نام کے نیچے (افسانہ )
ان لوگوں کی کہانی ہے جو اپنے اعمال سے نہیں، اپنے ناموں سے قتل کیے گئے، اور جن کے خون سے زیادہ دیرپا ثابت ہوئی ہماری مہذب، شائستہ، اور ادبی خاموشی۔
یہ افسانہ صرف دو قتلوں کا نوحہ نہیں، اس پورے سماج اور اس ادب کے منہ پر طمانچہ ہے جس نے شناخت کے نام پر بکھرتے ہوئے ہزاروں گھروں کو دیکھا، مگر دیر تک یوں لکھتا رہا جیسے اصل سانحہ کہیں اور پیش آیا ہو۔

افسانہ نگار کا نوٹ
یہ افسانہ اس لیے نہیں لکھا گیا کہ ایک اور مرثیہ ادب کی الماری میں سجا دیا جائے۔ یہ اس لیے لکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے جنہوں نے ایک پورے عہد کو خون میں نہاتے دیکھا، مگر اپنی زبان پر تہذیب کا رومال رکھے بیٹھے رہے۔ ناموں پر لوگ مارے جاتے رہے، اور ہم نے لفظوں پر گرد جھاڑتے ہوئے کہا: ادب کو ذرا بڑے موضوعات چاہییں۔
ہزاروں مقتول، ہزاروں اجڑے ہوئے گھر، ہزاروں بیوائیں، یتیم بچے، بوڑھی مائیں، اور خوف میں سکڑتے ہوئے شہر، مگر اردو فکشن میں ان کی بازگشت حیرت انگیز حد تک کم۔ یہ سوال اس لیے شدید ہو جاتا ہے کہ اردو ادب نے سیاسی ہنگاموں، جنگوں، جلاوطنیوں، ریاستی تشدد، مذہبی انتہاپسندی، اور دہشت گردی کے مختلف پہلوؤں پر لکھا ضرور ہے۔ مثال کے طور پر مستنصر حسین تارڑ نے “قلعہ جنگی” میں افغانستان کے پس منظر، جنگی قیدیوں کی ہلاکت، اور جنگ کے وحشیانہ منطق کو ناول کا مواد بنایا۔ خود اس ناول کی تعارفی توضیحات بھی اسے افغانستان کے ایک المناک واقعے اور جنگی قتل و غارت کے تناظر میں رکھتی ہیں۔
تو پھر سوال یہی بنتا ہے: جب افغانستان، قلعہ جنگی، جنگی قیدی، دہشت گردی کے کردار، اور “دہشت” بطور عمومی موضوع اردو فکشن میں داخل ہو سکتے تھے، تو اپنے شہروں میں نام، مسلک، شناخت، اور سماجی پہچان کی بنیاد پر مارے جانے والے ڈاکٹر، وکیل، استاد، انجینئر، تاجر، سیاسی کارکن، اور سماجی خدمت گار کیوں مرکزی فکشنل کردار نہ بن سکے؟ یہ سوال محض ادبی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ اس کا جواب سیدھا یہ نہیں کہ ادیب متاثر نہیں ہوئے ہوں گے۔ ممکن ہے وہ بہت گہرے طور پر متاثر ہوئے ہوں، مگر متاثر ہونا اور لکھ پانا ایک ہی بات نہیں۔ بعض سانحات آدمی کو لکھنے کی طرف نہیں، خاموشی کی طرف دھکیلتے ہیں۔
اس خاموشی کی ایک وجہ خوف بھی ہو سکتی ہے۔ شناختی قتل محض ایک موضوع نہیں تھا، ایک جاری خطرہ تھا۔ جو لکھتا، وہ صرف تاریخ درج نہیں کرتا، خود بھی ایک نشان زدہ دائرے میں داخل ہو جاتا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ وہ موضوع نہ تھا جس پر دور کھڑے ہو کر لکھا جا سکے۔ اس پر لکھنے کا مطلب تھا اپنے عہد کے قاتلانہ نظام، اس کی پشت پناہی، اس کے سماجی تعصبات، اور اس کی خاموش اکثریت کے خلاف شہادت دینا۔ بہت سے ادیب شاید اس شہادت کی اخلاقی قیمت اور عملی خطرہ دونوں جانتے تھے، اس لیے خاموش رہے۔ یہ خاموشی محض بزدلی نہیں، بعض اوقات خوف، سیاسی مصلحت، ادبی حلقوں کی ترجیحات، اور سماجی تعصب کے امتزاج سے بنتی ہے۔
دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اردو فکشن میں “انسانی المیہ” کو تو قبول کیا گیا، مگر “مخصوص شناخت کے انسانی المیے” کو اکثر یا تو عمومی بنا کر لکھا گیا یا اس سے گریز کیا گیا۔ یعنی اگر مقتول کو صرف “انسان” کہہ دیا جائے تو ادب کو سکون ملتا ہے، مگر اگر اس کی شناخت، اس کے نام، اور اس کی وجۂ قتل کو متن میں داخل کیا جائے تو ادب کو اپنے ہی سماج کے تعصبات سے آنکھ ملانی پڑتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سا فکشن پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ مقتول کی انفرادیت، اس کے نام کی سیاسی معنویت، اور قاتلانہ انتخاب کے سماجی منطق کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے کئی بار ادب عمومی نوحہ تو لکھتا ہے، مگر مخصوص شہادت سے گریز کرتا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اردو ادب کے طاقت ور دھاروں میں بعض موضوعات “قابلِ ادب” سمجھے گئے اور بعض “قابلِ خبر”۔ شناختی قتل کے بہت سے واقعات کو صحافتی سانحہ تو سمجھا گیا، مگر فکشنل کائنات کے لائق مواد کم سمجھا گیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی: ان قتلوں میں داخلی کرب، گھریلو تباہی، شہر کی اخلاقی شکست، خوف کا روزمرہ، خاموشی کی سیاست، اور نام کے جرم میں بدل جانے کا پورا المیہ موجود تھا۔ یعنی مواد کی کمی ہرگز نہ تھی؛ کمی شاید ادبی ارادے، اخلاقی جرات، اور نظری تناظر کی تھی۔
چوتھی وجہ فرقہ واریت کی وہ نارملائزیشن بھی ہو سکتی ہے جس نے اس قتل کو بہت عرصہ “معمول” بنا دیا۔ جب کوئی ظلم معمول بن جائے تو سماج کے ساتھ ساتھ ادب بھی اس کے لیے ایک دفاعی زبان ایجاد کر لیتا ہے۔ پھر ہر قتل ایک “خبر” رہ جاتا ہے، ہر سوگ ایک “واقعہ”، اور ہر مقتول ایک “عدد”۔ ادب کو کسی سانحے کو موضوع بنانے کے لیے صرف دکھ نہیں، یہ احساس بھی چاہیے ہوتا ہے کہ یہ دکھ غیر معمولی اور ناقابلِ قبول ہے۔ جہاں سماج کسی قتل کی عادت ڈال لے، وہاں ادب بھی اکثر دیر سے جاگتا ہے۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ ادب کو ذرا بڑے موضوعات چاہییں۔
گویا ایک ڈاکٹر، ایک وکیل، ایک استاد، ایک سماجی کارکن، ایک باوقار شہری، اپنے ہی نام کے جرم میں مارا جانا “چھوٹا” موضوع تھا۔
گویا ہزاروں گھروں میں بکھری ہوئی چیخیں ابھی ادبی معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔
گویا بیوہ کی خشک آنکھ، یتیم کے سوال، بوڑھی ماں کی خاموشی، خون آلود تسبیح، خالی کرسی، اور خوف میں دبکا ہوا شہر ابھی اس لائق نہیں تھا کہ افسانے میں داخل ہو سکے۔
اردو ادب نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ لکھا، بہت کچھ محسوس کیا۔ دور کے جنگی میدان بھی اس کے تخیل میں آگئے، سرحد پار کے قلعے بھی، دہشت گردی کے ابہام بھی، انتہا کے کردار بھی۔ لیکن اپنے ہی کوچوں، اپنے ہی شہروں، اپنے ہی قبرستانوں، اپنے ہی قتل شدہ ناموں پر قلم اکثر ایسے رکا جیسے وہاں روشنائی نہیں، بارود مانگا جا رہا ہو۔ لگتا ہے ہمارے بعض ادیبوں کو خون تبھی ادبی معلوم ہوتا ہے جب وہ تھوڑا دور بہہ رہا ہو۔
یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ مقتول اگر بے نام “انسان” ہو تو سب کا دل بھر آتا ہے، مگر اگر وہ اپنے پورے نام، اپنی پوری شناخت، اپنے پورے تاریخی پس منظر کے ساتھ سامنے آجائے تو بہت سے قلموں کو کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے: ادب فرقوں سے اوپر ہوتا ہے۔ جیسے مقتول نے مرنے سے پہلے ادب کی عزت میں اپنی شناخت الماری میں رکھ دی ہو۔ جیسے قاتل نے گولی چلانے سے پہلے کہا ہو: حضور، میں انسان نہیں، صرف ایک عمومی علامت کو مار رہا ہوں۔
اصل مسئلہ شاید یہ تھا کہ یہ قتل صرف قاتلوں کا جرم نہیں تھے، یہ معاشرے کے چہرے پر پڑا ہوا آئینہ بھی تھے۔ اس آئینے میں بہت سے معزز چہرے اپنی خاموشی کے ساتھ دکھائی دیتے تھے۔ اس لیے افسانہ لکھنا مشکل تھا۔ افسانہ لکھنے کا مطلب تھا خبر کو ضمیر میں بدل دینا۔ اور خبر سے سب نمٹ لیتے ہیں، ضمیر سے کم لوگ نمٹتے ہیں۔
ہزاروں لوگ مخصوص شناخت کے نام پر مارے گئے۔ ہزاروں۔
مگر ہمارے افسانوی شعور نے شاید حساب یوں لگایا:
ایک لاش خبر ہے۔
سو لاشیں سانحہ ہیں۔
ہزار لاشیں؟
