اب غسان کنفانی کو کوئی یاد نہیں کرتا
محمد عامر حسینی

بیروت میں جنوری کی بارش کسی پرانے مخطوطے پر پھیلتی ہوئی سیاہی جیسی ہوتی ہے۔ سمندر سے اٹھتی نمکین ہوا جب حمرا کی گلیوں سے گزرتی، تو دیواروں پر لگے پھٹے ہوئے پوسٹر ہلکے ہلکے کانپنے لگتے، جیسے ان میں چسپاں چہروں کو سردی لگ رہی ہو۔ انہی دنوں نادیہ بلقیس عربی ادب میں ایم اے کے آخری سمسٹر میں داخل ہوئی تھی اور یونیورسٹی کی لائبریری، نیشنل آرکائیو، پرانے اخباروں کے گودام، اور وہ کمرے جہاں کاغذ اپنی موت مرنے کے لیے رکھ دیے جاتے ہیں، اس کے معمول کا حصہ بن چکے تھے۔ اس کا مقالہ غسان کنفانی پر تھا، مگر اصل میں وہ مقالہ نہیں لکھ رہی تھی، ایک گمشدہ آواز کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
اس کے مقالے کا عنوان تھا: “غسان کنفانی کے ہاں وطن بطور زخم اور زخم بطور واپسی”۔ اس نے اپنے پہلے باب میں “رجال فی الشمس” پر لکھا تھا، دوسرے باب میں “عائد الی حیفا” پر، اور تیسرے باب کو اس نے “رسالۃ من غزہ” کے لیے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ بار بار اسی کہانی کی طرف لوٹ آتی۔ ایک آدمی جو جانا چاہتا تھا، مگر ایک کٹی ہوئی ٹانگ نے اسے روک لیا۔ ایک شہر جو شکست کی بدبو سے بھرا ہوا تھا، مگر اچانک اسی شکست کے ملبے میں ایک نئی ابتدا دکھائی دینے لگتی تھی۔ نادیہ کو لگتا تھا کہ غسان کنفانی نے وہ خط کسی مصطفیٰ کو نہیں، آنے والے زمانوں کے نام لکھا تھا؛ اور ان زمانوں میں سب سے زیادہ بے خبر زمانہ شاید یہی تھا، سن دو ہزار چھبیس۔
اسے حیرت اس بات پر ہوتی کہ یونیورسٹی میں غسان کنفانی پر کانفرنسیں تو بہت ہوتی تھیں، مگر ان میں اکثر وہی لوگ بولتے تھے جو مزاحمت کو اقتباسات میں پسند کرتے تھے، زندگی میں نہیں۔ کچھ کے لیے وہ ایک شہید مدیر تھا، کچھ کے لیے مزاحمتی ادب کا ستون، کچھ کے لیے صرف پوسٹر پر چھپنے والا چہرہ۔ مگر نادیہ کو اس چہرے کے پیچھے ایک ایسا آدمی محسوس ہوتا تھا جو ابھی پوری طرح دفن نہیں ہوا۔ وہ جب بھی “رسالۃ من غزہ” پڑھتی، اسے لگتا، غسان نے ایک خط تو لکھا تھا، لیکن ایک اور خط تھا جو کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔
یہ خیال اسے پہلے مضحکہ خیز لگا تھا۔ پھر یہی اس کی نیند خراب کرنے لگا۔
ایک دن یونیورسٹی کے ایک معمر استاد، ڈاکٹر سمیر، نے اس سے پوچھا، “تم واقعی غسان کو پڑھ رہی ہو، یا صرف اس پر مقالہ لکھ رہی ہو؟”
نادیہ نے کہا، “فرق ہے کیا؟”
انہوں نے دھیرے سے مسکرا کر کہا، “بہت ہے۔ مقالہ لکھنے والے حوالہ ڈھونڈتے ہیں۔ پڑھنے والے خاموشیاں۔”
اسی روز انہوں نے ایک پرانا نام لیا۔ ایک گلوکارہ، جو اب کسی سے نہیں ملتی تھی۔ ایک زمانے میں عرب دنیا کی مشہور آواز، پھر جنگوں، معاہدوں، شکستوں، اور عمروں کے نیچے دبتے دبتے ایک تقریباً بھولی ہوئی عورت۔ ڈاکٹر سمیر نے کہا، “کہتے ہیں غسان اسے سنتا تھا۔ کہتے ہیں وہ غسان کو جانتی تھی۔ کہتے ہیں وہ آج بھی کچھ نہیں کہتی۔”
“نام؟”
انہوں نے ایک کاغذ پر لکھا: سلمیٰ مراد۔
نادیہ نے وہ نام پہلے بھی کہیں پڑھا تھا۔ شاید کسی پرانے رسالے میں، شاید کسی یادداشت میں، شاید کسی جھوٹ میں۔ اس نے اگلے ہفتے سلمیٰ مراد کے اپارٹمنٹ تک پہنچنے کے لیے تین مختلف لوگوں سے راستہ پوچھا۔ عمارت رأس بیروت کے ایک پرانے محلے میں تھی، سمندر کے قریب، مگر سمندر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ صرف اس کی بو آتی تھی۔ لفٹ خراب تھی۔ سیڑھیوں پر نم دیواروں کا پھپھوندی لگا سبز رنگ تھا۔ چوتھی منزل پر پہنچ کر جب اس نے گھنٹی بجائی تو اندر سے دیر تک کوئی حرکت نہ ہوئی۔ پھر قدموں کی آہٹ آئی۔ دروازہ کھلا۔ ایک ضعیف عورت سامنے تھی، بال سفید مگر بے ترتیب نہیں، آنکھیں ہلکی سرمئی، ہونٹوں پر سگریٹ کے دھویں کا مستقل سایہ۔
