مدیر ایسٹرن ٹائمز نیوز کا نوٹ
پنجاب کے عظیم انقلابی رہنماء بھگت سنگھ شہید کے سیاسی خطوط نوجوان پیڑھی کے مطالعے اور ان کے سیاسی شعور کو بڑھانے کے لیے یہاں اردو زبان میں شایع کیے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے کا پہلا خط درج ذیل لنک پر پڑھا جا سکتا ہے
یہ خطوط بھگت سنگھ ریڈر سے لیے گئے ہیں جسے پنجابی کامریڈ چمن لال نے مرتب کیا ہے ۔ وہاں یہ خط ص -66-67 پر موجود ہے
بھگت سنگھ کا 22 دسمبر 1929ء کو لاہور بورسٹل جیل سے ‘ماڈرن ریویو ‘ کے ایڈیٹر رامانند چٹرجی کے نام لکھا تھا، ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خط دراصل ایڈیٹر کی جانب سے “انقلاب زندہ باد” کے نعرے پر کی گئی تنقید کا جواب تھا۔

یہ خط محض ایک قیدی کا کسی اخبار کے مدیر کو لکھا گیا عام خط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مفکر، انقلابی اور محب وطن نوجوان کی فکری پختگی اور نظریاتی وضاحت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس خط کے ذریعے بھگت سنگھ نے برطانوی حکومت کے ساتھ ساتھ ان ہندوستانی دانشوروں کو بھی جواب دیا جو انقلاب کے حقیقی تصور سے ناواقف تھے۔
بھگت سنگھ کے اس خط کا اسلوب انتہائی متاثر کن، مدلل اور سنجیدہ ہے۔ خط کا آغاز انتہائی مؤدبانہ ہے۔ بھگت سنگھ نے رامانند چٹرجی کو ایک بزرگ اور تجربہ کار صحافی کے طور پر مخاطب کیا اور ان کے لیے احترام کا اظہار کیا۔ تاہم، اس احترام کے باوجود ان کا لہجہ پختہ تھا اور وہ اپنے نظریات پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔
اس خط میں بھگت سنگھ نے جذباتی باتوں کی بجائے ٹھوس منطق اور دلائل کا سہارا لیا۔ انہوں نے ایڈیٹر کے اعتراضات کا نقطہ وار جواب دیا۔ ان کا استدلال اتنا مضبوط تھا کہ پڑھنے والا ان کی فکری گہرائی کا قائل ہو جاتا ہے۔
خط کے اسلوب سے واضح ہوتا ہے کہ بھگت سنگھ کا مطالعہ انتہائی وسیع تھا۔ انہوں نے “انقلاب” کے مغربی تصورات اور ہندوستانی تناظر دونوں کو سامنے رکھ کر بات کی۔ ان کی زبان (جو انگریزی میں تھی لیکن اردو ترجمے میں بھی وہی کاٹ موجود ہے) واضح اور دوٹوک تھی۔ انہوں نے پیچیدہ اصطلاحات کو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کا اسلوب اپنایا۔ ان کا مقصد ایڈیٹر کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ ان کی غلط فہمی کو دور کرنا تھا۔ خط کا مرکزی موضوع “انقلاب” کے حقیقی معنی کی تشریح اور “انقلاب زندہ باد” کے نعرے کا دفاع تھا۔
بھگت سنگھ نے سب سے بڑی غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انقلاب سے مراد لازماً بموں اور پستولوں کا استعمال یا خونریزی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک تشدد محض ایک ذریعہ ہو سکتا ہے (وہ بھی بعض حالات میں)، لیکن یہ انقلاب کی روح نہیں ہے۔
بھگت سنگھ نے لکھا کہ “انقلاب سے ہماری مراد یہ ہے کہ موجودہ نظام، جو کھلم کھلا ناانصافی پر مبنی ہے، بدلنا چاہیے”۔ ان کے نزدیک انقلاب کا مطلب ایک ایسے سماجی ڈھانچے کا قیام تھا جہاں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی خودمختاری کا مطلب محض برطانوی حکمرانوں کی جگہ ہندوستانی حکمرانوں کا آنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار حقیقی طور پر محنت کش طبقے اور عوام کے ہاتھ میں ہو۔
انہوں نے ایڈیٹر کو بتایا کہ نعروں کو لفظی معنوں میں نہیں لینا چاہیے۔ جب ہم “انقلاب زندہ باد” کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ “تبدیلی کی خواہش کا جذبہ ہمیشہ قائم رہے”۔ یہ جذبہ جمود کے خلاف اور ترقی کی سمت سفر کی علامت ہے۔
اس خط کے ذریعے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستانی نوجوان (جن کی وہ نمائندگی کر رہے تھے) محض جذباتی جنونی نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک سوچے سمجھے نظریے اور مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
