MARXISTS WHO BECAME MUSLIMS DURING THE 1979 REVOLUTION
“حسد اور غلط تاویلات پر مبنی باتوں کے برعکس، ہماری جماعت کی طرف سے اس فکر(خمینی کی فکر) کی حمایت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم جمہوریت کے مخالف ہیں یا تہذیبی اصولوں سے انحراف کر رہے ہیں۔ ہماری جماعت یہ نہیں سمجھتی کہ خمینی یا ان کے سچے پیروکار ایران کو قرونِ وسطیٰ کے دور کی طرف لے جا رہے ہیں۔”
کیانوری، چیئرمین، تودہ پارٹی1

ایران میں شاہ ایران کے خلاف کامیاب انقلابی تحریک کے دوران کئی مارکس وادی دانشور اور مارکسی تنظیمیں ایسی تھیں جنھوں نے اسلامی آئیڈیالوجی کو اپنا لیا ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پاکستانی بائیں بازو ، لبرل اور دائیں بازو کے علمی سرکلز میں ہمیں کسی بحث کا سراغ نہیں ملتا۔ 80ء اور 90ء کی دہائیوں کے لیفٹ اور دائیں بازو کے لٹریچر میں ہمیں اس بارے کسی قسم کی معلومات نہیں ملتی ہیں ۔




ایران کے انقلابِ 1979ء کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی قوتوں اور تنظیمی اتحادوں کا جائزہ کافی نہیں۔ اس کے پس منظر میں ایک ایسا سماجی اور فکری ماحول بھی کارفرما تھا جس نے مختلف نظریاتی دھاروں کو غیر متوقع طور پر ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا۔ ایران میں بعض مارکسی تنظیموں کے اسلامی نظریے کی طرف جھکاؤ کو اسی وسیع سماجی اور ثقافتی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ ان تنظیموں کے بہت سے رہنما اور کارکن ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جہاں اسلامی تہذیب، عقائد اور اخلاقیات روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ تھے۔ اس ماحول نے نہ صرف ان کی سماجی تربیت کی بلکہ ان کی فکری ساخت کی تشکیل میں بھی گہرا اثر ڈالا۔
یہ سوال اہم ہے کہ اگر کسی سیاسی کارکن کی ابتدائی تربیت ایک مذہبی اور اسلامی فضا میں ہوئی ہو تو کیا اس کے اثرات اس کی سیاسی فکر اور جدوجہد میں بھی ظاہر ہوتے ہیں؟ ایران کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا بعید نہیں۔ اپوزیشن کے مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ مارکسی کارکن بھی اسی معاشرتی عمل سے گزرے تھے جس میں اسلام ایک غالب فکری حوالہ تھا۔ نتیجتاً بہت سے مارکسی کارکنوں کے لیے معاشرے، تاریخ اور سیاست کو سمجھنے کا زاویہ بھی کسی نہ کسی حد تک اسلامی تصورات سے متاثر تھا۔ یوں اسلامی نقطۂ نظر ایک ایسے فکری سانچے کی صورت اختیار کر گیا جس کے ذریعے سماجی حقیقتوں کی تعبیر کی جاتی تھی۔
اس صورت حال میں صرف ثقافتی یا سماجی اثر ہی کارفرما نہیں تھا بلکہ بعض مارکسی حلقوں میں اسلام کو نظریاتی سطح پر بھی قبول کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ یہ عمل محض سماجی موافقت نہیں بلکہ ایک طرح کی نظریاتی قربت تھی جس نے بعض مارکسی تنظیموں کو اسلامی سیاسی بیانیے کے قریب کر دیا۔ 1979ء کے انقلاب کے دوران یہ رجحان زیادہ واضح شکل میں سامنے آیا۔ خاص طور پر تودہ پارٹی اور وہ گروہ جو بعد میں اس کے ساتھ وابستہ ہوئے اس تبدیلی کے نمایاں نمائندے بن کر ابھرے۔ ان میں تنظیم فدائیانِ خلق ایران (اکثریت) اور گروہ آزادی و برابری جیسے حلقے شامل تھے۔
