ایمان، وفاداری اور صبر کی ایک درخشاں داستان
“اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو۔”
نہج البلاغہ
(القرآن 26:214)
اسی پہلی صدا سے — جب بہت سے لوگ پیچھے ہٹ گئے
اور ایک نوجوان علیؑ تنہا رسولِ خدا کے ساتھ کھڑے ہو گئے —
ایک ایسی زندگی کا آغاز ہوا
جو ایمان، شجاعت اور صبر کی زندہ دلیل بن گئی۔
“حق بھاری ہوتا ہے، مگر اس کا بوجھ نجات تک پہنچاتا ہے۔”
تمہید
امام علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی شب ہمیں صرف مسجدِ کوفہ میں ہونے والے اس المناک سانحے پر ہی نہیں بلکہ اس پوری زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے جو ایمان، وفاداری اور صبر کی ایک بے مثال داستان ہے۔
اسلام کے ابتدائی دنوں سے لے کر رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد کے آخری لمحوں تک امام علیؑ ہمیشہ رسالت کے مشن کے مرکز میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
:جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی
“اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو”
(سورہ الشعراء 214)
تو یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کی دعوت ایک محدود دائرے سے نکل کر علانیہ اعلان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسی موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے قبیلے کو جمع کیا۔ یہ تاریخی اجتماع یوم الانذار یا دعوتِ ذوالعشیرہ کے نام سے معروف ہے۔
اس مجلس میں جب بہت سے لوگ تذبذب کا شکار ہوئے یا پیچھے ہٹ گئے تو ایک نوجوان علیؑ نے سب سے پہلے رسولِ خدا کی دعوت پر لبیک کہا۔ اس لمحے ایک کمسن نوجوان کی جرات اور یقین اسلام کی بنیادوں میں شامل ہو گیا۔
لیکن امام علیؑ کی زندگی صرف رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کے پہلے ایمان لانے والے فرد کی داستان نہیں۔ یہ ایک ایسے انسان کی داستان بھی ہے جس کی زندگی رسولِ خدا سے غیر متزلزل وفاداری، خدا کی معرفت اور آزمائشوں کے مقابل غیر معمولی صبر سے عبارت ہے۔
632 عیسوی میں جب رسولِ اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو ان کے جسدِ مبارک کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری بھی علیؑ کے سپرد ہوئی۔ آپؑ نے رسولِ خدا کو غسل دیا، کفن پہنایا، نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں سپردِ خاک کیا۔
شدید غم کے باوجود آپؑ نے اپنے فرائض کو نہایت وقار اور صبر کے ساتھ ادا کیا۔ یوں امام علیؑ کی زندگی ہمیں اسلام کی اس عظیم اخلاقی قدر صبر کی عملی مثال دکھاتی ہے۔
-چنانچہ امام علیؑ کی زندگی ایک مسلسل داستان کی مانند ہے
رسولِ خدا کے گھر میں ایمان کے پہلے اعلان سے لے کر رسولؐ کے وصال کے بعد صبر کے خاموش لمحوں تک۔
یہ زندگی حق کے ساتھ وابستگی، ایمان کی حفاظت کے لیے شجاعت اور تاریخ کے نازک ترین لمحوں میں استقامت کی علامت ہے۔
اس لیے امام علیؑ کو ان کی شہادت کی شب یاد کرنا صرف سوگ منانا نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کو یاد کرنا ہے جو ایمان سے شروع ہوئی، قربانی، علم اور اخلاقی جرات کے ساتھ آگے بڑھتی رہی اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے مثال بن گئی۔
یوم الانذار / دعوتِ ذوالعشیرہ
(تنبیہ کا دن / قبیلے کو دعوت)
یوم الانذار یا دعوتِ ذوالعشیرہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی اہم واقعات میں سے ایک ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب رسولِ اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دیں۔
یہ واقعہ تقریباً 613 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ اس وقت تک رسولِ خدا ﷺ تقریباً تین برس تک محدود دائرے میں دعوتِ اسلام دیتے رہے تھے۔
قرآنی پس منظر
اس واقعے کا تعلق قرآن کریم کی اس آیت سے ہے
“اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو۔”
(الشعراء 214)
یہ آیت رسولِ اکرم ﷺ کو اس بات کا حکم دیتی ہے کہ وہ ابتدائی ایمان لانے والوں کے چھوٹے حلقے سے نکل کر اپنے خاندان اور قبیلے کو بھی توحید کی دعوت دیں۔
بنو ہاشم کا اجتماع
اس حکم کے بعد رسولِ اکرم ﷺ نے بنو ہاشم کے افراد کو اپنے گھر دعوت دی۔ تاریخی روایات کے مطابق تقریباً چالیس افراد اس مجلس میں شریک ہوئے۔
