مترجم کا نوٹ: تاریخ کی گرد میں چھپے دو خواب
تاریخ محض خشک اعداد و شمار اور بے جان واقعات کا ڈھیر نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان سانسوں کی تپش اور دلوں کی دھڑکنوں کا نام ہے جو وقت کے بے رحم پہیے تلے کچل دی گئیں۔ زیرِ نظر صفحات کی مترجمی کے دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ محض کامریڈ سوہن سنگھ جوش کی یادداشتیں نہیں، بلکہ ایک بیتے ہوئے عہد کی وہ راکھ ہے جس کے نیچے انقلاب کی چنگاریاں آج بھی دبی ہوئی ہیں۔ یہ اس زمانے کا قصہ ہے جب امرتسر کی فضاؤں میں ‘کرتی’ کے دفتر سے اٹھنے والی سائنسی سوشلزم کی گونج اور بھگت سنگھ کے پستول کی گھن گرج مل کر برطانوی استبداد کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر رہی تھی۔
اس تحریر کا ایک ایک لفظ مجھے امرتسر کے اس لکڑی کے بوسیدہ پل پر لے گیا، جہاں ایک تیکھے نقوش والا خوبرو نوجوان پہلی بار ایک منجھے ہوئے انقلابی سوہن سنگھ جوش کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ یہ بھگت سنگھ تھا—جس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب رقصاں تھے۔ ان دونوں ہستیوں کے درمیان خیالات کا اشتراک ایک ایسی آہنی زنجیر تھی جس نے انہیں جوڑ رکھا تھا۔ دونوں ہی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ہندوستان کی آزادی کا راستہ صرف برطانوی حکمرانوں کی بے دخلی سے نہیں، بلکہ ایک ایسے سوشلسٹ نظام سے ہو کر گزرتا ہے جہاں مزدور اور کسان اپنے مقدر کے سکندر خود ہوں۔ مذہب کی آڑ میں ہونے والی فرقہ واریت کے خلاف ان کی نفرت سانجھی تھی اور سیکولرازم ان کا وہ فکری سنگم تھا جہاں دونوں “انسان” کو کائنات کا محور تسلیم کرتے تھے۔
مگر اسی رفاقت کے پردے میں نظریاتی اختلاف کی ایک لکیر بھی کھچی ہوئی تھی، جسے جوش صاحب نے بڑی دیانت سے نمایاں کیا ہے۔ جہاں بھگت سنگھ کا “گرم خون” بموں اور پستولوں کے دھماکوں سے سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑنے پر بضد تھا، وہیں سوہن سنگھ جوش کا مارکسی شعور انہیں یہ باور کراتا تھا کہ انقلاب محض انفرادی جان فشانی کا نام نہیں بلکہ یہ کسانوں اور مزدوروں کی طویل اور منظم طبقاتی جدوجہد کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ جوش صاحب کی نظر میں ‘پستول’ کی آواز عارضی تھی، جبکہ ‘تنظیم’ کا شور دائمی۔ بھگت سنگھ کا استدلال تھا کہ “ایک اکیلا عمل ہزار پمفلٹوں سے زیادہ پروپیگنڈا کرتا ہے”، مگر جوش صاحب اسے کچے ذہنوں کی بے صبری قرار دیتے تھے۔
بطور مترجم، میرا اس مضمون کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کا بنیادی مقصد برصغیر ہند کے اندر انقلابی تحریک کے اس مستند تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنا ہے جو وقت کی دھول میں اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل تاریخ کے ان “سرکاری بیانیوں” کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے جہاں حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے یا انہیں مخصوص خانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ میرا مقصد اس نوجوان نسل کو اپنے ان اصل ہیروز سے روشناس کرانا ہے جنہوں نے کسی سرکاری سرپرستی کے بغیر، محض اپنے نظریے کی بنیاد پر تختہ دار کو چوما۔ یہ صفحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب فرقہ واریت کا زہر سماج کی رگوں میں اتارا جا رہا تھا، تب کچھ سرپھرے ایسے بھی تھے جن کے لیے انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہ تھا۔ یہ ترجمہ ایک کوشش ہے کہ تاریخ کے اس سچے اور بے باک چہرے کو زندہ رکھا جائے جو سرکاری فائلوں میں نہیں بلکہ عوام کے دلوں اور انقلابیوں کی یادداشتوں میں دھڑکتا ہے۔
یہ یادگار مضمون کامریڈ سوہن سنگھ جوش کی انگریزی کتاب
“My Meetings with Bhagat Singh and other early Revolutionaries”

Figure 1سوہن سنگھ جوش کی کتاب کا عکس
سے ماخوذ ہے۔ یہاں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان یادداشتوں کے خالق، کامریڈ سوہن سنگھ جوش (1898–1982) کا ایک مختصر تعارف بھی شاملِ نوٹ کیا جائے۔ آپ برصغیر کی جدوجہدِ آزادی کے ایک نہایت معتبر انقلابی رہنما، بے باک صحافی اور کمیونسٹ تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ 12 نومبر 1898 کو امرتسر کے گاؤں چیتن پورہ میں پیدا ہونے والے سوہن سنگھ نے مالی مشکلات کے باعث خالصہ کالج سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑی اور بمبئی و امرتسر میں ملازمتوں کے بعد برطانوی سامراج کے خلاف عوامی تحریکوں کا حصہ بن گئے۔ 1921 میں ‘اکالی تحریک’ کے دوران تین سال قید کاٹی، تاہم ان کی اصل پہچان ‘کرتی’ (مزدور) نامی انقلابی رسالے کے اجراء اور ‘کرتی کسان پارٹی’ کی قیادت سے بنی، جس کے ذریعے انہوں نے پنجاب میں مارکسی نظریات کو متعارف کروایا اور بھگت سنگھ جیسے نوجوان انقلابیوں کو اپنے خیالات کی تشہیر کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا۔ ‘نوجوان بھارت سبھا’ کے بانی ارکان میں شامل ہونے اور ‘میرٹھ سازش کیس’ میں پانچ سالہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد وہ 1943 میں ‘جنگِ آزادی’ نامی اخبار کے ایڈیٹر بنے اور وفات تک ایک نڈر قوم پرست اور کسان دوست رہنما کے طور پر نمایاں رہے۔
یہ صفحات بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کی قربانیوں کا وہ منظوم نوحہ ہیں جو ہر عہد کے نوجوان کو جھنجھوڑ کر اس سے سوال کرتا ہے: “کیا تم نے وہ خواب دیکھا ہے جو ادھورا رہ گیا؟“
محمد عامر حسینی
ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز نیوز اردو
مارچ 26، 2026
_______________________________
بھگت سنگھ سے میری ملاقاتیں
میں نے 21 جنوری 1927 کو پنجابی ماہنامے ‘کرتی’ (مزدور) کی ادارت سنبھالی۔ یہ ایک انقلابی رسالہ تھا جس کا آغاز فروری 1926 میں بھائی سنتوکھ سنگھ نے کیا تھا، جو سان فرانسسکو سازش کیس کے مشہور غدر انقلابی تھے۔ اس رسالے کا مقصد ہندوستان میں پنجابی جاننے والے لوگوں کے درمیان مکمل آزادی اور سوشلزم کے نظریات کی ترویج کرنا تھا۔ 1915 کی تحریکِ غدر کی ناکامی کے بعد، غدر پارٹی کے رہنما مارکسزم اور لینن ازم کی طرف راغب ہو رہے تھے اور وہ پنجاب کے کسانوں اور غیر منظم مزدور طبقے کو متحد کرنا چاہتے تھے تاکہ نئے حالات کے مطابق قومی جدوجہدِ آزادی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
‘کرتی’ محض ایک تبلیغی جریدہ نہیں تھا بلکہ متحرک کرنے والا اور تنظیم ساز ادارہ بھی تھا۔ ہم اس رسالے کے گرد نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کو منظم کر رہے تھے۔ ‘کرتی’ کی انتظامیہ نے نوجوانوں کی ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس مقصد کے لیے مارچ 1928 میں بھاگ سنگھ کینیڈین اور سوہن سنگھ جوش کے دستخطوں سے ایک اشتہار جاری کیا گیا تھا۔ وہ 11، 12 اور 13 اپریل 1928 کو جلیانوالہ باغ میں ایک نوجوان کانفرنس منعقد کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ پنجاب کانگریس بھی انہی تاریخوں میں اسی جگہ ایک سیاسی کانفرنس منعقد کر رہی تھی۔ 13 اپریل جلیانوالہ باغ کے شہدا کا دن تھا۔ ہم نے پنجاب میں نوجوانوں کی تنظیم قائم کرنے کے لیے نوجوانوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس کانفرنس کو دیسی زبان کے اخبارات اور لاہور کے روزنامہ ‘ٹریبیون’ میں اچھی شہرت ملی۔