ان تنظیموں کی تحریروں اور بیانات میں اسلام کو محض ایک مذہبی روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا گیا جو استحصال کے خلاف جدوجہد کو تحریک دے سکتی ہے۔ ان کے نزدیک اسلام ایک ایسی نظریاتی زبان بن سکتا تھا جس کے ذریعے ایران کے محکوم اور محروم طبقات کو متحرک کیا جا سکے۔ اس بیانیے میں اسلام کو ایک ایسے اخلاقی اور فکری ڈھانچے کے طور پر دیکھا گیا جو سماجی انصاف اور مزاحمت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تاہم اس فکری ہم آہنگی کے سیاسی نتائج خاصے پیچیدہ نکلے۔ ایرانی مؤرخ مازیار بہروز اس تضاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایران میں کمیونزم کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی شاذ ہی ایسا دیکھا گیا ہے کہ کوئی مارکسی تنظیم ریاست کے ساتھ اس قدر قریبی تعاون کرے کہ وہ دوسرے مارکسی گروہوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں بھی شریک ہو جائے۔ یہ حقیقت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نظریاتی قربت اور سیاسی حکمتِ عملی کے امتزاج نے ایرانی بائیں بازو کے ایک حصے کو ایسے راستے پر ڈال دیا جس کے اثرات بعد کے برسوں میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔
تودہ پارٹی اور نئی اسلامی جمہوریہ
انقلابِ ایران کے زمانے میں تودہ پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے اس کے اپنے اخبارات، رسائل اور بیانات اہم بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انقلاب کے دوران اور اس کے بعد پارٹی کی جو تحریریں اور دستاویزات سامنے آئیں، وہی اس کے فکری مؤقف اور سیاسی حکمتِ عملی کو واضح کرتی ہیں۔ یہ مواد زیادہ تر پارٹی کے سرکاری ترجمانوں اور مطبوعات سے لیا گیا ہے جنہیں بعد میں محققین نے دوسری زبانوں میں منتقل کیا۔ 1980ء کی پوری دہائی سے لے کر 1990ء کی دہائی کے وسط تک ان مطبوعات پر پابندی عائد رہی، لیکن بعد کے برسوں میں ان کا بڑا حصہ متعلقہ تنظیموں کی ویب گاہوں اور دستاویزی ذخائر میں دستیاب ہو گیا۔
اس فکری اور سیاسی بحث کے مرکز میں تودہ پارٹی کے سربراہ نورالدین کیانوری کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ انقلاب کے زمانے میں پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں اور ترجمانوں میں شمار ہوتے تھے اور مرکزی کمیٹی کے بااثر ارکان میں شامل تھے۔ انقلاب سے پہلے وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور زیادہ تر مشرقی جرمنی میں مقیم رہے۔
سنہ 1979ء کے انقلاب کے دوران وہ ایران واپس آئے اور اسی زمانے میں پارٹی کے مرکزی ترجمان کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مسلمانوں اور مارکسیوں دونوں کو یہ باور کرائیں کہ تودہ پارٹی کی حکمتِ عملی نئی اسلامی جمہوریہ کے ساتھ قربت اور تعاون اختیار کرنا ہے۔ بعد کے برسوں میں جب اسلامی جمہوریہ نے انہیں قید کر دیا تب بھی وہ پارٹی کی سیاست میں ایک نمایاں علامت کے طور پر موجود رہے۔
کیانوری کے خاندانی پس منظر میں بھی مذہبی روایت کی ایک جھلک ملتی ہے۔ ان کے دادا آیت اللہ فضل اللہ نوری ایران کی آئینی تحریک (1906ء) کے زمانے کے ایک اہم مذہبی عالم تھے۔ ابتدا میں انہوں نے آئینی انقلاب کی حمایت کی، لیکن بعد میں انقلابیوں سے اختلاف کر لیا اور بالآخر اسی سیاسی کشمکش کے دوران انہیں سزائے موت دے دی گئی۔ اس تاریخی پس منظر نے کیانوری کی شخصیت کو ایک ایسے ماحول سے جوڑا جس میں مذہب اور سیاست کی کشمکش پہلے ہی سے موجود تھی۔
