ادارتی نوٹ
یہ خط کامریڈ چمن لال کی مرتب کردہ کتاب ” بھگت سنگھ ریڈر ” کے جزو بھگت سنگھ جیل سے لکھے گئے سیاسی خطوط
(ص69-75 ) میں شامل تیسرا خط ہے اور ادارتی نوٹ لکھنے کے لیے جہاں خط کے متن سے مددلی گئی ، وہیں اس پر مدیر چمن لال کے نوٹ سے بھی مدد لی گئی ہے – خط ہندی زبان میں لکھا گیا تھا جس کا انگریزی ترجمہ چمن لال نے کیا ۔ انگریزی ترجمے سے اردو میں اسے منتقل کیا گیا ہے۔
بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے انگریز سامراج کی جانب سے “قانون بغاوت ” کے تحت بنائے گئے مقدمے ( جسے لاہور سازش کیس کہا جاتا ہے ) کا فیصلہ ستمبر-اکتوبر 1930ء میں سنائے جانے کا امکان تھا جب سکھدیو نے کہا وہ جیل میں ایک لمبے عرصے تک قید تنہائی کاٹنے پر خودکشی کو ترجیح دے گا ۔ اس وقت بھگت سنگھ نے اسے ایک خط لکھا جس میں اس نے “خودکشی ” کے فلسفیانہ تصور پر روشنی ڈالی ۔ یہ خط ستمبر کے مہینے میں کسی وقت لکھا گیا اور مقدمے کا فیصلہ 7 اکتوبر 1930ء کو سامنے آیا ۔ اس وقت بھگت سنگھ اپنی لڑائی کو جن نظریات کے زریعے آگے بڑھا رہا تھا ، اس کے بارے میں جو بحث چل رہی تھی بھگت سنگھ نے اس تناظر میں سکھدیو کو جو خط لکھا ، اس میں وہ سارے خیالات بہت واضح ہیں ۔ بدقسمتی سے سکھدیو نے بھگت سنگھ کے خط کے جواب میں جو خط لکھا وہ آج دستیاب نہیں ہے ۔ پھر بھی ان کے درمیان جو تبادلہ خیالات کے دوران نکات زیر بحث آئے وہ اس خط میں بہت واضح ہیں ۔
بھگت سنگھ اس خط میں انتہائی تلخ لہجے میں سکھدیو کو لکھتا ہے کہ اگر اس نے خودکشی کے خیال کو عملی جامہ پہنانا ہی تھا تو وہ گرفتاری کے وقت کرتا کیونکہ اس نے پولیس نے پولیس کے جال میں پھنس کر گروپ کی تمام سرگرمیوں کا احوال بیان کردیا تھا جس نے گروپ کے ساتھ ساتھ ان کے مقدمے کو بھی نقصان پہنچایا تھا ۔ تاہم سکھدیو نے اس عمل کی بنا پر اپنے لیے معافی کی کوئی درخواست نہیں کی تھی اور وہ برطانوی سامراج کے قائم کردہ نام نہاد انصاف کے نظام کا اس وقت سب سے بڑا متاثرہ بن گیا جب اسے بھی برطانوی پولیس افسر سانڈرس کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی جب کہ وہ اس قتل کے نہ تو منصوبے میں شامل تھا اور نہ قتل کرنے میں ۔
بھگت سنگھ کا یہ خط دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلے حصّے میں وہ “محبت ” کے تصور کو زیر بحث لاتا ہے اور دوسرے حصّے میں وہ “خودکشی” کے تصور پر بات کرتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ دونوں تصورات آج بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں ۔
بھگت سنگھ کا یہ خط محض ایک نجی تحریر نہیں بلکہ انقلابی فکر، ہمت اور اخلاقی بلندی کا ایک ایسا شاہکار ہے جو قید و بند کی صعوبتوں کے درمیان لکھا گیا۔ اس خط کا بنیادی محور ‘خودکشی’ اور ‘انقلابی جدوجہد’ کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنا ہے۔ بھگت سنگھ اپنے ساتھی سکھدیو کے بدلے ہوئے خیالات پر گرفت کرتے ہوئے بڑی دردمندی سے یہ واضح کرتے ہیں کہ جو شخص باہر کی دنیا میں خودکشی کو بزدلی قرار دیتا تھا، وہ اب جیل کی سختیوں سے گھبرا کر اسے ایک ضرورت یا حق بجانب فعل کیسے سمجھنے لگا ہے۔ وہ بڑے منطقی انداز میں ثابت کرتے ہیں کہ ذاتی دکھ یا قید کی طوالت سے بچنے کے لیے اپنی جان لے لینا بزدلی کی انتہا ہے، جبکہ کسی عظیم مقصد یا نظریے کے لیے پھانسی کے پھندے کو چوم لینا ایک مثالی اور خوبصورت موت ہے۔ ان کے نزدیک موت کی قدر و قیمت اس کے مقصد سے وابستہ ہے، اور وہ اپنے ساتھی کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک انقلابی کا اصل امتحان ہی تب شروع ہوتا ہے جب اسے اپنے کیے کے نتائج بھگتنے پڑیں۔
