پاکستان کی شہری دانش—جس میں صحافی، وکیل، ادیب، شاعر، سیاسی کارکن، اساتذہ، طلبہ، بلاگرز، ڈیجیٹل کانٹینٹ تخلیق کار، مذہبی رہنما، تاجر اور عام دکاندار تک شامل ہیں—اپنے آپ کو عمومی طور پر ظلم و جبر کے خلاف ایک اخلاقی مورچے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ دانش خود کو مظلوم کے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتی ہے، اور اپنے بیانیے میں انصاف، انسانی حقوق اور مزاحمت کو مرکزی اقدار کے طور پر ابھارتی ہے۔ لیکن اس خودتصویری کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ تضاد پوشیدہ ہے جو محض اخلاقی دعووں سے حل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اندر ایک ساختیاتی انتخاب اور شعوری ترجیح کارفرما ہوتی ہے۔
ہم نے بارہا دیکھا کہ جب ہندوستان کے زیرِ کنٹرول جموں و کشمیر میں ریاستی جبر کی خبریں آئیں، یا ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات سامنے آئے، یا فلسطین میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی المیوں کو جنم دیا، یا برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا—تو پاکستان کی شہری دانش کی بھاری اکثریت نے نہ صرف زبانی ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ سڑکوں، سیمیناروں، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھرپور یک جہتی کا مظاہرہ بھی کیا۔ یہ یک جہتی محض سیاسی ردِعمل نہیں تھی، بلکہ ایک جذباتی شناخت کا اظہار بھی تھی—ایک ایسی شناخت جو مظلوم مسلمان آبادیوں کے ساتھ خود کو جوڑ کر اپنے اخلاقی وجود کو معنی دیتی ہے۔
اسی طرح جب ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مناظر سامنے آئے، تو یہی شہری دانش شدید غصّے، غم اور برہمی کے ساتھ متحرک ہوئی۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر دوسری پوسٹ ایران کے ساتھ اظہارِ یک جہتی، بمباری میں مرنے والے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے لیے نوحہ، اور عالمی طاقتوں کے خلاف مذمت سے بھری ہوئی نظر آئی۔ گویا یہ دانش عالمی سطح پر ہونے والے ظلم کے خلاف ایک حساس، بیدار اور متحرک ضمیر کی نمائندگی کرتی ہے—ایک ایسا ضمیر جو خود کو انسانی دکھ کے ساتھ وابستہ کر کے اپنی اخلاقی برتری کو بھی تشکیل دیتا ہے۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے:
کیا یہ حساسیت اور یک جہتی ایک آفاقی اخلاقی اصول ہے، یا یہ بھی کسی منتخب شعور
(selective consciousness)
کا اظہار ہے؟
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی شہری دانش کا بیانیہ ایک گہرے شگاف سے دوچار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب نگاہیں عالمی مظلومیت کے مناظر سے ہٹ کر اپنے ہی جغرافیے—بلوچستان—کی طرف اٹھتی ہیں، تو وہی دانش، جو دور دراز خطوں کے دکھ پر بے چین ہو جاتی ہے، یہاں ایک غیر معمولی سکوت، ایک محتاط فاصلہ، یا ایک مبہم بے حسی کا شکار نظر آتی ہے۔ یہ خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسا انتخاب ہے، جو شعور کی ساخت میں پیوست ہوتا ہے۔
بلوچستان میں بلوچ قوم کے ساتھ جاری جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، فوجی آپریشنز اور مسلسل عسکری نگرانی—یہ سب ایسے حقائق ہیں جو کسی بھی زندہ ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔ لیکن پاکستان کی شہری دانش ان مظالم پر نہ تو اسی شدت سے متحرک ہوتی ہے، نہ اسی تسلسل سے آواز بلند کرتی ہے، اور نہ ہی اس طرح کے اجتماعی اظہار کا مظاہرہ کرتی ہے جیسا کہ وہ پاکستان کی سرحدوں سے باہر مسلمان اقوام کے لیے کرتی آئی ہے۔
یہ فرق محض ردِعمل کا نہیں—یہ فرق اخلاقی شدت کے پیمانے کا ہے۔ گویا مظلومیت کی بھی ایک درجہ بندی موجود ہے: کچھ دکھ ایسے ہیں جو فوری ردِعمل کو جنم دیتے ہیں، اور کچھ ایسے جو سوال بننے سے پہلے ہی خاموشی کی تہہ میں دفن کر دیے جاتے ہیں۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ شہری دانش بلوچستان پر خاموش کیوں ہے—بلکہ یہ ہے کہ یہ خاموشی کس چیز کی حفاظت کر رہی ہے؟ اور کس قیمت پر؟