تودہ پارٹی اور اسلامی جمہوریہ کے درمیان تعاون کا معاملہ اس زمانے میں شدید بحث اور شکوک و شبہات کا موضوع بن گیا تھا۔ بہت سے مارکسی کارکنوں کے لیے ایک مذہبی حکومت کے ساتھ کام کرنا قابلِ قبول نہیں تھا، کیونکہ ان کے نزدیک نئی اسلامی ریاست مذہب کے نام پر سیاسی جبر کا استعمال کر رہی تھی۔ دوسری طرف بعض مذہبی حلقوں کے لیے یہ بات حیرت اور عدم اعتماد کا باعث تھی کہ ایک مارکسی تنظیم اسلامی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ ان کے نزدیک تودہ پارٹی ایک ملحد اور سوویت نواز جماعت تھی جو اسلام پر یقین نہیں رکھتی تھی، اس لیے اس کے ساتھ سیاسی شراکت قابلِ قبول نہیں تھی۔
یوں دونوں طرف سے شکوک و اعتراضات سامنے آئے۔ مارکسی حلقے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ کیا تودہ پارٹی مذہبی اقتدار کے سامنے سر جھکا رہی ہے، جبکہ مذہبی حلقے یہ سمجھتے تھے کہ کمیونسٹ دراصل اسلامی ریاست کے اندر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں تودہ پارٹی کو مسلسل اس الزام کا سامنا رہا کہ وہ کبھی بائیں بازو سے انحراف کر رہی ہے اور کبھی مذہبی قوتوں کے قریب ہو رہی ہے۔
اسی طرح کی بحث بعض چھوٹے گروہوں کے بارے میں بھی پیدا ہوئی جو اسلام اور مارکسزم کے امتزاج کی کوشش کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر گروہ آزادی و برابری جیسے حلقے ایسے نظریاتی تجربات کا حصہ تھے جن میں اسلامی سیاسی فکر کے اندر مارکسی عناصر کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان گروہوں کے وجود نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا کہ انقلاب کے بعد ایران میں مذہب اور بائیں بازو کی سیاست کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی۔
تودہ پارٹی کا مؤقف اور انقلاب کے ابتدائی دن
جولائی 1979ء میں تودہ پارٹی کے جریدے “دنیا”
میں ایک اہم مضمون شائع ہوا جس میں انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتِ حال پر پارٹی کا مؤقف واضح کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں ایران میں اسلامی جمہوریہ کی بنیاد تو پڑ چکی تھی مگر ریاستی ڈھانچہ ابھی عبوری مرحلے میں تھا۔ ملک میں صدر کا منصب موجود نہیں تھا اور مہدی بازرگان وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ریاستی انتظام چلا رہے تھے۔ ان کی عبوری حکومت تقریباً دو سو پچھتر دن قائم رہی۔ اس مضمون کے مصنف احسان طبری تھے جو تودہ پارٹی کے نمایاں نظریہ دان، سماجیات کے ماہر اور کثیر التصنیف ادیب تھے۔ انہوں نے انقلاب کی اسلامی سمت کا بھرپور دفاع کیا اور اسے ایک انقلابی راستہ قرار دیا۔
طبری کے مطابق تودہ پارٹی نے برسوں پہلے ہی یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ شاہ کے غیر جمہوری اور غیر قومی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ان کے خیال میں یہی وہ بنیادی سیاسی مؤقف تھا جسے پارٹی نے دوسری سیاسی قوتوں سے پہلے اختیار کیا۔ طبری کا دعویٰ تھا کہ ان کی جماعت نے مستقل مزاجی کے ساتھ خمینی کی اس جدوجہد کی حمایت کی جسے وہ “طاغوت” کے خلاف لڑائی قرار دیتے تھے۔ طاغوت کی اصطلاح اسلامی روایت میں اس قوت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ظلم، بت پرستی یا فساد کی علامت ہو۔ طبری کے نزدیک شاہی نظام اسی طاغوتی طاقت کی شکل تھا جس کے خلاف انقلاب برپا ہوا۔
بعد میں انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ تودہ پارٹی کی طرف سے خمینی کی قیادت کی حمایت کو بعض حلقے غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں کہ پارٹی کی یہ پالیسی جمہوریت سے انحراف یا تہذیبی اصولوں سے غداری کے مترادف ہے۔ طبری نے زور دے کر کہا کہ ان کی جماعت یہ نہیں سمجھتی کہ خمینی یا ان کے پیروکار ایران کو قرونِ وسطیٰ کی طرف واپس لے جا رہے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ الزام بھی مسترد کیا کہ پارٹی نے خوف کے باعث یا غیر قانونی قرار دیے جانے کے ڈر سے خمینی کی سیاست میں ضم ہونے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق تودہ پارٹی کی حکمتِ عملی “انضمام” کی نہیں بلکہ اتحاد اور تنقید کی سیاست تھی۔
