آج کا کالم شروع کرنے سے پہلے ہم ایک بات “گوش گزار” کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ہماری گوش گزاریوں کو اب کوئی گوشِ ہوش سے سنتا نہیں ہے۔ ذکر ہے پروفیسر ناصر عباس نیر صاحب کا۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں محض “اردو ادب” کے دائرے میں قید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی سمندر کو لوٹے میں بند کرنے کی “اختزالی” کوشش کرنا، جسے انگریزی داں طبقہ بڑے فخر سے
Reductionist Tendency
کہتا ہے (ہمیں تو یہ لفظ بولتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں دانت نہ ٹوٹ جائے)۔

پروفیسر صاحب تو وہ دیدہ ور ہیں جو دنیا بھر کے ادب کی نبض تھامے بیٹھے ہیں۔ ان کے قلم سے نکلنے والے رشحات نے اردو تنقید کے دامن کو اتنی وسعت دے دی ہے کہ اب بیچارہ دامن خود کو سنبھالنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ انہوں نے خشک تنقید میں وہ “تخلیقی” نمک پیدا کیا ہے کہ اب تنقید پڑھ کر بھی وہی مزہ آتا ہے جو کبھی فکشن پڑھ کر آتا تھا۔ ہم ان کے تبحرِ علمی کے قائل بھی ہیں اور اتنے بڑے مداح بھی کہ ان کی تحریر سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ہم سر دھننا نہیں بھولتے۔
لہٰذا، ذیل میں لکھے گئے کالم کو محض طنز و مزاح کے ترازو میں تولیے گا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ہمیں ناصر صاحب کا “گستاخ” سمجھ لیں، کیونکہ ہم تو صرف اس “ڈیجیٹل ذات” پر ہنس رہے ہیں جس کی جراحی خود پروفیسر صاحب نے فرمائی ہے۔
ناصر عباس نیر صاحب نے سوشل میڈیا کے بارے میں جو “انکشافات” فرمائے ہیں، انہیں پڑھ کر تو جی چاہتا ہے کہ بندہ اپنا سمارٹ فون کسی چلتی نہر میں پھینک دے اور خود کسی ہمالیہ کی غار میں جا کر ہائیڈگر کی کتابیں چبانا شروع کر دے۔ ناصر صاحب فرماتے ہیں کہ سوشل میڈیا صارف “اضطراب” کا شکار ہے، حالانکہ ہم تو اسے “توجہ کی بھوک” سمجھتے تھے، مگر اب معلوم ہوا کہ یہ تو باقاعدہ ایک “وجودی بحران” ہے۔
ناصر صاحب کو دکھ ہے کہ صارف “لکھتا نہیں، گھسیٹتا ہے”۔ حضور! آج کے دور میں لکھنا تو ویسے ہی ‘جرم’ ٹھہرا ہے (جیسا کہ پچھلے دنوں مظہر عباس صاحب کے کالم کی سرخی نے ثابت کیا)، تو بیچارہ صارف اگر ‘گھسیٹ’ کر اپنا وجود ثابت کر رہا ہے تو اس میں برا کیا ہے؟ اب ہر کوئی ناصر عباس نیر تو نہیں ہو سکتا کہ لغت سامنے رکھ کر جملے کی جراحی کرے۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ اگر بندہ دو دن فیس بک پر اپنی کسی “نہاری” یا “پائے” کی تصویر اپ لوڈ نہ کرے، تو دوست احباب قل خوانی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ سکرین سے معدومی کا خوف تو ایسا ہے کہ اب لوگ مرنے سے پہلے وصیت میں اپنا “پاس ورڈ” لکھوانا نہیں بھولتے تاکہ کوئی ان کی “ڈیجیٹل روح” کو ایصالِ ثواب پہنچاتا رہے۔
