ہمیں بچپن سے ہی ‘اوپر’ والوں سے ایک خاص قسم کا خوف رہا ہے۔ بچپن میں اوپر والے سے مراد وہ خدا ہوتا تھا جو نیکی بدی کا حساب رکھتا تھا، مگر جب سے ہوش سنبھالا اور پاکستان کی سیاست کے ‘بالائی طبقے’ سے شناسائی ہوئی، تو پتہ چلا کہ یہاں ‘اوپر والے’ کا مطلب کچھ اور ہی ہے۔ یہاں اوپر والے فرشتے نہیں ہوتے، بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی گردنیں اکڑی ہوئی اور حکم لوہے کی لکیر ہوتے ہیں۔

آج کل گلگت بلتستان سے ایک خبر آئی ہے جو دل دہلا دینے کے لیے کافی تھی، مگر ہم چونکہ پاکستانی ہیں اور ہمارے دل اب دہلنے کے بجائے صرف ‘بیٹھ’ جاتے ہیں، اس لیے ہمیں زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ خبر یہ ہے کہ 69 سالہ بزرگ سیاستدان احسان علی ایڈوکیٹ جیل میں اپنی زندگی کی آخری اننگز کھیل رہے ہیں، ان کی حالت تشویشناک ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ انہیں ہسپتال لے جایا جائے، مگر پولیس کہتی ہے کہ ‘اوپر سے حکم ہے کہ رہنے دو۔۔۔ اسے مرنے دو’۔
سبحان اللہ! اسے کہتے ہیں ‘حسنِ بیانی’۔ ہمارے ملک میں موت اب کوئی حادثہ نہیں رہی، بلکہ ایک باقاعدہ ‘آرڈر’ بن چکی ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر گلگت پولیس کے بیان سے لگتا ہے کہ اب ملک الموت نے بھی اپنا دفتر ‘اوپر والوں’ کے دفتر میں شفٹ کر لیا ہے۔ اب کسی کی جان تبھی جائے گی جب اوپر سے این او سی جاری ہوگا۔
انہتر سال کی عمر ویسے بھی ہمارے ملک میں ریٹائرمنٹ کی ہوتی ہے، مگر کچھ لوگ اتنے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ اس عمر میں بھی ‘عوامی ایکشن’ کرتے پھرتے ہیں۔ اب احسان علی صاحب کو کون سمجھائے کہ میاں، اس عمر میں تو انسان کو تسبیح پکڑ کر ‘اوپر والے’ (اصلی والے) کو یاد کرنا چاہیے، مگر آپ ‘نیچے والوں’ کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ جب آپ نیچے والوں کی بات کریں گے، تو اوپر والے تو ناراض ہوں گے ہی۔
مگر مانیے، احسان علی کی ‘ڈھیٹ پن’ بھی کمال کی ہے۔ جہاں بڑے بڑے قدآور سیاست دان، جنہیں ہم جمہوریت کا ‘چیمپئن’ سمجھتے تھے، آج کل ‘اوپر والوں’ کے دربار میں سر جھکائے، ‘بیعت’ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، وہیں یہ بوڑھا ‘سر داد نہ داد درست یزید’ کا نعرہہ مستانہ لگا کر میدان میں جما کھڑا ہے۔ انہیں دیکھ کر تو ہمیں اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے کہ ہم تو ایک چھوٹے سے ‘نیچے والے’ ہیں، اور وہ اتنے ‘اوپر والوں’ کے سامنے بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ عدالت کہتی ہے ‘ہسپتال لے جاؤ’ اور پولیس کہتی ہے ‘اوپر سے حکم ہے کہ مرنے دو’۔ یعنی اب عدالت کا حکم بھی ‘نیچے کا حکم’ ہو گیا ہے اور پولیس کی نظر میں ‘اوپر کا حکم’ آئین و قانون سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے۔ ہماری تو عقل حیران ہے کہ یہ ‘اوپر’ آخر ہے کتنا اوپر؟ کیا یہ اتنا اوپر ہے جہاں آکسیجن ختم ہو جاتی ہے اور صرف ‘حکم نامے’ باقی رہ جاتے ہیں؟
پولیس کا یہ جملہ کہ ‘اسے مرنے دو’، دراصل ایک فلسفیانہ بیان ہے۔ یہ صرف احسان علی ایڈوکیٹ کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ اس ملک کے ہر اس شہری کے لیے ہے جو جمہوریت، انصاف اور انسانی وقار کی بات کرتا ہے۔ جب بھی کوئی غریب روٹی مانگتا ہے، کوئی لاپتہ فرد کا باپ انصاف مانگتا ہے، یا کوئی وکیل قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے، تو فضاؤں میں یہی بازگشت سنائی دیتی ہے: ‘رہنے دو، اسے مرنے دو’۔
حیرت تو اس ریاست پر بھی ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرانے کے دعوے کرتی تھکتی نہیں، اور گلف کے ان بادشاہوں کو، جو ایرانی شاہد ڈرون سے ڈرے، سہمے ہوئے ہیں، ان کی بادشاہی کا تحفظ کرنے کا یقین دلاتی ہے۔ مگر ایک 69 سالہ بوڑھے وکیل سے اتنی خوفزدہ ہے کہ اسے ہسپتال لے جانے کا حکم بھی ‘اوپر سے حکم’ کے سامنے ہیچ ہے۔ یہ بوڑھا آخر ہے کیا؟ کیا اس کے پاس کوئی جادوئی چھڑی ہے یا کوئی خفیہ ہتھیار؟ نہیں، میاں، اس کے پاس صرف ‘حق’ کی آواز ہے، جو ‘اوپر والوں’ کے کانوں میں گونجتی ہے تو انہیں ڈرا دیتی ہے۔
خیر، احسان علی صاحب! آپ کو مبارک ہو کہ آپ کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے اب ‘عام انسان’ نہیں رہے بلکہ ‘فوق الفطرت’ ہستیاں بن چکے ہیں۔ ہمیں بس اتنا بتا دیجیے کہ جب آپ ہسپتال نہیں جائیں گے اور بالفرض (خدا نہ کرے) اوپر چلے گئے، تو وہاں جا کر کس ‘اوپر والے’ کو رپورٹ کریں گے؟ کیونکہ وہاں تو حساب کتاب کا نظام ذرا مختلف ہے۔ وہاں ‘وردی’ چلتی ہے نہ ‘ویسٹ کوٹ’۔ وہاں صرف ‘وکیل’ نہیں، بلکہ ‘عمل’ دیکھا جاتا ہے۔
اور ہاں! جاتے جاتے یہ ضرور بتا دیجیے گا کہ یہ ‘اوپر والے’ زمین پر اتنے طاقتور کیوں ہو جاتے ہیں کہ انہیں انسانوں کے مرنے کی آواز بھی موسیقی کی طرح سنائی دیتی ہے؟