سورج پہ کمند: ریویو — پاکستان کی طلبہ سیاست کی عوامی تاریخ، این ایس ایف کی جدوجہد اور ترقی پسند روایت کا ایک مختصر مگر جامع جائزہ
آج کے بلاگ میں ہم پاکستان میں ترقی پسند طلبہ سیاست میں انمٹ نقوش چھوڑنے والی ایک ایسی طلبہ تنظیم کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب کا ذکر کریں گے جسے بجا طور پر پاکستان کی عوامی تاریخ، یعنی پیپلز ہسٹری آف پاکستان، کی تدوین کا ایک نہایت اہم اور غیر معمولی کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ محض ایک تنظیم کی داستان نہیں بلکہ اس پورے عہد کی بازیافت ہے جس میں تعلیمی ادارے فکر، اختلاف، نظریاتی کشمکش، جمہوری تربیت اور سماجی تبدیلی کے خوابوں کے مراکز ہوا کرتے تھے۔
– سورج پہ کمند اور طلبہ سیاست کا بگڑا ہوا تصور
پاکستان میں جو نسلیں 1990ء اور اس کے بعد کی دہائیوں میں جوان ہوئیں، ان کے سامنے طلبہ سیاست زیادہ تر غنڈہ گردی، تشدد، بدمعاشی، ہاسٹلوں پر قبضے، کیمپس پر بالادستی کی لڑائیوں اور خون خرابے کے استعارے کے طور پر آئی۔ یہ وہ نسلیں تھیں جو ایک ایسے سماجی اور سیاسی ماحول میں پروان چڑھیں جس میں مذہبی بنیاد پرستی، فرقہ واریت، نسلی و لسانی تعصبات، تنگ نظری، بلوائی حملہ گیری، موقع پرستی اور بدعنوانی محض رجحانات نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کے غالب عناصر بن چکے تھے۔ اس صورت حال کو محض اخلاقی زوال کہہ کر نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کے پس منظر میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا وہ منظم منصوبہ کارفرما تھا جس نے طلبہ سیاست کو نظریاتی کشمکش اور جمہوری تربیت کے میدان سے نکال کر تشدد، جبر، خوف اور کیمپس کنٹرول کی سیاست میں بدل دیا۔ جامعات اور کالجوں میں حریتِ فکر اور نظریات کے جدال کی روایت کو بتدریج ختم کیا گیا، اور 1984ء میں طلبہ یونینز پر عائد پابندی نے سیاست کی بنیادی نرسری ہی کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں سماج میں “سیاست” اور “سیاست دان” دونوں الفاظ گالی بنتے گئے، اور طلبہ سیاست بھی اسی عمومی نفرت، بداعتمادی اور ریاستی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر گزشتہ 42 برس سے پابندی چلی آ رہی ہے، اور نوجوانوں کی چار نسلیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے حقیقی طلبہ سیاست کا کبھی عملی تجربہ ہی نہیں کیا۔ ان کے پاس اس باب میں جو علم ہے، وہ زیادہ تر ریاستی بیانیے، کنٹرولڈ پریس اور زوال کے اس مرحلے کے مشاہدے پر مشتمل ہے جس میں نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ، مذہبی منافرت اور جاتی واد سیاست کو ایک منصوبے کے تحت پروان چڑھایا گیا۔ طلبہ سیاست کے آغاز، ارتقا اور عروج کی اصل تاریخ ان کے سامنے کبھی پوری سنجیدگی سے رکھی ہی نہیں گئی۔
ضیاء آمریت، طلبہ یونین پابندی اور سیاسی زوال
