پاکستان کا فکری منظرنامہ ایک عجیب تماشا گاہ ہے۔ یہاں جب بھی مقامی نیولبرل اور لبرل اشرافیہ کے سامراجی آقاؤں کی اخلاقی، فکری اور سیاسی پوزیشن دنیا کے سامنے رسوا ہونے لگتی ہے، یہ دانشور فوراً بحث کا رخ موڑنے کے لیے ایک پرانا مگر آزمودہ ہتھیار نکال لیتے ہیں: تکنیکی برتری کا ہتھیار۔ یعنی سوال اگر سچ کا ہو تو جواب میں فونٹ دکھایا جائے، سوال اگر نسل کشی کا ہو تو سبسکرپشن ماڈل پر لیکچر دیا جائے، سوال اگر مغربی میڈیا کے نظریاتی تعصب کا ہو تو اردو اخبار کے کاغذ کا معیار زیر بحث لے آیا جائے۔
یہاں ذرا رک کر اخبار کی اس چمکدار میز پر رکھی ہوئی وہ عینک صاف کر لینی چاہیے جس سے ہمارے لبرل صاحبان دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس عینک کا کمال یہ ہے کہ اسے غزہ کے ملبے میں پڑا بچہ نظر نہیں آتا، مگر نیویارک ٹائمز کا سبسکرپشن ماڈل فوراً دکھائی دے جاتا ہے۔ اسے فلسطینی ماں کی چیخ سنائی نہیں دیتی، مگر بی بی سی کی انگریزی کا تلفظ بڑا صاف سنائی دیتا ہے۔ یہ لوگ خون کو خبر نہیں سمجھتے، خبر کی پیشکش کو صحافت سمجھتے ہیں۔ جیسے قصائی نے چھری چمکا دی ہو تو ذبح ہونے والے جانور کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ کم از کم اوزار تو عمدہ تھا۔ مغربی میڈیا کا یہی کمال ہے، وہ قتل کو اس صفائی سے بیان کرتا ہے کہ لاش بھی مہذب معلوم ہونے لگتی ہے۔ اور ہمارے یہاں کے دانشور اس صفائی پر فدا ہیں، انہیں خون سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ خون کس فونٹ میں چھپا ہے۔
یاسر پیرزادہ کا روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا کالم، جو مبشر علی زیدی کے مکتوب کے سہارے کھڑا کیا گیا ہے، اسی خلط مبحث کی نہایت کلاسک مثال ہے۔ جب اصل بحث یہ تھی کہ بی بی سی، نیویارک ٹائمز اور دوسرے بڑے مغربی میڈیا ادارے غزہ کی نسل کشی کو کس طرح زبان، سرخی، فریم اور خاموشی کے ذریعے ڈھانپتے ہیں، جب سوال یہ تھا کہ ایران پر ممکنہ سامراجی حملوں کے لیے عالمی رائے عامہ کو کس طرح تیار کیا جا رہا ہے، جب مسئلہ یہ تھا کہ مغربی صحافت کس طرح طاقت کے مراکز کے لیے رضامندی پیدا کرنے کی مشین بن چکی ہے، تب پیرزادہ صاحب اور ان کے ممدوح ہمیں بتانے لگے کہ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستانی اخبارات میں ان ڈیپتھ اینالیسس نہیں، سبسکرپشن ماڈل نہیں، زبان کی درستی نہیں، اور اخبار کا کاغذ آخرکار نان لپیٹنے کے کام آتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں نیولبرل دانشوری اپنی پوری چالاکی کے ساتھ بے نقاب ہوتی ہے۔ وہ مواد سے بھاگتی ہے اور میڈیم پر آ بیٹھتی ہے۔ وہ خون سے نظریں چراتی ہے اور کاغذ کی کوالٹی پر گفتگو شروع کر دیتی ہے۔ وہ سامراجی میڈیا کے نظریاتی کردار پر بات کرنے کے بجائے اس کی پروڈکشن ویلیو کا مرثیہ پڑھنے لگتی ہے۔
پیرزادہ صاحب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ بی بی سی، نیویارک ٹائمز اور ہاریتز جیسے ادارے اس لیے برتر ہیں کہ ان کے پاس اعلیٰ مواد، خصوصی رپورٹس، گہرا تجزیہ اور عالمی سطح کا صحافتی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ دلیل بظاہر دلکش ہے، مگر اپنی اصل میں نہایت سطحی اور گمراہ کن ہے۔ یہ وہی نیولبرل مغالطہ ہے جو پروڈکشن ویلیو کو سچائی کا بدل سمجھ لیتا ہے۔ جیسے کیمرہ مہنگا ہو تو جھوٹ سچ بن جائے گا، جیسے اسٹوڈیو روشن ہو تو پروپیگنڈا اخلاقی ہو جائے گا، جیسے انگریزی صاف ہو تو سامراجی جرم کا داغ دھل جائے گا۔
بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کے پاس اربوں ڈالر کا بجٹ، جدید ترین کارپوریٹ ڈھانچہ، تربیت یافتہ رپورٹر، ڈیٹا ٹیمیں، گرافکس، پوڈکاسٹ، ڈاکومنٹریاں اور تجزیاتی صفحات ضرور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کس کے کام آتا ہے؟ سچ کے؟ مظلوم کے؟ یا طاقت کے؟ غزہ نے یہ پردہ چاک کر دیا ہے۔ فلسطینی بچوں کی لاشوں پر ان اداروں کی زبان بدل جاتی ہے۔ اسرائیلی مرتا ہے تو “killed” ہوتا ہے، فلسطینی مرتا ہے تو “died” ہو جاتا ہے۔ ایک طرف قاتل کا فعل غائب کر دیا جاتا ہے، دوسری طرف مقتول کے مرنے کو قدرتی حادثہ بنا دیا جاتا ہے۔ زبان یہاں محض زبان نہیں رہتی، اقتدار کی وکیل بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فوکو کا علم اور طاقت کا رشتہ اور ایڈورڈ سعید کا استشراقی فریم پوری طرح سمجھ آتا ہے۔ مغربی میڈیا کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کی گرامر کمزور ہے۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اخلاقیات طاقت کے دربار میں گروی رکھی ہوئی ہیں۔ اس کی زبان کی صفائی، اس کے گرافکس کی چمک، اس کے نیوز روم کی پیشہ ورانہ مہارت، سب مل کر سامراجی جھوٹ کو زیادہ قابل قبول، زیادہ نفیس اور زیادہ مہذب بنا دیتے ہیں۔
پیرزادہ صاحب جس برتری کو صحافتی کمال سمجھ رہے ہیں، وہ اکثر اوقات پروپیگنڈے کی اعلیٰ ترین پیکنگ ہوتی ہے۔ ننگا جھوٹ بدصورت لگتا ہے، مگر جب وہ بی بی سی کے لہجے، نیویارک ٹائمز کی سرخی اور ہاریتز کے لبرل اداریے میں لپٹ جائے تو اسے عالمی معیار کا تجزیہ کہا جانے لگتا ہے۔
مبشر علی زیدی کا یہ کہنا کہ وہ سو سوا سو ڈالر ماہانہ سبسکرپشن پر خرچ کرتے ہیں اور پاکستانی اخبارات کو بھی سبسکرپشن ماڈل کی طرف جانا چاہیے، اس طبقاتی بیگانگی کا نمونہ ہے جو ہمارے لبرل دانشوروں کی فکری ہڈیوں میں اتر چکی ہے۔ جس ملک میں عام آدمی بجلی کے بل، آٹے، دوائی اور بچوں کی فیس کے درمیان اپنی زندگی کو قسطوں میں کاٹ رہا ہو، وہاں سو ڈالر کی سبسکرپشن کا مشورہ دینا عوام سے اتنا ہی کٹا ہوا خیال ہے جتنا ماریہ انتونیت کا کیک کھانے والا مشورہ۔
پاکستانی اردو اخبارات کا زوال صرف ان کی نااہلی کا نتیجہ نہیں۔ یہ زوال اس معاشی ڈھانچے کا نتیجہ ہے جس نے صحافت کو اشتہار، ریاستی دباؤ، کارپوریٹ اجارہ داری، مالکانہ مفاد اور سنسرشپ کے پنجے میں جکڑ دیا ہے۔ جس ملک میں سچ لکھنے پر صحافی اٹھا لیے جاتے ہوں، نوکریوں سے نکالے جاتے ہوں، مقدمات میں الجھائے جاتے ہوں، قتل کیے جاتے ہوں، وہاں نیویارک ٹائمز کے ایک کروڑ سے زیادہ سبسکرائبرز کا موازنہ کسی اردو اخبار سے کرنا فکری تجزیہ نہیں، فکری بددیانتی ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی زنجیر بند آدمی سے کہا جائے کہ تم اولمپک ریس کیوں نہیں جیتتے۔ مقامی پریس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، گردن پر ریاستی تلوار ہے، پیٹ پر مارکیٹ کا گھونسہ ہے، اور سر پر مالک کا ڈنڈا۔ اس کے باوجود اگر کوئی صحافی سچ کی ایک سطر لکھتا ہے تو وہ ان تمام ایئرکنڈیشنڈ عالمی تجزیہ نگاروں سے زیادہ باضمیر ہے جو واشنگٹن، لندن اور تل ابیب کے بیانیے کو لبرل زبان میں پالش کر کے دنیا کو بیچتے ہیں۔
