مترجم کا نوٹ: ادب کی کائنات میں ایک خاموش انقلاب: ورجینیا وولف
یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس مقدس خاموشی کا نوحہ ہے جو صدیوں تک آدھی انسانیت کے ہونٹوں پر تالے لگائے رہی۔ ورجینیا وولف (1882-1941) محض بیسویں صدی کی ایک مایہ ناز انگریز ناول نگار اور نقاد نہیں تھی، بلکہ وہ اس ‘تخلیقی قید خانے’ کی پہلی باغی قیدی تھی جس نے دیواروں میں دراڑیں ڈال کر آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا رستہ بنایا۔ اس کی تحریریں، خاص طور پر ” ایک خاص اپنا کمرہ “
‘A Room of One’s Own’
حقوقِ نسواں کے مروجہ نعروں سے کہیں بلند، ایک ایسا فلسفیانہ منشور ہے جو صنف سے بالاتر ہو کر ‘خالص تخلیقی روح’ کی تلاش کرتا ہے۔ایک چونکا دینے والا سچ یہ تھا کہ یہ شیکسپیئر کی وہ بہن تھی جو کبھی پیدا ہی نہ ہوئی
وولف نے جب ‘شیکسپیئر کی بہن‘ کا استعارہ تخلیق کیا، تو اس نے تاریخ کے سینے میں ایک خنجر گھونپ دیا۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کے قبرستان میں ایسی لاکھوں ‘شیکسپیئر کی بہنیں’ دفن ہیں جن کے پاس ذہن تو تھا، پر کمرہ نہ تھا؛ جن کے پاس خواب تو تھے، پر قلم اٹھانے کی جرات گناہ قرار دے دی گئی تھی۔ یہ تصور ہی روح کو لرزا دینے والا ہے کہ دنیا نے کتنے ہی ‘ہیملیٹ’ اور ‘کنگ لیئر’ صرف اس لیے کھو دیے کیونکہ وہ کسی عورت کے بطن میں نہیں، بلکہ اس کے تخیل میں پیدا ہوئے تھے اور معاشرے نے اس تخیل کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
جذباتی اپیل: کیا آپ کا ذہن ‘ہمہ جنسی’ ہے؟
اس تحریر کا سب سے پرجوش اور چونکا دینے والا پہلو وہ ‘آئینہ’ ہے جو وولف نے ہر تخلیق کار کے سامنے رکھا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جب تک تم ‘مرد’ یا ‘عورت’ بن کر لکھو گے، تمہاری تحریر بانجھ رہے گی۔ وہ ایک ایسے ‘ہمہ جنسی ذہن (Androgynous Mind)
کا مطالبہ کرتی ہے جہاں مردانہ جرات اور زنانہ لطافت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک نئی کائنات تخلیق کریں۔وہ ‘انا’ کے اس کالے سائے سے خبردار کرتی ہے جو آج کے دور میں سوشل میڈیا اور خود پسندی کی شکل میں ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو چاٹ رہا ہے۔ وولف کا پیغام واضح ہے
اگر تم عظیم بننا چاہتے ہو، تو اپنی جنس کی دیواروں کو گرا دو۔ اپنے اندر کی ‘شیکسپیئر کی بہن’ کو زندہ کرو، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ کسی چوراہے پر گمنام دفن ہو جائے۔
یہ اقتباس ایک للکار ہے! ایک ایسی پکار جو ہمیں بتاتی ہے کہ آزادی صرف ووٹ ڈالنے یا باہر نکلنے کا نام نہیں، بلکہ آزادی اس ‘کمرے’ کا نام ہے جو آپ کے ذہن کے اندر ہے، جہاں آپ کی روح کسی بھی صنف، تعصب اور ‘میں’ کی قید سے آزاد ہو کر رقص کر سکے۔محمد عامر حسینی ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز نیوز اردو
_____________________________________________________________________________
شیکسپیئر کی بہن