خط کا دوسرا اہم پہلو انقلابیوں کی سماجی ذمہ داری اور روسی ادب سے حاصل کردہ سبق ہے۔ بھگت سنگھ یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ہم روسی ناولوں میں کرداروں کی بلندی اور ان کے دکھ سہنے کی ہمت کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں وہی دکھ سہنے سے کتراتے ہیں۔ وہ مادی نقطہ نظر
(Materialist lines)
سے زندگی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی کوئی ‘موت کے پجاری’ نہیں ہیں، بلکہ وہ زندگی کی بھرپور قدر کرتے ہیں اور اسے انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک جیل کی زندگی ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں انسان کو جرم، گناہ اور سماجی مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ سکھدیو کو جھنجھوڑتے ہیں کہ اگر جیل کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، تو وہاں بھی خاموش بیٹھنے یا ہار ماننے کے بجائے جدوجہد کے ذریعے تبدیلی لانی چاہیے، کیونکہ فرار کسی مسئلے کا حل نہیں۔
آخر میں، بھگت سنگھ کی سیاسی بصیرت اور بے غرضی کھل کر سامنے آتی ہے۔ وہ اپنی موت کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہیں اور نہ ہی برطانوی سامراج سے کسی رحم کی امید رکھتے ہیں۔ وہ اپنی پھانسی کو ایک ایسے عظیم موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو ہندوستانی عوام کے دلوں پر ان مٹ نقوش چھوڑ جائے گا اور آزادی کی تحریک میں روح پھونک دے گا۔ ان کا یہ جملہ کہ “جب ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہو رہا ہو، تو افراد کی تقدیر کو فراموش کر دینا چاہیے”، ان کی عظیم شخصیت اور حب الوطنی کا نچوڑ ہے۔ وہ ذاتی نجات یا معافی کے بجائے اس بات کے خواہشمند ہیں کہ ان کی موت تحریکِ آزادی کے لیے ایندھن کا کام کرے اور برطانوی استعمار کے خلاف عوامی غصے کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لے آئے۔ یہ خط ثابت کرتا ہے کہ بھگت سنگھ صرف ایک جذبات سے بھرپور نوجوان نہیں تھے، بلکہ ایک گہرے مفکر اور اپنے نظریات پر چٹان کی طرح قائم رہنے والے عظیم انسان تھے۔
_________________________________________
بھگت سنگھ کا خط بنام سکھدیو
میرے پیارے بھائی، میں نے تمہارا خط بہت توجہ سے اور کئی بار پڑھا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ بدلے ہوئے حالات نے ہم دونوں پر مختلف طرح سے اثر ڈالا ہے۔ وہ چیزیں جن سے تمہیں باہر (جیل سے باہر) نفرت تھی، اب تمہارے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اسی طرح، وہ باتیں جن کا میں پرجوش حامی تھا، اب میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ مثال کے طور پر، میں ‘ذاتی محبت’ کا قائل تھا، لیکن اب اس احساس کی میرے دل و دماغ میں کوئی خاص جگہ باقی نہیں رہی۔ جب تم باہر تھے تو تم اس کے سخت مخالف تھے، لیکن اب تمہارے خیالات میں اس حوالے سے ایک بڑی تبدیلی اور انقلابی موڑ نظر آتا ہے۔ اب تم اسے انسانی وجود کا ایک نہایت ضروری حصہ سمجھتے ہو اور تمہیں اس تجربے سے ایک خاص قسم کی مسرت حاصل ہوئی ہے۔
