یولیسس کا طلسم: جدید ادب کی تقدیر بدلنے والے ناول کا تنقیدی جائزہ
جیمز جوائس کے شاہکار ناول ‘یولیسس’ پر اینریکو تیرینونی کا یہ مقدمہ عالمی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تیرینونی محض ایک مترجم نہیں بلکہ اطالیہ کے ممتاز ترین ادیب، نقاد اور انگریزی ادب کے استاد ہیں۔ ان کا تعلق پیروجیا کی غیر ملکیوں کے لیے وقف جامعہ سے ہے، جہاں وہ برسوں سے تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ جوائس کے فن، اس کی لسانی پیچیدگیوں اور جدیدیت کے مطالعے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کے اس مقدمے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ قاری کو اس ذہنی اور اساطیری سفر کے لیے تیار کرتے ہیں جو ڈبلن کی گلیوں سے شروع ہو کر انسانی شعور کی اتھاہ گہرائیوں تک جاتا ہے۔

تیرینونی نے اس تحریر میں ان تمام تاریخی اور تنقیدی تنازعات کا احاطہ کیا ہے جو اس ناول کی اشاعت کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ وہ جہاں ورجینیا وولف کی بیزاری کا ذکر کرتے ہیں، وہیں ٹی ایس ایلیٹ کی اس ستائش کو بھی سامنے لاتے ہیں جس نے اس کتاب کو اپنے عہد کا سب سے بڑا ادبی واقعہ قرار دیا تھا۔ مترجم نے کمال مہارت سے یہ واضح کیا ہے کہ یہ ناول محض ایک دن کی کہانی نہیں، بلکہ دو قوموں کی تاریخ، انسانی بدن کے نظام اور قدیم داستانوں کا ایک جدید روپ ہے۔ ان کا تعارف قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جوائس نے کس طرح روایتی بیانیے کے سانچے توڑ کر زبان کو ایک نئی زندگی عطا کی۔ تیرینونی کے کام کو اٹلی میں اس قدر پذیرائی ملی کہ انہیں قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ان کا یہ تجزیہ اردو دان طبقے کے لیے عالمی کلاسیکی ادب کے بند دروازے کھولنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز نیوز اردو















اطالوی ترجمے سے پہلے باب کے کچھ حصوں کا اردو ترجمہ
ذیل میں جیمز جوائس کے ناول یو لیسسز کے پہلے باب کے ابتدائی چند حصوں کے اطالوی ایڈیشن کا اردو ترجمہ دیا جا رہا ہے ۔ ترجمے کو مترجم کے اسلوب کے عین مطابق رکھا گیا ہے ۔ جوائس کے جن جملوں اور الفاظ کو مترجم نے جوں کا توں رکھا اسے اردو میں ڈھالا گیا ہے اور نیچے حواشی میں اصل جملے اور الفاظ کو دیا گیا ہے تاکہ اردو کا قاری آسانی سے پڑھ سکے ۔ایڈیٹر
مجسمے کی مانند، فربہ جثہ بک مولیگن سیڑھیوں کے دہانے پر نمودار ہوا؛ اس کے ہاتھ میں صابن کے جھاگ سے بھرا ایک پیالہ تھا جس پر ایک آئینہ اور استرا صلیب کی شکل میں رکھے تھے۔ اس کا کھلا ہوا زرد چغہ صبح کی لطیف ہوا میں اس کے شانوں پر لہرا رہا تھا۔ اس نے پیالے کو آسمان کی طرف بلند کیا اور گنگنایا: ¹
وہ ساکن کھڑا بل کھاتی ہوئی اندھیری سیڑھیوں کی گہرائی میں جھانکنے لگا، اور پھر کرخت آواز میں چلایا: ²
وہ پروقار انداز میں چلتا ہوا گنبد نما گول منڈیر پر چڑھ گیا۔ پھر ایک جھٹکے سے مڑا اور سنجیدگی کے ساتھ تین بار اس برج، گرد و نواح کی زمین اور ابھی ابھی بیدار ہوتے ہوئے پہاڑوں کو آشیرباد دی۔ پھر، اسٹیفن ڈیڈلس کی موجودگی کو بھانپتے ہوئے، وہ اس کی طرف جھکا اور گلے سے غراہٹ نکالتے اور سر ہلاتے ہوئے ہوا میں تیزی سے صلیب کے نشان بنانے لگا۔ اسٹیفن ڈیڈلس نے، جو بیزار اور نیند کے غلبے میں تھا، اپنے بازو سیڑھیوں کی منڈیر پر ٹکا دیے اور سرد مہری سے اس غراتے ہوئے چہرے کو تاڑنے لگا جو سر جھٹک کر اسے دعائیں دے رہا تھا؛ وہ لمبوترا چہرا جو گھوڑے کی مشابہت رکھتا تھا، اس کے سنہری بال جو پادریوں کی طرح منڈے ہوئے نہ تھے بلکہ بلوط کی لکڑی کے رنگ جیسی جھلک دکھا رہے تھے۔ ³
بک مولیگن نے ایک لمحے کے لیے آئینے کے نیچے سے جھانکا اور فوراً پیالے کو ڈھانپ دیا۔
“بیرکوں کو واپس لوٹا جائے،” اس نے مصنوعی سختی سے کہا۔
پھر ایک واعظ کے لہجے میں اضافہ کیا:
“کیونکہ میرے عزیزو! یہی وہ اصل کرسٹینا ہے: جسم، روح، خون اور زخم۔ دھیمی موسیقی، پلیز۔ اپنی آنکھیں بند کر لیں، حضرات۔ ایک لمحہ۔ ان سفید خلیوں کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔ سب خاموش رہیں۔” ⁴