“کون؟”
“میں نادیہ بلقیس ہوں۔ بیروت یونیورسٹی سے۔”
“صحافت؟”
“نہیں۔ عربی ادب۔”
“اس سے زیادہ خطرناک شعبہ اور کوئی نہیں۔”
نادیہ نے پہلی بار تب جانا کہ بوڑھی عورتیں بھی طنز میں جوان ہو سکتی ہیں۔
سلمیٰ نے اسے فوراً اندر نہیں آنے دیا۔ دروازے کے چوکھٹ سے ٹیک لگا کر پوچھا، “کس پر لکھ رہی ہو؟”
“غسان کنفانی پر۔”
عورت کا چہرہ ذرا سا ساکت ہوا، پھر وہ ہٹ گئی۔ “تو آ جاؤ۔ مردہ لوگوں پر لکھنے والوں کو میں باہر نہیں رکھتی۔ زندہ لوگوں پر لکھنے والوں سے ڈرتی ہوں۔”
کمرہ نیم تاریک تھا۔ پردے آدھے گرے ہوئے۔ ایک دیوار پر پرانی تصویریں، جن میں زیادہ تر چہرے روشنی کے سبب دھندلے ہو چکے تھے۔ ایک کونے میں ریکارڈ پلیئر، جس پر گرد جمی تھی۔ میز پر ادھ جلی سگریٹوں سے بھرا راکھ دان۔ دیوار سے لگے ایک لمبے شیلف میں کتابوں کے ساتھ کچھ کیسٹیں، کچھ پروگرام بکلیٹ، کچھ پرانے رسالے۔ ایک جگہ “الہدف” کا پِلا ہوا شمارہ رکھا تھا۔
نادیہ نے اسے دیکھ لیا۔ سلمیٰ نے بھی دیکھ لیا کہ وہ دیکھ رہی ہے۔
“وہ تمہارے لیے نہیں رکھا۔”
“میں نے مانگا بھی نہیں۔”
“اچھا ہے۔ طالب علموں کی سب سے بری عادت یہ ہے کہ وہ چیزوں کو حق سمجھنے لگتے ہیں۔”
نادیہ نے پہلے دن صرف اتنا کہا کہ وہ غسان پر کام کر رہی ہے، “رسالۃ من غزہ” پر خاص طور سے۔ سلمیٰ نے ایک لمبی خاموشی کے بعد پوچھا، “تمہیں اس خط میں کیا نظر آتا ہے؟”
“انکار۔”
“اور؟”
“واپسی۔”
“اور؟”
“ایک زخمی بچی کی کٹی ہوئی ٹانگ، جو پورے نظریے کو پلٹ دیتی ہے۔”
سلمیٰ نے سگریٹ سلگائی۔ “سب یہی کہتے ہیں۔”
“تو پھر اور کیا ہے؟”
“جو وہ نہیں لکھ سکا۔”
نادیہ نے دل کی دھڑکن چھپانے کی کوشش کی۔ “آپ جانتی ہیں؟”
“جانتی تو بہت کچھ ہوں۔ کہتی بہت کم ہوں۔”
“میں سننے آئی ہوں۔”
“سب یہی کہتے ہیں۔ سننے۔ پھر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، اور جو سنا ہوتا ہے اسے اپنے مطلب کا بنا لیتے ہیں۔”
“میں وعدہ نہیں کرتی کہ کچھ نہیں لکھوں گی۔ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ سنا ہوا خراب نہیں کروں گی۔”
سلمیٰ نے اسے دیکھا۔ لمبی، مسلسل، تھکی ہوئی نظر سے۔ “تمہارا نام کیا بتایا تھا؟”
“نادیہ بلقیس۔”
“نادیہ؟”
“جی۔”
“غسان کی ایک نادیہ بھی تھی۔”
“رسالۃ من غزہ والی؟”
“تم ابھی تک کتاب میں رہتی ہو۔ باہر نکلو۔”
پہلی ملاقات اسی جملے پر ختم ہو گئی۔ دوسری پر سلمیٰ نے اسے کافی پلائی۔ تیسری پر اس سے پوچھا کہ اس کے ماں باپ کون تھے۔ چوتھی پر کہا کہ جو کچھ وہ سننا چاہتی ہے، وہ تاریخ نہیں، مصیبت ہے۔ پانچویں پر اس نے “الہدف” کا پرانا شمارہ میز پر رکھ دیا۔ چھٹی ملاقات میں، جب باہر سمندر پر دھند تھی اور کمرے میں پیلی روشنی، سلمیٰ نے اچانک کہا:
“لوگ سمجھتے ہیں غسان کو انہوں نے اس لیے مارا کہ وہ اچھا لکھتا تھا، یا اس لیے کہ وہ دشمن کے لیے خطرناک تھا۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ مگر پوری سچائی نہیں۔ کبھی کبھی آدمی کو اس چیز کے لیے بھی مار دیا جاتا ہے جو ابھی ہوئی نہیں ہوتی، مگر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”
“آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟”
“یہ کہ کچھ ممکنات بھی قتل کر دیے جاتے ہیں۔”
نادیہ چپ رہی۔
سلمیٰ نے راکھ جھاڑی۔ “تم اس کی بھانجی کے بارے میں کیا جانتی ہو؟”
“کہ وہ سترہ برس کی تھی۔ کہ وہ کار میں اس کے ساتھ تھی۔ کہ وہ بھی اسی دھماکے میں شہید ہوئی۔ اس کے نام کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ کہیں لمیس، کہیں—”