تمہیں شاید یاد ہو کہ ایک دن میں نے تم سے ‘خودکشی’ کے موضوع پر بات کی تھی۔ اس وقت میں نے کہا تھا کہ بعض حالات میں خودکشی کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے، مگر تم نے میری بات کی مخالفت کی تھی۔ مجھے ہماری اس گفتگو کا وقت اور مقام اچھی طرح یاد ہے۔ ایک شام ‘شہنشاہی کٹیا’ میں ہماری اس پر بات ہوئی تھی۔ تم نے مذاقاً کہا تھا کہ ایسی بزدلانہ حرکت کا کبھی کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ تمہارا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات بھیانک اور گھناؤنے ہوتے ہیں، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اب تم نے اس معاملے میں بالکل پلٹا کھا لیا ہے۔ اب تمہیں یہ نہ صرف بعض حالات میں درست معلوم ہوتی ہے بلکہ ضروری بلکہ ناگزیر لگتی ہے۔ میری رائے اب وہی ہے جو پہلے تمہاری تھی، یعنی خودکشی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ یہ مکمل بزدلی کا فعل ہے۔ انقلابی تو دور کی بات ہے، کوئی بھی عام انسان کبھی ایسے فعل کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔
تم کہتے ہو کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ تنہا دکھ جھیلنے سے ملک کی کیا خدمت ہو سکتی ہے۔ تمہارے جیسے شخص کی طرف سے ایسا سوال واقعی حیران کن ہے، کیونکہ ہم نے کتنے غور و فکر کے بعد ‘نوجوان بھارت سبھا’ کا یہ نصب العین اپنایا تھا کہ
“خدمت کے ذریعے دکھ جھیلنا اور قربانی دینا“
میرا ماننا ہے کہ تم نے جتنی ممکن تھی خدمت کی۔ اب وقت ہے کہ تم نے جو کیا، اس کی خاطر دکھ جھیلو۔ دوسری بات یہ کہ یہی وہ لمحہ ہے جب تمہیں پوری قوم کی قیادت کرنی ہے۔
انسان تبھی کوئی قدم اٹھاتا ہے جب اسے اپنے عمل کے درست ہونے کا پورا یقین ہو، جیسا کہ ہم نے قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکا تھا۔ عمل کے بعد، اب وقت ہے اس کے نتائج بھگتنے کا۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ اگر ہم رحم کی اپیلیں کر کے سزا سے بچنے کی کوشش کرتے تو کیا وہ زیادہ درست ہوتا؟ نہیں، اس کا عوام پر برا اثر پڑتا۔ اب ہم اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب ہیں۔
ہماری قید کے وقت، ہماری پارٹی کے سیاسی قیدیوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ ہم نے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی۔ میں تمہیں پوری سنجیدگی سے بتاتا ہوں کہ ہمیں یقین تھا کہ ہم بہت جلد مارے جائیں گے۔ نہ تو ہم ‘زبردستی کھانا کھلانے‘
(forced feeding)
کی تکنیک سے واقف تھے اور نہ ہی کبھی اس کے بارے میں سوچا تھا۔ ہم مرنے کے لیے تیار تھے۔ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ ہم خودکشی کا ارادہ رکھتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے جدوجہد کرنا اور جان قربان کر دینا کبھی خودکشی نہیں کہلا سکتا۔ ہمیں اپنے ساتھی جتیندر ناتھ داس کی موت پر رشک ہے۔ کیا تم اسے خودکشی کہو گے؟ آخر کار ہماری تکلیفیں رنگ لائیں۔ پورے ملک میں ایک بڑی تحریک شروع ہو گئی۔ ہم اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ اس طرح کی جدوجہد میں موت ایک مثالی موت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ، ہمارے وہ ساتھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سزائے موت سنائی جائے گی، انہیں صبر و استقامت سے اس دن کا انتظار کرنا چاہیے جب سزا کا اعلان ہوگا اور انہیں تختہ دار پر چڑھایا جائے گا۔ یہ موت بھی خوبصورت ہوگی، لیکن محض تکلیف سے بچنے کے لیے زندگی کا خاتمہ کر لینا (خودکشی کرنا) بزدلی ہے۔ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ مشکلات ہی انسان کو کامل بناتی ہیں۔ نہ تم نے، نہ میں نے اور نہ ہی ہم میں سے کسی نے اب تک کوئی حقیقی دکھ جھیلا ہے۔ ہماری زندگی کا وہ حصہ تو اب شروع ہوا ہے۔