خط کا پس منظر
رسالے ماڈرن ریویو کا تعارف: کلکتہ ( اب کولکتہ) ، بنگال سے 1907ء میں “ماڈرن ریویو” کے نام سے ایک انگریزی ماہنامہ کا آغاز ہوا ۔ اس رسالے کو پورے برصغیر کے پڑھے لکھے طبقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ اس رسالے نے برصغیر کی آزادی کی تحریک، فکری بیداری اور ادب و ثقافت کے فروغ میں ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا۔ اس نے برطانوی پالیسیوں پر سخت اور مدلل تنقید کی جس کی وجہ سے اسے کئی بار حکومتی سنسر شپ اور جرمانے بھی برداشت کرنے پڑے۔اس جریدے میں سیاست، معاشیات، تاریخ، سماجیات، ادب، سائنس اور آرٹ جیسے سنجیدہ موضوعات پر اعلیٰ پائے کے مضامین شائع ہوتے تھے۔اس رسالے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں اس وقت کی قد آور شخصیات باقاعدگی سے لکھتی تھیں، جن میں رابندرناتھ ٹیگور، جواہر لعل نہرو، موہن داس گاندھی، سبھاش چندر بوس اور سسٹر نویدیتا شامل تھیں۔
رامانند چٹر جی مدیر رسالہ کا تعارف : رامانند چٹرجی (پیدائش: 1865، وفات: 1943) متحدہ ہندوستان کے ایک نامور، نڈر اور اصول پسند صحافی تھے۔ انہیں اکثر ‘ہندوستانی صحافت کا باپ بھی کہا جاتا ہے ۔

انہوں نے دو انتہائی مشہور اور باوقار رسالوں کی بنیاد رکھی: ایک بنگالی زبان میں “پرباسی” اور دوسرا انگریزی میں ‘ماڈرن ریویو’ تھا۔ دونوں اپنے وقت کے انتہائی مقبول رسالے تھے ۔
وہ کٹر قوم پرست، سماجی مصلح اور برطانوی سامراج کے سخت ناقد تھے۔ تاہم، وہ اندھی تقلید کے خلاف تھے اور ایک آزاد اور تجزیاتی سوچ رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی سیاسی تحریک یا نعرے کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے اس کے منطقی اور عملی پہلوؤں پر تنقید کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے (جیسا کہ بھگت سنگھ کے نعرے کے حوالے سے ان کے اداریے سے ظاہر ہوتا ہے)۔
بھگت سنگھ کے ساتھ مکالمے کا پس منظر: ماڈرن ریویو کے ایڈیٹر رامانند چٹرجی نے اپنے ایک اداریے میں “انقلاب زندہ باد”
(Long Live Revolution)
کے نعرے کا تمسخر اڑایا تھا۔ بھگت سنگھ نے اس نوٹ کا ایک جواب لکھا اور اسے مقدمے کی سماعت کرنے والے مجسٹریٹ کے حوالے کیا تاکہ اسے ‘ماڈرن ریویو’ بھیج دیا جائے۔ یہ جواب بعد میں 24 دسمبر 1929 کو اخبار ‘دی ٹریبیون’ میں شائع ہوا۔ رامانند چٹرجی نے اپنے اداریے میں درج ذیل تحریر کیا تھا:
“فری پریس
(Free Press)
کے ایک پیغام کے مطابق، پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں نوجوان سبھا (یوتھ لیگ) کے ایک اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں لاہور کے اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے طلبا کی جانب سے “انقلاب زندہ باد” اور “سامراج مردہ باد”
(Down with Imperialism)
کے نعرے لگانے کی بنیاد پر ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہر کسی کو یہ نعرے لگانے کا حق حاصل ہے۔ عام آدمی
(Laymen)
کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سے نعرے قانونی ہیں اور کون سے نہیں۔”

بھگت سنگھ کا جواب
ایڈیٹر، ماڈرن ریویو
آپ نے اپنے معزز رسالے کے دسمبر 1929 کے شمارے میں “انقلاب زندہ باد” کے عنوان سے ایک نوٹ تحریر کیا اور اس فقرے کے بے معنی ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آپ جیسے بزرگ، تجربہ کار اور نامور صحافی کی رائے کی تردید یا مخالفت کرنا ہماری جانب سے گستاخی کے مترادف ہوگا، جن کے لیے ہر روشن خیال ہندوستانی دل میں گہرا احترام رکھتا ہے۔ تاہم ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اس فقرے سے اپنی مراد واضح کریں، کیونکہ ایک طرح سے اس مرحلے پر اس ملک میں ان نعروں کو عام کرنے کا موقع ہمیں ہی میسر آیا۔