الماری میں رکھی شیکسپیئر کی کلیات پر نظر پڑی تو میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکی کہ عہدِ شیکسپیئر میں کسی بھی عورت کے لیے یہ قطعاً اور کلی طور پر ناممکن تھا کہ وہ شیکسپیئر جیسے ڈرامے تخلیق کر پاتی۔ چونکہ حقائق کا ملنا دشوار ہے، اس لیے آئیے تصور کرتے ہیں کہ اگر شیکسپیئر کی کوئی بے حد باصلاحیت بہن ہوتی، فرض کریں اس کا نام ‘جوڈتھ’ ہوتا، تو کیا ہوتا۔
شیکسپیئر خود تو غالباً گرامر اسکول گیا ہوگا کیونکہ اس کی ماں ایک متمول وارثہ تھی جہاں اس نے لاطینی زبان یعنی اووڈ، ورجل اور ہوریس کو پڑھا ہوگا اور صرف و نحو اور منطق کے بنیادی اصول سیکھے ہوں گے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ ایک منہ زور لڑکا تھا جس نے خرگوشوں کا شکار کیا، شاید کسی ہرن پر بھی گولی چلائی، اور پھر توقع سے ذرا پہلے ہی اسے قرب و جوار کی ایک خاتون سے شادی کرنی پڑی جس نے وقتِ مقررہ سے ذرا جلدی ہی اسے صاحبِ اولاد کر دیا۔ اسی مہم جوئی نے اسے لندن میں قسمت آزمائی پر مجبور کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے تھیٹر کا چسکا لگ گیا تھا؛ اس نے اسٹیج کے دروازے پر گھوڑے تھامنے سے شروعات کی۔ جلد ہی اسے تھیٹر میں کام مل گیا، وہ ایک کامیاب اداکار بن گیا اور کائنات کے مرکز (لندن) میں رہتے ہوئے ہر خاص و عام سے ملا، ہر ایک سے واقفیت پیدا کی، اسٹیج کے تختوں پر اپنے فن کی مشق کی، گلی کوچوں میں اپنی ذہانت کو جلا بخشی، یہاں تک کہ ملکہ کے محل تک رسائی حاصل کر لی۔
دوسری طرف فرض کیجیے کہ اس کی غیر معمولی باصلاحیت بہن گھر ہی میں مقید رہی۔ وہ بھی اپنے بھائی کی طرح مہم جو، تخیل پسند اور دنیا دیکھنے کی اتنی ہی مشتاق تھی۔ مگر اسے اسکول نہیں بھیجا گیا۔ اسے گرامر اور منطق سیکھنے کا موقع ملا نہ ہوریس اور ورجل کو پڑھنے کا۔ وہ کبھی کبھار اپنے بھائی کی کوئی کتاب اٹھا لیتی اور چند صفحات پڑھ لیتی۔ مگر تبھی اس کے والدین آ دھمکتے اور اسے موزے رفو کرنے یا ہانڈی چولہا سنبھالنے کا حکم دیتے اور تاکید کرتے کہ کتابوں اور کاغذوں کے ساتھ وقت ضائع نہ کرے۔ وہ سخت لہجے میں مگر ہمدردی سے بات کرتے، کیونکہ وہ کھاتے پیتے اور سمجھدار لوگ تھے جو ایک عورت کی زندگی کے حقائق سے واقف تھے اور اپنی بیٹی سے محبت کرتے تھے—بلکہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی آنکھ کا تارا تھی۔ شاید اس نے چھپ چھپا کر سیبوں کے گودام میں کچھ صفحات لکھے بھی ہوں، مگر وہ انہیں احتیاط سے چھپا دیتی یا نذرِ آتش کر دیتی۔
ابھی وہ اپنی نو عمری کی دہلیز پر ہی تھی کہ پڑوس کے ایک اون کے بیوپاری کے بیٹے سے اس کی نسبت طے کر دی گئی۔ وہ چیخ اٹھی کہ اسے شادی سے نفرت ہے، جس پر اس کے باپ نے اسے بے تحاشا پیٹا۔ پھر اس نے اسے جھڑکنا چھوڑ دیا، بلکہ اس کے بجائے منت سماجت کرنے لگا کہ وہ اسے دکھ نہ پہنچائے اور شادی کے اس معاملے میں اسے رسوا نہ کرے۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ اسے موتیوں کی مالا یا ایک نفیس پیٹی کوٹ لا کر دے گا؛ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بھلا اس کی نافرمانی کیسے کرتی؟ اس کا دل کیسے توڑتی؟ صرف اس کے اپنے تخلیقی جوہر کی تڑپ نے اسے اس راہ پر ڈالا۔ اس نے اپنے سامان کی ایک چھوٹی سی گٹھڑی بنائی، گرمیوں کی ایک رات رسی کے سہارے نیچے اتری اور لندن کی راہ لی۔ ابھی اس کی عمر سترہ سال بھی نہ تھی۔ جھاڑیوں میں گاتی چڑیوں کے نغمے اس کی آواز سے زیادہ سریلے نہ تھے۔ اس کے پاس الفاظ کے آہنگ کے لیے اپنے بھائی جیسی ہی برق رفتار حسِ تخیل اور ہنر تھا۔ اپنے بھائی کی طرح اسے بھی تھیٹر کا شوق تھا۔ وہ اسٹیج کے دروازے پر کھڑی ہو گئی؛ کہنے لگی کہ وہ اداکاری کرنا چاہتی ہے۔ مردوں نے اس کے منہ پر قہقہہ لگایا۔ مینیجر—ایک موٹے اور لٹکے ہوئے ہونٹوں والے شخص—نے زور دار ٹھٹھا مارا۔ وہ کتوں کے ناچنے اور عورتوں کی اداکاری کے بارے میں کچھ لغو باتیں غرایا—اس نے کہا کہ کوئی عورت کبھی اداکارہ نہیں بن سکتی۔ اس نے ایسے اشارے کیے جن کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اسے اپنے فن کی کوئی تربیت نہ مل سکی۔ کیا وہ کسی سرائے میں جا کر کھانا کھا سکتی تھی یا آدھی رات کو سڑکوں پر آوارہ گردی کر سکتی تھی؟ حالانکہ اس کی فطرت میں افسانہ نگاری رچی بسی تھی اور وہ مردوں اور عورتوں کی زندگیوں اور ان کے اطوار کے مشاہدے سے اپنی پیاس بجھانا چاہتی تھی۔ آخر کار—چونکہ وہ بہت کمسن تھی اور شکل و صورت میں شاعر شیکسپیئر سے عجیب حد تک مشابہ تھی، وہی سرمئی آنکھیں اور وہی ابھری ہوئی پیشانی—تو آخر کار نک گرین نامی ایک اداکار و مینیجر نے اس پر ترس کھایا؛ وہ اس شخص کے ہاتھوں حاملہ ہو گئی اور یوں—عورت کے جسم میں قید اور الجھے ہوئے ایک شاعر کے دل کی تپش اور کرب کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟—اس نے سردیوں کی ایک رات اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اور کسی ایسے چوراہے پر دفن ہے جہاں اب ‘ایلیفینٹ اینڈ کیسل’ کے باہر بسیں رکتی ہیں۔
شیکسپیئر کی (فرضی) بہن کی داستان پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ سولہویں صدی میں اگر کوئی عورت غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتی، تو یقیناً وہ پاگل ہو جاتی، خود کو گولی مار لیتی یا گاؤں سے باہر کسی تنہا جھونپڑی میں اپنی زندگی کے دن پورے کرتی؛ ایک ایسی ہستی جو آدھی چڑیل اور آدھی جادوگرنی معلوم ہوتی اور لوگ اس سے خوف کھاتے یا اس کا مذاق اڑاتے۔ کیونکہ نفسیات کا ادنیٰ سا علم رکھنے والا بھی یہ جان سکتا ہے کہ ایک ایسی باصلاحیت لڑکی جس نے شاعری کے جوہر دکھانے کی کوشش کی ہوتی، اسے دوسرے لوگ اس قدر روکتے ٹوکتے اور اس کی راہ میں اس قدر رکاوٹیں کھڑی کرتے، اور وہ خود اپنی متضاد جبلتوں کے ہاتھوں اس قدر ذہنی اذیت اور کشمکش کا شکار ہوتی کہ یقیناً اپنی صحت اور ذہنی توازن کھو بیٹھتی۔ سولہویں صدی کے لندن میں ایک ایسی عورت کا آزادانہ زندگی گزارنا جو شاعرہ اور ڈرامہ نگار بھی ہو، ایک ایسے اعصابی تناؤ اور ذہنی الجھن کا پیش خیمہ ہوتا جو اسے موت کے منہ تک لے جا سکتا تھا۔ اور اگر وہ زندہ بچ بھی جاتی، تو اس کی تحریریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور مسخ شدہ ہوتیں، کیونکہ وہ ایک بوجھل اور بیمار تخیل کی پیداوار ہوتیں۔