تمہیں یاد ہوگا کہ ہم نے روسی ادب کے ‘حقیقت پسندی’ والے پہلو پر کئی بار بات کی ہے، جو ہمارے اپنے ادب میں کہیں نظر نہیں آتی۔ ہم ان کی کہانیوں میں دکھ کی صورتحال کی بڑی تعریف کرتے ہیں، لیکن اپنے اندر اس تکلیف کو سہنے کا جذبہ محسوس نہیں کرتے۔ ہم ان کے کرداروں کے جوش اور ان کی غیر معمولی بلندی کی بھی تعریف کرتے ہیں، مگر کبھی اس کی وجہ تلاش کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ ان کے اندر دکھ جھیلنے کے پختہ ارادے نے ہی وہ شدت اور گہرائی پیدا کی ہے، جس نے ان کے کرداروں اور ادب کو اتنی بلندی عطا کی۔ ہم تب قابلِ رحم اور مضحکہ خیز بن جاتے ہیں جب ہم کسی فطری یا ٹھوس بنیاد کے بغیر اپنی زندگی میں ایک بے تکی روحانیت یا تصوف کو جذب کر لیتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ، جو ہر لحاظ سے انقلابی ہونے پر فخر کرتے ہیں، ہمیں ان تمام مشکلات، پریشانیوں اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے جنہیں ہم نے خود دعوت دی ہے اور جن کی خاطر ہم خود کو انقلابی کہتے ہیں۔
میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ جیل میں، اور صرف جیل ہی میں، ایک انسان کو جرم اور گناہ جیسے عظیم سماجی موضوعات کا تجربہ اور مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں نے اس پر کچھ لٹریچر پڑھا ہے اور ان تمام موضوعات پر خود آگاہی کے لیے جیل ہی موزوں ترین جگہ ہے۔ خود کے مطالعے کا بہترین طریقہ خود دکھ جھیلنا ہے۔
تم جانتے ہو کہ روس کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی تکالیف ہی تھیں، جنہوں نے زار کی حکومت کے خاتمے کے بعد جیلوں کے نظام میں انقلاب کی بنیاد ڈالی۔
کیا ہندوستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے جو اس مسئلے سے پوری طرح واقف ہوں اور ان چیزوں کا ذاتی تجربہ رکھتے ہوں؟ یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ ‘کوئی اور یہ کام کر لے گا’ یا ‘بہت سے دوسرے لوگ یہ کرنے کے لیے موجود ہیں’۔ وہ لوگ جو انقلابی ذمہ داریوں کو دوسروں پر چھوڑنا باعثِ توہین اور نفرت انگیز سمجھتے ہیں، انہیں موجودہ نظام کے خلاف پوری لگن کے ساتھ جدوجہد شروع کرنی چاہیے۔ انہیں ان اصولوں کو توڑنا چاہیے لیکن شائستگی اور موزونیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ غیر ضروری اور غیر مناسب کوششیں کبھی درست نہیں مانی جا سکتیں۔ ایسی تحریکیں انقلاب کے عمل کو تیز کر دیں گی۔ وہ تمام دلائل جو تم نے خود کو ایسی تحریکوں سے دور رکھنے کے لیے دیے ہیں، میری سمجھ سے باہر ہیں۔
ہمارے کچھ دوست یا تو بیوقوف ہیں یا جاہل۔ انہیں تمہارا رویہ بڑا عجیب اور ناقابلِ فہم لگتا ہے۔ (وہ خود کہتے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہیں سکتے کیونکہ تم ان کی فہم سے بہت بالا تر اور دور ہو)۔
درحقیقت، اگر تمہیں لگتا ہے کہ جیل کی زندگی واقعی توہین آمیز ہے، تو تم تحریک چلا کر اسے بہتر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ شاید تم کہو گے کہ یہ جدوجہد فضول ہوگی، لیکن یہ وہی دلیل ہے جو عام طور پر کمزور لوگ ہر تحریک میں شرکت سے بچنے کے لیے بطور لبادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہی جواب ہے جو ہم جیل سے باہر ان لوگوں سے سنتے تھے جو انقلابی تحریکوں کے چنگل میں پھنسنے سے بھاگتے تھے۔ کیا اب میں وہی دلیل تمہاری زبان سے سنوں گا؟ ہماری مٹھی بھر لوگوں کی پارٹی اپنے عظیم مقاصد اور نصب العین کے سامنے کیا حیثیت رکھتی تھی؟ تو کیا ہم اس سے یہ نتیجہ نکالیں کہ ہم نے کام شروع کر کے بڑی غلطی کی؟ نہیں، اس طرح کے نتائج نکالنا غلط ہوگا۔ یہ صرف اس شخص کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جو ایسا سوچتا ہے۔