اس تھیم کو لیکر ابتدائی پیراگراف لکھیں یہ بتائیں کہ کس طرح جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے طلباء سیاست کو غنڈا گردی، ہاسٹلوں پر قبضے کی سیاست میں بدل دیا۔ یونیورسٹیوں کے کیمپس میں حریت فکر اور نظریات کا جدال ختم ہوگیا اور 1984ء میں طلباء یونین پر لگی پابندی نے سیاست کی بنیادی نرسری نرسری کو تباہ کردیا۔ سماج میں “سیاست اور سیاست دان” دونوں الفاظ گالی بنکر رہ گئے اور طلباء سیاست بھی۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا وہ واحد ملک ہے جہاں تعلیمیی اداروں میں “طلباء یونینز” پر گزشتہ 42 سالوں سے پابندی عہئد ہے اور نوجوانوں کی چار نسلوں نے “حقیقی طلباء سیاست” کا کبھی عملی تجربہ نہیں کیا۔ ان کے پاس اس حوالے سے جو علم ہے وہ زیادہ ریاستی پروپیگنڈے اور کنٹرولڈ پریس کا بیان کردہ ہے جبکہ ان کا مشاہدہ دور زوال میں ایک منصوبے کے تحت پروان چڑھائی گئی نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ اور مذہبی منافرت اور جاتی واد سیاست کا ہے۔ طلباء سیاست کی شروعات، اس کے ارتقاء اور عروج کی تاریخ ان کے سامنے کبھی رکھی نہیں گئی۔
این ایس ایف کی تاریخ کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی طلباء سیاست کی تاریخ کا ایک اہم ترین باب نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن – این ایس ایف کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کے بغیر پاکستان میں طلباء سیاست کی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔ “سورج پہ کمند” اصل میں اسی طلباء تنظیم کی کہانی ہے جس کا احاطہ کرتے ہوئے یہ پاکستان کی طلباء سیاست کی تاریخ کے اہم ترین ادوار کو بھی بیان کرتی ہے۔
کتاب کے مرتبین اور مصنفین کا سیاسی پس منظر
اس کتاب کی ترتیب و تدوین اور تحریر کا کام ایسے افراد کی ٹیم نے سرانجام دیا ہے جو نہ صرف طلباء سیاست میں سرگرم تھے بلکہ وہ مختلف ادوار میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی، صوبائی عہدے دار رہے تھے۔ ان میں ڈاکٹر حسن جاوید 70ء کی دہائی این ایس ایف سے وابستہ ہوئے، محسن ذوالفقار 60ء کی دہائی میں این ایس ایف کا حصّہ بنے، امین بیگ سن 77ء میں کالج میں آنے کے بعد این ایس ایف سے وابستہ ہوئے۔ کتاب کا سرورق بنانے والے سید علی واصف، آغا طارق سجاد یہ بھی 70ء کی دہائی کے آخری سالوں میں این ایس ایف سے وابستہ ہوئے، جاوید بیگ 80ء کی دہائی سے 1990ء تک این ایس ایف میں کام کیا۔ انجم جاوید صابری 60ء کی دہائی میں این ایس ایف میں شامل ہوئے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک کے زمانے میں یہ این ایس ایف کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور انتہائی سرگرم کارکن تھے۔
پہلی جلد: سوانحی خاکے اور انٹرویوز
کتاب کی پہلی جلد این ایس ایف سے وابستہ رہے لوگوں کے سوانحی خاکوں اور انٹرویوز پر مشتمل ہے۔
دوسری اور تیسری جلد: عوامی تاریخ کا تفصیلی ریکارڈ
دوسری اور تیسری جلد نہ صرف این ایس ایف کی تاریخ کا ایک مفصل ریکارڈ ہے بلکہ یہ طلباء سیاست کے برصغیر ہند میں آغاز سے لیکر اب تک کی صورت حال کی تاریخ کا ایک عوامی بیانیہ ہے۔
دوسری اور تیسری جلد میں 9 حصّے ہیں۔
برصغیر میں طلبہ سیاست کا آغاز
اس کا تیسرا حصّہ معروف ترقی پسند ماہر تاریخ جعفر حسن زیدی نے لکھا جس میں انھوں نے برصغیر میں نوآبادیاتی دور میں تعلیمی اداروں کے قیام، ابتدائی طلباء تنظیمیں، تحریکیں، آل انڈیا سٹوثنٹس فیڈریشن، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور پھر ترقی پسند تحریک اور قیام پاکستان کے تاریخی تناظر کو پیش کیا ہے۔
پاکستان میں ابتدائی طلبہ تحریکیں اور ڈھاکہ کے واقعات
