میرا جنم ایک ایسے گھرانے میں ہوا جس میں نہ کوئی ادیب ہوا تھا ، نہ کوئی صحافی بنا تھا، نہ کوئی فلسفی گزرا تھا ، نہ کوئی دانشور جنما تھا ۔ ایک سیدھا سادا درمیانے تاجر طبقے کا گھرانہ جس کے مرد حضرات صبح سویرے فجر کی آذان پر اٹھ جاتے اور صبح کا ناشتہ کرکے سبزی منڈی میں آڑھت کی دکان پر بیٹھ جاتے اور رات گئے واپس آتے اور عشاء کی نماز پڑھ کر سوجاتے ۔ اس گھر کی تمام عورتیں گھریلو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کوئی کہیں جاب کرنے نہیں جاتیں تھیں ۔
اخبار نوائے وقت گھر آتا یا پھر خواتین کے پڑھنے کے ڈائجسٹ ۔۔۔۔ بس یہی لٹریچر تھا ۔ بچے اور بچیاں ہمارے زمانے میں اسکول ، کالج جانے لگی تھیں ۔ یونیورسٹی تک پھر بھی کوئی نہیں جاتا تھا ۔ سیاست میں سب مولانا شاہ احمد نورانی کی جماعت “جے یو پی ” میں تھے اور نوے کی دہائی میں سب پاکستان مسلم لیگ (جو بعد میں نواز لیگ ہوگئی ) کے حامی بن گئے لیکن اس زمانے میں کوئی کہنے کو سیاسی کارکن نہیں تھا ۔ تصوف کے نام میں مرد اور عورتیں سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت تھے لیکن ان میں کوئی مرید سے آگے بڑھ کر “خلیفہ مجاز” نہیں ہوا تھا ۔
اس ماحول میں ، ابتداء میں ، میں بھی کتاب وتاب کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا ۔ ہمارے زمانے میں وی سی آر آیا تو ہم انڈین فلمیں دیکھنے لگے ، گلی محلے کے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ، ہاکی ، فٹبال کھیلاکرتے تھے ۔ پھر یوں ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھے شہر کی زاہد لائبریری کا راستا دکھایا اور وہاں میں نے ابتداء تو ابن صفی کی عمران سیریز سے کی لیکن جلد ہی اردو افسانہ نگاری کے کئی بڑے ناموں کو پڑھنے لگا اور افسانے سے ناول اور شاعری تک کا سفر طے ہوا تو ان ہی دنوں روسی ، فرانسیسی ناولوں اور کہانیوں کے اردو تراجم ہاتھ لگے ، شوق ہوا کہ ادب عالیہ کو انگریزی میں پڑھا جائے ، اس شوق نے میری کایا کلپ کردی ۔
دسویں جماعت تک آتے آتے میرے ہاتھ ستار طاہر کی لکھی سیاسی کتابیں لگ گئيں ۔ اور یوں میں اس شخص کی محبت میں گرفتار ہوگیا وہ ہمارے گھرانے کی نظر میں ولن اور قابل نفرت شخص تھا یعنی ذوالفقار علی بھٹو ۔ میکسم گورگی کے ناول “ماں” نے مجھے کیمونزم کے قریب کیا ۔ کارل مارکس ، اینگلس ، پلیخانوف ، لینن ، ماؤزے تنگ بارے کتابوں اور خود ان کی لکھی کتابوں نے مجھے نظریاتی سیاست کی وادی میں دھکیل دیا۔ میں اپنے گھر کا بلکہ اپنے کنبے کا پہلا لڑکا تھا جو ایف ایس سی کے بعد بی اے کرنے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا اور وہاں سے ميں کراچی یونیورسٹی ميں گیا اور ایم اے کے لیے فلسفے کا مضمون منتخب کیا ۔
آج جب میں زندگی کے پچاس عشرے گزار چکا ہوں تو میرے کنبے میں آج بھی بھی کوئی نہ تو فلسفے میں ماسٹرز ہے، (اگرچہ اب ہمارے کنبے میں ڈاکٹرز، انجنئیرز، پروفیسر ، وکیل ، آئی ٹی سپیشلسٹ اور درجنوں ماسٹرز ڈگری ہرلڈر بچےبچیاں ہیں )، نہ کوئی صحافی ہے، نہ کوئی شاعر ہے، نہ کوئی ادیب ہے۔ محکمہ تعلیم ، صحت کے شعبے میں اب ہمارے کنبے کی عورتیں ورکنگ ویمن بھی ہیں ۔ لیکن میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے لٹریچر نے بچالیا ۔ اگر ادب اور سماجیاتی علوم سے میری آشنائی نہ ہوتی تو میں اسی ڈگر پر جل رہا ہوتا جس پر آج بھی میری برادری ، کنبہ اور خاندان چل رہا ہے ۔ ہمارے خاندان تو کیا برادری میں کوئی “آرٹسٹ ” پیدا نہیں ہوا ، لیکن میرا بیٹا عاشور حسین ہے جس میں یہ جراثیم ہیں اور وہ چھوٹی سی عمر میں اسکیچ بنانے میں کافی ماہر ہوچکا ہے ۔