فرماتے ہیں کہ “ڈیجیٹل ذات” نے “سماجی ذات” پر تہہ چڑھا دی ہے۔ صاحب! سماجی ذات تو وہ تھی جو محلے کی شادیوں میں لفافہ دے کر ‘قورمہ’ اڑاتی تھی، اب ڈیجیٹل ذات وہ ہے جو قورمے کی تصویر لگا کر ‘لائیکس’ بٹورتی ہے۔ پہلے ہم دوسروں کی خوشی میں شریک ہوتے تھے، اب ہم دوسروں کی ‘ٹائم لائن’ میں مداخلت کرتے ہیں۔ ناصر صاحب کو گلہ ہے کہ ہم “بہ صد مسرت” اپنی آزادی سے محروم ہو رہے ہیں۔ تو جناب! اس سے بہتر موت اور کیا ہو گی کہ بندہ سکرولنگ کرتے کرتے فوت ہو جائے اور فرشتے آ کر پوچھیں “من ربک؟” اور وہ جواب میں اپنی “ڈیجیٹل پروفائل” دکھا دے؟
انہیں یہ بھی دکھ ہے کہ ہم “بہ صد مسرت” آزادی سے محروم ہو رہے ہیں۔ جناب! ایسی خوشگوار غلامی نصیب والوں کو ملتی ہے—جہاں آدمی خود اپنی زنجیر کو چمکا کر پوسٹ کرتا ہے:
“Feeling blessed ✨”
اور یہ جو “ذہنی آزادی” کے سودے کی بات ہے، اس پر ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ آج کل ذہن سے زیادہ ڈیٹا پیکج قیمتی ہے۔ ذہن ختم ہو جائے تو بھی گزارہ ہے، ڈیٹا ختم ہو جائے تو قیامت آ جاتی ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمیں کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر بندہ جبر کی قید میں خوش ہے، تو اس میں بے چارے ‘جبر’ کا کیا قصور؟ تاریخ گواہ ہے کہ کسی قید خانے میں آج تک ‘بریانی’ نہیں ملی، مگر یہ ڈیجیٹل جیل خانہ تو کمال ہے کہ یہاں کم از کم ‘وائی فائی’ تو مفت مل رہا ہے۔
فاؤسٹ
(Faust)
نے تو اپنی روح گروی رکھی تھی، ہم نے ذرا ‘سوشل میڈیا’ والی سہولت کاری سے کام لیا۔ ہم نے سوچا کہ روح تو ویسے بھی ہمارے ہاں کم ہی استعمال ہوتی ہے، کیوں نہ سیدھا ‘ذہن’ ہی ڈیٹا پیکج کے ساتھ نتھی کر دیا جائے؟ سودا بھی بڑا کھرا رہا، ہم نے بغیر پڑھے
‘Agree’
کے بٹن پر انگوٹھا ٹھونک دیا، جیسے نکاح نامے پر دستخط کر رہے ہوں۔
پہلے ہماری ایک بھلی مانس ‘سماجی ذات’ ہوا کرتی تھی، جو محلے میں پہچانی جاتی تھی اور کبھی کبھار غلطی سے ‘عزت’ بھی پا لیتی تھی۔ اب اس پر ‘ڈیجیٹل ذات’ کا ایسا روغن چڑھ گیا ہے کہ اصل بندہ کہیں نیچے دب کر ‘نوٹیفکیشن’ کا انتظار کر رہا ہے۔ اب ہم وہ نہیں رہے جو ہم ‘ہیں’، بلکہ وہ ہو گئے ہیں جو ہم ‘اپ لوڈ’ کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ سکون کی بات یہ ہے کہ ہمیں اس زنجیر سے کوئی تکلیف نہیں، بلکہ ایک عجیب سی طمانیت ہے۔ ہم تو اس قیدی کی طرح ہیں جو بیڑیاں پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا ہو اور اپنی ہی تصویر کھینچ کر کہے:
“واہ! کیا فٹنگ ہے!”
سچ تو یہ ہے کہ ناصر صاحب کی اس گہری فلسفیانہ گفتگو کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھی اپنی “ڈیجیٹل ذات” کو خیرباد کہہ دیں گے، مگر پہلے اس ارادے کو فیس بک پر شیئر کر دیں تاکہ چند لائیکس تو مل جائیں۔ آخرکار “معدومی کا خوف” کوئی ہنسی کھیل تو نہیں ہے!