ان میں ابوطالب، حمزہ بن عبدالمطلب اور ابو لہب جیسے نمایاں افراد بھی شامل تھے۔
اس موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا اعلان کیا اور فرمایا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انہیں انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے۔
پھر انہوں نے اپنے خاندان سے کہا کہ وہ اس مشن میں ان کی مدد کریں۔
قبیلے کا ردِعمل
ابتدائی اسلامی مؤرخین کے مطابق اس مجلس میں موجود اکثر افراد نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔
کچھ نے مذاق اڑایا، کچھ خاموش رہے اور بعض قبائلی روایات اور معاشرتی دباؤ کے باعث ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
لیکن اسی مجلس میں ایک آواز ایسی بھی تھی جو رسولِ خدا کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
وہ آواز علی ابن ابی طالبؑ کی تھی۔
امام علیؑ کا کردار
تاریخی روایات میں بار بار اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ علیؑ رسولِ خدا کے گھرانے میں اسلام قبول کرنے والے پہلے مرد تھے۔
اس ابتدائی مرحلے پر ان کی حمایت کو اسلامی تاریخ میں وفاداری، جرات اور یقین کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی اہمیت
یوم الانذار کے واقعے کی تاریخی اہمیت کئی پہلوؤں سے نمایاں ہے۔
خفیہ دعوت سے علانیہ دعوت کی طرف سفر
یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کی دعوت ایک محدود مرحلے سے نکل کر کھلے اعلان کی طرف بڑھی۔
ابتدائی مخالفت
رسولِ خدا کے قریبی رشتہ داروں کا ردعمل اس بات کا اشارہ تھا کہ آگے چل کر قریش کی قیادت کی طرف سے سخت مخالفت سامنے آئے گی۔
ابتدائی مؤمنین
اس واقعے میں اسلام کے ابتدائی مؤمنین خصوصاً حضرت خدیجہؑ اور امام علیؑ کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
پہلی اسلامی جماعت کی تشکیل
اگرچہ اس مجلس میں زیادہ تر افراد نے دعوت قبول نہ کی، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ اسلام کا پیغام قبائلی حدود سے بلند ہو کر پوری انسانیت کے لیے ہے۔
روایت کا بیان
ایک روایت کے مطابق امام علیؑ نے ایک یہودی عالم کے سوال کے جواب میں فرمایا
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی نازل کی اور انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا تو میں ان کے گھرانے میں سب سے کم عمر تھا۔ میں ہمیشہ رسولِ خدا کے ساتھ رہتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ ہر کام میں انہیں راضی رکھوں۔
ایک دن انہوں نے عبدالمطلب کی اولاد کو اپنے گھر بلایا۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت کا اعلان کیا اور اپنی رسالت کا ذکر کیا۔
لیکن سب لوگ ان کی بات سن کر پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔
اس وقت میں ہی تھا جس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان کی دعوت قبول کی۔
تین برس گزر گئے اور اس عرصے میں زمین پر رسولِ خدا ﷺ کی نبوت کو قبول کرنے والے صرف میں اور خدیجہ بنت خویلدؑ تھے۔
ہم تین ہی لوگ تھے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
اس روایت کے راوی جابر الجعفی بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر امام علیؑ نے حاضرین سے پوچھا
“کیا یہ بات درست نہیں؟”
:لوگوں نے جواب دیا
“جی ہاں، اے امیرالمؤمنین! یہ درست ہے۔”
:یہ سن کر وہ یہودی عالم آہستہ سے بولا
“تو یہ پہلی نشانی ہے۔”
رسولِ خدا کے وصال کے بعد امام علیؑ کا صبر
“خدا کی قسم! ابنِ ابی طالب کو موت سے اس سے بھی زیادہ انس ہے
جتنا ایک شیر خوار بچے کو اپنی ماں کے دودھ سے ہوتا ہے۔
صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر۔
جب صبر نہ رہے تو ایمان بھی باقی نہیں رہتا۔”— نہج البلاغہ
رسولِ اکرم ﷺ کا وصال اور امام علیؑ
632 عیسوی میں رسولِ اکرم ﷺ کا وصال اسلامی تاریخ کے سب سے اہم اور حساس لمحوں میں سے تھا۔
کئی تاریخی روایات کے مطابق رسولِ خدا کے جسدِ مبارک کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری امام علیؑ نے ادا کی۔
:انہوں نے
• رسولِ خدا کو غسل دیا
• کفن پہنایا
