ادارتی نوٹ: ‘غبارِ امن’ کے پیچھے چھپی حقیقت — کیا عالمی ‘مسیحائی’ داخلی سطح پر عوام کے مصائب کم کرسکے گی ؟
عالمی میڈیا ہیڈ لائنز سے گونج رہا ہے۔ واشنگٹن سے تہران تک، اور تہران سے اسلام آباد تک، سفارتی جادوگروں کی ایک نئی کھیپ ‘امن کا راگ’ الاپ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور لائیو منٹ، اے پی ، الجزیرہ، بی بی سی نیوز کی رپورٹس نے پاکستان کو ایک ایسے ‘عالمی مسیحا’ کے طور پر پیش کیا ہے جس نے صدر ٹرمپ کے ایک ‘اسکرین شاٹ’ اور چند ‘ٹرانزیکشنل ڈیلز’ (بشمول کرپٹو کرنسی اور نیویارک کے ہوٹل) کے ذریعے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس کھینچ لیا ہے۔
ظاہری طور پر، یہ پاکستان کی ایک عظیم سفارتی فتح ہے۔ ایک ایسی ریاست جو مالیاتی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، وہ اچانک ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ کو ٹالنے والی ‘محور’ بن گئی ہے۔ لیکن، ‘ایسٹرن ٹائمز نیوو’ کے ریڈیکل صحافتی منشور کا تقاضا ہے کہ ہم اس چمک دمک کے پیچھے چھپے ہوئے تضادات سے پردہ اٹھائیں۔ ہمارے نزدیک یہ ‘غبارِ امن’ ہے ۔ پاکستان کے حکمران طبقات اور اس کی طاقتور “فوجی افسر شاہی ” کا تاریخی ریکارڈ یہ ہے کہ جب اسے عالمی سامراجی سرمایہ دار قوتوں کی طرف سے “سرپرستی ” میسر آتی ہے اور “مالی امداد” سے “اشرافیائی معشیت ” کو بحران سے نکلنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پاکستان میں طبقاتی استحصال اور قومی ، نسلی ، مذہبی جبر کو اور شدید کر دیتی ہے ۔ پریس کی آزادی اور سلب ہوتی ہے، جمہوریت مزید پابند سلاسل ہوتی ہے۔
سوال نمبر 1: کیا یہ ‘عالمی امن’ داخلی ‘قیامت’ کو روک پائے گا؟
رپورٹس میں بڑے فخر سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ‘ڈیووس ڈپلومیسی’ اور ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن کیا یہ ‘امن’ پاکستان کے اپنے داخلی سیکیورٹی چیلنجز کا حل ہے؟ بالکل نہیں۔ جب اسلام آباد کے حکام واشنگٹن میں ‘امن کے سفیر’ بنے پھر رہے ہیں، اسی وقت ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہ خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ کیا وائٹ ہاؤس کے لان میں ہونے والی کوئی ‘گرینڈ ڈیل’ پشاور یا کوئٹہ کے معصوم شہریوں کو دہشت گردی سے بچا پائے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ‘عالمی مسیحائی’ ریاست کے لیے محض ایک ‘ڈسٹریکشن’ (توجہ ہٹانے کا ذریعہ) ہے، تاکہ وہ اپنی ناکام داخلی سیکیورٹی پالیسیوں پر پردہ ڈال سکے اور عالمی برادری سے اپنی بقا کے لیے مزید ‘آکسیجن’ (مالی امداد) حاصل کر سکے۔
سوال نمبر 2: کیا ‘ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی’ جمہوریت پسندوں کے آنسو پونچھ پائے گی؟
لائیو منٹ کی رپورٹ میں پاکستان کی ‘ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی’ (تجاتی سفارت کاری) کی تعریفیں کی گئی ہیں روزویلٹ ہوٹل کا معاہدہ، کرپٹو کرنسی کا استعمال، ٹرمپ کے ‘بزنس ماڈل’ کے ساتھ ہم آہنگی۔ لیکن کیا یہ سب کچھ پاکستان کے جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کے حلقوں کی تشویش کو کم کر سکے گا؟ جواب ایک ‘نفی’ ہے۔ یہ ‘ڈیلز’ ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب اصولوں کے بجائے محض ‘خرید و فروخت’ پر مبنی ہے۔ جب ریاست اپنے اثاثے اور پالیسیاں ایک غیر ملکی تاجر صدر کے حوالے کر رہی ہے، تو وہ اپنے عوام کے جمہوری حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ کیسے کرے گی؟ یہ ‘مسیحائی’ دراصل ان تضادات کو مزید گہرا کر رہی ہے، جہاں ریاست عالمی سطح پر ‘امن پسند’ اور داخلی سطح پر ‘آمرانہ’ نظر آتی ہے۔
سوال نمبر 3: بلوچستان کے لیے ‘امن’ یا مزید ‘جبر’؟
سب سے تلخ اور ہولناک سوال بلوچستان کا ہے۔ کیا پاکستان کی یہ عالمی ‘مسیحائی’ بلوچستان کے عوام پر ریاستی جبر کے سائے ہٹا پائے گی؟ یا یہ سائے اور زیادہ گہرے ہوں گے؟ رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے یہ پیشکش ایران میں طویل جنگ کے پاکستان تک پھیلنے کے خدشے کی وجہ سے کی۔ لیکن کیا یہ ‘امن’ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی امن لائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست عالمی سطح پر ‘ثالث’ کا کردار ادا کر رہی ہے، وہ داخلی سطح پر بلوچستان میں لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل، اور عسکری آپریشنز کو مزید تیز کر رہی ہے۔ کیں یہ ‘عالمی امن’ ریاست کے حکمران طبقات کے لیے لیے ایک ‘لائسنس’ تو نہیں بن جائے گا کہ وہ بلوچستان کے مسائل کو ‘سیکیورٹی کا مسئلہ’ بنا کر مزید دبا دے۔ کیں یہ ‘غبارِ امن’ بلوچستان کے لہو کو چھپانے کے لیے ایک ‘سفید چادر’ کا کام تو نہیں کے گا؟
