جیمس جوائس اور “سسٹرز”: خاموشی، موت اور ڈبلن کی روح کا پہلا دروازہ
جیمس جوائس کا مختصر تعارف
جیمس جوائس بیسویں صدی کے ان چند ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فکشن کے مزاج، ساخت اور زبان کو بدل کر رکھ دیا۔ وہ ۱۸۸۲ء میں ڈبلن، آئرلینڈ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۴۱ء میں وفات پائی۔ جوائس کا نام عموماً جدیدیت، شعور کی رو، شہری زندگی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ، مذہبی و سماجی جکڑ بندیوں اور انسان کے باطنی انتشار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کے بڑے ناولوں میں اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین، یولیسز اور فنیگنز ویک شامل ہیں، مگر ان کے افسانوی مجموعے ڈبلنرز کو جدید افسانے کی تاریخ میں ایک بنیادی سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔
ڈبلنرز میں جوائس نے ڈبلن شہر کو محض ایک جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی، اخلاقی اور سماجی کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے جس میں لوگ زندہ بھی ہیں اور کسی نہ کسی سطح پر مفلوج بھی۔ اس مجموعے کی پہلی کہانی “سسٹرز” ہے۔ یہی کہانی پورے مجموعے کے مرکزی مزاج، یعنی داخلی تعطل، مذہبی سایوں، خاموش خوف، ادھورے اشاروں اور انسانی شعور کے نیم تاریک گوشوں کا پہلا دروازہ کھولتی ہے۔
تنقیدی نوٹ
“سسٹرز” بظاہر ایک سادہ سی کہانی ہے: ایک لڑکا اپنے بوڑھے دوست فادر فلن کی موت کی خبر سنتا ہے، اس کے گھر جاتا ہے، اس کی لاش دیکھتا ہے، اور پھر فادر کی بہنوں کی گفتگو کے ذریعے اس پادری کی زندگی، بیماری، ذہنی شکست اور روحانی اضطراب کے کچھ ٹوٹے ہوئے اشارے سامنے آتے ہیں۔ مگر جیمس جوائس کا کمال یہی ہے کہ وہ اس معمولی واقعے کو ایک ایسی ادبی فضا میں بدل دیتے ہیں جہاں ہر شے خاموشی سے بولتی ہے: روشن کھڑکی، بند دکان، ماتمی پھول، تابوت، شمعیں، خالی آتش دان، نسوار کا ڈبہ، مقدس پیالہ اور اعتراف گاہ کا اندھیرا۔
یہ کہانی موت کے بارے میں اتنی نہیں جتنی اس خوف کے بارے میں ہے جو موت کے گرد معاشرے، مذہب اور بچپن کی معصوم ذہنی دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ فادر فلن صرف ایک مرنے والا پادری نہیں؛ وہ ایک ایسے نظام کی علامت بھی ہے جس پر تقدس کا غلاف چڑھا ہوا ہے مگر اندر سے وہ تھکن، شکست، جرم، وسوسے اور روحانی فالج کا شکار ہے۔ کہانی کے آغاز ہی میں “فالج” کا لفظ ایک طبی کیفیت سے بڑھ کر پورے ڈبلن، پورے مذہبی ماحول اور شاید پورے سماج کی علامت بن جاتا ہے۔ جوائس ہمیں بتاتے نہیں، صرف دکھاتے ہیں کہ ایک شہر کس طرح اپنے لوگوں کی روحوں کو آہستہ آہستہ سن کر دیتا ہے۔
لڑکے کا کردار اس کہانی کا سب سے نازک مرکز ہے۔ وہ نہ مکمل طور پر بچہ رہ گیا ہے، نہ ابھی بالغ شعور تک پہنچا ہے۔ وہ فادر فلن سے متاثر بھی ہے، خوف زدہ بھی، وابستہ بھی، اور اس کی موت پر اپنے اندر آزادی کا ایک عجیب احساس پا کر شرمندہ بھی۔ یہی پیچیدگی جوائس کو عظیم بناتی ہے۔ وہ انسان کو صاف ستھری اخلاقی خانوں میں تقسیم نہیں کرتے۔ لڑکا سوگوار بھی ہے، متجسس بھی، خوف زدہ بھی، اور اندر ہی اندر کسی بوجھ سے آزاد بھی۔ اس کی یہ نفسیاتی کیفیت جدید افسانے کا وہ لمحہ ہے جہاں خارجی واقعہ سے زیادہ اہم داخلی ارتعاش ہو جاتا ہے۔
کہانی میں فادر فلن کی شخصیت مکمل طور پر کبھی سامنے نہیں آتی۔ ہمیں اس کے بارے میں ٹکڑوں میں معلوم ہوتا ہے: وہ بیمار تھا، کانپتا تھا، نسوار لیتا تھا، لاطینی اور کلیسائی رسوم جانتا تھا، لڑکے کو تعلیم دیتا تھا، مگر اس کے اندر کوئی گہرا شکستہ پن بھی تھا۔ مقدس پیالہ ٹوٹنے کا واقعہ، اعتراف گاہ میں اندھیرے میں بیٹھ کر اپنے آپ سے ہنسنا، اور بہنوں کی محتاط، ادھوری، اشاروں بھری گفتگو اس شخصیت کو ایک راز بنا دیتی ہے۔ جوائس کا فن یہی ہے کہ وہ وضاحت سے زیادہ اشارے پر بھروسا کرتے ہیں۔ قاری کو کہانی پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اصل واقعہ کہیں پس منظر میں، پردے کے پیچھے، یا لوگوں کی زبانوں کے درمیان چھوٹے ہوئے خلا میں موجود ہے۔
“سسٹرز” کا ایک بڑا حسن اس کی خاموشی ہے۔ اس میں کوئی بڑا ڈرامائی واقعہ نہیں، کوئی چیختا ہوا المیہ نہیں، کوئی فیصلہ کن انکشاف نہیں۔ مگر اس کے باوجود پوری کہانی ایک دبے ہوئے خوف اور روحانی گھٹن سے بھری ہوئی ہے۔ یہ وہی فضا ہے جس میں جوائس کا ڈبلن سانس لیتا ہے: مذہب موجود ہے مگر تسلی کم دیتا ہے؛ خاندان موجود ہے مگر گفتگو ادھوری ہے؛ اخلاقیات موجود ہیں مگر ان کے پیچھے خوف ہے؛ موت موجود ہے مگر اس کے سامنے لوگ رسمی جملوں، شراب کے چھوٹے گلاسوں اور خالی آتش دان کی طرف دیکھتی ہوئی خاموشیوں میں پناہ لیتے ہیں۔
