ادارتی نوٹ : بھگت سنگھ شہید کی برسی کے موقعہ کی مناسبت سے جیل سے لکھا گیا ان کا ایک اہم تاریخی خط جس میں انھوں نے لاہور میں منعقدہ پنجاب طلباء کانفرنس کے شرکاء کے نام پیغام تحریر کیا تھا کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس خط میں شہید بھگت سنگھ نے پنجاب کے نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ پستول باز اور بم باز بننے کی بجائے دیش کے کروڑوں مزدوروں اور محنت کشوں کو بیدار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوں تاکہ دیش کو ایک ایسے آزاد وطن میں بدلا جاسکے جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال نہ ہوسکے ۔ انھوں نے اس خط میں پنجاب کے سیاسی شعور کو دوسرے علاقوں کے مقابلے میں پسماندہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب کے نوجوانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ پنجاب کے سیاسی شعور کی اس پسماندگی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ افسوس کہ نہ تو دیش حقیقی طور پر آزاد ہوا بلکہ اسے فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کردیاگیا اور پنجاب اس خوفناک فرقہ وارانہ تقسیم ميں محنت کشوں اور کسانوں کےخون سے نہا گیا ۔ جو حصّہ پاکستان میں آیا آج 78 سال گر جانے کے بعد بھی اس میں بسنے والے عوام کے سیاسی شعور کی پسماندگی پاکستان میں حقیقی آزادی اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے ميں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ پنجاب کے نوجوانوں کے سیاسی شعور کی پسماندگی خود ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ پنجاب کے نوجوان “نوجوان بھارت سبھا ” ، اس کے طلباء ونگ “پنجاب اسٹوڈنٹس یونین ” کی درخشاں انقلابی تاریخ کو بھول چکے ہیں ۔ یہ بھول کوئی حادثاتی واقعہ نہیں ہے بلکہ ریاست نے اس نسیان کو پنجاب کے نوجوانوں کے شعور سے بہت منظم طریقے سے کھرچ ڈالا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز اس فراموش کردہ تاریخ کی یاد پھر سے پنجاب کے نوجوانوں میں تازہ کرنے کے لیے بھگت سنگھ کا خط اور پنجاب اسٹوڈنٹس یونین کے انقلابی کردار کی تاریخ شایع کر رہا ہے۔

پنجاب طلباء کانفرنس 1929ء
لاہور میں 19 اکتوبر 1929ء کو پنجاب طلباء کانفرنس ہوئی ۔ اس کانفرنس کی صدارت برصغیر کی قومی آزادی کے عظیم سورما سبھاش چندر بوس نے کی جنھیں برصغیر ہند کے آزادی پسند عوام “نیتا جی ” کہتے تھے ۔ بھگت سنگھ جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ انگریز کی سامراجی حکومت کے بنائے “مقدمہ بغاوت ” کا سامنا کر رہے تھے اور لاہور کی سنٹرل جیل جو اس وقت شادمان ٹاؤن میں واقع تھی میں بند تھے ؛ ایک خط میں اس کانفرنس میں شریک ہونے والوں کے نام ایک پیغام لکھا ۔ ان کا یہ خط اس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا ۔
رتن چند ، نیشنل کالج لاہور اور بریڈلا ہال
یہ کانفرنس رتن چند روڈ لاہور پر واقع مشہور بریڈ لا ہال میں منعقد ہوئی تھی ۔ رتن چند روڈ لاہور کی ایک انتہائی مشہور قوم پرست امیر کبیر تاجر دیوان رتن چند کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ یہ لاہور کی انتہائی اہم شاہراہ تھی جو لاہور کے اہم علاقے گڑھی شاہو، ریلوے اسٹیشن اور مال روڈ ، ایجرٹن روڈ ، شملہ پہاڑی کو باہم ملاتی تھی ۔ رتن چند نے لاہور میں اسی روڈ پر مسافروں کے مفت قیام و طعام کے لیے ایک سرائے تعمیر کی تھی جسے “رتن چند سرائے کہتے تھے ۔ انگریز سرکار نے پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے اس روڈ کا نام انگریز پنجاب کے گورنر جیمز ایبٹ کے نام سے ایبٹ روڈ رکھ دیا جس نے ایبٹ آباد کے نام سے شہر بھی بسایا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد سے اس روڈ کا یہی نام چلا آرہا ہے۔ اس روڈ پر اب رتن چند کی تعمیر کردہ سرائے بھی ناپید ہوچکی اور اس پر قبضہ ہوگیا ۔
