مارکس: وہ مفکر جس نے تاریخ کے قوانین آشکار کیے
ہائی گیٹ قبرستان میں فریڈرک اینگلز کا تاریخی خطاب
ایک ایسے انقلابی مفکر کو خراجِ عقیدت جس نے سرمایہ دارانہ سماج کی بنیادوں کو بے نقاب کیا اور مزدور طبقے کو اپنی قوت کا شعور دیا۔
ادارتی نوٹ
(مدیر، ایسٹرن ٹائمز)
کارل مارکس کی قبر پر فریڈرک اینگلز کا یہ مختصر مگر تاریخی خطاب جدید فکری تاریخ کی ان یادگار تحریروں میں شمار ہوتا ہے جو ایک عظیم مفکر کی علمی و انقلابی خدمات کو نہایت جامع انداز میں سمیٹ دیتی ہیں۔ یہ تقریر 17 مارچ 1883ء کو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس وقت کی گئی جب مارکس کی تدفین کے موقع پر ان کے چند قریبی ساتھی اور رفقا جمع تھے۔ اس موقع پر اینگلز نے اپنے دیرینہ دوست اور فکری رفیق کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی علمی عظمت اور انقلابی کردار کو تاریخ کے تناظر میں بیان کیا۔
اینگلز نے اس خطاب میں اس بنیادی حقیقت کو واضح کیا کہ جس طرح چارلس ڈارون نے حیاتیاتی فطرت کے ارتقا کا قانون دریافت کیا، اسی طرح مارکس نے انسانی تاریخ کی حرکت کا بنیادی قانون دریافت کیا۔ مارکس نے یہ دکھایا کہ انسانی معاشرے کی سیاسی، قانونی اور فکری ساخت کی جڑیں دراصل مادی زندگی اور معاشی پیداوار کے نظام میں پیوست ہوتی ہیں۔ اسی تصور نے بعد میں تاریخی مادیت کی شکل اختیار کی اور سماجی علوم، تاریخ نویسی اور سیاسی فکر کے مطالعے کو ایک نئی سمت دی۔
اس تقریر کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ اینگلز نے مارکس کو صرف ایک مفکر یا فلسفی کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسے انقلابی انسان کے طور پر یاد کیا جس کے لیے علم محض فکری مشق نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ہتھیار تھا۔ مارکس کی ساری جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ سماج کے جبر کو بے نقاب کرنا اور جدید پرولتاریہ کو اپنی تاریخی قوت اور آزادی کے امکانات کا شعور دینا تھا۔
آج جب دنیا بھر میں معاشی عدم مساوات، سرمایہ داری کے بحران اور سماجی ناانصافی کے سوالات دوبارہ شدت کے ساتھ ابھر رہے ہیں، مارکس کی فکر اور اینگلز کا یہ خطاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے بنیادی سوال کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ وہ ہر عہد میں نئے انداز سے سامنے آتے ہیں اور انسان کو اپنے سماج اور اس کے ڈھانچوں کو سمجھنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ایسٹرن ٹائمز اس تاریخی تقریر کا اردو ترجمہ اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہا ہے تاکہ فکری تاریخ کے اس اہم لمحے اور اس کے پس منظر کو نئی نسل کے قارئین تک پہنچایا جا سکے۔ مارکس کی زندگی اور فکر صرف ماضی کا باب نہیں بلکہ آج بھی عالمی سماج، سیاست اور معیشت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم فکری حوالہ ہے۔
اس تقریر کے ترجمے سے پہلے اینگلز اور ان کے ساتھیوں کا ہائی گیٹ قبرستان میں جمع ہونا اور اینگلز کے وہآن تقریر کرنے کے منظرایک افسانے کی شکل دی گئی ہے، ملاخظہ ہو
افسانہ: ہائی گیٹ کی خاموشی
لندن کی اس شام میں ہلکی سی نمی تھی۔ مارچ کی ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی۔ ہائی گیٹ قبرستان کے پتھریلے راستوں پر چند قدموں کی آہٹ تھی، اور ان قدموں کے درمیان ایک عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی—جیسے شہر کی ساری آوازیں اس جگہ آ کر تھم گئی ہوں۔
ایک سادہ سی قبر کے گرد چند لوگ کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر غم کے ساتھ ایک عجیب سا سکون بھی تھا، جیسے وہ جانتے ہوں کہ جس شخص کو وہ رخصت کر رہے ہیں وہ محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک فکر تھا۔