اس نے ایک طرف ترچھی نظر ڈالی اور ایک لمبی اور گونجتی ہوئی سیٹی ماری، پھر ایک لمحے کے لیے وجدانی کیفیت میں رک گیا؛ اس کے سفید اور برابر دانت کئی جگہوں سے سونے کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ خاموشی میں جواباً دو زوردار اور کرخت سیٹیاں سنائی دیں۔ ⁵
“شکریہ، میرے پرانے دوست،” وہ زور سے چلایا۔ “اتنا کافی ہے۔ بجلی کا سوئچ کاٹ دو، ٹھیک ہے؟”
وہ منڈیر سے نیچے اترا اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے چغے کی لہراتی ہوئی تہوں کو اپنی ٹانگوں کے گرد سمیٹتے ہوئے اپنے تماشائی، اسٹیفن، کو تاڑنے لگا۔ اس کا بھرا ہوا، سایہ دار چہرا اور بیضوی ٹھوڑی کسی قرونِ وسطیٰ کے شاہی پادری یا علم دوست سرپرست کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے لبوں پر ایک دوستانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“کیا مذاق ہے،” اس نے خوشدلی سے کہا۔ “تمہارا نام کتنا عجیب ہے، ایک قدیم یونانی نام۔”
فصیل کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے دوستانہ شرارت سے انگلی کا اشارہ کیا اور دبے دبے قہقہے لگانے لگا۔ اسٹیفن ڈیڈلس بیزاری کے ساتھ اس کے پیچھے آدھے راستے تک گیا، پھر منڈیر کے کنارے بیٹھ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جب اس نے آئینہ فصیل پر ٹکایا، برش کو پیالے میں ڈبویا اور اپنے گالوں اور گردن پر جھاگ ملنے لگا۔
بک مولیگن کی خوش مزاج آواز جاری رہی:
“میرا نام بھی عجیب ہے: ملاچی مولیگن، دو شعری ارکان۔ مگر یہ یونانی معلوم ہوتا ہے، ہے نا؟ ایک ہرن کے بچے کی طرح اچھلتا ہوا اور روشن۔ ہمیں ایتھنز جانا چاہیے۔ کیا تم چلو گے، اگر میں اپنی خالہ سے بیس پاؤنڈ بٹورنے میں کامیاب ہو گیا؟” ⁶
اس نے برش ایک طرف رکھا اور ہنستے ہوئے چلایا:
“کیا وہ سادہ لوح جیسوئٹ آئے گا؟”
پھر پرسکون ہو کر وہ احتیاط سے شیو بنانے لگا۔
“مجھے بتاؤ مولیگن،” اسٹیفن نے نہایت سکون سے پوچھا۔
“جی، میری جان؟”
“ہینز کب تک اس ٹاور میں رہے گا؟” ⁷
بک مولیگن نے اپنا صاف شدہ گال اپنے دائیں کندھے کی طرف موڑا۔
“خدا کی قسم، یہ بہت برا ہے، تمہیں نہیں لگتا؟” اس نے صاف گوئی سے کہا۔ “کتنا بوجھل انگریز ہے۔ اس کے خیال میں تم ایک شریف آدمی نہیں ہو۔ خدا کی قسم، یہ ملعون انگریز! پیسے اور بدہضمی سے پھٹ رہے ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ آکسفورڈ سے آیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے ڈیڈلس، تم بالکل آکسفورڈ والوں کی طرح برتاؤ کرتے ہو۔ وہ تمہیں سمجھ نہیں پاتا۔ آہ، دیکھو میں نے تمہارے لیے کتنا اچھا لقب ڈھونڈا ہے: کنچ، استرے کی دھار۔” ⁸
اس نے تھوڑی کے نیچے احتیاط سے استرا چلایا۔
“وہ پوری رات ایک سیاہ تیندوے کے بارے میں بڑبڑاتا رہا،” اسٹیفن نے کہا۔ “اس کا پستول کہاں ہے؟”
“بیچارہ پاگل،” مولیگن نے کہا۔ “کیا تم ڈر گئے تھے؟”
“یقیناً،” اسٹیفن نے دبے ہوئے خوف کے ساتھ کہا۔ “نیچے اندھیرے میں ایک بڑبڑاتے ہوئے اجنبی کے ساتھ رہنا جو سیاہ تیندوے کو گولی مارنے کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ تم نے تو ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچایا ہے، لیکن میں کوئی ہیرو نہیں ہوں۔ اگر وہ یہاں رہا، تو میں چلا جاؤں گا۔”
بک مولیگن نے استرے کی دھار پر جھاگ دیکھ کر ماتھے پر بل ڈالے۔ وہ اپنی جگہ سے نیچے کودا اور بے چینی سے اپنی پتلون کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔
“لعنت ہے،” وہ کرخت آواز میں چلایا۔
وہ دوبارہ منڈیر پر چڑھا اور اسٹیفن کی چھوٹی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا:
“اپنا وہ چیتھڑا جیسا رومال مجھے ادھار دو، مجھے استرا صاف کرنا ہے۔”
اسٹیفن نے اسے ایسا کرنے دیا جب مولیگن نے ایک گندا اور شکن آلود رومال نکالا اور اسے ایک کونے سے پکڑ کر دکھایا۔ بک مولیگن نے استرے کی دھار کو اچھی طرح صاف کیا۔ پھر رومال کی طرف دیکھ کر بولا:
“شاعر کے ناک صاف کرنے کا کپڑا! ہمارے آئرش شاعروں کے لیے ایک نیا فنی رنگ: ریں سبز۔ اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے نا؟” ⁹
وہ دوبارہ فصیل پر چڑھ گیا تاکہ ڈبلن کی خلیج کا نظارہ کر سکے؛ اس کے شاہِ بلوط رنگ کے بال ہوا میں بکھرے ہوئے تھے۔
