پاکستان میں “عوام کی تاریخ ” لکھے جانے کی روایت آج بھی “ادارہ جاتی ” شکل اختیار نہیں کرسکی ۔ پاکستان کی ریاست نے گزشتہ 78 سالوں میں سرکاری جامعات کے شعبہ ہائے تاریخ میں عوامی تاریخ پڑھنے ، اس پر تحقیق کرنے اور اس حوالے سے تحقیقی شعبہ جاتا قائم کرنے کی ہمیشہ حوصلہ شکنی ہے ۔ آج تک پاکستان میں کوئی ایسا سرکاری قومی ادارہ قائم نہیں ہوا جو وفاق پاکستان اور اس کے صوبوں کے عوام کی تاریخ کو تربیت دے کر مدون کرے ۔

پاکستان میں ایسے ماہرین تاریخ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنھوں نے پاکستان کے عوام کی تاریخ کو مدون کرنے کی کوشش کی ہو ۔ ان میں سے ایک نام بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں مقیم ڈاکٹر شاہ محمد مری کا ہے جنھوں نے “بلوچستان کی عوامی تاریخ” کو مدون کرنے کا کام بڑی دل جمعی سے کیا ہے ۔

جو کام اداروں کے کرنے کا تھا انھوں نے اسے تن تنہا سرانجام دیا ہے۔ وہ اب تک “پیپلز ہسٹری آف بلوچستان ” کے عنوان سے بارہ جلدیں مرتب کرکے شایع کر چکے ہیں اور اس میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے

ڈاکٹر شاہ محمد مری نظریاتی اعتبار سے مارکسسٹ ۔ لیننسٹ ہیں ۔ انھوں نے بلوچستان کی عوامی تاریخ مرتب کرنے کے دوران تاریخ کے مادی جدلیاتی طریقہ کار کو برتا ہے اور بڑی تفصیل سے بتایا ہے کہ آج تک بلوچستان کا خطہ پیداواری وسائل ، آلات پیداوار ، ان پر کنٹرول اور اس سب سے بنے طریق پیداوار کے ارتقاء کے کن مراحل سے گزرا ہے اور اس سے بلوچستان کا بالائی سماجی ڈھانچہ کن تبدیلیوں سے گزرا ہے اور اس سماج میں تاریخ کن طبقات کے درمیان کش مکش کی تاریخ رہی ہے ۔ انھوں نے ساتویں جلد میں بہت تفصیل سے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ کیسے تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ پاکستانی ریاست کے حکمران طبقے نے اس وقت کی آزاد ، خودمختار ریاست کلات پر باقاعدہ فوجی کاروائی کرکے قبضہ کیا ۔ کیسے پاکستان نے انگریز سامراجی دور میں بلوچستان سے الگ کیے گئے علاقوں کو پنجاب اور خیبرپختون خوا کا حصّہ رہنے دیا ۔ ان کی نظر میں ریاست کلات پر قبضہ ایک فیوڈل ریاست کا اپنے سے کہیں کمزور فیوڈل ریاست پر جور و زبردستی کے ساتھ کیا جانے والا قبضہ تھا۔ وہ لکھتے ہیں
“برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کے حصے میں بہت ہی کم رقبہ (اور وہ بھی پسماندہ علاقوں والا رقبہ) آیا۔ اسی لیے شروع سے اس کی حریص و طلب گار نظریں بلوچستان پہ تھیں۔ بلوچستان کا اتنا بڑا رقبہ، قدرتی وسائل سے اس قدر مالا مال، زبردست جغرافیائی سٹریٹجک اہمیت، اور بہت بڑا سمندر ہر پڑوسی کے منہ میں “ٹائلزم” والی بیماری جیسا پانی لاتے تھے۔”
ڈاکٹر شاہ محمد مری پاکستانی ریاست کو ایک ایسی سیاسی اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنی آزادی کے باوجود فکری اور معاشی طور پر اب تک نو آبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک 1947ء کی تقسیم نے محض آقا بدلے تھے، جس کے نتیجے میں پاکستان پہلے برطانیہ اور پھر امریکی سامراج کی ایک ‘طفیلی ریاست’ بن کر رہ گیا۔ وہ اس ڈھانچے کو ایک ‘نیو کالونیل’ (جدید نو آبادیاتی) نظام قرار دیتے ہیں، جہاں ریاست کے وسائل کا بڑا حصہ عوامی بہبود اور صنعتی ترقی کے بجائے عسکری قوت کو مضبوط کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ ان کے بقول، یہی وہ مقام ہے جہاں سے ملک کی ‘بدبختی کا طویل دورانیہ’ شروع ہوا، جس نے عوام کو مستقل معاشی اور سیاسی بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔
ریاستی ڈھانچے اور وفاق کے حوالے سے ڈاکٹر مری کا تجزیہ انتہائی تلخ اور حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ وفاق کو ایک ‘ٹوٹی ہوئی ہڈی’ سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں مرکز اور اکائیوں کے درمیان تعلق ہم آہنگی کے بجائے مستقل تصادم اور مسلح کشمکش پر مبنی ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں ‘وفاق’ کا عملی مطلب محض ایک صوبے کی بالادستی ہے، جسے وہ ‘پنجابائزیشن’ کا نام دیتے ہیں۔ اس عمل کے تحت باقی تمام صوبوں کی شناخت، وسائل اور حقوق کو مرکز کے تابع کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں اور مرکز کے درمیان محض قانونی چپقلش ہی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ‘جنگ’ کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
ریاست کے اندرونی تضادات پر بحث کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ یہاں کے تمام ادارے، چاہے وہ عدلیہ ہو یا پارلیمنٹ، مستقل دست و گریباں ہیں، جبکہ اصل طاقت کا سرچشمہ ‘ملٹری اسٹیبلشمنٹ’ ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اقتدار پر قابض رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک سماج کے مختلف طبقات—بنیاد پرست، لبرل، مذہبی اکثریت اور اقلیتیں—سب کے سب شکستہ و ریختہ تعلقات کا شکار ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں وہ دو بنیادی نکات کو حل طلب سمجھتے ہیں: پہلا، سیاست سے عسکری مداخلت کا مکمل خاتمہ اور دوسرا، محکوم قوموں کی حقیقی نجات۔ ان کے نزدیک جب تک ریاست ان تضادات کو حل نہیں کرتی، طبقاتی جدوجہد کا راستہ ہموار ہونا ناممکن ہے۔
” پیپلز ہسٹری آف بلوچستان – بلوچ عصرِ جدید” جلد ہشتم چھپ کر آئی ہے ۔ بلوچستان کی عوام کی تاریخ کی تدوین کے باب میں یہ ایک اور سنگِ میل ہے جو انھوں عبور کیا ہے ۔
اس جلد میں انھوں نے بلوچستان کے عوام کی تاریخ کا گزشتہ 78 سالوں کا ریکارڈ مرتب کیا ہے ۔ اس کتاب کے کل 12 ابواب ہیں ۔ جن میں انھوں نے 1955ء سے لیکر آج تک (2026ء) کی بلوچ تاریخ کا بطور “پیپلز ہسٹری ” کے عمیق اور گہرا احوال بیان کیا ہے ۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری اپنی کتاب کی آٹھویں جلد میں بلوچستان کے عصرِ جدید کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان گمشدہ عوامی تحریکوں کی بازیافت کرتے ہیں جنہیں سرکاری تاریخ نے ہمیشہ پسِ پشت ڈالا۔ ان کے نزدیک جدید بلوچستان کی بنیاد محض چند سیاسی سمجھوتوں پر نہیں بلکہ 1950ء کی ‘لٹھ خانہ تحریک’ جیسی عوامی مزاحمت پر کھڑی ہے، جس نے ون یونٹ کے جبر کے خلاف قلم، تلوار اور لاٹھی کے ذریعے ایک نئی انقلابی نسل کی آبیاری کی۔ وہ اس دور کو ایک ایسے ‘زچ خانے’ سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں اذیت اور کرب کے سائے میں جدید بلوچ زبان اور تاریخ نے اپنے وجود کا احساس دلایا۔
