چودہ مارچ 2026ء کو معروف جرمن فلسفی یورگن ہیبر ماس کا انتقال ہوا ۔ ان کی عمر چھیانوے برس تھی ۔ ان کی مرتیو سے چھے سال پہلے جب 18 جون کو ہیبرماس نوے سال کے ہوئے تو امریکی نژاد جرمن تنقیدی روایت پر اپنے کام کی شہرت رکھنے والے فلسفی ریمنڈ گیئس نے ان پر ایک تنقیدی مضمون لکھا جس نے ہیبرماس کے حامی حلقوں میں خاصی بے چینی پھیلائی اور انہیں لبرل سرمایہ دارانہ دانشوروں کی طرف سے خاصی تنقید کا سامنا ہوا ۔ ریمنڈ گیئس نے اپنے ناقدین کو ترکی بہ ترکی جواب دیا اور اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ہیبرماس کا لبرل فلسفہ معاصر سرمایہ دارانہ نظام کے بحرانوں کا سامنا کرنے کے لیے نا کافی ہے۔ ان کا یہ مضمون نیو لیفٹ بکس کی ویب سائٹ ورسو پر شایع ہوا ۔ ایسٹرن ٹائمز نیوز اس کے شکریہ کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ شایع کر رہا ہے ۔ مدیر عامر حسینی
جون دوہزار انیس میں آنلائن جریدے “دا پوآئنٹ” میں :ایک عوامی بحث” کے عنوان سے میں نے ایک مضمون شایع کیا ۔ اس مضمون میں میں نے جان ڈیوی کی اس کھلے اور ارتقائی تصورِ ابلاغ کی تعریف کی جس کے مطابق ابلاغ ایک تجربی عمل ہے اور اس کے قواعد حالات کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح میں نے تھیوڈور آدورنو کو بھی سراہا کہ انہوں نے اس لبرل دعوے پر تنقید کی جس کے مطابق ہر سچائی کو عالمگیر طور پر ابلاغ کے ذریعے بیان اور سمجھا جا سکتا ہے۔
ان دونوں کے خیالات کا موازنہ کرتے ہوئے میں نے انہیں یورگن ہیبرماس کے نظریے کے مقابل رکھا۔ ہیبرماس کا خیال تھا کہ ابلاغ کے کچھ مستقل اور آفاقی قواعد ہوتے ہیں جو تمام بولنے والوں کے طرزِ عمل پر ایک خاص نوع کی پابندی عائد کرتے ہیں۔ میرے نزدیک، جس معنی میں ہیبرماس لفظ ابلاغ استعمال کرتے ہیں، اس معنی میں ابلاغ کا وجود ہی نہیں ہے۔
یہ مضمون بظاہر ہیبرماس کے شاگردوں کے لیے ایک نہایت حساس موضوع بن گیا اور اس کے نتیجے میں متعدد شدید جذبات سے بھرپور تبصرے اور جوابی ردِ عمل سامنے آئے۔
بدقسمتی سے میں خود کو بھی اس ہنگامے میں کھینچ آنے سے نہ روک سکا۔ مگر جو تجربہ مجھے جوابات اور جوابی جوابات کے اس چکر میں سر چکراتی گردش کے دوران ہوا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب کچھ فاصلے سے دیکھتے ہوئے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھ سکتا ہوں کہ آخر اتنے لوگوں کو کس بات نے پریشان کیا تھا۔ اب مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنی اُن باتوں کو، جن کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا تھا، کہیں زیادہ واضح اور مرکوز انداز میں بیان کر سکتا ہوں۔
انیسویں صدی میں معاشرے کو دیکھنے اور اس کے بارے میں سوچنے کے ہمارے انداز میں چار بڑی فکری انقلابات رونما ہوئے۔
اوّل، سوشلسٹ، انارکسٹ، کمیونسٹ اور دوسری قسم کی انقلابی سیاسی فکر کا عظیم ابھار سامنے آیا، جس کی ایک نمایاں مثال کارل مارکس کی فکر ہے۔
دوم، ایک نئی جمالیاتی حساسیت پیدا ہوئی جو خاص طور پر رمبو جیسے ادیبوں اور شاعروں سے وابستہ تھی، جس کا نعرہ تھا “تمام حواس کو بے قابو کر دینا”۔
سوم، نطشے نے اپنے نظریۂ پرسپیکٹیوزم کے ذریعے علمیات (معرفت کے فلسفے) کو ایک نئی سمت دی۔
اور چہارم، فرائڈ کی نفسیاتی تحلیل (سائیکو اینالیسس) نے انسانی ذہن اور لاشعور کو سمجھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا۔
ظاہر ہے کہ ان فکری تحریکوں کو مکمل طور پر ابھرنے اور اپنی صورت واضح کرنے میں وقت لگا۔ یہ ایک سست اور تدریجی عمل تھا جو بیسویں صدی تک جاری رہا۔
جن مفکرین کو آج ہم مجموعی طور پر مکتبِ فرینکفرٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں—یعنی ہورک ہائمر، آدورنو، بنیامین اور مارکوز—انہوں نے 1930ء اور 1940ء کی دہائیوں میں مختلف طریقوں سے ان تمام فکری دھاروں کو اپنے اندر جذب کرنے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
جب مکتبِ فرینکفرٹ کے اصل ارکان 1960ء کی دہائی کے آخر اور 1970ء کی دہائی کے آغاز میں ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے تو فکری وراثت غیر رسمی طور پر ایک نئی نسل کے ہاتھ میں چلی گئی، جس کی نمایاں ترین نمائندگی یورگن ہیبرماس (پیدائش 1929ء) کرتے ہیں۔
تاہم اگر کوئی شخص آدورنو کو پڑھنے کے بعد ہیبرماس کو پڑھے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھڑیوں کو ساٹھ برس پیچھے کر دیا گیا ہو یعنی 1940ء سے اچانک 1880ء کے زمانے میں واپس پہنچ گئے ہوں۔
ہیبرماس میرے بیان کردہ چار انقلابات میں سے پہلے انقلاب یعنی انقلابی سیاسی فکرپر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں، مگر چوتھے انقلاب، یعنی فرائڈ کی نفسیاتی تحلیل، کو وہ بمشکل سرسری انداز میں چھوتے ہیں؛ تیسرے انقلاب، یعنی نطشے کے نقطۂ نظر پر مبنی علمیات، کی اصل معنویت کو وہ سمجھ ہی نہیں پاتے؛ اور دوسرے انقلاب، یعنی نئی جمالیاتی حساسیت، سے تو وہ گویا بالکل ناواقف نظر آتے ہیں۔
اس کے بجائے جو شخص ان کی ضخیم تصانیف کا مطالعہ کرے، اسے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دوبارہ کانٹ کے زیر اثر فلسفے کی دنیا میں لوٹ آیا ہو بلکہ شاید خود کونیگزبرگ کے دانا (یعنی کانٹ) کے زمانے میں واپس پہنچ گیا ہو۔
ہیبرماس کی ابتدائی تحریروں میں اس بات کا خاکہ ملتا ہے کہ ادراک اور انسانی عمل کے لیے ایک ماورائی (ٹرانس سینڈنٹل) فریم ورک قائم کیا جائے۔
فلسفیانہ دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہیبرماس کے لفظ “ماورائی” کے استعمال کو سنجیدہ اور سوچا سمجھا سمجھا جائے اور اسے کانٹ کے استعمال کے نمونے پر پرکھا جائے۔
جب یہ کہا جاتا تھا کہ ابلاغ کی کچھ ماورائی شرائط موجود ہیں تو اس سے محض یہ مراد نہیں تھی کہ ابلاغ کے کچھ اہم تقاضے ہیں، یا یہ کہ اس کے کچھ آفاقی تقاضے ہیں کیونکہ یہ آفاقیت محض تجرباتی بھی ہو سکتی ہے اور نہ ہی صرف یہ کہ یہ تقاضے ضروری اور آفاقی ہیں۔ اس سے مراد دراصل یہ تھی کہ ابلاغ کے لیے کچھ ایسی ضروری، غیر متبدل اور آفاقی شرائط موجود ہیں جو مزید علم کے لیے پیشگی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔
اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ابلاغ کی ان مبینہ ضروری اور آفاقی شرائط کے ذریعے ہمیں پیشگی طور پر یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم کن عہد و التزامات کے پابند ہیں، ہمیں چیزوں کا جائزہ کس طرح لینا چاہیے اور ہمیں عمل کس طرح کرنا چاہیے۔ اس مفروضے کے مطابق یہ التزامات ہر شخص پر یکساں طور پر لازم ہوتے ہیں اور دوسرے تمام غور و فکر پر غالب حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ اوپر بیان کردہ چوتھی بات پوری اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے ہیبرماس اپنے تجزیے سے اخذ کردہ التزامات کو دوسروں پر بھی لازم قرار دے سکتے ہیں۔ یعنی یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہیبرماس محض یہ دکھانا نہیں چاہتے کہ ہماری گفتگو اور عمل کے کچھ پیشگی مفروضے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ روزمرہ زندگی میں ہم سب دنیا کے بارے میں بے شمار مفروضے قائم کرتے ہیں، دوسروں سے متعلق توقعات رکھتے ہیں، اور اپنے ذہن میں مختلف نظریاتی یا اخلاقی آئیڈیل بنا لیتے ہیں جن کے مطابق جینا ہم چاہتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہم اکثر یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان آئیڈیلز کی پابندی کریں، اور بعض مواقع پر ہم ان پر ان آئیڈیلز کو مسلط کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر میں شہر لیل میں کسی ویٹر سے فرانسیسی زبان میں بات کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہ فرض کر رہا ہوں کہ وہ اس زبان کو سمجھتا ہوگا۔ اسی طرح اس ملاقات میں میں بہت سی دوسری باتوں کو بھی پہلے سے فرض کیے ہوئے ہوتا ہوں۔ میں اس کے بارے میں اپنے ذہن میں یہ تصورات بھی قائم کر لیتا ہوں کہ اسے میرے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ ان میں سے بعض مفروضے مخصوص بیاناتی عقائد کی صورت رکھتے ہیں—یعنی “یہ جاننا کہ کیا ہے”—جیسے ویٹر سے بات کرنے سے پہلے میرے ذہن میں یہ خیال آنا: “یہ شخص ویٹر معلوم ہوتا ہے۔” اس خیال میں یہ مفروضہ بھی شامل ہوتا ہے کہ میں کسی کیفے یا ریستوران میں ہوں، یا کم از کم مجھے یہ گمان ہے کہ میں ایسے ہی کسی مقام پر موجود ہوں۔
دوسری طرف کچھ مفروضے ہمارے عمل کے اندر مہارت یا عملی علم کی صورت میں شامل ہوتے ہیں یعنی “یہ جاننا کہ کیسے کرنا ہے” جیسے وہ مختلف صلاحیتیں جن کے ذریعے ہم کرسی پر اس طرح بیٹھتے ہیں کہ گِر نہ جائیں۔ جب میں ایسے موقع پر صرف “وَیں رُوژ” (سرخ شراب) کہتا ہوں تو دراصل میں یہ دکھا رہا ہوتا ہوں کہ مجھے ایک گلاس شراب کا آرڈر دینے کا طریقہ آتا ہے۔ اس عمل کو محض ماحول کی وضاحت کرنے والا جملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیاق و سباق اسے ایک آرڈر میں بدل دیتا ہے۔ درحقیقت “آرڈر دینا” خود بہت سی سماجی اور ادارہ جاتی روایات اور طریقوں کو پہلے سے فرض کرتا ہے۔
ان میں سے کسی ایک مفروضے پر بھی کوئی خاص بحث نہیں ہوتی؛ اسے عام طور پر بدیہی اور معمولی بات سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔ اگر ہیبرماس کی بات صرف اتنی ہی ہو کہ ہم اپنی گفتگو اور عمل میں کچھ مفروضات قائم کرتے ہیں، یہ مفروضات ہماری بہت سی سماجی اور ادارہ جاتی روایات سے جڑے ہوتے ہیں اور ہمیں یہ بہت اہم محسوس ہوتے ہیں، تو فلسفیانہ لحاظ سے یہ بات خاص معنی نہیں رکھتی۔ اس مرحلے تک انہوں نے ابھی کوئی قابلِ ذکر یا نئی بات پیش نہیں کی۔ بحث تب آگے بڑھتی ہے جب ہم اس کے بعد تین مزید سوالات اٹھاتے ہیں۔
الف وہ مفروضات اور پیش فرضیات جو ہم قائم کرتے ہیں، یا کر سکتے ہیں، آخر کتنی حد تک مستقل اور غیر متبدل ہیں؟
ب جن مفروضات کو میں قائم کرتا ہوں، ان کے لیے میرے پاس کیا دلائل یا بنیادیں ہیں؟
ج میں کن توقعات اور ذمہ داریوں کو بجا طور پر تم پر عائد کر سکتا ہوں؟
میں ان سوالات کے جواب کے دو مختلف طریقوں کا موازنہ کرتا ہوں: ایک ماورائی (ٹرانس سینڈنٹل) طرزِ فکر—جیسے کانٹ—اور دوسرا غیر ماورائی طرزِ فکر—جیسے ڈیوی۔ ماورائی نقطۂ نظر رکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ (پہلا سوال) ہمارے بعض بنیادی مفروضات بہت مضبوط اور تقریباً غیر متبدل ہوتے ہیں، حتیٰ کہ شاید انہیں بدلا ہی نہ جا سکے۔ (دوسرا سوال) وہ یہ بھی مانتا ہے کہ کم از کم بعض بنیادی مفروضات قائم کرنے کے لیے میرے پاس کچھ خاص اور منفرد بنیادیں موجود ہیں۔ اور (تیسرا سوال) اس کے نزدیک میرے پاس کچھ ایسے غیر سیاقی دلائل بھی ہو سکتے ہیں جن کی بنیاد پر میں اپنے بعض نظریاتی التزامات تم پر عائد کر سکوں۔
کانٹ اور ہیبرماس دوسرے سوال کے جواب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کانٹ اپنے مؤقف کے لیے ایسی خاص بنیادوں کا سہارا لیتا ہے جنہیں وہ عالمگیر عقل کی بعض ساختوں سے جوڑتا ہے، جبکہ ہیبرماس تقریری افعال کے نظریے کی اپنی تعبیر کو استعمال کرتا ہے۔ مگر بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ فرق زیادہ اہم نہیں رہتا۔
اس کے برعکس غیر ماورائی نقطۂ نظر رکھنے والا—مثلاً ڈیوی—کہے گا کہ (پہلا سوال) ہم آئندہ کن مفروضات کو اختیار کر سکتے ہیں یا کر سکتے تھے، اس کی کوئی حتمی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مستقبل واقعی کھلا اور غیر متعین ہے۔ ہمارا علم مسلسل بدلتا رہتا ہے اور ہم خود بھی بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ہم یقینی طور پر یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ ہمارا علم یا ہم خود کس طرح آگے بڑھیں گے۔ ہمیں حال میں عمل کرنا پڑتا ہے، لیکن ایسا ہمیں احتیاط اور عارضی بنیاد پر کرنا چاہیے، یعنی اپنی موجودہ بہترین سمجھ کے مطابق—اسے کسی مطلق حقیقت کا درجہ دیے بغیر۔ “ہماری بہترین سمجھ” سے مراد صرف یہی ہے کہ اس لمحے ہمیں جو کچھ اپنی بہترین بصیرت کی روشنی میں درست معلوم ہوتا ہے، وہی ہماری بنیاد ہے—نہ اس سے زیادہ، نہ اس سے کم۔ یہی بصیرت ہمارے لیے کافی ہے، کیونکہ فی الحال ہمارے پاس یہی کچھ ہے، اگرچہ مستقبل میں ہمیں اس سے مختلف اور شاید بہتر بصیرت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
ماورائی فلسفے کی اصل تحریک دراصل اس حقیقت کو قبول نہ کر سکنے سے پیدا ہوتی ہے کہ ہمارے لیے جو علم دستیاب ہے وہ محدود بھی ہے اور بدلتا بھی رہتا ہے، اور اس کے سوا ہمارے پاس کوئی آخری یا قطعی بنیاد موجود نہیں—نہ خدا، نہ “خالص عقل”، نہ کوئی مثالی مکالماتی صورتِ حال۔ ڈیوی کے نزدیک دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب یہی ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے کوئی خاص، سیاق سے بالاتر بنیاد یا دلیل سرے سے موجود ہی نہیں۔
[مترجم کا نوٹ: اس اقتباس میں مصنف ایک مشکل فلسفیانہ بحث کو دو مختلف طریقوں سے سمجھاتا ہے: ایک ماورائی (کانٹ اور ہیبرماس کا طریقہ) اور دوسرا تجربی یا عملی (ڈیوی کا طریقہ)۔ آسان لفظوں میں بات یوں ہے:
پہلا طریقہ یہ کہتا ہے کہ ہماری سوچ اور گفتگو کے پیچھے کچھ مستقل اور آفاقی اصول ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بدلتے۔ اس سوچ کے مطابق انسان کچھ بنیادی مفروضات ہمیشہ مانتا ہے اور ان کی بنیاد کسی بڑی اور عالمگیر عقل یا نظریاتی نظام میں ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اپنے بعض اصول دوسروں پر بھی لاگو کر سکتا ہے۔ کانٹ اس بنیاد کو “عالمگیر عقل” میں تلاش کرتا ہے جبکہ ہیبرماس اسے زبان اور مکالمے کے اصولوں سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
دوسرا طریقہ، جسے جان ڈیوی کی سوچ سے جوڑا جاتا ہے، اس سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق انسان کے مفروضات اور خیالات مستقل نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ہمارا علم مکمل اور حتمی نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ محدود اور عارضی ہوتا ہے۔ ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ اس وقت ہمیں کیا درست معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ درست ہی رہے۔ مستقبل ہمیشہ کھلا ہوتا ہے اور نئی معلومات آنے سے ہماری سمجھ بھی بدل سکتی ہے۔