“خدایا،” اس نے سکون سے کہا۔ “الجیرنون سمندر کو یہی پکارتا ہے: ایک عظیم شیریں ماں۔ ریں سبز سمندر۔ خصیہ سکیڑ سمندر۔ آہ، ڈیڈلس، یہ یونانی! مجھے تمہیں سکھانی پڑے گی۔ تمہیں انہیں اصل زبان میں پڑھنا چاہیے۔ یہی ہماری عظیم شیریں ماں ہے۔ یہاں دیکھو۔” ¹⁰
اسٹیفن اٹھ کر فصیل کی طرف بڑھا۔ وہاں جھک کر اس نے نیچے پانی کو دیکھا اور اس ڈاک والے جہاز کو جو کنگز ٹاؤن کی بندرگاہ کے دہانے سے نکل رہا تھا۔
“ہماری طاقتور ماں،” بک مولیگن نے کہا۔
اس نے اچانک اپنی گہری خاکستری آنکھیں سمندر سے ہٹا کر اسٹیفن کے چہرے کی طرف موڑیں۔
“میری خالہ کے مطابق تم نے اپنی ماں کو مار ڈالا ہے،” اس نے کہا۔ “اسی لیے وہ نہیں چاہتی کہ میں تمہارے قریب رہوں۔”
“کسی نے اسے مار ڈالا ہے،” اسٹیفن نے اداسی سے کہا۔
“کنچ، ملعون! تم کم از کم گھٹنوں کے بل تو بیٹھ سکتے تھے جب تمہاری ماں نے موت کے بستر پر التجا کی تھی،” بک مولیگن نے کہا۔ “میں بھی تمہاری طرح کٹر ہوں، لیکن جب میں سوچتا ہوں کہ وہ اپنی آخری سانسوں کے ساتھ تم سے گھٹنے ٹیک کر دعا مانگنے کی التجا کر رہی تھی اور تم نے اسے یہ بھی نہ دیا۔۔۔ تمہارے اندر کچھ منحوس ہے پے۔۔۔”
وہ رکا اور دوسرے گال پر نفاست سے صابن ملنے لگا۔ اس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
“لیکن تم کتنے پیارے اداکار ہو،” وہ بڑبڑایا۔ “کنچ، سب سے پیارا اداکار۔” ¹¹
وہ خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ صفائی سے شیو بنانے لگا۔
اسٹیفن نے اپنی کہنی گرینائٹ کی منڈیر پر ٹکا دی اور ہتھیلی ماتھے پر رکھ کر اپنے پرانے سیاہ کوٹ کی گھسی ہوئی آستین کو دیکھنے لگا۔ ایک دکھ، جو ابھی عشق کا دکھ نہ تھا، اس کے دل کو مروڑ رہا تھا۔ وہ عورت، اس کی ماں، مرنے کے بعد اس کے خوابوں میں آئی تھی؛ اس کا نڈھال جسم، چوڑے بھورے کفن میں، اس سے موم اور گلاب کی لکڑی کی بو آ رہی تھی؛ اس کی سانسیں جو اسٹیفن کے اوپر جھکی ہوئی تھیں، خاموش اور ملامت سے بھری ہوئی، جیسے گیلی راکھ کی ہلکی سی بو ہو۔ اس نے اپنی بوسیدہ آستین سے آگے اس سمندر کو دیکھا جسے اس کے پہلو میں موجود ایک کھاتے پیتے شخص کی آواز “عظیم شیریں ماں” پکار رہی تھی۔ خلیج کا دائرہ اور افق گہرے سبز مائع سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی ماں کے بستر کے پاس ایک سفید مٹی کا پیالہ تھا جس میں وہ سبز اور لیس دار صفرا جمع تھا جو قے کے شور اور کراہوں کے درمیان اس کے جگر سے نکلتا تھا۔ ¹²
بک مولیگن نے ایک بار پھر استرا صاف کیا۔
“آہ، بیچارے بوجھ ڈھونے والے جانور،” اس نے نرم آواز میں کہا۔ “مجھے تمہیں ایک قمیض اور کچھ رومال دینے ہوں گے۔ وہ سیکنڈ ہینڈ پتلون تمہیں کیسی آ رہی ہے؟”
“کافی ٹھیک ہے،” اسٹیفن نے جواب دیا۔
بک مولیگن نے نچلے ہونٹ کے نیچے استرا چلایا۔
“کیا مذاق ہے،” اس نے اطمینان سے کہا، “اسے سیکنڈ ہینڈ نہیں بلکہ سیکنڈ لیگ کہنا چاہیے۔ خدا ہی جانتا ہے کس شرابی کوڑھی نے اسے اتارا ہو گا۔ میرے پاس دھاری دار سرمئی پتلون کا ایک بہترین جوڑا ہے۔ تم بالکل صاحبزادے لگو گے۔ میں مذاق نہیں کر رہا کنچ۔ جب تم ڈھنگ کے کپڑے پہنتے ہو تو بہت کمال لگتے ہو۔” ¹³
“شکریہ،” اسٹیفن نے کہا۔ “اگر وہ سرمئی ہے تو میں نہیں پہن سکتا۔”
“وہ نہیں پہن سکتا!” بک مولیگن نے آئینے میں اپنے چہرے کو مخاطب کیا۔ “آداب تو آداب ہیں۔ ماں کو بھلے مار ڈالے، لیکن سرمئی پتلون نہیں پہنے گا۔”
اس نے احتیاط سے استرا بند کیا اور اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنی صاف جلد کو چھوا۔ اسٹیفن نے سمندر سے نظریں ہٹا کر مولیگن کے بھرے ہوئے چہرے اور اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھا۔
“وہ شخص جس کے ساتھ میں کل رات شپ میں تھا،” بک مولیگن نے کہا، “کہہ رہا تھا کہ تمہیں پی۔پی ہے۔ وہ ڈوٹی ول میں کونولی نارمن کے ساتھ ہے۔ فالج۔” ¹⁴
اس نے آئینے سے ہوا میں ایک نصف دائرہ بنایا جیسے وہ اس روشن دھوپ میں یہ خبر سمندر پر پھیلا رہا ہو۔ اس کے صاف شدہ لب ہنس رہے تھے اور سفید دانت چمک رہے تھے۔ وہ مضبوط اور کسرتی جسم ہنسی سے بھر گیا۔
“خود کو دیکھو،” اس نے کہا، “عظیم شاعر!”