مجھے یہ سب باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ ممبئی کے ادیب ساجد رشید نے اپنی کتاب کی پذیرائی کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ اگر ادب ان کی مدد نہ کرتا تو وہ ممبئی کے جھوٹے موٹے یا بڑے “گینگسٹر” ہوتے اور شاید کسی مقابلے میں تڑی پار ہوجاتے۔ وہ ممبئی کی ایک گندی مندی کچی آبادی میں جنمے تھے۔ ان کے گھر سے چند گز کے فاصلے پرممبئی کے اندرورلڈ کنگ ارون گاولی کا مکان تھا۔ اسکول میں ان کا کلاس فیلو داؤد ابراہیم تھا۔ وہ شروع سے انتہائی تند مزاج اور طبعیت کے بہت تیز تھے ، ان کی جھگڑالو طبعیت کے سبب خود ان کے محلے والوں نے انہیں تقریباً چھوڑ دیا تھا ۔ کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔
ان کے بارے میں یہ پیشن گوئی عام کی جاتی تھی کہ وہ بڑے ہوکر “غنڈے ” بنیں گے لیکن وہ ممبئی شہر کے ادیب شہیر ، منجھے ہوئے صحافی اور انتہائی مخلص سماجی کارکن بن گئے۔
ان کے افسانوں کا مجموعہ 1990ء ميں “نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی” کے عنوان سے شایع ہوا تو اس کی تقریب پذیرائی میں تقریر کرتے ہوئے ساجد رشید نے کہا ،
“میرے اندر ایک طرح کی رنجش اور بغاوت پل رہی تھی جسے میں نے ادب کی طرف موڑ دیا۔ میں نے قلم کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔”
ان کے والد کو ساجد رشید کا صحافت سے شغف اور فکشن سے لگاؤ ایک آنکھ نہ بھایا ۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اسومانے کے مطابق سائنس کی ڈگری لے یا بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کرے ۔ ان کے نزدیک ادیب ، شاعر اور صحافی بھوکے مرنے کے لیے پیدا ہوتے تھے ۔ ان کا ناول “رگوں میں جمی برف” بیس برس کی عمر میں شائع ہوا۔ یہ ناول ایمرجنسی کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس کتاب نے ان کے والد کو سخت ناراض کر دیا تھا۔
جب ایک ہوٹل میں ان کی کتاب “ایک چھوٹا سا جہنم” پر گفتگو کے لیے ایک ادبی نشست منعقد ہوئی جس میں تقریباً ایک درجن ادیبوں نے شرکت کی تھی تو اس ناول کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے برمنگھم میں مقیم ایک ناول نگار نے کہا:
“آپ کی نثر بہت اچھی ہے، مگر اس میں تمام کردار مسلمان ولن ہیں، جو کسی ہندی فلم کے اداس انجام کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔”
اس رائے پر ساجد رشید بھڑک اٹھے تھے انہوں نے نے فوراً کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے۔ اور پھر کہنے لگے ۔
“میں ایسے زمانے میں پیدا ہوا اور پروان چڑھا جب ممبئی کے انڈرورلڈ پر مسلمانوں کا غلبہ تھا۔ کریم لالا، حاجی مستان اور داؤد ابراہیم انڈرورلڈ کے بادشاہ تھے، جبکہ ارون گاولی، راما نائک اور بابو ریشما محض بونے کردار تھے۔”
ساجد کو مستان اور لالا سے ملنے کی آزادانہ اجازت تھی۔ ان کے نزدیک مستان ایک فیاض آدمی تھے جبکہ داؤد ابراہیم تنگ دل تھا۔
