ڈکھ دی سانجھ اے ، مقبوضہ سرائیکی وسیب کا غلام مگر سوجھوان / باشعور جوان صحافی ، دانشور رانا ابرار خالد اسلام آباد کے دمشق میں طویل علالت کے بعد دم توڑ گیا ۔ حاکم شہر اپنےایک اور محکوم باشندے کو نگل گیا اور ہم بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ گئے ۔
سرائیکی وسیب کا سب سے غریب ، سرمایا داری میں انتہائی بچھڑا ہوا ، قبیل داری ، تمنداری ، جاگیرداری کی باقیات اور پدرسری رشتوں ميں انتہائی قدامت پرست روایتوں میں گھرا ہوا ، روڈ انفراسٹرکچر میں بہت پیچھے ، تعلیم، صحت سمیت انسانی ترقی کے تمام اشاریوں میں منفی شرح رکھنے والا ، بے روزگاری ، بھوک ، ننگ افلاس میں ڈوبا ہوا اگر کوئی ضلع ہے تو وہ راجن پور ہے ۔
راجن پور میں جامپور،داجل، روجھان ایسے علاقے ہیں جہاں بعض جگہوں پر انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں ۔ یہ راجن پور کبھی ڈی جی خان کی ایک تحصیل ہوا کرتا تھا ۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق اس ڈسٹرکٹ کی کل آبادی 23 لاکھ سے زئد ہے اور اس کے قبائلی علاقوں میں محض 34 ہزار کی آبادی ہے۔
یہ دورافتادگی ، پیداواری رشتوں کی پسماندگی اور اس پر کھڑا پسماندہ بالائی ڈھانچہ جہاں شدید ترین طبقاتی استحصال اور بدترین جبر ہے تو وہیں اس یہاں پر انقلابی اور سیاسی و سماجی شعور کی ترقی پسند لہر یہاں کے غریب دیہی بستیوں ، قصبوں اور مواضعات میں نظر آتی ہے۔ اس ضلع کی پہچان یہاں جنم لینے والے سرائیکی شاعر ، ادیب ، دانشور اور سیاسی کارکن ہیں ۔ ان میں سے ایک عاشق بزدار ہیں جن کی کتاب ” اساں قیدی تخت لہور دے ” جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف اس خطے کی مزاحمت کا امتیازی نشان ہے۔ اس ضلع نے بائیں بازو کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی – نیپ کو بہترین سیاسی کارکن مہیا کیے ۔ اسی ضلع نے ( اس وقت یہ ڈی جی خان کی تحصیل تھی ) ستر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے اس علاقے کے دریشک ، مزاری ، لغاری جیسے بڑے جاگیرداروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا یہ اور بات کہ
نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے – منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے ۔
راجن پور تحصیل کا ایک شہر فاضل پور ہے ۔ اس کی بستی حاجی پور میں سورگباشی رانا ابرار خالد کا جنم ہوا تھا ۔
اسی راجن پور کی ایک اور تحصیل مٹھن کوٹ ہے جو اس خطے کے قومی شاعر خواجہ غلام فرید کی جنم بھومی بھی ہے اور یہیں ان کا مزار مراجع خلائق ہے ۔
خواجہ غلام فرید نے نواب آف بہاولپور کو برصغیر ہند کی تقسیم سے بہت پہلے مت دینا چاہی تھی اور اس کو ایک کافی میں خبردار کرتے ہوئے لکھا تھا
اپڑیں ملک کوں آپ وسا توں۔پٹ انگریزی تھانے
“You rule yourself on your state and finish police station of British from your state.”
