نہ بیگانہ اور نہ ہی بیگانے کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں
گفتگو: ڈاکٹر عبدالکریم سروش
ترجمہ و تدوین: نذیر بیسپا
ادارتی نوٹ
عبدالکریم سروش معاصر ایرانی فکری دنیا کی ایک نمایاں اور بااثر آواز ہیں جنہوں نے دین، جدیدیت اور آزادیِ فکر کے باہمی تعلق پر اہم مباحث کو جنم دیا۔ ایرانی انقلاب کے ابتدائی دور میں وہ ان دانشوروں میں شامل تھے جو نئے نظام کی فکری تشکیل میں شریک تھے، مگر بعد ازاں انہوں نے ریاستی مذہبیت اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی موقف اختیار کرتے ہوئے ایک آزاد خیال دینی مفکر کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔
حالیہ برسوں میں سروش کے آن لائن علمی نشستوں میں دنیا بھر سے اہلِ فکر شریک ہوتے ہیں۔ 11 جنوری 2026 کی ان کی گفتگو ایران کی موجودہ سیاسی صورتِ حال، جنوری میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں ایرانی روشن فکر اور علمی حلقوں کے احساسات اور فکری ردِعمل کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گفتگو کا ترجمہ نذیر بیسپا کے شکریہ کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے تاکہ ایران کے حالات پر ایک معتبر فکری نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل ہو سکے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
میں یہاں موجود تمام عزیزوں—حاضرین اور غائبین—کو سلام عرض کرتا ہوں۔ آج کی شب ہمارے غائب احباب، حاضرین سے زیادہ ہیں، اور اس کی وجہ وہ ہنگامہ خیز اور آشوب ناک حالات ہیں جو ہمارے وطن عزیز میں برپا ہیں اور جنہوں نے ہمارے ہمیشہ کے ہم نشینوں کو یہاں شریک ہونے سے روک رکھا ہے۔
اسی موقع پر ہم خدا کو یاد کرتے ہیں۔ سعدی کے الفاظ میں:
جب تک سرزمینِ فارس پر خدا کی نظرِ عنایت اور اس کا سایۂ رحمت قائم ہے، اسے کسی آفت اور گزند کا اندیشہ نہیں۔ اے پروردگار! اس خاکِ فارس کو فتنوں کی تند ہوا سے محفوظ رکھ اور جب تک اس آب و خاک کو دوام ہے، اس کو باقی رکھ۔
ان شاء اللہ ہمارا وطن، جو اس وقت ان ہولناک حادثات کی زد میں ہے، اور یہ کشتیٔ وطن جو ڈگمگا رہی ہے اور حوادث کے طوفانی سمندر کی لہروں میں گرفتار ہے؛ (بقول مولانا):
“یہ کشتی جو کبھی خوش حالوں کی طرف تو کبھی بدحالوں کی طرف کھینچی چلی جا رہی ہے ؛ یا تو یہ ان گردابوں سے گزر جائے گی یا پھر ٹوٹ جائے گی۔”
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کشتی نہ ٹوٹے بلکہ ان گردابوں سے سلامت گزر جائے اور ساحلِ نجات تک پہنچے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارا ملک ایک استبداد سے نکل کر کسی دوسرے استبداد میں نہ جا گرے، ایک رجعت سے نکل کر کسی دوسری رجعت کے دامن میں نہ جا پڑے، اور اس کا حال اس سے زیادہ تاریک نہ ہو جائے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کشتی ٹوٹنے کے بجائے اس بھنور سے گزر جائے اور سلامتی کے ساحل تک پہنچ جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا نہ ہو کہ ایک استبداد سے نکل کر کسی دوسرے استبداد کی گرفت میں چلی جائے، یا ایک رجعت سے بچ کر کسی دوسری رجعت کے دامن میں جا گرے، اور اس کے دن اس سے بھی زیادہ تاریک ہو جائیں۔
