پہلا مضمون
پاکستان کی سرکاری تاریخ ایک متحدہ قوم یعنی مسلمان قوم کی تخلیق کے گرد گھومتی ہے۔ یہ قومی زندگی میں تنوع کا نہ ہونے کے برابر اہمیت دیتی ہے۔ مسلم قوم پرستی پر زور دینے والی سرکاری تاریخ نگاری کے علاوہ کچھ دوسری تاریخی کہانیاں بھی بار بار بیان کی جاتی ہیں ۔ ان میں تاریخ کو ایسے بیان کی جاتا ہے کہ جیسے وہ ہمیں آج کے حالات کو سمجھنے اور ان کی پیشن گوئی کرنے میں مدد فراہم کرتی ہوں ۔
پاکستان بننے کے بعد ابتدائی دور کی ایک مقبول تاریخی روایت مسلم قوم پرستی کی داستان بیان کرتی ہے اور اس کے منطقی تسلسل 1949ء میں دستور ےاز اسمبلی سے منظور ہونے والی “قراردارِ مقاصد ” تک لیجاتی ہے اور اسے اسلامی ریاست کے قیام کی طرف اٹھایا پہلا ٹھوس قدم قرار دیتی ہے اور پھر اس کا نقطہ عروج 1980ء کی دہائی جنرل محمد ضیاء الحق (1977-88) کے دور میں اسلامی اصلاحات اور اسلام پسند سیاست کے فروغ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس سے ہٹ کر ایسی تاریخیں بھی موجود ہیں جو اشرافیہ کی شحضیات کے گرد گھومتی ہیں خواہ وہ سابق صدور ہوں ، وزرائے اعظم ہوں یا فوجی آمر ہوں ۔

یہ سب تاریخیں پاکستان کی حقیقی تاریخیں نہیں ہیں ۔ پاکستان کی ابتدائی تاریخ اصل میں مخۃلف نسلی گروہوں کے قومی حق خود ارادیت کے سوالات کے گرد جاری کشمکش اور تصادم کی تاریخ رہی ہے ۔ یہ کشمکش پاکستان بننے کے فوری بعد ہی اس وقت شروع ہوگئی تھی جب آل انڈیا مسلم لیگ جو بعد میں حکمران پاکستان مسلم لیگ بنی کی قیادت میں ریاست اپنے وعدے کے مطابق یا فرض کی گئی “مسلم یک جہتی ” اور “قومی وابستگی ” کو عملی جامہ نہ پہنا سکی اور اس کا حصول مشکل ثابت ہوا ۔
مسلم یک جہتی اور قومی وابستگی کے تناظر میں پاکستان اگرچہ جنوبی ایشیاء میں مسلم قوم پرستی کے ایک نظریاتی پلیٹ فارم پر قائم ہوا تھا لیکن اس کے مستقبل کی ثقافت ، سیاست اور طرز حکمرانی کی شکل ابتداء میں ہی ایک کھلا سوال بنی رہی ۔
پاکستان بننے کے فوری بعد جب اس نئی ریاست کے مستقبل پر مباحث شروع ہوئے تو اس میں ایک اہم تصور 1948ء میں وجود میں آنے والی کمیونسٹ پارٹی پاکستان سے وابستہ قیادت اور کارکنوں کا تھا جو اس وقت بہت کم تعداد میں تھے ۔
پاکستان میں بائیں بازو کی تاریخ لکھتے ہوئے ہمیں طبقہ ، نسلیت اور قومی حقوق جیسے اہم زمروں کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی ، ان تین اہم تاریخی سیاسی زمروں کے بغیر پاکستانی بائیں بازو کی تاریخ لکھی ہی نہیں جاسکتی ۔
تاریخ ہمیشہ غیر جانبدارانہ طریقے سے یاد نہیں رکھی جاتی ۔ اکثر اسے مخصوص نظریاتی یا سیاسی مقاصد کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ قوم پرستانہ تاریخ بھی ایسے ہی ترتیب پاتی ہے۔ یہ تاریخ نگاری کا ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتی ہے جس میں صرف وہی واقعات شامل کیے جاتے ہیں جو اس بیانیے کو مضبوط کرتے ہوں ۔ اس عمل میں جو واقعات اس قومی کہانی کے سانچے میں فٹ نہ بیٹھتے ہوں یا جو اس کے دعوؤں کو پیچیدہ بنا دیتے ہوں انہیں رفتہ رفتہ اجتماعی یادداشت سے خارج کر دیے جاتے ہیں ۔ اس طرح یہ ایک منتخب قومی فراموشی
SELECTIVE NATIONAL AMENSIA
کو پیدا کرتی ہے ۔ یعنی اس ریاست کے عوام ماضی کے بعض حصوں کو یاد رکھتے ہیں اور بعض کو بھلا دیتے ہیں ۔ یہ فراموشی اور بھول فطری یا حادثاتی نہیں ہوا کرتی ہے۔ بلکہ اکثر تاریخی بیانیے کی ترتیب کے نتیجے میں یہ فراموشی پیدا کی جاتی ہے ۔