کانفرنس سے چند روز قبل 6 یا 7 اپریل کو ایک نوجوان، جو مجھ سے عمر میں چھوٹا تھا، امرتسر میں ریلوے لائن کے اوپر بنے لکڑی کے پل کے پاس ‘کرتی’ کے دفتر میں مجھ سے ملنے آیا۔ وہ تیکھے نقوش، ذہین وضع قطع اور مجھ سے ایک دو انچ کم قد والا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ اس کے امرتسر آنے کا مقصد اس نوجوان کانفرنس کی سیاسی نوعیت اور پروگرام کے بارے میں جاننا تھا جو ہم منعقد کرنے جا رہے تھے۔
اس نے مجھے بتایا کہ اس کا نام بھگت سنگھ ہے اور وہ لاہور میں طلبہ کو منظم کر رہا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اور اس کے دوست ہماری کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس کا سیاسی پروگرام کس قسم کا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ کانفرنس ‘کرتی’ کی انتظامیہ نے منظم کی ہے جس کی سیاسی پالیسی ماہنامے میں بیان کی جا چکی ہے اور یہ کہ ہم سائنسی سوشلزم پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کانفرنس مارکسی نظریے پر مبنی سوشلسٹ پروگرام کو قبول کرے۔
اس نے کہا، “آپ کا پروگرام انقلابی ہے، ہم کانفرنس میں شرکت کریں گے۔” میں نے اصرار کیا، “ضرور تشریف لائیں اور حصہ لیں۔” “لیکن ایک بات؛ شاید آپ کو علم نہیں کہ ہم لاہور میں ‘نوجوان بھارت سبھا’ کے نام سے ایک نوجوان تنظیم چلا رہے تھے۔” میں نے جواب دیا، “نہیں، مجھے نہیں معلوم۔ یہاں کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ اسے کیا ہوا؟” “کچھ وجوہات کی بنا پر وہ غیر فعال ہو گئی۔” “کن وجوہات کی بنا پر؟” “حکومت نے کالجوں میں ہمارے داخلے پر پابندی لگا دی اور خفیہ پولیس نے ہمارے منتظمین کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ طلبہ سے بات چیت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔” میں نے کہا، “میں سمجھ گیا۔ حکومت ہمیں کسی قسم کا سیاسی کام کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔”
پھر وہ اصل نکتے پر آیا اور مجھ سے پوچھا کہ ‘نوجوان بھارت سبھا’ نام کے بارے میں میرا کیا خیال ہے۔ میں نے جواب دیا، “یہ ایک اچھا نام ہے” اور مزید کہا “ہم نے نام کا فیصلہ مندوبین کی جمہوری رائے پر چھوڑ دیا ہے۔” اس نے پوچھا، “لیکن کیا آپ اس نام کی حمایت نہیں کر سکتے؟” میں نے جواب دیا، “میں اس معاملے پر بھاگ سنگھ کینیڈین اور دوسروں سے مشورہ کروں گا اور میرا خیال ہے کہ غالباً ہم اس کی حمایت کریں گے۔”
بھگت سنگھ نے اپنے لاہور کے ساتھیوں کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کا وعدہ کیا۔ اس طرح ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔
حکومت کی خفیہ رپورٹ سے انکشاف ہوتا ہے کہ بھگت سنگھ کی قائم کردہ لاہور ‘نوجوان بھارت سبھا’ کی سرگرمیاں بنیادی طور پر لاہور کے کالجوں کے طلبہ تک محدود تھیں۔ یہ ایک نیم خفیہ تنظیم تھی جس کا کھلا اور خفیہ پروگرام طلبہ کو انقلابی مقاصد کے لیے بھرتی کرنا تھا۔ برطانوی جاسوسوں کو اس کی اصل سیاسی سرگرمیوں کا علم ہو گیا۔ لاہور کے کالجوں کے پرنسپلوں کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور وزیرِ مالیات نے طلب کیا اور انہیں سبھا کے “حقیقی عزائم” سے آگاہ کیا، جس کے بعد سبھا کے لیے کالجوں اور ہاسٹلوں کے ہال استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ برطانوی وائس چانسلر نے حکم دیا کہ کالج کا کوئی بھی ملازم سبھا کے لیے سماجی موضوعات یا شہریت وغیرہ پر لیکچر نہیں دے گا۔ اس حکم نے سبھا کی سرگرمیوں کو کاری ضرب لگائی۔
لاہور کی نوجوان سبھا نے مارچ 1926 سے اپریل 1927 کے دوران طلبہ کو سیاسی شعور دینے کے لیے کچھ اچھا کام کیا۔ لیکن لاہور سے باہر کسی کو اس کے وجود کا علم تک نہ تھا۔ اور پھر “سبھا کی سرگرمیاں ختم ہو گئیں۔ اس عرصے کے دوران سبھا نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔” برطانوی حکومت کی نظر میں اس کا کھلا پروگرام “کمیونزم اور تشدد کے انتہا پسندانہ سیاسی نظریات کی خفیہ تشہیر کے لیے محض ایک لبادہ تھا”۔
ہم نے کیدار ناتھ سہگل کو نوجوان کانفرنس کا صدر منتخب کیا تھا کیونکہ ان کا تعلق غدر پارٹی کے رہنماؤں سے تھا اور وہ پہلے لاہور سازش کیس (1915) میں غدر کے محب وطن ساتھیوں کے ساتھ شریکِ ملزم تھے۔ ‘کرتی’ تحریکِ غدر کے ایک نئے انداز میں تسلسل کی نمائندگی کرتی تھی۔ یہ رسالہ مارکسزم کی طرف مائل تھا۔ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کیدار ناتھ اب غیر فعال ہو جانے والی لاہور ‘نوجوان بھارت سبھا’ کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔
کانفرنس مقررہ تاریخوں پر منعقد ہوئی، بھگت سنگھ اور ان کے لاہور کے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی۔ بہت سے ہندو، سکھ اور مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا۔ صدرِ مجلس کیدار ناتھ سہگل نے پنجابی نوجوانوں کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا اور اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ پنجاب کو اب بھی ہندوستان کا “السٹر” (پھوٹ کا شکار علاقہ) کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت کی—جس میں ہندوستانی برطانوی ایجنٹوں کے اکسانے پر ہندوستانیوں کو قتل کر رہے تھے—اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں تاکہ برطانوی حکمرانوں اور ان کے آلہ کاروں کی فرقہ وارانہ سازشوں کو ناکام بنائیں اور مادرِ وطن کو آزاد کرانے کے لیے عوام کو منظم کریں۔
کانفرنس کے مندوبین کی عام رائے یہ تھی کہ نوجوانوں کو مکمل آزادی اور سوشلزم کا علمبردار ہونا چاہیے۔ اس پر زیادہ بحث نہیں ہوئی۔ اصل بحث اس مسئلے پر ہوئی کہ آیا مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اس نوجوان تنظیم کا رکن بننے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ دو رجحانات ایک دوسرے کے سامنے تھے۔
یہ رجحان کہ مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں سے وابستہ نوجوانوں کو رکنیت دی جائے، دو نوجوان رہنماؤں کی طرف سے پیش کیا گیا: ایک سردار گوپال سنگھ قومی جو اکالی نوجوانوں کو اس نئی تنظیم میں شامل کرنا چاہتے تھے، اور دوسرے منشی احمد دین جو احرار نوجوانوں کو لانا چاہتے تھے۔ اس کے مخالف رجحان کی نمائندگی ‘کرتی’ کے انتظامی گروہ اور سردار بھگت سنگھ کے گروہ نے کی۔
نوجوان اس وقت ان مذہبی و فرقہ وارانہ رہنماؤں سے بہت بیزار تھے جو ہماری آزادی کے دشمن انگریزوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے، فرقہ وارانہ فسادات پیدا کر رہے تھے اور تحریکِ آزادی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو اتنے تلخ ہو چکے تھے کہ انہوں نے نادانی میں خود مذہب کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔
ایک طویل بحث کے بعد ‘کرتی’ گروہ اور بھگت سنگھ کے گروہ نے ہاتھ ملا لیے تاکہ گوپال سنگھ قومی اور منشی احمد دین کی تجاویز کو شکست دی جا سکے۔ نوجوانوں کی اکثریت مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں سے جڑے نوجوانوں کو شامل کرنے کے خلاف تھی۔ یہ واضح کر دیا گیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی نوجوان کو نئی تنظیم میں شامل ہونے کے لیے اپنا مذہب چھوڑنا پڑے گا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور فرقہ واریت ہماری دشمن ہے جس کے خلاف لڑنا ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔
کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ نوجوانوں کی نئی تنظیم غیر فرقہ وارانہ، جمہوری اور سیکولر ہوگی۔ فرقہ وارانہ رجحانات یا جھکاؤ رکھنے والے کسی بھی شخص کو اس کا رکن بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نوجوانوں کی تنظیم کو ان تمام گمراہیوں اور انحرافات کے خلاف دلیری سے سامنے آنا چاہیے جو ہماری تحریک کو نقصان پہنچاتے، سست کرتے یا اس کے پہیے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ نوجوانوں کی تحریک کو ہمارے ملک کے سیاسی میدان میں ایک بڑی قوت بن کر ابھرنا چاہیے۔
سوہن سنگھ جوش نے تجویز پیش کی کہ تنظیم کا نام ‘نوجوان بھارت سبھا، پنجاب’ ہونا چاہیے جس کا “صدر مقام امرتسر میں ہو”، جسے متفقہ طور پر قبول کر لیا گیا کیونکہ اس کے لیے زمین پہلے ہی تیار کی جا چکی تھی۔ کانفرنس نے سائمن کمیشن کے خلاف رویے، قومی پرچم، برطانوی اشیا کا بائیکاٹ، چھوت چھات اور مذہب وغیرہ کے بارے میں 9 قراردادیں منظور کیں۔
نوجوانوں کی تنظیم سازی کے بارے میں قرارداد میں کہا گیا: “یہ کانفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کو منظم کرنے کے لیے ‘نوجوان بھارت سبھا’ کے نام سے ایک مرکزی تنظیم قائم کی جائے تاکہ صوبے کے اضلاع اور دیہاتوں میں سبھا کی شاخیں قائم کی جا سکیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے 10 ارکان پر مشتمل ایک عبوری کمیٹی بنائی گئی ہے جو آئین تیار کرے گی، شاخیں قائم کرنے کے لیے پروپیگنڈا کرے گی اور سبھا کی مرکزی کمیٹی کو وجود میں لائے گی۔”
کمیٹی کے ارکان یہ تھے: سوہن سنگھ جوش (صدر)، لالہ رام چندر، عبدالمجید، محمد طفیل، احسان الٰہی، شیخ حسام الدین، چھبیل داس، ہری سنگھ چکواہا، گوپال سنگھ قومی، کپل دیو شرما۔
نوجوان بھارت سبھا کی بحالی اور بھگت سنگھ کے انقلابی افکار
کمیٹی نے سبھا کے جو مقاصد اور اہداف منظور کیے وہ یہ تھے: ہندوستان کی انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ہندوستان کی مکمل آزادی حاصل کرنا، مزدوروں اور کسانوں کی حکومت قائم کرنا، نوجوانوں کے ذہنوں میں حب الوطنی اور خود قربانی کا جذبہ پیدا کرنا اور مذہبی معاملات میں رواداری کے جذبے کی ترویج کرنا۔
نوجوان بھارت سبھا کی “بحالی” کا لب لباب یہی ہے۔ سرکاری رپورٹ میں درج کیا گیا کہ “سبھا کی بحالی” کا آغاز اپریل 1928 کی کانفرنس سے ہوا اور اب سبھا کی پالیسی میں امرتسر کے ‘کرتی’ گروہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی واضح توسیع کر دی گئی ہے، تاکہ انقلاب یا دیگر طریقوں سے اقتدار کی منتقلی کا پروگرام شامل کیا جا سکے۔
فرقہ وارانہ اور مذہبی رجحان پر ہماری جیت نے بھگت سنگھ گروہ اور ‘کرتی’ گروہ کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ یہ ایک کھلی اور شفاف تنظیم تھی جس کا بنیادی کام مزدوروں اور کسانوں کے درمیان کام کرنا، انہیں ان کے معاشی مطالبات پر منظم کرنا اور انہیں دیگر لڑاکا قوتوں کے ساتھ اتحاد میں آزادی کے لیے لڑنے کی سیاسی ضرورت کا احساس دلانا تھا۔
حکومت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ نوجوان بھارت سبھا نے امرتسر کی مختلف یونینوں پر قبضے کی کوششیں کیں، مثلاً میکینیکل انجینئرز یونین، ریلوے پورٹرز یونین اور پریس ورکرز یونین۔
بھگت سنگھ کے والد کشن سنگھ اور ان کے چچا اجیت سنگھ اور سورن سنگھ سبھی برطانوی غلامی کے خلاف آزادی کے مجاہد تھے۔

ان کا خاندان درحقیقت ایک محب وطن خاندان تھا۔ ان کے بزرگوں نے جدوجہد آزادی میں سختیاں جھیلیں اور مختلف مدت کے لیے جیل گئے۔ ان کے چچا اجیت سنگھ اپنی جگہ کسان تحریک کے ایک بڑے رہنما تھے اور انہوں نے 1906-7 میں نوآبادیاتی قانون کے خلاف لڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، جس کے تحت آباد کاروں کو درخت کاٹنے اور فوج میں خدمات کے عوض ملنے والی زمین کو اپنی مرضی سے ٹھکانے لگانے سے روک دیا گیا تھا۔ مزید برآں برطانوی حکومت نے آبیانہ اور لگان میں اضافہ کر دیا تھا۔ کسان خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کی وجہ سے پہلے ہی کسمپرسی کی حالت میں تھے اور حکومت کی پالیسی انہیں مزید مفلوک الحال رکھنے کی تھی۔ ان اقدامات نے انہیں بہت متاثر کیا اور یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوئے۔ سردار اجیت سنگھ، لالہ لاجپت رائے، شاعر بانکے لال اور دیگر نے ان کی شکایات کو مؤثر قیادت فراہم کی اور کسان برطانوی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
پنجاب میں بڑے پیمانے پر یہ پہلی کسان تحریک تھی جس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور اسے خوفزدہ کر دیا۔ حکومت نے اجیت سنگھ اور لالہ لاجپت رائے کو برما کی منڈلے جیل جلاوطن کر دیا۔ راولپنڈی، لاہور اور دیگر مقامات پر ہنگامے ہوئے جن میں ہندو، سکھ اور مسلم کسانوں نے متحد ہو کر حصہ لیا۔ حکومت اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہوگئی۔ سردار اجیت سنگھ کی برطانوی مخالف سرگرمیوں اور قربانیوں نے بھگت سنگھ کو بے حد متاثر اور متحرک کیا۔ بھگت سنگھ کی نظر میں ان کے چچا ایک عظیم باغی تھے جنہوں نے باہر سے ملک کی آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے اپنا وطن چھوڑا تھا۔ وہ ان کی جرات، ایثار اور آزادی کے لیے لگن کی تعریف کرتے تھے اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کئی بار اجیت سنگھ کے بارے میں بات کی اور اعتراف کیا کہ لڑکپن سے ہی ان پر اپنے چچا کے محب وطن اثرات رہے۔
لیکن ہمارے دور کے تمام نوجوانوں کے لیے موت سے بے خوفی، نڈر پن اور برطانوی راج کے خلاف شدید نفرت کا نمونہ غدر پارٹی کے کرتار سنگھ سرابھا تھے۔ بھگت سنگھ نے ان پر ایک مضمون لکھا جس میں ناقابل فراموش الفاظ میں ان کی ستائش کی۔
کرتار سنگھ سرابھا کے بارے میں بھگت سنگھ کی ولولہ انگیز گفتگو تمام سننے والوں کو جوش دلا دیتی تھی۔ نوجوانوں کے ساتھ ان کی گفتگو کا عمومی موضوع یہی ہوتا تھا۔ اجوائے گھوش نے انہیں سرابھا کے بارے میں بات کرتے سنا تھا۔ اجوائے نے بعد میں لکھا: “کرتار سنگھ ایک ایسا شخص تھا جس کے دشمن بھی معترف تھے۔ ایک نڈر جنگجو اور عظیم منتظم، میں لفظی طور پر ان کی پوجا کرتا تھا اور اپنے ہیرو کے بارے میں کسی کو اتنے متاثر کن انداز میں بات کرتے سننا بڑی خوشی کی بات تھی۔ مجھے بھگت سنگھ اچھے لگنے لگے۔”
1920 کی دہائی کے نوجوانوں کو کانگریس کی سیاست بالکل متاثر نہیں کرتی تھی۔ کانگریس ایک لبرل ادارہ تھا جو برطانوی حکمرانوں کی نیک نیتی، ان کے امن و امان کے دعوؤں اور آئین پسندی کے بارے میں ہر طرح کے واہموں کا شکار تھا۔ اس لیے نوجوانوں نے کانگریس کی سیاست کو مسترد کر دیا اور برطانوی سامراج پر بھرپور ضرب لگانا چاہتے تھے۔ وہ انقلاب اور انقلابی تبدیلی لانے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
