مصنف کا نوٹ
یہ سیاہ حاشیہ کسی ادبی تجربے کی محض ایک مشق نہیں، بلکہ ایک ایسے زخم کی تحریری صورت ہے جو دکھائی نہیں دیتا مگر مسلسل رستا رہتا ہے۔ “میموسائیڈ”—یادداشتوں کا قتل—کو میں نے یہاں کسی خشک اصطلاح یا تاریخی حوالہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ تجربے، ایک جاری عمل کے طور پر دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے۔
یہ تحریر اس بنیادی سوال سے جنم لیتی ہے: کیا کسی قوم کو مٹانے کے لیے اس کے لوگوں کو قتل کرنا ضروری ہے، یا اس کی یادداشت، اس کی زبان، اس کے نام، اس کی کہانیاں چھین لینا ہی کافی ہے؟ یہاں مسئلہ صرف جغرافیے کا نہیں، بلکہ شعور کا ہے—وہ شعور جو تاریخ، ثقافت اور اجتماعی تجربے سے بنتا ہے۔ جب اسی شعور پر حملہ ہوتا ہے، تو انسان زندہ رہ کر بھی اپنے آپ سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔
منٹو کے اسلوب میں لکھنے کا انتخاب بھی اسی لیے کیا گیا کہ وہ اس سچ کو بے نقاب کرنے کا ہنر رکھتے تھے جسے سماج چھپانا چاہتا ہے۔ سیاہ حاشیہ دراصل ایک آئینہ ہے—بدصورت، کڑوا، مگر سچا۔ اس میں نہ کوئی رومان ہے، نہ کوئی تسلی صرف سوال ہے، اور وہ بھی ایسا جو قاری کو بے چین کر دے۔
یہ متن کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت نے اپنے تسلط کو دائمی بنانے کی کوشش کی، اس نے صرف جسموں پر نہیں بلکہ یادداشتوں پر حملہ کیا۔ اس لیے یہ تحریر ایک تنبیہ بھی ہے: اگر ہم نے یادداشتوں کے اس قتل کو نہ پہچانا، تو شاید ایک دن ہم خود اپنی کہانی بھول جائیں۔
اور جب کوئی اپنی کہانی بھول جائے
تو وہ کسی اور کی کہانی بن جاتا ہے۔

____________________________________
سیاہ حاشیہ: یادداشت کا قتل
کہتے ہیں قتل صرف جسم کا ہوتا ہے۔
جھوٹ کہتے ہیں۔
اصل قتل تو وہ ہے جس میں لاش بھی نہیں ملتی
صرف یادیں غائب ہو جاتی ہیں۔
اسے مہذب لوگ ایک بڑا نفیس سا نام دیتے ہیں: میموسائیڈ۔
یعنی یادداشتوں کا قتلِ عام۔
پہلے وہ تمہیں مارتے ہیں
گولی سے، بم سے، ڈرون سے۔
پھر انہیں لگتا ہے کہ تم ابھی بھی زندہ ہو…
کیونکہ تمہاری ماں کو تمہارا نام یاد ہے،
تمہاری زمین کو تمہارے قدموں کی آہٹ یاد ہے،
اور تمہاری زبان میں تمہاری کہانی اب بھی سانس لے رہی ہے۔
تب وہ ایک اور حربہ آزماتے ہیں۔
وہ تمہاری کتابیں جلا دیتے ہیں،
تمہاری لائبریریوں کو مٹی میں ملا دیتے ہیں،
تمہارے شہروں کے نام بدل دیتے ہیں
منگوچر کو خالق آباد،
سوراب کو شہید سکندر آباد۔
وہ تمہارے ہیروز کو غائب کر دیتے ہیں،
اور تمہیں نئے ہیرو دے دیتے ہیں
ایسے ہیرو
جن کا تم سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا،
مگر تمہیں انہی کے گیت یاد کرنے پڑتے ہیں۔
وہ تمہارے بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ
تمہاری کوئی تاریخ نہیں تھی،
تمہاری کوئی پہچان نہیں تھی،
تم صرف ایک خالی کاغذ تھے
جس پر انہوں نے تمہیں لکھا۔
اور تم؟
تم آہستہ آہستہ یقین کرنے لگتے ہو۔
یہ قتل بہت خاموش ہوتا ہے۔
اس میں خون نہیں بہتا
صرف یادیں رس رس کر مر جاتی ہیں۔
استعمار نے ہمیشہ یہی کیا ہے
پہلے زمین لی،
پھر زبان لی،
پھر یادیں لے لیں۔
کیونکہ جس قوم کو اپنی کہانی یاد نہ رہے،
وہ کسی اور کی کہانی جینے لگتی ہے۔
آج بھی یہی ہو رہا ہے۔
بلوچ سرزمین پر،
یادداشتوں کا صفایا جاری ہے۔
نام بدلو، تاریخ بدلو، نصاب بدلو
اور ایک نئی قوم تخلیق کرو
جو اپنی ہی مٹی پر اجنبی ہو۔
میں سوچتا ہوں
جب سب کچھ بدل جائے گا،
تو کیا کوئی بوڑھی ماں
اپنے بیٹے کا پرانا نام یاد رکھے گی؟
یا وہ بھی
نئے نام کے ساتھ
اسے دفن کر دے گی؟