کامریڈ مولانا برکت اللہ بھوپالی: جلاوطنی سے عالمی انقلاب تک
کے عنوان سے یہ مضمون پنجاب کے عظیم انقلابی کمیونسٹ سوہن سنگھ جوش کی کتاب “کامریڈ بھگت سنگھ سے میری ملاقاتیں اور دوسری انقلابی ” میں شامل “مولانا برکت اللہ ” کے عنوان سے شامل دوسرے مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔ ہم نے اس سے پہلے ان کی اسی کتاب سے “میری کامریڈ بھگت سنگھ سے ملاقاتیں” کا اردو ترجمہ شایع کیا تھا جسے پر پڑھا جاسکتا ہے https://urdu.easterntimesnews.com/بھگت-سنگھ-یادوں-کے-دریچوں-سے-سوہن-سنگ/

مولانا محمد برکت اللہ
محمد برکت اللہ ہندوستانی انقلاب کے جلاوطن مجاہدین میں نہایت عزیز اور محترم سمجھے جاتے تھے۔ ان کی عمر چھپن برس سے اوپر جا چکی تھی اور بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی اتر آئی تھی۔ وہ جلاوطنی کے مسلسل تیس برس کا بوجھ اٹھا چکے تھے۔ اس طویل عرصے میں ان کا یقین کبھی متزلزل نہ ہوا کہ وہ اور ان کے رفقا ایک دن ہندوستان کو برطانوی شکنجے سے آزاد کرائیں گے۔ وقت گزرتا رہا، بڑھاپے نے جوانی پر غلبہ پا لیا، ضعف و ناتوانی نے اپنی تمام علامات کے ساتھ انہیں گھیر لیا، مگر انہوں نے ہر قسم کی محرومی، مشقت اور کٹھنائی کو مردانہ وار برداشت کیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بعض وہ ساتھی، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے بے شمار صعوبتیں جھیلی تھیں، دشمن کے دامن میں جا پناہ ہوئے، لیکن ہندوستان کی آزادی پر ان کا ایمان کبھی متزلزل نہ ہوا، اور وہ تحریک سے کبھی کنارہ کش نہ ہوئے۔ وطن کی آزادی کے لیے جو عہدِ وفا انہوں نے باندھا تھا، اس پر وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک ثابت قدم رہے۔[1]
یہ وہ الفاظ ہیں جن میں مس ایگنس سمدلی نے مولانا برکت اللہ کی وفات کے موقع پر تحریکِ آزادی سے ان کی غیر معمولی وابستگی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ایگنس سمدلی برلن کے ہندوستانی انقلابیوں کے ساتھ کام کر چکی تھیں اور مولانا کو بہت قریب سے جانتی تھیں۔[1]
محمد برکت اللہ ایک نہایت غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منشی شیخ قدرت اللہ ریاست بھوپال کی ملازمت میں تھے اور تقریباً 1876ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ برکت اللہ کی پیدائش کی صحیح تاریخ معلوم نہیں۔ ان کے سوانح نگار ایم۔ عرفان کے نزدیک ان کی ولادت 1858-59ء میں ہوئی، جب کہ سرکاری ریکارڈ میں 1864ء درج ہے۔ انہوں نے سلیمانیہ اورینٹل کالج، بھوپال، یعنی دارالعلوم بھوپال، میں عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی، اور مسلم مذہب و فلسفہ پر گہری دسترس پیدا کی۔ انہوں نے اسی ادارے سے میٹرک کیا۔[3]
1882ء میں برکت اللہ پر معروف مفکر اور مصلح شیخ جمال الدین افغانی کی علمیت کا گہرا اثر پڑا، جو یورپ جاتے ہوئے بھوپال آئے تھے۔[3]
سی آئی ڈی کی رپورٹوں کے مطابق، برکت اللہ “ایک نہایت ذہین نوجوان تھے۔ وہ تقریباً 1883ء میں گھر سے نکل گئے اور پہلے کھنڈوا میں، پھر بمبئی میں بطور اتالیق ملازم رہے۔”[2] اس عرصے میں انہوں نے انگریزی زبان کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔ پھر تقریباً 1887ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے اور دنیا دیکھنے کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ علم کی پیاس ان میں غیر معمولی تھی۔
انگلستان میں قیام کے دوران برکت اللہ نے انگریز اور دوسرے طلبہ کو عربی اور اردو پڑھائی، اور خود انگریزی ادب اور برطانوی ریاستی نظام کے طریقِ کار سے آگاہی حاصل کی۔ وہاں ان کا رابطہ عظیم انقلابی شیام جی کرشن ورما اور ہندوستان کی ان دوسری اہم شخصیات سے ہوا جو وقتاً فوقتاً انگلستان یا دوسرے ممالک سے وہاں آتی رہتی تھیں۔ انہوں نے جی۔ کے۔ گوکھلے، جو ہندوستان کے ایک لبرل رہنما تھے، اور افغان شہزادے سردار نصر اللہ خان سے بھی ملاقات کی۔ بعد کے برسوں میں یہ آخری تعلق ان کے لیے بہت سودمند ثابت ہوا۔[3]
تقریباً 1894ء میں برکت اللہ لیورپول کے مسلم انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہوئے اور عبداللہ قلیمی کے اخبار دی کریسنٹ اور رسالے دی اسلامک ورلڈ کی ادارت میں ان کی معاونت کرنے لگے۔ اس سے پہلے وہ لندن ٹائمز کے لیے مختصر مضامین بھی لکھ چکے تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی شہرت پھیلنے لگی اور وہ لیورپول یونیورسٹی کے اورینٹل کالج میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اسی زمانے میں انہوں نے وکٹورین دور کے معروف وزیر اعظم گلیڈ اسٹون پر، سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان اور عالمِ اسلام کے خلیفہ کے خلاف اس کی جارحانہ تقاریر کے باعث، سخت تنقید کی اور خلیفہ اور اس کے منصب کا دفاع کیا۔[3][4]