مصنف کے مطابق ماورائی فلسفے کے لوگ اس بات کو قبول نہیں کر پاتے کہ انسان کا علم محدود اور بدلنے والا ہے، اس لیے وہ ایسی حتمی بنیادیں تلاش کرتے ہیں جیسے خدا، خالص عقل یا ایک مثالی مکالماتی صورت۔ جبکہ ڈیوی کا مؤقف یہ ہے کہ حقیقت میں ایسی کوئی قطعی بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے فیصلے ہمیشہ موجودہ حالات، تجربے اور عملی ضرورت کی بنیاد پر کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ کسی مطلق اور ہمیشہ درست رہنے والے اصول پر۔]
اس لیے مجھے یہ نظر نہیں آتا کہ ہیبرماس کا “خالص عقل” کے بجائے “تقریری افعال کے نظریے”
(speech act theory)
سے استدلال کرنا کوئی خاص فرق پیدا کرتا ہے۔ تاہم ہیبرماس کے بعض حامی اس بات سے اختلاف کرتے ہیں۔ سیلا بن حبیب لکھتی ہیں:
“ہیبرماس دراصل کسی ماورائی یا نیم ماورائی شرائط کی تلاش میں نہیں ہیں، بلکہ وہ ان تصوری پیش فرضیات کا تجزیہ کر رہے ہیں جو ہم بطور بولنے والے عامل اپنی گفتگو میں قائم کرتے ہیں۔”
لیکن یہ بات اصل نکتے کو واضح نہیں کرتی۔ فرض کریں کہ پروفیسر بن حبیب کا مطلب یہ ہو کہ ہم یہ پیش فرضیات اسی طرح اختیار کرتے ہیں جیسے شطرنج کھیلنے کے لیے اس کے قواعد پر اتفاق کر لیا جاتا ہے۔ تاہم ہم چاہیں تو شطرنج کے قواعد بدل بھی سکتے ہیں یا شطرنج کے بجائے گو یا برج کھیلنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ تم یک طرفہ طور پر ایسا عمل بھی کر سکتے ہو جو ان قواعد کے مطابق نہ ہو، اور پھر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔
ایسی حالت میں میرا ردِ عمل صرف شطرنج کے قواعد سے خود بخود اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہیبرماس کی بات بس اتنی ہی ہو تو میرے خیال میں یہ ان شکوک کی تصدیق کرے گی کہ ان کا مؤقف دراصل کھوکھلا ہے، کیونکہ عملی زندگی کے نہایت اہم اور سنجیدہ مسائل میں سے ایک بڑی قسم وہ ہے جس میں قواعد کی پابندی نہیں کی جاتی، اور اصل سوال یہی ہوتا ہے کہ پھر ہم کیا کریں۔
اگر میں شطرنج کا کھیل شروع کروں اور پھر اس کے قواعد کو نظر انداز کرنے لگوں تو تم کہہ سکتے ہو: “یہ شطرنج نہیں ہے”—اور تمہاری بات درست ہوگی۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ممکن ہے کہ میرے لیے شطرنج کے قواعد کی پابندی سے زیادہ اہم کچھ اور معاملات ہوں۔ اپنی کتاب
Changing the Subject
کے پہلے باب میں میں نے اس مسئلے پر بحث کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے انگمار برگمان کی فلم
The Seventh Seal
میں نائٹ اور موت کے درمیان ہونے والے شطرنج کے کھیل کی مثال دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹ، سچائی اور خلوص کے بارے میں قواعد بھی شطرنج کے قواعد جیسے ہی ہوتے ہیں؟ اس بات کو محض معمولی یا سطحی سمجھنے کے شبہے کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ بتایا جائے کہ ایسا کیوں نہیں ہے اور ہم ان “پیش فرضیات” کو کیوں تبدیل نہیں کر سکتے۔ صرف یہ دہرا دینا کہ یہی وہ مفروضے ہیں جو ہم قائم کرتے ہیں، اس سوال کا جواب نہیں بنتا۔
اس بحث کے مجموعی ڈھانچے کے لیے یہ بات زیادہ اہم نہیں کہ یہ “مفروضات” اور “پیش فرضیات” عملی مہارت کے علم
(knowing-how)
کی شکل رکھتے ہیں یا بیانی علم
(knowing-that)
کی صورت میں ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں کہوں: “میں یہ فرض نہیں کرتا کہ اگر میں ہیبرماس کے ساتھ مثالی حالات میں طویل عرصے تک اس مسئلے پر گفتگو کروں تو ہم لازماً کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جائیں گے”، تو وہ شاید جواب دیں: “اوہ، تم یہ مفروضہ رکھتے ہو—تمہیں بس اس کا علم نہیں کہ تم رکھتے ہو۔”
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں مان لیا جائے؟ صرف ایک ہی بات کو بار بار دہرانا کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جس چیز کو “عملی تضاد”
(pragmatic contradiction)
کہا جاتا ہے، اس دلیل کی کسی نہ کسی شکل سے یہاں ہیبرماس کی مدد کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ جب میں یہ جملہ ادا کرتا ہوں “میں اس وقت انگریزی نہیں بول رہا” تو یہ ہمیشہ غلط ہوتا ہے، کیونکہ اسے کہتے وقت میں دراصل انگریزی ہی بول رہا ہوتا ہوں۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گفتگو اور عمل کے کچھ ایسے قواعد موجود ہیں جو خود ہی اپنی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ ہیبرماس کا منصوبہ انہی قواعد کو مرتب کرنا ہے۔
لیکن میرے لیے یہ سمجھنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ عملی تضاد سے متعلق یہ دلائل کیسے کام کرتے ہیں، جب تک کہ پہلے سے یہ فرض نہ کر لیا جائے کہ ہم ایک بند اور مکمل نظام کے اندر ہیں۔ حالانکہ یہی تو اصل اختلاف کا نقطہ ہے کہ آیا ایسا کوئی بند نظام موجود ہے یا ہو سکتا ہے۔ چونکہ ماورائی فلسفہ رکھنے والوں اور ان کے ناقدین کے درمیان یہی بنیادی مسئلہ زیرِ بحث ہے، اس لیے ماورائی فلسفے کے حامی یہ بات غیر جانب دار انداز میں پہلے سے فرض نہیں کر سکتے کہ نظام بند ہے۔
فرض کریں کہ “میں اس وقت انگریزی نہیں بول رہا” دراصل ایک خفیہ جملہ ہے جس پر میں نے اپنے جاسوسی افسر کے ساتھ اتفاق کیا ہے تاکہ میں اسے یہ اطلاع دے سکوں کہ میں خطرے میں ہوں۔ اگر میں خطرے کی حالت میں یہ جملہ کہتا ہوں تو دراصل میں اپنے افسر کو سچ بتا رہا ہوں۔ اس پر ہیبرماس کے حامی کہیں گے: “لیکن تم اس طرح کھیل کے قواعد اور حدود کو نہیں بدل سکتے۔” میرا جواب ہوگا: “کیوں نہیں؟”
یہ کہہ دینا کہ اب ہم بحث کو “میٹا سطح” پر لے جاتے ہیں، بھی کوئی حل نہیں، کیونکہ وہی کھیل وہاں بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ممکن ہے ہیبرماس کا حامی کہے: “لیکن یہ سلسلہ کسی نہ کسی جگہ جا کر رکنا ہی چاہیے!” اس پر پھر وہی سوال اٹھتا ہے: “کیوں؟” کسی بھی مقام کو حتمی نہیں بلکہ عارضی سمجھا جا سکتا ہے، اور ہم اس بات کو جان بھی سکتے ہیں۔ یہاں ایک بار پھر ہم ماورائی فلسفے کے اس اضطراب سے دوچار ہوتے ہیں جو اس خیال کو برداشت نہیں کر پاتا کہ کوئی بھی نظام مکمل طور پر بند نہیں ہوتا اور بحث کے قواعد ہمیشہ کے لیے طے شدہ نہیں ہوتے۔
چونکہ بہت سے لوگوں کے لیے اس نکتے کو قبول کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے، اس لیے میں اسے دوبارہ دہراتا ہوں: انسانی زندگی کوئی بند اور مکمل نظام نہیں ہے، بلکہ ایسا نظام ہے جس کی سرحدیں غیر واضح اور غیر معین ہیں اور جو ایک بدلتے ہوئے مستقبل کی طرف کھلا ہوا ہے۔ یقیناً ہم بعض مخصوص مقاصد کے لیے اسے ایک بند نظام کی طرح فرض کر سکتے ہیں، مگر اس کی قیمت ہمیں ہمیشہ اس صورت میں چکانی پڑتی ہے کہ کچھ چیزیں اس نظام سے باہر رہ جاتی ہیں۔
ہم ہمیشہ یہ نہیں جان سکتے کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اس سے باہر رہ گئیں یا ان کی اہمیت کتنی ہے، کیونکہ پہلے سے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ نظام کے دائرے سے کیا خارج ہو گیا ہے۔ یہ بات ہمارے بہترین علم کی بنیاد پر عمل کرنے کے خلاف دلیل نہیں ہے، بلکہ صرف اس بات کے خلاف ہے کہ ہم اپنے اس علم یا مجموعی طور پر اپنے موجودہ سماجی نظام—کو غیر متبدل یا ماورائی بنیادوں پر قائم سمجھ لیں۔
