تنقیدی نوٹ: لاہور کا بلومز ڈے، جوائس کا عوامی چہرہ اور اشرافیہ کی نقاب کشائی
“یولیسز مال روڈ پر” محض جیمس جوائس کو خراجِ تحسین پیش کرنے والی کہانی نہیں؛ یہ جوائس کو لاہور میں دوبارہ زندہ کرنے کی ایک ادبی کوشش ہے۔ اس کہانی کا اصل کمال یہ ہے کہ یہ بلومز ڈے کو کسی یورپی ادبی رسم، کسی یونیورسٹیائی جشن، کسی ثقافتی فیشن یا کسی “لٹریری فیسٹیول” کے نمائشی عنوان کے طور پر نہیں لیتی، بلکہ اسے شہر کو پڑھنے کا طریقہ بنا دیتی ہے۔ جیسے جوائس نے ڈبلن کو ایک دن، ایک آدمی، ایک سفر اور ایک شعور کے ذریعے پڑھا، ویسے ہی یہ کہانی لاہور کو مال روڈ، انارکلی، پریس کلب، رکشے، چائے، ادبی نشست، سرکاری عمارتوں، وی آئی پی موومنٹ، طبقاتی زبان اور عوامی ذلت کے روزمرہ تجربے کے ذریعے پڑھتی ہے۔
بلومز ڈے کی اصل روح یہی ہے: ایک دن، ایک شہر، ایک آدمی — مگر اس ایک دن میں پوری تاریخ، پورا سماج، پوری تہذیب، پوری طبقاتی ساخت، پوری روحانی مفلوجی اور پوری انسانی مزاحمت موجود ہو سکتی ہے۔ جوائس نے یولیسز میں 16 جون 1904ء کے ڈبلن کو اس طرح لکھا کہ ایک معمولی دن ادبی تاریخ کا عظیم دن بن گیا۔ “یولیسز مال روڈ پر” اسی تصور کو پنجاب کے آج کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے میں منتقل کرتی ہے۔ یہاں لاہور ڈبلن کا ترجمہ نہیں بنتا؛ لاہور اپنی مکمل مقامی، سیاسی، طبقاتی اور لسانی پیچیدگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
کہانی کا مرکزی کردار سلیم کوئی غیر معمولی ہیرو نہیں۔ وہ نہ فاتح ہے، نہ انقلابی خطیب، نہ دانشورانہ برج کا مکین۔ وہ چھوٹے اخبار کا جزوقتی رپورٹر، ترجمہ کرنے والا، پروف پڑھنے والا، کرائے، بل، داغ دار کُرتے، ادبی گروپوں، کم معاوضے اور شہر کی دھول میں سانس لینے والا عام آدمی ہے۔ یہی انتخاب کہانی کو جوائسی روح کے قریب کرتا ہے۔ جوائس کا اصل انقلاب یہی تھا کہ اس نے بڑے ہیرو کی جگہ عام شہری کو رکھا۔ اس کہانی میں بھی “عام آدمی” ادبی موضوع نہیں، ادبی مرکز بن جاتا ہے۔
کہانی کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ اس میں لاہور محض پس منظر نہیں بلکہ ایک زندہ کردار ہے۔ لاہور یہاں صرف بادشاہی مسجد، مینارِ پاکستان، فوڈ اسٹریٹ یا سیاحتی جمالیات کا شہر نہیں۔ یہ نالی، تندور، موٹر سائیکل، پریشر پمپ، جنریٹر، گالی، اذان، نعت، رکشہ، مال روڈ، پریس کلب، نوآبادیاتی عمارت، پولیس ناکہ، وی آئی پی سائرن، داغ دار کُرتا، چائے، واٹس ایپ گروپ اور ادبی اشرافیہ کی خودنمائی کا شہر ہے۔ یہ لاہور اپنی بو، آواز، پسینہ، دھواں، طنز اور زخمی تاریخ کے ساتھ کہانی میں داخل ہوتا ہے۔
اس کہانی میں طنز صرف ہنسانے کے لیے نہیں، شناخت کے لیے ہے۔ ریٹائرڈ بیوروکریٹ، یونیورسٹی پروفیسر، ثقافتی این جی او اشرافیہ، انگریزی اصطلاحوں میں جدیدیت بیچنے والے مقرر،
“subaltern imagination”