پھر کتابوں کی اس الماری کو دیکھتے ہوئے جہاں کسی عورت کا لکھا ہوا کوئی ڈرامہ موجود نہیں تھا، میں نے سوچا کہ بلاشبہ اس کی تخلیقات پر اس کا نام درج نہ ہوتا۔ وہ یقیناً گمنامی کی پناہ ڈھونڈتی۔ یہ حیا کا وہ بچا کھچا احساس ہی تھا جس نے انیسویں صدی کے اواخر تک عورتوں کو اپنا نام چھپانے پر مجبور رکھا۔ کیرر بیل، جارج ایلیٹ، جارج سینڈ—یہ سب اپنی تحریروں کے بقول اندرونی خلفشار کا شکار تھیں اور انہوں نے مردانہ ناموں کے پیچھے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ اس طرح انہوں نے اس روایت کے سامنے سر تسلیم خم کیا جسے اگر مردوں نے خود ایجاد نہیں کیا تھا تو اس کی بھرپور حوصلہ افزائی ضرور کی تھی (پیری کلیز، جو خود ایک بہت مشہور شخص تھا، اس کا کہنا تھا کہ عورت کی سب سے بڑی معراج یہ ہے کہ اس کا تذکرہ نہ کیا جائے) کہ عورتوں کا منظرِ عام پر آنا ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ گویا گمنامی ان کے خون میں دوڑتی ہے۔
پس، وہ عورت جو سولہویں صدی میں شاعری کا تحفہ لے کر پیدا ہوئی، ایک بدقسمت عورت تھی جو خود اپنے ہی خلاف برسرِ پیکار تھی۔ اس کی زندگی کے تمام حالات اور اس کی اپنی جبلتیں اس ذہنی کیفیت کی دشمن تھیں جو دماغ میں موجود خیالات کو آزاد کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن میں نے خود سے پوچھا کہ وہ کون سی ذہنی کیفیت ہے جو تخلیقی عمل کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے؟ کیا ہم اس کیفیت کا کوئی تصور قائم کر سکتے ہیں جو اس عجیب و غریب سرگرمی کو ممکن بناتی اور اسے جلا بخشتی ہے؟ یہاں میں نے شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کی جلد کھولی۔ مثال کے طور پر، جب شیکسپیئر ‘کنگ لیئر’ اور ‘انٹونی اینڈ کلیوپیٹرا’ لکھ رہا تھا، تو اس کی ذہنی حالت کیا تھی؟ یقیناً وہ شاعری کے لیے اب تک کی سب سے موزوں ترین ذہنی کیفیت رہی ہوگی۔ مگر شیکسپیئر نے خود اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ہمیں تو بس اتفاقاً یہ معلوم ہوا ہے کہ اس نے ‘کبھی کوئی سطر نہیں کاٹی’۔
میں نے ‘انٹونی اینڈ کلیوپیٹرا’ پر کھلی ہوئی کتاب کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا کہ شاعر کے اندر موجود تخلیق کو مکمل اور صحیح سلامت باہر لانے کی اس عظیم الشان کوشش کے لیے، ذہن کا شیکسپیئر کے ذہن کی طرح ‘روشن اور تپتا ہوا’ (Incandescent)
ہونا ضروری ہے۔ اس میں کوئی رکاوٹ، کوئی ایسا غیر متعلقہ مادہ نہیں ہونا چاہیے جو (تخلیق کی آگ میں) جل کر بھسم نہ ہوا ہو۔
اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں شیکسپیئر کی ذہنی کیفیت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، لیکن یہ کہتے ہوئے بھی ہم دراصل اس کی ذہنی حالت کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم شیکسپیئر کے بارے میں—ڈن، بن جانسن یا ملٹن کے مقابلے میں—بہت کم جانتے ہیں، کیونکہ اس کے گلے شکوے، عناد اور نفرتیں ہم سے پوشیدہ ہیں۔ ہمیں اس کی تحریر میں کسی ایسے ‘انکشاف’ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو ہمیں لکھنے والے کی یاد دلائے۔ احتجاج کرنے، تبلیغ کرنے، کسی ظلم کا ڈھنڈورا پیٹنے، پرانا حساب برابر کرنے، یا دنیا کو اپنی کسی سختی یا شکایت کا گواہ بنانے کی تمام تر خواہشات اس کے اندر جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔ اسی لیے اس کی شاعری کسی رکاوٹ کے بغیر روانی سے بہتی ہے۔ اگر کبھی کسی انسان نے اپنے کام کا مکمل اظہار کیا، تو وہ شیکسپیئر تھا۔ میں نے کتابوں کی الماری کی طرف مڑتے ہوئے سوچا کہ اگر کبھی کوئی ذہن روشن، تپتا ہوا اور رکاوٹوں سے پاک تھا، تو وہ شیکسپیئر کا ذہن تھا۔
کولرج کا یہ کہنے سے کہ ایک عظیم ذہن ‘ہمہ جنسی’
(Androgynous)
ہوتا ہے، ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ ایسا ذہن عورتوں کے ساتھ کوئی خاص ہمدردی رکھتا ہے یا ان کا مقدمہ لڑتا ہے یا خود کو ان کی ترجمانی کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ شاید ایک ہمہ جنسی ذہن، یک-جنسی ذہن کے مقابلے میں ان تفریقوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب شاید یہ تھا کہ ایسا ذہن گونج دار اور نفوذ پذیر ہوتا ہے؛ وہ جذبات کو بغیر کسی رکاوٹ کے منتقل کرتا ہے؛ وہ فطرتی طور پر تخلیقی، تابناک اور غیر منقسم ہوتا ہے۔ درحقیقت، ہمہ جنسی یا ‘مردانہ-زنانہ’ آمیزش والے ذہن کی مثال کے طور پر انسان دوبارہ شیکسپیئر کے ذہن کی طرف ہی رجوع کرتا ہے، اگرچہ یہ کہنا ناممکن ہے کہ شیکسپیئر عورتوں کے بارے میں کیا سوچتا تھا۔ اور اگر یہ سچ ہے کہ ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ ذہن کی نشانی یہ ہے کہ وہ خاص طور پر یا الگ سے ‘جنس’ کے بارے میں نہیں سوچتا، تو آج کے دور میں اس منزل کو پانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
یہاں میں موجودہ دور کے مصنفین کی کتابوں تک پہنچی، وہاں رکی اور سوچا کہ کیا یہی حقیقت اس بات کی جڑ نہیں جو مجھے عرصے سے حیران کر رہی تھی۔ کوئی بھی دور صنف (Sex) کے شعور کے حوالے سے اتنا پرشور نہیں رہا ہوگا جتنا ہمارا دور ہے؛ برٹش میوزیم میں مردوں کی عورتوں کے بارے میں لکھی ہوئی ان گنت کتابیں اس کا ثبوت ہیں۔ بلا شبہ خواتین کے حقِ رائے دہی (Suffrage) کی مہم اس کی ذمہ دار تھی۔ اس مہم نے مردوں کے اندر اپنی برتری منوانے کی ایک غیر معمولی خواہش پیدا کر دی ہوگی؛ اس نے انہیں اپنی جنس اور اس کی خصوصیات پر زور دینے پر مجبور کیا ہوگا، جس کے بارے میں وہ شاید کبھی سوچنے کی زحمت بھی نہ کرتے اگر انہیں چیلنج نہ کیا جاتا۔ اور جب کسی کو چیلنج کیا جائے، چاہے وہ کالی ٹوپیاں پہنے چند خواتین ہی کیوں نہ ہوں، تو وہ شخص—اگر اسے پہلے کبھی چیلنج نہ کیا گیا ہو—ضرورت سے زیادہ سخت ردعمل دیتا ہے۔
