ہائی سکیورٹی زونز میں غیر مجاز اجتماع جرم قرار، تین سال تک قید کی سزا
پنجاب اسمبلی کمیٹی نے نیا بل منظور کر لیا؛ احتجاج صرف مخصوص مقامات تک محدود، ٹرسٹس اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی مالی نگرانی کے لیے کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی منظور۔
لاہور: نگرانی کے نظام کو نمایاں طور پر سخت بنانے کے اقدام کے تحت پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ نے دو اہم بل منظور کر لیے ہیں۔ ان بلوں کے تحت “ہائی سکیورٹی زونز” میں غیر مجاز اجتماعات پر تین سال تک سخت قید کی سزا دی جا سکے گی جبکہ تمام ٹرسٹس اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی مالیاتی “بینیفیشل اونرشپ” کی نگرانی کے لیے ایک بااختیار کمیشن بھی قائم کیا جائے گا۔
پنجاب ہائی سکیورٹی زونز (اسٹیبلشمنٹ) بل 2026 کا مقصد عوامی جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنا ہے تاکہ “سلامتی کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں” کو روکا جا سکے اور کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے۔
بل کی اہم شقوں میں “زون ڈیکلریشن” شامل ہے جس کے تحت ہوم سیکریٹری، ضلعی اور صوبائی انٹیلی جنس کمیٹیوں کی سفارشات کی بنیاد پر مخصوص علاقوں کو باضابطہ طور پر “ہائی سکیورٹی زون” قرار دے سکیں گے۔
سخت سزاؤں کی شق کے مطابق کسی ہائی سکیورٹی زون میں عوامی اجتماع میں شرکت یا اس کی سہولت فراہم کرنے پر کم از کم ایک سال سخت قید کی لازمی سزا ہوگی جو زیادہ سے زیادہ تین سال تک ہو سکتی ہے، جبکہ پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔
مخصوص علاقوں کی شق کے تحت احتجاج صرف ان مقامات پر کرنے کی اجازت ہوگی جو حکومت کی جانب سے “نامزد علاقے” قرار دیے جائیں۔ اس کے لیے مظاہرین کو کم از کم بیس دن پہلے تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر کو دینا ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں درخواست موصول ہونے کے پانچ دن کے اندر فیصلہ کرے گا۔
اگر کسی درخواست گزار کو ڈپٹی کمشنر کے فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ دو دن کے اندر ڈویژنل کمشنر کے پاس اپیل کر سکتا ہے، جو پانچ دن کے اندر فیصلہ کرے گا۔ اگر اس فیصلے سے بھی فریق مطمئن نہ ہو تو وہ تین دن کے اندر ہوم سیکریٹری کے پاس نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔ ہوم سیکریٹری یا ان کی جانب سے نامزد افسر پانچ دن کے اندر اس اپیل پر فیصلہ کریں گے۔
نفاذ کے اقدامات
اس قانون کے تحت جرائم کو قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کو اختیار ہوگا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، ساؤنڈ سسٹم اور اسٹیج ضبط کر سکے۔
اگر کسی اجتماع کے نتیجے میں سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچتا ہے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے تحت مقررہ سزاؤں کے علاوہ نقصان کے برابر جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، چاہے اجتماع ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے ہوا ہو یا بغیر اجازت۔
اسی دوران پنجاب وقف، ٹرسٹس اور کوآپریٹو سوسائٹیز (مانیٹرنگ) بل 2026 کے تحت ایک نیا کمیشن قائم کیا جائے گا جو “بینیفیشل اونرشپ رجیم” نافذ کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد صوبائی نگرانی کے نظام کو وفاقی انسدادِ منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشت گردی مالی معاونتکے معیارات کے مطابق بنانا ہے۔
یہ کمیشن ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ہوگا اور محکمہ اوقاف، کوآپریٹوز اور محکمہ مال کی نگرانی کرے گا۔
کمیشن کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وقف، ٹرسٹ یا سوسائٹی کے فنڈز کا خصوصی آڈٹ اور تحقیقات کر سکے، تمام ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر کے اصل مالی فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کرے، اور اگر کوئی ادارہ اپنے مقررہ مقصد کو پورا نہ کر رہا ہو تو اس کی رجسٹریشن منسوخ کرنے یا منتظم مقرر کرنے کی سفارش کرے۔
کمیشن کے روزمرہ امور چلانے اور خطرے کی بنیاد پر نگرانی کے منصوبوں کی دیکھ بھال کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی مالی معاونت کے قوانین میں مہارت رکھنے والے ایک چیف ایگزیکٹو افسر کو مقرر کیا جائے گا۔
دونوں بلوں میں اپیل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔ مانیٹرنگ کمیشن کے فیصلوں سے متاثرہ شہری تیس دن کے اندر حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے پاس اپیل کر سکیں گے، جبکہ سکیورٹی زون سے متعلق ڈپٹی کمشنر کے فیصلوں کے خلاف اپیل دو دن کے اندر ڈویژنل کمشنر کے پاس دائر کرنا ہوگی۔
حقوقِ انسانی کے کارکنان ان قانون سازی اقدامات کو پنجاب حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر کنٹرول کو مرکزی بنانے اور غیر منافع بخش و کوآپریٹو اداروں میں مالی شفافیت یقینی بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