وہ حاکم طبقے کا فرد تھا ۔ انگریز کی ریجنٹ ایجنسی کی چھتر چھایہ میں پلا پڑھا تھا اور پھر اوپر سے یو پی ۔ سی پی اور پنجابی مسلمان اشرافیہ کے اشراف مسلمان قوم پرستی کا سودا اس کے سر میں سمایا ہوا تھا اس نے نہ صرف پاکستان سے الحاق کیا بلکہ ریاست میں تقسیم کے وقت اپنی ہندو اور سکھ رعایا کے تحفظ سے بھی ہاتھ اٹھالیا ۔
اس سے پہلے اس نے 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ستلج ویلی پروجیکٹ تعمیر کرکے ریاست بہاولپور کی 60 لاکھ ایکٹر بنجر زمینوں کو سیراب کرنے اور انھیں کاشت کے قابل تو بنالیا لیکن اس نے انگریز سامراج کی تعریف کے مطابق اپنی ریاست کے مقامی باشندوں کو وہ زمینیں الاٹ کرنے کی بجائے وہاں پر مشرقی اور وسطی پنجاب سے “کاشتکار ذاتوں ” کے پورے پورے چکوک کو اپنی ریاست میں آباد کردیا اور انھیں وہ نئی قابل کاشت زمینیں الاٹ کردیں ۔ نئی منڈی ٹاونز میں اس نے باہر سے آڑھتی اور کاٹن جننگ فیکٹریوں اور آئل اینڈ پریسنگ ملز سیٹھ لاکر بٹھا دیے ۔
اس کی نظر میں ریاست کے مقامی باشندے نہ کاشتکاری کے قابل تھے نہ تجارت کے ۔ ان کی قسمت میں تو بس نوابوں ، مخدوموں ، پیر جاگیرداروں کی رعایا اور شہروں میں آبادکاروں کی مزدوری کرنا لکھا تھا-
تقسیم کے وقت اس نے اپنی ریاست کے دروازے مہاجروں کے لیے کھول دیے اور انھیں وہاں آباد سکھوں اور ہندووں کو نکال باہر کرنے کی کھلی اجازت دے دی ۔
اپنے خزانے کا منہ اس نے پاکستان کی نوکر شاہی اور حکومت چلانے والے اردو اسپیکنگ مہاجر اشرافیہ اور پنجابی جاگیردار حکمرانوں کے خرچے اٹھانے کے لیے کھول ڈالے ۔
کراچی ، لاہور اور یہاں تک کہ لندن میں اپنی قیمتی جائیدادیں ، اور قیمتی گاڑیاں بھی اس نئے حکمران طبقے کو سونپ دیں۔
بدلے میں اس ریاست کو کیا ملا؟ پہلے تو اردو اسپکینگ مہاجر اور پنجابی جاگیردار حکمران طبقے اور سول و فوجی نوکر شاہی نے اس ریاست کو ہی ون یونٹ اسکیم کی نذر کردیا اور ساتھ ہی اس ریاست کی زراعت اور معشیت کی لائف لائن دو دریا ستلج اور بیاس بیچ کر ستلج ویلی پروجیکٹ پر اس ریاست کے 20 کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری برباد کردی اور ریاست کی زمینیں پھر بنجر اور صحرا بن گئیں ۔
یہ ریاست سے گھٹ کر ایک ڈویژن بنی اور رفتہ رفتہ پنجاب کے پسماندہ ترین ڈویژن میں اس کا شمار ہونے لگا ۔
مقامی آبادی کے لیے اس کے تمام بڑے شہر اجنبی بنا دیے گئے اور مقامی آبادی کی اکثریت کے جو مواضعات اور قدیم قصبے اور گاوں تھے وہ سب سے زیادہ بچھڑے ہوئے اور پسماندہ بن گئے ۔
اس ریاست کے روہی اور چولستان کی زمنیں ، چراگاہیں ، کھیت ، کھلیان ، ٹوبے اور قلعے عساکر پاکستان ، سول بابو ، جاگیردار اور سرمایہ داروں کی چراگاہ بنا دی گئیں ۔
جن عرب بدوؤں کو یہ نواب سالانہ لاکھوں روپے کی خیرات دیتا تھا ان کے لیے اس ریاست کے صحرا شکار گاہیں اور عیاشی کا سامان فراہم کرنے کے اڈے بن گئیں – وسطی اور مشرقی پنجاب سے آئے نام نہاد چوہدری ہدائت اللہ جیسے ان عرب بدووں کے دلال بن گئے ۔
وسیب کی غریب اور مجبور عورتیں ، کم عمر بچیاں ان کے خمیوں اور وہاں قائم کردہ زید پیلس جیسے حرم کی باندیاں بننے پر مجبور کردی گئیں ۔ کم عمر بچے اونٹ ریس کے جوکی بنا دیے گئے ۔