یہ خاموشی اس وقت اور زیادہ بھاری، اور زیادہ ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے جب ہم ٹھوس حقائق کی طرف دیکھتے ہیں۔ صرف سال 2025ء کے دوران پاکستان کی ریاست کے سیکورٹی و انٹیلی جنس اپریٹس پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ تقریباً 1200 بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا—ایسے انسان جو کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جن کے خلاف کوئی شفاف قانونی عمل اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ وہ محض ایک غیر مرئی قید میں جذب ہو گئے، جہاں سے واپسی کی کوئی ضمانت نہیں۔
اسی سال ضلع خضدار کے علاقے زہری میں ڈرون حملے اور جیٹ طیاروں کی بمباری نے نہ صرف پہاڑوں بلکہ انسانی بستیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ ان حملوں میں عورتیں، بچے اور نہتے شہری مارے گئے—وہ لوگ جو کسی جنگ کے فریق نہیں تھے، مگر جنگ کا ایندھن بنا دیے گئے۔ کئی علاقوں میں بلوچ آبادی کو ان کی مرضی کے بغیر بے دخل کیا گیا، گویا زمین بھی اب ان کے لیے اجنبی ہو چکی ہو، اور جغرافیہ خود ان کے خلاف گواہی دینے لگا ہو۔
اعداد و شمار مزید بھیانک ہو جاتے ہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ 1700 سے زائد بلوچ شہریوں کو “دہشت گرد” قرار دے کر ہلاک کیا گیا۔ مگر ان ہلاکتوں کے ساتھ ایک اور کہانی جڑی ہوئی ہے—وہ کہانی جو مقتولین کے خاندان سناتے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے کئی افراد پہلے ہی سیکورٹی فورسز کی تحویل میں تھے، اور بعد میں انہیں جعلی مقابلوں میں مار کر “ان کاؤنٹر” کا نام دے دیا گیا۔ کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے نوجوان حمدان بلوچ کا کیس اس تضاد کی ایک واضح مثال ہے، جہاں پولیس نے خود عدالت کے سامنے اس کی تحویل کا اعتراف کیا—مگر اس کے باوجود اس کی موت کو ایک مبہم بیانیے میں دفن کر دیا گیا۔
سب سے زیادہ لرزہ خیز بات یہ نہیں کہ یہ سب کچھ ہوا—بلکہ یہ ہے کہ اس سب کے باوجود آج تک کسی ایک بھی ایسے “ان کاؤنٹر” کی شفاف جوڈیشل انکوائری نہیں ہو سکی۔ مقتولین کے ورثاء بار بار انصاف کا مطالبہ کرتے رہے، مگر ان کی آواز یا تو سنی نہیں گئی، یا اسے اتنی دھیمی سطح پر سنا گیا کہ وہ انصاف کے دروازے تک پہنچ ہی نہ سکی۔
یہاں سوال صرف ریاستی جبر کا نہیں—بلکہ اس جبر کے گرد قائم ہونے والی اجتماعی خاموشی کا ہے۔ وہ خاموشی جو ان اعداد و شمار کو محض اعداد بننے دیتی ہے، اور انسانوں کو محض خبریں۔
یہ جبر صرف گمشدگیوں اور ہلاکتوں تک محدود نہیں رہتا—یہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بھی گھیر لیتا ہے، اسے سانس لینے سے روکتا ہے، اور پھر خاموشی کو قانون بنا دیتا ہے۔ جبری گمشدہ اور مبینہ جعلی مقابلوں میں مارے جانے والے بلوچ شہریوں کے اہلِ خانہ—وہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بزرگ—جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، انہیں نہ احتجاج کا حق دیا جاتا ہے، نہ پریس کلبوں کے دروازے ان کے لیے کھلتے ہیں۔ گویا ان کے دکھ کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ اسے عوامی اظہار کے دائرے سے بھی خارج کر دیا جاتا ہے۔
بلوچستان میں اور یہاں تک کہ سندھ کے شہر کراچی میں بھی، جو آواز اس جبر کے خلاف اٹھتی ہے، وہ فوری طور پر ریاستی قانونی جبر کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ احتجاج، سوشل میڈیا پر اظہار، یا جلسے جلوس—یہ سب وہ اعمال بن جاتے ہیں جن کے جواب میں درجنوں نہیں بلکہ لاتعداد مقدمات درج کیے جاتے ہیں، ایسے مقدمات جن کی تعداد خود ایک سوال بن جاتی ہے۔ یہ محض قانون کا اطلاق نہیں بلکہ قانون کا ایک ایسا استعمال ہے جو خود لا قانونیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