اگرچہ اس زمانے میں ایرانی سیاست میں اتحادوں کی سیاست عام تھی، لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو تودہ پارٹی کی طرف سے اپنے مذہبی اتحادیوں پر تنقید زیادہ نمایاں نظر نہیں آتی۔ طبری نے بعد کے بیانات میں ان گروہوں پر تنقید شروع کی جنہیں وہ “انتہا پسند بائیں بازو” کہتے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض بائیں بازو کے حلقے اسلامی قیادت کی مخالفت کر کے دراصل انقلاب دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی سیاسی موقف کی نیت سے زیادہ اہم اس کے نتائج ہوتے ہیں۔ اگر کسی عمل کا نتیجہ امریکی اثر و رسوخ یا شاہی نظام کے حامیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو پھر وہ عمل بظاہر نیک نیتی کے باوجود نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی بات کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے معروف کہاوت کا سہارا لیا کہ “جہنم کا راستہ بھی نیک ارادوں سے ہموار ہوتا ہے۔”
طبری کی “اتحاد” کی تشریح کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تودہ پارٹی کے نزدیک اس وقت ایران کو استحکام دینے اور انقلاب کو سمت فراہم کرنے کی صلاحیت صرف اسلامی قیادت کے پاس تھی۔ اس لیے پارٹی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مختلف سیاسی قوتوں کو ایک وسیع اتحاد کی صورت میں جمع ہونا چاہیے۔ تاہم بہت سے مارکسی حلقوں کا خیال تھا کہ یہ دراصل اتحاد نہیں بلکہ اسلامی حکومت کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے۔ ان کے نزدیک تودہ پارٹی نے اپنی سیاسی خودمختاری کو قربان کر کے مذہبی اقتدار کے ساتھ مصالحت اختیار کر لی تھی۔
اسی مضمون میں طبری نے لبرل اور بائیں بازو کے مختلف دھڑوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ سیاسی کشمکش میں کون کس صف میں کھڑا ہے۔ ان کے مطابق شاہی نظام اور سامراجی طاقتوں سے وابستہ عناصر براہِ راست انقلاب کو زندہ کرنے کی امید تو نہیں رکھتے، لیکن وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور انتہا پسند بائیں بازو کے حلقے خمینی کی قیادت کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ طبری کے بقول یہ گروہ اکثر محمد مصدق کے نام کو خمینی کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی حلقے تودہ پارٹی سے ناراض ہیں کیونکہ اس نے اسلامی جمہوریہ اور خمینی کی قیادت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
اپنے مؤقف کو سمیٹتے ہوئے طبری نے کہا کہ تودہ پارٹی بار بار یہ بات دہرا چکی ہے کہ ایران میں تمام سیاسی قوتوں کو ایک مشترکہ اتحاد قائم کرنا چاہیے۔ اس اتحاد میں لبرل بورژوازی، قوم پرست حلقے، بائیں بازو کی مختلف جماعتیں اور مذہبی انقلابی سب شامل ہو سکتے ہیں، لیکن اس وسیع اتحاد کی قیادت آیت اللہ خمینی کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ ان کے خیال میں یہی وہ راستہ تھا جس کے ذریعے انقلاب کو مستحکم کیا جا سکتا تھا اور ملک کو ایک نئے سیاسی نظام کی طرف لے جایا جا سکتا تھا۔