ممبئی انڈر ورلڈ کا ڈان داؤد ابراہیم احمد سیلر ہائی اسکول ممبئی میں ان کا ساتویں جماعت کا کلاس فیلو رہا ، دونوں میں خوب دوستی تھی ۔ ساجد رشید کے بقول وہ خوبصورت شرارتی لڑکا تھا اوراسے دیکھ کر انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ ممبئی انڈر ورلڈ کا سب سے بڑا ڈان بن جائے گا ۔ لیکن ایک دن داؤد ابراہیم نے اسکول چھوڑ دیا اور وہ جرائم کی اندھیر نگری میں گم ہوگیا اور پھر ایک دن وہ انڈر ورلڈ کا ڈان بن کر ابھرا ۔ ساجد رشید نے پھر داؤد ابراہیم کی زندگی پر بھی ایک ناول لکھا ۔
اسکول کےزمانے میں ساجد رشید کو ادب سے گہرا شغف پیدا ہو گیا اور انہوں نے انگریزی ، روسی ، فرانسیسی ، اطالوی ، جرمن الغرض کے یورپ کے شہرہ آفاق ادیبوں کی کہانیاں ، ناول پڑھنے شروع کردیے ۔ اسی دوران انھوں نے اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگاروں کو پڑھنا شروع کردیا ۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ اردو میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے لکھے افسانوں اور کہانیوں نے انھیں ٹالسٹائی ، چیخوف ، موپاساں تک پہنچایا جن کی لکھی کہانیوں نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ انہیں فیودر دستوسکی نے اپنا گرویدہ بنایا ، بالزاک ، آندرے ژید ، میلان کنڈیرا ، بورخسیس ان کے پسندیدہ ادیبوں میں شمار ہوئے ۔
زندگی نے ان کا زیادہ ساتھ نہ دیا اور وہ کامیاب ہارٹ سرجری کے محض دو دن بعد گیارہ مارچ کی شام دل کے دورے سے اپنی جاں سے گزر گئے ۔ ان کے افسانوں اور ٹھیک معنوں میں ایک ناول نے اردو ادب پرگہرے اثرات مرتب کیے ۔ اردو فکشن کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔
جب انھوں نے اردو کا سہ ماہی ادبی جریدہ “نیا ورق ” شروع کیا تو میری خوش قسمتی تھی کہ میں اس کا اول دن سے لیکر ان کی موت تک چھپنے والے تمام شماروں کا باقاعدہ قاری رہا ۔ انھوں نے یہ رسالہ “قلم کار اور قاری کے رشتے میں کہیں بے معنی ابہام کی خلیج ” کو دور کرنے اور ان کے درمیان “ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے ” کے لیے شروع کیا تھا ۔ اور وہ یہ دونوں کام کرنے میں کامیاب رہے
ساجد رشید
اردو ادب میں ترقی پسند ادب و تنقید کے زوال ، جدیدیت کے چلن اور اسے کہانی سے کہانی پن کے غائب ہونے اور بے معنی ایہام پرستی کے رجحان کے زور پکڑنے سے ناخوش تھے ۔ وہ ترقی پسند ادیب تھے اور چاہتے تھے کہ ترقی پسند سوچ تخلیقی وفور کے ساتھ ابھرے ۔ انھیں لگتا تھا کہ اردو میں جدیدیت کے چلن نے قلم کار اور قاری کےدرمیان جو رشتہ تھا اسے بے معنی ابہام پرستی کی نذر کردیا ہے جبکہ ترقی پسندی کُند مُلائیت بن کر رہ گئی ہے۔ وہ اردو ادب کا ہندوستان بلکہ یوں کہیں کہ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بولی جانے والی دیگر زبانوں میں پیدا ہونے والے ادب سے رشتہ استوار کرنا چاہتے تھے ۔ “نیا ورق” کا اجراء ان کے ان خیالات کو عملی جامع بنانے کا زریعہ تھا ۔ جنوری-مارچ انیس سو ستانوے میں نیا ورق کا پہلا شمارہ چھپ کر منظر عام پر آیا ۔ یہ شمارہ میرے کزن جمال ناصر نے مجھے ارسال کیا ۔ وہ رہنے والے تو نصیر آباد راجھستان کے تھے لیکن ملازمت کے سلسلے میں ممبئی میں مقیم تھے۔ اس شمارے میں انھوں نے “دستخط ” کے مستقل عنوان سے جو اداریہ لکھا اس میں انھوں نے نئے ادبی رسالے کے اجراء کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ “نیا ورق” ہندوستان اور پاکستان میں چھپنے والے معروف ادبی جرائد سے بالکل الگ چیز تھا اور اس نے بہت جلد ادب کے سنجیدہ قاریوں میں اپنی جگہ بنا لی