اس کہانی کو پڑھتے ہوئے قاری کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جوائس کی نثر میں اصل معنی اکثر ان باتوں میں نہیں جو کہی جاتی ہیں، بلکہ ان میں ہوتے ہیں جو نہیں کہی جاتیں۔ بوڑھے کوٹر کے ادھورے جملے، ایلیزا کی رک رک کر کی گئی گفتگو، لڑکے کا خواب، فادر فلن کی مسکراہٹ کا وہم، تابوت میں اس کا سخت چہرہ، اور آخر میں اعتراف گاہ کا تاریک منظر — یہ سب مل کر ایک ایسی کہانی بناتے ہیں جو ختم ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ قاری اس کے بعد دیر تک سوچتا رہتا ہے کہ فادر فلن کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا؛ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس موت نے لڑکے کے اندر کیا توڑ دیا، یا کیا آزاد کر دیا۔
“سسٹرز” جدید افسانے کی ایک شاندار مثال ہے، کیونکہ یہ واقعے سے زیادہ فضا، بیان سے زیادہ خاموشی، کردار سے زیادہ نفسیاتی اثر، اور انجام سے زیادہ احساس پر قائم ہے۔ یہ کہانی ہمیں ایک ایسے ادیب سے متعارف کراتی ہے جو شہر کی گلیوں، گھروں اور مذہبی کمروں میں چھپی ہوئی روحانی بیماری کو دیکھ سکتا تھا۔ جیمس جوائس نے اس کہانی میں ڈبلن کے ایک چھوٹے سے ماتمی گھر کو انسانی شعور کی ایک بڑی تاریک گلی میں بدل دیا ہے۔
یہ کہانی پڑھتے وقت قاری کو صرف فادر فلن کی موت نہیں دیکھنی چاہیے؛ اسے اس سماج کی دھیمی موت بھی سننی چاہیے جس میں لوگ بولتے کم ہیں، چھپاتے زیادہ ہیں، اور اپنی روحانی شکست کو رسم، مذہب اور خاموشی کے پردوں میں لپیٹ دیتے ہیں۔ یہی “سسٹرز” کی اصل طاقت ہے: یہ ایک مردہ پادری کی کہانی نہیں، ایک مفلوج معاشرے کی پہلی سرگوشی ہے۔
جوائس: مشکل نویس نہیں، مفلوج سماج کا عوامی شاہد
جیمس جوائس کے بارے میں ایک بڑا غلط تاثر یہ پھیلایا گیا کہ وہ صرف یونیورسٹیوں، تحقیقی مقالوں، مشکل اصطلاحات اور ادبی اشرافیہ کا ادیب ہے؛ عام قاری، محنت کش طبقہ، روزمرہ زندگی کے دکھ جھیلنے والا آدمی اسے نہیں پڑھ سکتا۔ جدیدیت کے بعض مدرسہ جاتی شارحین، مابعد جدیدیت کے ابہام پسند نقادوں اور لیٹ کیپلٹل ازم کی نیو لبرل اکیڈمی نے جوائس کو ایک ایسے ادیب کے طور پر پیش کیا جیسے وہ زندگی سے زیادہ زبان، انسان سے زیادہ تکنیک، سماج سے زیادہ متن، اور طبقاتی حقیقت سے زیادہ ادبی کھیل کا آدمی ہو۔ یہ تاثر نہ صرف ادھورا ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔
جوائس کو مشکل بنا کر پیش کرنے کا عمل خود ایک نظریاتی عمل ہے۔ جب کسی ادیب کو عوام سے چھیننا ہو تو اسے اتنا “پیچیدہ” بنا دو کہ عام قاری اس کے قریب جانے سے پہلے ہی ڈر جائے۔ جوائس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اسے اس طرح پڑھایا گیا جیسے وہ زندگی کے عام تجربات سے کٹا ہوا کوئی معمہ ساز ہو، حالانکہ جوائس کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کی معمولی ترین چیزوں میں تاریخ، مذہب، طبقہ، خوف، خواہش، محرومی اور روحانی شکست کی گہری پرتیں دکھاتا ہے۔ وہ کسی محل، دربار یا اشرافی ڈرائنگ روم کا نہیں؛ گلی، دکان، کرایے کے کمرے، خالی آتش دان، نسوار کے ڈبے، بیمار جسم، غریب بہنوں، خاموش بچوں اور شکست خوردہ شہریوں کا ادیب ہے۔
“سسٹرز” اس بات کی پہلی اور نہایت روشن مثال ہے۔ یہ کہانی کسی فلسفیانہ خطبے سے شروع نہیں ہوتی؛ ایک لڑکے کی نظر سے شروع ہوتی ہے جو ایک گھر کی روشن کھڑکی کو دیکھتا ہے۔ ایک پادری بیمار ہے، شاید مر چکا ہے۔ گھر میں رات کا کھانا ہے، دلیا ہے، آتش دان ہے، بوڑھا کوٹر ہے، خالہ ہے، چچا ہے، ادھورے جملے ہیں، شک ہے، خاموشی ہے۔ یہ سب کچھ کس قدر عام ہے۔ مگر جوائس اسی عام پن کے اندر وہ خوف دکھاتا ہے جسے سماج چھپا لیتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ طاقت ہمیشہ بلند آواز میں نہیں بولتی؛ کبھی وہ ادھورے جملوں، مذہبی رسوم، بچوں کو چپ کرانے والی نصیحتوں اور “یہ بات بچوں کے لیے اچھی نہیں” جیسے فقروں میں چھپی ہوتی ہے۔
یہاں ترقی پسند ادبی روایت کے لیے جوائس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ترقی پسند ادب صرف نعرے کا نام نہیں؛ وہ سماج کی چھپی ہوئی ساختوں کو بے نقاب کرنے کا نام بھی ہے۔ جوائس “سسٹرز” میں کلیسا، خاندان، اخلاقی تربیت، بیماری، موت اور بچپن کے شعور کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور دکھاتا ہے کہ سماج کس طرح انسان کو اندر سے مفلوج کرتا ہے۔ کہانی کا لفظ “فالج” محض فادر فلن کی جسمانی بیماری نہیں؛ یہ ڈبلن کی روحانی، سماجی اور تاریخی کیفیت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو بولنے سے ڈرتا ہے، سچ کو آدھے جملوں میں دفن کرتا ہے، بچوں کو سوال کرنے سے روکتا ہے، مذہبی تقدس کے پیچھے ذہنی شکست کو چھپاتا ہے، اور موت کے سامنے بھی رسمی تسلیوں سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔
اینریکو ترینیونی کے “زندوں اور مردوں” والے زاویے سے “سسٹرز” کو پڑھیں تو یہ کہانی مزید گہری ہو جاتی ہے۔ جوائس کے ہاں مردے کبھی صرف مردے نہیں ہوتے۔ وہ زندوں کے اندر رہتے ہیں، ان کی زبان میں، ان کے خوف میں، ان کی عادتوں میں، ان کے گھروں کی بو میں، ان کے مذہبی الفاظ میں، ان کے بچوں کے خوابوں میں۔ فادر فلن مر چکا ہے، مگر اس کی موت کے بعد ہی اس کی موجودگی زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔ وہ تابوت میں پڑا ہے، مگر اس کا اثر لڑکے کے ذہن میں، بہنوں کی گفتگو میں، بوڑھے کوٹر کے اشاروں میں، مقدس پیالے کے ٹوٹنے کی یاد میں اور اعتراف گاہ کے اندھیرے میں پھیل جاتا ہے۔ مردہ جسم خاموش ہے، مگر اس کے ارد گرد پورا زندہ سماج بولنے سے قاصر ہے۔ یہی جوائس کا کمال ہے: وہ زندوں کی خاموشی سے مردوں کی تاریخ پڑھتا ہے۔
اس کہانی میں فادر فلن ایک فرد بھی ہے اور ایک ادارہ بھی۔ وہ ایک بیمار پادری ہے، مگر اس کے ساتھ پادریانہ اختیار، مذہبی خوف، اعتراف گاہ کا راز، گناہ کا تصور، کلیسائی ڈسپلن اور روحانی ذمہ داری کا بوجھ بھی جڑا ہوا ہے۔ جب ایلیزا کہتی ہے کہ پادری کے فرائض اس کے لیے بہت زیادہ تھے، تو یہ صرف ایک شخص کی کمزوری کا بیان نہیں رہتا؛ یہ اس نظام پر بھی تبصرہ بن جاتا ہے جو انسان کو مقدس کردار دے کر اس کی انسانی شکست کو چھپا دیتا ہے۔ فادر فلن کا ٹوٹا ہوا مقدس پیالہ صرف ایک مذہبی شے نہیں؛ یہ اس تقدس کی دراڑ ہے جسے سماج چھپانا چاہتا ہے۔
یہیں جوائس کو ترقی پسند زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ وہ کسی جلسے کی تقریر نہیں لکھتا، مگر اس کی کہانی سماجی طاقت کے ان باریک طریقوں کو بے نقاب کرتی ہے جنہیں سیدھی سیاسی زبان کبھی کبھی پکڑ نہیں پاتی۔ وہ دکھاتا ہے کہ جبر صرف پولیس، عدالت یا ریاست میں نہیں ہوتا؛ جبر گھر کی میز پر بھی بیٹھا ہوتا ہے، آتش دان کے پاس پائپ پیتا ہے، بچوں کو “بچہ” کہہ کر خاموش کراتا ہے، مذہبی راز کو ناقابل سوال بناتا ہے، اور عورتوں کو خدمت، ماتم اور رسم کے دائرے میں قید رکھتا ہے۔ “سسٹرز” میں نینی اور ایلیزا صرف فادر فلن کی بہنیں نہیں؛ وہ اس گھریلو محنت، خاموش خدمت اور مذہبی اطاعت کی نمائندہ ہیں جس پر تقدس کی عمارت کھڑی رہتی ہے، مگر جس کا نام تاریخ میں کم آتا ہے۔
جوائس کو عام محنت کش قاری سے دور سمجھنا اس لیے بھی غلط ہے کہ اس کی دنیا بنیادی طور پر عام لوگوں کی دنیا ہے۔ “سسٹرز” میں کوئی بڑا ہیرو نہیں، کوئی اشرافی فلسفی نہیں، کوئی فاتح نہیں۔ یہاں چھوٹا لڑکا ہے، بوڑھا کوٹر ہے، خالہ ہے، چچا ہے، غریب عورتیں ہیں، ٹیلی گرام لانے والا لڑکا ہے، دو بوڑھی بہنیں ہیں، ایک چھوٹی دکان ہے، بند شٹر ہیں، ماتمی پھول ہیں، خالی آتش دان ہے۔ یہ سب وہی چیزیں ہیں جن سے عام زندگی بنتی ہے۔ جوائس کی گہرائی اسی میں ہے کہ وہ عام زندگی کو معمولی نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ تاریخ اکثر بڑے میدانوں میں نہیں، چھوٹے کمروں میں، ادھوری باتوں میں، بچوں کی یادوں میں اور عورتوں کی تھکن میں محفوظ ہوتی ہے۔
اس کہانی کی مشکل اس کی زبان میں نہیں، اس سماج میں ہے جسے وہ دکھاتی ہے۔ اگر قاری کو کچھ غیر واضح محسوس ہوتا ہے تو اس لیے نہیں کہ جوائس جان بوجھ کر دھند پھیلا رہا ہے؛ اس لیے کہ خود سماج دھند میں لپٹا ہوا ہے۔ فادر فلن کے بارے میں کوئی صاف بات نہیں کرتا۔ بوڑھا کوٹر اشاروں میں بات کرتا ہے۔ ایلیزا رک رک کر بولتی ہے۔ لڑکا خواب اور حقیقت کے درمیان بھٹکتا ہے۔ اعتراف گاہ کا منظر مکمل وضاحت نہیں دیتا۔ لیکن یہی تو حقیقی زندگی ہے: طاقتور اداروں کے اندر چھپے ہوئے زخم کبھی کھلی رپورٹ بن کر سامنے نہیں آتے؛ وہ افواہ، خاموشی، خوف، شرمندگی اور یاد کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اس اعتبار سے “سسٹرز” ایک عوامی کہانی ہے، مگر سطحی عوامی نہیں۔ یہ قاری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صرف واقعہ نہ دیکھے، فضا کو بھی پڑھے؛ صرف موت نہ دیکھے، اس موت کے گرد زندہ لوگوں کی مفلوجی کو بھی پہچانے؛ صرف پادری نہ دیکھے، اس سماجی نظام کو بھی دیکھے جو انسانوں کو تقدس، خوف اور خاموشی کے اندر بند کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جوائس ترقی پسند قاری کے لیے نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ آزادی صرف سیاسی نعرہ نہیں؛ آزادی یہ بھی ہے کہ بچہ خوف کے بغیر دیکھ سکے، سوال کر سکے، لفظ “فالج” کو پہچان سکے، اور اس نظام کی نشاندہی کر سکے جو زندہ انسانوں کو اندر ہی اندر مردہ بنا دیتا ہے۔