انگلستان میں رہتے ہوئے برکت اللہ نے مسلم پیٹریاٹک لیگ کے اجتماعات میں شرکت کی اور مسلم سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان کے مضامین اور تحریروں نے وہاں کی مسلم برادری کے دلوں میں ان کے لیے خاص محبت پیدا کر دی۔
برکت اللہ تقریباً گیارہ برس انگلستان میں گزار چکے تھے کہ انہیں نیویارک، امریکہ، آنے کی دعوت ملی۔ وہ تقریباً 1899ء میں امریکہ روانہ ہوئے۔ انگلستان میں قیام نے ان کی سیاسی بصیرت کو وسعت دی تھی اور وہ دیکھ چکے تھے کہ برطانیہ کس طرح ہندوستان پر حکمرانی کر رہا ہے۔ انگلستان میں پائی جانے والی نسبتاً آزاد فضا نے بھی ان پر گہرا اثر ڈالا۔ اس وقت تک وہ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔
نیویارک میں برکت اللہ برطانوی حکمرانوں کی گرفت سے باہر تھے۔ وہاں انہوں نے کھل کر ہندوستان کی آزادی کے لیے کام شروع کیا۔ انہوں نے سیموئل لوکاس جوشی، جو ایک مراٹھی عیسائی تھے، کے ساتھ مل کر 1، ویسٹ چونتیسویں اسٹریٹ پر پین آریَن ایسوسی ایشن قائم کی۔[5] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تنگ نظری سے اوپر اٹھ چکے تھے اور ایک قوم پرست شعور اختیار کر چکے تھے۔ ان کا رابطہ آئرش محب وطنوں سے ہوا، جنہوں نے اس انجمن کی تشہیر اور اس کے پروگرام کو پھیلانے میں مدد دی۔ امریکہ کے آئرش رہنماؤں کا یہ بڑا کارنامہ تھا کہ وہ ہمیشہ ہندوستانی جلاوطنوں کے ساتھ مشترک جدوجہد کرتے رہے، اور آئرلینڈ اور ہندوستان دونوں کے محب وطن برطانوی غلامی کے خلاف شانہ بہ شانہ لڑتے رہے۔ گیلک امریکن اخبار کے عملے کے ایک رکن جارج فری مین ہندوستان کی آزادی کے مقصد کے لیے ہمیشہ نہایت معاون ثابت ہوئے۔
مولانا برکت اللہ نے 1905ء میں نیویارک سے مولانا حسرت موہانی کو ایک قومی پروگرام پر مشتمل خط بھیجا۔[5] اس زمانے میں حسرت موہانی ہندوستان میں ایک انقلابی قوم پرست کے طور پر معروف تھے۔ اپنی وضاحت میں برکت اللہ نے لکھا: “ہندوستان میں بھوک سے دو کروڑ انسان، ہندو اور مسلمان، مر چکے ہیں، جو ایران کی پوری آبادی سے زیادہ ہیں، کیونکہ ایران کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ ہے۔” پھر انہوں نے سوال اٹھایا: “یہ غربت کہاں سے آئی؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہندوستان پر برطانوی حکومت!” “ہندوستان کے غریبوں کی جیبوں سے تین کروڑ روپے انگلستان چلے جاتے ہیں”، وغیرہ وغیرہ۔[5]
ان سطور سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی راج کے خلاف برکت اللہ کے دل میں کس قدر شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانیوں کے پاس ایسا پروگرام ہو جس کے ذریعے عوام کو منظم کر کے برطانوی غاصبوں کو نکالا جا سکے۔
امریکہ میں ان کے قیام کے دوران میڈم کاما اکتوبر 1907ء میں وہاں آئیں۔ اترتے ہی انہوں نے نیویارک کے ایک اخبار کو انٹرویو دیا اور کہا: “ہم غلامی میں ہیں اور میں امریکہ صرف اس مقصد کے لیے آئی ہوں کہ برطانوی جبر و استبداد کی پوری حقیقت بے نقاب کروں، جو اتنی دوری کے باعث ابھی تک پوری طرح سمجھی نہیں گئی، اور اس عظیم جمہوریہ کے گرم دل شہریوں کو ہماری آزادی کی جدوجہد میں دلچسپی دلاؤں۔”[6] انہوں نے نیویارک میں چند جلسوں سے خطاب کیا، جن میں برکت اللہ نے سرگرم حصہ لیا۔ ان کی امریکہ آمد نے برکت اللہ اور ان کے دوست جوشی کی قائم کردہ انجمن کو تقویت پہنچائی۔
نیویارک میں برکت اللہ نہایت فعال تھے۔ انہوں نے اور جوشی نے جون 1907ء کے وسط میں ہندوستانیوں کا ایک اجتماع منعقد کیا، جس میں یہ قراردادیں منظور کی گئیں کہ کسی غیر ملکی، یعنی مورلے، کو ہندوستانی عوام کے مستقبل کے تعین کا حق نہیں؛ ہندوستانیوں کو اپنی قوت پر بھروسا کرنا چاہیے، خصوصاً بائیکاٹ اور سودیشی پر؛ لالہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ کی جلاوطنی کی مذمت کی گئی؛ اور برطانوی حکام کی اس کارروائی سے شدید نفرت کا اظہار کیا گیا جس کے ذریعے جموپور اور دوسرے مقامات کی طرح ایک ہندوستانی طبقے کو دوسرے کے خلاف کھلم کھلا بھڑکایا جا رہا تھا۔[2]
اگست 1907ء میں برکت اللہ نے نیویارک سن میں ایک خط شائع کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ انگریز اس وجہ سے گھبرا رہے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور قوم پرستی کی کامیابی پہلے سے زیادہ قریب دکھائی دیتی ہے۔ “اس وقت ہندوستان میں عوام کے رہنماؤں اور برطانوی حکومت کے درمیان اصل کشمکش اس بات پر ہے کہ آیا عوام کو حب الوطنی کے رشتے میں منسلک کیا جائے یا انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا کر رکھا جائے۔ رہنماؤں نے ہر قیمت پر اتحاد پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور انہیں کامیابی کی بڑی امید ہے۔”