انھوں نے نیا ورق میں “دستخط ” کے عنوان سے جو اداریے رقم کیے وہ اخبار کے لکھے اداریوں کی طرح کبھی باسی ہونے والے نہیں ہیں وہ ادبی شاہکار بن گئے اور ان کی تازگی کبھی کم ہونے والی نہیں ہے۔ میں نے ان کے ادارتی اسلوب کو اپنی صحافتی زندگی میں “رہنماء ” بنایا اور میں اس کے لیے ان کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا ۔ ان کے جملوں میں غضب کی طنزیہ کاٹ تھی اور ان کے اداریوں میں لکھے درجنوں جملے “ضرب الامثال ” کا درجہ پا گئے ہیں ۔ ان جیسا ادبی اداریہ اردو ادبی رسالوں میں نہ پہلے لکھا گیا اور نہ ابھی تک لکھا جا سکا ہے ، نجانے وہ وقت کب آئے گا جب ان جیسے اداریے کوئی ادبی رسالے کا مدیر لکھے گا ۔
“یہ صرف اردو زبان ہی ہے جس میں جدیدیت کا نقارہ کچھ تھکے ہوئے بوڑھے ہاتھ برابر پیٹے جارہے ہیں ۔ اردو میں جس طرح کا ادب (جدید) تخلیق ہورہا ہے وہ شاید اتنا عظیم ہے کہ کسی دوسری زبان ميں تلاش بیسیار کے بعد بھی دستیاب نہیں ہے ۔ جس طرح کے ادبی رسالے اردو میں شایع ہو رہے ہیں ایسے رسالے کسی دوسری زبان ميں میں اب “بقید حیات ” نہیں ہیں ۔”
“یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ جب مٹھی بھر انتہا پسند پوری قوم کو مذہب کے تحفظ کے نام پر یرغمال بنا لیتے ہیں تو ایسے پیچیدہ وقت میں ہمارے اردو کے ادیب اور دانشور کا کیا رول ہونا چاہئیے ؟ کیونکہ دنیا میں کہیں بھی دانشوروں اور ادیبوں کا کردار تارک الدنیا کا نہیں رہا اور اس ملک اور معاشرے میں تو قطعی نہیں جو شدید مسائل سے دوچار ہیں وہ معاشرے کا حصّہ نہیں بنتے ۔ کیا سچ مچ ایسا ہی ہے ہمارا اردو کا ادیب اور دانشور؟ اگر آپ کو اس سے انکار ہے تو پھر کیا اس انکار کو ایک طاقتور “چیخ ” میں بدلنے کی ضرورت نہیں ہے ؟ “


ان جملوں کو لکھے 26 سال بیت گئے لیکن ان میں بیان کی گئی اردو ادیب اور دانشور کی صورت حال تبدیل نہیں ہوئی ۔ اردو ادیب اور دانشور کی آواز آج بھی “طاقتور چیخ ” میں نہیں بدلی ۔
اس اداریے کا عنوان تھا “سحر سامری سے ۔۔۔۔۔ سونے کا بچھڑا بولتا ہے ” ۔۔۔ یہ قاضی سلیم کی نظم “ضمیر ” کا مصرعہ ہے جو انھوں نے مستعار لیا تھا ۔
ساجد رشید نے یہ اداریہ “نیا ورق ” کے شمارہ نمبر 9 جون 2000ء کی اشاعت میں تسلیمہ نسرین پر 12 فروری 2000ء ممبئی ائرپورٹ پر بوھری جماعت کے پیشوا سیدنا برہان الدین کےغنڈوں کے قاتلانہ حملے کی مذمت اور اس حملے اور تسلیمہ نسرین کے خلاف چلنے والی بلاسفیمی تحریک پر اردو ادیبوں اور دانشوروں کی خاموشی پر احتجاج کرتے ہوئے لکھا تھا ۔ یہ ساجد رشید کی سچ بیانی تھی کہ انھوں نے سیدنا برہاں الدین کو للکارتے ہوئے اس اداریے میں بلا خوف و خطر لکھا تھا
“سیدنا کا دعوا ہے کہ ان کا شچرہ حضرت علی سے ملتا ہے تو میں حضرت علی سے جسب نسب رکھنے والی اس شخصیت سے یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ حضرت علی اور وہ خود جن پیغمبر اسلام ﷺ کے ارادت مند ہیں، انھوں نے تو شاتمین تک کی سزا معاف کردی تھی تو پھر سیدنا اپنے ایک ناقد کے خلاف غنڈوں کے استعمال کی کن قدروں کے تحت کرتے ہیں ؟