تم آگے لکھتے ہو کہ ایک انسان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ جیل میں چودہ طویل سال کی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی ویسا ہی سوچے گا جیسا وہ پہلے سوچتا تھا، کیونکہ جیل کی زندگی اس کے تمام خیالات کو کچل دے گی۔ کیا میں تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ کیا جیل سے باہر کے حالات ہمارے خیالات کے لیے ذرا بھی سازگار تھے؟ کیا تب بھی ہم نے اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا تھا؟ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اس میدان میں نہ اترتے تو کوئی انقلابی کام ہی نہ ہوتا؟ اگر تمہارا یہی دعویٰ ہے تو تم غلطی پر ہو، اگرچہ یہ درست ہے کہ ہم نے ماحول کو بدلنے میں ایک حد تک مدد ضرور کی۔ لیکن، ہم تو صرف اپنے وقت کی ضرورت کی پیداوار ہیں۔
میں تو یہ بھی کہوں گا کہ مارکس جو کمیونزم کا بانی ہے اس نے اصل میں اس خیال کو جنم نہیں دیا تھا۔ یورپ کے صنعتی انقلاب نے خود اس طرح کے انسان پیدا کیے تھے۔ مارکس ان میں سے ایک تھا۔ یقیناً، مارکس نے بھی اپنے وقت کے پہیے کو ایک خاص سمت میں موڑنے میں ایک حد تک کردار ادا کیا۔
میں نے (اور تم نے بھی) اس ملک میں سوشلزم اور کمیونزم کے نظریات کو جنم نہیں دیا؛ یہ تو ہمارے وقت اور حالات کے ہم پر اثرات کا نتیجہ ہے۔ یقیناً ہم نے ان نظریات کی ترویج کے لیے تھوڑا بہت کام کیا ہے، اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جب ہم نے ایک مشکل کام اپنے ذمہ لے ہی لیا ہے، تو ہمیں اسے آگے بڑھاتے رہنا چاہیے۔ ہمارے مشکلات سے فرار کے لیے خودکشی کر لینے سے لوگوں کو کوئی رہنمائی نہیں ملے گی؛ اس کے برعکس، یہ ایک انتہائی رجعت پسندانہ قدم ہوگا۔
ہم نے جیل کے قوانین کے ذریعے مسلط کردہ مایوسیوں، دباؤ اور تشدد کے صبر آزما ماحول کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔ جب ہم کام کر رہے تھے، تو ہمیں کئی طرح کی مشکلات کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو خود کو بڑے انقلابی کہنے پر فخر کرتے تھے، ہمیں چھوڑ گئے۔ کیا یہ حالات انتہائی کٹھن نہیں تھے؟ پھر ہماری جدوجہد اور کوششوں کو جاری رکھنے کی کیا وجہ اور منطق تھی؟
کیا یہ سادہ سی دلیل بذاتِ خود ہمارے خیالات کو مزید تقویت نہیں دیتی؟ اور کیا ہمارے پاس ایسے انقلابی ساتھیوں کی مثالیں موجود نہیں جنہوں نے جیلوں میں اپنے نظریات کی خاطر دکھ جھیلے اور جیل سے واپسی پر اب بھی کام کر رہے ہیں؟ اگر باکونن تمہاری طرح دلیل دیتا تو وہ شروع ہی میں خودکشی کر لیتا۔ آج تمہیں روسی ریاست میں بہت سے ایسے انقلابی ذمہ دار عہدوں پر ملیں گے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیل میں سزا کاٹتے ہوئے گزارا ہے۔ انسان کو اپنے عقائد پر قائم رہنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل کے پردے میں کیا چھپا ہے۔