“نام چھوڑو۔ نام ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ لڑکی خوب ہنستی تھی۔ اور بحث کرتی تھی، جیسے کسی نے اس کی عمر میں آگ بھر دی ہو۔”
“آپ اسے جانتی تھیں؟”
“ایک دو بار ملی تھی۔ ایک بار غسان کے گھر۔ ایک بار میرے سامنے اس نے غسان سے ایسی بات کہی تھی کہ میں نے پہلی بار اسے خاموش دیکھا۔ غسان آسانی سے خاموش نہیں ہوتا تھا۔”
“کیا بات؟”
سلمیٰ نے فوراً جواب نہ دیا۔ پھر بولی، “یہ کہ اگر انقلاب صرف ان انسانوں کو پہچانے جن کے زخم اس کے نقشے سے میل کھاتے ہوں، تو وہ بھی ایک اور ریاست ہی ہے، محض مختلف جھنڈے کے ساتھ۔”
کمرے میں دیر تک سکوت رہا۔ باہر کہیں دور گاڑی کے ہارن کی آواز آئی، پھر تھم گئی۔
“وہ کس کے بارے میں کہہ رہی تھی؟”
“ایک لڑکے کے بارے میں۔”
“کون لڑکا؟”
“ایک یہودی لڑکا۔”
نادیہ کا جسم جیسے کرسی پر سیدھا ہو گیا۔ “بیروت میں؟”
“بیروت میں۔ اسی شہر میں، جسے لوگ ہمیشہ ایک ہی وقت میں پناہ گاہ اور مذبح کہتے رہے ہیں۔”
پھر جیسے ایک بند دروازہ اندر سے آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔
وہ لڑکا اشکنازی نہ تھا، نہ یورپ سے سیدھا آیا کوئی آبادکار، نہ داستانوں کا روایتی دشمن۔ اس کا نام یوری تھا۔ بعض اسے یوسف کہہ دیتے، بعض یونا۔ اس کی ماں عربی بولتی تھی، باپ عبرانی اور عربی دونوں، اور گھر میں روسی لہجے کی بچی ہوئی رطوبت بھی تھی۔ اس کا خاندان حیفا سے، پھر یافا سے، پھر کہیں اور سے، پھر دوبارہ کہیں اور سے پھٹا ہوا خاندان تھا۔ ان کے گھر کی دیواروں پر مارکس کی تصویریں بھی کبھی لگی تھیں اور فلسطینی دیہات کے نقشے بھی۔ ان کے ایک بزرگ اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ رہے تھے، ایک چچا جنوبی لبنان کے کسی خفیہ حراستی نظام میں دو دہائیوں سے غائب تھا، ایک بڑا بھائی بیس برس سے جبری لاپتا، اور باقی خاندان بیروت میں ایک ایسی جلاوطنی کاٹ رہا تھا جو پناہ سے زیادہ مشکوک قیام تھی۔
“بیروت سب کو اپنی طرح قبول نہیں کرتا،” سلمیٰ نے کہا، “خاص طور پر ایسے یہودی کو نہیں، جو اسرائیل کے خلاف بھی ہو اور عربوں کے بیچ بھی مکمل عرب نہ سمجھا جائے۔”
“وہ اس لڑکی سے کیسے ملا؟”
“کتابوں کے ذریعے۔ پھر ایک پڑھنے کے حلقے میں۔ پھر اتفاق سے۔ پھر حادثے کی طرح۔”
یوری بیروت میں فرانسیسی اور عربی کے درمیان پھنسا ہوا جوان تھا۔ اس کے پاس ایک خستہ سا بیگ ہوتا جس میں کتابیں زیادہ، کپڑے کم، اور کاغذ ایسے رکھے ہوتے جیسے وہ ہر وقت کسی سے اپنی موجودگی ثابت کرنے کی تیاری میں ہو۔ وہ فلسطین پر قبضے کے خلاف تھا، مگر اس کی مخالفت کسی نعروں کی آسانی سے نہیں آئی تھی۔ اس نے گھر میں ان لوگوں کو دیکھا تھا جو اسرائیلی ریاست سے نفرت کرتے تھے، مگر ان کے نام کے ساتھ چپکی یہودیت انہیں عرب محلوں میں بھی بے آرام کر دیتی تھی۔ اس نے سیکھی ہوئی عبرانی سے شرمندگی بھی اٹھائی تھی اور اسے ترک نہ کرنے کی ضد بھی۔ اس کے پاس ایسی شناخت تھی جسے ہر فریق اپنے خوف کے مطابق پڑھتا تھا۔
غسان کی بھانجی، جسے سلمیٰ کبھی نام سے نہیں پکارتی تھی، یونیورسٹی میں نہیں پڑھتی تھی، ابھی اسکول ہی سے نکلی تھی۔ مگر اس میں وہ فکری بے رحمی تھی جو بعض اوقات جوانی اور سانحے کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس نے گھر میں جنگ، ہجرت، ماتم، اور تصویروں پر چڑھے سیاہ ربن دیکھے تھے۔ وہ اپنی ماں کے زخم کو سمجھتی تھی، مگر اس زخم کی واحد زبان ماننے سے انکار کرتی تھی۔ اس کی ملاقات یوری سے ایک ایسے حلقے میں ہوئی جہاں شعر، سیاست، اور شکست کے بعد بچی ہوئی انسانیت پر بات ہوتی تھی۔ شاید وہیں سے بات بڑھی۔ شاید اس سے پہلے ہی وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے۔ ایسے تعلقات کی ابتدا کبھی صحیح یاد نہیں رہتی۔ بس ایک دن آدمی خود کو اس کے اندر پاتا ہے۔