مئی 1907ء میں انہوں نے فارسی میں ایک مضمون لکھا، جو علی گڑھ کے اردوئے معلّیٰ میں شائع ہوا۔ اس میں برکت اللہ نے ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور مسلمانوں کے دو بڑے فرائض یہ قرار دیے: وطن دوستی اور ہندوستان سے باہر کے تمام مسلمانوں کے ساتھ دوستی۔ “ان دونوں فرائض کی ادائیگی ایک ہی اصولِ عمل پر منحصر ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام سیاسی معاملات میں ہندوستان کے ہندوؤں کے ساتھ اتفاق و اتحاد قائم رکھا جائے۔”[7]
برکت اللہ کے سیاسی نظریات کو ہندوستان کے قومی مسلم انقلابیوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا محمد حسن کی طرف سے انہیں پیغام پہنچایا گیا کہ وہ جاپان کے لیے دوسرے خفیہ مشن کی قیادت کریں، اور انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ وہ فروری 1909ء میں نیویارک سے جاپان روانہ ہوئے، جہاں انہیں ٹوکیو یونیورسٹی میں ہندوستانی زبان کے پروفیسر کے طور پر مقرر کیا گیا۔
وہاں پہنچتے ہی انہوں نے جاپان میں مقیم ہندوستانیوں کے درمیان اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے اسلامک فریٹرنٹی کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور اسی نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ اس اخبار کا بنیادی موضوع بلقان اور دوسری جگہوں پر مسلمانوں کے خلاف برطانوی مظالم پر تنقید تھا۔ انٹیلی جنس افسر جے۔ سی۔ کیر کے مطابق، “1912ء میں مدیر ایک بار پھر انگریزی زبان کے استعمال میں زیادہ رواں اور اپنے لہجے میں زیادہ برطانوی مخالف ہو گیا تھا۔” برکت اللہ کی نفرت برطانوی بربریت کے خلاف اس قدر شدید تھی کہ انہوں نے اسپیکٹیٹر سے ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے اسے یوں بے نقاب کیا:
“ایک رومی شاعر، جو مسیح سے دو سو سال پہلے زندہ تھا، اپنے زمانے کے اینگلو سیکسنوں کو سمندری بھیڑیے کہتا تھا، جن کا گھر سمندر تھا، جن کا دوست طوفان تھا اور جو دنیا کی لوٹ مار پر زندہ رہتے تھے۔ دو ہزار برس گزر چکے ہیں، لیکن اس نسل کی لوٹ مار کی جبلت میں کوئی نرمی نہیں آئی۔ اگر اس میں کچھ اضافہ ہوا ہے تو وہ منافقت کی لطافت ہے، جو درندگی کی دھار کو اور تیز کرتی ہے۔”[8]
برطانوی حکومت نے اپنے جاسوس دنیا بھر میں پھیلا رکھے تھے اور اسے معلوم رہتا تھا کہ جاپان میں اس کے خلاف کیا ہو رہا ہے۔ برکت اللہ نے لکھا کہ انگریزوں نے محکمۂ تفتیشِ جرائم کی تنظیم کو دور دور تک پھیلا دیا ہے۔ انہوں نے لکھا: “مسجدوں کے ملا، مندروں کے پجاری، طوائفیں، گلیوں کے خوانچے والے، دکاندار، اساتذہ—سب اب سی آئی ڈی سے وابستہ ہیں۔ لہٰذا ہندوستانیوں کو چاہیے کہ وہ سی آئی ڈی کو حتی الامکان خطرناک سمجھیں۔”
6 جولائی 1912ء کو برطانوی حکومت نے سی کسٹمز ایکٹ کے تحت اسلامک فریٹرنٹی کی ہندوستان میں آمد پر پابندی لگا دی۔ اس نے جاپانی حکومت پر بھی شدید دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخبار بند کیا جائے، برکت اللہ کی ملازمت ختم کی جائے اور انہیں جاپان سے نکال دیا جائے۔ جاپانی حکومت بھی برطانوی حکومت کی مانند جارح اور غارت گر مزاج رکھتی تھی۔ برطانیہ کے ساتھ اس کا باہمی تعاون کا معاہدہ تھا، اس لیے وہ آسانی سے برطانوی دباؤ کے آگے جھک گئی۔ اکتوبر 1912ء میں اس نے اخبار بند کر دیا۔[9]
برکت اللہ نے آنے والے حملے کا اندازہ پہلے ہی کر لیا تھا اور اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ اپنے ایک جاپانی شاگرد کی مدد سے وہ جنوری 1912ء ہی میں الاسلام کے نام سے ایک اور اخبار جاری کر چکے تھے تاکہ ایسی صورتِ حال کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اسلامک فریٹرنٹی کی بندش کے بعد یہی جریدہ باقاعدگی سے شائع ہونے لگا۔ سرکاری رپورٹوں میں نوٹ کیا گیا کہ “برکت اللہ محض اس نئے جریدے کو اپنی سیاسی تبلیغ جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ چنانچہ اس اخبار کی ہندوستان میں درآمد پر بھی 22 مارچ 1913ء کو اسی طرح پابندی لگا دی گئی۔”[10]
جاپان میں قیام کے دوران برکت اللہ نے ہانگ کانگ، شنگھائی، سنگاپور اور مشرقِ بعید کے دوسرے مقامات کا دورہ بھی کیا اور وہاں روابط قائم کیے۔ ہندوستان کی آزادی کی آرزو ہر جگہ ایک ہی جیسی تھی۔
برطانوی دباؤ جاپانی حکومت پر مسلسل بڑھتا رہا کہ ٹوکیو یونیورسٹی میں برکت اللہ کی ملازمت ختم کی جائے۔ آخرکار وہ اس دباؤ کو مزید برداشت نہ کر سکی اور ان کی ملازمت ختم کر دی۔ لیکن برطانوی حکومت پھر بھی مطمئن نہ ہوئی؛ وہ چاہتی تھی کہ جاپان انہیں ملک سے بھی نکال دے۔
