پاش کی شاعری

سبھ توں کھترناک (سب سے خطرناک ) انڈین پنجاب کے سابق نکسل باڑی پنجابی شاعر اوتار سنگھ سدھو جو پاش کے نام سے مشہور ہیں کے شاعری کے آخری مجموعے “کھلرے ہوئے ورکے ” ( بکھرے ہوئے کاغذ ) میں چھٹی نظم ہے۔ یہ نظم بہت مشہور ہوئی ۔ پاش کی شاعری کا آخری مجموعہ 1989ء میں ان کے قتل کے ایک سال بعد شایع ہوا ۔ اس مجموعے میں ان کی شاعری کا مزاج اور اسلوب ان کے اس سے پہلے شایع ہونے والے شاعری کے مجموعے ” ساڈھے سمیاں وچ ” ( ہمارے وقتوں میں ) سے بہت ملتا ہے جو 1978ء میں شایع ہوا تھا اور یہ مزاج اور اسلوب ان کے پہلے شعری مجموعے ” لوہ کتھا ” ( لوہے کی کہانی ) جو 1970ء میں اس وقت شایع ہوئی جب پاش کی عمر 18 سال تھی اور اس کے فوری بعد ان پر قتل کا الزام لگا اور وہ جیل چلے گئے ۔ اور دو سال بعد رہا ہوئے تو انھوں نے ماؤسٹ فرنٹ میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جیل اور جیل سے رہائی کے چار سالوں کے دوران انھوں نے جو شعر کہے ان کا مجموعہ ” اُڈ دے بازاں مگر ” ( اڑتے ہوئے بازوں کا تعاقب ) شایع ہوا ۔ اس میں بھی ان کا شعری مزاج بہت کھردرا ، ترش ، بغاوت سے بھرا ہوا اور سب کچھ مٹا دینے جیسا ہے۔ شدید تلخی اور کڑواہٹ اس میں نظر آتی ہے۔ یہ مجموعہ 1973ء میں شایع ہوا جب ان کی عمر 22 سال تھی ۔ لیکن اگلے دو شعری مجموعوں میں ان کے اشعار میں فکر اور احساس کی شدت دونوں موجود نظر آتی ہیں اور اس زمانے میں وہ “تشدد کے بے محابا استعمال ” اور انڈین پنجاب میں سکھ بنیاد پرستی پر مبنی خالصتان کی عسکریت پسند اور دہشت گردی کی تحریک اور اس رجحان میں اضافے کے خلاف سینہ سپر نطر آتے ہیں ۔ وہ سماج میں ریاستی جبر اوردوسری جانب سکھ بنیاد پرستوں کے بڑھتے ہوئے تشدد دونوں پر سماج کے عام آدمی کی خاموشی اور بےگانگی پر صدائے احتجاج بلند کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی خالصتانی عسکریت پسندوں کی مخالفت بہت خطرناک تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 23 مارچ 1988ء کو وہ جالندھر میں اپنے آبائی گاؤں تلونڈی سالم سے دہلی جانے کے لیے روانہ ہونے والے تھے جہاں جاکر انھیں اپنے امریکی ویزے کا احیاء کرنا تھا جب خالصتان تحریک کے اکالی دل کے عسکریت پسندوں نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا ۔ وہ اپنے دوست ہنس راج کے ساتھ قتل ہوگئے ۔
پاش کی شاعری انڈین پنجاب اور پاکستانی پنجاب میں 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی ۔ پاش کی شاعری کے اردو، ہندی، ملیالم ، تیلگو، مراٹھی، بنگالی ، کنڑ ، انگریزی ، سپنیش، نیپالی اور دیگر کئی زبانوں میں تراجم ہوئے ۔ 2005ء میں ہندی کی 11ویں جماعت کی نصابی کتاب میں ان کی سب سے مشہور نظم “سبھ توں کھترناک ہندا اے ساڈھے سفنیاں دا مر جانا ” کا ہندی ترجمہ شامل کیا گیا ۔

سب سے خطرناک ۔۔۔۔
یہ نظم دراصل ایک گہری سماجی، سیاسی اور وجودی بصیرت کی حامل ہے جو “خطرے” کے عام فہم تصور کو الٹ دیتی ہے۔ شاعر ابتدا ہی میں ان مظاہر کی نفی کرتا ہے جنہیں ہم عموماً سب سے بڑا ظلم یا خطرہ سمجھتے ہیں—محنت کی لوٹ، ریاستی جبر، پولیس کی مار، یا غداری اور لالچ۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ چیزیں اہم نہیں، بلکہ یہ کہ ان کی سنگینی کے باوجود ایک اور زیادہ مہلک، زیادہ پوشیدہ اور زیادہ تباہ کن خطرہ موجود ہے، جو انسان کے اندر جنم لیتا ہے۔ یوں نظم ہمیں خارجی جبر سے اٹھا کر داخلی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