بریڈلاء ہال نیشنل کالج لاہور کا حصّہ تھا ۔ نیشنل کالج لاہور مہاتما گاندھی کی تحریک عدم تعاون کے دوران 1921ء ميں تعمیر کیا گیا تھا ، اس کا مقصد انگریز کے زیر تعلیمی اداروں ایف سی کالج ، گورنمنٹ کالج سے طلباء کو نکال کر قومی و انقلابی سوچ کے حامل تعلیمی ادارے میں لانا تھا ۔ ہ کالج جلد ہی انقلابی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ بھگت سنگھ، سکھدیو، بی کے دت اور ان کے کئی ساتھیوں نے یہیں تعلیم حاصل کی۔ یہیں پر انہوں نے اپنے سیاسی خیالات کو شکل دی اور “نوجوان بھارت سبھا” جیسی تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ کالج کے اساتذہ بھی قوم پرست نظریات کے حامل تھے، جنہوں نے طلباء کی فکری تربیت کی۔
نیشنل کالج کا کیمپس بریڈلا ہال کے احاطے میں قائم کیا گیا تھا۔ بریڈلا ہال برطانوی دور میں سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز تھا، اور نیشنل کالج نے اس ہال کو اپنی تعلیمی اور تنظیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ آج، نیشنل کالج لاہور کا تاریخی کیمپس رتن چند روڈ پر موجود نہیں ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد، کالج کی عمارت اور احاطہ مختلف استعمال میں رہا۔
عمارت کی حالت: نیشنل کالج کی تاریخی عمارت، جو بریڈلا ہال کے نام سے بھی جانی جاتی تھی، اب بری حالت میں ہے۔ یہ عمارت کئی دہائیوں تک مختلف استعمال میں رہی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حال ہو گئی۔ عمارت کا احاطہ اب ایک صنعتی اور تجارتی علاقے کا حصہ ہے۔ عمارت کے کچھ حصے مختلف صنعتی یونٹس، جیسے آٹے کی مل اور دیگر گوداموں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بریڈلا ہال کی تاریخی عمارت کے کچھ حصے ابھی بھی موجود ہیں، لیکن وہ انتہائی خستہ حال ہیں اور ان پر تجارتی سرگرمیوں کا قبضہ ہے۔
اصل میں پاکستان بننے کے بعد ریاست نے جہاں برصغیر ہند کی آزادی کی مشترکہ جدوجہد کی تاریخ ، اس کی اہم شخصیات کے کردار کو نصابی اور سرکاری تاریخ سے بالکل مٹادیا ، وہیں اس نے مشترکہ جدوجہد سے وابستہ تاریخی عمارات کو محفوظ کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا اور انھیں تباہ و برباد ہوجانے دیا ۔ جیسے نصاب سے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کو خارج کیا ، نوجوان بھارت سبھا ، پنجاب اسٹوڈنٹس یونین ، ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن پارٹی کی تاریخ کو فراموش کیا وہیں اس نے نیشنل کالج ، بریڈ لا ہال جیسی کئی عمارتوں کو بھی تباہ ہوجانے دیا ۔
بھگت سنگھ نے جس اسکول اورکالج میں تعلیم حاصل کی تھی اس کا نام ڈی اے وی اسکول ، کالج ، بورڈنگ ہاؤس سے تبدیل کرکے اسلامیہ اسکول، کالج ، ہاسٹل رکھ دیا ۔ جس جیل میں بھگت سنگھ قید رہے اسے گراکر وہاں سڑک تعمیر کردی گئی اور اس طرح سے وہ بیرک اور پھانسی گھاٹ بھی قائم نہ رہے جہاں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی قید رہے اور انھیں پھانسی دی گئی ۔ پاکستانی ریاست بھگت سنگھ کی انقلابی روایت سے اتنی خوفزدہ ہے کہ اس نے جہاں جیل تھی اس سڑک کا نام بھگت سنگھ بھی نہیں رکھنے دیا ۔