پر گفتگو کرنے والے لوگ اور باہر دھوپ میں انتظار کرتا ڈرائیور — یہ سب پاکستان کی طبقاتی ثقافت کا ایک نہایت تیز خاکہ بناتے ہیں۔ کہانی دکھاتی ہے کہ ہمارے ہاں ادب بھی طبقاتی نشان بن جاتا ہے؛ جوائس بھی سٹیٹس سمبل میں بدل دیا جاتا ہے؛ جدیدیت بھی کانفرنس بیج، انگریزی لہجہ، ہوٹل ہال، فنڈنگ پروپوزل اور دانشورانہ ادا میں قید کر دی جاتی ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ابھرتا ہے: جوائس کو عوام سے دور کرنا دراصل ادب کو عوام سے دور کرنا ہے۔ کہانی کا رکشہ ڈرائیور، جو “بلومز ڈے” کو پہلے پھولوں کا دن سمجھتا ہے، چند ہی جملوں میں جوائس کا وہ مفہوم پکڑ لیتا ہے جسے پروفیسر حضرات مشکل اصطلاحوں میں گم کر دیتے ہیں۔ جب وہ کہتا ہے کہ “فیر تاں ساڈا ہر دن ناول اے”، تو وہ دراصل جوائس کے فن کی عوامی بنیاد کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کا دن واقعی شعور کی رو ہے: پٹرول، پولیس، قسط، سواری، کرایہ، گالی، ٹریفک، گھر، بچی کی فیس، بیوی کا چہرہ، خدا کا نام — کیا یہ سب جدید انسان کے منتشر شعور سے کم پیچیدہ ہے؟
کہانی یہاں ایک اہم ادبی اور نظریاتی بحث چھیڑتی ہے: مشکل جوائس نہیں، مشکل سماج ہے۔ اگر سماج میں طبقاتی اشارے، زبان کی دیواریں، نوآبادیاتی بقایا جات، مذہبی علامات، سرکاری جبر، معاشی پریشانی، شہری انتشار اور داخلی شکستیں موجود ہیں تو ادب بھی انہیں ظاہر کرتے ہوئے پیچیدہ ہو گا۔ لیکن یہ پیچیدگی عوام دشمن نہیں؛ یہ عوامی زندگی کی اصل پیچیدگی ہے۔ جو قاری رکشے والے، ویٹر، رپورٹر، چپڑاسی، کلرک، مزدور اور چھوٹے صحافی کی زندگی کو سمجھتا ہے، وہ جوائس کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ اصل مسئلہ جوائس کا نہیں، اس اشرافیہ کا ہے جس نے ادب کے دروازے پر
“intellectual equipment”
کا بورڈ لگا رکھا ہے۔
“یولیسز مال روڈ پر” میں مال روڈ ایک علامت بن جاتی ہے۔ مال روڈ لاہور کی نوآبادیاتی یادداشت ہے: جی پی او، ہائی کورٹ، اسمبلی، پریس کلب، درخت، گیٹ، گارڈ، اجازت، پروٹوکول، سائرن، سرکاری گاڑیاں۔ انگریز چلا گیا مگر اس کی انتظامی روح ابھی تک عمارتوں، لہجوں، فائلوں، نوکریوں، عدالتی زبان، افسرانہ وقار اور عوامی فاصلے میں زندہ ہے۔ کہانی کا یہ جملہ کہ “عمارتیں خاموش کھڑی تھیں، مگر خاموشی بھی کبھی کبھی انگریزی میں ہوتی ہے” پورے نوآبادیاتی بعد از مرگ وجود کو ایک ہی ضرب میں کھول دیتا ہے۔
کہانی کی ساخت بھی قابلِ غور ہے۔ یہ سیدھی روایتی پلاٹ پر نہیں چلتی۔ اس میں صبح کا جاگنا، واٹس ایپ، گلی، رکشہ، شہر کا مشاہدہ، ادبی نشست، سوال جواب، مال روڈ پر چہل قدمی، وی آئی پی موومنٹ — یہ سب ایک روزمرہ سفر کی شکل میں آتے ہیں۔ مگر یہی روزمرہ سفر رفتہ رفتہ ایک شہری شعور کی تشکیل بن جاتا ہے۔ قاری دیکھتا ہے کہ سلیم صرف شہر سے نہیں گزر رہا؛ شہر بھی اس کے اندر سے گزر رہا ہے۔ یہی جوائسی طریقہ ہے: آدمی شہر میں چلتا ہے، مگر اصل میں شہر آدمی کے شعور میں چلتا ہے۔
بلومز ڈے کے حوالے سے یہ کہانی بہت اہم بات کہتی ہے۔ بلومز ڈے صرف جوائس کے ناول کی تاریخ نہیں، دیکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عظیم ادب ہمیشہ بڑے واقعات سے نہیں بنتا؛ کبھی کبھی ایک آدمی کا شہر میں ایک دن پھرنا انسانی تاریخ کا پورا نقشہ بن جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مطلب صرف جوائس کا نام لینا نہیں؛ اپنے شہر کو جوائس کی طرح پڑھنا ہے۔ ڈبلن کو ڈبلن رہنے دیں، مگر لاہور سے مت ڈریں۔ اگر ڈبلن لکھا جا سکتا ہے تو لاہور کیوں نہیں؟ اگر لیوپولڈ بلوم کی ایک دن کی آوارگی عالمی ادب بن سکتی ہے تو مال روڈ پر چلتے سلیم کی آنکھیں بھی تاریخ پڑھ سکتی ہیں۔