جوائس کا ادب محنت کش طبقے کے خلاف نہیں؛ وہ اس دنیا کے خلاف ہے جو عام انسان سے اس کی زبان، اس کا تجربہ، اس کا سوال اور اس کا شعور چھین لیتی ہے۔ “سسٹرز” کو پڑھتے ہوئے ہمیں جوائس کو اکیڈمی کے بند کمرے سے نکال کر دوبارہ گلی، گھر، دکان، چرچ، ماتمی کمرے اور اس بچے کے ذہن میں لے جانا چاہیے جہاں سے وہ اصل میں بولتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم مردہ فادر فلن کو نہیں، زندہ سماج کے فالج کو دیکھیں۔ اور یہی جوائس کی سب سے بڑی سیاسی، ادبی اور انسانی معنویت ہے۔
_____________________________________________________________________________________________________________________
بہنیں
—————-
ترجمہ : محمد عامر حسینی
اس بار اس کے لیے کوئی امید نہیں رہی تھی: یہ تیسرا حملہ تھا۔ رات کے بعد رات میں اس گھر کے پاس سے گزرا تھا، چھٹیوں کے دن تھے، اور کھڑکی کے روشن مربعے کو غور سے دیکھا تھا؛ اور رات کے بعد رات میں نے اسے اسی طرح روشن پایا تھا، مدھم اور یکساں۔ اگر وہ مر گیا ہوتا، میں سوچتا، تو مجھے تاریک پردے پر موم بتیوں کا عکس دکھائی دیتا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ میت کے سرہانے دو شمعیں ضرور رکھی جاتی ہیں۔ وہ اکثر مجھ سے کہا کرتا تھا: “میں اب اس دنیا میں زیادہ دیر کا مہمان نہیں”، اور میں نے اس کی باتوں کو یوں ہی سمجھا تھا۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سچ کہتا تھا۔ ہر رات جب میں کھڑکی کی طرف دیکھتا تو آہستہ سے اپنے آپ سے لفظ “فالج” کہتا۔ یہ لفظ ہمیشہ میرے کانوں میں عجیب سا بجتا تھا، جیسے اقلیدس میں لفظ “نومون” اور کیٹیکزم میں لفظ “سائمونی”۔ مگر اب یہ مجھے کسی بدباطن اور گناہ گار مخلوق کا نام معلوم ہوتا تھا۔ یہ مجھے خوف سے بھر دیتا تھا، اور پھر بھی میرے دل میں خواہش ہوتی تھی کہ میں اس کے قریب جاؤں اور اس کے مہلک عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔
جب میں رات کے کھانے کے لیے نیچے آیا تو بوڑھا کوٹر آتش دان کے پاس بیٹھا پائپ پی رہا تھا۔ میری خالہ میرے لیے دلیا نکال رہی تھیں کہ اس نے یوں کہا جیسے اپنی کسی پچھلی بات کی طرف لوٹ رہا ہو:
“نہیں، میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ بالکل۔۔۔ مگر اس میں کچھ عجیب تھا۔۔۔ کچھ ڈراؤنا سا تھا اس میں۔ میں تمہیں اپنی رائے بتاتا ہوں۔۔۔”
وہ اپنے پائپ کے کش لینے لگا، شاید اپنے ذہن میں اپنی رائے کو ترتیب دے رہا تھا۔ کتنا اکتا دینے والا بوڑھا احمق! جب ہم پہلے پہل اسے جاننے لگے تھے تو وہ کچھ دلچسپ معلوم ہوتا تھا، بے ہوشیوں اور کیڑوں مکوڑوں کی باتیں کیا کرتا تھا؛ مگر جلد ہی میں اس سے اور شراب کشید کرنے کے کارخانے کی اس کی نہ ختم ہونے والی کہانیوں سے بیزار ہو گیا۔
“اس بارے میں میری اپنی ایک تھیوری ہے،” اس نے کہا۔ “میرے خیال میں یہ اُن۔۔۔ خاص قسم کے معاملوں میں سے ایک تھا۔۔۔ مگر کہنا مشکل ہے۔۔۔”
اس نے ہمیں اپنی تھیوری بتائے بغیر دوبارہ پائپ کے کش لینے شروع کر دیے۔ میرے چچا نے مجھے گھورتے دیکھا تو مجھ سے کہا:
“اچھا، تو تمہارا بوڑھا دوست چل بسا، یہ سن کر تمہیں افسوس ہوگا۔”
“کون؟” میں نے کہا۔
“فادر فلِن۔”
“کیا وہ مر گیا؟”
“مسٹر کوٹر نے ابھی ابھی ہمیں بتایا ہے۔ وہ اس گھر کے پاس سے گزر رہے تھے۔”
میں جانتا تھا کہ مجھ پر نظر رکھی جا رہی ہے، اس لیے میں کھانا یوں کھاتا رہا جیسے اس خبر میں میری کوئی دلچسپی نہ ہو۔ میرے چچا نے بوڑھے کوٹر کو سمجھاتے ہوئے کہا:
“یہ لڑکا اور وہ بڑے دوست تھے۔ بوڑھے نے اسے بہت کچھ سکھایا، یاد رکھنا؛ اور کہتے ہیں کہ اسے اس لڑکے سے بڑی امیدیں تھیں۔”
“خدا اس کی روح پر رحم کرے،” میری خالہ نے پارسائی سے کہا۔
بوڑھے کوٹر نے کچھ دیر تک مجھے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس کی چھوٹی چھوٹی موتی جیسی سیاہ آنکھیں میرا جائزہ لے رہی ہیں، مگر میں نے پلیٹ سے نظریں اٹھا کر اسے تسکین نہیں دی۔ وہ پھر اپنے پائپ کی طرف متوجہ ہوا اور آخرکار بڑی بدتمیزی سے آتش دان کی جالی میں تھوک دیا۔
“میں اپنے بچوں کو،” اس نے کہا، “ایسے آدمی سے بہت زیادہ میل جول رکھنے نہ دیتا۔”
“آپ کا مطلب کیا ہے، مسٹر کوٹر؟” میری خالہ نے پوچھا۔