اس خط کے آخر میں بھگت سنگھ نے جتندر ناتھ داس شہید کا حوالہ دیا ، جتندر ناتھ داس برصغیر کی تحریکِ آزادی کے وہ عظیم انقلابی ہیرو تھے جنہوں نے محض چوبیس سال کی عمر میں اپنی قربانی سے برطانوی سامراج کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ کولکتہ (بنگال) میں پیدا ہوئے اور جوانی میں ہی انقلابی تحریکوں سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ‘ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن’-ایچ آر ایس اے کے ایک سرگرم رکن اور بم بنانے کے فن میں مہارت رکھنے والے ماہرِ حرب تھے، جنہوں نے بھگت سنگھ اور بٹکیشور دت کے لیے وہ تاریخی بم تیار کیے جو دہلی اسمبلی میں سیاسی احتجاج کے طور پر پھینکے گئے۔ لاہور سازش کیس کے دوران جب انہیں گرفتار کر کے لاہور کی بورسٹل جیل میں قید کیا گیا، تو انہوں نے سیاسی قیدیوں کے انسانی حقوق کی بحالی اور جیل کے ناروا سلوک کے خلاف ایک تاریخی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ یہ پُرعزم جدوجہد مسلسل 63 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران برطانوی حکام کے بدترین تشدد اور زبردستی کھانا کھلانے کی تمام کوششیں ان کے آہنی عزم کے سامنے ناکام ہو گئیں۔ بالآخر 13 ستمبر 1929ء کو جتندر ناتھ داس نے بھوک سے نڈھال ہو کر شہادت کا رتبہ پایا، لیکن سامراجی جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ان کی شہادت نے پورے ہندوستان، بالخصوص لاہور کے نوجوانوں اور پنجاب اسٹوڈنٹس یونین کے کارکنوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونک دی، جس کا اعتراف سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ نے اپنے پیغامات میں بڑے واشگاف الفاظ میں کیا۔
جتندر ناتھ داس کی شہادت کے بعد جب ان کا جسدِ خاکی لاہور سے کولکتہ کے لیے ٹرین کے ذریعے روانہ کیا گیا، تو ہر بڑے اسٹیشن پر ہزاروں کا مجمع آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ان کے آخری دیدار کے لیے امنڈ آیا، جس نے برطانوی حکومت کو عوامی غیظ و غضب سے خوفزدہ کر دیا۔ کولکتہ پہنچنے پر دو لاکھ سے زائد افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ایک سچا دانشور اور انقلابی مر کر بھی عوام کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ سبھاش چندر بوس نے انہیں “جدید ہندوستان کا جری سپاہی” قرار دیا، جبکہ لاہور کے طلباء کے لیے ان کا نام ‘ثابت قدمی’ اور ‘غیر متزلزل عزم’ کی ایک ایسی علامت بن گیا جس نے آنے والے برسوں میں تحریکِ آزادی کو ایک نئی فکری اور انقلابی جہت عطا کی۔
پنجاب اسٹوڈنٹس یونین – تاریخ کا گمشدہ ورق
اس کانفرنس کا انعقاد پنجاب اسٹوڈنٹس یونین ۔ پی ایس یو نے کیا تھا ۔
پی ایس یو کا قیام: سنہ 1928ء مارچ کی 9 اور 10 تاریخ کو جلیانوالہ باغ، امرتسر میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پنجاب بھر کے طلباء نے شرکت کی۔ اسی اجلاس میں “پنجاب اسٹوڈنٹس یونین” کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تنظیم نوجوان بھارت سبھا کا طلباء ونگ تھی ۔ اس کی بنیاد رکھنے میں بھگت سنگھ ، میر عبدالمجید کشمیری ، کے بی دت ، سکھدیو اور نوجوان سبھا کے دیگر ساتھیوں کا اہم کردار تھا ۔