نوجوان بھارت سبھا کے چند ماہ کے کام کے بعد اس میں دو اہم رجحانات ابھرے۔ ایک رجحان کی نمائندگی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی کر رہے تھے۔ جیسا کہ ان کے ساتھ میری بحث کے بعد واضح ہوا، یہ ایک اقلیتی رجحان تھا۔ بھگت سنگھ بموں اور پستولوں کے استعمال کے ذریعے فوری طور پر کچھ کرنا چاہتے تھے تاکہ ان سوئے ہوئے نوجوانوں اور طلبہ کو سیاسی طور پر بیدار کیا جا سکے جو مادرِ وطن کے تئیں اپنا فرض بھول چکے تھے۔ وہ کچھ ایسا دھماکہ خیز کرنا چاہتے تھے جو انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے اور وہ ہندوستان کی روح فرسا برطانوی غلامی کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جائیں اور کیریئر بنانے کے تمام خیالات چھوڑ کر آزادی کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے آگے بڑھیں۔ وہ اتنا طویل انتظار نہیں کر سکتے تھے کہ جب مزدور اور کسان مناسب طریقے سے منظم ہوں گے، جب انقلابی صورتحال پختہ ہوگی اور انقلاب شروع کرنے کی پکار آئے گی۔ وہ زور دے کر کہتے، “ہمارا نوجوان گرم خون اتنا لمبا انتظار نہیں کر سکتا۔”
اپنے نظریے کی حمایت میں ان کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ “ایک اکیلا عمل چند دنوں میں ہزار پمفلٹوں سے زیادہ پروپیگنڈا کرتا ہے… ایک عمل دوسرے کو جنم دیتا ہے، مخالفین بغاوت میں شامل ہو جاتے ہیں، حکومت دھڑوں میں بٹ جاتی ہے؛ سختی تصادم کو تیز کرتی ہے، مراعات بہت دیر سے آتی ہیں، اور انقلاب برپا ہو جاتا ہے…” کبھی کبھی وہ مبالغہ آرائی سے یہاں تک کہہ دیتے کہ مشعل یا بارود کے ساتھ بغاوت کرنے والا ایک انسان پوری دنیا کو سبق سکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان الفاظ نے کچے اور ناتجربہ کار نوجوانوں کے ذہنوں کو بہت متاثر کیا۔ میں خود بھی ناتجربہ کار اور ناسمجھ تھا۔ میں تب مارکسزم کے بارے میں اتنا نہیں جانتا تھا کہ دہشت گردی اور مارکسزم کے درمیان فرق کر سکوں، جس میں ان مزدوروں اور کسانوں کی تنظیم سازی پر زور دیا جاتا ہے جو حقیقی ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور جن کی آزادی کے لیے ہم اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں دہشت گردانہ نقطہ نظر سے خود کو الگ کرنے کے لیے ایک مضمون تک نہ لکھ سکا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول، مارکسی لٹریچر کی عدم دستیابی اور میں ایک نوآموز تھا جس میں جوش تو بہت تھا لیکن مارکسزم کا علم کم تھا۔ دوم، مسلح جدوجہد کا غدر پارٹی کا نظریہ اور غدر کے ہیروز کی بے مثال قربانیاں میری سوچ پر گہرا اثر رکھتی تھیں۔
لیکن اس کمزوری اور ناتجربہ کاری کے باوجود، ‘کرتی’ گروہ نے نوجوان بھارت سبھا کی تحریک میں اکثریتی مارکسی رجحان کی نمائندگی کی، کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے، ان کے زرعی اور معاشی مطالبات کے لیے لڑنے اور انہیں آزادی کی جدوجہد میں ان کے سیاسی کردار سے آگاہ کرنے پر زور دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ آزادی حاصل کرنا ان کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ وہ برطانوی راج میں سب سے زیادہ مظلوم اور بے دردی سے استحصال زدہ طبقات تھے، اس لیے انہیں منظم ہونا چاہیے اور عوامی انقلاب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ہم نے ان مسائل پر کئی بار بحث کی تھی۔ ‘کرتی’ گروہ اپنے موقف پر قائم رہا اور نوجوان بھارت سبھا اور کرتی کسان پارٹی کے ذریعے اپنی لائن پر عمل درآمد جاری رکھا، کسانوں اور مزدوروں کو ان کے معاشی مطالبات کے گرد منظم کیا۔ بھگت سنگھ اور ان کے گروہ نے اپنی لائن پر عمل کرنا شروع کر دیا، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ وہ جس چیز پر یقین رکھتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ مجھے لاہور میں ان کے ملنے کی جگہ پر لے جایا گیا۔ وہ گھر، جو خوب سجایا ہوا اور صاف ستھرا تھا اور جس کی دیوار پر کروپوٹکن اور باکونین کی تصویریں لگی ہوئی تھیں، شاید بھگوتی چرن ووہرا کا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ میں نے ان کا اعتماد جیت لیا ہے۔
اردو ‘کرتی’ کا پہلا شمارہ اپریل 1928 میں امرتسر سے پنجابی ‘کرتی’ کے ساتھ ہی نکلا تاکہ قارئین کے وسیع حلقے تک پہنچ سکے۔ میں چیف ایڈیٹر تھا اور فیروز الدین منصور، جنہیں پشاور سازش کیس میں سزا سنائی گئی تھی، اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔ ہم نے بھگت سنگھ سے اردو ‘کرتی’ کے عملے میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا۔ اس وقت وہ اپنے والد کے ساتھ اسی مسئلے کا سامنا کر رہے تھے جس کا سامنا ان تمام نوجوانوں کو کرنا پڑتا تھا جو برطانوی راج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کی ہمت کرتے تھے۔ ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی خفیہ سوسائٹی میں کام کریں۔ لیکن بھگت سنگھ نے یوپی اور بنگال میں کام کرنے والی خفیہ سوسائٹیوں سے روابط قائم کر لیے تھے۔ پنجاب میں ان کا گروپ، جو سکھ دیو، احسان الٰہی، بھگوتی چرن، دھنونتری اور دیگر پر مشتمل تھا، کافی منظم اور مضبوط تھا۔ ان کے والد کو اس کا علم ہو گیا اور انہوں نے انہیں ان خفیہ سرگرمیوں سے باز رہنے کو کہا اور انہیں انڈین نیشنل کانگریس میں کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
چونکہ بھگت سنگھ پکے نظریات کے مالک تھے، اس لیے وہ نہ مانے اور کچھ عرصے کے لیے گھر چھوڑ دیا، پہلے دہلی گئے اور پھر کانپور جہاں وہ عظیم محب وطن گنیش شنکر ودیارتھی کے رابطے میں آئے اور کچھ عرصہ ان کے روزنامہ ‘پرتاپ’ میں کام کیا۔ وہ ‘کرتی’ میں شامل ہونے پر راضی ہو گئے اور تقریباً تین ماہ تک کام کیا اور پھر غائب ہو گئے۔
مجھے یاد ہے کہ ‘کرتی’ کی انتظامیہ نے انہیں ایک بار 800 روپے اور دوسری بار 300 روپے دیے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، یہ اس رقم کے علاوہ تھی جو ہم انہیں ان کے کام کے عوض ادا کرتے تھے۔
ان کے ساتھ بحث و مباحثے میں میں نے پایا کہ بھگت سنگھ کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ ملحد تھے۔ کچھ آریہ سماجیوں نے ان کی شہادت کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ وہ آریہ سماجی تھے۔ کچھ سکھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سکھ تھے۔ حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں تھے۔ وہ کہتے، “میں ایک عام انسان ہوں، بس اتنا ہی۔” وہ ان مذہبی و فرقہ وارانہ رہنماؤں سے نفرت کرتے تھے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے مذہب کا استحصال کرتے تھے اور بے شرمی سے اسے برطانوی افسران کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ وہ فرقہ وارانہ فسادات کے بار بار ہونے پر دکھی تھے جن کی مدد سے برطانوی ظالم ہندوستان کی غلامی کو طول دے رہے تھے۔
بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی قوم پرست انقلابی تھے جو برطانوی حکمرانوں کو نکال باہر کرنا چاہتے تھے اور ہندوستان میں آزادی اور سوشلزم قائم کرنے کے خواہاں تھے۔ برطانوی سامراجیوں نے، جو ہندوستانی آزادی کے دشمن تھے، انہیں ہندوستانی عوام کی نظروں میں بدنام کرنے کے لیے “دہشت گرد” یا “انتہا پسند” (انارکسٹ) قرار دیا۔ وہ نہ تو دہشت گرد تھے اور نہ ہی ویسے انتہا پسند جیسا کہ یورپ میں ان اصطلاحات کو جانا جاتا ہے، البتہ وہ ان کے کچھ سیاسی نظریات سے متفق تھے۔ وہ ہندوستان کو آزاد کرانے کے مقصد کے لیے انتہائی ایثار پسند، نہایت دیانت دار اور بے غرض وقف رہنے والے لوگ تھے۔ وہ خون چوسنے والے برطانوی سامراجیوں اور ان کے حلیفوں کے ہاتھوں محنت کش طبقے اور ہندوستانی عوام کے استحصال سے نفرت کرتے تھے، اور محنت کش عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار اور مستعد تھے۔
انہوں نے برطانوی غلامی کے خاتمے کے لیے کسی بھی قسم کی جدوجہد سے گریز نہیں کیا۔ پرتشدد ہو یا عدم تشدد پر مبنی، پرامن ہو یا غیر پرامن، ان کی نظر میں وہ تمام ذرائع جائز تھے بشرطیکہ وہ آزادی کے مقصد کو آگے بڑھائیں۔ لیکن ان کی ترجیح انفرادی یا گروہی کارروائی تھی اور وہ برطانوی جبر کا مقابلہ حب الوطنی پر مبنی جوابی کارروائی سے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ برطانوی حکمرانوں کی جانب سے پریس کی آزادی، اظہارِ رائے اور تنظیم سازی پر مسلسل پابندیوں نے انہیں میدانِ عمل میں اتارا۔ پسماندہ پنجاب میں ابھی محنت کش طبقہ اور اس کی جماعت اس شکل میں نہیں آئی تھی کہ انہیں مارکسی نظریے سے متاثر کر سکے۔ وہ، یوں کہہ لیجیے کہ، ایسے بے صبرے مححبِ وطن تھے جو “انتظار کرو اور دیکھو” یا “دھیرے چلو” کی پالیسی سے بیزار تھے۔ وہ سن کر دینے والے برطانوی راج کے تحت ہندوستانی عوام کی مسلسل تذلیل، پست ہمتی اور انسانیت کی تذلیل کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور جلد از جلد اس سے چھٹکارا پانا چاہتے تھے اور برطانوی استبداد کے فوری خاتمے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے تھے۔ اس نکتے پر بھگت سنگھ کے ساتھی اور شریکِ ملزم اجوائے گھوش نے، جو بعد میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے صفِ اول کے رہنما بنے، کہا:
“جہاں تک اس اہم ترین سوال کا تعلق ہے کہ آزادی اور سوشلزم کی جنگ کس طرح لڑی جائے، تو افراد اور گروہوں کی جانب سے مسلح کارروائی ہمارا فوری ہدف رہنا تھا۔ ہمارا ماننا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور چیز آئین پسندی کے واہموں کو پاش پاش نہیں کر سکتی، اور نہ ہی ملک کو خوف کے اس شکنجے سے آزاد کرا سکتی ہے جس میں وہ جکڑا ہوا ہے۔ جب ہمارے ذریعے منتخب مقامات پر اور مناسب مواقع پر حکومت کے سب سے زیادہ نفرت انگیز افسران کے خلاف ضربوں کے ایک سلسلے سے اس جمود کو توڑ دیا جاتا اور عوامی تحریک شروع ہو جاتی، تو ہم خود کو اس تحریک سے جوڑ لیتے، اس کے مسلح دستے کے طور پر کام کرتے اور اسے سوشلسٹ سمت عطا کرتے۔”
سال 1928 اور 1929 میں ہندوستانی نوجوانوں میں ایک عظیم سیاسی بیداری دیکھی گئی۔ نوجوان بھارت سبھا کا قیام اور اس کی وسیع پیمانے پر سرگرمیاں اس کا ثبوت تھیں۔ طلبہ کی یونینیں بننا شروع ہو گئی تھیں۔ روسی انقلاب کے اثرات کافی حد تک پھیل چکے تھے اور ہمارے ملک کے نوجوانوں کو مسلسل متاثر کر رہے تھے، اور روسی انقلاب کے خالق اور رہنما لینن کا نام ہندوستانی پریس میں، اگرچہ منفی رنگ میں ہی سہی، بڑے پیمانے پر مشہور ہو چکا تھا۔ لیکن ہندوستان کے دانشور نوجوانوں کے ذہنوں میں لینن انقلاب کی علامت بن چکا تھا۔
اجوائے گھوش نے انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت کے بارے میں دانشور نوجوانوں کے سیاسی رویے اور ذہنی کیفیت کا درست نقشہ کھینچا: “ہم موجودہ قومی قیادت، اس کی آئین پسندی اور اندر سے نظام بدلنے کے نعروں سے بیزار ہو کر ان پر اعتماد کھو چکے تھے۔” اکالی تحریک کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد، کوئی قابلِ ذکر سیاسی تحریک موجود نہیں تھی۔ نوجوان بھارت سبھا واحد ادارہ تھا جو پنجاب میں کھلے عام، دلیری اور بے خوفی سے احتجاجی کام کر رہا تھا۔ ہندوستان میں کمیونسٹ گروپ، ورکرز اینڈ پیزنٹس پارٹی اور ٹریڈ یونینوں، نوجوان بھارت سبھا یا یوتھ لیگوں کے ذریعے کام کر رہے تھے، اور قومی انقلابی نوجوانوں کی بنگال، پنجاب، یوپی اور بہار وغیرہ میں اپنی خفیہ سوسائٹیاں تھیں جو ملک میں سیاسی جمود کو توڑنے کے لیے کچھ کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
اس وقت کی سب سے اہم تحریک سائمن کمیشن کا بائیکاٹ تھی۔ ہندوستان پر صرف گوروں پر مشتمل سائمن کمیشن کے مسلط کیے جانے نے پورے ہندوستان کو جھنجھوڑ دیا اور کانگریس، کمیونسٹ، سوشلسٹ اور قومی انقلابیوں سمیت تمام زندہ قوتوں اور جماعتوں کو متحد کر دیا۔ یہ کمیشن جہاں کہیں بھی شہادتیں قلمبند کرنے گیا، “سائمن واپس جاؤ!” کے نعروں نے اس کا استقبال کیا۔ وہ عظیم دن تھے جنہوں نے اس ولولہ انگیز تحریکِ عدم تعاون کی یاد تازہ کر دی جسے مہاتما گاندھی نے واپس لے کر ملک کو پست ہمتی، غم اور مایوسی میں دھکیل دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کا کانگریس کے تجویز کردہ پرامن طریقوں سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔
سائمن کمیشن 30 اکتوبر 1928 کو لاہور آیا۔ کانگریس، نوجوان بھارت سبھا اور سٹوڈنٹس یونین نے اس کے بائیکاٹ کے لیے لاہور میں جلسے کیے۔ نوجوان بھارت سبھا کی ضلعی شاخوں اور ہندوستانی سیوا دل سے رہنماؤں نے خطاب کیا اور لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
29 اکتوبر کو، یعنی ایک دن پہلے، لاہور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سکاٹ نے احکامات جاری کیے جس میں “عوام کو اس جلوس کو منظم کرنے یا اس میں شامل ہونے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی تھی جس کی ایس ایس پی نے اجازت نہیں دی تھی”۔ اسی شام ایک عوامی جلسہ منعقد ہوا جس میں اس حکم کی مذمت کی گئی اور عوام سے اسے چیلنج کرنے کی اپیل کی گئی۔
30 اکتوبر کو ہزاروں لوگ جلوس میں شامل ہوئے جس کی قیادت لالہ لاجپت رائے، مدن موہن مالویہ اور دیگر غیر کانگریسی رہنما کر رہے تھے، جنہوں نے سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر یہ نعرے درج تھے: “سائمن واپس جاؤ! ہمیں مکمل آزادی چاہیے! غیر ملکی حکومت ایک لعنت ہے؛ جب تک یہ قائم ہے، قحط جاری رہیں گے! وغیرہ۔” جلوس پرامن اور منظم تھا۔
لیکن جب یہ رکاوٹوں تک پہنچا، تو پولیس نے لالہ لاجپت رائے اور دیگر رہنماؤں پر دانستہ اور بلا اشتعال حملہ کر دیا۔ لالہ جی اگلی صفوں میں تھے اور انہیں لاٹھیوں کی سب سے زیادہ ضربیں لگیں۔ لالہ جی کا انتقال 17 نومبر کو ہوا۔ دو ڈاکٹروں نے پریس کو بیان جاری کیا کہ “30 اکتوبر کو لگنے والی چوٹوں نے بلاشبہ ان کی وفات کے عمل کو تیز کر دیا”۔ پورا ملک صدمے میں تھا۔ 29 نومبر کو پورے ہندوستان میں ‘لاجپت رائے ڈے’ منایا گیا۔ پولیس افسران میں سے ایک سانڈرس بھی وہاں موجود تھا اور اس نے لاٹھی چارج میں حصہ لیا تھا۔ ہر ایک کی زبان پر یہ بات تھی کہ پولیس نے لالہ لاجپت رائے کو قتل کیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ نفرت انگیز پولیس افسر سکاٹ تھا، جو سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تھا۔ وہ لاہور کے قلعے کے اندر سیاسی مشتبہ افراد کی کھال ادھیڑتا تھا، انہیں ان کہے طریقوں سے تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور نوجوانوں کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تیسرے درجے کے ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا۔ لالہ لاجپت رائے کی موت نے سکاٹ کے خلاف اس نفرت کو مزید تیز کر دیا۔ بھگت سنگھ کے گروپ نے اس کے بارے میں کچھ کرنے کے منصوبے بنانا شروع کر دیے۔