جب یہ بات غسان کی بہن تک پہنچی تو گھر میں ایسا سناٹا اترا جسے گرج سے زیادہ خطرناک کہا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنی بیٹی کو پہلے رو کر، پھر ڈانٹ کر، پھر دھمکا کر، پھر سمجھا کر، پھر خدا اور خون اور تاریخ کا واسطہ دے کر روکنا چاہا۔ اس کے لیے “یہودی” کوئی مجرد مذہبی لفظ نہ تھا۔ وہ 1948 کے تباہ شدہ گھروں، کیمپوں، فہرستوں، گمشدہ چابियों، اور شہیدوں کی تصویروں سے بنا ہوا لفظ تھا۔ اس نے چیخ کر کہا تھا، “محبت کو تاریخ کا دشمن مت بناؤ۔” لڑکی نے جواب دیا تھا، “اور تاریخ کو انسان کا دشمن کیوں بناتی ہو؟”
یہ جملہ بعد میں غسان تک بھی پہنچا۔
غسان نے پہلے پہل اسے اپنے پاس بلایا اس نیت سے کہ وہ اسے سمجھائے گا۔ اس کی بہن کو یہی امید تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر کوئی اس لڑکی کی ضد کے مقابلے میں دلیل سے کھڑا ہو سکتا ہے، تو وہ اس کا ماموں ہے؛ وہی ماموں جو لکھتا بھی ہے، بحث بھی کرتا ہے، اور جس کے لیے فلسطین کسی جذباتی نعرے سے زیادہ ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔
“میں اس کے پاس گئی تھی،” سلمیٰ نے کہا، “اس شام۔ میں نے غسان کو کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا تھا۔ وہ سگریٹ پی رہا تھا۔ لڑکی سامنے بیٹھی تھی، ہونٹ بھینچے ہوئے۔ مجھے دیکھ کر غسان نے کہا، ابھی نہیں۔ پھر بعد میں، دیر رات، اس نے کہا، ‘یہ لڑکی مجھے میری ہی کہانیاں میرے خلاف پڑھا رہی ہے۔’”
“اس نے کیا کہا تھا؟” نادیہ نے پوچھا۔
سلمیٰ نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، جیسے سننے کی کوشش کر رہی ہو کہ ماضی کا دروازہ کس طرف سے کھلے گا۔
“اس نے غسان سے کہا تھا: اگر آپ مجھے ‘رسالۃ من غزہ’ پڑھنے کو کہتے ہیں، تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں نادیہ کی کٹی ہوئی ٹانگ سے صرف نفرت سیکھوں؟ اس نے اپنی ٹانگ اپنے بہن بھائیوں کو بچاتے ہوئے کھوئی تھی۔ کیا اس قربانی کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان تمام انسانوں کو ایک ہی چہرہ دے دیں جنہیں تاریخ نے ہمارے خلاف استعمال کیا؟ اگر ایک یہودی لڑکا اس قبضے کے خلاف ہے، اگر اس کا خاندان بھی اسی ریاست کی چکی میں پسا ہے، اگر وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہے، تو کیا میں اس سے محبت کر کے اپنے شہیدوں کی توہین کرتی ہوں، یا ان کے خواب کو زیادہ مشکل مگر زیادہ سچا بناتی ہوں؟”
نادیہ کو محسوس ہوا، کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی ہے۔
“اور غسان؟”
“غسان نے پہلے اسے روکا۔ کہا، ‘تاریخ تم سے تمہاری عمر سے زیادہ مانگ رہی ہے۔ تم ایک استثنا کو اصول بنانا چاہتی ہو۔’ لڑکی نے کہا، ‘اور آپ ایک اصول کے لیے ہر استثنا کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔’”
“یہ واقعی اس نے کہا؟”
“تمہیں کیا لگتا ہے، بڑی باتیں صرف بوڑھے لوگ کہتے ہیں؟”
سلمیٰ کی آواز میں ہلکی سی تلخی تھی۔
غسان نے کئی دن اس لڑکی سے بات کی۔ کبھی اپنے گھر میں، کبھی کسی خاموش کیفے میں، کبھی کتابوں کے درمیان، کبھی گاڑی میں۔ وہ اسے سمجھاتا کہ قوموں کے زخموں کو مجرد اخلاقی تجربات کے ذریعے نہیں ناپا جا سکتا۔ وہ کہتا، “تاریخ کی زمین پر محبت ننگے پاؤں نہیں چل سکتی۔” لڑکی جواب دیتی، “تو کیا وہ ہمیشہ فوجی بوٹ پہن کر ہی چلے؟”
وہ کہتا، “لوگ چہروں سے زیادہ علامتیں بن جاتے ہیں۔”
وہ جواب دیتی، “اور آپ نے اپنی ساری زندگی علامتوں کے اندر انسان تلاش کرنے میں گزاری ہے۔”
وہ کہتا، “قبضہ صرف بندوق نہیں، ایک ساخت ہے۔”