بطور آخری دلیل ہیبرماس کے بعض حامی یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بحث و مکالمے کے بارے میں ان کے مخصوص نظریے کو رد کر دے تو اسے یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ سرے سے معقول گفتگو ممکن ہی نہیں، یا یہ کہ انسان اپنے کسی عمل کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتا۔ اس حکمتِ عملی کو لاطینی فقرے
“aut meum aut nihil”
سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، یعنی “یا میرا مؤقف قبول کرو یا کچھ بھی نہیں”۔ اس طریقۂ استدلال کو افلاطون کے زمانے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ افلاطون اپنے سامعین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ یا تو انسان کو “افکارِ کلیہ” (Ideas) کے ایک مضبوط مابعد الطبیعیاتی تصور کو قبول کرنا ہوگا، ورنہ اسے علمی اور معنوی انتشار اور مکمل بے معنویت کو ماننا پڑے گا۔
ہیبرماس کی پیش کردہ صورت بھی اسی طرح کی ایک جھوٹی دوئی ہے۔ ان کے مطابق یا تو عقل کے تصورات کو ایک مثالی مکالماتی صورتِ حال کی ماورائی بنیاد پر قائم مانا جائے، یا پھر سرے سے کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔ مصنف کے نزدیک یہ بھی ایک غلط تقسیم ہے۔ وہ اس انتخاب کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اسی طرح وہ یہ بات بھی نہیں مانتا کہ جب تک وہ خود “دلیل” کی مکمل متبادل تعریف پیش نہ کرے، تب تک اسے ہیبرماس کے نظریے کو رد کرنے کا حق حاصل نہیں۔
1976ء یا 1977ء میں جب میں وہ مسودہ لکھ رہا تھا جو بعد میں The Idea of a Critical Theory کے نام سے شائع ہوا، تو اس کے ساتھ ذیلی عنوان Habermas and the Frankfurt School شامل کرنے کا خیال ناشر کا تھا۔ میں نے اس کتاب کا تصور کسی خاص شخصیت کو پیشِ نظر رکھ کر نہیں کیا تھا بلکہ میرے سامنے تین بنیادی مقاصد تھے۔
پہلا مقصد یہ تھا کہ میں “نظریۂ ایدئولوجی” کے تصور کی دوبارہ بحالی کی کوشش کروں، کیونکہ اس زمانے میں اس تصور پر بہت تنقید کی جا رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ ان تنقیدوں کی بنیاد درست نہیں تھی اور وہ دراصل اس الجھن سے پیدا ہوئی تھیں کہ لفظ “ایدئولوجی” مختلف معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
دوسرا مقصد یہ تھا کہ میں اس خیال پر غور کروں کہ لوگ اپنے حقیقی مفادات رکھتے ہیں اور کبھی ان کے حصول کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
تیسرا مقصد یہ تھا کہ میں یہ اشارہ دوں کہ روشن خیالی کی ایسی شکلیں بھی ممکن ہیں جو سائنسی نظریات کی طرح نہ ہوں، مگر اس کے باوجود اہمیت رکھتی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں انسان کم یا زیادہ روشن خیال رویے اور طرزِ عمل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس معنی میں “زیادہ روشن خیال” ہونا صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی شخص کو زیادہ تجربات حاصل ہوں، یا اس کی آرا زیادہ اور بہتر دلائل پر قائم ہوں، یا وہ بعض رسمی خصوصیات—جیسے منطقی مطابقت—کو زیادہ درجے میں پورا کرتا ہو۔ میں نے اس تیسرے نکتے کا ذکر کتاب کے بالکل آخر میں مختصراً کیا تھا مگر اسے تفصیل سے نہیں کھولا۔
اگرچہ کتاب کو بظاہر خاصی کامیابی حاصل ہوئی، مگر اپنی نظر میں میں اسے بڑی حد تک ناکامی سمجھتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا کہ بعض سنجیدہ فلسفیوں—جن میں ڈک رورٹی بھی شامل تھے—نے یہ سمجھا کہ میں وہی بات کہہ رہا ہوں جس کے خلاف دراصل میں لکھ رہا تھا، یعنی یہ کہ میں لفظ “ایدئولوجی” کے استعمال کو غیر معتبر ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے یہ بھی سمجھا کہ میں یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ حقیقی مفادات ایسے ہوتے ہیں جو افراد کی اپنی تشکیل سے آزاد وجود رکھتے ہیں۔ آخر میں یہ بھی ہوا کہ کتاب کے اختتام پر روشن خیالی اور علم/سائنس کے بارے میں جو نکتہ میں نے اٹھایا تھا—جسے میں مرکزی سمجھتا تھا—اسے تقریباً کسی نے بھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا۔
بہر حال کوئی ناقد یہ کہہ سکتا ہے کہ کتاب جس صورت میں شائع ہوئی، وہ یقیناً یوں معلوم ہوتی ہے جیسے اس کا موضوع ہیبرماس کے فلسفے کا تجزیہ ہو۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ ایسا دعویٰ کرنے کے لیے ناقد کے پاس خاصی شہادتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ مجھے خود یہ کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی اور شخص کے ساتھ اس بات پر بحث کروں کہ ایک کتاب جسے میں نے خود لکھا تھا، اگرچہ چالیس برس پہلے اصل میں کس بارے میں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی متن شائع ہو جاتا ہے تو وہ ایک طرح سے عوامی دائرے میں چلا جاتا ہے اور کسی حد تک سب کی ملکیت بن جاتا ہے۔ اس صورت میں یہ بحث کرنے کا کیا فائدہ کہ “میری نیت یہ نہیں تھی” یا “میں اس بات کا ارادہ نہیں رکھتا تھا”؟ ممکن ہے نیت کی اہمیت اتنی زیادہ نہ ہو۔
میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ میری نظر میں یہ کتاب اس لیے ناکام رہی کہ لوگوں نے خاص طور پر وہ لوگ جنہیں میں محتاط اور سنجیدہ قاری سمجھتا تھا اور جن کی رائے کو میں اہمیت دیتا تھا اس کے مرکزی نکتے کو غلط سمجھا۔ ظاہر ہے کہ اس میں قصور میرا ہی تھا کہ میں اپنی بات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان نہ کر سکا۔
تاہم یہ بھی سچ ہے کہ 1970ء کی دہائی کے آغاز میں پیش آنے والے دو تجربات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ جب یہ کتاب لکھی جا رہی تھی تب تک ہیبرماس فکری اعتبار سے ایک ایسے راستے پر چل پڑے تھے جو کہیں نہیں پہنچتا۔ پہلا واقعہ تقریباً 1971ء کا ہے۔ اس زمانے میں میں ہائیڈلبرگ کے فلسفہ سیمینار میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتا تھا اور میرا دفتر جس ساتھی کے ساتھ مشترک تھا وہ کونراڈ کریمر تھے (جو بعد میں گوٹنگن یونیورسٹی میں پروفیسر بنے)۔ انہوں نے ایک بات کہی جو آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہیبرماس کی تحریروں میں سے لفظ “ماورائی”
(transcendental)
اور اس کے ساتھ “نیم ماورائی” جیسے الفاظ کو نکال دیا جائے تو نہ صرف متن کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ بہت سی واضح غلط باتیں درست معلوم ہونے لگیں گی۔ مسئلہ صرف یہ ہوگا کہ اس کے بعد تحریر فلسفیانہ اعتبار سے نہایت معمولی اور غیر اہم رہ جائے گی۔ اس گفتگو نے مجھے یہ یقین دلا دیا کہ ہیبرماس کے فلسفے میں “ماورائیت” مرکزی حیثیت رکھتی ہے، مگر دراصل وہ ایک بڑی فکری الجھن بھی ہے۔
دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب تقریباً 1972ء یا 1973ء میں ہیبرماس ہائیڈلبرگ میں ایرنست ٹوگنڈہات کے زبان کے فلسفے کے سیمینار میں آئے۔ وہاں انہوں نے مختصر گفتگو کی اور اس کے بعد طویل بحث شروع ہوئی۔ اس بحث کے دوران، کم از کم میری رائے میں، وہ زبان کے بارے میں اپنے ہی نظریات سے متعلق چند بنیادی سوالوں کا بھی قائل کن جواب دینے سے قاصر نظر آئے۔
سنہ 1974ء کے آغاز میں میں نے کولمبیا یونیورسٹی میں سڈنی مورگن بیسر کے ساتھ مل کر “ایدیولوجی اور سماجی علوم کے فلسفے” کے موضوع پر ایک سیمینار دیا اور اسی دوران اس مسودے پر کام شروع کیا جو بعد میں
The Idea of a Critical Theory
کے نام سے شائع ہوا۔ 1976ء تک میرے پاس ایدیولوجی اور مفادات کے موضوع پر تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ایک طویل مسودہ تیار ہو چکا تھا، مگر وہ ابھی مکمل نہیں تھا۔
سنہ 1977ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس کے مدیر جیریمی مائنٹ نے ایک غیر معمولی اور کسی حد تک خطرناک قدم اٹھاتے ہوئے مجھے پیشگی ایک معاہدہ پیش کیا کہ جب کبھی یہ مسودہ مکمل ہو جائے گا تو وہ اسے شائع کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ کسی نامعلوم مصنف کے نامکمل مسودے پر اس طرح کا اعتماد آج کے زمانے میں شاید اس وقت کے مقابلے میں بھی زیادہ غیر معمولی سمجھا جائے۔ تاہم یہ مکمل طور پر اندھیرے میں لگایا گیا اندازہ بھی نہیں تھا، کیونکہ اس وقت تک میں پرنسٹن یونیورسٹی منتقل ہو چکا تھا اور وہاں ایک سیمینار پڑھا رہا تھا جس میں سوسن جیمز، ڈک رورٹی اور ٹم اسکینلن شریک ہوتے تھے، اور اس سیمینار میں میں اپنی کتاب کے بعض خیالات پر گفتگو بھی کر رہا تھا۔ میرا گمان ہے کہ جیریمی نے ان لوگوں سے مشورہ کیا ہوگا اور شاید کوئنٹن اسکنر سے بھی، جو اس زمانے میں پرنسٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں تھے اور جن کے ساتھ میری اکثر نہایت مفید گفتگو ہوتی رہتی تھی۔
معاہدہ پیش کرتے وقت جیریمی نے یہ بھی تجویز کیا کہ یہ مسودہ کیمبرج کی نئی اشاعتی سلسلہ
Modern European Philosophy
میں مناسب طور پر شامل ہو سکتا ہے، جس کی ادارت اس وقت ایلن مونٹیفیور اور ہِدے ایشیگورو کر رہے تھے۔ میں نے اس مسودے پر 1979ء تک مسلسل کام جاری رکھا اور اس وقت تک اس کی طوالت تقریباً سات سو صفحات تک پہنچ چکی تھی (ڈبل اسپیس ٹائپ شدہ صورت میں)۔
میرے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ ہر سنجیدہ مصنف اپنے ہر مسودے کے بارے میں تین مرحلوں سے گزرتا ہے: پہلے مرحلے میں خود پسندی، دوسرے میں خود سے نفرت اور تیسرے میں تقدیر کے سپرد کر دینے والی بے اعتنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی مصنف تیسرے مرحلے تک پہنچ جائے تو مسودہ دراصل اشاعت کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ 1979ء میں میں بھی اسی تیسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔ تاہم میں ہمیشہ اسکندریہ کے شاعر (اور کتب دار) کالیماخوس کا مداح رہا ہوں جن کا مشہور قول تھا
“mega biblion, mega kakon”
یعنی “بڑی کتاب دراصل بری چیز ہوتی ہے”۔ اسی لیے میں نے اپنا مسودہ بھیجنے سے پہلے اسے جلدی سے کم کر کے صرف 160 صفحات تک محدود کر دیا اور اسے اس انداز میں ترتیب دیا کہ پہلی نظر میں یہ “ہیبرماس اور مکتبِ فرینکفرٹ” کے موضوع پر لکھی گئی کتاب معلوم ہو۔
میرا خیال تھا کہ محتاط قارئین فوراً سمجھ جائیں گے کہ اصل مقصد کچھ اور ہے، مگر یہاں میں نے سخت غلط اندازہ لگایا، کیونکہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔
بچپن میں مجھے ایک کہانی سنائی گئی تھی جس میں ایک انُوئٹ شکاری کے قطبی ریچھ کے شکار کا ذکر تھا۔ یہ کہانی میرے نزدیک اس طرزِ تحریر کی ایک مناسب مثال بن سکتی ہے جسے میں اپنی کتاب The Idea of a Critical Theory میں اختیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں، لیکن بطور استعارہ یہ ایک خاص قسم کی تحریر کو سمجھانے کے لیے بہت موزوں ہے۔
کہانی کے مطابق انُوئٹ شکاری وہیل کی ہڈی کا ایک سیدھا اور چھوٹا ٹکڑا لیتا ہے اور اسے دونوں سروں سے تیز کر دیتا ہے۔ پھر وہ اسے آگ پر گرم کرتا ہے۔ جب وہیل کی ہڈی گرم ہوتی ہے تو وہ نرم اور لچکدار ہو جاتی ہے، اس لیے شکاری اسے توڑے بغیر گھوڑے کی نعل کی شکل میں موڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس مڑی ہوئی ہڈی کو سیل مچھلی کی چربی میں لپیٹ دیتا ہے، اسے جما دیتا ہے اور اسے اس جگہ رکھ دیتا ہے جہاں قطبی ریچھ اسے تلاش کر سکے۔
جب قطبی ریچھ اسے ایک لذیذ جمی ہوئی چربی کا ٹکڑا سمجھ کر نگل لیتا ہے تو وہ اس کے معدے میں جا کر گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے چربی پگھلتی ہے، مڑی ہوئی وہیل کی ہڈی آہستہ آہستہ سیدھی ہو جاتی ہے اور بالآخر ریچھ کے معدے کو پھاڑ دیتی ہے۔ اس طرح ریچھ کے اندر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ شکاری اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آخرکار اسے ریچھ کی لاش مل جاتی ہے، جسے وہ اپنے خاندان کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اس کہانی میں قطبی ریچھ کو ہمارے لالچی نظریاتی نظام کی علامت سمجھیں ایک ایسا بھاری بھرکم نظام جو براہِ راست کسی بیرونی حملے سے تقریباً محفوظ رہتا ہے، مگر ہر اس دلکش لقمے پر فوراً جھپٹ پڑتا ہے جو ہماری بدترین تعصبات کی تصدیق کرتا ہوا محسوس ہو۔ میری کتاب
The Idea of a Critical Theory
دراصل اسی جمی ہوئی سیل کی چربی کے ٹکڑے کی طرح ہونی تھی جس کے اندر وہیل کی تیز دھار ہڈی کا ایک باریک اور باہر سے نظر نہ آنے والا ٹکڑا چھپا ہوا ہو یعنی کتاب کا مرکزی استدلال۔
میری امید یہ تھی کہ بے خبر قاری پورا متن پڑھتا چلا جائے گا اور بالآخر آخری صفحے تک پہنچے گا، جہاں چربی یعنی ہیبرماس کے حوالے سے بظاہر بیانیہ انداز میں دی گئی گفتگو پگھلنا شروع ہو جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی روشن خیالی کے بارے میں اصل نکتہ خودبخود سامنے آ جائے گا۔ اس کے بعد نظریاتی نظام کے اندر سے خون بہنا شروع ہو جائے گا اور آخرکار وہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔
مگر بدقسمتی سے، مایوسی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔
آخرکار اس ساری بات کا حاصل کیا ہے؟ اگر لوگ
The Idea of a Critical Theory
کو ہیبرماس کے فلسفے پر لکھی گئی کتاب سمجھتے ہیں تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ اسے آئندہ بھی اسی طرح سمجھتے رہیں گے۔ اور مجھے آخر اس بات میں کیا دلچسپی ہونی چاہیے کہ میں اس تصور کو توڑنے کی کوشش کروں؟ اگر میری اپنی نظر میں چالیس سال پہلے لکھی گئی یہ کتاب ایک ناکامی تھی تو پھر اس بات پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ اسے کیسے پڑھا جانا چاہیے؟
بس اس امکان کے پیش نظر کہ شاید کبھی کبھار کوئی ایسا غیر معمولی قاری سامنے آ جائے جو اس کتاب کے ظاہر کے نیچے چھپی ہوئی کسی اور بات کو تلاش کرنے کی کوشش کرے اور اسے وہاں کوئی دلچسپ چیز مل جائے۔ ظاہر ہے میں کسی کو اس طرح کتاب پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ متن کو صرف ایک ہی انداز میں پڑھنا چاہیے۔