نوجوان بھارت سبھا نے 16 دسمبر 1928 کو کاکوری کیس کے شہدا کا دن منانے کی قرارداد منظور کی تھی اور اپنی شاخوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جلسے کریں اور واضح کریں کہ انہیں کیوں پھانسی دی گئی۔ ہم نے اس سلسلے میں ایک اشتہار بھی جاری کیا تھا۔ میں اس دن جلیانوالہ باغ کے جلسے کا مرکزی مقرر تھا۔ پنجابی میں دی گئی میری تقریر سی آئی ڈی (خفیہ پولیس) نے محفوظ کر لی ہے۔ یہ اردو رسم الخط میں چار بڑے صفحات پر محیط ہے۔ میں نے کہا:
“…کاکوری کے لوگوں نے ہندوستان کو آزاد کرانے کے مقصد کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر ڈکیتی کی تھی۔ ان میں سے چار کو اس کارروائی کے رہنما ہونے کی وجہ سے پھانسی دے دی گئی اور کچھ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جب ہم نے اس جلسے کی تشہیر کے لیے اشتہار شائع کیا، تو کچھ دوستوں نے کہا ‘تم بھی اسی راستے پر جا رہے ہو۔’ میں آپ کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہماری نوجوان بھارت سبھا دہشت گردی پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انفرادی دہشت گردی دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ دہشت گردانہ طریقوں سے چند لوگوں کو قتل کرنا ممکن ہے؛ لیکن ان کی جگہ دوسرے آ جائیں گے۔ اس طرح ہم نہ تو نظام بدل سکتے ہیں اور نہ ہی ناانصافی اور ظلم کو ختم کر سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو قتل نہ کیا جائے بلکہ نظام کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں۔ اسی لیے ہم عوامی سول نافرمانی یا بڑے پیمانے پر ٹیکس نہ دینے کی مہم کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہم تنظیم سازی پر زور دیتے ہیں۔”
مزید برآں میں نے اس بات پر زور دیا کہ “جب تک عوام ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے، جب تک طبقاتی شعور پیدا نہیں کیا جائے گا، ہم آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔ بمبئی میں ایک لاکھ پچاس ہزار مل مزدور ہڑتال پر چلے گئے جنہوں نے مل مالکان کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنظیم سازی سے ہماری مراد یہی ہے۔”
حکومت کی رپورٹ کہتی ہے کہ سوہن سنگھ جوش نے کاکوری ڈے پر قابلِ اعتراض تقریر کی، “کاکوری کے ‘شہدا’ کے نظریات کی تعریف کی اور ان کے طریقوں کی طرف توجہ دلائی، لیکن ساتھ ہی احتیاط کے ساتھ خود کو اور اپنی پارٹی کو سیاسی آزادی کے حصول کے لیے دہشت گردی کے استعمال سے الگ رکھا”۔
یہ وہ حدِ فاصل تھی جو میں نے نوجوان بھارت سبھا میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے دہشت گردانہ رجحان کے درمیان کھینچی تھی۔ اوپر نقل کی گئی حکومتی رپورٹ کے ان الفاظ کا یہی مطلب ہے کہ “سبھا کی بحالی” کا آغاز اپریل 1928 کی کانفرنس سے ہوا اور “سبھا کی پالیسی میں اب امرتسر کے ‘کرتی’ گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی واضح توسیع کر دی گئی ہے”۔
لاہور اور دیگر مقامات کے یونٹوں نے بھی کاکوری کے شہدا کا دن منایا تھا، لیکن وہاں کے مقررین نے خود کو دہشت گردانہ رجحان سے الگ نہیں کیا۔ تاہم سرکاری افسران کے لیے اس فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیونکہ وہ دہشت گردی کو شیطان اور کمیونزم کو گہرا سمندر (آگے کنواں پیچھے کھائی) سمجھتے تھے۔
اگلے دن، یعنی 17 دسمبر کو، دوپہر کے قریب ایک پولیس افسر کو کچھ انقلابیوں نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ پولیس ہیڈ کوارٹر سے باہر آ رہا تھا۔ شام کو امرتسر میں ہر طرف افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ قتل ہونے والا شخص ایس ایس پی سکاٹ ہے، کچھ کا کہنا تھا کہ وہ سانڈرس ہے۔ ایک اور ہندوستانی بھی مارا گیا کیونکہ اس نے تنبیہ پر کان نہیں دھرا اور ان کا تعاقب جاری رکھا۔
اجوائے گھوش نے لکھا: “ہماری پارٹی نے ضرب لگانے کا فیصلہ کیا۔ نومبر 1928 میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سانڈرس کو، جس نے جلوس پر لاٹھی چارج کی قیادت کی تھی، لاہور میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ ایک بروقت اور دلیری سے انجام دی گئی کارروائی تھی جسے عوام نے خوشی کے ساتھ سراہا۔ ضربوں کا وہ سلسلہ شروع ہو چکا تھا جس کے ذریعے ہم ملک کو جھنجھوڑنے کی توقع رکھتے تھے۔”
اسی رات (17 دسمبر) گیارہ بجے کے کچھ دیر بعد اسلام آباد کے باڑہ چرا میں کسی نے میرے دروازے پر دستک دی۔ میں گھر میں اکیلا تھا، میرا خاندان گاؤں چیتن پورہ (امرتسر) گیا ہوا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب باہر بھگت سنگھ اور سکھ دیو کھڑے تھے۔ میں نے ان کا استقبال کیا لیکن ان سے کہا کہ میرے گھر آنا کافی پرخطر ہے کیونکہ پولیس کسی بھی وقت چھاپہ مار سکتی ہے۔ لیکن بھگت سنگھ نے کہا: “فکر نہ کریں، ہم نے تمام انتظامات کر لیے ہیں۔” وہ اندر آئے اور کہا: “ہمیں بھوک لگی ہے، ہمیں کچھ کھانے کو دیں۔” میں صرف دو چپاتیاں، کچھ سبزی اور ایک گلاس دودھ ہی پیش کر سکتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم تازہ کھانا پکا سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا، “اس کی ضرورت نہیں، ہم بات کریں گے اور سو جائیں گے…”
بھگت سنگھ نے محسوساتی ٹوپی (فیلٹ ہیٹ) اور انگریزی طرز کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ ان کپڑوں میں وہ بالکل پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ سکھ دیو نے بھی انگریزی ٹوپی اور سوٹ پہن رکھا تھا۔ بھگت سنگھ نے اپنی ٹوپی اتاری اور پاس والی میز پر رکھ دی۔ اس نے اپنا پستول چارپائی کے اوپر لگی کھونٹی پر ٹانگ دیا۔ پھر وہ مختصر سا کھانا ختم کرنے کے بعد انہوں نے جو پہلا سوال مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ “سانڈرس کے قتل پر عمومی ردعمل کیا ہے؟” اب مجھے معلوم ہوا کہ قتل ہونے والا شخص سانڈرس تھا۔
میں نے جواب دیا، “نوجوان خوش ہیں۔ لیکن اگر سکاٹ مارا جاتا تو وہ زیادہ خوش ہوتے۔”
انہوں نے کہا، “ہم وہاں صرف اسی (سکاٹ) کے لیے گئے تھے، لیکن وہ دوسرا شیطان باہر آ گیا، اور اتنی تگ و دو اور تیاری کے بعد آخر ہم خالی ہاتھ واپس تو نہیں جا سکتے تھے۔” اور پھر انہوں نے مزید کہا، “بہرحال، ایک آغاز تو ہو گیا ہے۔”
میں نے بات آگے بڑھائی، “اس قتل کے بارے میں ایک اور رائے بھی ہے، جو گاندھی کے پیروکاروں کی ہے۔”
انہوں نے کہا، “ہمیں اس کا پہلے سے علم تھا۔ ہم نے اس کارروائی کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس پر بحث کی تھی۔” پھر انہوں نے حقارت سے اضافہ کیا: “گاندھی نے چوری چورا کے واقعے کے بعد تحریکِ عدم تعاون (1921-22) کو واپس لے کر قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔”