آخری تجزیہ
ہم پاکستان کی اس عالمی ‘مسیحائی’ میں بہت سے خدشات کو چھا دیکھتے ہیں۔ پہلے تو یہ ثالثی مڈل ایسٹ میں کسی طرح کے “امن” کو قائم نہیں کر پائے گی کیونکہ امریکہ ، اسرائیل میں اس وقت جو حکمرانی کر رہے ہیں وہ دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ ہیں ۔ اسرائیل نے اوسلو اکارڈ کے بعد سے مزید صہیونی بستیاں قائم کی ہیں ، اس نے ویسٹ بینک کے نصف تک قبضہ بڑھایا ہے، وہ شام ، لبنان کے کئی علاقوں پر قابض ہے اور اب وہ اپنی سرحد سے لبنان کے اندر مزید 250 کلومیٹر رقبے پر قابض ہوکر ایک نام نہاد بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات کے لیے پیش کردہ کردہ 12 نکاتی تجویز سراسر ناقابل عمل ہے جس کو ایران کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لیے اس ثالثی سے حقیقی امن قائم ہونے والا نہیں ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت گلف ممالک صرف عمان کو چھوڑ کر سب کے سب امریکی سامراج کے اپنے علاقوں میں اڈے جب تک برقرار رکھیں گے اور یہ اڈے ایران کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے تب تک مڈل ایسٹ میں تنازعہ برقرار رہے گا ۔ سعودی عرب کا پاکستان سے دفاعی معاہدہ ، یوکرائن سے اینٹی مزائیل دفاعی جدید ٹیکنالوجی کے معاہدے ، یو اے ای کے امریکہ سے جدید اینٹی ڈرون دفاعی ٹیکنالوجی خریدنے کے اربوں ڈالر کا معاہدہ بتا رہا ہے کہ گلف کی دیگر ریاستیں بھی اسی راہ پر گامزن ہوں گی اور اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ گلف ریاستیں ایران سے تعلقات معمول پر لانے اور اپنی ریاستوں کو امریکی طفیلی پن سے نکالنے اور اسرائیلی بلیک میلنگ سے نجات پانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں بلکہ وہ ایران کے خلاف لڑائی میں خود کو ملوث رکھنے میں اسرائیلی ، امریکی اور یوکرائنی ٹیکنالوجی کی طرف دیکھ رہی ہیں ۔ جیسا کہ محمد بن سلیمان شاہ سعودی عرب کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ نے انتہائی تضحیک آمیز الفاظ میں بتایا ہے کہ وہ اسے کہہ رہے ہیں کہ ایران میں موجودہ رجیم اور اس کی دفاعی صلاحیت کی بربادی تک حملے جاری رکھیں ، اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ گلف ریاستوں کو خطے میں “پائیدار امن ” ایران کی دفاعی صلاحیت اور معشیت کی مکمل بربادی کے ساتھ چاہيے ۔ اس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حلد یا بہ دیر گلف ریاستوں اور ایران کے درمیان “کھلے تصادم ” کا مرحلہ آئے گا ؟ تب کیا پاکستان کی موجودہ قیادت کی ایران اور گلف ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگ میں کیا پوزیشن ہوگی ؟ ہمیں پاکستان کے حکمرن طبقات اور فوجی افسر شاہی کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے شدید خدشہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ سویلین اور فوجی قیادت اس جنگ میں پاکستان کو گلف ریاستوں کی فرنٹ مین ریاست میں نہ بدل دے جیسے اس نے 80ء کی دہائی میں اور پھر نائن الیون کے بعد خود کو امریکی جنگوں میں فرنٹ مین ریاست میں بدلا تھا اور آج تک پاکستان کے عوام اس کی قیمت چکا رہے ہیں ۔ ایسٹرن ٹائمز نیوز اردو
ایران امریکہ جنگ: کیا پاکستان بنے گا عالمی امن کا مسیحا؟ ٹرمپ کے ایک ‘اسکرین شاٹ’ اور پاکستان کی ‘پردہ نشین سفارت کاری’ نے دنیا کو حیران کر دیا
نیویارک/اسلام آباد (رپورٹ: ای ٹی نیوز، نیوز ایجنسیاں ): مشرقِ وسطیٰ کے شعلوں میں گھری دنیا، جہاں ایران کے میزائلوں نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور امریکی بیڑے “قیامت خیز” حملوں کے لیے تیار کھڑے ہیں، وہاں سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران تک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔
https://www.wsj.com/world/middle-east/pakistan-trump-iran-war-84b8248e
وال اسٹریٹ جرنل اور لائیو منٹ کی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے خود کو اس خونی تصادم کو ختم کرنے کے لیے ایک ‘پردہ نشین ثالث’ کے طور پر پیش کیا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو عوامی سطح پر قبول کر کے عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے
ٹرمپ کا ‘ماسٹر اسٹروک’ یا محض اتفاق؟
اس سنسنی خیز ڈرامے کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی ایک پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ اس پوسٹ میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ‘مذکرات کی میزبانی’ کی پیشکش کی تھی۔ ٹرمپ، جو ایک طرف ایران کے بجلی گھروں کو اڑانے کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں اور دوسری طرف 10,000 تازہ دم فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، ان کا اس طرح پاکستان کی پیشکش کو اہمیت دینا عالمی سفارت کاری میں ایک بہت بڑا ‘ٹوسٹ’ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان: جنگ کے بادلوں میں امید کی کرن؟
لائیو منٹ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی یہ پیشکش محض ایک ٹویٹ نہیں تھی، بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ سفارتی مہم کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی حکام نے گزشتہ ایک سال سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بیک چینل رابطے استوار کر رکھے تھے۔ اس مہم کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی بتائی جاتی ہے، جنہوں نے جنوری میں ڈیووس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ‘بورڈ آف پیس’ (Board of Peace) میں شمولیت اختیار کی۔
سنسنی خیز انکشافات: ‘ٹوکن ڈپلومیسی’ سے ‘ٹرانزیکشنل ڈیلز’ تک
لائیو منٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کو رام کرنے کے لیے روایتی سفارت کاری کے بجائے ‘ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی’ کا سہارا لیا:
- نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل: پاکستان نے نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت والے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ تعمیر کا معاہدہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ذریعے کرایا۔
- کرپٹو کرنسی کا استعمال: پاکستان نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ٹرمپ کے خاندان سے وابستہ کرپٹو بزنس کے $1 اسٹیبل کوائن (Stablecoin) کو استعمال کرنے کی حامی بھری۔
‘شٹل ڈپلومیسی’ اور پاکستان کی منفرد پوزیشن
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کم از کم چھ اہم پیغامات پہنچائے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہ منفرد ساکھ ہے کہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ “ورکنگ ریلیشنز” قائم ہیں، جبکہ واشنگٹن میں ایران کے سفارتی مفادات کی نمائندگی بھی پاکستانی سفارت خانہ ہی کرتا ہے۔ قطر جیسے خلیجی ممالک کے برعکس، پاکستان میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں ہے اور وہ اپنی جگہ ایک بڑی فوجی طاقت ہے، جس کی وجہ سے ایران اسے ایک زیادہ غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھتا ہے۔
پاکستان کی تشویش اور سعودی عرب کا فیکٹر
اسلام آباد کے لیے اس جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ ایران میں طویل جنگ کے پاکستان تک پھیلنے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان پہلے ہی افغان طالبان کے ساتھ تنازعات اور جنگ کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی میں تعطل کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ، ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا باہمی دفاعی معاہدہ بھی اسلام آباد پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ جب تہران نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کو اس معاہدے کی یاد دہانی کرائی اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔
خوف اور امید کا سنگم: کیا تاریخ بدلے گی؟
دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان واقعی ایٹمی طاقتوں کے اس ٹکراؤ کو ٹالنے میں کامیاب ہو پائے گا؟ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی عالمی اہمیت کو ان بلندیوں پر لے جائے گا جو 1972 میں صدر نکسن کے دورہ چین کے لیے پاکستان کی ثالثی کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اب صرف ایک “پریشان حال ریاست” کے طور پر نہیں بلکہ مغربی ایشیا میں ایک اہم امریکی اتحادی اور عالمی امن کے ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے۔