنگامے لیاقت آباد، گولیمار اور متصل علاقوں تک پھیل گئے۔ چونکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر بڑی حد تک صوبہ سرحد، موجودہ خیبر پختونخوا، سے تعلق رکھنے والے افراد کا غلبہ تھا، اس لیے یہ تصادم جلد ہی نسلی اور لسانی رنگ اختیار کر گیا۔ اگلے روز شام تک حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ انتظامیہ کو شہر کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔
پس منظر میں موجود کشیدگی
بشریٰ زیدی کی موت کو بہت سے تجزیہ کار کراچی میں نسلی تشدد کی شدید ترین لہر کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔ 1985 سے پہلے بھی اردو بولنے والے مہاجرین اور پشتو بولنے والے پختونوں کے درمیان کشیدگی موجود تھی، مگر یہ کشیدگی مسلسل سڑکوں کی جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ بشریٰ زیدی، جو ایک اردو بولنے والی طالبہ تھیں، غیر ارادی طور پر ایک ایسی علامت بن گئیں جس کے گرد شناخت، محرومی اور سیاسی غصہ جمع ہونا شروع ہو گیا۔
ایم کیو ایم کا ابھار
اس واقعے میں جس “لسانی جماعت” کا ذکر کیا جاتا ہے، اس سے مراد مہاجر قومی موومنٹ تھی، جو بعد میں ایم کیو ایم کے نام سے معروف ہوئی۔ الطاف حسین نے 1984 میں اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی، اور یہ تیزی سے مہاجر نوجوانوں میں مقبول ہو رہی تھی۔ ان کارکنوں کی منظم موجودگی، پہلے سے تیار شدہ پلے کارڈز اور حادثے کو مہاجر شناخت اور شہری حقوق کے مسئلے میں بدلنے کی حکمت عملی نے اس جماعت کو کراچی کی سیاست میں تیزی سے نمایاں کر دیا۔ بشریٰ زیدی کا سانحہ دراصل ایم کیو ایم کے بڑے شہری سیاسی ابھار کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔
انتقامی تشدد کا آغاز
15 اپریل کے بعد تشدد فوری طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ انتقامی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ پختون بس ڈرائیوروں اور دکانداروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جواباً پختون گروہوں نے مہاجر محلوں پر حملے کیے۔ اپریل 1985 کے آخر تک فوج کو طلب کرنا پڑا تاکہ حالات پر قابو پایا جا سکے۔ ابتدائی ہفتے میں ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی، جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔ کراچی کے کئی علاقے نسلی بنیادوں پر تقسیم ہونے لگے۔
کراچی کے سماجی تانے بانے کی شکست
اس واقعے نے محض فوری فسادات کو جنم نہیں دیا بلکہ شہر کے سماجی ڈھانچے کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ کراچی، جو اس وقت تک پاکستان کا سب سے زیادہ کاسموپولیٹن اور معاشی طور پر متحرک شہر سمجھا جاتا تھا، ایک ایسے دور میں داخل ہو گیا جہاں مختلف محلے نسلی شناخت کے مضبوط گڑھ بنتے گئے۔ کچھ علاقے دوسروں کے لیے عملاً نو گو ایریاز بن گئے۔ شہری ہم آہنگی کی جگہ عدم اعتماد، خوف اور گروہی سیاست نے لینا شروع کر دی۔
ایک دہائی پر پھیلا ہوا اثر
تقریباً 1985 سے 1995 تک کراچی میں بار بار نسلی تشدد، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سیاسی عسکریت پسندی کے واقعات سامنے آتے رہے۔ ایم کیو ایم ایک طاقتور سیاسی جماعت میں تبدیل ہوئی، مگر اس کے ساتھ ہی اس پر عسکریت پسند ڈھانچے بنانے کے الزامات بھی لگے۔ بشریٰ زیدی کے احتجاج کے دوران جو غم و غصہ سیاسی رخ اختیار کر گیا تھا، وہ بعد کے برسوں میں شہری طاقت، شناختی سیاست اور مسلح تصادم کے پیچیدہ سلسلے میں ڈھلتا گیا۔
تاریخ میں اس واقعے کی جگہ
بہت سے مورخین اور صحافی بشریٰ زیدی کے سانحے کو “وہ چنگاری” قرار دیتے ہیں جس نے کراچی میں دبی ہوئی نسلی، معاشی اور سیاسی شکایات کو کھلے تصادم میں بدل دیا۔ ان کے مطابق 15 اپریل 1985 سے پہلے شہر کا تشدد زیادہ تر سیاسی یا فرقہ وارانہ نوعیت رکھتا تھا، مگر اس تاریخ کے بعد اس میں منظم نسلی پہلو نمایاں ہو گیا۔ اسی لیے بشریٰ زیدی کا نام ایک فرد کے المیے سے بڑھ کر کراچی کی اجتماعی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن چکا ہے۔
نتیجہ
بشریٰ زیدی کی موت ایک حادثہ تھی، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف حادثہ نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے شہر کی اندرونی دراڑوں کا پھٹ جانا تھا جو پہلے ہی سیاسی، معاشی اور شناختی تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ یہی سبب ہے کہ 15 اپریل 1985 کو آج بھی کراچی کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ رہی۔