یہ وہی جاپان تھا جس کے بارے میں ان دنوں ہندوستانی قوم پرستوں کو بہت سے خوش کن وہم تھے اور جس سے وہ اپنی آزادی کی جدوجہد میں مدد کی امید رکھتے تھے۔ جاپان نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا۔ اس نے سنگاپور میں برطانوی فوج کے خلاف “ہندو بغاوت” کچلنے کے لیے اپنی بحریہ بھیجی، حالاں کہ برطانوی فوج ہندوستانی انقلابیوں کے سامنے دب گئی تھی، اور اس نے ہندوستانی محب وطنوں کو بھی ان کے برطانوی دشمنوں کے حوالے کر دیا تاکہ انہیں سزائے موت دی جا سکے۔[9]
برکت اللہ ٹوکیو میں اردوئے غدر وصول کر رہے تھے اور انہیں کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کا علم تھا۔ وہ سان فرانسسکو میں ہندوستانی انقلابیوں سے رابطے میں تھے۔ بھگوان سنگھ اپریل 1914ء کے اواخر میں جاپان آئے تھے اور دونوں نے کوماگاٹا مارو [یہ اس جاپانی بحری جہاز کا نام تھا جو 1914ء میں ہانگ کانگ سے کینیڈا، یعنی وینکوور، پہنچا تھا۔ اس پر سوار زیادہ تر مسافر ہندوستانی تھے—سکھ، مسلمان اور ہندو—جنہیں کینیڈا کی حکومت نے نسلی تعصب کی بنیاد پر اترنے کی اجازت نہیں دی تھی] کے مسافروں سے، ان کے وینکوور جاتے ہوئے، ملاقات کی۔ سرکاری رپورٹ میں درج ہے کہ بھگوان سنگھ نے ان کے سامنے ایک نہایت ولولہ انگیز تقریر کی۔
“یورپی جنگ کے آغاز کے بعد، میں، یعنی برکت اللہ، مجبور ہو گیا کہ جاپان چھوڑ دوں اور سان فرانسسکو منتقل ہو جاؤں۔”[11]
بھگوان سنگھ اور برکت اللہ دونوں جاپان سے روانہ ہوئے اور 23 مئی 1914ء کو سان فرانسسکو پہنچے، یعنی اسی روز جس دن کوماگاٹا مارو [جاپانی بحری جہاز] وینکوور پہنچی تھی۔ ان دو انقلابی رہنماؤں کی آمد سے غدر پارٹی مضبوط ہوئی۔ وہ سیدھے یوگنتر آشرم [یہ سان فرانسسکو میں واقع غدر پارٹی کا مرکزی دفتر اور تنظیمی مرکز تھا] پہنچے اور غدر کے اداری عملے کی مدد میں لگ گئے۔ وہ گلیوں میں اس اخبار کی نقول فروخت بھی کرتے تھے۔
کوماگاٹا مارو کو کینیڈین حکومت نے واپس لوٹا دیا۔ اس واقعے نے غدر پارٹی کے رہنماؤں کے دلوں میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف بھڑکتی ہوئی آگ کو اور زیادہ تیز کر دیا۔ جہاز کلکتہ کی طرف واپس جا رہا تھا کہ پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ برکت اللہ اور دوسرے غدر رہنما مدت سے اسی موقع کے منتظر تھے۔ برکت اللہ اکثر کہا کرتے تھے: “انگلستان کی مشکل، ہندوستان کا موقع ہے۔” اب وہ موقع آ پہنچا تھا۔ غدر پارٹی نے بیرونِ ملک مقیم ان تمام ہندوستانیوں کو، جو پارٹی کے رکن یا ہمدرد تھے، یہ پکار دی کہ اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں، اپنی جمع پونجی پارٹی کے پاس جمع کرا دیں، اور ہندوستان جا کر برطانوی غاصبوں کے خلاف لڑیں اور انہیں الٹ دیں۔
برکت اللہ نے بھگوان سنگھ اور رام چندر کے ساتھ دل و جان سے خود کو اس کام میں جھونک دیا۔ انہوں نے کیلیفورنیا میں ہندوستانیوں کے متعدد جلسوں سے خطاب کیا اور انہیں ہندوستان روانہ ہونے اور وہاں انقلاب میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ آکسنارڈ میں “26 جولائی 1914ء کو بھگوان سنگھ اور برکت اللہ نے تقریر کی۔ وہاں اعلان کیا گیا کہ بغاوت کا وقت آ پہنچا ہے۔ یورپ میں جنگ شروع ہو چکی ہے، اس لیے اب انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دینا چاہیے۔ چندے کی اپیل کی گئی اور رقم جمع کی گئی۔ برکت اللہ نے نواب خان، جو سرکاری گواہ بن گیا تھا، سے کہا کہ ‘برطانیہ جنگ میں شامل ہونے پر مجبور ہو گا، مصر، آئرلینڈ، جنوبی افریقہ اور دوسری جگہوں پر بغاوت پھوٹ پڑے گی، اور یہ ہندوستان جا کر فوج کو پھسلانے اور وہاں بغاوت شروع کرنے کا شاندار موقع ہے۔’”[12]
9 اگست کو فریسنو میں ہونے والے ایک اور اجتماع میں رام چندر، بھگوان سنگھ اور برکت اللہ نے اسی نوعیت کی تقاریر کیں اور وعدہ کیا کہ “ہندوستان پہنچنے پر ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔” 11 اگست کو سیکرامنٹو کے اجتماع میں “برکت اللہ، بھگوان سنگھ، رام چندر اور ایک محمود نے تقریر کی اور حاضرین کو جنگ کے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان جانے کی ترغیب دی۔”[12]
“ہندوستان جاؤ اور برطانوی غلام سازوں کے خلاف بغاوت کرو”—یہی برکت اللہ کی تقاریر کا بار بار دہرایا جانے والا بنیادی نعرہ تھا۔ وہ پوری دیانت کے ساتھ یقین رکھتے تھے کہ انقلاب کامیاب ہو گا۔