جو بلوچ رہنما، سیاسی کارکن، اور سماجی تنظیمیں اپنے آئینی اور بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے منظم جدوجہد کرتی ہیں، ان پر انسداد دہشت گردی کے قوانین، بغاوت کے الزامات، اور سنگین تعزیری دفعات کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ ان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان کی نقل و حرکت، ان کی شناخت، اور ان کی سیاسی حیثیت کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے—گویا اپنے ہی ملک میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ایک جرم ہو۔
اس جبر کی ایک علامتی مگر لرزہ خیز مثال بلوچ یک جہتی کمیٹی کی قیادت سے وابستہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھ گرفتار دیگر افراد ہیں—جن میں عورتیں، ایک بزرگ سرپرست، اور ایک معذور نوجوان بھی شامل ہیں—جو گزشتہ ایک سال سے نظر بند ہیں۔ ان پر دہشت گردی اور بغاوت جیسے الزامات کے تحت درجنوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ مگر ان الزامات سے بھی زیادہ سنگین وہ خاموش تشدد ہے جو جیل کی دیواروں کے اندر جاری رہتا ہے: ذہنی اذیت، جسمانی تکلیف، اور قیدِ تنہائی—ایسا تشدد جو صرف جسم کو نہیں بلکہ انسان کی شناخت، اس کی آواز، اور اس کے وجود کو توڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہاں فرانزفینن کی وہ بات شدت سے یاد آتی ہے کہ نوآبادیاتی یا نیم نوآبادیاتی طاقت صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتی—وہ انسان کے وجود کو بھی مسخ کرتی ہے، اسے اس کے اپنے وجود سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اور گیاتری چکرورتی اسپیوک کا سوال—“کیا سب آلٹرن بول سکتا ہے؟”—یہاں ایک تلخ حقیقت بن جاتا ہے: بلوچ بولتے ہیں، مگر ان کی آواز کو یا تو جرم بنا دیا جاتا ہے، یا اسے اس حد تک دبایا جاتا ہے کہ وہ سنائی ہی نہ دے۔
یہ خاموشی محض سماجی رویہ نہیں رہتی—یہ ایک منظم بیانیے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کی تشکیل میں ریاستی طاقت اور اس کے موافق دانش دونوں شریک ہوتے ہیں۔ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بلوچستان کی صورتِ حال کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے، یا اسے ایک ایسے سانچے میں پیش کرتا ہے جو پہلے سے طے شدہ ہو۔ یہ “سنسرشپ” محض معلومات کو روکنے کا عمل نہیں بلکہ حقیقت کی تشکیلِ نو ہے—ایک ایسی تشکیلِ نو جس میں دکھ کو چھانٹ لیا جاتا ہے، اور جبر کو بیانیے کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا—جسے بظاہر ایک آزاد اور غیرمرکزی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے—وہ بھی اس خاموشی کو توڑنے کے بجائے اکثر اسے مزید مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔ پاکستان کی شہری دانش کی بڑی اکثریت یہاں صرف خاموش نہیں رہتی بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر بلوچستان میں جاری جبر و استبداد کو ایک مخصوص فریم میں دیکھنے لگتی ہے: ایسا فریم جس میں ہر احتجاج، ہر سیاسی جدوجہد، اور ہر مزاحمتی آواز کو بلوچستان لبریشن آرمی یا تحریک طالبان پاکستان جیسے عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں بیانیہ اپنی سب سے خطرناک شکل اختیار کرتا ہے—کیونکہ یہاں صرف خاموشی نہیں بلکہ جواز پیدا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ پرامن سیاسی تنظیمیں—بلوچ یک جہتی کمیٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)—اور ان کی قیادت، جو آئینی و جمہوری دائرے میں رہ کر حقوق کی بات کرتی ہے، انہیں بھی اسی زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں مسلح اور کالعدم گروہوں کو رکھا جاتا ہے۔ یوں ایک پوری سیاسی مزاحمت کو “سیکیورٹی مسئلہ” بنا کر اس کی اخلاقی حیثیت کو مشکوک کر دیا جاتا ہے۔
یہی وہ
“discursive power”
ہے جس کی طرف ایڈورڈ سعید نے اشارہ کیا تھا—کہ طاقت صرف بندوق سے نہیں بلکہ بیانیے سے بھی قائم رہتی ہے۔ جب ایک پورے خطے، ایک پوری قوم، اور اس کی ہر آواز کو ایک ہی فریم میں قید کر دیا جائے، تو پھر جبر نہ صرف ممکن ہو جاتا ہے بلکہ قابلِ قبول بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔
اور یہاں شہری دانش کا کردار محض تماشائی کا نہیں رہتا—وہ اس بیانیے کی تصدیق کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔
پ یہ تضاد اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب ہم پاکستان کی شہری دانش کے اس اصولی موقف کو دیکھتے ہیں جو وہ عالمی سطح پر اختیار کرتی ہے۔ مغربی ممالک، امریکہ یا بھارت میں جب بھی کسی اسلامی جہادی تنظیم کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں اور ان کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں، تو یہی شہری دانش نہ صرف ان حملوں کی مذمت کرتی ہے بلکہ اس کے ردعمل میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پھیلنے والی نفرت—جسے اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے—کی بھی بھرپور مخالفت کرتی ہے۔ وہ اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ چند گروہوں کی کارروائیوں کو پوری مسلم آبادی کے خلاف تعصب اور اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
لیکن یہی اصول، یہی اخلاقی استدلال، جب بلوچستان اور بلوچ قوم کے مقدمے پر آتا ہے، تو حیرت انگیز طور پر معطل ہو جاتا ہے۔ یہاں وہی شہری دانش، جو اجتماعی سزا کے تصور کو رد کرتی ہے، خود ایک ایسے بیانیے کو قبول کرتی نظر آتی ہے جس میں مسلح بلوچ تنظیموں کی کارروائیوں کے خلاف ریاستی ردعمل کی آڑ میں بلوچ شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ گویا وہی منطق، جسے عالمی سطح پر مسترد کیا جاتا ہے، مقامی سطح پر قابلِ قبول بنا دی جاتی ہے۔
یہ محض فکری تضاد نہیں—یہ ایک منتخب اخلاقیات
(selective morality)
ہے، جس میں انصاف کا معیار جغرافیے، شناخت اور ریاستی بیانیے کے مطابق بدل جاتا ہے۔ یہاں کارل مارکس کے “غلط شعور” کا تصور شدت سے ابھرتا ہے—جہاں محکوم طبقات خود ان خیالات کو دہراتے ہیں جو دراصل حاکم طاقت کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ ژاں پال سارتر کی وہ بات بھی معنی خیز ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے انتخاب سے پہچانا جاتا ہے—اور خاموشی بھی ایک انتخاب ہے، ایک ایسا انتخاب جو جبر کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی شہری آبادی کا بلوچ مسئلے سے بیگانہ پن، اس کی دوری، اور اس کا غیر ہمدردانہ رویہ محض نظریاتی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ عملی سطح پر ایک گہری بے حسی میں ڈھل جاتا ہے۔ اس بے حسی کی سب سے واضح تصویر سندھ کے دارالحکومت کراچی میں نظر آتی ہے—ایک ایسا شہر جس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر جہاں بلوچ شہریوں نے جب بھی ریاستی جبر کے خلاف احتجاج منظم کیا، وہاں مقامی شہری آبادی کی شرکت چند سو افراد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اور اس سے بھی زیادہ معنی خیز بات یہ ہے کہ اس شہر کی شہری دانش کی طرف سے خود سے کوئی ایسا مظاہرہ منظم کرنے کی مثال تقریباً ناپید ہے۔
یہ خاموشی اب محض خاموشی نہیں رہی—یہ ایک اجتماعی لاتعلقی میں بدل چکی ہے، جہاں ایک پورے خطے کا دکھ، ایک پوری قوم کی چیخ، شہری شعور کے دائرے سے خارج ہو چکی ہے۔
یہ بے حسی اس وقت اور بھی زیادہ ننگی ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم ان مناظر کو یاد کرتے ہیں، جن میں دکھ خود چل کر شہری مراکز کے دروازوں تک آیا—مگر دروازے بند ہی رہے۔ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متاثرہ خاندانوں نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک دو لانگ مارچ منظم کیے—یہ صرف احتجاج نہیں تھے، بلکہ انصاف کی تلاش میں نکلے ہوئے ایسے قافلے تھے جو اپنے ساتھ اپنے پیاروں کی گمشدگی کا بوجھ، اور ریاستی جبر کی کہانی لے کر آئے تھے۔