میں نے مسٹر اے کا ایک نیا ناول اٹھاتے ہوئے سوچا کہ شاید یہی بات ان خصوصیات کی وضاحت کرتی ہے جو مجھے یہاں نظر آئیں۔ مسٹر اے اپنی عمر کے بہترین حصے میں ہیں اور بظاہر تبصرہ نگاروں کے ہاں بہت معتبر ہیں۔ میں نے اسے کھولا۔ یقیناً، کسی مرد کی تحریر دوبارہ پڑھنا خوشگوار احساس تھا۔ عورتوں کی تحریر کے مقابلے میں یہ کتنی براہِ راست اور صاف ستھری تھی۔ یہ ذہنی خود مختاری، شخصی آزادی اور خود اعتمادی کی عکاس تھی۔ اس آسودہ، تعلیم یافتہ اور آزاد ذہن کی موجودگی میں، جسے کبھی روکا یا ٹوکا نہیں گیا بلکہ پیدائش سے ہی اپنی مرضی کے مطابق پھیلنے کی مکمل آزادی ملی، انسان جسمانی راحت سی محسوس کرتا ہے۔ یہ سب قابلِ ستائش تھا۔ لیکن ایک دو باب پڑھنے کے بعد، صفحے پر ایک سایہ سا لہراتا محسوس ہوا۔ یہ ایک سیدھی کالی لکیر تھی، ایک سایہ جس کی شکل انگریزی حرف آئی (میں) جیسی تھی۔ میں اس کے پیچھے چھپے منظر کی جھلک دیکھنے کے لیے ادھر ادھر کترانے لگی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ کوئی درخت تھا یا کوئی چلتی پھرتی عورت۔ لیکن انسان بار بار اسی حرف ‘I’ (میں) کی طرف کھینچ لیا جاتا۔ اب میں اس ‘میں’ سے اکتانے لگی تھی۔ ایسا نہیں کہ یہ ‘میں’ کوئی غیر معتبر ‘میں’ تھا؛ یہ تو بڑا ایماندار، مدلل، اخروٹ جیسا سخت اور صدیوں کی بہترین تعلیم و تربیت سے صیقل شدہ تھا۔ میں تہہِ دل سے اس ‘میں’ کا احترام اور تعریف کرتی ہوں۔ لیکن—یہاں میں نے کچھ تلاش کرتے ہوئے ایک دو صفحات پلٹے سب سے بری بات یہ ہے کہ اس حرف آئی کے سائے میں ہر چیز دھند کی طرح بے شکل ہے۔ کیا وہ ایک درخت ہے؟ نہیں، وہ تو ایک عورت ہے۔
لیکن… مجھے محسوس ہوا کہ اس کے جسم میں ایک ہڈی تک نہیں ہے؛ میں فیبی
(Phoebe)
کو دیکھ رہی تھی جو ساحل سے اس طرف آ رہی تھی۔ پھر ایلن اٹھا اور اس کے سائے نے فوراً فیبی کو اپنی لپیٹ میں لے کر معدوم کر دیا۔ ایلن کے اپنے نظریات تھے اور فیبی ان کے سیلاب میں بہہ گئی۔ پھر میں نے سوچا کہ ایلن جذبات رکھتا ہے؛ یہاں میں نے بڑی تیزی سے صفحات پلٹے، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اب کوئی بڑا موڑ
(Crisis)
آنے والا ہے، اور ایسا ہی ہوا۔ یہ سب ساحل پر تپتی دھوپ تلے ہوا۔ سب کچھ بہت کھلم کھلا تھا، بہت بھرپور۔ اس سے زیادہ بے باک کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن… میں نے ‘لیکن’ کا لفظ ضرورت سے زیادہ استعمال کر لیا تھا۔ انسان مسلسل ‘لیکن’ نہیں کہہ سکتا، اسے کسی نہ کسی طرح جملہ مکمل کرنا ہی پڑتا ہے—میں نے خود کو ٹوکا۔ کیا میں اسے یوں مکمل کروں کہ ‘لیکن—میں اکتا گئی ہوں!’؟
مگر میں اکتا کیوں گئی تھی؟ ایک تو اس حرفِ ‘انا’
کے غلبے اور اس کی خشکی کی وجہ سے، جو ایک دیو ہیکل بلوط کے درخت کی طرح اپنے سائے میں ہر چیز کو بنجر کر دیتی ہے۔ وہاں کچھ نہیں اگتا۔ اور دوسری وجہ کچھ مبہم سی تھی۔ مسٹر اے کے ذہن میں کوئی ایسی رکاوٹ، کوئی ایسی اڑچن محسوس ہوتی تھی جس نے ان کی تخلیقی توانائی کے چشمے کو روک کر اسے محدود کر دیا تھا۔ آکسبرج کی وہ ظہرانہ محفل، سگریٹ کی راکھ، دم کٹی بلی، ٹینسین اور کرسٹینا روزیٹی کی یادیں—لگتا تھا کہ رکاوٹ وہیں کہیں چھپی ہے۔ اب جب فیبی ساحل عبور کرتی ہے تو ایلن کے لبوں پر وہ گنگناہٹ نہیں ہوتی کہ ‘گیٹ پر موجود پھول سے ایک شاندار آنسو ٹپکا ہے’، اور نہ ہی ایلن کے قریب آنے پر فیبی یہ جواب دیتی ہے کہ ‘میرا دل اس گانے والے پرندے کی مانند ہے جس کا گھونسلہ ہری شاخ پر ہے’۔ تو پھر وہ کر بھی کیا سکتا ہے؟ دن کی طرح سچا اور سورج کی طرح منطقی ہونے کے ناطے، اس کے پاس کرنے کو صرف ایک ہی کام بچتا ہے۔ اور انصاف کی بات یہ ہے کہ وہی کام وہ بار بار، اور بار بار کرتا ہے (میں نے صفحات پلٹتے ہوئے سوچا)۔ اور میں نے اس ہولناک اعتراف کے ساتھ اپنی بات میں اضافہ کیا کہ یہ سب کچھ کسی حد تک ‘اکتا دینے والا’ معلوم ہوتا ہے۔
شیکسپیئر کی بے باکی بمقابلہ جدید احتجاج
شیکسپیئر کی بے باکی ذہن میں ہزاروں دوسرے خیالات کو جنم دیتی ہے اور وہ اکتاہٹ سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ لیکن شیکسپیئر یہ سب لذت کے لیے کرتا ہے؛ جبکہ مسٹر اے، جیسا کہ دائیاں کہتی ہیں، یہ سب ‘جان بوجھ کر’ کرتے ہیں۔ وہ یہ سب بطور احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ اپنی برتری جتلا کر دوسری جنس کی برابری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی لیے وہ ایک ایسی جھجک اور خود شعوری کا شکار ہیں جس کا شکار شاید شیکسپیئر بھی ہو جاتا اگر وہ مس کلو (Miss Clough) اور مس ڈیوس (خواتین کی تعلیم کی علمبردار) سے واقف ہوتا۔ بلاشبہ الزبتھن دور کا ادب آج سے بہت مختلف ہوتا اگر تحریکِ نسواں کا آغاز سولہویں صدی میں ہو جاتا نہ کہ انیسویں صدی میں۔
پس، اگر ذہن کے ان دو پہلوؤں کا نظریہ درست ہے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب ‘مردانگی’ خود شعوری کا شکار ہو گئی ہے۔ میں نے ناقد مسٹر بی (Mr. B) کی کتاب اٹھائی اور فنِ شاعری پر ان کے خیالات کو بہت غور اور فرض شناسی سے پڑھا، تو مجھے محسوس ہوا کہ جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ ‘تاثر کی قوت’ ہے۔ ان کی باتیں بڑی مدلل، گہری اور علم سے بھرپور تھیں، مگر مسئلہ یہ تھا کہ ان کے جذبات اب ابلاغ نہیں کر رہے تھے؛ ان کا ذہن مختلف خانوں میں بٹا ہوا تھا، جن کی آواز ایک دوسرے تک نہیں پہنچتی تھی۔ چنانچہ جب مسٹر بی کا کوئی جملہ ذہن میں اترتا ہے تو وہ کسی بے جان چیز کی طرح زمین پر گر جاتا ہے؛ لیکن جب کولرج کا کوئی جملہ ذہن میں آتا ہے، تو وہ ایک دھماکے سے پھٹتا ہے اور کئی نئے خیالات کو جنم دیتا ہے۔ صرف اسی تحریر کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس ‘حیاتِ جاوید’ کا راز ہے۔
تخلیق کا لازمی تقاضا: ہمہ جنسی ذہن
لکھنے والے کے لیے اپنی صنف
(Gender)