وہ کہتی، “میں بھی یہی تو کہتی ہوں۔ اگر ساخت ظالم ہے تو ایک فرد کو اس ساخت کے برابر کیوں ٹھہراتے ہیں؟”
وہ کہتا، “یہودیت اور صہیونیت الگ ہو سکتی ہیں، مگر ہماری تاریخ میں ان کے درمیان خون بہا ہے۔”
وہ کہتی، “خون بہا ہے، اسی لیے تو ہمیں لفظوں کو زیادہ محتاط بنانا چاہیے۔ ورنہ ہم بھی وہی کر رہے ہوں گے جو دشمن ہمارے ساتھ کرتا ہے: انسان کو اس کی پیدائش میں قید کر دینا۔”
ایک بار اس نے غسان سے کہا، “آپ نے ‘واپس آؤ’ لکھا تھا۔ اگر وہ واپس آئے تو کیا آپ دروازہ بند رکھیں گے، صرف اس لیے کہ اس کا نام آپ کے نقشے سے میل نہیں کھاتا؟”
یہ جملہ شاید غسان کے اندر کہیں دور جا کر لگا تھا۔ سلمیٰ نے کہا، “وہ دن میں نے نہیں دیکھا، مگر بعد میں اس نے مجھ سے کہا تھا، ‘میں نے سمجھا تھا میں اسے سکھا رہا ہوں۔ نکلا یہ کہ وہ مجھے میرے اپنے الفاظ کا خوف دکھا رہی تھی۔’”
“آپ اس سے محبت کرتی تھیں؟” نادیہ نے آہستہ سے پوچھا۔
سلمیٰ نے اس کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر کہا، “یہ سوال ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔ اور ہاں، شاید۔ مگر وہ محبت بھی انقلاب کی طرح تھی: پوری کبھی نہیں ہوئی، ختم کبھی نہیں ہوئی۔”
پھر اس نے غسان کے بارے میں ایسے بات کرنی شروع کی جیسے ایک زندہ آدمی کمرے سے ابھی اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا ہو۔ وہ کہتی، وہ تیزی سے چلتا تھا، جیسے ہر قدم کے پاس وقت کم ہو۔ سگریٹ اس کے ہاتھ میں اکثر جلتی رہتی، مگر راکھ دان تک پہنچنے سے پہلے ہی کوئی خیال اسے کہیں اور لے جاتا۔ وہ ہنستا تو یکایک، مگر دیر تک نہیں۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی، مگر وہ تھکن اس شخص کی تھی جو سو نہیں سکتا، اس کی نہیں جو ہار گیا ہو۔ اور جب وہ اپنی بھانجی کے بارے میں بات کرتا تو اس میں باپ جیسی نرمی نہیں، ایک عجیب احترام پیدا ہو جاتا، جیسے وہ جان گیا ہو کہ تاریخ نے اس لڑکی کو اس کی عمر سے پہلے پکا دیا ہے۔
“پھر؟” نادیہ نے پوچھا۔
“پھر اس نے اس لڑکے سے ملنے کا فیصلہ کیا۔”
“غسان نے؟”
“ہاں۔ پہلے خفیہ طور پر۔ پھر کھل کر۔ اس نے اپنی بہن سے کہا، ‘میں اسے منع نہیں کر سکتا، کیونکہ میں خود پوری طرح یقین سے یہ نہیں کہہ پا رہا کہ اسے منع کرنے کا حق میرے پاس ہے۔’ اس کی بہن نے اسے کوسا، روئی، کہا تم بھی نرم پڑ گئے ہو، تمہیں نظریہ نگل گیا تھا، اب تمہیں اپنی ہی کتابیں کھا رہی ہیں۔ مگر غسان خاموش رہا۔”
“وہ لڑکے سے ملا؟”
“ایک بار، مختصر۔ کافی نہ تھی۔ پھر طے ہوا کہ وہ دوبارہ ملیں گے۔ اس بار اس کی بھانجی بھی ہوگی۔ غسان خود اسے لے جائے گا۔”
نادیہ کے ہاتھ سرد ہونے لگے تھے۔
“کیا وہ اسی دن—”
“ہاں۔”
لفظ اتنا ہلکا تھا کہ گرا نہیں، بس فضا میں رہ گیا۔
سلمیٰ نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ “تاریخ بعض اوقات بہت جلدی فیصلہ کر دیتی ہے، جیسے اسے ڈر ہو کہ اگر آدمی دو لمحے اور زندہ رہا تو وہ کوئی ایسی بات سمجھ لے گا جو سلطنتوں کے لیے خطرناک ہو۔”
“آپ کو یقین ہے؟”
“یقین؟” سلمیٰ نے تھک کر ہنسا۔ “یقین تاریخ میں کم ہوتا ہے، عزیزم۔ وہاں زخم ہوتے ہیں، شہادتیں، گواہیاں، جھوٹ، آدھی سچائیاں، اور وہ لمحے جنہیں صرف ایک شخص نے دیکھا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی میرے پاس کاغذی ثبوت ہے۔ میں یہ کہتی ہوں کہ میرے پاس ایک عورت کی یادداشت ہے، اور کبھی کبھی یادداشت آرکائیو سے زیادہ سچی ہوتی ہے، اگرچہ کم قابلِ قبول۔”
“یہ راز آپ کو کس نے بتایا؟”