ہم اس نعرے کے موجد نہیں ہیں۔ یہی نعرہ روسی انقلابی تحریکوں میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ معروف اشتراکی ادیب اپٹن سنکلیئر نے اپنے حالیہ ناولوں “بوسٹن” اور “آئل” میں اپنے بعض انارکسٹ انقلابی کرداروں کے ذریعے اس نعرے کو برتا ہے۔ اس فقرے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خونریز کشمکش ہمیشہ جاری رہے یا کبھی کسی لمحے کے لیے بھی سکون اور ٹھہراؤ نہ آئے۔ طویل استعمال کے باعث یہ نعرہ ایک ایسی معنوی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جو قواعدِ زبان یا علمِ اشتقاق کے نقطۂ نظر سے پوری طرح درست نہ بھی ہو، تاہم اس سے وابستہ تصورات اور خیالات کے تلازمے کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس نوع کے تمام نعرے ایک عمومی احساس کی نمائندگی کرتے ہیں جو جزوی طور پر اکتسابی اور جزوی طور پر ان میں مضمر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر جب ہم “جتن داس زندہ باد” کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو اس سے ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ جسمانی طور پر زندہ رہیں، بلکہ اس سے مراد ان کے بلند نصب العین اور وہ ناقابلِ تسخیر جذبہ ہے جس نے اس عظیم شہید کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے اور اس مقصد کے لیے عظیم ترین قربانی دینے کے قابل بنایا۔ اس نعرے کے ذریعے ہم یہ عزم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم بھی اپنے نصب العین کے حصول میں اسی غیر متزلزل جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔ یہی وہ روح ہے جس کی طرف ہمارا اشارہ ہے۔
اسی طرح لفظ “انقلاب” کو اس کے محض لغوی مفہوم میں نہیں لینا چاہیے۔ اس لفظ کو استعمال یا غلط استعمال کرنے والوں کے مفادات کے مطابق اس کے مختلف معانی اور مفاہیم اخذ کیے جاتے ہیں۔ استحصالی قوتوں کے لیے یہ خون آلود خوف کی علامت ہے، جبکہ انقلابیوں کے لیے یہ ایک مقدس شعار ہے۔ ہم نے دہلی کی سیشن عدالت میں، اسمبلی بم مقدمے کے دوران، اپنے بیان میں واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ لفظ “انقلاب” سے ہماری کیا مراد ہے۔
ہم نے بیان کیا تھا کہ انقلاب لازماً خونریزی کا تقاضا نہیں کرتا۔ یہ نہ بم اور پستول کی پرستش ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مذہب۔ یہ محض بعض اوقات اس کے حصول کے ذرائع ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ بعض تحریکوں میں ان کا کردار نمایاں ہوتا ہے، لیکن اسی بنا پر انہیں انقلاب کا ہم معنی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بغاوت انقلاب نہیں ہوتی، اگرچہ وہ بالآخر انقلاب کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اس فقرے میں “انقلاب” سے مراد ایک ایسی روح ہے جو بہتر تبدیلی کی آرزو اور تڑپ سے عبارت ہے۔ لوگ عموماً قائم شدہ نظام کے عادی ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے تصور ہی سے خائف ہونے لگتے ہیں۔ یہی جمود زدہ کیفیت ہے جسے انقلابی روح سے بدلنے کی ضرورت ہے، ورنہ زوال غالب آ جاتا ہے اور رجعتی قوتیں انسانیت کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ ایسی حالت انسانی ترقی کو جمود اور مفلوجی کا شکار بنا دیتی ہے۔ انقلاب کی روح کو ہمیشہ انسانیت کے باطن میں سرایت کیے رہنا چاہیے تاکہ رجعتی قوتیں اس کے مسلسل ارتقائی سفر کو روکنے کے لیے قوت مجتمع نہ کر سکیں۔ پرانے نظام کو ہمیشہ بدلتے رہنا چاہیے اور نئے کو جگہ ملنی چاہیے تاکہ کوئی ایک “بہتر” نظام بھی جمود کا شکار ہو کر دنیا کو فساد میں مبتلا نہ کر دے۔ اسی مفہوم میں ہم “انقلاب زندہ باد” کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔
آپ کا مخلص
(دستخط) بھگت سنگھ
بی کے دت(ماخوذ از: شہید بھگت سنگھ کی منتخب تحریریں، مرتبہ شیو ورما)