معمول۔
اور جب قتل معمول بن جائے تو معاشرہ پہلے بے حس ہوتا ہے، ادب بعد میں مہذب۔ پھر جملے تراشے جاتے ہیں، رگیں نہیں کٹتیں۔ پھر کہا جاتا ہے: “بڑا المیہ ہے”، اور اس کے فوراً بعد چائے منگوائی جاتی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے: “حالات بہت خراب ہیں”، جیسے حالات کسی درخت پر اگ آئے ہوں، جیسے ان کے باپ دادا نہ ہوں، جیسے ان کے مددگار نہ ہوں، جیسے ان کے لیے خاموش رہنے والے کوئی نہ ہوں۔
یہ افسانہ اسی مہذب سنگ دلی کے خلاف لکھا گیا ہے۔
اس لیے نہیں کہ میں کسی لاش کو ادب میں جگہ دے رہا ہوں، بلکہ اس لیے کہ ادب سے پوچھ سکوں: تم آخر کس دن کے لیے خاموش تھے؟
وہ کون سا زخم تھا جو تمہیں کم سرخ لگا؟
وہ کون سا نام تھا جو تمہیں کم انسانی محسوس ہوا؟
اور وہ کون سی گولی تھی جس کی آواز تمہارے کاغذ تک پہنچتے پہنچتے شائستگی میں بدل گئی؟
اس افسانے کا بزرگ مقتول اور اس کا وکیل بیٹا محض دو کردار نہیں۔ یہ اس تہذیب کے دو کٹے ہوئے جملے ہیں جس نے ایک نسل کو نام کے ساتھ جینا سکھایا اور دوسری کو نام کے ساتھ مرنا۔ باپ اپنے لان میں فجر کے بعد تسبیح ہاتھ میں لیے مارا گیا۔ بیٹا شہر کے ریلوے انڈر برج کے نیچے۔ قاتل بدل گئے ہوں گے، طریقہ شاید تھوڑا بدلا ہو، مگر منطق وہی رہی: پہلے پہچانو، پھر نشانہ بناؤ، پھر معاشرے کو اتنا خاموش رکھو کہ خون بھی آخرکار روزمرہ معلوم ہونے لگے۔
میں اس افسانے کو 9 اپریل 1997ء کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے خانیوال کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت میر ظہیر الحسن ترمذی کے نام کرتا ہوں، اور بعد ازاں اسی المیے کا شکار ہونے والے ان کے بیٹے، میرے انتہائی اچھے دوست فرخ جرجیس کے نام بھی۔ یہ انتساب دو اشخاص کے نام نہیں، اس پوری مقتول روایت کے نام ہے جسے ہم نے قبرستانوں میں دفن کیا اور ادب میں جگہ دینے سے ہچکچاتے رہے۔
یہ نوٹ خراجِ عقیدت کم، فردِ جرم زیادہ ہے۔
جو پڑھ کر صرف افسردہ ہو، وہ شاید ابھی پوری طرح نہیں پڑھا۔
جو پڑھ کر بے چین ہو، شاید اس نے پہلی سطر سمجھی۔
اور جس کے ضمیر پر یہ جملے تازیانہ بن کر نہ برسیں، ممکن ہے وہ پہلے ہی پتھر کی ڈیوٹی پر مامور ہو۔ محمد عامر حسینی
______________________________
نام کے نیچے
تم اسے پہلے اس کے باپ کے نام سے جانتے تھے، پھر اپنے نام سے، اور آخر میں اس نام سے جو اس کے خون کے ساتھ شہر کی مٹی میں جذب ہوگیا۔ یہی اس شہر کا دستور ہوتا جارہا تھا۔ آدمی پہلے ایک چہرہ ہوتا ہے، پھر ایک خدمت، پھر ایک عادت، پھر ایک خبر، اور پھر صرف ایک نام۔ اور کبھی کبھی نام بھی نہیں، صرف اشارہ۔ وہی جو لوگ آواز نیچی کرکے کرتے ہیں۔ وہی… جن کے ساتھ وہ ہوا تھا۔ وہی… جو پھر اس کے ساتھ بھی ہوا۔
صبح کا وقت تھا۔ فجر کے بعد کی وہ ٹھنڈی، لرزتی، ہلکی نیلی ساعت، جب رات پوری طرح جاتی نہیں اور دن پوری طرح آتا نہیں۔ اس کے گھر کے لان میں شبنم ابھی گھاس کی کونپلوں سے لگی ہوئی تھی۔ وہ ساٹھ سے اوپر کا آدمی تھا۔ بڑھاپا پورے طور پر اس کے جسم پر قابض نہیں ہوا تھا، مگر اس کے کندھوں پر بیٹھنے لگا تھا۔ چال میں اب بھی وقار تھا، صرف تیزی کم ہوگئی تھی۔ ہاتھ میں تسبیح تھی۔ ہونٹ ہل رہے تھے۔ کچھ پڑھ رہا تھا۔ کوئی دعا، کوئی وظیفہ، کوئی آیت، یا شاید محض وہ نام جو آدمی بڑھاپے میں زیادہ لینے لگتا ہے جب دنیا کے نام ایک ایک کر کے اپنا اعتبار کھونے لگتے ہیں۔