“خود غسان نے نہیں۔ اس کی بھانجی نے، ایک بار، بہت ہلکے انداز میں۔ جیسے وہ اپنی جان کی خبر نہ دے رہی ہو، بلکہ کسی کتاب کے ایک اچھے جملے کی۔ پھر بعد میں کچھ باتیں خود سمجھ آ گئیں۔ کچھ اس کی بہن کے غصے سے۔ کچھ ایک ادھوری پرچی سے۔ کچھ غسان کی خاموشی سے۔”
“کون سی پرچی؟”
سلمیٰ نے میز کے دراز سے ایک پرانا کاغذ نکالا۔ اس پر پنسل سے کچھ عربی الفاظ تھے، بہت دھندلے۔ نیچے صرف اتنا پڑھا جا سکتا تھا: “لیس کل عدوٍّ وجهاً واحداً…”
ہر دشمن ایک ہی چہرہ نہیں رکھتا۔
اور نیچے کہیں ایک اور جملے کا آدھا حصہ: “لو کانت العدالۃ… ”
اگر عدالت…
پھر کاغذ کٹا ہوا تھا۔
“یہ غسان کی لکھائی ہے؟”
“میرے خیال میں ہاں۔ مگر خیال بھی اس شہر میں ایک خطرناک دستاویز ہے۔”
نادیہ نے کاغذ کو ہاتھ نہ لگایا۔ اسے لگا، اگر چھو لیا تو لفظ مٹ جائیں گے۔
اس کے بعد وہ کئی راتیں نہیں سوئی۔ اس نے “رسالۃ من غزہ” دوبارہ پڑھی۔ وہ حصے جہاں راوی بھاگنا چاہتا ہے۔ وہ حصے جہاں نادیہ کی کٹی ہوئی ٹانگ اسے روک لیتی ہے۔ وہ پंक्तियाँ جہاں غزہ شکست کے ملبے سے ایک آغاز بن کر اٹھتی ہے۔ اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ غسان کنفانی شاید اپنے اندر کسی اور نادیہ کے لیے بھی جگہ بنا رہا تھا: ایک ایسی نوجوان لڑکی کے لیے جو اسے یہ سکھا رہی تھی کہ مزاحمت اگر صرف شناختوں کے پتھر گنے اور دلوں کے تضاد کو نہ سمجھے، تو وہ اپنی ہی اخلاقی زمین کھو سکتی ہے۔
اس نے اپنے مقالے کا مسودہ کھولا۔ بہت سے جملے اچانک مصنوعی لگنے لگے۔ “مزاحمتی شعور کی تشکیلات”۔ “قوم پرستانہ بیانیے کے جمالیاتی مظاہر”۔ “جلاوطنی کے semiotics”۔ اسے غصہ آیا۔ اس نے کمپیوٹر بند کر دیا۔ رات بھر بارش سنتی رہی۔
اگلے ہفتے جب وہ سلمیٰ کے پاس پہنچی تو بوڑھی گلوکارہ کی طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ کمرے میں دواسازی کی بو تھی۔ اس نے نادیہ کو اندر بٹھایا، خود کرسی پر آہستہ سے بیٹھ گئی، اور کہا، “تم جانتی ہو اس کہانی کا سب سے ظالمانہ حصہ کیا ہے؟”
“کون سا؟”
“یہ کہ بعد میں سب نے انہیں بالکل مناسب طریقے سے یاد کیا۔ غسان شہید مدیر بن گیا۔ مزاحمت کا روشن ستارہ۔ اس کی بھانجی ایک مقدس حاشیہ بن گئی۔ سب کچھ قابلِ قبول، قابلِ اشاعت، قابلِ نعرہ۔ مگر جو بات ناقابلِ برداشت تھی، وہ کہیں درج نہ ہوئی: یہ کہ وہ شاید ایک ایسے امکان کی طرف جا رہے تھے جسے نہ دشمن قبول کر سکتا تھا، نہ دوست۔”
“یعنی؟”
“یعنی تاریخ کو دشمنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی ان دشمنوں کے بیچ ایک انسان نکل آئے تو سب سے پہلے وہی مارا جاتا ہے۔”
سلمیٰ نے ایک اور سگریٹ سلگائی۔ “مجھ سے لوگ پوچھتے تھے، غسان کی سب سے بڑی طاقت کیا تھی؟ میں کہتی تھی، اس کا یقین۔ اب اگر تم پوچھو تو کہوں گی، اس کی سب سے بڑی طاقت شاید اس کا شک تھا۔ وہ اپنے یقین کے اندر شک کی جگہ رکھتا تھا۔ اسی لیے اس کے جملے زندہ ہیں۔ جو آدمی صرف نعرہ جانتا ہو، وہ ادب نہیں لکھ سکتا۔ اور جو صرف ادب جانتا ہو، وہ تاریخ کے دانت نہیں پہچانتا۔ غسان دونوں جانتا تھا۔”
“اور آپ؟ آپ نے کبھی یہ سب کیوں نہیں کہا؟”
“کس سے کہتی؟ اخبار سے؟ یونیورسٹی سے؟ ان پارٹیوں سے جو اپنے شہیدوں کو مجسمہ بنا کر ان کی انسانی پیچیدگی سے جان چھڑاتی ہیں؟ یا ان حکومتوں سے جنہیں مردہ انقلابی زندہ انسانوں سے زیادہ پسند ہیں؟” وہ ہلکا سا کھانسی۔ “کچھ کہانیاں آدمی اس لیے نہیں چھپاتا کہ وہ جھوٹ ہیں، بلکہ اس لیے کہ زمانہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔”
“اور اب؟”
“اب شاید زمانہ اور بھی کم قابل ہے۔ مگر میں مرنے سے پہلے اپنی خاموشی کا بوجھ کچھ ہلکا کرنا چاہتی تھی۔”
نادیہ نے پہلی بار اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
سلمیٰ نے ہاتھ نہ ہٹایا۔