اسٹیفن آگے جھکا اور آئینے میں اپنی صورت دیکھی جس کے بیچوں بیچ ایک دراڑ تھی۔ میرے بال کھڑے ہیں۔ وہ اور دوسرے مجھے کیسا دیکھتے ہوں گے۔ یہ چہرہ کس نے چنا ہے؟ یہ بوجھ ڈھونڈنے والا جانور۔ وہ مجھ سے بھی یہی پوچھتا ہے۔
“میں نے اسے خادمہ کے کمرے سے اڑایا ہے،” بک مولیگن نے کہا۔ “خالہ ہمیشہ ملاچی کے لیے معمولی شکل کی نوکرانیاں چنتی ہیں۔ تاکہ وہ بہک نہ جائے۔ اور اس کا نام ارسلا ہے۔” ¹⁵
دوبارہ ہنستے ہوئے اس نے اسٹیفن کی آنکھوں کے سامنے سے آئینہ ہٹا دیا۔
“آئینے میں اپنا چہرہ نہ دیکھ پانے پر کیلیبان کا غصہ،” اس نے کہا۔ “کاش آسکر وائلڈ زندہ ہوتا اور تمہیں دیکھتا۔” ¹⁶
پیچھے ہٹتے ہوئے اور انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اسٹیفن نے تلخی سے کہا:
“یہ آئرش فن کی علامت ہے۔ ایک خادمہ کا ٹوٹا ہوا آئینہ۔”
بک مولیگن نے فوراً اسٹیفن کا بازو تھام لیا تاکہ ٹاور کے گرد ٹہل سکے؛ استرا اور آئینہ اس کی جیب میں بج رہے تھے۔
“اس طرح برا ماننا ٹھیک نہیں کنچ، ہے نا؟” اس نے نرمی سے کہا۔ “خدا جانتا ہے تمہارے اندر ان سب سے زیادہ تڑپ ہے۔”
ایک اور حملہ پسپا ہوا۔ وہ میرے فن کے نشتر سے اتنا ہی ڈرتا ہے جتنا میں اس کے استرے سے۔ فولادی قلم کی ٹھنڈک۔
“خادمہ کا ٹوٹا ہوا آئینہ۔ نیچے بیٹھے اس آکسفورڈ کے بیل، ہینز، کو یہ بتاؤ اور اس سے کچھ پیسے نکلوالو۔ وہ پیسوں میں کھیل رہا ہے اور اسے لگتا ہے کہ تم شریف آدمی نہیں ہو۔ اس کے باپ نے زولو لوگوں کو دوائیاں بیچ کر یا ایسے ہی دوسرے دھوکے دے کر پیسے بنائے ہیں۔ خدایا کنچ، کاش ہم دونوں مل کر کام کر سکیں، شاید اس جزیرے کے لیے کچھ کر سکیں۔ اسے یونانی رنگ دے سکیں۔” ¹⁷
کرینلی کا بازو۔ اس کا اپنا بازو۔ ¹⁸
“اور اس کے بجائے تمہیں ان سوروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔ صرف میں تمہاری قدر جانتا ہوں۔ تم مجھ پر تھوڑا بھروسہ کیوں نہیں کرتے؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ کیا ہینز کی غلطی ہے؟ یہاں کچھ اور گڑبڑ ہوئی تو میں سیمور کو بلاؤں گا تاکہ اسے ویسا ہی سبق سکھائے جیسا کلائیو کیمپتھورپ کو ملا تھا۔” ¹⁹
کلائیو کیمپتھورپ کے کمروں میں امیرزادوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ زرد چہرے: ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو تھامے ہوئے، “اوہ، میں مر رہا ہوں!” اسے بتاؤ آبرے! میں مرا! قمیض کے چیتھڑے ہوا میں لہرا رہے ہیں، وہ میز کے گرد اچھل رہا ہے، پتلون ٹخنوں تک گری ہوئی ہے اور میگڈالین کا ایڈ قینچی لیے اس کے پیچھے ہے۔ خوفزدہ بچھڑے جیسا چہرہ، جس پر جام لگا ہوا ہے۔ “مجھے میرے انڈر ویئر میں مت چھوڑو! میرے ساتھ حماقتیں بند کرو!” ²⁰
کھلی ہوئی کھڑکی سے آنے والی چیخیں چوکور صحن کی شاموں کو زندہ کر دیتی تھیں۔ ایک بہرا مالی، ایپرن پہنے، متیو آرنلڈ جیسا چہرہ لیے، گھاس کاٹنے والی مشین چلا رہا ہے اور گھاس کے تنکوں کو ناچتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔
ہم خود سے۔۔۔ نئی کافرانہ زندگی۔۔۔ ²¹
“وہ بھلے یہاں رہے،” اسٹیفن نے کہا۔ “مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں، سوائے رات کے۔”
“پھر تمہیں کیا ہے؟” بک مولیگن نے بے صبری سے پوچھا۔ “صاف صاف کہو۔ میں تمہارے ساتھ بالکل مخلص ہوں۔ اب میرے خلاف کیا بات ہے؟”
وہ رک گئے، ان کی نظریں برے کی ابھری ہوئی چٹان پر تھیں جو پانی میں سوئی ہوئی وہیل مچھلی کے نتھنے کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ اسٹیفن نے خاموشی سے اپنا بازو چھڑایا۔ ²²
“تم جاننا چاہتے ہو؟” اس نے پوچھا۔
“ہاں، کیا بات ہے؟” بک مولیگن نے جواب دیا۔ “مجھے یاد نہیں۔”
بات کرتے ہوئے اس نے اسٹیفن کے چہرے کی طرف دیکھا۔ ایک ہلکی ہوا اس کی پلکوں کو چھو رہی تھی اور اس کے سنہری بکھرے بالوں کو لہراتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے چینی کی چاندی جیسی جھلک پیدا کر رہی تھی۔
اسٹیفن نے اپنی آواز کی شکستگی کے ساتھ کہا:
“تمہیں یاد ہے وہ پہلا دن جب میں اپنی ماں کی موت کے بعد تمہارے گھر آیا تھا؟”
بک مولیگن نے فوراً ماتھے پر بل ڈالے اور کہا:
“کیا؟ کہاں؟ مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے صرف خیالات اور احساسات یاد رہتے ہیں۔ کیوں؟ خدا کے نام پر بتاؤ کیا ہوا تھا؟”
“تم چائے بنا رہے تھے،” اسٹیفن نے کہا، “اور میں سیڑھیوں کے دہانے سے گزرا تاکہ مزید ابلتا ہوا پانی لا سکوں۔ تمہاری ماں اور کوئی مہمان کمرے سے باہر نکلے۔ اس نے تم سے پوچھا کہ کمرے میں تمہارے ساتھ کون ہے۔”
“اور پھر؟” بک مولیگن نے پوچھا۔ “میں نے کیا کہا؟ میں بھول گیا۔”
“تم نے کہا تھا،” اسٹیفن نے جواب دیا، “اوہ، یہ صرف ڈیڈلس ہے، جس کی ماں کسی جانور کی طرح مر گئی ہے۔”
ایک سرخی، جس نے بک مولیگن کو مزید جوان اور پیارا بنا دیا، اس کے گالوں پر دوڑ گئی۔
“میں نے یہ کہا تھا؟” اس نے پوچھا۔ “تو؟ اس میں برا کیا ہے؟”
اس نے بے چینی سے اپنی اس الجھن کو جھٹک دیا۔