• نمازِ جنازہ ادا کی
• اور انہیں سپردِ خاک کیایہ روایات ابن سعد، طبری اور بلاذری کی تاریخی کتب میں بھی بیان ہوئی ہیں۔
قرآن کی تدوین
کچھ روایات کے مطابق رسولِ خدا کے وصال کے بعد امام علیؑ نے قرآن مجید کو ایک مجموعے کی صورت میں مرتب کیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ ترتیب نزولِ وحی کے مطابق تھی اور اس میں بعض مقامات پر آیات کے نزول کے اسباب کی وضاحت بھی شامل تھی۔
اگرچہ بعد میں خلافتِ عثمان کے دور میں مصحف کی معیاری تدوین ہوئی، لیکن امام علیؑ کی یہ کوشش اسلامی علمی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھی جاتی ہے۔
صبر کا مرکزی تصور
اس روایت کا بنیادی موضوع صبر ہے۔
اسلامی اخلاقیات میں صبر کو ایمان کی بلند ترین صفات میں شمار کیا جاتا ہے۔
رسولِ خدا کے وصال کے شدید غم کے باوجود امام علیؑ نے پہلے اپنے فرائض ادا کیے اور اس کے بعد اپنے غم کا اظہار کیا۔
یہ طرزِ عمل اس اصول کی یاد دلاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حق کو ادا کرنا انسانی جذبات سے بھی زیادہ مقدم ہے۔
روایت کا بیان
سب سے پہلے یہ جان لو کہ میں کسی کے ساتھ بھی اس قدر قریب اور مانوس نہ تھا جس قدر رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ تھا۔ وہی میری تسلی اور اطمینان کا سرچشمہ تھے اور انہی کی موجودگی میرے دل کو سکون اور قرار بخشتی تھی۔ بچپن ہی سے وہ میرے سرپرست، میرے استاد اور میرے رہنما تھے۔
ان دنوں وہ ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ وہ میرے گھر والوں کا خیال رکھتے، میری تنہائی اور غم کو دور کرتے۔ میری روزی کا انتظام بھی وہی فرماتے تھے۔ جب کبھی تنگ دستی مجھے گھیر لیتی تو وہی میرے اہل و عیال کی کفالت کرتے۔
لیکن ان کی یہ تمام مہربانیاں بھی اس عظیم نعمت کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جو انہوں نے مجھے عطا کی۔ یہ تو صرف میری دنیاوی ضروریات تھیں۔ رسولِ خدا ﷺ نے میری روح کی پرورش کی اور قدم بہ قدم میری رہنمائی کرتے ہوئے مجھے اس مقام تک پہنچایا کہ میں اپنے رب کی معرفت حاصل کر سکا۔
اس لیے رسولِ خدا ﷺ کا وصال میرے لیے ایسی مصیبت تھا جس کی کوئی حد نہ تھی—ایسی مصیبت جس کا بوجھ پہاڑ بھی شاید نہ اٹھا سکتے۔
اس وقت میں نے اپنے اہلِ بیت کو شدید غم و اضطراب میں دیکھا۔ اس سانحے کی شدت ان کی برداشت سے باہر تھی۔ وہ غم سے بے قرار تھے اور کسی اور بات کا ذکر سننے یا کرنے کے قابل نہ تھے۔
تاہم عبدالمطلب کے خاندان کے بعض افراد نے انہیں صبر کی تلقین کی اور میرے گھر والوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہوئے۔
جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تنہائی اور غم سے بھرا ہوا تھا، مگر میں جانتا تھا کہ مجھے ثابت قدم رہنا ہے۔ میں خاموش رہا اور ان ہدایات کو پوری دیانت داری کے ساتھ پورا کرتا رہا جو رسولِ خدا ﷺ نے مجھے سونپی تھیں۔
رسولِ خدا کے جسدِ مبارک کو غسل دینا بھی میں نے انجام دیا، میں ہی نے انہیں کفن پہنایا، میں ہی نے ان پر نمازِ جنازہ ادا کی اور آخرکار انہیں سپردِ خاک کیا۔
اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف کر دیا جو مجھ پر عائد کی گئی تھیں۔ میں نے اپنی چادر تک نہ اوڑھی یہاں تک کہ میں نے کتابِ خدا (قرآن مجید) کو جمع و مرتب کر لیا اور اس مقدس امانت کے بارے میں جو عہد کیا تھا اسے پورا کر لیا۔
ان میں سے کسی کام نے بھی مجھے اپنے فرائض ادا کرنے سے نہ روکا۔ میں نے نہ گریہ کیا اور نہ نوحہ کیا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کے حقوق ادا کر دیے اور وہ ذمہ داری مکمل کر لی جو مجھ پر عائد کی گئی تھی۔
ان تمام مشکل دنوں میں صبر ہی میرا سب سے بڑا سہارا اور ساتھی رہا۔
پھر امام علیؑ نے حاضرین کی طرف رخ کر کے پوچھا:
“کیا ایسا نہیں ہے؟”
حاضرین نے جواب دیا:
“جی ہاں، اے امیرالمؤمنین! ایسا ہی ہے۔”
اختتامی منظر
یہودی عالم کافی دیر تک امام علیؑ کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
ان کی گفتگو سنتے سنتے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ امام علیؑ کی زندگی — ایمان، علم، وفاداری اور صبر — کی ایسی مثال ہے جو زمانوں کو متاثر کرتی رہی ہے۔