اس کہانی کی اصل جان اس کا آخری نوٹ ہے: “آج بلومز ڈے ہے۔ ڈبلن میں ایک آدمی شہر سے گزرا تھا۔ لاہور میں شہر آدمیوں کے اوپر سے گزرتا ہے۔” یہ جملہ صرف خوب صورت اختتام نہیں؛ یہ پوری کہانی کا فکری مرکز ہے۔ ڈبلن میں شہری تجربہ ایک آدمی کے شعور میں داخل ہوتا ہے، مگر لاہور میں ریاست، اشرافیہ، ٹریفک، طبقہ، زبان، پروٹوکول اور غربت عام آدمی کو روندتے ہوئے گزرتے ہیں۔ یہ فرق محض جغرافیائی نہیں، سیاسی ہے۔ یہی اس کہانی کو جوائس کی یاد میں لکھی گئی تحریر سے آگے لے جا کر ہمارے اپنے عہد کی کہانی بنا دیتا ہے۔
بلومز ڈے کو پاکستان میں منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم جوائس کو صرف “مشکل ناول نگار” کہہ کر یونیورسٹی کی الماری میں بند نہ رکھیں، بلکہ اسے لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، فیصل آباد، لیاری، پرانا انارکلی، اردو بازار، کچہری، ہسپتال، عدالت، بس اسٹینڈ اور چائے کے کھوکھے تک لے آئیں۔ جوائس کو پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈبلن کی نقل کریں؛ مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے شہر کو اتنی ہی بے رحمی، اتنی ہی محبت، اتنی ہی تفصیل اور اتنی ہی انسانی گہرائی سے دیکھنا سیکھیں۔
“یولیسز مال روڈ پر” اسی ضرورت کا ادبی اعلان ہے۔ یہ کہانی کہتی ہے کہ جدیدیت کسی گورے شہر کی جاگیر نہیں؛ جدیدیت اس رکشہ ڈرائیور کے دماغ میں بھی ہے جو ٹریفک، بھوک، قرض، سواری، پولیس اور گھر کی فکر کو ایک ساتھ ڈھوتا ہے۔ یہ کہانی کہتی ہے کہ لاہور بھی اپنا یولیسز پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم شہر کو سیاحتی پوسٹ کارڈ نہیں بلکہ طبقاتی متن کی طرح پڑھیں۔ یہ کہانی کہتی ہے کہ بلومز ڈے کو اصل خراج یہ نہیں کہ جوائس کا نام لیا جائے؛ اصل خراج یہ ہے کہ اپنے شہر کی خاموشیوں، جھوٹوں، بوؤں، گالیوں، دکھوں، ہنسیوں اور مفلوجیوں کو ادب میں بدل دیا جائے۔
اس اعتبار سے “یولیسز مال روڈ پر” ایک ادبی مشق نہیں، ایک دعوت ہے: لاہور کو پڑھو، اس کے سائرن سنو، اس کے داغ دیکھو، اس کی گلیوں کی زبان سمجھو، اس کی اشرافیہ پر ہنسو، اس کے عام آدمی کو مرکز بناؤ، اور پھر دیکھو کہ جوائس کتنا قریب ہے۔ وہ ڈبلن میں بیٹھا ہوا کوئی دور کا ادیب نہیں؛ وہ ہر اس شہر میں موجود ہے جہاں عام آدمی ایک دن گزار کر رات کو سوچتا ہے کہ کل پھر یہی سب ہوگا — اور پھر بھی صبح اٹھ کر شہر میں نکل پڑتا ہے۔
_____________________________________________________
یولیسز مال روڈ پر
مصنف : محمد عامر حسینی
صبح ابھی پوری طرح لاہور پر نازل نہیں ہوئی تھی؛ بس اذان، دودھ والے کی موٹر سائیکل، پریشر پمپ کی ہانپ، دور کہیں جنریٹر کی کھانسی، اور موبائل فون کے نیلے شیشے پر چمکتی ہوئی ایک اطلاع نے اسے جگا دیا تھا:
Today is Bloomsday. Celebrate James Joyce’s Ulysses.