شاعر کے نزدیک اصل خطرہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی حساسیت، اپنی تڑپ اور اپنے ردِعمل کی قوت کھو دیتا ہے۔ جب ظلم کے خلاف بے چینی ختم ہو جائے، جب انسان معمول کی زندگی—گھر سے کام اور کام سے گھر—کے دائرے میں قید ہو کر ہر ناانصافی کو خاموشی سے قبول کرنے لگے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی تباہی شروع ہوتی ہے۔ یہاں شاعر مارکس کے تصورِ بیگانگی (alienation) کی یاد دلاتا ہے، جہاں انسان اپنی محنت، اپنے خواب اور اپنی ذات سے کٹ کر محض ایک میکانکی وجود بن جاتا ہے۔ اس بیگانگی میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر کے احتجاج اور تخلیقی توانائی کو کھو دیتا ہے۔
نظم میں “آنکھ” اور “گھڑی” کی علامتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ آنکھ جو سب کچھ دیکھتی ہے مگر ٹھنڈی اور بے حس رہتی ہے، دراصل اس سماجی شعور کی نمائندہ ہے جو دیکھنے کے باوجود ردِعمل نہیں دیتا۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے ژاں پال سارتر “اخلاقی بے حسی” کے طور پر بیان کرتا ہے—جہاں انسان اپنی آزادی اور ذمہ داری سے فرار اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح وہ گھڑی جو چلتی ہوئی بھی رکی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اس جمود کی علامت ہے جہاں وقت تو گزرتا رہتا ہے مگر تاریخ آگے نہیں بڑھتی، کیونکہ انسان اپنی حالت بدلنے کی خواہش کھو چکا ہوتا ہے۔
چاند، گیت اور رات کی علامتیں بھی اسی معنوی کڑی کو آگے بڑھاتی ہیں۔ وہ چاند جو قتل کے بعد طلوع ہوتا ہے مگر آنکھوں کو نہیں جلاتا، دراصل اس معمول بن چکے ظلم کی تصویر ہے جس سے ہم مانوس ہو چکے ہیں۔ وہ گیت جو چیخ کو روند کر آتا ہے، اس ثقافتی بیانیے کی علامت ہے جو جبر کو چھپا کر اسے ایک معمول یا حتیٰ کہ خوبصورتی میں بدل دیتا ہے۔ اور وہ رات جس میں الو اور گیدڑ بولتے ہیں، ایک ایسے سماج کی عکاسی کرتی ہے جہاں اندھیرا صرف باہر نہیں بلکہ انسان کے اندر بھی اتر چکا ہے۔
نظم کے آخری حصے میں “سمت” اور “روح کے سورج” کا استعارہ اس پورے فکری دھارے کو سمیٹ لیتا ہے۔ جب روح کا سورج ڈوب جائے، یعنی امید، شعور اور مزاحمت کی روشنی ختم ہو جائے، تو انسان کا وجود ایک مردہ روشنی کے سائے میں قید ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے بڑا خطرہ جنم لیتا ہے—خوابوں کا مر جانا۔ کیونکہ خواب ہی وہ قوت ہیں جو انسان کو جبر کے خلاف کھڑا کرتی ہیں، اسے تبدیلی کا امکان دکھاتی ہیں اور اسے تاریخ کا فعال کردار بناتی ہیں۔
سبھ توں خطرناک پاش کی نظم ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اصل خطرہ صرف بیرونی جبر نہیں بلکہ اس جبر کے سامنے ہماری داخلی شکست ہے۔ جب ہم سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جب ہم محسوس کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جب ہم اپنے خوابوں کو دفن کر دیتے ہیں، تب ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں جہاں ظلم نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ معمول بن جاتا ہے۔ شاعر کا پیغام واضح ہے: سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس ظلم کو محسوس کرنا، اس کے خلاف تڑپنا، اور اسے بدلنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

سبھ توں کھترناک – اوتار سنگھ سندھو پاش
( کتاب کھلرے ہوئے ورقے )
کِرت دی لُٹ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
پُلس دی کُٹ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
غداری-لُوبھ دی مُٹھ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
بیٹھے سُتیاں پھڑے جانا — برا تاں اے
ڈرُو جیہی چُپ وچ مڑھے جانا — برا تاں اے