وہ اپنے ہی لان میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ گھر کی بیرونی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی، چار یا پانچ فٹ۔ اس زمانے میں بہت سے گھروں کی دیواریں ایسی ہی ہوتی تھیں۔ آدمی کو گمان رہتا تھا کہ پڑوسی کی نظر، راہ گیر کی نظر، سلام دعا، محلے داری، یہ سب ابھی باقی ہیں۔ ابھی اتنا اندھیرا نہیں اترا کہ ہر گھر قلعہ بن جائے۔ ابھی آدمی اپنے گھر کے اندر بھی آدمی رہ سکتا ہے۔ مگر زمانہ دیواروں سے پہلے دلوں کے اندر اونچا ہوتا ہے، پھر اینٹوں میں چڑھتا ہے۔
موٹر سائیکل آئی تھی۔ ایک نہیں، شاید ایک ہی تھی۔ یا دو؟ تم آج تک قطعی طور پر نہیں کہہ سکتے۔ بعض واقعات اپنی ہولناکی کے سبب تفصیل کھا جاتے ہیں۔ صرف دھچکا رہ جاتا ہے، صرف آواز، صرف گرنے کی صورت، صرف سفید کپڑے پر سرخ پھیلاؤ۔ لوگوں نے کہا، دو آدمی تھے۔ کسی نے کہا، تین۔ کسی نے کہا، پچھلی گلی سے مڑے تھے۔ کسی نے کہا، سامنے سے گزرے اور نظر پڑتے ہی رک گئے۔ مگر اس سب کے بیچ اصل واقعہ بہت مختصر تھا۔ موٹر سائیکل سست ہوئی۔ بیرونی دیوار کے پار لان نظر آیا۔ ایک آدمی تسبیح ہاتھ میں لیے چل رہا تھا۔ کلاشنکوف کا برسٹ ہوا۔ اتنی گولیاں کہ صبح کی خاموشی ایک ہی لمحے میں چیتھڑوں میں بدل گئی۔ وہ گرا۔ تسبیح ہاتھ سے چھوٹی یا ہاتھ میں ہی رہی؟ اس پر بھی گواہوں کے بیان الگ الگ تھے۔ مگر ایک بات سب میں مشترک تھی۔ وہ اپنے ہی گھر کے اندر مارا گیا۔ اپنے ہی لان میں۔ فجر کے بعد۔ دعا کے وقت۔ ایسی ساعت میں جب پرندے بھی ابھی پورے طور پر جاگے نہیں ہوتے۔
نشتر لے جایا گیا۔ خبر بھی ساتھ دوڑی۔ گاڑی بھی، لوگ بھی، دعائیں بھی، اور وہ بے کار جملے بھی جو ہر حادثے، ہر قتل، ہر گولی، ہر جنازے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان شاء اللہ کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی سانس چل رہی ہے۔ ڈاکٹر دیکھ رہے ہیں۔ خون چڑھ رہا ہے۔ مگر بعض جملے بولتے وقت ہی جھوٹ ہو جاتے ہیں۔ ان کی نبض زبان سے بھی پہلے رک جاتی ہے۔ وہ نشتر میں جانبر نہ ہو سکا۔
تم اس روز نشتر نہیں گئے تھے۔ یا گئے تھے اور دیر سے پہنچے تھے؟ تمہاری یاد تمہیں معاف نہیں کرتی، مگر تمہیں پورا مجرم بھی ثابت نہیں کرتی۔ تم اس شہر کے ان لوگوں میں تھے جو ہر قتل کے بعد خود کو اس وجہ سے بے قصور سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے ٹریگر نہیں دبایا۔ حالانکہ بعض اوقات معاشرے ٹریگر سے نہیں، خاموشی سے قتل کرتے ہیں۔ تمہیں یہ بات بعد میں سمجھ آئی۔ اس وقت تم بھی دوسروں کی طرح خبر کے پیچھے چلتے ہوئے آدمیوں میں سے ایک تھے۔ تمہارے پاس افسوس تھا، بے بسی تھی، خوف تھا، اور وہی پرانا گمان کہ شاید یہ لہر تمہارے دروازے تک نہیں آئے گی۔ شاید ناموں کی یہ فہرست یہاں ختم ہوجائے گی۔ شاید۔
پسماندگان میں ایک بیوہ تھی اور چار بیٹے۔ ان میں ایک نوجوان وکیل تھا۔ اس کے بال کالے تھے، چہرہ تراشا ہوا، آنکھوں میں وہ خاموش روشنی جو بعض نوجوانوں میں بہت جلد پیدا ہو جاتی ہے جب وہ اپنے زمانے سے عمر میں بڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کے سامنے بیٹھ کر کبھی بچہ لگتا ہوگا، مگر باپ کے مرنے کے بعد وہ اچانک بوڑھا ہو گیا تھا۔ بعض لوگ عمر سے نہیں، صدمے سے بڑی عمر میں داخل ہوتے ہیں۔ تم پہلی بار اسی سے ملنے گئے تھے۔
وہ ڈرائنگ روم میں نہیں، برآمدے کے کنارے ایک میز کے پاس بیٹھا تھا۔ میز پر کاغذ تھے، ایک فائل، دو قانون کی کتابیں، اور ایک پرانا گرد آلود رجسٹر۔ تم نے اسے فوراً پہچان لیا۔ یہی وہ رجسٹر تھا جس میں اس کے والد نے ٹی بی ایسوسی ایشن کے ممبران، مریضوں، چندہ دینے والوں، دوائی لینے والوں، کیمپوں، اور ضرورت مندوں کے نام لکھ رکھے تھے۔ رجسٹر کی جلد پھٹنے لگی تھی، مگر اس کے اندر درج نام ابھی تک صاف تھے۔ سیاہی کچھ جگہ ہلکی پڑ گئی تھی، کچھ جگہ ویسی ہی گہری تھی جیسے لکھنے والے کو یقین رہا ہو کہ نام لکھ لینا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ آدمی ورنہ کھو جاتے ہیں۔