اس نے آنکھیں ملیں۔ کمرے کی چھت پر پنکھا گھوم رہا تھا، جیسے کسی پرانے دفتر کی فائل ہو جسے چپڑاسی برسوں سے ایک ہی میز سے دوسری میز پر منتقل کرتا آ رہا ہو۔ پنکھے کی آواز میں اسے کبھی کبھی لاہور ہائی کورٹ کی راہداریوں کا سرسراہٹ بھرا انصاف سنائی دیتا تھا، کبھی پنجاب سول سیکرٹریٹ کی گھسی ہوئی مہریں، کبھی کسی تھانے کا ایس ایچ او جو غریب آدمی کو دیکھ کر پہلے مونچھ درست کرتا ہے، پھر قانون۔
“بلومز ڈے،” اس نے آہستہ سے کہا۔
بلوم۔ بلوم۔ بلوم۔ جیسے بھاپ سے پھولتا ہوا نان، جیسے مال روڈ پر وی آئی پی موومنٹ کے وقت پھولا ہوا پولیس والا، جیسے ایک افسر کا پیٹ جو عوامی خدمت کے نام پر بڑھتا چلا جاتا ہے، جیسے لاہور کا دھواں جو ہر سال موسمِ سرما میں شہر کے پھیپھڑوں پر پھولتا ہے اور پھر اخبار میں خبر چھپتی ہے: “انتظامیہ متحرک، سموگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری۔”
اس کا نام سلیم تھا۔ یا شاید سلیم ہی مناسب تھا۔ اس شہر میں ہر تیسرا آدمی سلیم، ندیم، کلیم، نسیم، عظیم یا کریم ہوتا ہے؛ نام بدلتے رہتے ہیں، کرائے کا مکان وہی رہتا ہے، بجلی کا بل وہی، موٹر سائیکل کی قسط وہی، اخبار کا معاوضہ وہی، اور عزتِ نفس کی وہی پرانی قسط جو ہر مہینے کسی نہ کسی دفتر، کسی نہ کسی گیٹ، کسی نہ کسی صاحب کے پی اے کے سامنے جمع کروانی پڑتی ہے۔
وہ ایک چھوٹے اخبار کے لیے جزوقتی رپورٹر تھا، باقی وقت ترجمے کرتا تھا، پروف پڑھتا تھا، کبھی کبھی ادبی نوٹ لکھ دیتا تھا جن کے نیچے لوگ کمنٹ کرتے: “بہت مشکل لکھا ہے بھائی، آسان اردو میں لکھیں۔” اور وہ سوچتا، آسان اردو؟ زندگی نے کب آسان پنجابی، آسان اردو، آسان روٹی، آسان کرایہ، آسان علاج، آسان موت دی ہے جو ادب آسان ہو جائے؟ پھر بھی وہ لکھتا، کیونکہ نہ لکھے تو اندر کوئی چیز جمع ہو کر نمک بن جاتی تھی۔
اس نے چارپائی سے پاؤں نیچے رکھے۔ فرش ٹھنڈا نہیں تھا؛ جون کی صبح کا فرش بھی قرض دار آدمی کے ماتھے کی طرح گرم رہتا ہے۔ باہر گلی میں ایک بچہ اسکول کی کاپی سینے سے لگائے کھڑا رو رہا تھا۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی:
“چل پُتر، دیر ہو جانی اے۔ ماسٹر فیر کھڑا کر کے سارے کلاس دے سامنے ذلیل کرے گا۔”
ذلت کا پہلا سبق ہمیشہ وقت کی پابندی کے نام پر دیا جاتا ہے، سلیم نے سوچا۔ غریب کا بچہ دیر سے پہنچے تو نالائق؛ افسر دیر سے آئے تو مصروف؛ وزیر دیر سے آئے تو “اہم اجلاس میں تھے”؛ جنرل دیر سے آئے تو قومی سلامتی؛ جج دیر سے آئے تو عدالت کا وقار؛ ادیب دیر سے آئے تو تخلیقی مزاج؛ مزدور دیر سے آئے تو آدھی دیہاڑی کٹ۔
:اس نے موبائل اٹھایا۔ واٹس ایپ پر ایک ادبی گروپ میں پیغام آیا ہوا تھا
Happy Bloomsday! Joyce changed the structure of modern consciousness.