“اور موت آخر ہے کیا،” اس نے پوچھا، “تمہاری ماں کی، تمہاری یا میری؟ تم نے صرف اپنی ماں کو مرتے دیکھا ہے۔ میں انہیں روزانہ میٹر یا رچمنڈ ہسپتال میں مرتے دیکھتا ہوں، اور مردہ خانے میں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہوں۔ یہ جانوروں جیسی بات ہے اور بس۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم اپنی ماں کے لیے اس کے آخری وقت میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دعا نہیں کرنا چاہتے تھے جب وہ تم سے التجا کر رہی تھی۔ کیوں؟ کیونکہ تمہارے اندر وہ ملعون جیسوئٹ رگ ہے، بس وہ الٹی لگی ہوئی ہے۔ میرے لیے یہ سب مضحکہ خیز اور حیوانی ہے۔ اس کے دماغ کے خلیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ ڈاکٹر کو سر پیٹر ٹیزل پکارتی تھی اور بستر کی چادر سے خیالی سنہری بٹن چنتی تھی۔ جب تک سب ختم نہ ہو جائے اسے خوش رکھو۔ تم نے مرنے سے پہلے اس کی آخری خواہش پوری نہیں کی اور اب مجھ پر برس رہے ہو کیونکہ میں یہاں بیٹھ کر لالویٹ کے کرائے کے رونے والوں کی طرح بین نہیں کر رہا۔ حماقت ہے! میں نے بھلے کہہ دیا ہو، لیکن میرا مقصد تمہاری ماں کی یاد کی توہین کرنا نہیں تھا۔” ²³
بات کرتے ہوئے اس کا حوصلہ بڑھا۔ اسٹیفن نے اپنے دل کے ان کھلے زخموں کی حفاظت کرتے ہوئے، جو ان الفاظ نے چھوڑے تھے، نہایت سرد مہری سے کہا:
“میں اپنی ماں کی توہین کی بات نہیں کر رہا۔”
“پھر کس کی؟” بک مولیگن نے پوچھا۔
“میری اپنی توہین کی،” اسٹیفن نے جواب دیا۔
بک مولیگن الٹے قدموں مڑا۔
“آہ، تم کتنے ناممکن انسان ہو!” وہ چلایا۔
وہ تیزی سے فصیل کے ساتھ چلتا ہوا دور نکل گیا۔ اسٹیفن وہیں کھڑا رہا اور چٹان کی طرف پرسکون سمندر کو دیکھتا رہا۔ اب سمندر اور چٹان آپس میں مل رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں خون کی گردش سے دھندلاہٹ آ رہی تھی اور گالوں پر تپش محسوس ہو رہی تھی۔
ٹاور کے اندر سے ایک آواز آئی:
“کیا مولیگن اوپر ہے؟”
“آ رہا ہوں،” بک مولیگن نے جواب دیا۔
وہ اسٹیفن کی طرف مڑا اور بولا:
“سمندر کو دیکھو۔ اسے توہین کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ لوئیولا کو گولی مارو کنچ، نیچے آ جاؤ۔ انگریز اپنے صبح کے بیکن کے ٹکڑوں کا انتظار کر رہا ہے۔” ²⁴
اس کا سر ایک لمحے کے لیے سیڑھیوں کے دہانے پر، چھت کے برابر رکا۔
“پورا دن اس کے بارے میں مت سوچتے رہنا،” اس نے کہا۔ “میں خود غیر مستقل مزاج ہوں۔ اس سوچ بچار والے موڈ کو چھوڑو۔”
اس کا سر غائب ہو گیا، لیکن سیڑھیوں سے اس کی آواز گونجتی رہی: ²⁵
جنگل کے سائے صبح کے سکون میں خاموشی سے گزر رہے تھے، سیڑھیوں سے لے کر سمندر تک جہاں وہ دیکھ رہا تھا۔ ساحل کی طرف سمندر کا آئینہ صاف ہو رہا تھا، جسے ہلکے جوتے پہنے ہوئے پھرتیلے قدموں نے جھنجھوڑا تھا۔ سمندر کا سفید سینہ دھندلایا ہوا۔ آلاتِ موسیقی کی تاریں چھوتے ہاتھ جو آپس میں ملتے ہوئے سر بکھیر رہے ہیں۔ وہ الفاظ جو سفید لہروں کی طرح مدوجزر پر چمک رہے ہیں۔
ایک بادل نے آہستہ آہستہ سورج کو ڈھانپنا شروع کر دیا، جس سے خلیج پر گہرا سبز سایہ چھا گیا۔ اس کے پیچھے کڑوے پانیوں کا پیالہ تھا۔ فرگس کا گیت: میں اسے گھر میں اکیلا گاتا تھا، اس کے گہرے سروں پر رکتا تھا۔ اس کی ماں کا دروازہ کھلا تھا: وہ میری موسیقی سننا چاہتی تھی۔ میں خوف اور ترس کے درمیان خاموشی سے اس کے بستر کے پاس گیا۔ وہ اس خستہ حال بستر پر رو رہی تھی۔ ان الفاظ کے لیے اسٹیفن: محبت کا تلخ معجزہ۔
اب کہاں؟
اس کے راز: پرانے پروں والے پنکھے، رقص کے کارڈ، کستوری کی خوشبو، اس کے مقفل دراز میں عنبر کے موتیوں کے زیور۔ اس کے گھر کی روشن کھڑکی میں لٹکا ہوا پرندوں کا پنجرہ، جب وہ لڑکی تھی۔ اس نے بوڑھے روائس کو اسٹیج پر گاتے سنا تھا اور دوسروں کے ساتھ ان الفاظ پر ہنسی تھی: ²⁶
وہ بھوتیا خوشی، جو اب کہیں دب گئی ہے: کستوری کی خوشبو والی۔
اور اب غور کرنے کے لیے دوبارہ مت مڑنا۔
فطرت کی یادداشت میں اس کے کھلونوں کے ساتھ کہیں محفوظ۔ یادیں اس کے سوچتے ہوئے ذہن کو گھیر لیتی ہیں۔ نلکے کے پانی کا وہ گلاس جو اس کے پاس تھا جب اس نے عبادت میں حصہ لیا۔ ایک سیب جس کا بیج نکال کر اس میں شکر بھری گئی تھی، جو خزاں کی ایک اداس شام میں اس کے لیے چولہے پر پک رہا تھا۔ اس کی انگلیوں کے ناخن، جو ان جوؤں کے خون سے سرخ ہو گئے تھے جو اس نے بچوں کی قمیضوں پر مارے تھے۔
وہ اس کے خواب میں آئی تھی، خاموش؛ اس کا نحیف اور تھکا ہوا جسم کفن میں، جس سے موم اور لکڑی کی بو آ رہی تھی، اس کی سانسیں اس کے اوپر جھکی ہوئی تھیں، خاموش اور پراسرار الفاظ کے ساتھ، جیسے گیلی راکھ کی بو ہو۔
موت کے پیچھے سے جھانکتی اس کی شیشے جیسی آنکھیں، تاکہ میری روح کو جھنجھوڑ سکیں۔ صرف مجھ پر۔ وہ بھوتیا موم بتی جو اس کے نزع کے وقت روشن تھی۔ اذیت زدہ چہرے پر وہ بھوتیا روشنی۔ وہ کرخت اور زوردار سانسیں جو خوف سے اکھڑ رہی تھیں، اور سب گھٹنوں کے بل دعا کر رہے تھے۔
اس کی آنکھیں مجھ پر جمی تھیں تاکہ مجھے توڑ سکیں۔ ²⁷
شیطان! مردہ خور!