سان فرانسسکو میں برکت اللہ کو معروف ہندوستانی قوم پرست مہندر پرتاپ کی طرف سے افغانستان آنے کی دعوت ملی۔ انہوں نے غدر پارٹی سے رخصت لی اور 10 فروری 1915ء کو برلن پہنچے۔ مہندر پرتاپ پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ وہاں وہ کچھ عرصے کے لیے برلن کمیٹی سے وابستہ ہوئے اور اس کے ساتھ کام کیا۔ وریندرناتھ چٹوپادھیائے وہاں انڈین نیشنل پارٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ دوسرے اہم افراد میں ہردیال، تارکناتھ داس، بھوپیندرناتھ دتہ، ہیرمب لال گپتا، جودھ سنگھ مہاجن وغیرہ شامل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہردیال کو انڈین نیشنل پارٹی میں شامل ہونے کے لیے خود برکت اللہ نے بلایا تھا۔ برلن میں اس جماعت، جسے برلن کمیٹی کہا جاتا تھا، نے جرمن حکومت سے طے کیا کہ وہ جرمن جنگی کوششوں میں اس کی مدد کرے گی اور بدلے میں اس سے تعاون حاصل کرے گی۔ کابل کے لیے جرمن مشن کی بنیاد بھی برلن ہی میں پڑی۔[13][14]
جرمن مشن میں جرمن، آسٹریائی اور ہندوستانی شامل تھے۔ “ان میں سب سے نمایاں مہندر پرتاپ تھے اور مولوی محمد برکت اللہ، جن کا ذکر اس سے پہلے امریکہ کے بحرالکاہل کے ساحلی علاقے میں سکھوں کو غدر کے نظریات کی تبلیغ کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔”[13]
برلن پہنچنے پر برکت اللہ نے دیکھا کہ برلن کمیٹی صرف بنگال کو اسلحہ بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بحث میں مداخلت کی۔ غدر پارٹی سے گہرے تعلق کے باعث وہ ان کے منصوبوں اور تیاریوں سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ انہوں نے جلد ہی انڈین کمیٹی کو اس بات پر قائل کر لیا کہ غدر پارٹی کے منصوبے کو اپنے منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ ہندوستان میں ہتھیاروں کی آمد اور منصوبہ بند بغاوت کو تھائی لینڈ سے مسلح مہم کے ساتھ صحیح طور پر مربوط کیا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ اثر پیدا ہو۔ جرمن دفترِ خارجہ بھی ہندوستان میں مجوزہ مسلح یلغار کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا تھا۔ چنانچہ جنوری کے تیسرے ہفتے میں برکت اللہ نے جاوا کے ڈاؤس ڈیکر سے ملاقات کی اور تھائی لینڈ سے ہندوستان میں مسلح مہم کے منصوبے بتدریج مرتب ہونے لگے۔[16]
جرمنی میں مہندر پرتاپ اور برکت اللہ نے قیصر ولہلم ثانی اور پال فان ہنڈن برگ سے ملاقاتیں کیں، اور کابل میں انقلابی سرگرمیوں کے لیے ترک اور جرمن فوجی مدد کے ساتھ ایک ہند-جرمن مشن قائم کیا۔ 1915ء کے پہلے نصف میں کسی وقت یہ مشن قسطنطنیہ پہنچا۔ کابل روانگی سے پہلے مشن کے ارکان، برکت اللہ اور راجا مہندر پرتاپ، اپنے جرمن ساتھیوں سمیت سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان، حلمی پاشا، جو صدرِ اعظم تھے، اور غازی انور پاشا، جو وزیرِ جنگ تھے، سے ملاقات کے لیے پیش کیے گئے۔ اکتوبر 1915ء میں وہ کابل پہنچے، جہاں مولانا عبید اللہ سندھی بھی ان سے آ ملے۔ انہوں نے امیر حبیب اللہ خان اور ان کے بھائی سردار نصر اللہ خان، جو اس وقت افغانستان کے وزیر اعظم اور برکت اللہ کے پرانے دوست تھے، سے ملاقات کی۔ راجا مہندر پرتاپ نے اس واقعے پر فخر سے لکھا: “میں بادشاہ کے دائیں طرف بیٹھا تھا۔ مولانا برکت اللہ نے بڑی مہربانی سے میرے لیے ترجمانی کی۔”[15]
سردار نصر اللہ خان نے یکم دسمبر کو انہیں ہندوستان کی عارضی حکومت قائم کرنے میں مدد دی۔ مہندر پرتاپ لکھتے ہیں: “…میں اس کا تاحیات صدر بنا، یعنی اس وقت تک صدر، جب تک ہم ہندوستان میں باقاعدہ حکومت قائم نہ کر لیں… مولانا برکت اللہ وزیر اعظم مقرر ہوئے اور مولانا عبید اللہ کو وزارتِ داخلہ کا قلمدان سونپا گیا۔”[15]
ہندوستان کی عارضی حکومت کے صدر کی حیثیت سے راجا مہندر پرتاپ نے برکت اللہ کی مدد سے خالص سونے کی ایک تختی پر روس کے زار کے نام خط لکھا اور اسے دو قاصدوں، محمد علی اور شمشیر سنگھ، جو ڈاکٹر متھرا سنگھ کا فرضی نام تھا، کے ذریعے روسی ترکستان بھیجا، مگر اس سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے کچھ اور غیر عملی منصوبے بھی بنائے جو بالآخر ناکام رہے۔ عارضی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی، کیونکہ بعد میں افغانستان کے بادشاہ امان اللہ نے رخ بدل لیا۔
وہ انقلابی روس کیسے گئے، اس کی روایت خود برکت اللہ نے یوں بیان کی:
“مارچ 1919ء میں، حبیب اللہ کے قتل کے بعد، جب امان اللہ، جو انگریزوں سے نفرت کرتا تھا، تخت نشین ہوا، تو مجھے، نئے امیر کے نہایت معتمد افراد میں سے ایک ہونے کی حیثیت سے، ‘غیر معمولی سفیر’ بنا کر ماسکو بھیجا گیا تاکہ سوویت روس کے ساتھ مستقل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اسی کے ساتھ نئے امیر نے انگریزوں کے ساتھ اتحاد کا وہ معاہدہ منسوخ کر دیا جس کے مطابق افغانستان کسی اور ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مجاز نہ تھا۔”[18]