“میرا مطلب یہ ہے،” بوڑھے کوٹر نے کہا، “یہ بچوں کے لیے اچھا نہیں۔ میری رائے یہ ہے: کم عمر لڑکے کو اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ دوڑنے کھیلنے دو، نہ کہ اسے۔۔۔ کیا میں ٹھیک کہتا ہوں، جیک؟”
“میرا اصول بھی یہی ہے،” میرے چچا نے کہا۔ “اسے اپنے کونے کا دفاع کرنا سیکھنے دو۔ میں ہمیشہ اس روزی کروشن سے یہی کہتا ہوں: ورزش کیا کرو۔ بھئی، جب میں چھوٹا تھا تو اپنی زندگی کی ہر صبح، سردی ہو یا گرمی، ٹھنڈے پانی سے غسل کیا کرتا تھا۔ اور آج یہی چیز میرے کام آ رہی ہے۔ تعلیم اپنی جگہ بہت اچھی اور بڑی چیز ہے۔۔۔ مسٹر کوٹر اس بکرے کی ران کا ایک ٹکڑا لے سکتے ہیں،” انہوں نے میری خالہ سے اضافہ کیا۔
“نہیں، نہیں، میرے لیے نہیں،” بوڑھے کوٹر نے کہا۔
میری خالہ نے الماری سے ڈش نکالی اور میز پر رکھ دی۔
“مگر آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ یہ بچوں کے لیے اچھا نہیں، مسٹر کوٹر؟” انہوں نے پوچھا۔
“یہ بچوں کے لیے برا ہے،” بوڑھے کوٹر نے کہا، “کیونکہ ان کے ذہن بہت جلد اثر قبول کرتے ہیں۔ جب بچے ایسی چیزیں دیکھتے ہیں، آپ جانتی ہیں، تو اس کا اثر ہوتا ہے۔۔۔”
میں نے دلیے سے اپنا منہ بھر لیا، اس ڈر سے کہ کہیں میں اپنا غصہ زبان پر نہ لے آؤں۔ اکتا دینے والا سرخ ناک بوڑھا احمق!
مجھے نیند بہت دیر سے آئی۔ اگرچہ میں بوڑھے کوٹر پر اس بات کے لیے خفا تھا کہ اس نے مجھے بچہ سمجھ کر بات کی تھی، پھر بھی میں اس کے ادھورے جملوں کا مطلب نکالنے کے لیے اپنا دماغ کھپاتا رہا۔ اپنے کمرے کے اندھیرے میں مجھے یوں لگا جیسے میں نے دوبارہ فالج زدہ شخص کا بھاری، سرمئی چہرہ دیکھ لیا ہو۔ میں نے کمبل سر پر کھینچ لیا اور کرسمس کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی۔ مگر وہ سرمئی چہرہ پھر بھی میرا پیچھا کرتا رہا۔ وہ بڑبڑا رہا تھا، اور میں سمجھ گیا کہ وہ کسی چیز کا اعتراف کرنا چاہتا ہے۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میری روح کسی خوشگوار مگر گناہ آلود خطے میں پیچھے ہٹتی جا رہی ہو؛ اور وہاں بھی میں نے اسے اپنا منتظر پایا۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی آواز میں مجھ سے اعتراف کرنے لگا، اور مجھے حیرت ہوئی کہ وہ مسلسل مسکرا کیوں رہا ہے اور اس کے ہونٹ تھوک سے اتنے تر کیوں ہیں۔ پھر مجھے یاد آیا کہ وہ فالج سے مرا تھا، اور مجھے محسوس ہوا کہ میں بھی کمزوری سے مسکرا رہا ہوں، گویا اس سائمونی کے مرتکب شخص کو اس کے گناہ سے بری کر رہا ہوں۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد میں گریٹ برٹن اسٹریٹ کے اس چھوٹے سے گھر کو دیکھنے گیا۔ وہ ایک سادہ سی دکان تھی، جس کا اندراج ایک مبہم نام “کپڑے کی دکان” کے تحت تھا۔ اس کپڑے کی دکان میں زیادہ تر بچوں کے جوتے اور چھتریاں تھیں؛ اور عام دنوں میں کھڑکی میں ایک اشتہار لٹکا رہتا تھا جس پر لکھا ہوتا: “چھتریاں مرمت کی جاتی ہیں۔” اب کوئی اشتہار دکھائی نہیں دے رہا تھا کیونکہ تختے چڑھے ہوئے تھے۔ دروازے کے دستک گیر سے سیاہ ماتمی پھولوں کا گلدستہ ربن کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ دو غریب عورتیں اور ایک ٹیلی گرام لانے والا لڑکا اس کارڈ کو پڑھ رہے تھے جو سیاہ کپڑے پر ٹانکا گیا تھا۔ میں بھی قریب گیا اور پڑھا:
یکم جولائی، ۱۸۹۵ء
محترم فادر جیمز فلِن
سابقاً سینٹ کیتھرین چرچ، میتھ اسٹریٹ
عمر پینسٹھ سال
خدا انہیں ابدی آرام دے
کارڈ پڑھنے سے مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مر چکا ہے، اور مجھے اپنے آپ کو ایک عجیب ٹھہراؤ میں پا کر بے چینی ہوئی۔ اگر وہ نہ مرا ہوتا تو میں دکان کے پیچھے اس چھوٹے تاریک کمرے میں چلا جاتا اور اسے آتش دان کے پاس اپنی آرام کرسی میں بیٹھا پاتا، اپنے بھاری اوور کوٹ میں تقریباً ڈوبا ہوا۔ شاید میری خالہ اس کے لیے مجھے ہائی ٹوسٹ نسوار کا ایک پیکٹ دے دیتیں، اور یہ تحفہ اسے اس کی مدہوش سی اونگھ سے جگا دیتا۔ ہمیشہ میں ہی اس پیکٹ کو اس کے کالے نسوار دان میں خالی کیا کرتا تھا، کیونکہ اس کے ہاتھ اس قدر کانپتے تھے کہ اگر وہ خود یہ کام کرتا تو آدھی نسوار فرش پر گرا دیتا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنا بڑا کانپتا ہوا ہاتھ ناک تک لے جاتا، تو دھوئیں کی چھوٹی چھوٹی بدلیاں اس کی انگلیوں کے بیچ سے بہتی ہوئی اس کے کوٹ کے اگلے حصے پر پھیل جاتیں۔ شاید نسوار کی یہی مسلسل بارشیں تھیں جنہوں نے اس کے قدیم پادریانہ لباس کو سبز مائل، پھیکا سا رنگ دے دیا تھا؛ کیونکہ سرخ رومال، جو ہمیشہ ہفتہ بھر کے نسوار کے دھبوں سے سیاہ پڑا رہتا تھا اور جس سے وہ گرے ہوئے ذرے جھاڑنے کی کوشش کرتا تھا، بالکل بے اثر تھا۔