سبھ توں کھترناک نئیں ہُندا
کپٹ دے شور وچ
سہی ہُندیاں وی دب جانا، برا تاں اے
کسے جگنوں دی لو وچ پڑھّن لگ جانا — برا تاں اے
سبھ توں کھترناک نئیں ہُندا
سبھ توں کھترناک ہُندا اے
مُردہ شانتی نال بھر جانا،
نا ہونا تڑپ دا، سبھ سہن کر جانا
گھراں توں نکلنا کَم تے
تے کَم توں گھر جانا،
سبھ توں کھترناک ہُندا اے
ساڈے سپنیاں دا مر جانا
سبھ توں کھترناک اوہ گھڑی ہُندی اے
تہاڈے گُٹّ تے چلدی ہوئی وی جو
تہاڈی نظر دے لئی کھڑی ہُندی اے
سبھ توں کھترناک اوہ اکھ ہُندی اے
جو سبھ دیکھدی ہوئی وی ٹھنڈی یخ ہُندی اے
جس دی نظر دنیا نوں محبت نال چُمنّا بھُل جاندی اے
جو چیزاں وچوں اُٹھدی انہیپّن دی بھاپ اُتے ڈُلھ جاندی اے
جو نِت دِسدے دی سادھارن تا نوں پیندی ہوئی
اک منتک ہیّن دُہراؤ دے گدھی-گیڑ وچ ہی رُل جاندی اے
سبھ توں کھترناک اوہ چن ہُندا اے
جو ہر قتل کانڈ دے بعد
سُنّ ہوئے وہیڑیاں وچ چڑھدا اے
پر تہاڈیاں اکھاں نوں مرچاں وانگ نئیں لڑدا اے
سبھ توں کھترناک اوہ گیت ہُندا اے
تہاڈے کناں تک پہنچن لئی
جیہڑا کیرنا اُلنگھدا اے
ڈرے ہوئے لوکاں دے بار موہڑے —
جو ویلی دی کھنگ کھنگدا اے
سبھ توں کھترناک اوہ رات ہُندی اے
جو پیندی اے جیؤں دی روح دیاں آکاشاں تے
جیہدے وچ صرف اُلّو بولدے، گِدڑ ہونکدے
چپٹ جاندے سدِیوی نیر بند بوہیاں چُگاٹھاں تے
سبھ توں کھترناک اوہ دِشا ہُندی اے
جیہدے وچ آتما دا سورج ڈُب جاوے
تے اُس دی مری ہوئی دُھپ دی کوئی چھلتر
تہاڈے جسم دے پورب وچ کھُبھ جاوے
کِرت دی لُٹ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
پُلس دی کُٹ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
غداری-لُوبھ دی مُٹھ سبھ توں کھترناک نئیں ہُندی
_____________________________________________________________________________________________________________________
اردو ترجمہ

سب سے خطرناک
اوتار سنگھ سندھو پاش
محنت کی لوٹ—سب سے خطرناک نہیں ہوتی
پولیس کی مار—سب سے خطرناک نہیں ہوتی
غداری و لالچ کی مٹھی—سب سے خطرناک نہیں ہوتی
یوں بیٹھے سوئے پکڑے جانا—برا تو ہے
ڈر کی سی چپ میں دفن ہو جانا—برا تو ہے
پر یہ سب سے خطرناک نہیں ہوتا
فریب کے شور میں
حق ہوتے ہوئے بھی دب جانا—برا تو ہے
کسی جگنو کی لو میں پڑھنے لگ جانا—برا تو ہے
پر یہ سب سے خطرناک نہیں ہوتا
سب سے خطرناک تو یہ ہے
کہ مردہ سکون میں ڈھل جاؤ
نہ کوئی تڑپ رہے، سب کچھ سہہ جاؤ
گھر سے نکل کر کام پہ جانا
اور کام سے لوٹ کے گھر آنا
سب سے خطرناک تو یہ ہے
کہ ہمارے خواب مر جائیں
سب سے خطرناک وہ گھڑی ہے
جو تمہاری کلائی پہ چلتی ہوئی بھی
تمہاری نگاہ کے لیے رکی رہتی ہے
سب سے خطرناک وہ آنکھ ہے
جو سب کچھ دیکھے اور پھر بھی برف ہو جائے
جس کی نظر محبت سے دنیا کو چھونا بھول جائے
جو چیزوں سے اٹھتی اندھے پن کی بھاپ میں بھیگ جائے
جو روزمرہ کی سادگی کو پی کر
بے معنی تکرار کے چکر میں کھو جائے
سب سے خطرناک وہ چاند ہے
جو ہر قتل کے بعد
سنسان صحنوں میں اتر آتا ہے
مگر تمہاری آنکھوں کو مرچ کی طرح نہیں جلاتا
سب سے خطرناک وہ گیت ہے
جو تمہارے کانوں تک پہنچنے کے لیے
چیخ کو روند کر آتا ہے
ڈرے ہوئے لوگوں کے دروازوں پر
جو ظالم کی کھانسی کھانستا ہے
سب سے خطرناک وہ رات ہے
جو زندہ روح کے آسمانوں پر اترتی ہے
جس میں الو بولتے ہیں، گیدڑ غراتے ہیں
اور ازلی اندھیرے دروازوں کی چوکھٹوں سے لپٹ جاتے ہیں
سب سے خطرناک وہ سمت ہے
جس میں روح کا سورج ڈوب جائے
اور اس کی مری ہوئی دھوپ کی کوئی پھانس
تمہارے جسم کے مشرق میں پیوست ہو جائے
محنت کی لوٹ—سب سے خطرناک نہیں ہوتی
پولیس کی مار—سب سے خطرناک نہیں ہوتی
غداری و لالچ کی مٹھی—سب سے خطرناک نہیں ہوتی