:نیچے کسی نے لکھا
Absolutely. Stream of consciousness is basically fragmentation of bourgeois subjectivity in late capitalism.
تیسرے نے دل والا ایموجی بھیج دیا۔ چوتھے نے پوچھا
“بھائی یہ بلومز ڈے کیا ہوتا ہے؟”
گروپ میں خاموشی چھا گئی۔
سلیم ہنسا۔ جدیدیت کے سارے پی ایچ ڈی خاموش۔ سوال پوچھنے والا ہمیشہ سب سے خطرناک آدمی ہوتا ہے، خاص طور پر جب سوال سادہ ہو۔ اس نے لکھنے کو سوچا: “بھائی، جس دن جیمس جوائس کے ناول یولیسز کا سارا واقعہ ڈبلن میں گزرتا ہے، اسے بلومز ڈے کہتے ہیں۔” مگر اس نے نہیں لکھا۔ اسے جلدی تھی۔ اسے آج مال روڈ جانا تھا۔ پریس کلب میں “جوائس، جدیدیت اور شہری شعور” پر ایک نشست تھی، جہاں انگریزی بولنے والے اردو سے محبت کریں گے، اردو بولنے والے انگریزی سے مرعوب ہوں گے، اور باہر ڈرائیور دھوپ میں بیٹھ کر پوچھیں گے: “اوئے، ایہہ جوائس کون اے؟ کوئی جج اے؟”
اس نے منہ پر پانی مارا۔ شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے نیند کی سیاہ لکیریں۔ داڑھی میں دو سفید بال۔ ایک ایسی عمر جب آدمی ابھی بوڑھا نہیں ہوتا مگر نوجوانوں کے سامنے اپنے جملے سنبھالنے لگتا ہے۔ اس نے الماری سے سفید کُرتا نکالا۔ کالر پر ہلکا سا پیلا داغ تھا؛ غالباً پچھلی بار چائے گری تھی۔ اس نے اسے رگڑ کر دیکھا، پھر چھوڑ دیا۔ لاہور میں داغ چھپانے والے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، داغ دکھانے والے کم از کم سچے ہوتے ہیں۔
گلی سے نکلتے ہی لاہور نے اسے اپنی زبان سے چاٹ لیا: نالی کی بو، تندور کی خوشبو، گیلے آٹے کی بھاپ، پٹرول کا دھواں، پھل فروش کی آواز، دور سے آتی ہوئی نعت، قریب سے گزرتی ہوئی گالی، “اوئے کھوتے دے پتر، سائڈ تے ہو!” اور ایک رکشے کے پیچھے لکھا ہوا:
ماں دی دعا، جنت دی ہوا
:نیچے چھوٹے حروف میں
No Fear
سلیم نے رکشہ روکا۔
“مال روڈ چلنا ہے؟”
رکشے والے نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، جیسے کسٹم افسر سوٹ کیس دیکھتا ہے۔
“کدھر مال روڈ؟ جی پی او؟ اسمبلی؟ ہائی کورٹ؟ چڑیا گھر؟ یا اوتھے جتھے ہمیشہ کنٹینر لگے ہوندے نیں؟”
“پریس کلب۔”
“اوہ، صحافی او؟”
“تھوڑا بہت۔”
“فیر کرایہ ودھ ہووے گا۔ تسی لوک سوال زیادہ کردے او۔”
سلیم ہنسا۔ “اور تم لوگ جواب کم دیتے ہو۔”
رکشے والا بھی ہنس پڑا۔ “جواب تاں صاحب لوک نہیں دیندے۔ اسی کیہ دینا اے؟ اسی تے بس ہارن دیندے آں۔”
رکشہ چل پڑا۔ صبح کا لاہور آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔ دکانوں کے شٹر اوپر اٹھ رہے تھے، جیسے شہر اپنی نیند سے پلکیں کھول رہا ہو۔ ہر شٹر کے پیچھے ایک چھوٹی معیشت، ایک ادھار رجسٹر، ایک بیمار باپ، ایک بیٹی کی فیس، ایک لڑکے کا دبئی جانے کا خواب، ایک دکاندار کی شوگر، ایک سیلز مین کی کھانسی، ایک چائے کا کپ، اور ایک خدا موجود تھا جو اکثر کیش باکس کے اوپر کیلنڈر کی صورت لٹکا ہوتا ہے۔