پاکستان کے باب میں ایک طرف تو پاکستان کی ریاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتورحکمران طبقات ، فوجی و سول اقسر شاہی کی سرپرستی میں پاکستان کی جو قومی تاریخ مرتب ہوئی وہ عمومی طور پر اسلامی ریاست کے قیام ، مسلم قوم پرستی کی مسلم لیگ کے رہنماؤں کی مرتب کردہ تعریف اور طے کردہ دائرے ، حکمران سیاسی رہنماؤں یا ریاستی اداروں کے گرد گھومتی ہے۔ اس طرز کی قومی سیاسی تاریخ نگاری میں وہ واقعات نمایاں نہیں ہوتے یا ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا جو قومی تحریکوں ، سماجی تحریکوں ، مزدور و کسان سیاست یا بائیں بازو کی جدوجہد سے متعلق تھے ۔
اس سرکاری قومی تاریخ نگاری نے پہلے روز سے اس تاریخ ميں سے اس سیاسی تاریخ اور اس سے جڑے واقعات کو خارج کردیا جنھوں نے پاکستان کی قومی زندگی کو نسلی ، لسانی ، ثقافتی ، قومیتی ، طبقاتی بنیادوں پر متنوع اور تکثریت پر مبنی قرار دینے پر اصرار کیا ۔ پاکستان کو ایک کثیر النسلیاتی – ثقافتی / ایتھنک ، کثیر القومیتی ، کثیر اللسانی ، اور پاکستانی سماج کو طبقاتی سماج کے طور پر مشخص کیا ۔ جنھوں نے اردو کو پاکستان میں بسنے والوں کی واحد قومی زبان ماننے سے انکار کیا اور دیگر زبانوں کو مساوی درجہ دینے کی بات کی ۔ سرکاری قومی تاریخ نگاری نے اس سے جڑے سیاسی و سماجی واقعات اور سیاسی جدوجہد کو پاکستان کی عوام کے حافظے سے نکالنے اور فراموش کرنے والا بیانیہ تشکیل دیا ۔
ستر اور اسی کی دہائی سے لیکر آج تک جب پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک روبہ زوال ہوئی اور مین سٹریم سیاست کے دھاارے سے خارج ہوئی تو سندھی ، بلوچ ، پشتون ، سرائیکی قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور نظریہ سازوں نے بھی بائیں بازو کے مظلوم اقوام کی قومی مزاحتمت کی تحریکوں میں کردار کو بھی فراموش کرنا شروع کردیا اور اسے منفی انداز میں پیش کیا ۔
مثال کے طور پر عوامی تحریک سندھ کے بانی اور نظریہ ساز رسول بخش پلیجو نے پاکستان بننے کے بعد پاکستان میں بائیں بازو کی تاریخ کو سندھی قوم پرستانہ شاؤںزم کے راستے سے مسخ کیا ۔ انھوں نے پاکستان کے بائیں بازو کی پوری تاریخ کو “پنجابی اور پناہگیر (اردو اسپیکنگ مہاجر) درمیانے طبقے کا ایسا پڑھا لکھا گروہ قرار دیا جو ترقی پسندی کی آڑ لے کر سوشلزم اور انقلاب کے نام پر پاکستان کے مظلوم عوام اور قوموں پر پنجابی پناہگیر درمیانے طبقے کا سرمایہ دارانہ اور قومی غلامی کو قائم رکھنے والا نظام تھونپنا چاہتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے بائيںبازو پریہ الزام لگایا کہ یہ گروہ بظاہر چینی اور روسی ٹولوں بٹا ہوا ہے۔ لیکن عملی طور پر پاکستان کی مظلوم قوموں کے خلاف سازش میں دونوں ٹولے ہم خیال اور ساتھی ہیں ۔ اس طرح سے رسول بخش پلیجو اور ان کے ہمنواؤں نے پاکستان میں بائیں بازو کی پوری تاریخ کو ہی ترقی پسند ، عوام دوست ، مظلوم اقوام کے حق میں ماننے سے انکار کردیا ۔ کم و بیش یہی رویہ دیگر اقوام کے قوم پرستوں میں شاؤنسٹ تاریخی بیانیہ کا بھی رہا ۔