کیا تمہیں یاد ہے جب ہم بحث کر رہے تھے کہ ہماری بم فیکٹریوں میں کچھ تیز اثر زہر بھی رکھا جانا چاہیے، تو تم نے اس کی بڑی شدت سے مخالفت کی تھی؟ تمہیں اس خیال سے ہی کراہت آتی تھی۔ تمہیں اس پر کوئی یقین نہیں تھا۔ تو اب کیا ہوا؟ یہاں تو ابھی وہ مشکل اور پیچیدہ حالات بھی پیدا نہیں ہوئے۔ مجھے اس سوال پر بحث کرتے ہوئے بھی گھن آ رہی ہے۔ تمہیں تو اس ذہنی کیفیت سے بھی نفرت تھی جو خودکشی کی اجازت دیتی ہے۔ تم مجھے یہ کہنے کے لیے معاف کر دینا کہ اگر تم نے اپنی قید کے وقت اس یقین کے مطابق عمل کیا ہوتا (یعنی زہر کھا کر خودکشی کر لی ہوتی) تو تم نے انقلابی مقصد کی خدمت کی ہوتی، لیکن اس وقت، ایسی کسی حرکت کا خیال بھی ہمارے مقصد کے لیے نقصان دہ ہے۔
صرف ایک اور بات ہے جس کی طرف میں تمہاری توجہ دلانا چاہوں گا۔ ہم خدا، جہنم، جنت، جزا اور سزا یعنی انسانی زندگی کے کسی خدائی حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے ہمیں زندگی اور موت کے بارے میں مادی بنیادوں پر سوچنا چاہیے۔ جب مجھے شناخت کے لیے دہلی سے یہاں لایا گیا، تو کچھ انٹیلیجنس افسروں نے میرے والد کی موجودگی میں اس موضوع پر مجھ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ میں نے راز اگل کر اپنی جان بچانے کی کوشش نہیں کی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میری زندگی میں شدید اذیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی موت خودکشی جیسی ہوگی۔ لیکن میں نے جواب دیا تھا کہ میرے جیسے عقائد اور نظریات رکھنے والا انسان کبھی بے مقصد مرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ ہم اپنی زندگیوں کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم انسانیت کی جتنی ممکن ہو خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر میرے جیسا انسان، جس کی زندگی کہیں سے بھی اداس یا پریشان نہیں ہے، وہ تو کبھی خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتا، اسے کرنے کی کوشش تو دور کی بات ہے۔ یہی بات میں اب تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ تم مجھے وہ بتانے کی اجازت دو گے جو میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ مجھے سزائے موت ہوگی۔ مجھے تھوڑی سی نرمی یا معافی کی بھی امید نہیں ہے۔ اگر معافی ہوئی بھی، تو وہ سب کے لیے نہیں ہوگی، اور وہ بھی صرف دوسروں کے لیے ہوگی، ہمارے لیے نہیں؛ وہ انتہائی محدود اور مختلف شرائط کے بوجھ تلے دبی ہوگی۔ ہمارے لیے نہ کوئی معافی ہو سکتی ہے اور نہ ہی کبھی ایسا ہوگا۔ اس کے باوجود، میری خواہش ہے کہ ہماری رہائی کا مطالبہ اجتماعی اور عالمی سطح پر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ جب تحریک اپنے عروج پر پہنچے، تو ہمیں پھانسی دے دی جائے۔ میری خواہش ہے کہ اگر کبھی کوئی باعزت اور منصفانہ سمجھوتہ ممکن ہو، تو ہمارے کیس جیسے معاملات کبھی اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ جب ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہو رہا ہو، تو افراد کی تقدیر کو فراموش کر دینا چاہیے۔ انقلابی ہونے کے ناطے، ہم تمام ماضی کے تجربات سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لیے، ہمیں یقین نہیں ہے کہ ہمارے حکمرانوں، خاص طور پر برطانوی نسل کے رویے میں کوئی اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔ ایسی حیرت انگیز تبدیلی انقلاب کے بغیر ناممکن ہے۔ انقلاب صرف مسلسل جدوجہد، تکالیف اور قربانیوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ حاصل ہو کر رہے گا۔ جہاں تک میرے رویے کا تعلق ہے، میں سب کے لیے سہولیات اور معافی کا خیر مقدم تبھی کر سکتا ہوں جب اس کا اثر مستقل ہو اور ہماری پھانسی کے ذریعے ملک کے لوگوں کے دلوں پر کچھ ان مٹ نقوش ثبت ہوں۔
بس اتنا ہی، اور کچھ نہیں۔