آج پورے وسیب کی غریب عورتیں بڑے شہروں میں ماسیاں اور غریب بے دخل کسان اور مزدور وہاں کی سستی لیبر ہیں ۔
پورا سرائیکی وسیب غربت ، افلاس ، ننگ ، بھوک ، بے روزگاری کے عذابوں میں مبتلا ہے ۔ اس وسیب کے دیہی سماج کے نوجوان کے پاس بڑے شہروں اور عرب ممالک کا رخ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستا نہیں ہوتا ۔
رانا ابرار بھی اس وسیب کا ایسا ہی پڑھا لکھا مگر قومی شعور اور طبقاتی استحصال کی عفریت کو پہچاننے والا نوجوان تھا جس نے بے روزگاری ، بھوک اور افلاس سے بچنے کے لیے پاکستان کے دمشق – اسلام آباد کا رخ کیا ۔
وہ قلم مزدور تھا اس نے کوچہ صحافت میں قسمت آزمانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جب اس شعبے میں نہ قلم کی آبرو رہی تھی نہ لفظوں کی حرمت ۔۔۔۔ یہ وہ زمانہ نہیں تھا جب اہل قلم فخر سے سر اٹھا کر خالد علیگ کی زبان میں یہ کہتے تھے
ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا
اسلام آباد کا دمشق تو ویسے ہی ایک مصنوعی شہر تھا ۔ اس شہر کے ماتھے پہ بے وفائی کا ٹیکہ سجا تھا اور یہاں صبح پرستوں کی قبریں بھی نہیں بنا کرتی تھیں کیونکہ یہاں شب پرستوں اور تاریک گروں کا راج تھا ۔
ہر کذب کو صداقت کل کا ملا خطاب
پھر اسے مصلحت کا تقاضا کہا گیا
ہمارے اس دوست نے اس شہر کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے ، اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہوجانے اور اپنی ذاتی زندگی میں بدلاو لانے ۔۔۔ نمک کی کان میں نمک ہوجانے کی بجائے اپنے وسیب کی آزادی ، خودمختاری اور الگ شناخت کا مقدمہ لڑنا شروع کر دیا ۔ یہ اپنے قلم کو ازار بند ڈالنے کے کام لے سکتا تھا ، حکمران طبقات ، طاقتور فوجی جرنیل شاہی اور سول بابو شاہی کی قربت سے فیض پا سکتا تھا لیکن اس نے آزادی کو اپنا نصب العین بنالیا ۔
توشہ خانہ کیس کسے یاد نہیں ۔۔۔ اس کیس نے انصاف اور احتساب کے مہاتما کو ننگا کردیا اور اس مہاتما کے حریف اسے اس کے بدلے سونے میں تول سکتے تھے ۔ اسے پی ٹی وی میں کنٹریکٹ تو ملا لیکن اس نے اپنا نام اس فہرست میں شامل نہیں کیا جو ابھی ایک ماہ پہلے سامنے آئی جس میں لاکھوں روپے کے پیکج پانے والے دلال مگر اس سماج کی نظر میں “مہان صحافی ” بد روحوں کے نام ہیں ۔
اسے تو اپنی تنخواہیں اور کئی ماہ کے واجبات بھی نہیں ملے تھے ۔ اسلام آباد کے دمشق میں اس مزدور صحافی کی روح تو بار بار زخمی ہوئی ساتھ ساتھ اس کا دل ، جگر ، پھیپھڑے ، گردے سب ایک دن کام کرنا چھوڑ گئے ۔
اس شہر میں کم و بیش چار دہائیوں میں ذہنی اور جسمانی مشقت نے اسے توڑ کر رکھ دیا اور آخرکار بستر مرگ پر پہنچادیا ۔ اسے کوئی وی آئی پی علاج و معالجے کی سہولت نہیں ملی ۔ سب کو پتا تھا کہ وہ مر رہا ہے ۔ لیکن حکمران طبقے کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔۔۔ اسلام آباد میں جو ہائبرڈ رجیم برسراقتدار ہے اسے اس کا “بندہ ” ہونے کی تہمت مہاتما کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور اپوزیشن بنچوں سے سہنا پڑتی تھی اور حکمران ہائبرڈ رجیم اس کی سچ بیانی سے تنگ تھا۔ یہ وسیب کی آزادی اپنی خدمت کے عوض مانگتا تھا اور ان کا “ذاتی وفادار ” بننے پر تیار نہیں تھا ۔ یہ کسی فیلڈ مارشل اور آبپارہ والوں کا مخبر اور دلال بھی بننا نہیں چاہتا تھا ۔