پاکستان کی تاریخ نگاری کا آج جو غالب ڈسکورس ہے وہ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں ہونے والی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں جس نے پاکستان کی مزدور، کسان تحریکوں ، طلبہء سیاست اور بائیں باوو کی نظریاتی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اسے یا تو شامل نہیں کرتا یا پھر اس کو منفی انداز ميں پیش کرتا ہے۔ پاکستان کی جو سرکاری قومی تاریخ ہے اور جو پاکستان کا اس وقت غالب ميڈیا و سوشل میڈیا ڈسکورس ہے وہ ایک ایسی “قومی یادداشت ” کی تشکیل کرتا ہے جس میں “بائيں بازو ، مزدور و کسان تحریکوں ، طلبہ سیاست ” کی تاریخ جگہ نہیں پاتی ۔ جبکہ پاکستانی قوم پرستی کی سرکاری تاریخ نگاری کے مقابلے ميں اقوام کی قوم پرستانہ تاریخ ہے اس مییں بھی ایک تو قومی سوال کے باب میں بائیں بازو کے کردار کی تاریخ کو خارج کرنے اور بائیں بازو کو قومی سوال کے دشمن اور نفی کرنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں طبقاتی سوال کے ساتھ جڑی تاریخ کو یکسر فراموش کردیا جاتا ہے ۔ قوم پرستی کی اس طرح کی فراموشی کی تاریخ سازی میں انتہائی مذموم اور متعصب قسم کی فراموشی وہ ہے جو بائیں بازو “پنجابی ، پناہ گیر اردو باز ٹولے کے طور پر متعارف کراتا ہے۔
آج بہت کم پاکستانیوں کو 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں واقعات کی اس زنجیر کا پتا ہے جس نے پاکستان کے کئی علاقوں میں بائیں بازو اور مزدور- کسان سیاست کی تشکیل کی ۔ ایسی جدوہائے جہد کی غیر لکھی ہوئی تاریخ قومی یادداشت میں فراموش کردہ حافظے کا مقام رکھتی ہے۔
مثال کے طور پر آج کے مین سٹریم سیاسی منظرنامے ، میڈیا ڈسکورس اور نئی نسل کے اجتماعی شعور نے اسے قریب قریب بھلادیا ہے پاکستان میں 1950ء اور 1960ء کے درمیانی عصے میں پاکستان میں جاری فوجی آمرانہ حکمرانی جس کے نہایت گہرے رشتے پاکستان کے صنعتی اور جاگیردارانہ مفادات سے تھے نے پاکستان میں ایک پاپولر / مقبول عوامی ابھار کو جنم دیا جس نے پاکستان میں جمہوری اصلاحات ۔ معاشی مساوات ، دولت کی تقسیم نو ، سماجی انصاف ، زرعی اصلاحات ، مزدور اصلاحات اور ترقی میں بچھڑی ہوئی قومی جبر و استبداد کا شکار اقوام و نسلی کروہوں کے حقوق کے مطالبات پیش کیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 1970ء کے انتخابات جس نے مظلوم بلوچ ، پختون ، بنگالیوں کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی ، عوامی لیگ اور شوشل ڈیموکریٹک سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو پنجاب اور سندھ میں انتخابات جیتنے کا موقعہ فراہم کیا ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ تھا جس نے پہلی مرتبہ پاکستان میں قومی سوال کو حل کرنے کے معاملے میں ان اقوام کے اندر قومی اتفاق رائے کو پیدا کیا ۔ اور یہ اتفاق رائے اس دور میں اٹھنے والے عوامی مقبول ابھار کے بغیر ممکن نہیں تھا جس میں بائیں بازو کی قیادت اور اثر میں چلنے والی مزدور، کسان تحریکوں اور طلبہ تحریکوں نے کلیدی کردار ادا کیا جس کردار کی آج پاکستان کی سرکاری قومی اور قوم پرستانہ تاریخی ڈسکورس اور بیانیے نفی کرتے ہیں اور اس کردار کو پاکستان کی عوام کی یادداشت سے خارج کرنے کے لیے ایڑی جوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔
کمیونسٹ پارٹی پاکستان اور بائیں بازو کی ابتدائی تحریکوں کی تاريخ کو جانے بغیر ، کراچی اور پاکستان کے دیگر صنعتی مراکز میں مزدور طبقے اور پاکستان کے دیہی علاقوں ميں کسانوں تحریکوں کی سیاست جیسے سندھ ميں ہاریوں کی تحریک ، پنجاب ميں مزارعوں ، کھیت مزدوروں ، دیہی پرولتاریہ ، مزارعوں ، صوبہ خیبر پختون خوا میں ہشت نگر کے کسانوں کی تحریک ، بلوچستان میں پٹ فيڈر کینال کے کسانوں کی تحریک جو خاص طور پر 50ء ، 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں ابھر کر سامنے آئی جانے بغیر اور سمجھے بغیر پاکستان کی عوامی تاریخ کو سمجھا نہیں جاسکتا ۔