ہاریتز کی تعریف اس کالم کا ایک اور دلچسپ مگر خطرناک پہلو ہے۔ پاکستانی لبرل دانشوروں کو ہاریتز اس لیے پسند ہے کہ وہ انہیں صہیونی ریاست کا ایک “مہذب” چہرہ دکھاتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھیے، اسرائیل میں کتنی آزادی ہے، نیتن یاہو پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ مگر یہی وہ لبرل فریب ہے جسے سمجھنے کے لیے ایڈورڈ سعید کو پڑھنا ضروری ہے۔ نوآبادیاتی ریاستیں اپنے اندر ایک محدود اختلاف کی اجازت دیتی ہیں تاکہ اپنے جبر کو جمہوریت کا چہرہ دے سکیں۔
ہاریتز نیتن یاہو پر تنقید کر سکتا ہے، بعض جنگی زیادتیوں پر سوال اٹھا سکتا ہے، کچھ فوجی پالیسیوں پر اعتراض بھی کر سکتا ہے، مگر وہ صہیونی ریاست کے بنیادی استعماری ڈھانچے کو کہاں چیلنج کرتا ہے؟ وہ فلسطین پر قبضے، آبادکار نوآبادیات، اپارتھائیڈ نظام اور اسرائیل کے وجودی استحقاق کے سوال پر کس حد تک جاتا ہے؟ اس کی تنقید اکثر اسی گھر کی اندرونی مرمت ہے جس کی بنیاد ہی غصب، بے دخلی اور نسلی بالادستی پر رکھی گئی ہے۔
پاکستانی لبرلز اس محدود اختلاف کو آزادی سمجھ لیتے ہیں کیونکہ ان کے لیے لبرل صہیونیت ایک قابل قبول فکری پناہ گاہ ہے۔ انہیں وہ اسرائیل برا لگتا ہے جو زیادہ ننگا، زیادہ بدزبان اور زیادہ سفاک ہو۔ مگر وہ اس اسرائیل پر کم سوال اٹھاتے ہیں جو خوبصورت انگریزی، نرم لہجے اور اداریاتی اخلاقیات کے ساتھ فلسطینیوں کی زمین پر اپنا قبضہ برقرار رکھتا ہے۔
پیرزادہ صاحب کا سنسرشپ پر جملہ بھی غور طلب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی اخبارات سنسرشپ کی دو دھاری تلوار کے زیر اثر شائع ہوتے ہیں، مگر یہ سنسرشپ کئی دہائیوں سے موجود ہے، اس لیے اب رعایتی نمبر نہیں دیے جا سکتے۔ یہ جملہ دراصل ہمارے لبرل طبقے کے اندر جبر کے نارملائز ہو جانے کی علامت ہے۔ گویا اگر ظلم پرانا ہو جائے تو ظلم نہیں رہتا۔ اگر تلوار کئی دہائیوں سے گردن پر رکھی ہو تو گردن کٹنے کی شکایت بے معنی ہو جاتی ہے۔
یہ کیسی دانش ہے جو سنسرشپ کو ایک مستقل حقیقت مان کر جابر کو نہیں، مجبور کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے؟ یہ کیسا اخلاقی معیار ہے کہ مقامی صحافی سے تو پوری بہادری، پوری آزادی اور پورا عالمی معیار مانگا جائے، مگر اس کے سر پر کھڑی ریاستی مشین، اس کے مالک پر موجود معاشی دباؤ، اس کے خاندان پر منڈلاتا خطرہ، اس کے ادارے پر اشتہارات کی بندش، سب کو “پرانا مسئلہ” کہہ کر خارج کر دیا جائے؟
اصل فرق یہاں ہے۔ پاکستانی پریس بہت دفعہ مجبوری میں جھکتا ہے۔ مغربی پریس اکثر مفاد، تربیت اور نظریاتی وابستگی کے تحت سامراج کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ایک پر بندوق ہے، دوسرے کے ہاتھ میں پالیسی بریف ہے۔ ایک کو چپ کرایا جاتا ہے، دوسرا خود سے چپ رہنے کا فن جانتا ہے۔ ایک پر پابندی ہے، دوسرا رضا کارانہ طور پر طاقت کی زبان بولتا ہے۔ ان دونوں کا موازنہ کرنا ہی باطل ہے۔