رکشہ انارکلی کی طرف مڑا تو سلیم کو لگا وہ ڈبلن میں نہیں، مگر ڈبلن بھی یہی ہوگا؛ تنگ گلیاں، دکانیں، مذہب، شراب کی جگہ چائے، چرچ کی جگہ دربار، انگریز سپاہی کی جگہ ٹریفک وارڈن، اور عام آدمی کی وہی ابدی جلدی۔ جوائس نے ڈبلن کو لکھا تھا؛ لاہور خود کو لکھواتا نہیں، پہلے آپ کو آزماتا ہے: کتنی گرد سہہ سکتے ہو؟ کتنی آوازیں ایک ساتھ سن سکتے ہو؟ کتنی تاریخیں ایک دیوار پر پڑھ سکتے ہو؟ مغل، سکھ، انگریز، افسر، ٹھیکیدار، ڈویلپر، بابا جی، بینر، بکرے کی ران، سموگ ٹاور، ثقافتی میلہ، لاٹھی چارج، لٹریری فیسٹیول۔
“پائی جی، ایہہ بلومز ڈے کی ہوندا اے؟” رکشے والے نے اچانک پوچھا۔
سلیم چونکا۔ “تمہیں کیسے پتا؟”
“تہاڈے فون تے ویکھیا سی۔ جدوں تسی بیٹھے، سکرین کھلی سی۔ میں پڑھ لیا۔ بلومز ڈے۔ کوئی پھلاں دا دن اے؟”
“نہیں، ایک ناول کا دن ہے۔ جیمس جوائس کا ناول۔ ایک آدمی پورا دن شہر میں پھرتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، سوچتا ہے، دیکھتا ہے، سنتا ہے۔ بس اسی پر ناول ہے۔”
رکشے والے نے ایک بس کو کاٹتے ہوئے کہا، “فیر تاں ساڈا ہر دن ناول اے۔ صبح توں رات تک شہر وچ پھرنا، بندے چکنے، کرایہ لینا، گالاں کھانیاں، چالان توں بچنا، پٹرول پوانا، گھر جا کے بیوی دا منہ ویکھنا، بچیاں دی فیس سننی، تے رات نوں سوچنا کہ کل فیر ایہو کچھ۔ اوہ جوائس ساڈے نال رکشے وچ بیٹھیا ہووے تاں تین دن وچ پنج ناول لکھ دے۔”
سلیم نے اس کی پشت دیکھی۔ پسینے سے قمیص کی گردن گیلی تھی۔ اس نے سوچا: یہی آدمی جوائس کو زیادہ سمجھتا ہے۔ یہ “stream of consciousness” نہیں کہے گا، مگر اس کے دماغ میں ایک ساتھ پٹرول، پولیس، قسط، ماں کی دوا، بچے کی فیس، سواری کی منزل، ٹریفک کی گالی، اور خدا کا نام چلتا رہتا ہے۔ اس کا شعور ندی نہیں، لاہور کا نالہ ہے: بدبودار بھی، زندہ بھی، بہتا بھی، رکا ہوا بھی۔
پریس کلب کے باہر گاڑیاں کھڑی تھیں۔ کچھ گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹیں تھیں، کچھ پر ادبی اسٹکر، کچھ پر “Press”، کچھ پر “Advocate High Court”، ایک پر “Applied For” جو غالباً اس ملک کی سب سے بڑی قومی شناخت ہے: ہر چیز اپلائیڈ فار۔ انصاف اپلائیڈ فار، جمہوریت اپلائیڈ فار، انقلاب اپلائیڈ فار، روزگار اپلائیڈ فار، انسانیت اپلائیڈ فار۔
گیٹ پر گارڈ نے اسے دیکھا۔
“کدھر؟”
“نشست ہے۔ جوائس پر۔”
گارڈ نے بے تاثر چہرے سے پوچھا، “کارڈ؟”
“میں مقرر نہیں، سامع ہوں۔”
گارڈ نے اسے یوں دیکھا جیسے سامع ہونا مشکوک سرگرمی ہو۔