“تم لکھو گی؟”
نادیہ نے دیر سے کہا، “شاید۔ مگر شاید مقالہ نہیں۔”
“اچھا ہے۔ مقالے قبروں کو صاف رکھتے ہیں۔ کہانیاں کبھی کبھی انہیں کھول دیتی ہیں۔”
اس رات نادیہ ساحل تک گئی۔ بیروت کے سمندر کے پاس رات میں کھڑے ہو کر آدمی کو ہمیشہ لگتا ہے کہ شہر اپنی ساری تباہی کو پیٹھ پیچھے چھپا کر صرف شور بچا لیتا ہے۔ اسے غسان کی وہ سطر یاد آئی: “میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا… تم واپس آؤ…”۔ وہ دیر تک اس جملے کے ساتھ رہی۔ واپس آنا۔ کہاں؟ کس کے پاس؟ کس شکل میں؟ اور کس قیمت پر؟
اسے لگا، شاید غسان کی زندگی میں بھی ایک ایسا خط تھا جو کبھی بھیجا نہیں گیا۔ مصطفیٰ کے نام نہیں۔ نہ کسی پارٹی کے نام۔ نہ کسی قوم کے نام۔ شاید ایک نوجوان لڑکی کے نام، جس نے اس سے پوچھا تھا کہ اگر انصاف واقعی انصاف ہے، تو کیا وہ تاریخ کے دشمنوں کو پہچانتے ہوئے بھی انسانوں کے لیے ایک باریک دروازہ کھلا چھوڑ سکتا ہے؟ شاید ایک ایسے یہودی لڑکے کے نام، جو دشمن کے خانے میں رکھا گیا تھا، حالاں کہ اس کا دل اسی خانے کے خلاف دھڑکتا تھا۔ شاید اپنے ہی نام، کہ تم نے جو کچھ لکھا، کیا تم اس کی آخری اخلاقی قیمت ادا کر سکتے ہو؟
اس نے اسی رات اپنے مقالے کے ابتدائیہ کے نیچے ایک نیا جملہ لکھا:
“بعض انقلابیوں کو تاریخ نہیں مارتے، ان کے گرد قائم کیے گئے آسان بیانیے مار دیتے ہیں۔”
پھر اسے مٹا دیا۔
وہ جانتی تھی، یہ مقالے کا جملہ نہیں۔
کچھ ہفتے بعد سلمیٰ مراد فوت ہو گئی۔ خبر بہت مختصر چھپی۔ ایک سابق گلوکارہ، عرب دنیا کی نامور آواز، طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ خبر کے آخر میں ان کے مشہور گیتوں کے نام تھے۔ کسی نے نہیں لکھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک راز بھی لے گئی، یا شاید ایک راز کی ذمہ داری کسی اور کے سپرد کر گئی۔ نادیہ جنازے میں گئی۔ لوگ کم تھے۔ زیادہ تر بوڑھے۔ چند صحافی۔ دو تین سابق فنکار۔ ایک عورت نے دبے لہجے میں کہا، “وقت سب کو کھا جاتا ہے۔” نادیہ نے دل میں سوچا، نہیں، وقت نہیں، ترتیب۔ ہم یاد کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ زندہ چیزیں نکل جائیں، صرف قابلِ برداشت خلاصے بچ رہیں۔
سلمیٰ کی چیزوں میں سے نادیہ کو کچھ نہ ملا۔ نہ پرچی، نہ کیسٹ، نہ تصویر۔ شاید بوڑھی عورت نے سب پہلے ہی جلا دیا تھا۔ یا کسی اور نے اٹھا لیا۔ یا کچھ تھا ہی نہیں سوائے اس کے کہہ دینے کے۔ مگر نادیہ کو اب یقین تھا کہ بعض اوقات شہادت کاغذ پر نہیں، آواز میں ہوتی ہے۔ اور آواز، اگر ایک بار آدمی کے اندر اتر جائے، تو پھر اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
مئی میں اس نے اپنا مقالہ جمع نہ کیا۔ یونیورسٹی نے اسے یاد دہانی بھیجی۔ پھر دوسری۔ ڈاکٹر سمیر نے اسے بلایا۔ “تم کہاں غائب ہو؟”
اس نے کہا، “میں لکھ رہی ہوں۔”
“مقالہ؟”
“نہیں۔ شاید کچھ اور۔”
ڈاکٹر سمیر نے اسے لمبی نظر سے دیکھا۔ “آخر تم بھی خاموشیوں کے پیچھے پہنچ ہی گئیں۔”
“اگر میں یہ لکھوں، تو لوگ کہیں گے یہ ثابت نہیں۔”
“لوگ ہر اس چیز کے بارے میں یہی کہتے ہیں جو ان کی ترتیب خراب کرے۔”
“اور اگر میں نہ لکھوں؟”
“تو پھر تم بھی انہی میں ہو جاؤ گی جو مردہ لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی زندگی سے خطرناک حصے نکال دیتے ہیں۔”
“مگر یہ کہانی اگر سچ ہو، تو بہتوں کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی۔ اگر نہ ہو، تو میں ایک شہید کے گرد افسانہ بنا رہی ہوں۔”
انہوں نے کہا، “ادب کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ ناقابلِ قبول کی اخلاقی آزمائش کرے۔ سچ کبھی کبھی دستاویز سے کم اور امکان سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔ مگر خبردار، اسے نعرہ نہ بنا دینا۔”