فریڈرک اینگلز نے اپنی نظریں قبر کی مٹی پر جما دیں۔ اس کے ذہن میں وہ تمام برس ایک ساتھ جاگ اٹھے جب لندن کی تنگ گلیوں میں بیٹھ کر وہ دونوں دنیا کے بارے میں بحث کیا کرتے تھے۔ غربت، جلاوطنی، ادھورے مسودے، قرض کے خط، اور ان سب کے درمیان ایک ایسا یقین جو کسی بھی طوفان سے بڑا تھا۔
اینگلز کو یاد آیا کہ مارکس اکثر کہا کرتا تھا:
“تاریخ محض واقعات کا سلسلہ نہیں، انسانوں کی جدوجہد کی کہانی ہے۔”
وہ شخص جو اب اس قبر کے نیچے سو رہا تھا، اپنی زندگی میں کبھی سکون سے نہیں سویا تھا۔ اس کی میز پر ہمیشہ کاغذ بکھرے رہتے تھے، کتابیں کھلی ہوتی تھیں اور سگریٹ کی دھوئیں میں نظریات کے نئے خدوخال بنتے رہتے تھے۔
وہ اکثر راتوں کو دیر تک برٹش میوزیم کی لائبریری میں بیٹھا رہتا۔ باہر لندن کی سڑکوں پر گھوڑا گاڑیاں چلتی رہتیں اور اندر ایک شخص تاریخ کے رازوں کو کاغذ پر اتارنے میں مصروف رہتا۔
اس کے لیے دنیا صرف ایک نظریہ نہیں تھی۔ وہ اس دنیا کو بدلنا چاہتا تھا۔
کسی نے قبر پر مٹی کی پہلی مٹھی ڈالی۔ اینگلز نے سر اٹھایا اور آہستہ سے بولنا شروع کیا۔ اس کی آواز میں لرزش نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی یقین کی مضبوطی تھی۔
“آج دنیا کا سب سے بڑا مفکر خاموش ہو گیا ہے…”
وہ بولتا رہا، اور قبرستان کے درخت اس کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرتے رہے۔
کچھ دیر بعد سب لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے چلے گئے۔ شام گہری ہونے لگی۔ لندن کی روشنی دور کہیں جلنے لگی۔
قبرستان میں اب مکمل خاموشی تھی۔
لیکن شاید وہ خاموشی مکمل نہیں تھی۔
ہوا کے کسی جھونکے میں، یا مٹی کے کسی ذرے میں، یا دور کسی کارخانے کے شور میں، ایسا لگتا تھا جیسے کوئی آواز ابھی بھی موجود ہو۔
وہ آواز جو کہتی تھی:
دنیا کو صرف سمجھنے کے لیے نہیں، بدلنے کے لیے بھی ہے۔
اور ہائی گیٹ کی اس خاموش قبر کے نیچے، ایک آدمی سو رہا تھا—
مگر اس کی فکر ابھی جاگ رہی تھی۔
چودہ مارچ کو دوپہر کے پونے تین بجے وہ لمحہ آیا جب عہدِ حاضر کا سب سے عظیم مفکر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ وہ بمشکل چند لمحوں کے لیے تنہا چھوڑا گیا تھا۔ جب ہم واپس لوٹے تو دیکھا کہ وہ اپنی آرام کرسی پر اسی طرح بیٹھا ہے، جیسے کسی گہری اور پُرسکون نیند میں ڈوب گیا ہو—مگر یہ نیند ابدی تھی۔
اس شخص کی وفات سے یورپ اور امریکہ کے جدوجہد کرنے والے مزدور طبقے اور تاریخ کی سائنسی فہم دونوں کو ایسا نقصان پہنچا ہے جس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ اس عظیم روح کے رخصت ہونے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کا احساس بہت جلد پوری دنیا کو ہونے لگے گا۔
جس طرح ڈارون نے فطرتِ نامیاتی کے ارتقا کا قانون دریافت کیا، اسی طرح مارکس نے انسانی تاریخ کی نشوونما کا بنیادی قانون آشکار کیا۔ اس نے اس سادہ حقیقت کو بے نقاب کیا جسے نظریاتی موشگافیوں کے انبار نے اب تک چھپا رکھا تھا: کہ انسان کو سیاست، سائنس، فنون اور مذہب کی جستجو سے پہلے سب سے پہلے زندہ رہنے کے لیے خوراک، پانی، رہائش اور لباس درکار ہوتے ہیں۔ یعنی زندگی کے فوری مادی وسائل کی پیداوار، اور اسی کے ساتھ کسی قوم یا کسی عہد کی معاشی ترقی کی سطح، وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ریاستی ادارے، قانونی تصورات، فنونِ لطیفہ اور مذہبی خیالات کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان سب کو اسی معاشی بنیاد کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس—جیسا کہ اس سے پہلے کیا جاتا رہا تھا۔