برطانوی حکمرانوں میں سراسیمگی اور آخری ملاقات
بھگت سنگھ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “لوگ اب بھی اس مایوسی اور بددلی کے سائے میں ہیں جو اس (گاندھی) نے ملک میں پیدا کی تھی۔” پھر انہوں نے پوچھا، “لیکن اسے چھوڑیے، کیا آپ جانتے ہیں کہ سانڈرس کے قتل کا برطانوی حکمرانوں پر کیا اثر ہوا ہے؟” میں نے جواب دیا، “میں نہیں جانتا، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔” انہوں نے کہا، “ان میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ تو اپنی بیویوں اور بچوں کے انگلستان واپسی کے ٹکٹ بھی بک کرا چکے ہیں۔ وہ بری طرح خوفزدہ ہیں۔”
میں نے اپنی رائے دی، “لیکن یہ سراسیمگی عارضی ہے، جلد ہی ختم ہو جائے گی۔” انہوں نے پوچھا، “آپ اس کارروائی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟” میں نے کہا، “میرے خیالات آپ جانتے ہیں۔ ہم اس بارے میں کئی بار بات کر چکے ہیں۔ ہمارے ‘نوجوان بھارت سبھا’ کے کارکن گرفتار ہوں گے، جبر و تشدد بڑھے گا اور تحریک کو نقصان پہنچے گا، وہ پیچھے ہٹ جائے گی۔” انہوں نے کہا، “میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ کارروائی عوام کو بیدار کرے گی اور تحریک کو مضبوط بنائے گی۔”
اس پوری گفتگو کے دوران سکھ دیو نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ وہ مجھ سے پہلی بار مل رہے تھے۔ پھر بھگت سنگھ نے پوچھا کہ میں کانفرنس کے لیے کلکتہ کب جا رہا ہوں۔ میں نے جواب دیا، “کل۔” انہوں نے کہا، “آپ اپنے راستے پر چلیں، ہم اپنے راستے پر۔” اس کے ساتھ ہی ہماری گفتگو ختم ہوگئی۔
گھر میں صرف دو چارپائیاں تھیں۔ سکھ دیو ایک پر سو گئے جبکہ میں اور بھگت سنگھ نے بڑی چارپائی بانٹ لی۔ وہ صبح چار بجنے سے کچھ پہلے بیدار ہو گئے تاکہ روانگی کے لیے تیار ہو سکیں۔ میز پر ٹی اسپرٹلنگ کی ایک کتاب ‘لبریٹی اینڈ دی گریٹ لبریٹیرینز’ (آزادی اور عظیم علمبردارانِ آزادی) پڑی تھی۔ یہ بورژوا انقلابیوں کے اقوال کی کتاب تھی جس نے مجھے کمیونسٹ تحریک کی طرف آنے میں بہت مدد دی تھی۔ یہ مجھے لاہور قلعہ میں اکالی رہنماؤں کے سازش کیس کے دوران ملی تھی۔ اس پر سب انسپکٹر دریاؤ سنگھ کے دستخطوں کے ساتھ سنسر کی مہر لگی تھی اور میرا نام درج تھا۔ میں اسے دینے میں ہچکچا رہا تھا، لیکن انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اسے پڑھ کر واپس کر دیں گے اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور جدا ہو گئے۔ انہوں نے کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔
میں منگل 18 دسمبر کو کلکتہ روانہ ہوا تاکہ وہاں منعقد ہونے والی ‘آل انڈیا ورکرز اینڈ پیزنٹس کانفرنس’ کی صدارت کر سکوں۔ بھاگ سنگھ، فیروز الدین منصور (جو ماسکو سے لوٹے تھے) اور تین دیگر ساتھی میرے ساتھ تھے۔ جیسا کہ متوقع تھا، 19 دسمبر کو لاہور میں نوجوان بھارت سبھا اور طلبہ یونین سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومتِ ہند نے حکومتِ پنجاب سے دریافت کیا کہ وہ سانڈرس کے قاتلوں کے حوالے سے کیا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ وہ “نہایت مستعدی” سے تفتیش کر رہی ہے۔ 16 افراد کو “قتل کے جائز شبہ، قتل کی ترغیب اور مجرمانہ سازش” کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تین مزید افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے جن میں مہتا آنند کشور، سوہن سنگھ جوش (نمبر 18)، صدر نوجوان بھارت سبھا امرتسر، اور رام چندر شامل تھے۔
گرفتار ہونے والے اہم ترین افراد میں دھنونتری، وریندر، احمد دین، کیدار ناتھ سہگل، میر محمد افضل، سنت رام پاندھا، میر عبدالمجید (لاہور)، ہری رام سیٹھی (راولپنڈی)، کیشب بندھو (کشمیر) اور راج کشور سنگھ (یوپی) وغیرہ شامل تھے۔ چونکہ میں پنجاب کی حدود پار کر چکا تھا، اس لیے پنجاب حکومت نے حکومتِ ہند کو مجھے گرفتار کرنے کے لیے تار بھیجا۔ حکومتِ ہند نے بنگال حکومت کو ٹیلی گراف کے ذریعے میری گرفتاری کا حوالہ دیا، جس پر انہوں نے جواب دیا، “چونکہ سوہن سنگھ جوش کو ورکرز اینڈ پیزنٹس کانفرنس کی صدارت کرنی ہے، اس لیے بنگال حکومت کی درخواست پر ان کی گرفتاری کانفرنس کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ہے۔”
20 دسمبر کو ہم صبح 8 بجے کلکتہ پہنچے، کشتی کے ذریعے دریا عبور کیا اور 121 لوئر سرکولر روڈ پر قیام کیا۔ آل انڈیا ورکرز اینڈ پیزنٹس کانفرنس 21 دسمبر کو دوپہر دو بجے کے بعد البرٹ ہال میں شروع ہوئی۔ میں نے اپنا تحریری خطاب پڑھا اور شام ساڑھے چھ بجے اجلاس برخاست ہوا۔ 22 دسمبر کو چھٹی تھی۔ اتوار 23 دسمبر کو کانفرنس کا دوبارہ اجلاس ہوا اور کام کاج جاری رہا۔ 24 دسمبر کو، جب میں کانفرنس کی صدارت کر رہا تھا، ایک پیغام آیا کہ کوئی شخص باہر مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے معذرت کی کہ صدارت کی وجہ سے میں کانفرنس چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ لیکن پیغام رساں بضد تھا کہ میں اس شخص سے ملنے اس کے ساتھ چلوں۔ میں نے ایک اور ساتھی سے صدارت سنبھالنے کی درخواست کی اور اس شخص کے ساتھ ہال سے باہر آ گیا۔
تقریباً ایک فرلانگ چلنے کے بعد، میں اور میرا رہنما ایک حجامت کی دکان (سیلون) میں داخل ہوئے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ بھگت سنگھ ایک کرسی پر بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں ہکا بکا رہ گیا! ذرا سوچیے، جوش لمبی داڑھی اور سکھ وضع قطع کے تمام لوازمات کے ساتھ کلکتہ کے ایک سیلون میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ خفیہ پولیس (سی آئی ڈی) اس کا پیچھا کر رہی ہے اور ہر جگہ بھگت سنگھ کو تلاش کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف مشکوک حالات پیدا کر رہا تھا بلکہ دشمن کو ہمیں گرفتار کرنے کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ میں نے اسے اس بیوقوفی پر ڈانٹا۔ وہ ہنسا اور ہمیشہ کی طرح لاپرواہی سے جواب دیا: “فکر نہ کریں، کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نے تمام انتظامات کر رکھے ہیں۔” اس نے کیا انتظامات کیے تھے، میں آج تک نہیں جانتا۔
پھر کانفرنس میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اس نے مجھ سے اس کی کارروائی، شریک اہم رہنماؤں اور نمائندگی کرنے والے صوبوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ یہ تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد اس نے کہا: “آپ مزدوروں اور کسانوں کو منظم کرنے کا کام کریں اور ہم برطانوی حکمرانوں کو غیر منظم (تتر بتر) کریں گے۔ آئیے کام کی یہ تقسیم کر لیں۔” کلکتہ میں رہتے ہوئے اس نے دیگر قابلِ اعتماد لوگوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جیسا کہ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا۔ بردوان میں اس نے 1929 کے آغاز میں نرالمبا سوامی (سابقہ جتیندر ناتھ بنرجی) سے ملاقات کی۔
تقریباً 20 منٹ بعد میں باہر آ گیا اور اسے سیلون میں چھوڑ کر واپس کانفرنس ہال پہنچ گیا۔ لوگ حجامت کے لیے آ جا رہے تھے۔ ایسی سیاسی گفتگو کے لیے یہ مناسب جگہ نہیں تھی۔