نوجوان وکیل نے تمہیں دیکھ کر اٹھنے کی کوشش کی، پھر بیٹھا رہ گیا۔ تم نے خود آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا۔ اس کا ہاتھ ٹھنڈا تھا، مگر کمزور نہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو رونا سیکھتے ہیں مگر لوگوں کے سامنے نہیں۔ اس نے کہا، آپ آئے۔ اس ایک جملے میں شکریہ بھی تھا، شکوہ بھی، اور ایک عجیب سا فاصلہ بھی۔ جیسے وہ تمہیں اپنے باپ کے پرانے حلقے سے پہچانتا ہو، مگر اب وہ حلقہ اس کے لیے ایک ایسی دنیا بن گیا ہو جو اسے تنہا چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی ہے۔
تم بیٹھ گئے۔ تم نے بہت سے جملوں میں سے ایک مناسب جملہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اللہ صبر دے۔ بڑا سانحہ ہے۔ ہم سب غم زدہ ہیں۔ وہ بہت اچھے آدمی تھے۔ وہ سب کے کام آتے تھے۔ مگر تمہیں محسوس ہوا کہ یہ سب جملے اس کمرے میں پہلے ہی بہت بار بولے جا چکے ہیں اور اب ان کا رنگ اتر چکا ہے۔ تم خاموش رہے۔
وہ بھی کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے خود کہا، فجر کے بعد لان میں چل رہے تھے۔
تم نے سر اٹھایا۔
ہاتھ میں تسبیح تھی۔ امی کہتی ہیں ہونٹ ہل رہے تھے۔ کچھ پڑھ رہے تھے۔
پھر خاموشی۔
باؤنڈری اتنی اونچی نہیں تھی کہ اندر نظر نہ آئے۔ آپ جانتے ہیں نا، پرانے گھر ایسے ہی ہوتے تھے۔
تم نے کہا، ہاں۔
اس نے رجسٹر پر ہاتھ رکھا۔ انگلیاں ہلکی سی دھول میں پھسلیं۔ پھر بولا، اب لوگ کہتے ہیں دیواریں اونچی کر لو۔ میں سوچتا ہوں، دیواریں اونچی کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے اور زمانہ نیچا ہونے میں کتنی؟
تمہارے پاس جواب نہیں تھا۔
وہ پھر بولا، انہوں نے انہیں گھر کے اندر مارا۔ باہر نہیں۔ راستے میں نہیں۔ کسی جلسے میں نہیں۔ لان میں۔ نماز کے بعد۔ یہ بات مجھے ہر وقت کاٹتی ہے۔ انہیں ہماری سیاست سے مسئلہ تھا؟ ان کی سماجی خدمت سے؟ ان کے نام سے؟ ان کے صبح چلنے پھرنے سے؟ ان کی تسبیح سے؟ کیا چیز انہیں اتنی نمایاں کرتی تھی کہ اپنے ہی گھر میں محفوظ نہ رہ سکے؟
یہ سوال وہ تم سے نہیں، اپنے آپ سے بھی کر رہا تھا۔ تم نے محسوس کیا کہ اس کے اندر وکیل ابھی تک زندہ ہے۔ وہ مقدمہ بنا رہا ہے، شواہد اکٹھے کر رہا ہے، جرم کی نوعیت متعین کرنا چاہتا ہے۔ مگر بعض قتل ایسے ہوتے ہیں جن میں جرم بہت واضح اور وجہ بہت گندی ہوتی ہے۔ وجہ جتنی گندی ہوتی ہے، زبان اتنی ہی ہچکچاتی ہے۔
تم نے آہستہ سے کہا، وہ سب کے کام آتے تھے۔
اس نے فوراً تمہاری طرف دیکھا، جیسے تم نے کوئی قانونی کمزور دلیل دی ہو۔ پھر کہا، اور اسی لیے مارے گئے؟
تم نے سر جھکا لیا۔
نہیں، اس نے خود ہی کہا، اصل بات یہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہیں پہچانا گیا۔ اور پہچان کس چیز سے ہوئی؟ نام سے۔ تعلق سے۔ ایک ایسے نشان سے جو وہ چھپاتے نہیں تھے، کیونکہ انہوں نے زندگی ایسے زمانے میں شروع کی تھی جب آدمی کو اپنے نام سے ڈرنا نہیں سکھایا جاتا تھا۔
یہ تمہاری اس سے پہلی ملاقات تھی، مگر تم نے اسی روز سمجھ لیا تھا کہ یہ جوان آدمی اپنے باپ کے قتل کے بعد صرف بیٹا نہیں رہا، گواہ بھی بن گیا ہے۔ اور گواہ ہونا بھی کتنی بھیانک شے ہے۔ گواہ کو نہ صرف واقعہ یاد رکھنا پڑتا ہے بلکہ دوسروں کی فراموشی بھی سہنی پڑتی ہے۔
اس کی ماں اندر سے آئی تھی۔ سفید دوپٹہ، چہرے پر تھکن کی ایسی تہہ جو نیند سے نہیں اترتی۔ اس نے چائے رکھی تھی۔ پھر وہی ایک جملہ کہا تھا جو بعد تک تمہارے اندر جلتا رہا، ان کی تسبیح نشتر سے واپس آئی تھی، خون لگا ہوا تھا، میں نے دھوئی نہیں۔