احسان الٰہی پی ایس یو کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔ وہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے لاہور کی انقلابی سیاست کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جن کی تنظیمی صلاحیتوں اور نظریاتی پختگی نے پنجاب کے طلبہ کو برطانوی سامراج کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔ وہ محض ایک طالب علم رہنما نہیں تھے بلکہ بھگت سنگھ، سکھدیو اور بھگوتی چرن ووہرا کے ان قریبی فکری ساتھیوں میں شامل تھے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کو محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور معاشی انقلاب کے طور پر دیکھا۔
احسان الٰہی کا سب سے بڑا کارنامہ پنجاب اسٹوڈنٹس یونین (PSU) کی بنیاد رکھنا اور اسے ایک ایسی فعال تنظیم میں بدلنا تھا جس نے پہلی بار طلبہ کو تعلیمی اداروں کی چاردیواری سے نکال کر کسانوں اور مزدوروں کی طبقاتی جدوجہد سے جوڑ دیا۔
مارچ 1928ء میں جب جلیانوالہ باغ، امرتسر میں پنجاب بھر کے طلبہ کا تاریخی کنونشن ہوا، تو احسان الٰہی کو متفقہ طور پر پنجاب اسٹوڈنٹس یونین کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کی قیادت میں پی ایس یو نے “نوجوان بھارت سبھا” کے اس نظریے کو عام کیا کہ نوجوانوں کو سیاست سے دور رکھنے کی تلقین دراصل انہیں ذہنی غلام بنانے کی سازش ہے۔ انہوں نے لاہور کے ڈی اے وی کالج اور نیشنل کالج کو انقلابی سرگرمیوں کا گڑھ بنا دیا، جہاں وہ اردو اور پنجابی میں ایسے پمفلٹس تقسیم کرتے تھے جو برطانوی سی آئی ڈی کے لیے سوہانِ روح بن جاتے تھے۔ ان کی شعلہ بیانی اور تحریروں کا محور یہ حقیقت تھی کہ جب تک عالمی سرمایہ داری اور سامراج کی جڑیں نہیں کٹتیں، عوامی استحصال ختم نہیں ہو سکتا۔
پنجاب اسٹوڈنٹس یونین (PSU) اور احسان الٰہی کی قیادت میں لاہور کے گلی کوچوں میں جو پمفلٹس اور لٹریچر تقسیم کیا گیا، وہ محض سیاسی اشتہار نہیں تھے بلکہ برطانوی مقتدرہ کے خلاف ایک فکری اعلانِ جنگ تھے۔ ان پمفلٹس کی زبان اردو اور پنجابی تھی تاکہ عام طالب علم اور مزدور تک انقلاب کا پیغام پہنچ سکے۔
ان مخصوص پمفلٹس اور پی ایس یو کے بیانیے کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:
1. “طلباء اور سیاست” (اردو پمفلٹ)
یہ پمفلٹ احسان الٰہی کے دورِ صدارت میں سب سے زیادہ تقسیم ہوا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ
حکومتی عہدیداروں کا یہ کہنا کہ “طالب علموں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے” دراصل ایک سامراجی چال ہے تاکہ نوجوان اپنے حقوق سے بے خبر رہیں۔
پمفلٹ میں لکھا گیا: “جس ملک کی بنیادیں غلامی پر ہوں، وہاں کا سب سے بڑا نصاب ‘آزادی’ ہونا چاہیے، نہ کہ ریاضی یا جغرافیہ۔”
2. “سائمن کمیشن: کالی جھنڈیاں اور کالا قانون”
اکتوبر 1928ء میں جب سائمن کمیشن لاہور آیا، تو پی ایس یو نے ہزاروں کی تعداد میں سرخ اور سیاہ روشنائی سے چھپے پمفلٹ تقسیم کیے۔
ان میں “سائمن گو بیک” کے نعرے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ “ہمیں برطانوی ٹکڑوں پر پلنے والی اصلاحات نہیں، بلکہ مکمل خودمختاری چاہیے۔”
احسان الٰہی نے خود ان پمفلٹس کی تقسیم کی نگرانی کی، جس کی وجہ سے انہیں لاہور پولیس نے کئی بار ہراساں کیا۔
3. “پنجاب کے شیر جوانوں کے نام” (پنجابی لٹریچر)
چونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں سے آنے والے طلباء پنجابی زبان سے زیادہ قریب تھے، اس لیے پی ایس یو نے گورمکھی اور شاہ مکھی دونوں رسم الخط میں چھوٹے پمفلٹ نکالے۔
ان پمفلٹس میں کرتار سنگھ سرابھا کی شاعری کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ نوجوانوں میں قربانی کا جذبہ پیدا ہو۔
ان میں اکثر یہ جملہ درج ہوتا تھا: “سیوا دیش دی جندڑیئے بڑی اوکھی، گلاں کرنیاں ڈھیر سکھالیاں نے” (وطن کی خدمت جان کی بازی لگانے کا نام ہے، باتیں کرنا بہت آسان ہے)۔