ہمارے وہ لوگ جو تنگ آ کر احتجاج کر رہے ہیں، ان کا احتجاج بجا ہے اور ان کی آواز کو انصاف، دیانت اور سچائی کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں بنائے گئے کٹھ پتلی کرداروں کے جھوٹے وعدوں کے دام میں آ جائیں اور یہ گمان کرنے لگیں کہ وہ ان کے لیے آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق لے کر آئیں گے۔ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں! وہ آزادی دینے یا انسانی حقوق قائم کرنے کے لیے نہیں آتے؛ وہ تو لوٹ مار اور جارحیت کے لیے آتے ہیں۔ وہ ہمارے معاشرے کو لیبیا اور شام کی طرح تباہ حال بنانے کے لیے آتے ہیں، اپنے مفادات کی خاطر آتے ہیں، اور ہمارے لوگوں اور ہمارے وسائل کو غلام بنانے اور لوٹنے کے ارادے سے آتے ہیں۔
ہم یہ سب کچھ ان سے بارہا دیکھ چکے ہیں۔ ان کی دشمنی ہمارے لیے اب ثابت اور مسلّم حقیقت بن چکی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت ہم دو دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں: ایک اندرونی دشمن، یعنی داخلی استبداد؛ اور دوسرا بیرونی دشمن، جو ہماری جڑیں اکھاڑنے، ہمارے وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ہمارے وسائل کو لوٹ لینے کے لیے پوری سنجیدگی سے کھڑا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت یا مروّت بھی روا نہیں رکھتا۔
دوسری طرف پروپیگنڈا پوری قوت کے ساتھ جاری ہے؛ وہ عقلوں کو مسحور کرتا ہے اور دلوں کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ یوں ہم نہایت بدترین حالات میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ نے ہوا کاشت کی تھی اور اب طوفان کاٹ رہی ہے یعنی اپنے کیے کا پھل کاٹ رہی ہے۔ ملک میں شاید ہی کوئی طبقہ ایسا ہو جو اس حکومت سےراضی ہو: روشن فکر، بازار کے لوگ، اساتذہ، جامعات سے وابستہ افراد، تاجر اور کاروباری حضرات، حتیٰ کہ عام شہری بھی، سب کسی نہ کسی صورت اس ظالم حکومت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہیں۔
اب جو قتل و غارت ملک میں ہو رہی ہے، اس نے دلوں کے زخم کو اور گہرا کر دیا ہے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تنگ آ کر لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اپنی فریاد بلند کر رہے ہیں۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس ہجوم میں کچھ شرپسند عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں جو اپنے آقاؤں کے اشاروں پر عمل کرتے ہیں اور پرامن احتجاج کو اپنے ناپاک مقاصد کی آلودگی سے داغ دار بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ملک ایک عظیم اور سنگین ابتلا میں گرفتار ہو گیا ہے۔
میری تمام عزیزوں سے گزارش یہ ہے کہ جب وہ ایران میں ہونے والے جرائم کی مذمت کریں—جو ہو چکے ہیں اور جو ہو رہے ہیں—اور جب وہ اس ظلم و استبداد سے اپنی برائت کا اظہار کریں، تو اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں وہ ایک برائی سے نکل کر اس سے بھی بڑی برائی کے دامن میں نہ جا گریں اور ایک استبداد سے نکل کر کسی دوسرے استبداد میں نہ پھنس جائیں۔ حافظ کے الفاظ میں:
آشنایانِ رہِ عشق گرم خون بخورند
ناکسم گر بہ شکایت برِ بیگانہ روم