تمہاری انگلیاں کپ کے گرد سخت ہو گئی تھیں۔
اس نے کہا، الماری میں رکھی ہے۔ کبھی کبھی نکال کر دیکھتی ہوں۔
پھر وہ چپ ہو گئی تھی۔
تم سوچتے رہے، بعض گھروں میں مرنے والوں کی چیزیں متبرک نہیں ہوتیں، زخمی ہوتی ہیں۔ ان پر خون کا داغ ہوتا ہے، چھونے سے انگلی پر صدمہ لگتا ہے۔ پھر بھی لوگ انہیں سنبھال کر رکھتے ہیں کیونکہ آدمی جب چلا جاتا ہے تو اس کی چیزیں اس کی جسمانی غیر موجودگی کی ضد بن جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، نہیں، وہ پوری طرح گیا نہیں۔
اس کے بعد تم کئی بار اس نوجوان وکیل سے ملے۔ ہر بار رجسٹر کہیں نہ کہیں موجود ہوتا۔ کبھی میز پر، کبھی الماری سے نکلا ہوا، کبھی کھلا، کبھی بند۔ ایک بار اس نے تمہیں اس کے صفحے دکھائے۔ یہ دیکھیں، انہوں نے گاؤں کے بچوں کی فیسوں کے نوٹ الگ لگائے ہوئے تھے۔ یہ ان لوگوں کی فہرست ہے جنہیں ٹی بی کے کیمپ میں دوائی دی گئی۔ یہ دیکھیں، اس کے آگے لکھا ہے، گھر جا کر دیکھنا ہے۔ یہ دیکھیں، اس لڑکے کے بارے میں، بہت ذہین ہے، کالج ضرور بھیجنا ہے۔
تم صفحے پلٹتے رہے۔ ہر نام کے پیچھے ایک آدمی، ایک گھر، ایک بیماری، ایک امید، ایک وعدہ۔ پھر تمہیں لگا، رجسٹر صرف ریکارڈ نہیں، اس آدمی کی اخلاقی سوانح ہے۔ وہ اپنی سیاست، اپنی خدمت، اپنی مذہبی شناخت، اپنی شہری ذمہ داری، سب کو الگ خانوں میں نہیں رکھتا تھا۔ اس کے لیے سب ایک ہی زندگی کے مختلف رخ تھے۔ وہ میونسپل کمیٹی میں قائد حزب اختلاف تھا، مگر اپنی مخالفت کو نفرت میں نہیں بدلتا تھا۔ وہ ٹی بی ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جنرل تھا، مگر مریض میں ووٹر نہیں ڈھونڈتا تھا۔ وہ درمیانے درجے کا کامیاب کاروباری تھا، مگر منافع کے بیچ بھی فیس کی پرچیاں رکھتا تھا۔ اس نے اپنے شہر کے غریب لڑکوں کو کتابیں دلوائیں، ملازمت کے لیے سفارشیں لکھیں، یتیم طالب علموں کی فیسیں بھریں، اور شاید اسی سادگی سے سمجھتا رہا کہ لوگ آخرکار آدمی کو آدمی دیکھیں گے۔ شاید وہ غلط تھا۔ یا شاید زمانہ غلط تھا۔ آدمی غلط کیوں ہو؟
ایک شام نوجوان وکیل نے تم سے پوچھا، آپ کو معلوم ہے لوگ تعزیت میں سب سے زیادہ کیا کہتے ہیں؟
تم نے کہا، کیا؟
وہ ہلکا سا ہنسا۔ وہ ہنسی نہیں تھی، صرف ہونٹ کی تھکن تھی۔ بولا، کہتے ہیں، بڑے اچھے آدمی تھے۔ سب کے کام آتے تھے۔ پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ انہیں کس نے مارا۔ کیوں مارا۔ کس چیز نے ان کی پیشانی پر نشانہ کھینچا۔ جیسے سب کو پتہ ہے مگر کوئی اپنے منہ سے کہنا نہیں چاہتا۔ جیسے لفظ بھی گولی بن جاتا ہو۔
تم نے کہا، لوگ ڈرتے ہیں۔
اس نے کہا، ہاں، ڈرتے ہیں۔ مگر ڈر بھی کبھی کبھی شریکِ جرم لگتا ہے۔
پھر اس نے وہ جملہ کہا جو تمہیں بہت بعد تک سوتے جاگتے سنتا رہا، ہم نے اس شہر میں نام لے کر جینا سیکھا تھا، اب اشاروں میں مرنا سیکھ رہے ہیں۔
تم اس سے مل کر اپنے گھر لوٹتے تو دیر تک خاموش رہتے۔ تمہیں اپنے ہی جملوں سے نفرت ہونے لگتی۔ تمہارے اندر کا آدمی جو ہر قتل کے بعد تعزیت، دعا، افسوس، اور بے بسی کے عمومی جملے لیے حاضر ہو جاتا تھا، اب خود تمہیں جھوٹا معلوم ہوتا۔ تم محسوس کرتے کہ تم بھی انہی میں سے ہو جو ٹریگر نہیں دباتے مگر شہر میں اس فضا کے عادی ہو جاتے ہیں جہاں ٹریگر دبنا ممکن ہو۔ کچھ جرائم بندوق سے ہوتے ہیں، کچھ عادت سے۔