4. “بھگت سنگھ اور دت کا پیغام” (جیل سے جاری کردہ پمفلٹ)
سنہ 1928ء کی لاہور اسٹوڈنٹس کانفرنس (جس کی صدارت سبھاش چندر بوس نے کی) کے موقع پر احسان الٰہی نے ایک خاص پمفلٹ شائع کروایا جس میں بھگت سنگھ کا جیل سے بھیجا گیا پیغام درج تھا۔
اس میں نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا کہ “انقلاب کی تلوار خیالات کی سان پر تیز ہوتی ہے”۔ * اس پمفلٹ نے لاہور کے طلباء میں آگ لگا دی تھی اور برطانوی سی آئی ڈی نے اسے “انتہائی خطرناک اور اشتعال انگیز” قرار دے کر ضبط کرنے کی کوشش کی تھی۔
احسان الٰہی اپنی شعلہ بیانی اور تنظیمی صلاحیتوں کی وجہ سے برطانوی سی آئی ڈی کی نظروں میں کھٹکتے تھے۔
احسان الٰہی کی سیاسی بصیرت کا امتحان اکتوبر 1928ء میں اس وقت ہوا جب سائمن کمیشن لاہور پہنچا۔ انہوں نے پی ایس یو کے پلیٹ فارم سے ہزاروں طلبہ کو متحرک کیا اور ریلوے اسٹیشن پر اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی جس میں “سائمن گو بیک” کے نعروں نے برطانوی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد، جب لاہور سازش کیس کے دوران انقلابی تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی، تو احسان الٰہی نے “باہر” رہ کر تحریک کی مشعل کو روشن رکھا۔ انہوں نے اکتوبر 1929ء کی اس مشہور پنجاب طلبہ کانفرنس کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی صدارت سبھاش چندر بوس نے کی تھی اور جس میں بھگت سنگھ کا جیل سے بھیجا گیا پیغام پڑھ کر سنایا گیا تھا۔
احسان الٰہی کا ورثہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں جب فرقہ واریت جڑیں پکڑ رہی تھی، پنجاب کے ہندو، مسلم اور سکھ نوجوانوں کو “طبقاتی جڑت” کے ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ادیب اور دانشور کو ریاست کے جبر کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے “سماجی جراحی” کرنی چاہیے۔ وہ ریاست کے اس بیانیے کے سخت مخالف تھے کہ “ملکی سلامتی” کے نام پر عوامی حقوق اور جمہوری آزادیوں کو سلب کیا جائے۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک آزاد دانشور کبھی بھی مقتدرہ کی مصلحتوں کا اسیر نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا کام مسلسل تنقید اور عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے طاقت کے ایوانوں میں سچ کی گونج پیدا کرنا ہے۔

سبھاش چندر بوس کی تقریر کے اہم نکات
قومی زندگی کی ہم آہنگی اور سیاسی غلامی “
قومی زندگی کے تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس کے تمام مسائل باہم پیوستہ ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر، یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک محکوم قوم میں تمام برائیوں اور کوتاہیوں کی جڑیں سیاسی سبب یعنی ‘سیاسی غلامی’ میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ، طلباء اس اہم ترین مسئلے سے آنکھیں نہیں چرا سکتے کہ اپنی سیاسی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔”
عوامی جمہوریت کا فلسفہ “
جمہوریت کا وہ پیغام جو سوامی وویکانند نے دیا تھا، وہ دیش بندھو داس (چترنجن داس) کی تحریروں اور کارناموں میں مکمل طور پر ظاہر ہوا۔ دیش بندھو نے کہا تھا کہ ‘نارائن’ (خدا) ان لوگوں کے درمیان رہتا ہے جو زمین جوتتے ہیں، جو اپنے ماتھے کے پسینے سے ہمارے لیے روٹی تیار کرتے ہیں، اور وہ جنہوں نے انتہائی کسمپرسی اور غربت کے باوجود ہماری تہذیب، ثقافت اور مذہب کی شمع کو روشن رکھا ہوا ہے۔”