اگلے حصّے میں پاکستان میں ابتدائی طلباء سیاست سے جڑے موصوعات “قیام پاکستان اور طلباء مسائل، ڈی ایس ایف، انٹر کالجیٹ باڈی کے قیام، طالب علموں کے ترجمان انگریزی رسالے ہیرالڈ کی اشاعت، پہلی طباء تحریک جسے جنوری (1950) کی تحریک کہا جاتا ہے، 7 جنوری یوم مطالبات، 8 جنوری یوم شہداء (ڈھاکہ مشرقی بنگال – پاکستان میں اردو کے زبردستی نفاذ اور بنگالی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کے لیے 8 جنوری 1948ء ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء کے احتجاجی مظاہرے پر پولیس فائرنگ سے شہید ہونے والے طلباء کی یاد میں) اور اسے تحریک سے جڑے دیگر اہم تاریخی واقعات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔
سامراج مخالف سیاست، پابندیاں اور این ایس ایف کا ابھار
پانچواں حصّہ 50ء کی دہائی میں پاکستان میں سامراج کے بڑھتے ہوئے کردار اور تیسری دنیا میں سامراجی مداخلت سے ہونے والے واقعات پر پاکستان کے ترقی پسند طلباء کے احتجاج اور ردعمل، جواب میں آل پاکستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن – ایپسو اور ڈی ایس ایف پر پابندی، ترقی پسندوں کے این ایس ایف پر غلبے، گلز اسٹوڈنٹس کانگریس کے قیام، نہر سوئز پر سامراجی حملے کے خلاف این ایس ایف کی پیش قدمی، ایوبی مارشل لاء، این ایس پر پابندی، طلباء دشمن شریف کمیشن اصلاحات اور این ایس ایف کی احتجاجی تحریک اور مطالبات کی منظوری جیسے اہم واقعات زیر بحث ائے ہیں۔
ایوب دور، حسن ناصر اور احتجاجی تحریکیں
چھٹے حصّے میں ایوب دور میں کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے پولٹ بیورو کے ممبر اور امور نوجوانان کے انچارج حسسن ناصر کی گرفتاری اور شہادت، زمبابوےکے بائیں بازو کے منتخب صدر پیٹرک لومبابا کی شہادت پر این ایس ایف کی احتجاجی تحریک، جبل پور تحریک، این ایس ایف کے رہنماؤں کی پہلی شہر بدری، بی اے کی تین سالہ ڈگری کے خلاف تحریک، کراچی سے تحریک کے بارہ اہم سرکردہ لیڈروں کی شہر بدری، طلبآء کی بھوک ہڑتال، ایوب خان کے یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تحریک کا جائزہ لیا گیا ہے۔
فاطمہ جناح مہم، تاشقند، ون یونٹ اور این ایس ایف کی تقسیم
ساتواں حصّہ پاکستان کی سیاست کے ایک انتہائی اہم دور سے متعلق جس میں ملک میں ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام متارف کرایا اور بی ڈی کونسلرز کو صدر کے انتخاب کے لیے الیٹکرول کالج قرار دیا اور 1964ء میں صدارتی انتخابات کرائے۔ ان انتخابات کے دوران این ایس ایف نے متحدہ اپوزیشن کی متفقہ امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں پورے ملک کے اندر مہم چلائی، پہلی مرتبہ این ایس ایف سے تعلق رکھنے والی طالبات نے شہروں اور دیہاتوں میں جاکر بی ڈی کونسلرز کو محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا۔ کراچی میں این ایس ایف کی چلائی مہم کےسبب ایوب حان کراچی سے بی ڈی ممبران کی اکثریت کا ووٹ لینے میں ناکام ہوئے، ان کے سیاسی انتقام کانشانہ این ایس ایف کے رہنماؤں کی بہت بڑی تعداد بنی، اس دوران ستمبر 65ء میں پاک- بھارت جنگ ہوئی، اس کے بعد معاہدہ تاشقند پر مغربی پاکستان میں عوا کے اندر زبردست بے چینی نے جنم لیا، ذوالفقار علی بھٹو اس معاہدے کے خلاف مرکزی سیاست دان کے طور پر ابھرے۔ عالمی سطح پر کمیونسٹ تحریک چینی اور سوویت یونین بلاک میں بٹ کئی، اس کا اثر این ایس ایف پر بھی ہوا اور این ایس ایف بھی دو بڑے دھڑوں ميں بٹ گئی، ماسکو نواز دھڑے کی قیادت کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امیر حیدر کاظمی کر رہے تھے جبکہ چین نواز دھڑے کی قیادت کراچی سے ہی تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رشید حسن کر رہے تھے۔ لیکن یہ دونوں دھڑے پیپلز پارٹی کے قیام میں ممد و معاون تھے۔ اسی دوران 4 مارچ 1967ء کو سندھ میں سندھ میں ون یونٹ کے خلاف طلباء کی بہت بڑی احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔ اس سے پہلے ون یونٹ کے حلاف تحریک زیادہ تر سندھی طلباء تک محدود تھی لیکن 4 مارچ 1967ء کو ون یونٹ کے خلاف سندھ میں شروع ہونے والی تحریک میں پہلی بار سندھی اور اردو بولنے والے طلباء کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور چین نواز اور سوویت یونین نواز دونوں این ایس ایف کے دھڑے اس تحریک میں شامل ہوئے۔
اس حصّے کی اہمیت اور ایک نمایاں کمی
اس حصّے میں اس سارے دور کا تاریخی جائزہ بہت تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ اس حصّے مین ایک کمی یہ نظر آتی ہے کہ پنجاب میں “ون یونٹ” کے خلاف تحریک میں 4 مارچ 1967ء سے پہلے اور 4 مارچ کے بعد بھی این ایس ایف سے وابستہ طلباء کا کوئی قابل زکر کردار نظر نہیں آتا۔ ملتان، بہاول پور، ساہیوال، اوکاڑا، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی میں این ایس ایف کے مضبوط تنظیمی سٹرکچر تمام اہم سرکاری جامعات اور کالجوں میں موجود تھا لیکن وہ اس تحریک کے ساتھ نہیں جڑے۔ اس پر این ایس ایف پنجاب کے اہم ترین رہنماؤں سے انٹرویوز میں سوال کیا جانا ضروری تھا۔ ان سے یہ پوچھا جانا چاہئیے تھا کہ ون یونٹ کے خلاف جو تحریک 1955ء سے بلوچستان، سندھ، خیبر پختون خوا، سابقہ ریاست بہاول پور اور پورے مشرقی پاکستان میں چل رہی تھی اس سے پنجاب کے ترقی پسند طلباء کیوں الگ رہے؟
کامران اصدر علی کے حوالے سے اہم تناظر
کامران اصدر علی نے اپنی مرتب کردہ کتاب
“Towards the People’s history in Pakistan”
کتاب میں اپنے ایک مضمون میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ مشرقی پاکستان میں 60ء کی دہائی میں 1965ء میں جب عوامی لیگ نے لاہور میں معاہدہ تاشقند پر متحدہ اپوزیشن کی طرف سے بلائی گئی قومی کانفرنس میں پہلی بار چھے نکات پیش کیے اور ون یونٹ توڑنے، ون مین ون ووٹ پر عام انتخابات کرانے کا مطالبہ پیش کیا تو پنجاب اور پاکستان کے شہری سماج کی دانش کا اس پر ردعمل منفی تھا یہاں تک کہ خود عوامی لیگ کی مغربی پاکستان کی تنطيم جس کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان تھے نے بھی 6 نکات کی مخالفت کی جس پر شیخ مجیب الرحمان ناراض ہوکر ڈھاکہ واپس کئے اور 66ء میں پورے سال مشرقی پاکستان میں بہت بڑی احتجاجی تحریک چل پڑی تھی، اسی دوران ایوب حکومت نے شیخ مجیب الرحمان سمیت عوامی تحریک کے اہم رہنماؤں کو “اگرتلہ سازش کیس” میں گرفتار کرلیا۔ ایوب خان کے خلاف مغربی پاکستان میں چلنے والی تحریک سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو چھوڑ کر پنجاب میں ون یونٹ کے خاۃمے کی تحریک کے کوئی آثار نہیں تھے۔
1968-69