تودہ پارٹی کے لیے نئی اسلامی جمہوریہ کے بارے میں اپنی سیاسی پوزیشن متعین کرنا نسبتاً مشکل کام نہیں تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ اس مؤقف کو عوام کے سامنے کس طرح واضح کیا جائے۔ ایک بنیادی سوال بار بار اٹھایا جا رہا تھا: آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک مارکسی تنظیم نہ صرف اسلام کی حامی بن گئی بلکہ بعض مواقع پر اسلامی حکومت کا دفاع خود مذہبی حلقوں سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کرنے لگی؟
یہ صورتِ حال پارٹی کے اپنے کارکنوں اور حامیوں کے لیے بھی تشویش اور حیرت کا باعث تھی، جبکہ دیگر بائیں بازو کی جماعتیں اور خاص طور پر مارکسی تنظیمیں بھی اس پالیسی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ اس لیے تودہ پارٹی کو مسلسل یہ وضاحت کرنا پڑی کہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اتحاد کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس تعاون کی سیاسی منطق کیا ہے۔ پارٹی کی تحریروں، بیانات اور مباحث کا بڑا حصہ اسی وضاحت پر صرف ہوا کہ اسلامی حکومت کے ساتھ اشتراکِ عمل دراصل انقلاب کے مفاد میں ہے اور اسے ایک وقتی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ صرف تودہ پارٹی ہی ایسی وضاحتوں میں مصروف نہیں تھی۔ تنظیم فدائیانِ خلق ایران (اکثریت) اور گروہ آزادی و برابری جیسے حلقوں کو بھی اپنے مضامین اور بیانات میں بار بار یہ بیان کرنا پڑا کہ اسلام، مسلمان سیاسی قوتوں اور اسلامی جمہوریہ کی حمایت کیوں ضروری ہے۔ ان کے لیے بھی یہ ایک نظریاتی اور سیاسی سوال بن چکا تھا کہ مارکسی روایت سے وابستہ رہتے ہوئے مذہبی قیادت کے ساتھ تعاون کو کس طرح جائز اور قابلِ فہم بنایا جائے۔
تودہ پارٹی اور فقہِ اسلامی
اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے تودہ پارٹی کی قیادت بتدریج دوسرے مارکسی گروہوں سے الگ ہوتی چلی گئی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں پارٹی نے عملی طور پر بہت سی بائیں بازو کی تنظیموں سے فاصلہ اختیار کر لیا اور اپنی وفاداری اور اعتماد کا اظہار براہِ راست اسلامی جمہوریہ کے حق میں کیا۔ اپوزیشن کے اندر موجود دوسرے گروہوں کے بارے میں تودہ پارٹی کا اندازِ فکر اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ وہ نئی اسلامی حکومت کو ایک مرکزی اور فیصلہ کن قوت کے طور پر قبول کر چکی ہے۔
اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے تودہ پارٹی کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ ایرانی سیاست کے میدان میں اس کی پوزیشن مستحکم ہے اور اسے ایک طاقتور اتحادی بھی میسر آ گیا ہے۔ پارٹی کی قیادت کو اپنی حکمتِ عملی پر خاصا اعتماد تھا اور وہ سمجھتی تھی کہ اسلامی حکومت کے ساتھ تعاون دراصل انقلاب کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ نورالدین کیانوری نے اعلان کیا کہ تودہ پارٹی ان تمام قوتوں کی حمایت کرے گی جن کے خیالات اور عملی اقدامات اس پروگرام سے ہم آہنگ ہوں جس کی وکالت پارٹی کر رہی ہے۔
کیانوری کے مطابق تودہ پارٹی کے بعد اگر کوئی قوت سامراج کے خلاف جدوجہد، شاہ کے رجعتی نظام کی مخالفت اور عوام کے جمہوری حقوق کے دفاع میں سب سے زیادہ ثابت قدم ہے تو وہ آیت اللہ خمینی کے حقیقی پیروکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہی قوتیں تودہ پارٹی کی سب سے قریب ترین اتحادی بن سکتی ہیں۔ اس طرح تودہ پارٹی نے نہ صرف اسلامی قیادت کے ساتھ سیاسی قربت کو ایک واضح حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا بلکہ اسے سامراج مخالف جدوجہد اور عوامی حقوق کی لڑائی کا لازمی حصہ بھی قرار دیا۔