یہ بھگت سنگھ سے میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد ہم کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملے۔ مجھے کانفرنس کے فوراً بعد گرفتار نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اس دوران اپنا ارادہ بدل لیا تھا اور ہمیں پکڑنے کے لیے ایک وسیع جال بچھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈی پیٹڑی اور آر اے ہارٹن حکومتِ ہند کی جانب سے ٹریڈ یونین رہنماؤں، کسان لیڈروں اور کمیونسٹوں کے خلاف ایک کمیونسٹ سازش کا کیس تیار کر رہے تھے۔ “ہارٹن اور میں اس امید کے ساتھ اسے فوراً عدالت میں پیش کرنے کے لیے تیار ہیں کہ سزا ضرور ملے گی” (ڈی پیٹڑی، 15 جنوری 1929)۔ “میری سوچی سمجھی رائے میں 29 افراد کے خلاف سازش کا مضبوط کیس قائم کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوں گے (ناموں کی فہرست دی گئی، لیکن حتمی نہیں)” (ایچ اے ہارٹن، 15 جنوری 1929)۔ وزیرِ ہند نے، دو انگریزوں کے ملوث ہونے کی وجہ سے تھوڑی لیت و لعل کے بعد، اس سازش کے کیس کی منظوری دے دی۔ بعد میں ایک تیسرا انگریز بھی شامل کر لیا گیا۔ حکومت کا مقصد ہندوستان میں کمیونسٹ تحریک کو کچلنا تھا۔
مجھے 20 مارچ 1929 کو میرٹھ کمیونسٹ سازش کیس میں پنجاب، یوپی، بنگال اور بمبئی کے 32 دیگر کمیونسٹ، ٹریڈ یونین اور ورکرز اینڈ پیزنٹس پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور میرے تمام کاغذات، خط و کتابت، رسالے اور کتابیں میرے گاؤں اور امرتسر کے دفتر و رہائش گاہ سے لے کر میرٹھ منتقل کر دی گئیں۔
ہماری گرفتاری کے بعد، مجھے معلوم تھا کہ بھگت سنگھ اور ان کا گروہ کچھ ہمت والا کام کرے گا۔ ہماری گرفتاری سے پہلے ملک میں ایک طرح کا جمود اور خاموشی تھی جس نے پورے ملک کی توجہ میرٹھ کی طرف مبذول کرا دی۔ سازش کے کیس میں تین انگریزوں کو ملزم کے طور پر شامل کرنے سے اسے مزید اہمیت مل گئی۔ دہلی کے تمام روزناموں نے اپنے نمائندے میرٹھ بھیجے جو خبروں کا ایک بڑا مرکز بن گیا اور یہ کہنا پڑے گا کہ پریس نے کیس کی رپورٹنگ میں اپنا سامراج دشمن کردار بخوبی نبھایا۔
9 اپریل 1929 کو دنیا کو معلوم ہوا کہ بھگت سنگھ اور دت نے دہلی کی سنٹرل اسمبلی ہال میں بم پھینکے ہیں تاکہ “بہروں کو سنانے کے لیے ایک زوردار آواز” پیدا کی جا سکے۔ ان کا مقصد سرکاری بنچوں پر بیٹھے برطانوی اراکین یا اپوزیشن میں بیٹھے اراکین کو زخمی کرنا یا قتل کرنا نہیں تھا، بلکہ “پبلک سیفٹی اور ٹریڈ ڈسپیوٹس جیسے نئے جابرانہ قوانین ہم پر مسلط کرنے” کے خلاف احتجاج کرنا اور انتباہ دینا تھا، جبکہ “پریس سیڈیشن بل (بغاوتِ پریس بل) کو اگلے سیشن کے لیے محفوظ رکھا گیا تھا”۔ بھگت سنگھ اور دت نے “کھلے میدان میں کام کرنے والے مزدور رہنماؤں کی اندھادھند گرفتاریوں” کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اس کا اشارہ عام طور پر میرٹھ سازش کیس میں ہونے والی گرفتاریوں کی طرف تھا۔ انہوں نے سنٹرل اسمبلی ہال میں “انقلاب زندہ باد!” کے نعرے لگاتے ہوئے جو اشتہارات پھینکے، ان میں “لالہ لاجپت رائے کے بے رحمانہ قتل” کا بھی ذکر تھا۔
اس جرات مندانہ اقدام نے مجھے بھگت سنگھ کے پنجابی ‘کرتی’ میں لکھے گئے اس مضمون کی یاد دلا دی جس میں انہوں نے فرانسیسی انقلابی ‘وائلنٹ’ کے بارے میں درج ذیل الفاظ لکھے تھے:
“یورپ میں جبر، تسلط اور ظلم حد سے بڑھ گیا تھا۔ انتہا پسندوں (انارکسٹس) نے حکومتوں اور ان کی پولیس کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن وائلنٹ کا بم پھینکنے والا ہاتھ، جب وہ (فرانسیسی) اسمبلی (سرکاری بنچوں) کو نشانہ بنا رہا تھا، ایک عورت نے روکنے کی کوشش میں موڑ دیا، جس سے صرف چند نمائندے ہی زخمی ہوئے اور زیادہ اثر نہ پڑ سکا، پھر بھی اس نے ایک گرجدار بیان دیا کہ: ‘بہروں کو سنانے کے لیے ایک زوردار آواز درکار ہوتی ہے’ اور مزید کہا کہ وہ کسی بھی سزا سے نہیں ڈرتا جو اسے دی جائے گی۔ اس نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ وہ غریبوں پر ظلم کرتے تھے اور ان کا خون چوستے تھے… اسے پھانسی دے دی گئی۔” ایسا لگتا ہے کہ بھگت سنگھ نے اپنے اقدام کا سراغ وائلنٹ کے اسی واقعے سے لیا تھا۔
بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں پر مشہور لاہور سازش کیس میں مقدمہ چلایا گیا، جبکہ میرٹھ میں ہمارے خلاف سازش کا کیس چل رہا تھا۔ ہمارا کیس ابھی جاری ہی تھا کہ یہ خبر آئی کہ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو 23 مارچ 1931 کو شام 7:45 بجے پھانسی دے دی گئی، جو انڈین نیشنل کانگریس کے کراچی سیشن سے بالکل پہلے کا وقت تھا۔ مہاتما گاندھی سے توقع تھی کہ وہ ان کی سزائے موت کو تبدیل کرانے کے حوالے سے ارون سے بات کریں گے۔ لیکن انہوں نے گاندھی-ارون مذاکرات کے دوران انہیں بچانے کے لیے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ میرٹھ کے قیدیوں نے یہ افسوسناک خبر پڑھی۔ میں 24 مارچ 1931 کو ان کی طرف سے عدالت میں کھڑا ہوا اور جج کی طرف سے میرے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے باوجود اس پھانسی کی مذمت کی اور درج ذیل درخواست پیش کی:
“ہم آج ایک بزدلانہ پھانسی کے سنگین سائے میں عدالت میں حاضر ہیں، ساتھیوں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی ایک سفاکانہ قتل—سامراجی انصاف کا ایک انتہائی بھیانک نمونہ—اور سفید فام دہشت گردی کا ایک بزدلانہ فعل ہے۔ یہ بہادر لوگ برطانوی سامراج کے وحشیانہ تسلط کا شکار ہوئے ہیں جس کے خلاف بغاوت کرنے کی انہوں نے جرات اور ہمت کی تھی۔ ہم انہیں ہندوستان میں قومی انقلاب کے مقصد کے لیے شہید تسلیم کرتے ہیں۔ ہم ان کی جرات اور قربانی کے معترف ہیں۔ ہم ان کے ساتھیوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے گہرے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ لہٰذا، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ تعزیت کا یہ ٹیلی گرام ان کی ڈیفنس کمیٹی کو اور ضلعی مجسٹریٹ کو ارسال کریں تاکہ وہ اسے آگے پہنچا دے۔ ٹیلی گرام: سردار کشن سنگھ، بریڈلا ہال، لاہور۔ ہم بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی پر اپنی نفرت اور ان کی شہادت پر اپنی عقیدت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔— میرٹھ کے ملزمان۔”
بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے جیل میں رہتے ہوئے مارکسزم-لینن ازم کا مطالعہ کیا۔ وہ سب پکے نظریاتی کمیونسٹ بن گئے اور ان میں سے زیادہ تر جو پھانسی سے بچ گئے تھے، جیل سے باہر آنے کے بعد کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اجوائے گھوش اور دھنونتری ان میں نمایاں تھے۔
اس طرح ایک عظیم ساتھی اور ایک عظیم دوست نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ہماری پیاری مادرِ وطن کو برطانوی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں اپنی جان دے دی۔ اپنے نڈر اور جرات مندانہ کارناموں کی بدولت بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو نے لافانیت اور ہندوستان کی تاریخ کے سنہری صفحات میں ایک مستقل جگہ حاصل کر لی۔