ستر کی دہائی کو وہ بلوچستان کی سیاست، معیشت اور تاریخ کا وہ سنگِ میل قرار دیتے ہیں جس نے پورے خطے کی کایا پلٹ دی۔ اس دور میں جہاں ایک طرف اندرونی سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، وہیں سرحد پار افغانستان کے ثور انقلاب نے بلوچ دانشوروں اور کارکنوں کو ایک نئی ہمت بخشی۔ اس انقلابی لہر نے جاگیرداری اور قبیلہ پرستی کے فرسودہ ڈھانچوں کو توڑ کر بلوچ ادب اور زبان کو عالمی سطح پر روشناس کرایا، جس کے نتیجے میں سائنسی علوم کے تراجم ہوئے اور بلوچی صحافت نے ایک نئے معیار اور حجم کے ساتھ جنم لیا۔
تاہم، عصرِ جدید کا یہ مثبت اور انقلابی تسلسل جنرل ضیاء الحق کے دور میں ‘رجعت کے بلیک ہول’ کی نذر ہو گیا۔ ڈاکٹر مری کے مطابق، اس دور میں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ افغان انقلاب کے دشمنوں کو بلوچستان میں بسا کر نہ صرف آبادیاتی توازن بگاڑا گیا بلکہ بلوچ نوجوانوں کو منشیات، اسلحہ کلچر اور ماضی پرستی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا تاکہ کوئی بھی عوامی تحریک پنپ نہ سکے۔ عصری سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ ‘بلوچستان عوامی پارٹی‘ جیسی جماعتوں کے قیام کو ‘باپ گیری’ کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جہاں موروثی سیاست دان نسل در نسل اقتدار پر قابض چلے آ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ قدیم ‘باپ بازی’ دراصل ایک سوچی سمجھی خانہ جنگی اور سیاسی جمود کو برقرار رکھنے کا حربہ ہے، جسے بے نقاب کرنا اب عوامی تاریخ کا لازمی جزو بن چکا ہے۔
ان کی مرتب کی گئی بلوچستان کی عوامی تاریخ کمیونسٹ مینیفیسٹو کی اس لائن کی میں کہی گئی بات کا عملی ثبوت ہے
“انسانی معاشروں کی ساری تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے ۔ ۔۔۔۔ مختصر یہ کہ ظالم اور مظلوم ہمیشہ ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں، ان کے درمیان ایک مسلسل، کبھی چھپی ہوئی اور کبھی کھلی جنگ جاری رہی ہے، جس کا انجام ہر بار یا تو پورے معاشرے کی انقلابی تعمیرِ نو پر ہوا یا پھر دونوں لڑنے والے طبقات کی مشترکہ بربادی پر۔”
انھوں نے “بلوچستان کی عوام تاریخ ” کو مرتب کرتے ہوئے ان تمام بلوچ قوم پرستوں کو غلط ثابت کیا ہے جو بلوچ سماج اور بلوچ قوم میں سماجی۔معاشی طبقات کے ہونے کا انکار کرتے ہیں اور اس طرح قومی جبر کے ساتھ طبقاتی جبر اور طبقاتی استحصال کے بلوچ سماج میں موجود ہونے کی نفی کرتے ہیں اور طبقاتی سوال کو اپنی سیاست کا حصّہ ہی نہیں بناتے ۔ یہ صورت حال آج تک جاری ہے ۔
وہ کتاب کے پیش لفظ میں بتاتے ہیں کہ کس طرح بلوچ سماج کی آج تک عوامی اور طبقاتی تاریخ مرتب کرنے سے روگردانی برتی جاتی رہی ہے ۔ وہ اس کا ذمہ دار صرف پاکستانی ریاست اور اس کے حکمران طبقات کو ہی نہیں ٹھہراتے بلکہ وہ اس میں خود بلوچ قوم پرست دانش کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں
ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ حالیہ پون صدی کی بلوچ تاریخ، ارتقاء کے الگ الگ خطوں سے وابستہ تاریخ ہے۔ پاکستانی بلوچستان میں سرداری و جاگیرداری ٹھنسی ہوئی سرمایہ داری اور ون یونٹ قائم ہے، ایرانی بلوچستان فاشزم کی ایک دوسری محیر العقل قسم سے نمٹ رہا ہے اور افغانستان کے بلوچ آٹھ دس برس بعد سوشلزم کی چوکھٹ چھو کر دوبارہ اپنے گنبدِ بے در میں پٹخ دیے گئے ہیں۔ اس مجموعی بلوچ سرگزشت کو بھی لکھا جانا تھا۔