لیکن مارکس کی فکری خدمات صرف اسی دریافت تک محدود نہیں تھیں۔ اس نے جدید سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار اور اس سے جنم لینے والے بورژوا معاشرے کی حرکت کے مخصوص قانون کو بھی دریافت کیا۔ قدرِ زائد کے نظریے نے اچانک اس مسئلے کو روشن کر دیا جسے حل کرنے کی کوشش میں بورژوا ماہرینِ معاشیات اور سوشلسٹ ناقدین دونوں عرصۂ دراز تک اندھیرے میں بھٹکتے رہے تھے۔
ایسی دو عظیم دریافتیں کسی ایک انسان کی پوری زندگی کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اپنی عمر میں ایک ایسی دریافت کا شرف حاصل ہو جائے۔ لیکن مارکس نے جس جس میدان میں تحقیق کی—اور اس نے بے شمار میدانوں میں تحقیق کی—وہ کسی ایک میں بھی سطحی نہ رہا۔ ہر شعبے میں، حتیٰ کہ ریاضیات میں بھی، اس نے اپنی آزادانہ اور منفرد دریافتوں کا اضافہ کیا۔
یہ تھا مارکس بطور ایک سائنس دان۔ مگر اس کی شخصیت کا یہ صرف ایک پہلو تھا۔ مارکس کے لیے سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک تاریخی، متحرک اور انقلابی قوت تھی۔ نظریاتی سائنس میں کسی نئی دریافت سے اسے بے حد مسرت ہوتی، چاہے اس کا عملی اطلاق فی الحال ممکن نہ بھی ہو۔ مگر اس سے کہیں بڑھ کر خوشی اسے اس وقت محسوس ہوتی جب کوئی سائنسی دریافت صنعت اور انسانی تاریخ کے ارتقا میں فوری انقلابی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتی۔ اسی لیے وہ بجلی کے میدان میں ہونے والی نئی دریافتوں اور خاص طور پر مارسل دیپرے کے تجربات کو بڑی گہری دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
کیونکہ مارکس سب سے بڑھ کر ایک انقلابی تھا۔ اس کی زندگی کا اصل مقصد یہ تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ دارانہ سماج اور اس کے پیدا کردہ ریاستی اداروں کے خاتمے کی جدوجہد میں حصہ لے، اور جدید پرولتاریہ کی آزادی کی راہ ہموار کرے—اس پرولتاریہ کی جسے سب سے پہلے اسی نے اپنے حالات، اپنی ضروریات اور اپنی نجات کے تاریخی امکانات کا شعور عطا کیا۔
جدوجہد ہی اس کی زندگی کا جوہر تھی۔ اور اس نے ایسی شدّت، ثابت قدمی اور کامیابی کے ساتھ جدوجہد کی کہ کم ہی لوگ اس کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ رائنشے زائٹنگ (1842)، پیرس فارورٹس (1844)، ڈوئچے بروسیلر زائٹنگ (1847)، نوئے رائنشے زائٹنگ (1848-49)، نیویارک ٹریبیون (1852-1861) میں اس کی تحریریں؛ اس کے علاوہ بے شمار انقلابی رسائل اور پمفلٹ؛ پیرس، برسلز اور لندن میں تنظیمی سرگرمیاں؛ اور آخرکار عظیم انٹرنیشنل ورکنگ مینز ایسوسی ایشن کی بنیاد—یہ سب ایسے کارنامے تھے جن پر اس کا بانی بجا طور پر فخر کر سکتا تھا، خواہ اس نے اس کے علاوہ کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔
اسی لیے مارکس اپنے زمانے کا سب سے زیادہ نفرت کا نشانہ بننے والا اور سب سے زیادہ بدنام کیا جانے والا شخص تھا۔ مطلق العنان حکومتیں ہوں یا جمہوری ریاستیں—سب نے اسے اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا۔ بورژوا طبقے کے لوگ، خواہ قدامت پسند ہوں یا انتہائی جمہوریت پسند، سب اس پر بہتان تراشی میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر وہ ان سب کو مکڑی کے جالے کی طرح جھٹک دیتا، انہیں نظر انداز کر دیتا، اور صرف اس وقت جواب دیتا جب ناگزیر ضرورت پیش آتی۔
اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوا تو لاکھوں انقلابی مزدور ساتھی اسے محبت، احترام اور گہرے غم کے ساتھ یاد کر رہے تھے—سائبریا کی کانوں سے لے کر کیلیفورنیا تک، یورپ اور امریکہ کے ہر گوشے میں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگرچہ اس کے مخالف بہت تھے، مگر اس کا شاید ہی کوئی ذاتی دشمن تھا۔
اس کا نام زمانوں تک زندہ رہے گا—اور اسی طرح اس کا کام بھی۔
ہائی گیٹ قبرستان، لندن
17 مارچ 1883