عوامی تحریک اور این ایس ایف
آٹھویں حصّے ميں 16 ابواب ایوب خان کے خلاف 68-69 میں جلنے والی عوامی تحریک کا تفصیل سے احاطہ کرتی ہے اور اس میں این ایس ایف کے مرکزی کردار پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی کئی ہے۔
تحریک کا انجام: مذاکرات یا سودے بازی؟
اس حصّے کی ایک خوبی یہ ہےکہ اس میں یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ 68-69 کی عوامی تحریک جس نے ایوب خان کے اقتدار کی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں اس کا انجام ایک اور مارشل لاء کی صورت میں نکلا، اس حصّے میں اس صورت حال پر باب پچپن میں “مذاکرات یا سودے بازی” کے عنوان سے بحث کی گئی ہے۔
کاظمی گروپ کے مؤقف کی عدم شمولیت
اس حصّے کی ایک کمزوری یہ ہے کہ این ایس ایف کے امیر حیدر کاظمی گروپ کے دھڑے کا 68-69 کی ایوب مخالف تحریک میں کردار اور ان کا اس دوران جو سیاسی موقف اور سیاسی پوزیشن تھی اس کا احوال اس دھڑے سے وابستہ رہنماؤں کے زریعے پیش نہیں کیا گیا، اس دھڑے کی سياسی پوزیشن اور اس پر اعتراضات کا جواب اس دھڑے کے رہنماؤں سے لیا جانا چاہئیے تھا، اس حصّے میں آئندہ آنے والے دنوں میں اس گروپ کے باحیات رہنماؤں کی رائے شامل کی جانا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں اطراف کا مومف خود ان کی زبانی سامنے آئے۔
این ایس ایف کے زوال پر نامکمل بحث
اس حصّے میں یہ سوال کہ پاکستانی لیفٹ اسٹونٹس گروپوں کا قوم پرست غلبے کی حامل نیشنل عوامی پارٹی – ولی خان، انتہائی بائيں بازو کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی – بھاشانی گروپ، سوشل ڈیموکریٹک سنٹر لیفٹ لبرل ماس پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی سے تعاون اور اس ميں شمولیت اور بعد میں این ایس ایف کی مسلسل زوال پذیری، طلباء سیاست پر اس کا مسلسل کم ہوتا ہوا اثر اور پھرمکمل زوال پذیری جس میں خارجی عناصر اور پہلوؤں کا زکر تو بہت شد و مد سے ہوتا ہے لیکن اس کے جو داخلی اور موضوعی عوامل تھے ان پر بات بہت کم اور تحقیقی انداز سے خالی ہوتی ہے۔ اس پر الگ سے ایک مکمل کتاب مرتب کی جانی چاہئیے۔
تیسری جلد: تنظیمی پھیلاؤ اور مشرقی پاکستان کا سوال
کتاب کی تیسری جلد میں نواں باب 68-69ء کی تحریک کے دوران این ایس ایف کے تنظیمی پھیلاؤ کی تاریخ مرتب کرتا ہے۔ اور اصل میں یہ این ایس ایف – رشید حسن گروپ کے تنظیمی پھیلاؤ کا زیادہ تاریخی احاطہ کرتا ہے۔ دسویں باب میں یحیی دور میں مشرقی پاکستان کی علحیدگی تک کے دوران چلنے والی تحریکوں، اہم واقعات میں این ایس ایف کے کردار کا جائزہ لیتا ہے، اس باب کی اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ ہمیں مشرقی بنگال میں فوجی کاروائی پر این ایس ایف کے مختلف دھڑوں اور ان دھڑوں کے اپنے اندر بھی اختلاف سے واقف کراتا ہے۔
آپریشن سرچ لائٹ اور این ایس ایف کے مختلف مؤقف