میں نے تقریباً 1980ء کے بعد ہیبرماس کی تحریریں پڑھنا چھوڑ دیں، کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ وہ بدستور ایک ایسے فکری راستے پر چل رہے ہیں جو میرے نزدیک بالآخر ایک بند گلی ثابت ہوگا۔ البتہ بعد میں میں نے ان کی ایک اور کتاب
Der philosophische Diskurs der Moderne
جدیدیت کا فلسفیانہ مکالمہ
پڑھی، کیونکہ مجھ سے اس پر تبصرہ لکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ لیکن مجھے وہ کتاب غلط فہمیوں کے ایک مجموعے کے سوا کچھ نہ لگی، اور اس کے بعد میں نے ان کی تحریروں کے ساتھ خود کو باخبر رکھنے کی آخری کوشش بھی ترک کر دی۔
تو اگر میں کوئی ماہر نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہیبرماس کا منصوبہ بنیادی طور پر ناقص ہے، تو پھر میں اس کے بارے میں خاموش کیوں نہیں رہتا؟ پچھلے تقریباً تیس برسوں سے میں نے یہی کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس سال مارچ میں اتفاق سے میں وینکوور، کینیڈا میں تھا اور میرے پاس خاص کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ ہوٹل کی لابی میں موجود کمپیوٹر پر مجھے اپنے پرانے دوست مارٹن باؤر کا پیغام ملا، جو Mittelweg 36 اور Soziopolis سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مجھے ہیبرماس اور ابلاغ کے موضوع پر کچھ لکھنے کی دعوت دی۔
مارٹن کی ایک خاص عادت تھی کہ وہ ایسے موضوعات تجویز کرتے تھے جنہیں میں خود کبھی منتخب نہ کرتا اور جن پر لکھنے کے لیے میں خود کو نااہل سمجھتا تھا—مثلاً سروانتس کا ناول “ڈان کیخوتے”۔ مارٹن روایتی تعریفی اور رسمی باتوں سے گریز کرنا چاہتے تھے—اور اس میں بھلا ان کا کیا قصور ہو سکتا ہے؟ محض مدح سرائی پر مشتمل تحریروں کو شائع کرنے کا آخر فائدہ ہی کیا ہے؟
میرا خیال ہے کہ عام طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ عوامی فلسفیوں کو عوامی تنقید یا اختلافِ رائے سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے؛ اور یہ بھی کہ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ فلسفے میں کسی شخصیت کی اندھی عقیدت دراصل ایک نامناسب رویہ ہے۔ یہ روایت تو فیثاغوریوں کے ساتھ ختم ہو جانی چاہیے تھی، جنہوں نے اپنے بانی کے گرد ایک مذہبی سا تقدس قائم کر رکھا تھا، اور ہمارے پاس اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
چنانچہ وینکوور میں چار پانچ دن فارغ بیٹھے ہوئے میں نے جرمن زبان میں ایک مختصر مضمون لکھا جس میں میں نے ابلاغ کے موضوع پر ہیبرماس (اور ساتھ ہی ٹی۔ ڈبلیو۔ آدورنو اور جان ڈیوی) کے بارے میں اپنی یادداشتوں اور خیالات کو بیان کیا۔
یہ بات واضح ہے کہ میں ہیبرماس کو ایک خاص قسم کے لبرل ازم کی مثال سمجھتا ہوں جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ اس پر تنقید کی جانی چاہیے۔ اس موقف نے بظاہر کچھ لوگوں کو ناراض کر دیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ایسے وقت میں لبرل ازم پر تنقید کرنا مناسب نہیں جب دنیا بھر میں مختلف آمرانہ رہنما اور تحریکیں اس پر حملہ آور ہیں۔ بعض اوقات تو یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ پوتن کی حمایت سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہیبرماس کے نظریے کو قبول کر لیا جائے، یا یہ کہ پوتن کے ہاتھ مضبوط ہونے سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہر اس مؤقف پر تنقید سے گریز کیا جائے جسے معقول طور پر لبرل قرار دیا جا سکتا ہو—اور میرے نزدیک ہیبرماس کا مؤقف واضح طور پر اسی زمرے میں آتا ہے۔
کارل کراوس (اور میرے پرانے استاد سڈنی مورگن بیسر) کی پیروی کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ اگر مجھے پوتن اور ہیبرماس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں کسی ایک کو بھی منتخب نہیں کروں گا۔ بالکل اسی طرح جیسے جب ٹونی بلیئر نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ اگر ہم عراق پر حملے کی مخالفت کریں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں، تب بھی میں نے پیش کیے گئے ان دونوں متبادلوں میں سے کسی ایک کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اگر آپ مجھے یہ کہیں کہ مجھے لازماً انتخاب کرنا ہی ہوگا، تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ اس “لازماً” کی بنیاد کیا ہے—سوائے اس کے کہ آپ خود بہت شدت سے چاہتے ہیں کہ میں انہی دو متبادلوں میں سے کسی ایک کو چنوں۔
دوسرے لفظوں میں اگر کوئی شخص اس بات پر زور دے کہ چونکہ اس وقت ولادیمیر پوتن بھی لبرل ازم پر حملہ آور ہے، اس لیے ہر ایک کو لبرل ازم پرحتیکہ اگر وہ تنقید معقول بنیادوں پر کیوں نہ ہو تنقید سے باز رہنا چاہیے، تو یہ مطالبہ دراصل لبرل ازم کی ایک عجیب صورت پیش کرتا ہے۔
بہت سے تنقیدی نظریہ کے مفکرین اس قبائلی رجحان کے بارے میں گہرا شک رکھتے تھے جس کے تحت لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی “اداروں” کے گرد جمع ہو جائیں اور بلا تنقید ان کا دفاع کریں۔ آدورنو کا خیال تھا کہ اگر روشن خیالی کو اپنی بنیادی روح کے ساتھ وفادار رہنا ہے تو اسے خود اپنے بارے میں بھی تنقیدی شعور پیدا کرنا ہوگا۔
ہیبرماس کے کام کے بارے میں سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ انہوں نے اس خیال کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
ہیبرماس اپنے پیروکاروں میں غیر معمولی وابستگی پیدا کرتے ہیں، اور یہ رجحان اسی طرح جیسے فلسفیانہ وابستگی اور وفاداری کے دوسرے مظاہر درحقیقت اس سے کہیں زیادہ مطالعے کے مستحق ہیں جتنا اب تک ان پر کیا گیا ہے (اور جہاں تک مجھے معلوم ہے، شاید اس پر کوئی خاص تحقیق ہوئی ہی نہیں)۔ قدیم زمانے سے ہی فلسفی مختلف مکتبۂ فکر قائم کرتے آئے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ علمی مناظرے اور مباحث کرتے رہے ہیں۔
یہ بات بالکل قابلِ فہم ہے کہ فلسفی اپنے اساتذہ کے نظریات کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور ان پر تنقید کرنے سے پہلے دو بار سوچتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان کسی ایسے شخص سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے جس کے بنیادی نظریات میں خامیاں ہوں یا جس کے نظریے کو وہ بعد میں رد کر دے۔ مثال کے طور پر میں نے اپنے اسکول میں مجھے پڑھانے والے ہنگری کے رومن کیتھولک پادریوں سے بہت کچھ سیکھا، حالانکہ میں بہت جلد اس مذہبی فکری ڈھانچے سے دور ہو گیا تھا جسے وہ خود مانتے تھے اور اپنے طلبہ میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