میرا دل چاہتا تھا کہ اندر جا کر اسے دیکھوں، مگر دروازہ کھٹکھٹانے کی ہمت نہ ہوئی۔ میں گلی کے دھوپ والے رخ پر آہستہ آہستہ چلتا چلا گیا اور چلتے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں میں لگے تمام تھیٹر کے اشتہار پڑھتا رہا۔ مجھے یہ عجیب لگا کہ نہ میں اور نہ دن، دونوں میں سے کوئی بھی ماتمی کیفیت میں نہیں تھا، بلکہ مجھے تو اپنے اندر آزادی کا ایک احساس پا کر جھنجھلاہٹ ہوئی، جیسے اس کی موت نے مجھے کسی چیز سے آزاد کر دیا ہو۔ مجھے اس پر حیرت ہوئی، کیونکہ جیسا کہ میرے چچا نے گزشتہ رات کہا تھا، اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا تھا۔ اس نے روم کے آئرش کالج میں تعلیم پائی تھی اور مجھے لاطینی زبان کا درست تلفظ سکھایا تھا۔ اس نے مجھے زیر زمین مسیحی قبرستانوں اور نپولین بوناپارٹ کی کہانیاں سنائی تھیں، اور مجھے ماس کی مختلف رسومات اور پادری کے مختلف لباسوں کے معنی سمجھائے تھے۔ کبھی کبھی وہ مشکل سوالات پوچھ کر اپنا دل بہلاتا، مثلاً کسی خاص صورت حال میں آدمی کو کیا کرنا چاہیے، یا فلاں فلاں گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ، یا محض خامی۔ اس کے سوالات سے مجھے اندازہ ہوتا کہ کلیسا کے بعض ادارے کتنے پیچیدہ اور پراسرار ہیں، جنہیں میں ہمیشہ نہایت سادہ اعمال سمجھتا رہا تھا۔ عشاء ربانی اور اعترافِ گناہ کے راز کی حفاظت کے سلسلے میں پادری کے فرائض مجھے اتنے سنگین معلوم ہوتے کہ میں حیران رہ جاتا کہ کسی آدمی نے کبھی اپنے اندر انہیں قبول کرنے کی جرأت کیسے پائی ہوگی؛ اور مجھے کوئی تعجب نہ ہوا جب اس نے مجھے بتایا کہ کلیسا کے بزرگوں نے ان نازک سوالات کی وضاحت میں ایسی کتابیں لکھی ہیں جو پوسٹ آفس ڈائریکٹری جتنی موٹی اور اخبار میں شائع ہونے والے قانونی نوٹسوں کی طرح باریک حروف میں چھپی ہوئی ہیں۔ اکثر جب میں یہ سوچتا تو کوئی جواب نہ دے پاتا، یا صرف ایک نہایت احمقانہ اور اٹکتا ہوا جواب دیتا، جس پر وہ مسکرا کر دو تین بار سر ہلا دیتا۔ کبھی کبھی وہ مجھے ماس کے وہ جوابی فقرے دہرانے کو کہتا جو اس نے مجھے ازبر کرائے تھے؛ اور جب میں انہیں تیزی سے پڑھتا تو وہ سوچ بھری مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتا رہتا، اور وقفے وقفے سے نسوار کی بڑی بڑی چٹکیاں باری باری دونوں نتھنوں میں ٹھونستا جاتا۔ جب وہ مسکراتا تو اس کے بڑے بد رنگ دانت کھل جاتے اور اس کی زبان نچلے ہونٹ پر آ پڑتی؛ ہماری واقفیت کے آغاز میں، جب میں اسے اچھی طرح نہیں جانتا تھا، اس عادت نے مجھے بے چین کیا تھا۔
دھوپ میں چلتے ہوئے مجھے بوڑھے کوٹر کی باتیں یاد آئیں اور میں نے خواب میں اس کے بعد پیش آنے والی بات کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے لمبے مخملی پردے اور پرانے انداز کا ایک جھولتا ہوا چراغ دیکھا تھا۔ مجھے محسوس ہوا تھا کہ میں بہت دور، کسی ایسے ملک میں ہوں جہاں کے رواج اجنبی ہیں، شاید فارس میں۔۔۔ مگر مجھے خواب کا انجام یاد نہ آ سکا۔
شام کو میری خالہ مجھے اپنے ساتھ ماتم والے گھر لے گئیں۔ سورج ڈوب چکا تھا؛ مگر مغرب کی طرف رخ کیے گھروں کی کھڑکیوں کے شیشوں میں بادلوں کے ایک بڑے ڈھیر کا مٹیالا سنہرا رنگ جھلک رہا تھا۔ نینی نے ہمیں دالان میں لیا؛ اور چونکہ اس پر چلا کر بات کرنا بے ادبی ہوتی، میری خالہ نے ہم سب کی طرف سے اس سے ہاتھ ملا لیا۔ بوڑھی عورت نے سوالیہ انداز میں اوپر کی طرف اشارہ کیا، اور جب میری خالہ نے سر ہلایا تو وہ ہمارے آگے آگے تنگ سیڑھیاں چڑھنے لگی؛ اس کا جھکا ہوا سر بمشکل زینے کی ریلنگ کی سطح سے اوپر تھا۔ پہلی منزل کے پاگرد پر وہ رکی اور مردے والے کمرے کے کھلے دروازے کی طرف حوصلہ دلاتے ہوئے ہمیں آگے بلانے لگی۔ میری خالہ اندر چلی گئیں، اور بوڑھی عورت نے دیکھا کہ میں اندر جانے میں جھجک رہا ہوں تو وہ ہاتھ سے بار بار مجھے بھی بلانے لگی۔
میں پنجوں کے بل اندر گیا۔ پردے کے لیس دار کنارے سے چھن کر آتی ہوئی مدھم سنہری روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، جس میں شمعیں پیلی، پتلی لوؤں کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔ اسے تابوت میں رکھ دیا گیا تھا۔ نینی نے پہل کی اور ہم تینوں پلنگ کے پائنتی کی طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ میں نے دعا کرنے کا بہانہ کیا، مگر اپنے خیالات یکجا نہ کر سکا کیونکہ بوڑھی عورت کی بڑبڑاہٹ مجھے منتشر کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس کے اسکرٹ کے پچھلے کانٹے کتنے بھدے طریقے سے لگے ہوئے تھے اور اس کے کپڑے کے جوتوں کی ایڑیاں کس طرح ایک طرف کو پچک گئی تھیں۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ بوڑھا پادری اپنے تابوت میں پڑا مسکرا رہا ہے۔