اس حصّے میں جو سب سے بنیادی بات ہے وہ یہ کہ این ایس ایف کا جو کاظمی گروپ تھا اور امام علی نازش کے زیر اثر تھا وہ مارچ 1971ء میں پاکستانی فوج کے مشرقی بنگال میں آپریشن سرچ لائٹ کے آغاز سے ہی آپریشن کا مخالف تھا اور بنگال میں امام نازش (مغربی پاکستان نیپ روس نواز دھڑے میں کمیونسٹ گروپ کے سربراہ) اور مظفر احمد (نیپ مشرقی پاکستان روس نواز دھڑے میں کمیونسٹ گروپ کے سربراہ) دونوں نے پاکستانی فوج کے مشرقی پاکستان میں آپریشن کی مسلح مزاحمت اور مشرقی بنگال کی قومی آزادی کی تحریک کی حمایت پر اتفاق کیا۔ دوسری طرف جو ڈاکٹر رشید حسن گروپ تھا اس کی مرکزی قیادت نے آپریشن کی مخالفت / حمایت پر تقسیم ہوئی۔ اکثریت نے پاکستان کو روس اور انڈیا کی سامراجی جارحیت کا شکار دیتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان کی قیادت ميں ابھرنے والی قومی آزادی کی تحریک کو سامراجی سازش قرار دے کر اس کا ساتھ نہ دیا اور اس گروپ کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ طفیل عباس نے فوجی آپریشن کی حمایت کی اور جیل سے رہائی کے بعد اس موقف کی ڈاکٹر رشید حسن نے بھی حمایت کی۔ ہمراز احسن کا یہ کہنا درست ہے کہ مغربی پاکستان میں 71ء کے سال کے دوران دائیں اور بائیں دونوں حلقوں میں پاکستانی نیشنل شاؤنسٹ خیالات اور رجحانات کا غلبہ تھا، اس لیے عملی طور پر مشرقی بنگال پر فوج کشی کے خلاف کوئی بڑا عوامی احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔ لیفٹ کی یہ مجموعی بے عملی اور خاموشی کو بعد ازاں ایک تاریخی مجرمانہ غفلت شمار کیا گیا۔
بھٹو دور، بلوچستان اور این ایس ایف
تیسری جلد کا 11واں حصّہ بھٹو دور میں این ایس ایف کی طلباء سیاست اور اس دوران رونما ہونے والے اہم واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 1971ء میں بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن پر خاموشی، بے عملی، حمایت میں بٹے پاکستانی طلباء لیفٹ خاص طور پر این ایس ایف کے تمام دھڑوں نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت کے خاتمے، بلوچستان میں فوجی آپریشن کی نہ صرف شدید مذمت کی بلکہ اس کے خلاف بھرپور تحریک بھی چلائی۔ بلکہ این ایس ایف کا وہ دھڑا جو ڈاکٹر رشید حسن کے زیر اثر تھا جس کی صدرات لطیف چوہدری کر رہے تھے اس نے کراچی سمیت ملک بھر میں جہاں جہاں این ایس ایف کے یونٹ تھے اس اپریشن کے خلاف تحریک چلائی، معراج محمد خان تو نیپ کے خلاف بنائے کئے حیدرآباد سازش کیس میں نامزد 26 مرکزی ملزمان میں سے ایک تھے اور دوسرے حبیب جالب تھے اور یہ دونوں حضرات مارشل لاء لگنے نیپ کی قیادت کے ساتھ حیدرآباٹ جیل میں بند رہے۔
ضیاء دور سے 1995ء تک
بارہواں حصّہ بھٹو دور کے اختتام اور ضیاء دور کے ابتدائی دور ميں بائیں بازو کی طلباء سیاست اور این ایس ایف کے کردار کو زیر بحث لاتا ہے۔ 13واں حصّہ اگلے 11 سالہ دور کا احاطہ کرتے ہوئے 90ء کی دہائی 1995ء تک این ایس ایف رشید حسن گروپ کے 17ویں کنونشن تک کا احاطہ کرتا ہے۔
آخری حصّہ: تنظیمی، فلاحی اور اشاعتی جہات
آخری حصّہ این ایس ایف کے نمایاں گڑھ، این ایس ایف کی برادر طلباء تنظیموں اور فرنٹس، غیر نصابی و فلاحی سرگرمیوں، مطبوعات، مسائل اور کمزرویاں، ہم عصر ترقی پسند طلبآہ تنظیموں، این ایس ایف کے کارکنان پر مشتمل ہے۔
تاریخی ضمیمے اور بصری مواد کی اہمیت
کتاب کے ساتھ اہم تاریخی ضمیمہ جات، تصاویر، اہم اخباری تراشوں کے عکس ہیں جو اس کتاب کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔
اختتامی تاثر
تیسری جلد کا خاتمہ حبیب جالب کے ان اشعار کے ساتھ ہوتا ہے
کوئی تو پرچم لیکر نکلے
اپنے گریباں کا جالب
چاروں جانب سناٹا ہے
دیوانے یاد آتے ہیں