7 مئی 1919ء کو برکت اللہ کو مہندر پرتاپ اور دوسروں کے ساتھ وی۔ آئی۔ لینن نے ملاقات کا شرف بخشا، اور ان سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور برطانوی سامراج کے خلاف افغانستان کی جدوجہد میں اس کی مدد کے امکانات پر گفتگو کی۔ لینن کی دور رس نگاہ نے فوراً برکت اللہ کی اصل قدر و قیمت کو پہچان لیا۔ لینن کی دلچسپی مہندر پرتاپ یا دوسرے شرکا میں اتنی نہ تھی جتنی برکت اللہ میں، جنہوں نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی وجہ تھی کہ جون 1919ء میں لینن اپنے وزیر خارجہ چیچرین سے بے چینی کے ساتھ دریافت کر رہے تھے کہ برکت اللہ کی “مسلم برادران کے نام اپیل”، جو بالشویزم اور مسلمانوں کے بارے میں تھی، شائع ہوئی یا نہیں۔[11]
برکت اللہ کی سامراج دشمنی نہایت خالص، واضح اور تیز دھار رکھتی تھی۔ وہ روسی انقلاب کی کامیابیوں کے عظیم مبلغ بن گئے اور اس کے مساوات، اخوت اور انصاف کے اصولوں کے داعی بھی۔ انہیں اس میں اپنے خوابوں کی تکمیل نظر آئی۔ پیٹروگراڈ پراودا کے ایک نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“میں نہ کمیونسٹ ہوں اور نہ سوشلسٹ، لیکن میرا موجودہ سیاسی پروگرام ایشیا سے انگریزوں کا انخلا ہے۔ میں ایشیا میں یورپی سرمایہ داری کا ایک ناقابلِ مصالحت دشمن ہوں، جس کا سب سے بڑا نمائندہ انگریز ہے۔ اس معاملے میں میں کمیونسٹوں سے متفق ہوں، اور اس پہلو سے ہم حقیقی اتحادی ہیں۔”[11]
تمام اقوام کے حقِ خود ارادیت کے بارے میں لینن کی اپیل نے ان پر بے پناہ اثر ڈالا، اور جب انہوں نے روسی نامہ نگار سے گفتگو کی تو درحقیقت وہ تمام محکوم قوموں کے جذبات اور امنگوں کو آواز دے رہے تھے:
“میں صرف ایک بات جانتا ہوں، اور وہ یہ کہ روس کی سوویت حکومت کی وہ مشہور اپیل، جو تمام اقوام کے نام جاری کی گئی اور جس میں انہیں سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد کی دعوت دی گئی، ہم پر عظیم الشان اثر ڈال چکی ہے۔ ہمارے لیے سرمایہ دار اجنبی کا مترادف ہے، اور زیادہ درست لفظوں میں انگریز۔ اس سے بھی بڑا اثر اس بات نے ڈالا کہ روس نے سامراجی حکومتوں کے مسلط کردہ تمام خفیہ معاہدے منسوخ کر دیے اور یہ اعلان کیا کہ ہر قوم، خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، حقِ خود ارادیت رکھتی ہے۔
اس اقدام نے سوویت روس کے گرد ایشیا کے تمام استحصال زدہ لوگوں کو، بلکہ ان جماعتوں کو بھی جو سوشلزم سے بہت دور تھیں، متحد کر دیا۔ انہی اقدامات نے ایشیائی انقلاب کو قریب تر کر دیا اور اس کی سمت متعین کی۔”[17]
برکت اللہ نے لینن کو “ان ترقی پسند قوتوں کا مجسم پیکر” قرار دیا “جو اپنی قدر و قیمت ثابت کرنے کے لیے بے تاب ہیں”، اور ایسا انسان بھی “جس کا نام ہمارے عہد پر ثبت ہو گا۔” لینن سے برکت اللہ کی یہ ملاقات ان پر گہرا اثر ڈالنے والی ثابت ہوئی اور ان کی سرگرمیوں میں ایک اہم موڑ بن گئی۔[17]
برطانوی سامراجیوں نے فوراً سوویت اعلانات کے مضمرات کو سمجھ لیا اور روس سے ہندوستان تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بند کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ سب سے پہلے انہوں نے افغانستان کو بند کیا اور روس سے ہندوستان تک رسائی روک دی، تاکہ روسی اثرات کسی بھی صورت، تحریری یا زبانی، براہِ راست یا بالواسطہ، ہندوستان میں داخل نہ ہو سکیں۔
جب برکت اللہ سوویت روس پہنچے تو نوجوان سوویت جمہوریہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ انہوں نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ سوویت حکومت کی حمایت شروع کر دی۔ انہوں نے تقاریر کیں، انٹرویو دیے، اور “مسلم برادران” کے نام ایک اپیل لکھی، جس میں بتایا کہ مسلم ممالک کی آزادی اسی میں ہے کہ وہ سوویت جمہوریہ کی حمایت کریں، تاکہ جنرل کولچک جیسے جوابی انقلابی، جنہیں سامراجی قوتوں نے مسلح کیا تھا، اس نوخیز سوویت ریاست کو کچلنے اور روس میں ایک بار پھر جاگیرداروں کو بحال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں، اور انقلاب مکمل کامیابی حاصل کر سکے۔
ان کی یہ ولولہ انگیز اپیل اپنی اہمیت آپ رکھتی ہے۔ غالباً یہ پمفلٹ فارسی میں سوویت روس کی طرف سفر کے دوران لکھا گیا اور 15 مارچ 1919ء کو تاشقند میں مکمل ہوا۔ اس میں لکھا ہے:
“دنیا کے محمدیوں اور ایشیائی اقوام کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ روسی اشتراکیت کے اعلیٰ اصولوں کو سمجھیں اور سنجیدگی اور جوش کے ساتھ انہیں اختیار کریں۔ انہیں اس نئے نظام کی بنیادی خوبیوں میں غور کرنا چاہیے اور انہیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے، اور حقیقی آزادی کے دفاع میں انہیں چاہیے کہ بالشویک افواج کے ساتھ شامل ہو کر غاصبوں اور جابروں، یعنی انگریزوں، کے حملوں کو پسپا کریں…”
براہِ راست مسلمانوں سے مخاطب ہو کر برکت اللہ مزید کہتے ہیں: “اے محمدیو! اس الٰہی صدا کو سنو۔ آزادی، مساوات اور اخوت کی اس پکار کا جواب دو، جو کامریڈ لینن اور روس کی سوویت حکومت تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں…”[18]
یہ پمفلٹ تاشقند، 15 مارچ 1919ء کی تاریخ رکھتا ہے اور اس پر برکت اللہ کے دستخط ثبت ہیں۔
یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ اس پمفلٹ نے مسلم عوام کو سوویت حکومت کے پیچھے منظم اور متحرک کرنے میں بڑا کردار ادا کیا اور نوجوان رضاکاروں کو سوویت فوج میں شامل ہو کر سامراجی ڈاکوؤں اور ان کے جوابی انقلابی کارندوں کے خلاف لڑنے اور انہیں شکست دینے کی تحریک دی۔ حکومت نے بھی مسلمانوں پر اس پمفلٹ کے اثرات کا اعتراف کیا۔ اس نے لکھا: “یہ فوراً محمدی غریبوں بلکہ متوسط طبقات سے بھی اپیل کرتا ہے؛ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں برکت اللہ اور ان کے بالشویک مشیر اپنے جال میں لانا چاہتے ہیں۔”[19]
جب تک برکت اللہ سوویت روس میں رہے، وہ مسلم عوام کو سوویت ریاست کے دفاع اور اس کے دشمنوں کے خلاف جنگ کے لیے ابھارتے رہے۔ انہوں نے اپنی جان کے خطرے پر سوویت جمہوریہ کے مشرقی علاقوں کے کئی دورے کیے۔ وہ پُرجوش تقاریر کرتے، محنت کش عوام سے کہتے کہ اٹھ کھڑے ہوں، دشمن افواج کو نکال باہر کریں اور سوویت اقتدار کا دفاع کریں۔
برکت اللہ تقریباً 1922ء تک، یعنی لگ بھگ تین سال، سوویت روس میں رہے۔ 1922ء میں وہ برلن منتقل ہو گئے اور وریندرناتھ چٹوپادھیائے کی قیادت میں کام کرنے والے ہندوستانی قومی انقلابیوں سے سرگرم طور پر وابستہ رہے، جو سوویت روس سے رابطے میں تھے۔ بھوپیندرناتھ دتہ کے مطابق، چیچرین نے برکت اللہ سے رابطہ برقرار رکھنے کا انتظام کر رکھا تھا۔[20]
برکت اللہ نے برلن میں انقلابیوں کی پرانی تنظیم کے دھاگے پھر سے جوڑے اور وہاں موجود ہندوستانی قوم پرستوں کو ایک بار پھر فعال سیاسی قوت بنانے کے لیے انڈیا انڈی پینڈنس پارٹی کے نام سے منظم کیا۔ اپریل 1922ء میں انہوں نے جنیوا کانفرنس سے واپسی پر چیچرین سے بھی ملاقات کی۔[21]
1925-26ء میں وہ کچھ عرصہ سوئٹزر لینڈ میں بھی رہے۔ وہ کہیں بھی فارغ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ انہوں نے برلن سے الاصلاح کے نام سے ایک ہفتہ وار پرچہ جاری کیا اور اس کی نقول فرانس سمیت دوسری جگہوں پر تقسیم کیں۔ برطانوی سیاسی محکمے نے فرانسیسی حکومت پر ان کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا، کیونکہ وہ وہاں بالشویک پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے۔ اس زمانے میں بالشویزم ہر حکومت کے لیے، خواہ وہ بورژوا ہو یا جاگیردارانہ، ایک ڈراونا بھوت بن چکا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے برکت اللہ کو گرفتار کیا اور ملک سے نکال دیا۔
1927ء میں برکت اللہ نے برسلز، بیلجیم، میں منعقدہ اینٹی امپیریلسٹ لیگ کی کانفرنس میں ہندوستان غدر پارٹی کے سرکاری نمائندے کے طور پر شرکت کی۔ وہاں ان کی ملاقات پنڈت جواہر لعل نہرو سے ہوئی، جو اس کانگریس میں ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے، اور بعض دوسرے ہندوستانی مندوبین سے بھی، جن سے انہیں ہندوستان کی حقیقی صورتِ حال کا علم ہوا۔ انہوں نے اپنی وسیع شہرت اور اثر و رسوخ کو اس بین الاقوامی ادارے میں مختلف قوموں کی حمایت اور تنظیم کے لیے استعمال کیا، تاکہ سب مل کر سامراج، خواہ وہ برطانوی ہو، فرانسیسی ہو یا کوئی اور، کے خلاف مشترک جدوجہد کر سکیں۔ انہوں نے کانگریس میں ایک پُرجوش تقریر کی اور اعلان کیا کہ وہ اور ان کی غدر پارٹی اگلی جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔[22]
راجا مہندر پرتاپ نے اپنی کتاب مائی لائف اسٹوری میں لکھا ہے کہ انہیں “برلن سے ایک سطر” برکت اللہ کی طرف سے “تیسری انٹرنیشنل کے ذریعے” ملی، جس میں لکھا تھا کہ “میں بہتر سمجھتا ہوں کہ تم میرے پاس آؤ اور مجھ سے ملو۔” مہندر پرتاپ ان سے ملنے برلن گئے۔ برکت اللہ ایک چھوٹے سے بورڈنگ ہاؤس میں مقیم تھے اور انہیں وہاں ایک مختصر سا کمرہ ملا ہوا تھا۔[23]
مہندر پرتاپ مزید لکھتے ہیں: “مولانا برکت اللہ کا خیال تھا کہ میں ایک بار پھر ان دوستوں سے ملوں، جن سے میں نے اپنے تبتی مشن کے لیے رقم جمع کی تھی، اور انہیں ان عظیم طاقتوں کی سیاسی سازشوں کی سرزمین میں اپنی مہم جوئی کی داستان سناؤں۔”[24]