شہر بدل رہا تھا۔ واقعی۔ تمہیں اب جا کر نظر آتا تھا۔ دیواریں اونچی ہونے لگی تھیں۔ نئے گھروں کے گیٹ بند رہتے۔ پرانے گھروں کے اوپر لوہے کی نوک دار سلاخیں لگنے لگیں۔ دعوت ناموں سے بعض القاب غائب ہو گئے۔ بچوں کو سمجھایا جانے لگا کہ ضرورت سے زیادہ نہ بتایا کرو۔ دکانوں پر سیاسی بحث جلدی ختم ہونے لگی۔ مساجد اور امام بارگاہوں کے راستے ذہن میں نقشے کی طرح نہیں، خطرے کی طرح بسنے لگے۔ لوگ کہتے، زمانہ خراب ہے۔ یہ جملہ اتنا بولا جاتا کہ آخرکار خود زمانہ بھی اس کے پیچھے چھپنے لگا۔ جیسے زمانہ کوئی غیر مرئی دیو ہو اور انسانوں کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔
نوجوان وکیل ان سب کے باوجود سیدھا چلتا رہا۔ عدالت جاتا۔ مقدمے لڑتا۔ گھر لوٹتا۔ ماں کے پاس بیٹھتا۔ باپ کا رجسٹر سنبھالتا۔ کبھی کبھی اس کے والد کے کسی ادھورے کام کی بابت کوئی آدمی آ جاتا تو حتی الامکان مدد کرتا۔ وہ اپنے باپ کی جگہ نہیں لے سکتا تھا، یہ وہ خود بھی جانتا تھا، مگر کچھ لوگ مرنے والوں کی جگہ نہیں لیتے، ان کے خالی چھوڑے ہوئے اخلاقی میدان میں قدم رکھ دیتے ہیں، تاکہ پوری ویرانی نہ چھا جائے۔
پھر تم ایک روز اسے ریلوے انڈر برج کے نزدیک دیکھ آئے تھے۔ نہیں، یہ اس کی موت سے پہلے کی بات ہے۔ وہ عدالت سے لوٹ رہا تھا یا کسی مقدمے کی پیروی کے لیے جا رہا تھا۔ تم نے دور سے ہاتھ ہلایا۔ وہ رکا نہیں، صرف مسکرا کر سر ہلا گیا۔ تمہیں آج تک اس لمحے سے نفرت ہے۔ شاید تم اسے روک لیتے۔ شاید دو منٹ بات ہو جاتی۔ شاید کچھ بدل جاتا۔ نہیں، یہ جھوٹ ہے۔ دو منٹ سے تاریخیں نہیں بدلتیं۔ مگر صدمہ آدمی سے ایسی ہی بچکانہ منطقیں بنواتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو مکمل بے بس محسوس نہ کرے۔
اس کے قتل کی خبر بھی تقریباً ایسے ہی آئی جیسے اس کے باپ کی آئی تھی۔ پہلے ایک مبہم سا جملہ۔ پھر فون۔ پھر تصدیق۔ پھر ایک ایسا سکوت جو کان کے اندر بجتا رہتا ہے۔ شہر کے ریلوے انڈر برج کے نیچے نامعلوم افراد نے گولیاں مار دیں۔ نامعلوم۔ یہ لفظ تمہیں ہمیشہ سے مشکوک لگتا تھا۔ اتنے معلوم طریقے، اتنی معلوم وجوہ، اتنے معلوم پیٹرن، اتنے معلوم نام، اور قاتل نامعلوم۔ شہر بعض اوقات قاتلوں کے نام جانتا ہے، صرف بولتا نہیں۔
تم جب اس گھر پہنچے تو تمہیں لگا گھر پہلے سے بھی چھوٹا ہو گیا ہے۔ نہیں، گھر نہیں، آسمان۔ بعض گھروں پر مسلسل دو المیے اتر جائیں تو ان کی چھتیں نیچی ہو جاتی ہیں۔ سانس بھی جھک کر لینی پڑتی ہے۔ اس بار ڈرائنگ روم میں لوگ زیادہ تھے مگر آوازیں کم۔ بیوہ کی کمر پہلے سے زیادہ جھک گئی تھی۔ چاروں بیٹوں میں سے ایک غائب تھا، اور یہ غیبت پہلی غیبت کے اوپر آ کر ایسی جمی تھی کہ اب گھر کے اندر ہر شے دوہری کمی سے گھری ہوئی تھی۔
تمہاری نظر فوراً رجسٹر پر گئی۔ وہ پھر میز پر رکھا تھا۔ کھلا ہوا نہیں، بند۔ جیسے اب اس میں کچھ اور درج کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ یا شاید اس کا ہر صفحہ خودبخود سیاہ ہو گیا ہو۔
بیوہ نے تمہیں دیکھا۔ بہت دیر تک کچھ نہ کہا۔ پھر صرف ایک جملہ کہا، باپ کے بعد بیٹا بھی نام سے بچ نہ سکا۔
تمہارے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
کمرے کے ایک کونے میں نوجوان وکیل کی کالی کوٹ ٹنگی تھی۔ شاید کسی نے جلدی میں وہیں رکھ دی تھی۔ تم نے اس کی طرف دیکھا اور تمہارے دل میں ایک سرد لہر اتری۔ آدمی کے جانے کے بعد اس کے کپڑے، اس کی کتابیں، اس کی قلم، اس کا بیگ، اس کی کرسی، یہ سب ایک نئے قسم کے یتیم ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار نہیں کرتے، مگر ان میں انتظار کی صورت جم جاتی ہے۔
کسی نے آہستہ سے کہا، ریلوے انڈر برج کے نیچے ہوا۔
دوسرے نے کہا، ویسے ہی جیسے…
وہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا گیا۔