مگر نہیں۔ جب ہم اٹھے اور پلنگ کے سرہانے کی طرف گئے تو میں نے دیکھا کہ وہ مسکرا نہیں رہا تھا۔ وہ وہاں لیٹا تھا، سنجیدہ اور بھاری بھرکم، اس طرح ملبوس جیسے قربان گاہ پر خدمت کے لیے ہو، اس کے بڑے ہاتھ ڈھیلے سے ایک مقدس پیالہ تھامے ہوئے تھے۔ اس کا چہرہ بہت سخت، سرمئی اور بھاری تھا، سیاہ غار نما نتھنوں کے ساتھ، اور اس کے گرد سفید بالوں کی ایک کم یاب سی جھالر تھی۔ کمرے میں ایک بھاری سی بو تھی — پھولوں کی بو۔
ہم نے صلیب کا نشان بنایا اور باہر آ گئے۔ نیچے چھوٹے کمرے میں ہم نے ایلیزا کو اس کی آرام کرسی پر باقاعدہ شان سے بیٹھے پایا۔ میں ٹٹولتا ہوا کونے میں اپنی معمول کی کرسی کی طرف گیا، جبکہ نینی الماری کی طرف گئی اور شیری کی ایک صراحی اور چند شراب کے گلاس نکال لائی۔ اس نے انہیں میز پر رکھا اور ہمیں تھوڑا سا شراب پینے کی دعوت دی۔ پھر اپنی بہن کے کہنے پر اس نے گلاسوں میں شیری انڈیلی اور ہمیں پیش کی۔ اس نے مجھ پر بھی زور دیا کہ میں کچھ کریم کریکر لے لوں، مگر میں نے انکار کر دیا، کیونکہ مجھے خیال تھا کہ انہیں کھاتے ہوئے بہت آواز ہوگی۔ میرے انکار پر وہ کچھ مایوس سی دکھائی دی اور چپ چاپ صوفے کی طرف جا کر اپنی بہن کے پیچھے بیٹھ گئی۔ کوئی نہیں بولا: ہم سب خالی آتش دان کو دیکھتے رہے۔
میری خالہ نے اس وقت تک انتظار کیا جب تک ایلیزا نے آہ نہ بھری، پھر کہا:
“آہ، خیر، وہ ایک بہتر دنیا میں چلا گیا۔”
ایلیزا نے پھر آہ بھری اور اثبات میں سر جھکا دیا۔ میری خالہ نے تھوڑا سا پینے سے پہلے اپنے گلاس کی ڈنڈی کو انگلیوں سے چھوا۔
“کیا وہ۔۔۔ سکون سے؟” انہوں نے پوچھا۔
“اوہ، بالکل سکون سے، میڈم،” ایلیزا نے کہا۔ “آپ بتا ہی نہیں سکتیں کہ سانس کب اس کے جسم سے نکلی۔ خدا کا شکر ہے، اسے بڑی خوب صورت موت نصیب ہوئی۔”
“اور سب کچھ۔۔۔؟”
“فادر اورورک منگل کو اس کے پاس آئے تھے، اسے تیل ملا، اسے تیار کیا، سب کچھ۔”
“اسے علم تھا پھر؟”
“وہ بالکل راضی برضا تھا۔”
“وہ دکھائی بھی بالکل راضی برضا دیتا ہے،” میری خالہ نے کہا۔
“جس عورت کو ہم نے اسے غسل دینے کے لیے بلایا تھا، اس نے بھی یہی کہا۔ اس نے کہا کہ وہ بالکل ایسا لگتا ہے جیسے سو رہا ہو، اتنا پُرسکون اور راضی برضا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی لاش اتنی خوب صورت بنے گی۔”
“ہاں، واقعی،” میری خالہ نے کہا۔
انہوں نے اپنے گلاس سے تھوڑا سا اور پیا اور کہا:
“خیر، مس فلِن، بہرحال آپ کے لیے یہ بڑی تسلی کی بات ہونی چاہیے کہ آپ نے اس کے لیے جو کچھ ہو سکتا تھا کیا۔ میں ضرور کہوں گی کہ آپ دونوں اس پر بہت مہربان رہیں۔”
ایلیزا نے اپنے گھٹنوں پر اپنا لباس ہموار کیا۔
“آہ، بے چارا جیمز!” اس نے کہا۔ “خدا جانتا ہے، ہم نے جو کچھ کر سکتے تھے کیا، اپنی غربت کے باوجود۔۔۔ جب تک وہ اس حال میں تھا ہم اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے تھے۔”
نینی نے اپنا سر صوفے کے تکیے سے ٹکا دیا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ ابھی سو جائے گی۔
“یہ بے چاری نینی،” ایلیزا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا، “بالکل تھک کر چور ہو گئی ہے۔ کتنا کام تھا ہمارے سر پر، اس کے اور میرے؛ پہلے عورت کو بلانا کہ اسے غسل دے، پھر اسے کفن پہنانا، پھر تابوت، پھر چیپل میں ماس کا بندوبست۔ اگر فادر اورورک نہ ہوتے تو مجھے نہیں معلوم ہم کیا کرتے۔ وہی ہمارے لیے یہ سارے پھول اور چیپل سے دو شمع دان لائے، اور فری مینز جنرل کے لیے اطلاع لکھی، اور قبرستان کے کاغذات اور بے چارے جیمز کی بیمہ پالیسی سب اپنے ذمے لیے۔”
“یہ ان کی کتنی نیکی تھی، ہے نا؟” میری خالہ نے کہا۔
ایلیزا نے آنکھیں بند کیں اور آہستہ آہستہ سر ہلایا۔
“آہ، پرانے دوستوں جیسے دوست کوئی نہیں ہوتے،” اس نے کہا، “آخرکار یہی بات ثابت ہوتی ہے؛ ایسے دوست کوئی نہیں جن پر آدمی بھروسا کر سکے۔”
“واقعی، یہ سچ ہے،” میری خالہ نے کہا۔ “اور مجھے یقین ہے کہ اب جب وہ اپنے ابدی اجر کو پہنچ گیا ہے تو وہ آپ کو اور آپ کی ساری مہربانیوں کو نہیں بھولے گا۔”
“آہ، بے چارا جیمز!” ایلیزا نے کہا۔ “وہ ہمارے لیے کوئی بڑی مصیبت نہیں تھا۔ گھر میں اس کی آواز اب سے زیادہ بھی کبھی سنائی نہیں دیتی تھی۔ پھر بھی، میں جانتی ہوں، وہ چلا گیا ہے، اور یہ سب کچھ۔۔۔”
“جب سب کچھ ختم ہو جائے گا، تب آپ کو اس کی کمی محسوس ہوگی،” میری خالہ نے کہا۔
“میں جانتی ہوں،” ایلیزا نے کہا۔ “اب میں اسے بیف ٹی کا پیالہ لا کر نہیں دوں گی، اور نہ آپ، میڈم، اسے نسوار بھیجیں گی۔ آہ، بے چارا جیمز!”