سیدنا برہان الدین نہ تو خدا ہیں اور نہ پیغمبر ، آگر ان کے عقیدت مند انھیں ایسا داعی مطلق مانتے ہیں جو جنت کے معاملات میں خدا کے عمل میں بھی دخل رکھتا ہے اس مفروضے کا تعلق داؤدی بوہرہ فرقے کے عقائد سے ہے۔ اس لیے اس پر مزید رائے زنی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر لاکھوں کروڑوں لوگ مٹی کی موت میں بھگوان کو متشکل کرسکتے ہیں اور اس سے ان کی مرادیں بھی بر آتی ہیں تو کسی کوشت پوست کے انسان کو اگر کوئی خدا کا درجہ دے بیٹھے تو یہ نہ تو حیرت کا مقام ہے اور نہ ہی تنقید کا ۔ کیونکہ عقیدے کی بینیاد ہی ایمانِ کُل پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
ساجد رشید نے ممبئی میں رہتے ہوئے بوھرہ داؤدی فرقے کے امام کو ہی نہیں للکارا بلکہ انہوں نے مہاراشٹر کے “بال ٹھاکرے ” کو بھی اپنے اداریوں میں فکری چتاؤنی دی ۔ یہ ان کا ہی جگرا تھا اور ان کی ہی جرآت اور بے باکی تھی ۔ آج بھی ممبئی میں رہنے والا کوئی ادیب ایسی جرآت اور بے باکی سے کام نہیں لے سکتا ۔
ساجد رشید آج ہم لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ہیں جب فسطائیت ننگا ناچ رہی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت اور سیکولر ازم جن سنگھیوں کے ہاتھوں مذاق بن چکے ہیں اور پاکستان میں ایک بار پھر فوجی افسر شاہی تمام منتخب اور غیر منتخب اداروں کو یرغمال بنا چکی ہے اور ملک کمزور اور مظلوم اقوام کے بڑے قید خانے میں بدل چکا ہے جہاں بلاسفیمی بریگیڈ ملاں دندناتے پھرتے ہیں اور طبقہ اشرافیہ عوام کی ہڈیوں تک کو نوچ کر اپنی عیاشی کے سامان کر رہا ہے ایسے میں ہر ادیب اور دانش ور کو طاقتور چیخ کے ساتھ یہ کہنا ہوگا
ہاں ميں ادیب / شاعر / دانشور ہوں ۔ ظالموں کے منہ پر طمانچہ ہوں جیسے بلوچ شاعر قاضی مبارک نے ایک بلوچ ماں کی زبان میں یہ نظم لکھی
میں بلوچ ماں ہوں ، دشمن کے منہ پر طمانچہ ہوں
____________________________________________
حاشیہ
بے ضمیری۔قاضی سلیم
زمیں گھومی
ہوا بدلی
چلو موسم بدلتا ہے
سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
وہ دیکھو
چیونٹیوں کے پر نکل آئے
کیسے اڑتی پھر رہی ہیں
آج شان بے نیازی سے
کہ جیسے مطمئن ہیں
مکڑیوں کی سرفرازی سے
سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
تمہاری دور کی آواز کیسے گونج بن کر
پلٹ آئی ہے
جیسے بستیوں کے
سبھی گھر ہوئے ہیں
کوئی ہتھیار بھی سالم نہیں
نکیلے دانت
کانٹے
ڈنک
ناخن
حفاظت کے سبھی سامان جیسے چھن گئے ہیں
تبھی تو ظالموں سے
چند روزہ عافیت کی بھیک پا کر
خدا کی گود میں بے فکر سوتے ہیں
سمجھتے ہیں
کہ مظلومی کا یہ بہروپ ہی
فقرۂ قناعت کا بدل ہے
کوئی پتھر اٹھائے کھینچ مارے
دکھاوے کے لیے پتھر اٹھا کر چوم لیں گے
یہ کس دنیا میں بستے ہیں
یہ کس کا پاس رکھتے ہیں
خود اپنی موت کی نظارگی کا زخم دے کر
درندوں کی نگاہوں سے
الوہی روشنی کی آس رکھتے ہیں
سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
تمہارے راز تم ہی جانتے ہو
سب کچھ جھوٹ ہے اک ڈھونگ ہے
ہم میں کوئی
ایوب ہے بدھ ہے
حسین ابن علی اور نہ عیسیٰ ہے
بس اتنا ہے ضمیر اپنا کبھی کا بک چکا ہے
اندھیرے کی پنہ گاہوں میں
سحر سامری سے
آج سب مبہوت ہیں
ہاتھ پاؤں ذہن سب مفلوج ہیں
سونے کا بچھڑا بولتا ہے