نہیں ماں۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو اور مجھے جینے دو۔
“اے کنچ!”
بک مولیگن کی آواز ٹاور کے اندر سے گونجی۔ وہ سیڑھیوں کے قریب آیا اور دوبارہ پکارا۔ اسٹیفن، جو اپنی روح کی پکار سے ابھی تک کانپ رہا تھا، نے سورج کی گرم روشنی کو دوڑتے ہوئے دیکھا اور پیچھے سے آنے والے دوستانہ الفاظ سنے۔
“ڈیڈلس، نیچے آ جاؤ، ایک اچھے بچے کی طرح۔ ناشتہ تیار ہے۔ ہینز اس بات پر معذرت خواہ ہے کہ اس نے ہمیں پرسوں رات جگایا تھا۔ سب ٹھیک ہے۔”
“آ رہا ہوں،” اسٹیفن نے مڑتے ہوئے کہا۔
“جلدی کرو، خدا کے لیے،” بک مولیگن نے کہا۔ “میرے لیے اور ہم سب کے لیے۔”
اس کا سر غائب ہوا اور پھر نمودار ہوا۔
“میں نے اسے تمہارے آئرش فن کی علامت کے بارے میں بتایا۔ اسے یہ آئیڈیا بہت پسند آیا۔ اس سے ایک پاؤنڈ ادھار لو، ٹھیک ہے؟ بلکہ، ایک گنی۔” ²⁸
“مجھے آج صبح تنخواہ ملے گی،” اسٹیفن نے کہا۔
“اس سکول کے سوراخ سے؟” بک مولیگن نے پوچھا۔ “کتنی؟ چار پاؤنڈ؟ مجھے ایک ادھار دے دینا۔”
“اگر تمہیں ضرورت ہے،” اسٹیفن نے کہا۔
“چار چمکتے ہوئے سکے!” بک مولیگن نے خوشی سے پکارا۔ “ہم ایک شاندار محفل جمائیں گے۔ چار طاقتور سکے!”
اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور پتھریلی سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا، جبکہ لندن کے مخصوص لہجے کی نقل اتارتے ہوئے ایک دھن گنگنانے لگا: ²⁹
سمندر پر جشن مناتی سورج کی تپش۔ نکل کا وہ پیالہ، جسے وہ بھول گیا تھا، فصیل پر چمک رہا تھا۔ میں اسے نیچے کیوں لے جاؤں؟ یا اسے پورا دن وہیں رہنے دوں، ایک بھولی ہوئی دوستی کی طرح؟
وہ اس کے قریب گیا، اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما، اس کی ٹھنڈک کو محسوس کیا اور اس لیس دار جھاگ کی بو سونگھی جس میں برش گڑا ہوا تھا۔ کبھی میں اسی طرح خوشبو دان اٹھایا کرتا تھا۔ اب میں کوئی اور ہوں، مگر وہی ہوں۔ ایک نوکر۔ ایک نوکر کی نوکرانی۔
ٹاور کے تاریک اور گنبد نما کمرے میں، بک مولیگن کا زرد چغہ چولہے کے گرد تیزی سے حرکت کر رہا تھا، کبھی اس کی چمک چھپ جاتی اور کبھی ظاہر ہوتی۔ سورج کی روشنی کی دو لہریں فرش پر آپس میں ٹکرائیں؛ ان کے ملاپ پر کوئلے کے دھوئیں اور تلے ہوئے کھانے کی خوشبو کے بادل تیر رہے تھے۔
“ہمارا دم گھٹ جائے گا،” بک مولیگن نے کہا۔ “ہینز، پلیز وہ دروازہ کھول دیں!”
اسٹیفن نے شیو کا پیالہ الماری میں رکھ دیا۔ ایک لمبا قد آور شخص اس بستر سے اٹھا جہاں وہ بیٹھا تھا، دروازے کی طرف بڑھا اور اسے کھول دیا۔
“کیا چابی تمہارے پاس ہے؟” ایک آواز آئی۔
“نہیں، ڈیڈلس کے پاس ہے،” بک مولیگن نے جواب دیا۔ “خدایا، میرا دم گھٹ رہا ہے۔”
اس نے آگ سے نظریں ہٹائے بغیر آواز دی:
“کنچ!”