انوکھا لاڈلا تھا کھیلن کو مانگے چاند تھا
چاند تھا سرائیکی صوبہ ۔۔۔ اور وہ بھی مسلم لیگ نواز سے ۔۔۔۔ جس کا بندہ ہونے کی تہمت اور بہتان اس کے سر لگا ہوا تھا۔
یہ اتنا معصوم اور سادہ تھا کہ اسلام آباد کے دمشق میں اسیر بلوچوں کے قافلے کے پاس جا پہنچا اور بلوچستان کی کربلا سے دمشق اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھی اسیران و جبری گمشدگان و مقتولان کی ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں سے بلوچستان کے جنگ زدہ علاقے میں مارے جانے والے سرائیکی مزدورں کے اصل قاتلوں کا پتا پوچھنے لگا ۔۔۔
وہ بیچارے کیا بتاتے وہ تو اپنے غائب ہوجانے والوں کا پتا پوچھنے اور اپنے مقتولوں کے” معلوم نامعلوم قاتلوں ” کو انصاف کے کہٹرے میں کھڑا کرنے کی درخواست لیکر دمشق کے دربار یزید تک جانے کی خواہش بھی نہیں رکھتے تھے ۔ وہ تو بس نیشنل پریس کلب میں جاکر اپنا مدعا بیان کرنا چاہتے تھے جس کی اجازت انھیں اسلام آباد کے دمشق کا نہ کوتوال دے رہا تھا نہ اس پریس کلب کی انتظامیہ ان بے سرو سامان بلوچ عورتوں کو پریس کلب کی حدود میں پریس کانفرنس کرتا دیکھنا چایتی تھی کیونکہ انھیں ڈر تھا اس سے ریاست غیر مستحکم ہوجائے گی ۔ ایوان اقتدار میں زلزلہ آ جائے گا ۔ آسمان ٹوٹ پڑے گا ، زمین پھٹ جائے گی ۔
بھلا جو طاقتیں اس کے وسیب کو آزادی دینے پر تیار نہیں تھیں وہ سونے ، ہیرے اور معدنیات اور سب سے بڑی ساحلی پٹی کے مالک بلوچستان کی آواز پر کہاں کان دھرتیں ۔۔۔۔ اس کے بلوچ عورتوں سے سوال پر میں بھی جز بز ہوا تھا ۔۔۔ وہ مظلوم بلوچ عورتوں سے حرف مذمت سننا چاہتا تھا جو اگلے آنے والے دنوں میں انھوں نے کر بھی دیا لیکن اس میں لفظ سرائیکی مزدور نہیں تھا تو ہمارا درویش منش ساتھی اس حرف مذمت سے مطمعئن نہیں ہوا ۔ وہ سوال تو ٹھیک اٹھا رہا تھا لیکن اس کے مخاطب غلط تھے ۔
بھلا ایک مظلوم دوسرے مظلوم کو کیا بتائے گا کہ اس کے والے قتل کیوں ہوئے ؟
وہ تو اپنے والوں کے قاتل تلاش کر رہے تھے اور آخرکار وہ اسلام آباد کے دمشق کے رہنے والوں کی خاموشی اور بے حسی سے تنگ آکر واپس چلے گئے ۔ مگر سرائیکی وسیب کا یہ غلام و محکوم باشندہ وہیں ٹکا رہا ۔۔۔
شاہد وہ مولانا محمد علی جوہر کی طرح یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اگر جائے گا تو ایک آزاد باشندے کی حثیت جائے گا وگرنہ اس کا یہاں سے تابوت جائے گا ۔ مولانا محمد علی جوہر غلام ہندوستان میں دفن نہیں ہونا چاہتے تھے وہ اپنے مقبرے کے لیے جگہ بیت المقدس میں ڈھونڈ بیٹھے تھے انھیں کیا پتا تھا کہ وہ بھی کبھی آزاد نہیں ہوگا وہاں بھی صہیونی پنجے گاڑھے رہیں گے۔۔۔
ہمارے مقبوضہ وسیب کا روح سے آزاد اور جسمانی طور ہر غلام باشندہ رانا ابرار کفن میں لپٹا ایمبولینس سے مقبوضہ سرائیکی وسب کے راجن پور تحصیل مين شام فاضل پور میں اپنی غلام سرزمین پر دفن کے لیے آئے گا ۔