اندر لان میں کرسیاں لگی تھیں۔ ایک طرف چائے کا انتظام، دوسری طرف بینر:
Bloomsday in Lahore: Joyce, Modernity and the Postcolonial City
:نیچے اردو میں چھوٹا سا
جیمس جوائس اور جدید شہری شعور
اس نے دیکھا، انگریزی عنوان بڑا تھا، اردو ترجمہ چھوٹا۔ جیسے ملک کا آئین اردو میں ہو، عمل انگریزی میں، اور عوام پنجابی میں گالی کھائیں۔
اسٹیج پر تین مقرر بیٹھے تھے۔ پہلے صاحب ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھے، اب کالم نگار۔ چہرے پر وہی اطمینان جو پنشن، پلاٹ، اور پبلک سروس کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے صاحب یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، جن کی داڑھی میں نظریہ، جیب میں کانفرنس، اور لہجے میں آکسفورڈ کا بھوت رہتا تھا۔ تیسری خاتون ایک ثقافتی تنظیم چلاتی تھیں؛ ہر جملے میں
“resistance”، “plurality”، “space”، “dialogue”
اور
“grassroots”
کا استعمال کرتی تھیں، مگر ان کے ڈرائیور کو اندر چائے پینے کی اجازت نہیں تھی۔
پہلے مقرر نے مائیک سنبھالا۔
“جیمس جوائس بنیادی طور پر ایک کاسموپولیٹن رائٹر تھے۔ ہمیں انہیں مقامی سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ ادب آفاقی ہوتا ہے۔”
:سلیم نے نوٹ بک کھولی اور لکھا
آفاقی ادب وہ ہوتا ہے جس میں مقامی اشرافیہ اپنے جرائم سے بری الذمہ ہو جائے۔
:پروفیسر صاحب بولے
“جوائس کا اصل مسئلہ
language
ہے۔
Meaning
کا
collapse
ہے۔
Subject
کی
fragmentation
ہے۔
Narrative
کی
instability
ہے۔”
پیچھے بیٹھے ایک بزرگ صحافی نے دوسرے سے پوچھا، “ایہہ کی کہہ ریا اے؟”
دوسرے نے جواب دیا، “کہانی مشکل اے۔”
پہلے نے کہا، “فیر پڑھنی کیوں اے؟”
دوسرا بولا، “کیونکہ گورے نے لکھی اے۔”
سلیم کو ہنسی آ گئی۔ اس نے جلدی سے کھانسی میں چھپا لی۔
:خاتون مقرر نے کہا
“We need to reclaim Joyce for the subaltern imagination.”
اسی وقت باہر سے ایک ویٹر ٹرے لے کر گزرا۔ اس کے ہاتھ میں کپ کانپ رہے تھے۔ کسی نے اسے ڈانٹا: “بھئی دھیان سے! یہ مہمانوں کے لیے ہے۔”
Subaltern imagination
نے چائے میز پر رکھ دی اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔
سلیم کا دل چاہا اٹھ کر کہے: جوائس کو reclaim کرنے سے پہلے اس ویٹر کا نام پوچھ لو۔ مگر وہ خاموش رہا۔ کبھی کبھی خاموشی بزدلی نہیں، مواد جمع کرنا ہوتی ہے۔
:نشست کے بعد سوال جواب شروع ہوا۔ ایک نوجوان نے پوچھا
“سر، کیا جوائس کو عام آدمی پڑھ سکتا ہے؟”
پروفیسر صاحب مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ جو استاد شاگرد کو نہیں، طبقہ طبقے کو دیتا ہے۔
“دیکھیں،
Joyce demands preparation. You need a certain intellectual equipment.”