مہندر پرتاپ نے اس خیال سے اتفاق کیا اور دونوں تقریباً جولائی 1927ء میں نیویارک پہنچے۔ برکت اللہ انہیں اپنے آئرش دوستوں کے پاس گیلک امریکن میں لے گئے۔ پیسے کا مسئلہ غدر پارٹی نے تار کے ذریعے دو سو ڈالر بھیج کر حل کر دیا۔ وہ ڈیٹرائٹ کے راستے کیلیفورنیا گئے، جہاں ہندوستانی باشندوں نے ان کا استقبال کیا۔ سان فرانسسکو میں غدر پارٹی کے وفد نے ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں پارٹی کے صدر دفتر لے گیا۔ وہ غدر پارٹی کے مہمان تھے۔
مولانا برکت اللہ نہایت کمزور ہو چکے تھے اور شدید ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ غدر کے محب وطنوں نے میریس وِل میں ہندوستانی برادری کا ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کیا، جس میں آٹھ سو یا اس سے زیادہ ہندوستانی انہیں سننے کے لیے جمع ہوئے۔ مولانا تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، مگر وہ بہت کمزور تھے۔ وہ اٹھے، چند ہی الفاظ کہہ سکے، جذبات سے ان کا گلا رندھ گیا، ایک، دو، تین آنسو ان کی آنکھوں سے ڈھلک پڑے، پھر انہوں نے کہا: “مہندر پرتاپ بولیں گے”، اور نعروں اور تالیوں کے درمیان بیٹھ گئے۔[22]
مولانا تیزی سے زندگی کی آخری منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ذیابیطس نے ان کے جسم سے جان کھینچ لی تھی۔ 27 ستمبر 1927ء کو انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے احباب اور رفقا، جنہوں نے انہی کی طرح اپنی زندگیاں وطن کی خدمت میں گزار دی تھیں، اس نازک لمحے میں ان کے بستر کے گرد موجود تھے۔ سیکڑوں لوگوں نے ان کے لیے دلی عقیدت کا اظہار کیا اور اس مرحوم انقلابی کی یاد کو خراج پیش کیا۔
برکت اللہ رخصت ہو گئے، لیکن وہ سیکولر، انقلابی اور جمہوری روح، اور وہ اصول، جن کی نمائندگی انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کی، کبھی نہیں مریں گے۔ اب ان کی حیثیت بین الاقوامی ہو چکی ہے۔ وہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے تمام ممالک کو متاثر کرتے ہیں۔ ممکن ہے ان کے نتائج ایک ہی نسل میں پوری طرح ظاہر نہ ہوں، مگر مستقبل اسی ناقابلِ تسخیر روح اور انہی ناقابلِ شکست اصولوں کا ہے۔
ہم مولانا برکت اللہ کو انقلاب اور اس کے مقصد سے ان کی غیر متزلزل وفاداری پر سلام پیش کرتے ہیں۔
________________________
حوالہ جات
[1] ایگنس سمدلی کا مضمون، رسالہ اردو کرتی، اپریل 1928ء، پہلا شمارہ، صفحات 25 تا 31 (ازسرِ نو ترجمہ)۔
[2] جے۔ سی۔ کیر، ہندوستان میں سیاسی ہنگامے، 1907ء تا 1917ء، صفحہ 132۔
[3] ایم۔ عرفان، ایم۔ برکت اللہ کی اردو سوانح عمری۔ (بعض حقائق جے۔ سی۔ کیر اور ایم۔ عرفان سے ماخوذ ہیں)۔
[4] جے۔ سی۔ کیر، ہندوستان میں سیاسی ہنگامے، 1907ء تا 1917ء، صفحہ 213۔
[5] ایم۔ عرفان۔
[6] جے۔ سی۔ کیر، ہندوستان میں سیاسی ہنگامے، 1907ء تا 1917ء، صفحہ 219۔
[7] وہی، صفحات 225 تا 226۔
[8] وہی، صفحات 132 تا 134۔
[9] سیئچی ساکوما، مضمون: اپنے ذاتی مفاد میں ایشیا کے تئیں جاپان کا فرض، ماتسوشیتا پریس، ٹوکیو، 1916ء۔
[10] جے۔ سی۔ کیر، ہندوستان میں سیاسی ہنگامے، 1907ء تا 1917ء، صفحہ 134۔
[11] جی۔ ادھیکاری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تاریخ کی دستاویزات، جلد اوّل، صفحات 118 تا 120؛ اصل ماخذ: پیٹروگراڈ پراودا، شمارہ 10۔
[12] لاہور سازش مقدمہ کا فیصلہ (اوّل)، حصہ: الف—امریکہ میں انقلابی، صفحات 7 تا 8۔
[13] جے۔ سی۔ کیر، ہندوستان میں سیاسی ہنگامے، 1907ء تا 1917ء، صفحہ 301۔
[14] اے۔ سی۔ بوس، بیرونِ ملک ہندوستانی انقلابی، صفحات 134 تا 135۔
[15] راجہ مہندر پرتاب، میری داستانِ حیات، صفحہ 51۔
[16] جی۔ ادھیکاری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تاریخ کی دستاویزات، صفحات 118 تا 120؛ نیز پیٹروگراڈ پراودا۔
[17] ایل۔ میتروخن، مضمون: قازان میں ہندوستانی مجاہدِ آزادی، رسالہ سوویت لینڈ، شمارہ 21، نومبر 1971ء۔
[18] جی۔ ادھیکاری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تاریخ کی دستاویزات، صفحات 126 تا 128؛ نیز حکومتِ ہند، محکمہ داخلہ، سیاسی مراسلہ نمبر 2295، مؤرخہ 28 اکتوبر 1919ء۔
[19] مذکورہ بالا پمفلٹ پر سرکاری نوٹ، نمبر 2295، مؤرخہ 28 اکتوبر 1919ء۔
[20] جی۔ ادھیکاری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تاریخ کی دستاویزات، صفحہ 115۔
[21] اے۔ سی۔ بوس، بیرونِ ملک ہندوستانی انقلابی، صفحہ 213۔
[22] ایگنس سمدلی۔
[23] راجہ مہندر پرتاب، میری داستانِ حیات، صفحات 135 تا 136۔
[24] وہی۔
مولانا برکت اللہ بھوپالی کے مفصل حالات زندگی اس لنک پر پڑھے جاسکتے ہیں