پہلا لانگ مارچ ماما عبدالقدیر کی قیادت میں ایک طویل پیدل سفر تھا—ایسا سفر جو محض فاصلہ طے کرنے کا نہیں بلکہ ایک اخلاقی فاصلہ کم کرنے کی کوشش بھی تھا۔ مگر اس سفر کے ساتھ پنجاب کے کسی ایک شہر میں بھی درجن بھر سے زیادہ لوگ اظہارِ یک جہتی کے لیے سامنے نہ آ سکے۔ جب یہ قافلہ اسلام آباد اور راولپنڈی—ان جڑواں شہروں—تک پہنچا، تو ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی میں سے پانچ سو افراد بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے نہ نکلے۔ اس کے برعکس ریاستی اداروں نے انہیں خوف، دباؤ اور انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے گھیر لیا۔ انہیں اسلام آباد پریس کلب کے صحن میں کیمپ لگانے کی اجازت نہ دی گئی—گویا ان کی موجودگی کو شہر کے “مرکزی بیانیے” سے دور رکھنا ضروری سمجھا گیا۔
دوسرا لانگ مارچ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں ہوا—ایک بار پھر وہی قافلہ، وہی سوال، وہی دکھ۔ مگر اس بار بھی پنجاب اور اسلام آباد کی فضا میں وہی سردمہری، وہی فاصلہ، وہی خاموشی موجود رہی۔ اسلام آباد میں اس لانگ مارچ کے شرکاء پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، اور ان کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ یوں احتجاج کو سننے کے بجائے اسے منتشر کرنے کو ترجیح دی گئی—اور آواز کو جواب دینے کے بجائے دبانے کی روایت کو دہرایا گیا۔
ان سب کے بیچ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا جب درجن بھر متاثرہ خاندان کئی دن تک اسلام آباد کی سڑکوں کے کنارے، کھلے آسمان تلے، سخت سردی اور بارش میں پڑے رہے۔ انہیں نیشنل پریس کلب کے دروازوں تک رسائی نہ ملی—وہ دروازے جو خود کو اظہارِ رائے کی آزادی کی علامت کہتے ہیں۔ جس مکان میں وہ عارضی طور پر ٹھہرے تھے، اس کے مالک کو دباؤ ڈال کر انہیں نکالنے پر مجبور کیا گیا۔ گویا ان کے لیے نہ زمین تھی، نہ چھت، نہ کوئی محفوظ گوشہ—صرف ایک مسلسل بے دخلی۔
اور اس سب کے دوران شہری سماج کہاں تھا؟
اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں سے سو افراد بھی ان کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے نہ پہنچے۔ اس کے برعکس ایک سرکاری “متوازی کیمپ” قائم کیا گیا، جہاں انہی متاثرہ خاندانوں کو بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا۔ سوشل میڈیا پر انہیں بی ایل اے کے ایجنٹ قرار دیا گیا، اور بلوچ خواتین کارکنوں کے خلاف جنسیت زدہ، گھٹیا کردار کشی کی مہمات چلائی گئیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ تھا کہ ان مہمات کو چلانے والوں کو حکومتی عہدے داروں کی جانب سے پروٹوکول، عزت اور سرپرستی حاصل رہی۔
اور پھر بھی—کوئی اجتماعی احتجاج نہ ہوا۔
نہ پریس نے اس پر شور اٹھایا، نہ شہری دانش نے اسے اپنا مسئلہ سمجھا۔
یہاں فرانز فینن کی وہ بات ایک بار پھر سچ محسوس ہوتی ہے کہ جبر صرف جسموں پر نہیں ہوتا—وہ سماج کے ضمیر کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔ اور اسپیوک کا سوال ایک تلخ حقیقت میں ڈھل جاتا ہے: سب آلٹرن صرف اس لیے نہیں کہ وہ بول نہیں سکتا—بلکہ اس لیے بھی کہ سننے والا سماج سننے سے انکار کر چکا ہوتا ہے۔
یہی خاموشی اور لاتعلقی اس وقت ایک اور بھی زیادہ بھیانک صورت اختیار کر لیتی ہے جب ہم ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں جو اس جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات کرتے ہیں—اور پھر تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں بلوچ متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یک جہتی کرنے اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی مزاری کے خلاف ایک پرانے ٹوئٹ کی بنیاد پر بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے۔ یہ محض قانونی کارروائی نہیں تھی—یہ ایک واضح پیغام تھا کہ جو بھی اس بیانیے کو چیلنج کرے گا، اسے قانون کے ذریعے خاموش کر دیا جائے گا۔