نورالدین کیانوری اور تودہ پارٹی کی قیادت اس بات پر متفق تھی کہ اپوزیشن میں موجود بعض گروہوں نے نئی اسلامی حکومت کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی میں سنگین غلطیاں کیں۔ خاص طور پر وہ ان تنظیموں پر تنقید کرتے تھے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کے سوال پر منفی یا محتاط رویہ اختیار کیا۔ کیانوری کے مطابق سب سے بڑی سیاسی اور حکمتِ عملی کی غلطی فدائیانِ خلق (اقلیت) نے کی، جنہوں نے اسلامی جمہوریہ کو تسلیم کرنے کے لیے منعقد ہونے والے ریفرنڈم کی مخالفت کی اور اس میں ووٹ دینے سے انکار کیا۔ ان کے بقول یہ موقف نہ صرف غلط تھا بلکہ اس کے نتیجے میں وہ عملاً شاہ کے آخری وزیرِ اعظم شاپور بختیار، سامراجی قوتوں اور دیگر رجعتی عناصر کے موقف کے قریب جا کھڑے ہوئے۔
ریفرنڈم کا سوال اس زمانے میں ایرانی سیاست کی ایک مرکزی بحث بن چکا تھا اور تودہ پارٹی مختلف مواقع پر اس کا ذکر کرتی رہتی تھی۔ تاہم ایک مارکسی۔لیننی جماعت کی طرف سے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ریفرنڈم کی حمایت خود ایک متنازع فیصلہ تھا۔ ایران کے اندر بائیں اور دائیں دونوں جانب کے بہت سے حلقوں کو اس بات پر حیرت تھی کہ ایک کمیونسٹ جماعت کس طرح اس آئینی عمل کی حمایت کر سکتی ہے جس کا مقصد ایک اسلامی نظام کو قانونی حیثیت دینا تھا۔ انقلاب کے تقریباً نو ماہ بعد ریاستی سطح پر اسلامائزیشن کے عمل کا آغاز ہو چکا تھا اور نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں ایک اسلامی آئین کی تیاری شامل تھی۔
یہ آئین آیت اللہ خمینی اور ان کے حامیوں کے لیے نہایت اہم تھا کیونکہ اسی کے ذریعے ولایتِ فقیہ کے تصور کو ریاستی ڈھانچے کا حصہ بنایا جانا تھا۔ اس نظریے کے تحت آیت اللہ خمینی کو بطور مرجعِ تقلید نئی ریاست کی بالادست قیادت حاصل ہوتی۔ آئین کی دفعات 5 اور 107 میں اس اصول کو شامل کر کے عملی طور پر اقتدار کا بڑا حصہ مذہبی قیادت کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔
بظاہر یہ صورتِ حال ایک مارکسی جماعت کے لیے شدید نظریاتی سوالات پیدا کرتی تھی، لیکن تودہ پارٹی نے اسے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔
کیانوری نے اس حوالے سے اپنے مؤقف کو بالکل واضح انداز میں بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صاف گوئی سے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ انقلاب کو اس کی اصل سمت پر قائم رکھنے میں امام خمینی کا کردار نہایت مثبت اور فیصلہ کن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تودہ پارٹی سنجیدگی کے ساتھ امام خمینی کی حمایت کرتی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت اسلامی قیادت کو اس مرحلے پر انقلاب کی رہنمائی کے لیے ناگزیر سمجھتی تھی۔
اصولی طور پر دیکھا جائے تو ایک مارکسی جماعت کے لیے مذہبی ریاست اور اسلامی قانون کے تحت قائم ہونے والی سیاسی طاقت کو قبول کرنا ایک مشکل سوال ہونا چاہیے تھا۔ مگر تودہ پارٹی نے نہ صرف اس حقیقت کو قبول کیا بلکہ ولایتِ فقیہ کے تصور کے بارے میں بھی ایک محتاط مگر واضح مؤقف اختیار کیا۔ پارٹی کے مطابق جب تک امام خمینی زندہ ہیں، ولایتِ فقیہ کا اصول انقلاب کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا۔ البتہ بعد کے زمانے میں یہ مسئلہ ضرور پیدا ہو سکتا ہے کہ آیا کوئی اور شخصیت بھی اسی طرح اس ذمہ داری کو سنبھال سکے گی یا نہیں۔