“یہ تالے میں ہے،” اسٹیفن نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔
چابی تالے میں دو بار گھومی اور جب دروازہ کھلا، تو خوشگوار روشنی اور تازہ ہوا اندر آئی۔ ہینز دروازے پر کھڑا باہر دیکھنے لگا۔ اسٹیفن نے اپنا بیگ کھینچ کر میز کے پاس رکھا اور بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ بک مولیگن نے ناشتے کی تلی ہوئی چیزیں ساتھ والی ٹرے میں ڈالیں۔ پھر وہ ٹرے اور ایک بڑی چائے دانی میز پر لایا، انہیں شور کے ساتھ رکھا اور سکون کا سانس لیا۔
“میں پگھل رہا ہوں،” اس نے کہا، “جیسے موم بتی نے کہا تھا جب۔۔۔ لیکن خاموش۔ اس موضوع پر مزید بات نہیں۔ کنچ، جاگو۔ روٹی، مکھن، شہد۔ ہینز، آئیے۔ کھانا تیار ہے۔ اے رب، ہمیں اور ان نعمتوں کو برکت دے۔ شکر کہاں ہے؟ اوہ خدایا، دودھ نہیں ہے۔”
اسٹیفن نے الماری سے روٹی، شہد کا جار اور مکھن کا برتن نکالا۔ بک مولیگن اچانک غصے میں بیٹھ گیا۔
“ہم کس جہنمی جگہ پر رہ رہے ہیں؟” اس نے کہا۔ “میں نے اس سے کہا تھا کہ آٹھ بجے کے بعد آئے۔”
“ہم کالی چائے پی سکتے ہیں،” اسٹیفن نے کہا۔ “الماری میں لیموں پڑا ہے۔”
“اوہ، جہنم میں جاؤ تم اور تمہاری پیرس والی عادتیں،” بک مولیگن نے کہا۔ “مجھے سنڈی کوو کا دودھ چاہیے۔”
ہینز دروازے سے آگے بڑھا اور سکون سے بولا:
“دودھ والی آ رہی ہے۔”
“خدا اسے برکت دے،” بک مولیگن نے کرسی سے چھلانگ لگاتے ہوئے پکارا۔ “بیٹھیے۔ یہاں چائے ہے، اسے انڈیلیے۔ شکر اس تھیلی میں ہے۔ میں ان ملعون انڈوں کو مزید نہیں جھیل سکتا۔”
اس نے ناشتے کے تلے ہوئے ٹکڑے تین پلیٹوں میں ڈالے اور کہا: ³⁰
ہینز چائے ڈالنے کے لیے بیٹھ گیا۔
“یہ رہے ہر ایک کے لیے دو ٹکڑے،” اس نے کہا۔ “لیکن مولیگن، آپ چائے بہت کڑوی بناتے ہیں، ہے نا؟”
بک مولیگن نے روٹی کے بڑے ٹکڑے کاٹتے ہوئے ایک بوڑھی عورت جیسی نرم آواز میں کہا:
“اگر میں چائے بناتا ہوں تو چائے بناتا ہوں، جیسا کہ ماں گروگن کہتی ہے۔ اور اگر میں پانی بناتا ہوں تو پانی بناتا ہوں۔”
“بخدا، یہ واقعی چائے ہے،” ہینز نے کہا۔
بک مولیگن روٹی کاٹتا اور باتیں کرتا رہا:
“میں تو ایسا ہی کرتی ہوں مسز کاہل، وہ کہتی ہے۔ توبہ ہے، مسز کاہل جواب دیتی ہے، خدا کرے آپ وہی برتن استعمال نہ کریں۔”
اس نے اپنے چاقو کی نوک سے ہر ایک کو روٹی کا ایک موٹا ٹکڑا تھمایا۔
“یہی وہ لوگ ہیں،” اس نے سنجیدگی دکھاتے ہوئے کہا، “جن کی آپ کو اپنی کتاب کے لیے ضرورت ہے، ہینز۔ متن کی پانچ سطریں اور ان لوگوں اور مچھلی نما دیوتاؤں پر دس صفحات کے حواشی۔”
وہ اسٹیفن کی طرف مڑا اور ابرو اچکا کر باریک آواز میں پوچھا:
“کیا تمہیں یاد ہے بھائی، کہ یہ مابینوگیون میں لکھا ہے یا اپنشدوں میں، کہ ماں گروگن کی چائے اور پانی کا ذکر کہاں ہے؟” ³¹
“مجھے شک ہے،” اسٹیفن نے سنجیدگی سے کہا۔
“اس کا کیا مطلب ہے؟” بک مولیگن نے اسی لہجے میں پوچھا۔ “کیوں، بھلا؟”
“میرا خیال ہے،” اسٹیفن نے کھاتے ہوئے کہا، “کہ وہ مابینوگیون کے اندر یا باہر کہیں نہیں ہے۔ ماں گروگن، غالباً میری این کی رشتہ دار تھی۔” ³²
بک مولیگن کا چہرہ اطمینان سے کھل اٹھا۔
“بہت خوب،” اس نے ایک عالمانہ اور میٹھی آواز میں کہا، اپنے سفید دانت دکھاتے ہوئے اور آنکھ مارتے ہوئے۔ “واقعی؟ بہت خوب۔”
پھر اچانک اس نے اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کی اور روٹی کاٹتے ہوئے کرخت آواز میں گرجنے لگا:
درحقیقت وہ بوڑھی ماریانہ
بالکل نہیں گھبراتی۔
مگر اپنی گھگری اٹھا کر۔۔۔
اپنا منہ تلی ہوئی چیزوں سے بھر کر وہ بڑبڑانے لگا۔
دروازے پر ایک سایہ لہرایا۔
“دودھ، جناب۔”
“آئیے، میری محترمہ،” مولیگن نے کہا۔ “کنچ، جگ لاؤ۔”
ایک بوڑھی عورت آگے بڑھی اور اسٹیفن کے پہلو میں کھڑی ہو گئی۔
“کتنا خوبصورت دن ہے، جناب،” اس نے کہا۔ “خدا کا شکر ہے۔”
“کس کا؟” مولیگن نے اسے تاڑتے ہوئے کہا۔ “آہ، میں سمجھا نہیں۔”
اسٹیفن نے الماری سے دودھ کا جگ نکالا۔
“یہ جزیرے والے،” مولیگن نے ہینز سے کہا، “اکثر عجیب باتیں کرتے ہیں۔”
“کتنا، جناب؟” بوڑھی عورت نے پوچھا۔
“ایک کواٹ”، اسٹیفن نے کہا۔ ³³