کردار سازی اور عملی جدوجہد “
عمل کے بغیر سوچ کردار سازی کے لیے کافی نہیں ہو سکتی، اسی لیے کردار کی نشوونما کے لیے صحت مند سرگرمیوں—خواہ وہ سیاسی ہوں، سماجی ہوں یا فنکارانہ—میں شرکت ضروری ہے۔ یونیورسٹیوں کو ‘کتابی کیڑے’، ‘گولڈ میڈلسٹ’ اور ‘دفتری کلرک’ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ایسے باکردار انسان پیدا کرنے چاہئیں جو مختلف شعبوں میں اپنے ملک کے لیے عظمت حاصل کر کے خود عظیم بنیں۔”
طلباء کے لیے نصب العین “
ہمیں طلباء کے سامنے ایک مثالی معاشرے کا تصور رکھنا ہوگا جسے وہ اپنی زندگی میں حقیقت بنانے کی کوشش کریں۔ انہیں اپنے لیے عمل کا ایک ایسا پروگرام مرتب کرنا چاہیے جس پر وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق عمل کریں، تاکہ طالب علم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے وہ خود کو یونیورسٹی کے بعد کے کیریئر کے لیے بھی تیار کر سکیں۔”
ایشیا کی بیداری: “ایشیا اس وقت غلامی کا جُوا اتار پھینکنے میں مصروف ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب ایک نو توانا ایشیا ماضی کی تاریکیوں سے نکل کر طاقت اور جاہ و جلال کے ساتھ ابھرے گا اور آزاد قوموں کی صف میں اپنا جائز مقام حاصل کرے گا۔”
ہندوستانی تہذیب کا احیاء “
ہندوستانی تہذیب تاریک دور سے نکل کر اب زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب یہ حقیقی خطرہ موجود تھا کہ ہماری تہذیب بھی فونیشیا اور بابل کی تہذیبوں کی طرح قدرتی موت مر جائے گی، لیکن اس نے ایک بار پھر وقت کے وار سہہ کر خود کو زندہ رکھا ہے۔ اگر ہم اس احیاء کے کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خیالات کی دنیا میں ‘انقلاب’ برپا کرنا ہوگا اور حیاتیاتی سطح پر خون کا باہمی ملاپ
(Intermingling of blood)
لانا ہوگا۔”
آزادی کی جامع تعریف “
آزادی سے میری مراد ‘ہمہ گیر آزادی’ ہے، یعنی فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کی آزادی؛ امیر کے ساتھ ساتھ غریب کی آزادی؛ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی آزادی؛ تمام افراد اور تمام طبقات کی آزادی۔ اس آزادی کا مطلب نہ صرف سیاسی غلامی سے نجات ہے بلکہ دولت کی مساوی تقسیم، ذات پات کی رکاوٹوں اور سماجی ناانصافیوں کا خاتمہ، اور فرقہ واریت و مذہبی عدم رواداری کی تباہی بھی ہے۔”
آزادی کی تڑپ اور منزل
“زندگی کا صرف ایک ہی معنی اور مقصد ہے، اور وہ ہے ہر قسم کی بندگی سے نجات۔ آزادی کی یہ بھوک روح کا گیت ہے—اور ایک نومولود بچے کی پہلی پکار بھی دراصل اس بندگی کے خلاف بغاوت کی پکار ہوتی ہے جس میں وہ خود کو پاتا ہے۔ اپنے اندر اور اپنے ہم وطنوں میں آزادی کی یہ شدید خواہش بیدار کریں، اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان دیکھتے ہی دیکھتے آزاد ہو جائے گا۔”
ہندوستان کا عالمی مشن
” متعصب قوم پرست کہلائے جانے کے خطرے کے باوجود میں اپنے ہم وطنوں سے کہوں گا کہ ہندوستان کو ایک مشن پورا کرنا ہے، اور اسی وجہ سے ہندوستان آج بھی زندہ ہے۔ اس لفظ ‘مشن’ میں کوئی پرسرار بات نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں دنیا کی ثقافت اور تہذیب کے لیے کچھ نہ کچھ نیا دینے کے لیے موجود ہے۔ اپنی موجودہ پستی اور غلامی کے باوجود، وہ جو تعاون پیش کر رہا ہے وہ کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جب وہ اپنے خطوط اور ضروریات کے مطابق ترقی کرنے کے لیے آزاد ہوگا، تو اس کا حصہ کتنا عظیم ہوگا!”