اسی لیے تودہ پارٹی کا خیال تھا کہ موجودہ مرحلے میں اس بحث کو زیادہ نمایاں بنانے کے بجائے نئے آئین کے مثبت پہلوؤں پر زور دینا چاہیے اور منفی نکات پر تنقید کرتے ہوئے بھی اس بنیادی سوال کو فی الحال مؤخر رکھا جائے۔ پارٹی کی نظر میں انقلاب کی قیادت میں خمینی کا کردار اس قدر اہم تھا کہ اس وقت نئے آئین کے حق میں ووٹ دینا ہی زیادہ مناسب سیاسی راستہ تھا۔ اس طرح تودہ پارٹی نے ایک بار پھر اپنی حکمتِ عملی کو اسلامی ریاست کے ساتھ عملی تعاون اور محتاط تنقید کے امتزاج کے طور پر پیش کیا۔
تودہ پارٹی، ولایتِ فقیہ اور سیاسی اسلام
انقلاب کے بعد ایرانی سیاست میں ایک اور اہم بحث آیت اللہ خمینی کے اختیارات کی حد سے متعلق تھی۔ یہ سوال کہ آیا خمینی کو مرجعِ تقلید کی حیثیت سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے یا نہیں، اس زمانے میں مذہبی اور سیکولر دانشوروں کے درمیان مسلسل زیرِ بحث تھا۔ نئی ریاست کے ڈھانچے میں مذہبی قیادت کے کردار اور اختیارات کے بارے میں واضح اتفاقِ رائے موجود نہیں تھا، اور یہی وجہ تھی کہ اس مسئلے پر فکری کشمکش جاری رہی۔
اسی دوران بہت سے مبصرین کو تودہ پارٹی کا اسلام کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ حیران کن محسوس ہوتا تھا۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا تھا کہ ایک مارکسی جماعت کس طرح اس نظام کو ترقی پسند قرار دے سکتی ہے جس کی بنیاد اسلامی فقہ اور مذہبی علما کی قیادت پر رکھی جا رہی ہو۔ اس اعتراض کے جواب میں نورالدین کیانوری نے اپنی جماعت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ تودہ پارٹی نے ابتدا ہی سے یہ محسوس کر لیا تھا کہ آیت اللہ خمینی کے مذہبی رجحانات کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جنہیں ترقی پسند کہا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول دنیا کی تمام حقیقی ترقی پسند قوتوں نے بھی خمینی کی ان سیاسی پالیسیوں کی حمایت کی ہے جو سامراج اور استبداد کے خلاف تھیں۔
تودہ پارٹی کے لیے سیاسی اسلام اور خاص طور پر خمینی کی فکری سمت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ پارٹی کے نزدیک اسلامی عقیدہ ایرانی معاشرے میں ایک ایسی قوت تھا جس کے بغیر نہ انقلاب کی کامیابی ممکن تھی اور نہ بعد از انقلاب ریاست کی استحکام پذیری۔ اسی تصور کے تحت تودہ پارٹی نے عوامی محاذ کی حکمتِ عملی پیش کی۔ اس کے مطابق صرف بائیں بازو کے اتحاد سے کوئی مؤثر سیاسی قوت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کے نظریاتی مباحث میں یہ وضاحت کی گئی کہ ایک وسیع متحدہ عوامی محاذ اسی صورت میں تشکیل پا سکتا ہے جب مختلف سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اسلامی جمہوریہ کے آئین کو قبول کریں یا کم از کم امام خمینی کی قیادت کو تسلیم کریں۔
اسی تناظر میں کیانوری نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ تنظیمیں جو اس اتحاد میں شامل ہونا چاہتی ہیں، انہیں پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان کا پروگرام کیا ہے۔ آیا وہ موجودہ نظام اور اس کے آئین کے خلاف مسلح بغاوت کرنا چاہتی ہیں یا پھر اس آئینی دائرے کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہیں جسے نئی ریاست نے تسلیم کر لیا ہے۔ اس طرح عوامی محاذ کا تصور دراصل اس شرط کے ساتھ پیش کیا گیا کہ اس کے مرکز میں اسلامی جمہوریہ اور خمینی کی قیادت کو تسلیم کیا جائے۔