اس نے اسے پیمانے میں اور پھر جگ میں وہ گاڑھا اور سفید دودھ ڈالتے ہوئے دیکھا، جو اس کا اپنا نہیں تھا۔ خشک شدہ بوڑھی چھاتیاں۔ اس نے دوبارہ ایک پورا پیمانہ بھرا اور پھر تھوڑا اور۔ وہ بوڑھی عورت صبح کی دنیا سے نمودار ہوئی تھی، شاید کوئی پیغام رساں۔ وہ دودھ ڈالتے ہوئے اس کی اچھائی کی تعریف کر رہی تھی۔ صبح کے وقت کسی کھیت میں گائے کے پاس جھکی ہوئی، ایک جادوگرنی جیسی، جس کی جھرریوں والی انگلیاں تھنوں سے دودھ نکال رہی تھیں۔ گائیں اسے پہچان کر اس کے گرد آوازیں نکال رہی تھیں۔ “گایوں کا ریشم” اور “بیچاری بوڑھی عورت”، وہ نام جو اسے گزرے ہوئے دنوں میں دیے گئے تھے۔ ایک آوارہ گرد بڑھیا، کسی لافانی ہستی کی ادنیٰ شکل جو فاتح کی خدمت میں لگی تھی، ایک پیغام رساں۔ خدمت کرنا یا ملامت کرنا، وہ کیا چاہتی تھی، اسٹیفن نہیں جانتا تھا: مگر وہ اس کی مہربانی کی بھیک مانگنے کو حقیر سمجھتا تھا۔
“بالکل ایسا ہی ہے،” بک مولیگن نے ان کے پیالوں میں دودھ ڈالتے ہوئے کہا۔
“اسے چکھیں، جناب،” اس نے کہا۔
اس نے اس کے کہنے پر دودھ پیا۔
“کاش ہم صرف اسی طرح کے اچھے کھانے پر زندہ رہ سکتے،” اس نے اسے ذرا اونچی آواز میں کہا، “تو ہمارے ملک میں گندے دانتوں اور گندی آنتوں والے لوگ نہ ہوتے۔ دلدل میں رہنا، گھٹیا کھانا کھانا اور گلیوں میں گندگی اور تھوک کا ہونا۔”
“کیا آپ میڈیکل کے طالب علم ہیں، جناب؟” بوڑھی عورت نے پوچھا۔
“جی ہاں، محترمہ،” بک مولیگن نے جواب دیا۔
اسٹیفن حقارت آمیز خاموشی میں سب سن رہا تھا۔ وہ بوڑھی عورت ایک ایسی آواز کے سامنے سر جھکائے ہوئے تھی جو اسے حکم دے رہی تھی، ایک جادوگر: وہ مجھے حقیر سمجھتی ہے۔ اس آواز کے لیے جو اسے قبر کے لیے تیار کرے گی، اس کے سوا جو اس کا گوشت ہے، جو خدا کی شبیہ پر نہیں بنا بلکہ سانپ کا شکار ہے۔ اور اس اونچی آواز کے لیے جو اسے خاموش رہنے کا حکم دے رہی ہے۔
“کیا آپ سمجھ رہی ہیں وہ کیا کہہ رہا ہے؟” اسٹیفن نے اس سے پوچھا۔
“شاید آپ فرانسیسی بول رہے ہیں، جناب؟” بوڑھی عورت نے ہینز سے پوچھا۔
ہینز نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس سے طویل گفتگو کی۔
“آئرش،” بک مولیگن نے کہا۔ “کیا آپ تھوڑی بہت گیلک بولتی ہیں؟”
“مجھے آواز سے تو آئرش ہی لگی،” اس نے کہا۔ “کیا آپ مغرب سے آئے ہیں، جناب؟”
“میں انگریز ہوں،” ہینز نے جواب دیا۔
“یہ انگریز ہے،” بک مولیگن نے کہا، “اور اس کے خیال میں آئرلینڈ میں ہمیں آئرش بولنی چاہیے۔”
“میرا بھی یہی خیال ہے،” بوڑھی عورت نے کہا، “اور مجھے خود شرم آتی ہے کہ میں وہ زبان نہیں جانتی۔ مجھے جاننے والوں نے بتایا ہے کہ یہ ایک عظیم زبان ہے۔”
“عظیم کہنا کافی نہیں،” بک مولیگن نے کہا۔ “انتہائی حیرت انگیز۔ کنچ، تھوڑی اور چائے ڈالو۔ کیا آپ ایک پیالی لیں گی، محترمہ؟”
“نہیں شکریہ، جناب،” بوڑھی عورت نے جواب دیا اور اپنا برتن اٹھا کر جانے کے لیے تیار ہو گئی۔
ہینز نے اس سے کہا:
“کیا آپ کے پاس بل ہے؟ بہتر ہے ہم آپ کو ادائیگی کر دیں، مولیگن، ہے نا؟”
اسٹیفن نے دوبارہ تینوں پیالے بھر دیے۔
“بل، جناب؟” اس نے رکتے ہوئے کہا۔ “تو، سات صبح کے دو پینس کے حساب سے ایک شلنگ اور دو پینس ہوئے، اور ان تین صبح کے چار پینس کے حساب سے تین کواٹ کے ایک شلنگ ہوئے، تو کل ملا کر دو شلنگ اور دو پینس ہوئے، جناب۔”
بک مولیگن نے آہ بھری اور اپنا منہ روٹی کے ایک بڑے ٹکڑے سے بھرنے کے بعد، اپنی ٹانگیں پھیلائیں اور پتلون کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔
“مہربانی فرما کر بل ادا کر دیں،” ہینز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اسٹیفن نے تیسرا پیالہ بھرا، چائے کا ایک چمچ اس گاڑھے دودھ کو ہلکا سا رنگ دے رہا تھا۔ بک مولیگن نے ایک سکہ نکالا، اسے انگلیوں میں گھمایا اور کہا:
“معجزہ!”
اس نے وہ سکہ میز پر بوڑھی عورت کی طرف بڑھایا اور کہا:
“مجھ سے مزید نہ مانگنا، میری پیاری۔ جو کچھ میں دے سکتا ہوں، وہ میں نے دے دیا۔”
اسٹیفن نے وہ سکہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“ہمارے ذمے اب بھی دو پینس باقی ہیں،” اس نے کہا۔

Read More