آخری پکار
“آئیے ماضی سے رشتہ توڑ دیں، ان تمام زنجیروں کو تباہ کر دیں جنہوں نے ہمیں صدیوں سے جکڑ رکھا ہے، اور سچے مسافروں کی طرح اپنے مقدر یعنی آزادی کی منزل کی طرف کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔ آزادی کا مطلب زندگی ہے، اور آزادی کی جستجو میں موت کا مطلب وہ عظمت ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔ اس لیے آئیے عہد کریں کہ ہم آزاد ہوں گے، یا کم از کم آزادی کی تلاشی میں مر مٹیں گے۔”

بھگت سنگھ کا پیغام : پنجاب طلباء کانفرنس لاہور 19 اکتوبر 1929ء بمقام بریڈلا ہال
ساتھیو
آج ہم نوجوانوں کو پستول بردار اور بم باز بننے کا مشورہ نہیں دے سکتے ۔ آج طلباء کو اس سے کہیں زیادہ اہم فرض سے عہدہ برآہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ لاہور میں کانگریس کا جو اجلاس ہونے جا رہا ہے اس میں وہ دیش کی آزادی کے لیے پوری جان سے لڑائی کرنے کی کال دے گی ۔ نوجوانوں کو قوم کی تاریخ کے سب سے مشکل اور کٹھن سمے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا ہوگا ۔ یہ درست ہے کہ طلباء نے دیش کی آزادی کی لڑائی میں اگلے مورچوں پر صف زن ہوکر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ہیں تو کیا وہ اس وقت بھی اپنے آہنی اور چٹانی عزم اور اعتماد کا ثبوت دے پائیں گے ؟ نوجوانوں اس انقلابی پیغام کو دیش کے دور دراز کونوں تک پھیلانا ہوگا ۔ انھیں صنعتی علاقوں میں کچی آبادیوں اور خستہ حال مکانوں میں رہنے والے مزدروں اور جھگیوں ، چھرنپڑیوں اور کچے مکانات میں رہنے والی دیہی آبادی کے کسانوں کو حو کروڑوں لوگ ہیں خواب غفلت سے جگانا ہوگا تاکہ ہم آزاد ہوسکیں اور انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال “ناممکن اور محال امر ” بن جائے ۔ دوسروں کی نسبت پنجاب کو سیاسی طور پر پسماندہ سمجھا جاتا ہے ۔ (اس سیاسی پسماندگی کو دور کرنا ) بھی نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔ جتندرناتھ داس شہید سے انسپائریشن لیتے ہوئے اور دیش سے بے پناہ محبت اور لگن کا ثبوت دیتے ہوئے انھیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دیش کی آزادی کی اس جدوجہد میں ثابت قدمی اور پختہ عزم کے ساتھ لڑتے رہیں گے ۔
جب بھگت سنگھ کا یہ خط کانفرنس کے شرکاء کے سامنے پڑھا جارہا تھا تو بریڈلے ہال “انقلاب زندہ باد “کے نعروں سے گونچ رہا تھا ۔ کسے خبر تھی کہ انگریز سامراج ، کانگریس اور مسلم لیگ ميں شامل گماشتہ اور دلال سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، اور موقعہ پرست پیٹی بورژوازی طبقات ، فرقہ پرست انقلاب اور آزادی پسند اس جذبے کو ہندوستان کی فرقہ وارانہ تقسیم میں بدل دیں گے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیں کہ خود کمیونسٹ پارٹی انڈیا بھی ہندوستان کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ، مطالبہ پاکستان کی حمایت کر رہی تھی ۔ اس نے اپنے ہندؤ ، سکھ کامریڈز کانگریس میں اور مسلمان کامریڈز آل انڈیا مسلم لیگ میں بھیج دیے تھے ۔ پنجاب میں وہ پسماندہ سیاسی شعور جس کی طرف بھگت سنگھ نے اپنے خط میں اشارہ کیا تھا غالب آگیا ۔ پنجاب فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہوا ۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر پنجاب میں منظم انداز میں فسادات اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا ۔ مغربی پنجاب سے ہندؤ ، دلت اور سکھ زبردستی مشرقی پنجاب اور مشرقی پنجاب سے مسلمان زبردستی مغربی پنجاب بھیج دیے گئے ۔ پنجاب کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ، اس کی زبانیں اور اس کے لہجے تقسیم ہوئے ، اور پنجابی قوم کا شیرازہ بکھر گیا ۔ فرقہ واریت کا زھر اسے نگل گیا ۔ انگریز سامراج کی سازش کامیاب ہوئی ۔ امرتا پریتم کو کہنا پڑا

اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورکا پھول!
اک روئی سی دھی پنجاب دی،
تُوں لکھ لکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن
اٹھ دردمنداں دیا دردیا! تک اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا
تے انہاں پانیاں دھرت نوں دِتا زہر پلا
اس زرخیز زمین دے لُوں لُوں پھٹیا زہر
گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں، پھٹ پھٹ چڑیا قہر
اج سبھے قیدو بن گئے، حُسن عشق دے چور
اج کِتوں لیایئے لبھ کے وارث شاہ اک ہور