وہ رک گئی، جیسے ماضی سے ہم کلام ہو رہی ہو، پھر قدرے چالاکی سے بولی:
“دیکھیے، میں نے محسوس کیا تھا کہ آخری دنوں میں اس پر کچھ عجیب سا طاری ہو رہا تھا۔ جب بھی میں وہاں اسے سوپ دینے جاتی، اسے یوں پاتی کہ اس کی دعائیہ کتاب فرش پر گری ہوئی ہے، وہ کرسی میں پیچھے کو ڈھلکا ہوا ہے اور منہ کھلا ہوا ہے۔”
اس نے اپنی انگلی ناک کے ساتھ لگائی اور پیشانی پر بل ڈالے؛ پھر آگے بولی:
“مگر پھر بھی وہ یہی کہتا رہتا تھا کہ گرمی ختم ہونے سے پہلے کسی اچھے دن وہ سیر کو نکلے گا، بس ایک بار وہ پرانا گھر دیکھنے کے لیے جہاں ہم سب آئرس ٹاؤن میں پیدا ہوئے تھے، اور مجھے اور نینی کو بھی ساتھ لے جائے گا۔ اگر ہمیں ان نئی طرز کی گاڑیوں میں سے کوئی ایک پورے دن کے لیے سستی مل جائے، جو شور نہیں کرتیں، جن کے بارے میں فادر اورورک نے اسے بتایا تھا، وہی جن کے ریمیٹک پہیے ہوتے ہیں؛ وہ کہتا تھا، سامنے جانی رش کے ہاں سے مل جائے تو ہم تینوں اتوار کی شام اکٹھے باہر گھوم آئیں۔ اس کا دل اسی پر اٹکا ہوا تھا۔۔۔ بے چارا جیمز!”
“خدا اس کی روح پر رحم کرے!” میری خالہ نے کہا۔
ایلیزا نے اپنا رومال نکالا اور اس سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر اسے دوبارہ جیب میں رکھ لیا اور کچھ دیر تک خالی آتش دان میں دیکھتی رہی، بغیر کچھ کہے۔
“وہ ہمیشہ حد سے زیادہ وسواسی تھا،” اس نے کہا۔ “پادری کے فرائض اس کے لیے بہت بھاری تھے۔ اور پھر اس کی زندگی، یوں کہیے، الٹ گئی تھی۔”
“ہاں،” میری خالہ نے کہا۔ “وہ ایک محروم آدمی تھا۔ یہ بات اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔”
چھوٹے کمرے پر خاموشی چھا گئی، اور اس کی آڑ میں میں میز کے پاس گیا، اپنی شیری چکھی، اور پھر چپکے سے کونے میں اپنی کرسی پر واپس آ گیا۔ ایلیزا معلوم ہوتی تھی کہ گہری سوچ میں ڈوب گئی ہے۔ ہم احتراماً انتظار کرتے رہے کہ وہ خاموشی توڑے؛ اور ایک لمبے وقفے کے بعد اس نے آہستہ سے کہا:
“وہی مقدس پیالہ تھا جو اس نے توڑا تھا۔۔۔ اسی سے آغاز ہوا۔ خیر، کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں تھی، میرا مطلب ہے کہ اس میں کچھ تھا نہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔ کہتے ہیں یہ لڑکے کی غلطی تھی۔ مگر بے چارا جیمز اتنا نروس تھا، خدا اس پر رحم کرے!”
“کیا بس یہی بات تھی؟” میری خالہ نے کہا۔ “میں نے کچھ سنا تھا۔۔۔”
ایلیزا نے سر ہلایا۔
“اس نے اس کے دماغ پر اثر ڈالا،” اس نے کہا۔ “اس کے بعد وہ اکیلا اکیلا رہنے لگا، کسی سے بات نہ کرتا، اکیلا گھومتا پھرتا۔ پھر ایک رات اسے کسی بیمار کے پاس جانے کے لیے بلایا گیا، مگر وہ کہیں ملا ہی نہیں۔ انہوں نے اوپر نیچے ہر جگہ ڈھونڈا؛ پھر بھی اس کا کہیں نام و نشان نہ ملا۔ تب کلرک نے کہا کہ چیپل میں دیکھو۔ چنانچہ چابیاں لائی گئیں، چیپل کھولا گیا، اور کلرک، فادر اورورک اور وہاں موجود ایک اور پادری روشنی لے کر اسے ڈھونڈنے اندر گئے۔۔۔ اور آپ کیا سمجھتی ہیں، وہ کہاں تھا؟ وہیں تھا، اندھیرے میں اپنی اعتراف گاہ میں اکیلا بیٹھا، پوری طرح جاگتا ہوا، اور اپنے آپ سے ہلکے ہلکے ہنس رہا تھا۔”
وہ اچانک رک گئی، جیسے سننے لگی ہو۔ میں نے بھی سنا؛ مگر گھر میں کوئی آواز نہ تھی: اور میں جانتا تھا کہ بوڑھا پادری اپنے تابوت میں اسی طرح ساکت پڑا ہے جیسے ہم نے اسے دیکھا تھا، موت میں سنجیدہ اور سخت، سینے پر بے کار رکھا ہوا مقدس پیالہ۔
ایلیزا نے پھر کہا:
“پوری طرح جاگتا ہوا اور اپنے آپ سے ہلکے ہلکے ہنستا ہوا۔۔۔ پھر، ظاہر ہے، جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہیں خیال ہوا کہ اس کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔۔۔”