نادیہ نے سر ہلایا۔
گرمی آنے لگی تھی۔ بیروت کی دیواروں سے نمی اٹھ کر دھول میں بدل رہی تھی۔ یونیورسٹی میں نئے پوسٹر لگ رہے تھے۔ غزہ پھر خبروں میں تھی۔ ٹیلی وژن پر پھر تباہ شدہ عمارتیں تھیں، پھر بچے، پھر وہی جملے، پھر عالمی ضمیر کی عارضی بیداریاں۔ نادیہ کو ایک عجیب نفرت محسوس ہوئی ان تمام زبانوں سے جو ہر سانحے کے بعد تازہ ہو کر بھی اندر سے باسی رہتی ہیں۔
اس نے اپنی کہانی لکھنی شروع کی۔
وہ رات کو لکھتی تھی، دن میں نہیں۔ دن میں زبان زیادہ سماجی ہوتی ہے۔ رات میں آدمی اپنے جھوٹ سے کم لیس ہوتا ہے۔ اس نے غسان کو مجسمے کی طرح نہیں لکھا، آدمی کی طرح لکھا۔ اس نے اس لڑکی کو معصوم نہیں لکھا، روشن لکھا۔ اس نے یوری کو نہ بری الذمہ کیا نہ ملعون؛ اسے بس تاریخ کے بیچ پھنسے انسان کی طرح رکھا۔ اس نے سلمیٰ کو بھی رکھا، ایک بوڑھی آواز کی طرح، جو جانتی ہے کہ بعض گیت صرف دیر سے سمجھ آتے ہیں۔ اور اس نے خود کو بھی کہانی میں رکھا، مگر نام کے بغیر، جیسے کوئی نوجوان محقق نہیں، محض سننے والی ہو۔
کہانی کے آخر میں وہ کار نہیں لکھ سکی پہلے۔ کئی راتیں کار کے دروازے تک آ کر رک جاتی۔ پھر ایک شب اس نے لکھا: غسان نے اپنی بھانجی کو بٹھایا، شاید اس نے اس سے کہا ہو گا کہ دیکھو، میں اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں، مگر تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ شاید اس نے راستے میں سگریٹ سلگائی ہو گی۔ شاید وہ کسی اگلے جملے کے بارے میں سوچ رہا ہو گا۔ شاید لڑکی نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہو گا، اور اسے بیروت معمولی لگا ہو گا، جیسے موت ہمیشہ معمولی دوپہروں اور عام سڑکوں پر آتی ہے۔ پھر دھماکہ۔ پھر خاموشی۔ پھر تاریخ کا وہ حصہ جو سب جانتے ہیں۔
اور تاریخ کا وہ حصہ جو کوئی نہیں جانتا۔
جب کہانی مکمل ہوئی تو اس نے پہلی سطر پڑھی اور آخری۔ دونوں کے درمیان اسے ایک ایسا خلا محسوس ہوا جو بھر نہیں سکتا تھا۔ مگر شاید یہی کافی تھا۔ کچھ کہانیاں خلا ہی کے قابل ہوتی ہیں۔
اس نے عنوان لکھا:
اب غسان کنفانی کو کوئی یاد نہیں کرتا
وہ جانتی تھی، یہ جملہ لفظی طور پر جھوٹ ہے۔ غسان کو بہت لوگ یاد کرتے ہیں: جلسوں میں، پوسٹروں پر، سیمیناروں میں، اقتباسات میں، برسیوں پر، یومِ پیدائش پر۔ مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ عنوان کا سچ اس جھوٹ سے گہرا ہے۔ لوگ اسے یاد کرتے ہیں، مگر اس طرح نہیں کہ اس کی انسانی پیچیدگی ان کے آرام میں خلل ڈالے۔ وہ اسے یاد کرتے ہیں، مگر اس طرح نہیں کہ اس کے جملے ان کے اخلاقی نقشے بدل دیں۔ وہ اسے یاد کرتے ہیں، مگر اس طرح نہیں کہ وہ سوال زندہ رہیں جن کے جواب خود غسان کے لیے بھی آسان نہ تھے۔
چند مہینے بعد، جب خزاں کی پہلی ہوا آئی، نادیہ دوبارہ سمندر کے پاس گئی۔ اس کے بیگ میں کہانی کا پرنٹ تھا۔ اس نے اسے نکالا نہیں۔ صرف اپنے ساتھ رکھا۔ اسے لگا، بعض تحریریں پہلے دنیا کو نہیں، اپنے لکھنے والے کو بدلتی ہیں۔ اس نے دور پانی کی طرف دیکھا۔ شام کے دھندلے رنگ میں شہر کی روشنیاں ایک ایک کر کے جل رہی تھیں۔ اسے سلمیٰ مراد کی آواز یاد آئی، غسان کا نام، اس بھانجی کا بے نام چہرہ، اور وہ یہودی لڑکا جسے تاریخ نے شاید کبھی مکمل جملہ بھی نہ بننے دیا۔
بیروت کی ہوا نم تھی۔ اس نے آہستہ سے دل ہی دل میں کہا:
“ہم تمہیں یاد کرتے ہیں، غسان۔
مگر شاید ابھی تک ٹھیک طرح نہیں کرتے۔”
سمندر نے کوئی جواب نہ دیا۔
اور اسی خاموشی میں اسے پہلی بار لگا کہ شاید کہیں، کسی اور تہہ میں، ایک خط ابھی تک سفر میں ہے۔