اس مقدمے کے ٹرائل میں انصاف کے بنیادی تقاضے روند دیے گئے—ایسا محسوس ہوا کہ فیصلہ پہلے لکھا جا چکا تھا اور عدالتی کارروائی محض اس کی توثیق کا ذریعہ بن گئی۔ سزا سنائی گئی، مگر نہ ہائیکورٹ سے کوئی مؤثر ریلیف ملا، نہ سپریم کورٹ سے۔ یوں انصاف کا وہ دروازہ، جسے آخری امید سمجھا جاتا ہے، یہاں ایک بند گلی میں بدلتا نظر آیا۔
لیکن اس سارے منظر کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو شاید یہ تھا کہ وکلاء برادری—جس کا پیشہ ہی انصاف کے دفاع سے جڑا ہوا ہے—اس معاملے میں اتحاد اور یک جہتی سے کوسوں دور نظر آئی۔ یہی وہ برادری ہے جو اپنے کسی بھی رکن کے ذاتی تنازع پر بھی فوری طور پر متحد ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں ہنگامہ آرائی تک سے گریز نہیں کرتی۔ مگر ایمان مزاری اور ہادی مزاری کے معاملے میں یہ اجتماعی قوت، یہ پیشہ ورانہ یکجہتی، یکایک تحلیل ہو گئی—گویا یہاں انصاف کا سوال نہیں بلکہ انتخابی خاموشی کا معاملہ تھا۔
یہ طرزِ عمل کسی ایک کیس تک محدود نہیں۔ اس سے پہلے بھی ریاست نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے اراکین کو نشانہ بنایا—ان پر مقدمات قائم کیے گئے، انہیں ہراساں کیا گیا، بعض کو جبری طور پر لاپتہ کر کے وارننگ کے ساتھ چھوڑا گیا۔ ہوٹلوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ انہیں سیمینارز کے لیے ہال فراہم نہ کریں، ضلعی انتظامیہ نے انہیں چار دیواری کے اندر بھی اجلاس کرنے کی اجازت نہ دی۔ گویا انسانی حقوق پر بات کرنا، خود ایک “خطرناک سرگرمی” بنا دیا گیا۔
انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں یہ واضح کیا گیا کہ ریاستی ادارے انہیں بلوچستان، خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر فیکٹ فائنڈنگ، رپورٹنگ، اور حتیٰ کہ محدود پیمانے پر اجلاس کرنے سے بھی روک رہے ہیں۔ یوں حقیقت تک رسائی کو ہی جرم بنا دیا گیا—اور تحقیق کو بغاوت کے مترادف قرار دیا جانے لگا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں تک نہ آزاد پاکستانی میڈیا کی رسائی ممکن ہے، نہ بین الاقوامی صحافت کی، نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں کی۔ یہ صرف جغرافیائی بندش نہیں—یہ سچائی کا محاصرہ ہے، جہاں معلومات کو روک کر حقیقت کو ہی غیر مرئی بنا دیا جاتا ہے۔
یہاں ایڈورڈ سعید کی وہ بات ایک بار پھر معنی خیز ہو جاتی ہے کہ طاقت صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بیانیے اور علم پر کنٹرول کے ذریعے بھی قائم رہتی ہے۔ اور جب علم، تحقیق اور اظہار کو محدود کر دیا جائے، تو جبر صرف جاری نہیں رہتا—وہ ناقابلِ سوال بھی بنا دیا جاتا ہے۔
اس قدر شدید جبر، محاصرے، اظہارِ رائے پر قدغنوں، اور اجتماع کی آزادی پر پابندیوں کے باوجود اگر ایک پورے سماج میں خاموشی غالب رہے—تو یہ خاموشی محض ردِعمل کا فقدان نہیں رہتی، بلکہ ایک اجتماعی رویہ بن جاتی ہے۔ بلوچستان کے تناظر میں یہی اجتماعی خاموشی، یہی بے حسی، یہی بیگانگی پاکستان کے شہری سماج اور اس کی دانش کے ان تمام دعوؤں کو مشکوک بنا دیتی ہے جو وہ جمہوریت، انسانی حقوق، اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے کرتا ہے۔ گویا یہاں مسئلہ صرف جبر کا نہیں—بلکہ اس جبر کے مقابل ایک اخلاقی خلا کا ہے۔
یہ خلا صرف سیاسی یا سماجی سطح تک محدود نہیں، بلکہ ادبی اور فکری میدان میں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے شہری سماج میں ہمیں کوئی ایسی آواز نظر نہیں آتی جو اپنے عہد کے جبر کو اسی شدت، تسلسل اور اخلاقی جرات کے ساتھ بیان کرے جیسا کہ بعض دیگر معاشروں میں ممکن ہوا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر سوال یہ ہے کہ جو ادیب، دانشور، اور “ادبی ستارے” اس معاشرے میں سب سے زیادہ پڑھے اور سنے جاتے ہیں—کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی بلوچ قوم پر گزرنے والے اس مسلسل المیے کو اپنی تخلیقی اور فکری ترجیح بنایا؟
