پنجاب کا انقلابی ورثہ اور سیاسی پسماندگی: بھگت سنگھ کے خط کے آئینے میں
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس پنجاب کے لیے بھگت سنگھ نے جیل کی کال کوٹھڑی سے ‘طبقاتی بیداری’ اور ‘انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے’ کا خواب بُنا تھا، وہی پنجاب آج اپنی درخشاں انقلابی تاریخ سے کھرچ دیا گیا ہے۔ ریاست نے ایک منظم منصوبے کے تحت نیشنل کالج، بریڈلا ہال اور رتن چند کی سرائے جیسی تاریخی نشانیوں کو تو کھنڈرات میں بدل ہی دیا، مگر اس سے بڑا المیہ وہ ‘نسیان’ ہے جس نے نوجوانوں کے شعور سے ‘نوجوان بھارت سبھا’ اور ‘پنجاب اسٹوڈنٹس یونین’ کی یاد تک مٹا دی ہے۔ آج 78 سال گزر جانے کے بعد بھی، پنجاب کی سیاسی پسماندگی وہی زنجیر ہے جس نے حقیقی آزادی کی راہ روک رکھی ہے۔ بھگت سنگھ کا خط آج محض ایک تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ موجودہ دور کے ‘ڈیجیٹل سراب’ میں بھٹکتے ہوئے نوجوانوں کے لیے ایک تازیانہ ہے کہ وہ بم اور پستول کے بجائے علم اور شعور کی اس ‘سان’ پر اپنی فکر کو تیز کریں، جہاں سے ایک نئے اور منصفانہ سماج کی بنیاد پڑتی ہے۔
Copy and paste this URL into your WordPress site to embed
Copy and paste this code into your site to embed