کے بارے میں سوچنا تباہ کن ہے۔ محض ایک مرد یا محض ایک عورت ہونا فن کے لیے زہرِ قاتل ہے؛ انسان کو ‘زنانہ-مرد’ یا ‘مردانہ-عورت’ ہونا چاہیے۔ ایک عورت کے لیے یہ بات مہلک ہے کہ وہ اپنی تحریر میں کسی شکایت پر ذرا سا بھی زور دے، چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، یا کسی بھی طرح ایک ‘عورت’ ہونے کے شعور کے ساتھ کلام کرے۔ اور یہاں ‘مہلک’ (Fatal) محض استعارہ نہیں ہے؛ کیونکہ شعوری تعصب کے ساتھ لکھی گئی کوئی بھی چیز موت کے گھاٹ اترنے کے لیے ہی ہوتی ہے۔ اس میں زرخیزی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ تحریر ایک دو دن کے لیے کتنی ہی شاندار، بااثر اور ماہرانہ کیوں نہ لگے، شام ڈھلتے ہی اسے مرجھانا ہے؛ وہ دوسروں کے ذہنوں میں نشوونما نہیں پا سکتی۔
تخلیق کے عمل کی تکمیل کے لیے ذہن کے اندر عورت اور مرد کا اشتراک ضروری ہے۔ متضاد قوتوں کے اس ملاپ کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ مصنف اپنا تجربہ پوری وسعت کے ساتھ ہم تک پہنچائے، تو اس کے ذہن کے تمام دروازے کھلے ہونے چاہئیں۔ وہاں آزادی اور سکون ہونا چاہیے۔ نہ کوئی پہیہ چڑچڑائے، نہ کوئی ہلکی سی روشنی لرزے۔ پردے گرے ہونے چاہئیں۔ میں نے سوچا کہ جب مصنف اپنے مشاہدے سے گزر چکے، تو اسے چاہیے کہ وہ آرام سے بیٹھ جائے اور اپنے ذہن کو تاریکی میں اس ‘تخلیقی وصال’ کا جشن منانے دے۔ اسے یہ نہیں دیکھنا چاہیے اور نہ سوال کرنا چاہیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بجائے اسے گلاب کی پتیاں توڑنی چاہئیں یا دریا میں تیرتے ہنسوں کو خاموشی سے دیکھنا چاہیے۔
شیکسپیئر کی بہن کی واپسی
شیکسپیئر کی بہن جوانی میں ہی مر گئی—افسوس کہ اس نے ایک لفظ بھی نہ لکھا۔ وہ وہیں دفن ہے جہاں اب ‘ایلیفینٹ اینڈ کیسل’ کے سامنے بسیں رکتی ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ وہ شاعرہ جس نے کبھی ایک لفظ نہ لکھا اور جسے چوراہے پر دفن کر دیا گیا، وہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ آپ میں اور مجھ میں زندہ ہے۔ وہ زندہ ہے، کیونکہ عظیم شاعر کبھی نہیں مرتے؛ وہ دائمی وجود ہیں؛ انہیں بس ہمارے درمیان گوشت پوست کے روپ میں چلنے پھرنے کے ایک موقع کی ضرورت ہے۔
اگر ہم اپنے روزمرہ کے دیوان خانے کی قید سے تھوڑا نکلیں اور انسانوں کو صرف ایک دوسرے کے رشتے سے نہیں بلکہ حقیقت کے آئینے میں دیکھیں؛ اگر ہم آسمان، درختوں اور ہر چیز کو ان کی اپنی اصل میں دیکھیں؛ اگر ہم اس حقیقت کا سامنا کریں کہ سہارے کے لیے کوئی بازو میسر نہیں بلکہ ہمیں تنہا چلنا ہے اور ہمارا تعلق صرف مردوں اور عورتوں کی دنیا سے نہیں بلکہ ‘حقیقت کی دنیا’ سے ہے، تو شیکسپیئر کی وہ مردہ بہن وہ جسم دوبارہ دھار لے گی جسے اس نے بارہا تیاگ دیا تھا۔ وہ اپنے ان گمنام پیشروؤں کی زندگیوں سے توانائی کشید کر کے دوبارہ جنم لے گی، بالکل ویسے ہی جیسے اس کے بھائی نے اس سے پہلے کیا تھا۔
رہی بات اس کی آمد کی، تو ہماری تیاری، ہماری کوشش اور اس عزم کے بغیر کہ ‘جب وہ دوبارہ پیدا ہو تو اسے جینے اور شاعری کرنے کا سازگار ماحول ملے’، ہم اس کی امید نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ناممکن ہوگا۔ لیکن میرا دعویٰ ہے کہ اگر ہم اس کے لیے کام کریں تو وہ ضرور آئے گی، اور اس مقصد کے لیے کام کرنا، چاہے وہ افلاس اور گمنامی میں ہی کیوں نہ ہو، بہرحال سودمند ہے۔