اس مرحلے پر تودہ پارٹی اور بعض دوسری مارکسی تنظیموں کے درمیان اختلافات زیادہ نمایاں ہو چکے تھے۔ متحدہ عوامی محاذ کی تشکیل ایک متنازع مسئلہ بن گئی تھی جسے کیانوری بار بار اپنی تقاریر اور تحریروں میں زیرِ بحث لاتے تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ ایرانی معاشرے میں اسلام کی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً نوے فیصد آبادی امام خمینی کی قیادت کی حمایت کرتی ہے، اس لیے اگر اس عوامی حقیقت کو نظر انداز کیا جائے تو کوئی بھی سیاسی اتحاد دراصل ایک محدود اور کمزور محاذ ہی ثابت ہوگا۔
تاہم اس حکمتِ عملی کے ساتھ ایک اور پیچیدہ مسئلہ بھی جڑا ہوا تھا۔ ایک طرف اسلامی جمہوریہ کے تصور کو قبول کرنا تھا اور دوسری طرف یہ سوال بھی موجود تھا کہ مارکسی نظریاتی دائرے کے اندر مذہبی قوتوں کو کس طرح شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ تودہ پارٹی کو بیرونی سطح پر بھی کچھ قوتوں کا خیال رکھنا پڑتا تھا، خاص طور پر سوویت یونین کا۔ تودہ پارٹی اور سوویت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان قریبی تعلقات موجود تھے اور بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق علما کے ساتھ تودہ پارٹی کا تعاون کسی حد تک سوویت سیاسی حکمتِ عملی سے بھی متاثر تھا۔ تاہم بعض محققین کا خیال ہے کہ اسلام کی طرف تودہ پارٹی کا جھکاؤ صرف سوویت پالیسی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا، یہاں تک کہ پارٹی کے بعض رہنما اسلام اور اس کی تعلیمات کے دفاع میں بھی پیش پیش نظر آنے لگے۔
انقلاب کے ایک سال بعد بھی تودہ پارٹی کی اسلام کے لیے حمایت کم نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔ پارٹی کے نظریاتی رسائل اور تحریروں میں بعض سماجی اور سیاسی مسائل کی وضاحت کے لیے قرآن کی آیات تک کا حوالہ دیا جانے لگا۔ یہ امر بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا کیونکہ پارٹی فلسفیانہ طور پر مادیت پسند نظریے کی پیروکار تھی۔ چنانچہ ناقدین کو یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید تودہ پارٹی اسلام اور مارکسزم کو ملا کر کسی نئے فکری نظام کی تشکیل کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ سوال خود تودہ پارٹی کے بعض حامیوں کی طرف سے بھی اٹھایا گیا کہ آیا پارٹی اسلام اور مارکسزم۔لینن ازم کو ملا کر کوئی نئی نظریاتی ترکیب یا نیا مذہب تخلیق کرنا چاہتی ہے۔ تاہم پارٹی نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ کیانوری نے ایک بار پھر یہ وضاحت کی کہ ایران میں چونکہ اکثریت مسلمان ہے اس لیے اسلام کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کے بقول جس معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی جا رہی ہو وہاں عوام کی بھاری اکثریت کے نظریات اور فکری دنیا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تودہ پارٹی کا تعاون دراصل ایک سماجی اور سیاسی نوعیت کا ہے، نہ کہ نظریاتی یا عقیدتی۔
ان کے الفاظ میں، ایران جیسے معاشرے میں جہاں 97 یا 98 فیصد لوگ اسلام کو اپنے فکری افق کا حصہ سمجھتے ہیں، وہاں کسی انقلابی تحریک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دے۔ اسی لیے تودہ پارٹی نے اسلام کے ساتھ تعاون کو ایک سماجی و سیاسی ضرورت کے طور پر پیش کیا، نہ کہ کسی نئے نظریاتی امتزاج کے طور پر۔
جاری ہے
_____________________
حواشی : 1- نورالدین کیانوری ایرانی کمیونسٹ جماعت تودہ پارٹی کے رہنما تھے، جنہوں نے 1979 کے انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت کو ایک سامراج مخالف اور ترقی پسند قوت کے طور پر دیکھا اور اس کے ساتھ تعاون کی پالیسی اختیار کی۔