وہی۔ یہ لفظ اب پورے شہر کی لغت میں داخل ہو چکا تھا۔ وہی۔ جیسے اس کے والد کے ساتھ ہوا تھا۔ وہی۔ جیسے فلاں ڈاکٹر کے ساتھ، فلاں استاد کے ساتھ، فلاں انجینئر کے ساتھ، فلاں عالم کے ساتھ، فلاں سیاسی کارکن کے ساتھ۔ وہی۔ یہ لفظ قاتلوں کی سہولت اور معاشرے کی بے حسی دونوں کا مخفف تھا۔
تم بیٹھے رہے۔ تمہیں لگا، تم دو جنازوں کے بیچ نہیں، ایک ہی طویل جنازے کے اندر بیٹھے ہو جو برسوں سے شہر میں چل رہا ہے، بس اس میں کندھے بدلتے رہتے ہیں۔ ایک نسل اٹھاتی ہے، پھر دوسری۔ ایک باپ گرتا ہے، پھر بیٹا۔ ایک نام مٹایا جاتا ہے، پھر اسی نام کی اگلی صورت۔ اور شہر؟ شہر تھوڑی دیر خاموش رہتا ہے، پھر اپنے کاروبار، اپنی سیاست، اپنی احتیاط، اپنی منافقت، اپنی روزمرہ مجبوریوں کے ساتھ جینا شروع کر دیتا ہے۔
بہت بعد، جب لوگ کم ہو گئے، بیوہ نے رجسٹر تمہاری طرف بڑھایا۔ کہا، لے جائیں؟
تم گھبرا گئے۔ کیوں؟
اس نے کہا، شاید آپ کے پاس رہے تو کچھ بچے۔
تم نے رجسٹر نہیں لیا۔ تم میں اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی۔ تم نے آہستہ سے کہا، یہ آپ کے پاس رہے۔
وہ ہلکی سی مسکرائی۔ وہ مسکراہٹ نہیں تھی، ایک زخم کی تھکن تھی۔ بولی، میرے پاس تو سب کچھ رہ گیا ہے۔ آدمی نہیں رہے۔
یہ جملہ تمہارے ساتھ باہر تک آیا۔ سڑک تک۔ رات تک۔ برسوں تک۔
بعد میں ایک دن تم اکیلے اس گھر گئے۔ کوئی خاص مناسبت نہیں تھی۔ شاید صرف یہ دیکھنے کہ گھر اب بھی موجود ہے یا نہیں۔ بیوہ اندر تھی۔ تم برآمدے میں بیٹھ گئے۔ میز پر رجسٹر کھلا تھا۔ کسی صفحے پر۔ تم نے قریب جا کر دیکھا۔ ایک سطر پر مقتول باپ کی لکھائی تھی، “فلاں لڑکے کا داخلہ کرانا ہے۔” نیچے، مختلف سیاہی میں، شاید نوجوان وکیل کے ہاتھ کی تحریر، “ہو گیا۔” پھر اس کے نیچے کچھ نہیں۔
تم بہت دیر تک ان دو لفظوں کو دیکھتے رہے۔ ایک باپ کا ادھورا کام۔ ایک بیٹے کا مختصر جواب۔ پھر خاموشی۔ پھر گولیاں۔ پھر نامعلوم لوگ۔ پھر شہر کی خاموشی۔
تمہیں لگا، یہ رجسٹر اب مریضوں، ممبران، فیسوں، دوائیوں کا ریکارڈ نہیں رہا۔ یہ شہر کے اخلاقی زوال کی کتاب ہے۔ اس میں درج ہر نام اس بات کی شہادت ہے کہ یہاں کبھی ایسے لوگ تھے جو دوسروں کے کام آتے تھے۔ اور اس میں موجود خالی جگہیں اس بات کی شہادت ہیں کہ پھر ایک وقت آیا جب انہی لوگوں کے نام ان کے خلاف استعمال ہونے لگے۔
شام ڈھل رہی تھی۔ باہر کسی دکان کا شٹر گرا۔ پھر دوسری طرف سے اذان کی آواز آئی۔ تم نے رجسٹر بند کرنا چاہا، مگر ہاتھ روک لیا۔ کھلا رہنے دیا۔ شاید ناموں کو بند کر دینا بھی ایک طرح کی بے وفائی تھی۔
گھر سے نکلتے ہوئے تم نے لان کی طرف دیکھا۔ وہی لان۔ وہی مختصر باؤنڈری وال۔ وہی جگہ جہاں ایک صبح ساٹھ سے اوپر کا آدمی تسبیح ہاتھ میں لیے چل رہا تھا اور ہونٹ ہل رہے تھے۔ تمہیں خیال آیا، شاید وہ آخری لمحے میں بھی کوئی دعا پڑھ رہا ہوگا۔ شاید کوئی نام۔ شاید وہی جو سب ناموں کے اوپر ہوتا ہے۔ اور پھر تم نے سوچا، اس شہر میں کچھ لوگ سڑکوں پر نہیں، اپنے ناموں میں مارے گئے۔
باہر آ کر تم دیر تک کھڑے رہے۔ رات پوری طرح نہیں اتری تھی۔ نہ دن پوری طرح گیا تھا۔ تمہارے اندر ایک جملہ بار بار ابھرا، اسے کس نے مارا؟ پھر فوراً دوسرا، نہیں، سوال یہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسے پہچانا کیسے گیا۔ پھر تیسرا، نہیں، سوال یہ بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ سب نے چپ رہنا کیسے سیکھ لیا۔
اور آخر میں صرف یہی بچا، ایک نام پہلے باپ کے نیچے لکھا گیا، پھر بیٹے کے نیچے۔ اور شہر نے دونوں بار یہی کہا، بڑے اچھے آدمی تھے۔
مگر اچھا آدمی ہونا اس زمانے میں شاید کافی نہ تھا۔
نام کافی تھا۔