یہ عدم موجودگی محض اتفاق نہیں—یہ ایک ادبی خاموشی ہے، ایک ایسا سکوت جو خود ایک بیانیہ بن جاتا ہے۔ نہ فکشن میں اس دکھ کی بازگشت سنائی دیتی ہے، نہ نان فکشن میں اس کا سنجیدہ تجزیہ۔ نہ تقاریر میں اس کا ذکر، نہ تحریروں میں اس کی گونج۔ گویا بلوچ المیہ اس ادبی شعور کے دائرے سے خارج کر دیا گیا ہو—یا اسے اس قابل ہی نہ سمجھا گیا ہو کہ اسے ایک مرکزی موضوع بنایا جائے۔
یہاں کارل مارکس کے “غلط شعور” کا تصور ایک بار پھر ابھرتا ہے—جہاں ایک سماج اپنے ہی اندر موجود تضادات کو دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے، یا انہیں دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ اور ژاں پال سارتر کی بات ایک اخلاقی فیصلے کی صورت اختیار کر لیتی ہے: کہ خاموش رہنا بھی ایک انتخاب ہے، اور یہ انتخاب خود ایک عمل ہے—ایک ایسا عمل جو جبر کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے ادبی منظرنامے پر ایک بھی ایسا نمایاں نام دکھائی نہیں دیتا جس نے سماجی اور عوامی مزاحمتی تحریکوں—خاص طور پر بلوچستان کے تناظر میں—کو اپنی تخلیقی کائنات کا حصہ بنایا ہو۔ یہ عدم موجودگی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ یہاں ادب نے ابھی تک اس سطح کی اخلاقی جرات اختیار نہیں کی، جہاں وہ طاقت کے بیانیے کو چیلنج کرے، اور مظلوم کی آواز کو مرکز میں لے آئے۔
یوں یہ سوال اب صرف بلوچستان کا نہیں رہا—یہ سوال خود پاکستان کی شہری دانش، اس کے ادب، اور اس کے اجتماعی ضمیر کا بن چکا ہے۔
یہ تضاد محض سیاسی بیانیے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادبی ذوق، فکری ترجیحات اور ثقافتی شعور تک سرایت کر جاتا ہے۔ پاکستان میں پڑھے لکھے شہری قارئین—خواہ وہ انگریزی پڑھنے والے ہوں یا اردو کے—جس جوش، فخر اور فکری وابستگی کے ساتھ عالمی سطح پر جبر کے خلاف لکھے گئے ادب کو پڑھتے اور اس پر گفتگو کرتے ہیں، وہ بذاتِ خود ایک قابلِ قدر عمل ہے۔ جب وہ
Arundhati Roy
جیسl ادیبہ کی تحریریں پڑھ کر ہندتوا، امریکی سامراج، اسرائیلی صہیونیت اور کارپوریٹ سرمایہ داری کی بربریت پر تنقید کرتے ہیں، تو وہ اپنے آپ کو ایک بیدار، عالمی شعور رکھنے والی شہری دانش کا حصہ سمجھتے ہیں۔
لیکن یہی شعور، یہی تنقیدی توانائی، جب اپنے ہی ملک کے اندر—بلوچستان کے تناظر میں—آزمائی جاتی ہے، تو اچانک ماند پڑ جاتی ہے۔ یہاں وہی قارئین، وہی دانشور، نوآبادیاتی طرز حکمرانی، کارپوریٹ سرمایہ داری کے پھیلاؤ، چینی سرمائے کے استحصالی کردار، اور ریاستی جبر و استبداد پر یا تو خاموش ہو جاتے ہیں، یا بعض صورتوں میں اسی بیانیے کی بازگشت بن جاتے ہیں جو طاقت کے مراکز سے تشکیل پاتا ہے۔ گویا تنقید کا دائرہ سرحد پار تک وسیع ہے، مگر اپنے جغرافیے کے اندر سکڑ جاتا ہے۔
یہ خاموشی ادبی میدان میں اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں شمار ہونے والے مستنصر حسین تارڑ
کی مثال سامنے ہے—جنہوں نے تاریخ، جنگ، ہجرت اور مزاحمت جیسے موضوعات پر بھرپور لکھا، قلعہ جنگی جیسے واقعات کو ناول کا حصہ بنایا، تقسیمِ ہند کے المیے کو تخلیقی صورت دی، اور بھگت سنگھ جیسے کردار کو اپنی تحریر میں جگہ دی—اگرچہ اس کی انقلابی فکر کو ایک مخصوص قومی بیانیے میں ڈھال کر۔ مگر اسی تخلیقی توانائی نے آج تک بلوچستان کے جاری المیے کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ یہ عدم انتخاب بذاتِ خود ایک سوال بن جاتا ہے: کون سے دکھ ادب کے قابل سمجھے جاتے ہیں، اور کون سے نہیں؟
پاکستان کے بڑے ادبی جرائد اور اشاعتی ادارے بھی اس خاموشی میں برابر کے شریک دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے عالمی ادب کے تراجم کیے، ہندوستان کی مختلف زبانوں—ہندی، ملیالم، تیلگو، مراٹھی، بنگالی، پنجابی، کنڑ—کے ادبی متون کو اردو قارئین تک پہنچایا، خصوصی شمارے نکالے، ادبی میلوں میں عالمی موضوعات پر مباحثے کیے—مگر بلوچستان کے ادب، خصوصاً بلوچی زبان میں تخلیق ہونے والے مزاحمتی فکشن اور شاعری کو نہ وہ جگہ دی گئی جس کے وہ مستحق تھے، نہ اسے قومی ادبی شعور کا حصہ بنایا گیا۔ حالانکہ بلوچی میں درجنوں ناول اور بے شمار کہانیاں اس جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مسخ شدہ لاشوں کے پس منظر میں تخلیق ہو چکی ہیں—مگر ان کے تراجم تک کو بڑے اشاعتی اداروں نے شائع کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے ادبی میلوں اور عالمی کانفرنسوں میں بھی یہ خلا نمایاں ہے۔ وہاں عالمی ادب، شناخت، مزاحمت اور سیاست پر گفتگو ہوتی ہے، مگر بلوچی مزاحمتی ادب اور شاعری کو شاذ و نادر ہی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ نتیجتاً پاکستان کے شہری معاشرے کی ایک بڑی اکثریت اس ادبی روایت سے واقف ہی نہیں—گویا ایک پورا ادبی کائنات اس کے شعور سے باہر رکھی گئی ہو۔
یہ صورت حال ہمیں ماضی کی ایک تلخ یاد بھی دلاتی ہے—جب پاکستان کے شہری سماج نے بنگالی عوام کے ساتھ بھی ایسی ہی بیگانگی، ایسی ہی بے حسی اور ایسی ہی خاموشی اختیار کی تھی۔ اس وقت کم از کم بائیں بازو کی سیاست اور ادبی تحریکوں کی ایک مضبوط موجودگی نے کچھ نہ کچھ آگاہی پیدا کی تھی، کچھ آوازیں اٹھتی تھیں، کچھ مزاحمت سنائی دیتی تھی۔ مگر آج، جب بائیں بازو کی وہ تحریک زوال پذیر ہو چکی ہے، تو شہری سماج اور بھی زیادہ غیر متعلق، غیر حساس اور کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے—خاص طور پر بلوچ قوم کے تناظر میں۔
یوں اس پورے منظرنامے میں چند گنے چنے صحافی، ادیب اور دانشور ہی ایسے رہ جاتے ہیں جو اس جبر کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں—مگر ان کی رسائی محدود ہے، ان کی آواز کمزور کر دی جاتی ہے، اور ان کے گرد ایک ایسا سناٹا قائم کر دیا جاتا ہے جس میں ان کی گونج دور تک نہیں پہنچ پاتی۔
اور باقی؟
باقی ہر طرف واقعی زیرو بٹا سناٹا ہے—ایک ایسا سناٹا جو خود ایک بیانیہ بن چکا ہے۔
آخر میں سوال بلوچستان کا نہیں رہتا—سوال پاکستان کا ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ کہ یہاں کیا نہیں ہو رہا۔
ایک ریاست جو اپنے شہریوں کے ایک حصے کو مسلسل جبر، محاصرے اور خاموشی کے اندھیروں میں دھکیلتی ہے—وہ یقیناً ایک بحران کا شکار ہے۔ مگر اس سے بڑا بحران وہ سماج ہوتا ہے جو اس سب کو دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے، یا اس کے جواز تلاش کرتا ہے۔ یہ وہی لمحہ ہے جہاں
Karl Marx
کا “غلط شعور” محض ایک نظریہ نہیں رہتا بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن جاتا ہے—جہاں محکوم خود اپنے ہی خلاف قائم بیانیے کو دہراتا ہے، اور اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔
اور پھر ژاں پارل سارتر کی وہ بات ایک فیصلہ بن جاتی ہے: کہ انسان اپنے انتخاب سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ایک پورا شہری سماج بار بار یہ انتخاب کرے کہ وہ ظلم کو نہ دیکھے، نہ سنے، نہ اس کے خلاف کھڑا ہو—تو پھر وہ محض غیر جانبدار نہیں رہتا، بلکہ جبر کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہ خاموشی دراصل ایک شراکت ہے۔
یہ بے حسی دراصل ایک رضامندی ہے۔
یہ بیگانگی دراصل ایک سیاسی موقف ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فرانز فینن کی بات پوری شدت سے سچ لگتی ہے کہ نوآبادیاتی جبر صرف بندوق سے نہیں چلتا—وہ ذہنوں میں گھر کر جاتا ہے، اور محکوم خود اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور اسپیوک کا سوال ایک چیخ میں بدل جاتا ہے: “کیا سب آلٹرن بول سکتا ہے؟”—یا اصل مسئلہ یہ ہے کہ سننے والا سماج سننا ہی نہیں چاہتا؟
بلوچستان آج صرف ایک خطہ نہیں—یہ پاکستان کے شہری سماج کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں وہ اپنی اصل شکل دیکھ سکتا ہے—اگر وہ دیکھنے کی ہمت کرے۔
ورنہ تاریخ کے پاس اپنا طریقہ ہوتا ہے۔
وہ خاموشیوں کو بھی لکھ لیتی ہے۔
وہ بے حسیوں کو بھی محفوظ کر لیتی ہے۔
اور جب حساب کا وقت آتا ہے—تو سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ ظلم کس نے کیا تھا،
بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ
خاموش کون رہا تھا۔