تاہم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسانی اور تعلیمی تعلق کو نظریاتی اختلاف سے الگ کرنا آسان نہیں ہوتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی بھی فلسفیانہ نظام کو پوری طرح سمجھ لینا بذاتِ خود ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے تقریباً دو عشرے کانٹ کی تحریروں کا مطالعہ کرنے اور مختلف جامعات میں کانٹ کے فلسفے پر درس دینے میں گزارے۔ اس کام میں وقت اور توانائی کی بہت بڑی سرمایہ کاری شامل تھی۔ اس میں فنی اصطلاحات کو یاد رکھنا، ان کے استعمال میں بظاہر موجود ابہامات اور معمولی فرقوں کو نوٹ کرنا، ایک جیسے مسائل کے مختلف اندازِ بیان کا تقابل کرنا، اور آخرکار ان بے شمار ثانوی تحریروں—یعنی مختلف “تشریحات”—سے واقف ہونا بھی شامل تھا جو کانٹ کے فلسفے پر لکھی گئی تھیں اور جن کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ سب کچھ تقریباً ایک مکمل وقتی مشغلہ بن گیا تھا، اور وقت کے ساتھ میرے لیے اسے جاری رکھنا زیادہ سے زیادہ مشکل ہوتا گیا۔
اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جب بھی میں کانٹ کی کسی تحریر کو دوبارہ پڑھتا تو اس کے خیالات مجھے پہلے سے کم قابلِ قبول محسوس ہوتے۔ ابتدائی تقریباً دس برسوں تک میں نے اس کا سبب اپنی سستی یا اپنی کسی بنیادی غلط فہمی کو سمجھا۔ میں نے صبر کے ساتھ ان کی تحریریں بار بار پڑھیں اور کانٹ کے ان ماہرین سے مشورہ بھی کیا جن تک میری رسائی تھی، مگر اس کے باوجود کانٹ کے نظام کی بعض بنیادی خصوصیات کے بارے میں میرا تعجب کم نہ ہو سکا۔ رفتہ رفتہ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ دراصل کانٹ کے پورے طریقۂ فکر میں ہی کچھ بنیادی خامیاں موجود ہیں، اور ان کے فلسفیانہ نظام کی باریک تفصیلات—جیسے حسیات، تصورات، افکار، ادراک کی صورتیں، اسکیمات وغیرہ—پر حد سے زیادہ توجہ دینے سے ان بنیادی خامیوں کی طرف سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔
لیکن اپنے آپ سے یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل تھا، کیونکہ اس کا مطلب یہ مان لینا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے دس سال سے بھی زیادہ وقت ایسی کتابوں کے مطالعے میں صرف کر دیے جو دراصل مجھے بالکل غلط سمت میں لے جا رہی تھیں۔ ہیبرماس کی ضخیم تحریریں اگرچہ کانٹ کی طرح داخلی طور پر اتنی منظم اور نہ ہی اتنی باریک استدلال پر مبنی ہیں، پھر بھی انہیں پوری طرح سمجھ لینا انسانی زندگی کا ایک خاصا بڑا حصہ مانگتا ہے—اور اسے محض ایک غلط سرمایہ کاری قرار دے دینا آسان نہیں ہوتا۔
یہ بھی قابلِ فہم ہے کہ جو شخص کسی پیچیدہ اور مشکل فلسفیانہ نظام کو سمجھنے میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ لگا دے، وہ اس سرمایہ کاری کو بے قدر ہوتے دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔ اپنے پسندیدہ مؤقف یا فلسفی کا پُرعزم دفاع کرنا ایک قابلِ تعریف جذبہ ہے، اور بعض فلسفی اپنے مداحوں میں خاص طور پر ایسا جذبہ پیدا کر دیتے ہیں—مثلاً وٹگنشتائن۔ لیکن یہ بات اس صورتِ حال سے مختلف ہے جب کسی خاص فلسفی کے ساتھ شناخت اس حد تک مضبوط ہو جائے کہ اس پر تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا جانے لگے۔ ایسا رویہ بظاہر ہیبرماس کے بعض پیروکاروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بات کسی حد تک پراسرار ہے کہ آخر کیوں بعض فلسفی کچھ لوگوں کے لیے ایک علامتی اور مقدس حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتی کہ وہ فلسفی—اور صرف وہی—ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔
تاہم اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اس بات میں غلط تھا کہ ہیبرماس کے بعض شاگردوں اور عقیدت مندوں کے سخت دفاعی ردِعمل کی اصل وجہ صرف یہی دو باتیں تھیں۔ دراصل اس کے پیچھے ایک تیسری وجہ بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں اگر ہم مکتبِ فرینکفرٹ کے ابتدائی پروگرام کو دیکھیں—جیسا کہ ہوکھائمر نے اپنے مشہور مضمون روایتی اور تنقیدی نظریہ میں بیان کیا تھا—تو بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ ہوکھائمر کے مطابق تنقیدی نظریہ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے میں مدد دی جائے۔ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ موجودہ نظام کو محض شائستہ یا معتدل تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے بلکہ اس کا ایسا بنیادی اور جڑ سے تجزیہ کیا جائے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ نظام صرف کچھ پہلوؤں میں ناقص نہیں بلکہ اپنی بنیاد ہی میں غلط اور باطل ہے۔
آدورنو کے الفاظ میں مسئلہ یہ نہیں تھا کہ موجودہ معیشت اور معاشرے میں اصلاح کی جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس کے بجائے “بالکل کچھ اور” (das ganz Andere) وجود میں آئے۔ کوئی شخص اس منصوبے کو بچکانہ، ناپختہ، غیر مربوط یا خطرناک قرار دے سکتا ہے۔ لیکن ایک بات سے انکار کرنا مشکل ہے کہ آدورنو، ہوکھائمر اور ان کے گرد موجود بہت سے مفکرین واقعی یہی سمجھتے تھے۔ یہ وہ مرکزی دھاگا تھا جو ان کے خیال میں ان کے پورے فکری کام کو جوڑتا اور اسے معنوی وحدت عطا کرتا تھا۔
سنہ 1960ء کی دہائی میں جن لوگوں نے—میرے جیسے—مکتبِ فرینکفرٹ میں دلچسپی لی، ان میں سے بہت سوں کو اس تصور میں کم از کم کسی حد تک کشش محسوس ہوتی تھی، یا وہ اس کشش کا تصور کر سکتے تھے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: اپنی تمام فکری مہارت اور پیچیدہ استدلال کے باوجود ہیبرماس اس بنیادی منصوبے کے شریک نہیں ہیں۔ وہ اگرچہ اسے کھلے لفظوں میں نہیں کہتے، مگر دراصل اسے مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں۔
ہیبرماس کے نزدیک موجودہ نظام سراسر باطل اور شر نہیں ہے جسے جڑ سے اکھاڑ کر کسی بالکل مختلف نظام سے بدل دینا چاہیے۔ اس کے برعکس وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا لبرل سیاسی نظام بنیادی طور پر درست سمت میں ہے اور اسے بہتر طریقے سے چلانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ بات محض تنقیدی نظریہ میں کوئی معمولی ترمیم نہیں بلکہ درحقیقت اس منصوبے کو بالکل ترک کر دینا ہے—بلکہ یوں کہا جائے کہ اسے اس کی ضد میں تبدیل کر دینا ہے۔
اس بات کی نشان دہی کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ آدورنو درست تھے اور ہیبرماس غلط۔ اور نہ ہی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس معاملے میں میرا اپنا رویہ لازماً درست، ذمہ دارانہ، مربوط یا حقیقت پسندانہ ہے۔ تاہم 1970ء کی دہائی سے میں نے یہ کوشش ضرور کی ہے کہ مکتبِ فرینکفرٹ کے اصل پروگرام کے ساتھ کم از کم ایک باقی ماندہ تعلق برقرار رکھا جائے اور اسے ہیبرماسی فکر کے بڑے سیلاب کے نیچے دب کر مکمل طور پر اوجھل ہونے سے بچایا جائے۔
میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص ہوکھائمر اور آدورنو کے اصل تنقیدی نظریے کی روایت سے ذرا سا بھی تعلق برقرار رکھے تو اسے صاف نظر آئے گا کہ ہیبرماس کے خیالات وہی چیز ہیں جن سے وہ سخت نفرت اور حقارت کرتے۔ ممکن ہے کہ وہ لبرل آئینی نظام جس کی تبلیغ ہیبرماس کرتے ہیں—یعنی ایسا نظام جسے تقریری افعال کے نظریے سے آراستہ کیا گیا ہو—واقعی وہ نسخۂ شفا ہو جس کا دنیا انتظار کر رہی تھی۔ لیکن کیا واقعی اس پیغام کی تبلیغ کے لیے ہمیں ہیبرماس کی ضرورت تھی؟ کیا ان کے فکری ذخیرے میں بس یہی ایک چیز ہے؟
میرے استاد سڈنی مورگن بیسر غالباً اس پر طنز کرتے ہوئے کہتے:
“Und damit reist er in alle Welt?”
