توں اس طرح کیوں نہیں بن جاندی
اوتار سنگھ سدھو پاش

توں اس طرح کیوں نہیں بن جاندی
جِدّاں مُنہ زبانی گیت ہندے ہن
ہر وار تینوں پھٹّی وانگ لکھنا کیوں پیندا اے
مُنہ زور تریکالاں دے کھڑکے چوں
تیرے بولاں نوں نِتار سکنا بہت اوکھا اے
تیرے ٹلّی وانگ لہراں وچ ٹُٹدے
شنکھ دی آواز وانگ میں چاہُندا ہاں
توں ڈُبدے سورج دا غم ونڈاویں
تے رب دے ناں وانگ میری روح وچ تردی پھریں
ویکھ میں تاریاں دا سامنا کرنا اے
جیویں ہاراں بعد کوئی انکھی
ویری دیاں اکھاں وچ تکدا اے
میں نکّی نکّی لو وچ
کِر گئی گانی وانگ
ٹوہ ٹوہ کے اپنا آپ لبھنا اے

اوتار سنگھ سدھو پاش

اوتار سنگھ سندھو، جو ادبی دنیا میں ‘پاش’ کے نام سے امر ہوئے، بیسویں صدی کی پنجابی شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے حرفِ حق کو نہ صرف قرطاس پر بکھرا بلکہ اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ یا روایتی قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ یہ جبر کے خلاف ایک دہکتا ہوا احتجاج، انقلاب کا استعارہ اور پسے ہوئے طبقات کے انسانی حقوق کی ایک توانا آواز ہے۔ پاش کی فکر میں کسان کے ماتھے کا پسینہ اور جابر نظام سے ٹکرانے والے باغی کا لہو ایک ساتھ نظر آتا ہے، جو انہیں اپنے عہد کے دیگر شعراء سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔
پاش کی شہرہ آفاق نظم “توں ایس طرحاں کیوں نئیں بن جاندی” دراصل ایک ایسی آرزو کا اظہار ہے جہاں محبت اور نظریاتی وابستگی ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ شاعر اپنے مطلوب، خواہ وہ کوئی ہستی ہو یا کوئی نصب العین، سے مخاطب ہو کر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ کسی ‘ازبر گیت’ کی طرح اس کی روح کا حصہ بن جائے تاکہ اسے بار بار شعوری طور پر یاد کرنے یا ‘تختی’ پر لکھنے کی مشقت نہ کرنی پڑے۔ نظم میں ‘سنکھ کی آواز’، ‘گھنٹی کی لہروں’ اور ‘ڈوبتے سورج کے غم’ جیسی علامتیں اس داخلی بے چینی کو ظاہر کرتی ہیں جو ایک حساس تخلیق کار کو معاشرے کے بے ہنگم شور میں گھیرے رکھتی ہے۔
نظم کا آخری حصہ پاش کے اس مخصوص باغیانہ اور غیرت مندانہ مزاج کی عکاسی کرتا ہے جو شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ ستاروں کا سامنا ایک ایسے غیرت مند دشمن کی طرح کرنا چاہتے ہیں جو ہارنے کے بعد بھی سر نہیں جھکاتا۔ ‘ٹوٹ کر بکھری ہوئی مالا’ اور ‘ٹٹول ٹٹول کر اپنا آپ ڈھونڈنے’ کا تذکرہ اس کربناک عمل کی نشاندہی کرتا ہے جہاں انسان بکھرے ہوئے سماج اور دھندلی روشنی میں اپنی گمشدہ شناخت اور مقصدِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ پاش کی یہ تحریر آج بھی پڑھنے والے کے اندر ایک نئی روح اور مزاحمتی تڑپ پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