ینگ بلوچ سے لے کر آج تک ہماری پوری سیاسی تحریک بنیادی طور پر ایک سامراج دشمن، آزادی پسند کسان تحریک رہی۔ تنظیمی طور پر یہ تحریک کبھی موٹی، کبھی لاغر اور کبھی بہت ہی ناتواں رہی۔ حتیٰ کہ یہ تحریک اپنے نام اور حلیے میں ہر تبدیلی سے ذرا قبل، بقا کے ونٹی لیٹر میں جاکے پناہ لیتی رہی۔ پچ پچ میں ایک دو سالہ معدومیت بھی اس کے حصے میں آتی رہی ہے۔ ہاں، مگر اس کی باقاعدہ فاتحہ خوانی کی چٹائی کہیں نہیں بچھی۔ یہ بغیر کسی نوٹس کے مرتی رہی اور بغیر کسی منادی کے دوبارہ جنم لیتی رہی۔ بغیر کسی تقریب و جشن کے اس کا پرچم ایک جنریشن سے دوسری جنریشن کو، ایک وارث سے دوسرے وارث کو، اور ایک امین سے دوسرے امین کو منتقل ہوتا رہا۔
اس سے آگے وہ بلوچستان میں طبقات کی نفی کرنے کے رویے کے بارے میں لکھتے ہیں
اس سیاسی تحریک کی تاریخ مربوط و جامع طور پر اب تک نہ لکھی گئی تھی۔ میں نے پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی کے اوائل میں ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اُس زمانے میں تعلیمی اداروں میں دلچسپ ماحول قائم تھا۔ ایک آدھ سٹوڈنٹس تنظیم کا ہی اجارہ قائم تھا۔ تعلیمی اداروں میں نظریات پہ بحث مباحثہ کی کمی اور ان اجارہ دار تنظیموں کی طرف سے طاقت کے استعمال کی بہتات تھی۔ ان اجارہ دار تنظیموں کے لوگ دلیل بازی کے کچھ زیادہ قائل نہ تھے۔ بحث مباحثہ روایت کے ہی خلاف قرار دیا گیا تھا۔ دلائل “ڈرائنگ روم سیاست” کے زمرے میں آتے تھے۔
کہیں کہیں اور کبھی کبھی جب کوئی اور راہ نہ ہوتی تو پھر مجبورا بحث انہیں سننا پڑتی تھی۔ مگر آپ بے شک دو گھنٹہ تک اپنا مبلغِ علم جھاڑیں، اقتباسات لائیں، مثالیں دیں، دستاویزات دکھائیں، وہ ایک ہی فقرہ بول کر آپ کے سارے دلائل کا چلتن پہاڑ زمین بوس کر دیتے تھے۔ ان کا وہ امرت دھارا فقرہ ہوتا تھا: “بلوچستان میں طبقات نہیں ہیں۔”
ڈاکٹر شاہ محمد مری کے نزدیک بلوچستان میں ‘طبقات کی نفی’ کا رجحان کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ ایک شعوری فکری مغالطہ ہے جس نے دہائیوں تک بلوچ سماج کے حقیقی معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کا خیال ہے کہ جب وہ ‘پیپلز ہسٹری’ کے تصور پر کام کر رہے تھے، تو اس دور کی مقتدر سیاسی اور طلبا تنظیمیں کسی بھی سائنسی بحث کو ایک ہی مفرور جملے سے ختم کر دیتی تھیں کہ “بلوچستان میں طبقات وجود نہیں رکھتے”۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ نعرہ دراصل سرداری اور نیم جاگیردارانہ نظام کو تحفظ دینے کا ایک طریقہ تھا، جس کے ذریعے عام بلوچ محنت کش، کسان اور عورت کو ایک مبہم ‘قومی وحدت’ کے نام پر ان کے طبقاتی حقوق سے محروم رکھا گیا۔
اس فکری نفی نے ایک گہرا سیاسی تضاد پیدا کیا، جہاں ایک طرف عالمی سطح پر ہونے والے بڑے انقلابات، جیسے افغانستان کا ثور انقلاب یا سوویت یونین کے معاشی تجربات، کی حمایت میں نعرے تو لگائے جاتے تھے لیکن مقامی سطح پر طبقاتی تقسیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر مری کے بقول، تاریخ کی اس ستم ظریفی نے بلوچ سیاست کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں ‘طبقاتی جدوجہد’ کا بیانیہ کبھی جڑ نہ پکڑ سکا۔ ان کے نزدیک وفاق کی جانب سے کی جانے والی ‘فوج کشی’، سرداروں کی باہمی چپقلش، ضیاء الحق کی آمریت اور بالآخر عالمی سطح پر سوشلزم کے زوال نے بلوچستان کے سماجی ارتقاء کے اس فطری عمل کو روک دیا جس میں ایک واضح طبقاتی شعور نے جنم لینا تھا۔
وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ جب تک ہم اس ‘نفی کے رجحان’ سے باہر نہیں نکلیں گے، ہم بلوچستان کی تاریخ کو صرف تختِ لاہور، ایوانِ قلات یا جی ایچ کیو کے فیصلوں کی نظر سے دیکھتے رہیں گے۔ شاہ محمد مری کا اصرار ہے کہ بلوچستان میں طبقاتی نظام نہ صرف موجود ہے بلکہ وہ یہاں کی روزمرہ زندگی میں گندھا ہوا ہے، مگر اسے ‘سرداری رومانوی ازم’ کے پردوں میں چھپایا گیا ہے۔ ان کی ‘پیپلز ہسٹری’ دراصل اسی علمی بد دیانتی کا جواب ہے، جس کا مقصد اس عام بلوچ کو تاریخ کے اسٹیج پر لانا ہے جسے طبقات کی نفی کرنے والے دانشوروں اور سیاستدانوں نے ہمیشہ نظر انداز کیے رکھا۔
شاہ محمد مری کی یہ تصنیف محض ماضی کا نوحہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے تاریک حال میں مستقبل کی ایک روشن دستک ہے۔ مصنف نے جس بے باکی سے ریاست کی قائم کردہ ‘جنگلی فضا’ اور فسطائی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے، وہ قاری کو اس تلخ حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ کس طرح ‘ون یونٹ’ کی فکری بالادستی قائم رکھنے کے لیے مڈل کلاس کو کرپٹ اور دانشور کو مدافعاتی بنا کر عوامی شعور کا گلا گھونٹا گیا۔ آج کا بلوچستان جہاں ‘گشت اور خون’ کا استعارہ بن چکا ہے، وہاں مصنف نے بڑی مہارت سے اس سیاسی جمود اور ‘باپ گیری’ جیسے موروثی نظاموں کے پسِ پردہ محرکات کو بھی عیاں کیا ہے۔
مگر اس کتاب کا اصل کمال مایوسی کے ان گہرے بادلوں میں اکیسویں صدی کی سائنسی لہروں اور بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کو بطور امیدِ نو پیش کرنا ہے۔ شاہ محمد مری بتاتے ہیں کہ کس طرح بڑھتی ہوئی اربنائزیشن، تعلیم اور ٹیکنالوجی اب منجمد روایتوں کی بنیادیں ہلا رہی ہیں۔ اس پورے منظر نامے میں سب سے حیرت ناک اور قابلِ فخر مظہر ‘بلوچ عورت’ کی سیاسی و سماجی میدان میں وہ فعال شرکت ہے جس نے پورے خطے کے جمود کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ‘حسرتیں’ منظم ‘مطالبوں’ میں ڈھلنے لگیں اور ‘خانہ بدوشی’ کی جگہ ‘شہری حقوق’ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، تو یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی تاریخ کا دھارا اپنا رخ بدلتا ہے۔

اختتامِ کار، یہ ‘پیپلز ہسٹری’ اس عزم کی دستاویزی گواہی ہے کہ جب تک عوامی تاریخ کا تسلسل قلم بند ہوتا رہے گا، عوامی راج کا خواب زندہ رہے گا۔ شاہ محمد مری ثابت کرتے ہیں کہ دانشوروں کی روشن فکر تنظیمیں اور عوامی جدوجہد کے یہ نئے مظاہر ہی وہ ‘شتر قد سرنگیں’ ہیں جو فسطائیت کی فصیلوں کو گرا کر ایک شفاف اور مکمل جمہوریت کی راہ ہموار کریں گی۔ یہ کتاب صرف تاریخ نہیں، بلکہ ایک سیاسی منشور ہے جو بتاتا ہے کہ عوامی تاریخ کا شعور ہی بہتر مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔
اس کتاب کو درج ذیل پتے سے حاصل کیا جاسکتا ہے