میں کامران اصدر کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کمیونسٹ پارٹی پاکستان سمیت پاکستان کی ترقی پسند قوتوں کی قیادت انتہائی مخلص اور اپنے کاز سے وفادار تھی ۔ وہ پاکستان میں جنھیں کچلے ہوئے ، پسے ہوئے ، طبقاتی استحصال اور قومی جبر واستبداد کا شکار عوام سمجھا چاتا تھا جنھیں بچھڑے ہوئے گروہ کہا جاتا تھا ان سب کے ساتھ وفادار بھی تھے۔
ان سے انہوں نے یک جہتی دکھائی اور ان کے لیے فکر و نظر میں انقلاب بھی پیدا کیا ۔ ان کی کاز سے وابستگی ، اخلاص نے پاکستان کی شہری مزدور طبقے، کسان طبقے ، درمیانے طبقے کے دانشوروں، فنکاروں اور ادبیوں کے درمیان ایک مختلف سیاست کا راستا ہموار کیا جس نے کئی مرحلوں میں سٹیٹس کو، جمود کو چتاونی(چیلنچ کیا ) دی اور پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں حکومتی ڈھانچے تبدیلیوں کا مطالبہ بھی پیدا کیا ۔
تاريخ کے اعلامیے اور اس سے سیکھنے کے عمل نے سماج ميں ایک انقلابی امید اور رجائیت کو جنم دیا اور اس نے اس تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں میں سماجی طور پر زیادہ انصاف اور عوامی جمہوری مستقبل کے امکان کو ایک ممکن اور قابل عمل آدرش کے طور پر پیدا کیا ۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی ۔
پاکستان کی عوامی تاریخ کے اس درخشاں اور کامیابیوں سے بھرے اس دور کو پاکستان کی عوام کے حافظے اور یادداشت سے نکالنے کے لیے پاکستان کے حکمران طبقات ، فوجی و سول نوکر شاہی نے پاکستانکے دائیں بازو کے رجعت پرست ٹولوں اور سرمایہ داری کے حامی نام نہاد لبرل دانشوروں ، سرکاری تاريح نویسوں ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر مسلط کیے جانے والے درمیانے طبقے کے کمپرومآئزڈ، بکے ہوئے دلال گروہ اس دور کے بارے میںبدترین پروپيگنڈا کرایا اور اس دور کی کامیابیوں کو بھی “ناکامی ” بناکردکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور سار ریاستی اور نام نہاد سول سوسائٹی کے وسائل اور طاقت اس میں صرف کردی ۔
یہ کوشش آج بھی جاری ہے۔ جعلی ترقی پسند ، سابق کمیونسٹ ، سابق بائیں بازو کے موقعہ پرست اور دایاں بازو اس میں پاکستان کے حکمران اشراف طبقات ، فوجی و سول نوکر شاہی سرپرستی اور اشیر باد کے ساتھ سرگرم ہے۔ ایسے میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بائيں بازو کے نظری اور عملی ورثے کو نئی نسل کے سامنے پیش کریں ۔ پاکستان میں ترقی پسند سیاست کی تعمیر نو کے لیے بائیں بازو کی تاریخ کی بازیافت کا عمل بہت ضروری ہے۔
آئیندہ سلسلہ وار مضامیں میں ہم اسی تاریخ کی بازیافت کرنے کی کوشش کریں گے ۔
پس نوشت : اس سلسلہ وار مضامیں کی تشکیل کے لیے بنیادی مواد میں نے اسد علی اور کامران اصدرکی ادارت میں مرتب ہوکر انگریزی میں شایع ہونے والی کتاب سے لیا گیا ہے جس کا عنوان ہے
Towards People’s Histories in Pakistan : (IN)Audible Voices , Forgotten Pasts
پاکستان میں عوام کی تاریخوں کی طرف (قدم) : دبائی گئی آوازیں اور گمشدہ ماضی
یہ کتاب القاء پبلیکشنز (ریڈنگز لاہور کا اشاعتی ادارہ ) سے 2023ء میں شایع ہوئی۔ ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز عامر حسینی