جناب یاسر پیرزادہ صاحب، آپ کا کالم پڑھ کر حیرت نہیں ہوئی، افسوس ہوا۔ آپ نے اور مبشر علی زیدی صاحب نے کمال مہارت سے غزہ کے خون آلود سوال کو اردو اخبار کے نان لپیٹنے والے کاغذ میں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا۔ جب دنیا بھر کے طلبہ، انسانی حقوق کے کارکن، آزاد مبصرین اور خود مغرب کے ضمیر فروش نہ بننے والے لوگ بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کے تعصب پر سوال اٹھا رہے ہیں، جب ہارورڈ، کولمبیا اور یورپ کی جامعات میں نوجوان اس میڈیا مشین کے خلاف کھڑے ہیں جو اسرائیلی ریاست کو مظلوم اور فلسطینیوں کو مشتبہ بنا کر پیش کرتی ہے، تب آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ بی بی سی پر پلاٹوں کی فائلوں کے کاروبار پر شاندار رپورٹ موجود ہے۔
یہی تو مسئلہ ہے۔ آپ کو پلاٹوں کی فائل نظر آتی ہے، مگر غزہ کی مٹی میں دفن بچوں کی انگلیاں نظر نہیں آتیں۔ آپ کو سبسکرپشن ماڈل نظر آتا ہے، مگر اس ماڈل کے پیچھے کھڑے وہ کارپوریٹ اور سامراجی مفادات نظر نہیں آتے جو میڈیا کی سمت طے کرتے ہیں۔ آپ کو زبان کی صفائی نظر آتی ہے، مگر اس صاف زبان میں چھپا ہوا قاتلانہ تعصب نظر نہیں آتا۔
اصل مسئلہ بی بی سی کی اردو کی غلطیاں نہیں۔ اصل مسئلہ اس کی نظریاتی پورنوگرافی ہے۔ وہ فحش گوئی نہیں جو الفاظ میں ہوتی ہے، بلکہ وہ فحاشی جو طاقت کے جرم کو انسانی حقوق، دفاع، جمہوریت اور تہذیب کے لباس میں پیش کرتی ہے۔ جب بم کو “سیکیورٹی آپریشن” کہا جائے، قبضے کو “تنازع” کہا جائے، نسل کشی کو “جنگ” کہا جائے، بھوک کو “انسانی بحران” کہا جائے اور قاتل ریاست کو “دفاع کا حق” دیا جائے تو یہ زبان نہیں، جرم کی قانونی دستاویز بن جاتی ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ پٹرول سستا ہونے یا آئی ایم ایف معاہدے کی خبر کے لیے اخبار خریدنے کی ضرورت نہیں۔ درست۔ مگر جو ان ڈیپتھ اینالیسس آپ بیچ رہے ہیں، وہ بھی اکثر واشنگٹن کے تھنک ٹینکوں، نیٹو کی حکمت عملیوں، پینٹاگون کی ترجیحات اور مغربی سرمایہ دارانہ مفادات کا چربہ ہوتا ہے۔ ولی نصر ہو یا فرید زکریا، مشرق وسطیٰ پر ان کا بیشتر ڈسکورس اسی عالمی طاقت کے نقشے کے اندر گھومتا ہے جس نے اس خطے کو جنگ، پابندی، آمریت، فرقہ واریت اور تیل کی سیاست میں جھونک رکھا ہے۔
سچائی ڈالروں کی سبسکرپشن سے پیدا نہیں ہوتی۔ سچائی کے لیے اخلاقی پوزیشن چاہیے، فکری آزادی چاہیے، طاقت سے فاصلہ چاہیے، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت چاہیے۔ تیسری دنیا کا وہ غریب، کم وسائل والا، سنسرشپ زدہ صحافی جو جان کی بازی لگا کر سچ کی ایک سطر لکھتا ہے، وہ اس عالمی لبرل مبصر سے کہیں بڑا صحافی ہے جو خوبصورت جملوں میں سامراجی جرائم کو قابل ہضم بناتا ہے۔
یہ بحث اردو اخبار کی کوالٹی کی نہیں۔ یہ بحث اس سوال کی ہے کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قاتل کی زبان کی صفائی کے ساتھ یا مقتول کی ٹوٹی ہوئی فریاد کے ساتھ؟ چمکدار اسٹوڈیو کے ساتھ یا ملبے تلے دبے بچے کے ساتھ؟ سبسکرپشن ماڈل کے ساتھ یا اس سچ کے ساتھ جو کسی پے وال کے پیچھے نہیں، خون میں لکھا ہوا ہے؟
پیرزادہ صاحب، مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستانی اخبار نان لپیٹنے کے کام آتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کی چمکدار اسکرینوں پر بھی خون لگا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ خون ہائی ریزولوشن میں نظر نہیں آنے دیا جاتا۔