:سلیم نے سوچا
intellectual equipment
۔ جیسے ڈرل مشین، سیمنٹ مکسر، یا جدید شعور کا جنریٹر۔ کیا رکشے والے کے پاس
equipment
نہیں؟ اس کے پاس شہر کا نقشہ ہے، گالیوں کی لغت ہے، موسم کا علم ہے، پولیس ناکوں کی تاریخ ہے، سواری کے چہرے سے کرایہ پہچاننے کی صلاحیت ہے، جھوٹ اور مجبوری میں فرق کرنے کی نظر ہے۔ وہ
equipment
نہیں تو کیا ہے؟
اس نے ہاتھ اٹھایا۔
“جی، آپ سوال کیجیے،” منتظم نے کہا، قدرے بے دلی سے۔ شاید اس کے کُرتے کا داغ دکھائی دے گیا تھا۔
سلیم کھڑا ہوا۔
“میرا سوال نہیں، ایک مشاہدہ ہے۔ جوائس کو عام آدمی سے دور سمجھنا شاید اس لیے غلط ہے کہ جوائس کی اصل دلچسپی عام آدمی کے دن، اس کی بھوک، اس کے شہر، اس کے خوف، اس کی یاد، اس کی شرمندگی، اس کی خواہش، اس کی زبان میں ہے۔ مشکل جوائس نہیں؛ مشکل وہ سماج ہے جسے وہ پڑھتا ہے۔ اگر لاہور کا رکشہ ڈرائیور ایک دن میں پندرہ طبقاتی چہرے پڑھ سکتا ہے تو وہ جوائس کیوں نہیں پڑھ سکتا؟”
ہال میں ہلکی سی کھسر پھسر ہوئی۔
ریٹائرڈ بیوروکریٹ نے عینک درست کی۔ “بات تو آپ کی جذباتی ہے، مگر ادب کو عوامی بنانے کے چکر میں اس کی پیچیدگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔”
سلیم نے سوچا: عوامی بنانا یعنی ضائع کرنا۔ اشرافیہ کا پرانا فرمان۔ جیسے پارک عوام کے لیے کھلا تو خراب، سڑک عوام کے لیے بند تو پروٹوکول، زبان عوامی ہو تو بازاری، انگریزی ہو تو علمی، بھوک کا ذکر ہو تو جذباتی، فنڈنگ کا ذکر ہو تو پراجیکٹ۔
اس نے آہستہ سے کہا، “پیچیدگی عوام کی زندگی میں کم نہیں، صاحب۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ
footnotes
نہیں لگاتے۔”
کسی نے تالیاں بجائیں۔ بہت کم۔ تین یا چار۔ مگر اتنی کافی تھیں کہ ہال کا شیشہ ہلکا سا بج اٹھا۔
باہر نکلا تو دھوپ تیز ہو چکی تھی۔ مال روڈ اپنی پوری نوآبادیاتی گردن کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔ عمارتیں خاموش کھڑی تھیں، مگر خاموشی بھی کبھی کبھی انگریزی میں ہوتی ہے۔ جی پی او، ہائی کورٹ، اسمبلی، عجائب گھر، کالج، چرچ، درخت، جنگلے، فٹ پاتھ، پولیس، پوسٹر، بیرئیر۔ انگریز چلا گیا تھا، مگر اس کے بوٹ کی آواز ابھی تک سرکاری دفتروں کے فرش پر چلتی تھی۔ ہر گیٹ پر ایک گارڈ، ہر کمرے میں ایک اجازت، ہر اجازت کے پیچھے ایک آدمی، ہر آدمی کے پیچھے ایک سفارش، ہر سفارش کے پیچھے ایک طبقہ۔
سلیم چلتا گیا۔
اسے لگا وہ اکیلا نہیں۔ اس کے ساتھ لیوپولڈ بلوم چل رہا ہے، سر پر ہیٹ نہیں بلکہ لاہور کی دھوپ، جیب میں اخبار نہیں بلکہ بجلی کا بل، دل میں مالی نہیں بلکہ منٹو، جوائس، وارث شاہ، بلھے شاہ، ناصر کاظمی، انتظار حسین، اور وہ رکشے والا جس نے کہا تھا: “ساڈا ہر دن ناول اے۔”
مال روڈ پر ایک بڑا بورڈ لگا تھا:
Clean Lahore, Green Lahore
نیچے کچرے کا ڈھیر تھا۔
اس نے سوچا: یہ بھی جوائس پڑھتا تو مسکرا دیتا۔ شہر ہمیشہ اپنے اشتہار کے نیچے اپنی تردید لکھتا ہے۔
دور اسمبلی کی طرف سے سائرن کی آواز آئی۔ پولیس والے اچانک چاق و چوبند ہو گئے۔ فٹ پاتھ پر چلتے لوگ کنارے کیے جانے لگے۔ ایک موٹر سائیکل سوار کو ڈانٹ پڑی۔ ایک ریڑھی والا اپنی ریڑھی دھکیل کر پیچھے ہٹا۔ ایک عورت بچے کو کھینچ کر سائے میں لے گئی۔ چند کالے شیشوں والی گاڑیاں گزریں۔ اندر کون تھا؟ عوام کا نمائندہ، عوام کا محافظ، عوام کا خادم، عوام کا مالک — اس ملک میں یہ چاروں الفاظ اکثر ایک ہی گاڑی میں بیٹھتے ہیں۔
:سلیم نے اپنی نوٹ بک میں لکھا
آج بلومز ڈے ہے۔ ڈبلن میں ایک آدمی شہر سے گزرا تھا۔ لاہور میں شہر آدمیوں کے اوپر سے گزرتا ہے۔