یعنی: “تو کیا وہ اسی بات کے سہارے پوری دنیا کا سفر کر کے روزی کما سکتا ہے؟”
جان ڈیوی نے اپنی کتاب
Reconstruction in Philosophy
میں لکھا تھا کہ فلسفہ عموماً موجودہ نظام کا تابع اور اس کے پیچھے چلنے والا رہا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس روایت کو بدلا جائے۔ برنارڈ ولیمز نے اپنی کتاب Shame and Necessity میں روایتی فلسفے پر یہ تنقید کی کہ وہ ہمیں ہمیشہ یہ “خوش خبری” سنانے کا عادی ہے کہ آخرکار دنیا کی چیزیں کسی نہ کسی طرح درست ترتیب میں ہیں۔ ولیمز کا خیال تھا کہ قدیم یونانی المیے کا مطالعہ ہمیں دکھا سکتا ہے کہ روایتی فلسفے کی یہ “خوش خبری” دراصل ایک مبالغہ ہے۔
آدورنو تو یہاں تک کہتے تھے کہ اس دنیا میں جو زندگی ہم گزارنے پر مجبور ہیں، اس میں کوئی درست زندگی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس ہیبرماس ہمیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہم جرمن آئین
(Grundgesetz)
پر فخر اور حب الوطنی کا احساس رکھیں۔ یقیناً یہ ایک حوصلہ افزا خیال ہے—خاص طور پر اگر متبادل صرف پوتن یا جرمن آئین میں سے ایک کو چننے کا ہو۔ لیکن آدورنو اور ڈیوی کی بات کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ ہمیں دیے ہوئے متبادلوں کو بلا سوچے سمجھے قبول نہیں کرنا چاہیے۔
ہیبرماس کے نزدیک نہ تو کوئی حقیقی المیہ موجود ہے—یعنی ایسی صورتِ حال جہاں انسان کو واقعی دو برائیوں میں سے ایک کا ناگزیر انتخاب کرنا پڑے—اور نہ ہی کوئی انقلابی عمل جو واقعی نئے اور بنیادی طور پر مختلف حالات اور مباحث کے نئے اصول پیدا کرے۔ ان کے ہاں صرف ایک نہ ختم ہونے والی گفتگو باقی رہ جاتی ہے، جو مسلسل جاری رہتی ہے، اور جس میں یہ امید کی جاتی ہے کہ آزادی کے بعض تصورات کو پہلے سے “پیش بینی” کر کے انہیں زیادہ مکمل طور پر حاصل کیا جا سکے گا۔
برسوں کے دوران میں اس بات کا عادی ہو گیا ہوں کہ لوگ میرے خیالات اور میرے عمومی رویّے کو انسان بیزار، تاریک، تلخ یا بدگمان قرار دیتے ہیں۔ کسی حد تک میں یہ بھی سمجھ سکتا ہوں کہ لوگ ایسا ردِعمل کیوں ظاہر کرتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے اداروں کو دیکھتے وقت وہ گلابی عینک پہننے پر آمادہ نہیں ہوتا—یا شاید پہن ہی نہیں سکتا—جسے میرے بعض ساتھی لازم سمجھتے ہیں۔
میرا مسئلہ یہ نہیں کہ میں ہیبرماس کے مثالی مکالماتی صورتِ حال کے نظریے کو اس لیے رد کرتا ہوں کہ وہ کچھ ایسے آئیڈیل پیش کرتا ہے جو ابھی تک حقیقت میں موجود نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظریہ دراصل تخیّل کی کمی اور فلسفیانہ بزدلی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ اپنے تصورات کو ہمارے موجودہ طرزِ زندگی کے مطابق ہی ڈھال لیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہیبرماس کے مطابق ان آئیڈیلز کی خوبی یہ ہے کہ وہ ماورائی بنیادوں پر قائم ہیں، اس لیے ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم انہیں دوسروں پر بھی مسلط کریں۔ یہی وہ بات ہے جس کی میں سختی سے تردید کرتا ہوں۔
میں اور میرے دوست بھی بہت سے ایسے آئیڈیل رکھتے ہیں جو ابھی حقیقت میں موجود نہیں مگر بالکل جائز ہیں۔ مثال کے طور پر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں نشاۃِ ثانیہ کی موسیقی آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگوں کو سننے کے لیے میسر ہو۔ لیکن اگرچہ ہمیں یہ آئیڈیل قیمتی محسوس ہوتا ہے، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہم یہ فرض کر لیں کہ دوسرے لوگ بھی لازماً اس کے پابند ہوں، یا ہم اسے ان پر مسلط کر سکتے ہیں، یا ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ بھی اسی مقصد کے حصول کی کوشش کریں۔
ہیبرماس کے نظریے کی یہ ماورائی ساخت دراصل تخیل کو محدود کر دیتی ہے، متبادل امکانات کی تلاش کو روک دیتی ہے، اور ہماری توجہ اس حقیقی سماجی سیاق و سباق سے ہٹا دیتی ہے جس میں یہ آئیڈیل پیدا ہوتے ہیں اور جہاں ان کا عملی کردار متعین ہوتا ہے۔
مجھے شبہ ہے کہ ہیبرماس کے بعض مداحوں کی طرف سے میرے مضمون پر جو شدید ردِعمل سامنے آیا، وہ دراصل اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ خود بھی کسی حد تک اس بات سے مایوس ہیں جو ہیبرماس انہیں فراہم کرتے ہیں—یا شاید انہیں یہ ادھورا سا احساس ہو گیا ہے کہ انہیں مطمئن کرنے کے لیے دراصل بہت تھوڑی سی چیز ہی کافی ہے۔ بریخت اپنی تحریر
“Der Zettel des Brauchens”
“درکار چیزوں کی فہرست”
(یہ عنوان برٹولٹ بریخت کی اس تحریر/نظم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں وہ انسان کی ضروریات، قناعت اور اس پر فخر کے خیال پر تنقیدی انداز میں بات کرتے ہیں۔ مترجم)
میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہیں بہت کم چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور بریخت کے نزدیک یہ فخر دراصل غلط جگہ پر ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والی ماحولیاتی تباہی ہمیں عمومی طور پر زہد و قناعت کے تصور پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دے اور کسی حد تک اپنی خواہشات اور توقعات کو محدود کرنے کے خیال کو پھر سے اہم بنا دے۔ لیکن حتیٰ کہ ایسے حالات میں بھی یہ حیرت کی بات ہوگی اگر ہیبرماسی انداز کا “جوں کا توں نظام” جس میں بس مکالماتی اخلاقیات کی سطح کچھ بلند کر دی جائے واقعی کوئی خاص کشش پیدا کر سکے۔
آخرکار اس سے زیادہ انسان بیزاری اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسانیت کے لیے معیار اتنا نیچا مقرر کر دیا جائے کہ بس ہمارے موجودہ نظام اور موجودہ طریقۂ عمل کا ذرا سا بہتر، تھوڑا سا اصلاح شدہ نمونہ ہی کافی سمجھ لیا جائے؟