یہ وسیب وہ سرزمین ہے جس نے ہریانہ سے اجڑ کر اور اکھڑ کر آنے والے میرے آباواجداد کو 1947ء میں آباد ہونے کی جگہ فراہم کی تھی اور میرا جنم اسی وسیب میں ہوا ۔ میری جڑیں یہیں ہیں اور میرے مہاجر آباء کی قبریں بھی یہیں ہیں وہ مرے تو ان کے جنازے دفن ہونے کے لیے ہریانہ کے شہر بھوانی یا غدر 1857ء سے پہلے وطن مظفر نگر یو پی نہیں گئے تھے جیسے آج بھی اس وسیب میں ایسے الاٹی ہیں کہ وہ مرتے ہیں تو ان کے جنازے وسطی پنجاب کے شہروں میں دفن ہونے جاتے ہیں ۔ یہ وسیب اگر مقبوضہ رہے گا تو ہم بھی غلام رہیں گے اور میری اگلی نسلیں بھی ۔۔۔۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں مروں تب تک یہ وسیب مقبوضہ نہ رہے میں رانا ابرار کی طرح مقبوضہ بنے رہے وسیب میں دفن نہ ہوں ۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ
You are dreamer
تو میں جان لینن کی طرح کہوں گا کہ اس دنیا میں ایک میں ہی تو نہیں ہوں جو آزادی ، انصاف ، امن اور عزت کی روٹی کے خواب دیکھتا ہوں ۔ یہ خواب تو ہر باضمیر محنت کی لوٹ اور شناخت کے جبر میں پھنسا شخص دیکھتا ہے ۔
رانا ابرار تمہیں میرا لال سلام ۔۔۔ اور یہ نظم تمہارے نام
“فولڈرز میں دفن سانسیں”
شہر
(جو خود کو دارالحکومت کہتا ہے
اور جس کی پیشانی پر
اجنبی روشنیوں کی تہہ جمتی ہے)
وہاں
ایک وسیب زادہ
اپنی سانسوں کو قسطوں میں بیچتا رہا
لفظوں کے بدلے
روٹی
اور روٹی کے بدلے
وقت
اور وقت کے بدلے
اپنی ہی تحلیل ہوتی ہوئی ذات
کا تماشا دیکھتا رہا
وہ لکھتا تھا ؟
نہیں
وہ اپنے اندر کی مٹی کو
حروف میں پیستا تھا
جیسے کوئی کسان
اپنی ہی ہڈیوں کو
ہل کے نیچے رکھ دے
اسلام آباد
(یا شاید دمشق؟
یا کوئی ایسا شہر
جہاں تاریخ بھی کرائے پر ملتی ہے)
نے
اس کی ذہنی محنت کو
صرف خبر بنایا
اور جسم کو
آہستہ آہستہ
ایک بیماری میں ترجمہ کر دیا
دل
جو کبھی وسیب کے کچے گھروں کی دھڑکن تھا
اب
فائلوں کے درمیان
ایک کمزور نوٹ بن گیا
جگر
گردے
اور باقی اعضاء رئیسہ
سب
سرکاری خاموشی میں تحلیل ہو گئے
وہ
جب بستر پر تھا
تو شہر
اپنے شیشے کے برجوں میں
اپنی ہی تعریف لکھ رہا تھا
کوئی التفات نہیں
کوئی دستک نہیں
صرف
چھت سے ٹپکتی ہوئی
بے نام نمی
اور وہ
ایڑیاں رگڑتا
لفظوں کے آخری کنارے پر
مر گیا
پیچھے
نہ کوئی تمغہ
نہ کوئی تقریب
نہ کوئی اینگلز
جو قبر کے سرہانے کھڑا ہو
اور کہے:
“یہ وہ تھا
جس نے سچ لکھا”
صرف ایک
Outdated laptop
جس کے فولڈرز میں
اب بھی
کچھ فائلیں سانس لیتی ہیں
نامکمل مسودے
ادھورے نوحے
اور وہ چیخ
جو کبھی خبر نہ بن سکی
وہ فولڈرز
اب
ایک قبرستان ہیں
جہاں
الفاظ
اپنے مصنف کے بغیر
یتیم ہو چکے ہیں
اس کی قبر
بے کتبہ
بے حوالہ
بے اعلان
مگر
ہوا میں
اب بھی معلق ہے
اس کا احتجاج:
سرائیکی وسیب کی تریمتیں
جو شہروں میں
اپنے نام کھو بیٹھیں
اور
“ماسیاں” کہلائیں
کسان
جو اپنی زمین سے بے دخل ہوا
اور مزارع
جو اپنے ہی پسینے میں
اجنبی ہو گیا
وہ سب
اب بھی
اس کے نام کے بغیر
روتے ہیں
اور شہر
اب بھی
چمک رہا ہے
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
محمد عامر حسینی
Red Salute to Comrade Rana Abrar Khalid
اپڑیں ملک کوں آپ وسا توں۔پٹ انگریزی تھانے “You rule yourself on your state and finish police station of British from your state