” اہلِ محبت تو دکھ سہہ کر اور خونِ دل پی کر بھی وفا کی راہ نہیں چھوڑتے؛ اگر میں شکایت لے کر کسی بیگانے کے در پر جاؤں تو یہ میری کم ظرفی ہوگی۔
بیگانوں نے کبھی ہمارا بھلا نہیں چاہا اور نہ آئندہ چاہیں گے۔ اس سمت اور اس قبلہ کی طرف رخ نہیں کرنا چاہیے جس کا نتیجہ ہمارے لیے سوائے نقصان، تباہی اور بربادی کے کچھ نہ ہو۔
ہم سب—میری طرح اور میرے ہم خیال افراد—حکومت کے ظلم و ستم اور استبداد کے مقابلے میں اپنے موقف کو ہمیشہ کھل کر بیان کرتے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی پردہ پوشی نہیں کی، سخت اور دو ٹوک تنقید کی ہے اور اس کی بڑی قیمت بھی ادا کی ہے۔
اس کے باوجود ہمارا موقف بالکل واضح ہے: نہ ہم اسرائیل کے بنائے ہوئے کٹھ پتلیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، نہ مجاہدینِ خلق—جو آلبانی میں بیٹھا ہوا دہشت گرد گروہ ہے—کے ساتھ، اور نہ ہی شاہی رجعت کے ساتھ۔ ان میں سے کوئی بھی ہمارا راستہ نہیں ہے۔ یہ سب اگرچہ ایرانی حکومت کے مخالف ہیں، لیکن درحقیقت اجنبی طاقتوں کی پروردہ مخلوق ہیں؛ استعمار، استحصال اور عالمی لٹیروں کے غلام اور تابع دار ہیں۔
ہم جیسے لوگوں سے یہ ہرگز ممکن نہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہم آہنگی یا شراکت کریں۔ اسی لیے میں اپنے ہم وطنوں سے عرض کرتا ہوں کہ ہم ایک نہایت کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت ایک بھی غلطی کرنے کی اجازت نہیں۔ حافظ نے کہا تھا:
ببین در آئینۂ جام نقش بندیِ غیب
کہ کس بہ یاد ندارد چنین عجب زمنی
از این سموم کہ بر طرفِ بوستان بگذشت
عجب کہ بوی گلی هست و رنگِ نسترنی
به صبر کوش تو ای دل که حق رها نکند
چنین عزیز نگینی به دستِ اهرمنی
مزاجِ دهر تباه شد در این بلا حافظ
کجاست فکرِ حکیمی و رأیِ برهمنی؟
یعنی: جام کے آئینے میں ذرا غیب کی نقش گری کو دیکھو کہ کیسا عجیب زمانہ آ پڑا ہے؛ ایسا زمانہ کہ جس کی مثال کسی کو یاد نہیں۔ اس زہریلی آندھی کے گزر جانے کے بعد جو گلستان کی جانب سے ہو کر گزری ہے، تعجب ہے کہ اب بھی کہیں کسی پھول کی خوشبو باقی ہے اور نسترن کے پھول میں کچھ رنگ دکھائی دیتا ہے۔ اے دل! صبر کا دامن تھامے رکھ، کیونکہ خدا ایسی قیمتی نگینے کو ہمیشہ کے لیے کسی اہرمن کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتا۔ اے حافظ! اس مصیبت کے زمانے میں تو گویا زمانے کی سرشت ہی بگڑ گئی ہے؛ کہاں ہیں اب وہ کسی حکیم کی دانائی اور کسی دانا کی دور اندیشی؟
اس صورتِ حال میں واحد راستہ یہی ہے کہ ایران کے اندر ہی سے کوئی حقیقی متبادل (الٹرنیٹیو) ابھرے، تاکہ یہ جھوٹے اور مصنوعی متبادل اپنی جگہ خود ہی بے معنی ہو جائیں۔ ہماری حکومت نے اپنے اب تک کے طرزِ عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو عوام کے دل جیت سکی ہے اور نہ ان کے دلوں کو اطمینان بخش سکی ہے۔ اس نے ایسے جھوٹ بولے ہیں کہ اب اس کی سچی باتوں پر بھی لوگ یقین نہیں کرتے۔ لہٰذا زمامِ امور ایک اندرونی متبادل کے سپرد ہونی چاہیے تاکہ وہ اس کشتیٔ وطن کو ساحلِ نجات تک پہنچا سکے۔
ابھی بھی اس ملک میں اہلِ تدبیر، دیانت دار اور بااعتماد لوگ، اور بہت سے دانا و فہمیدہ افراد موجود ہیں جو قیادت سنبھال سکتے ہیں اور اس ملک کو ان آشوبوں، فتنوں اور متلاطم لہروں سے نکال کر ساحل نجات تک پہنچا سکتے ہیں۔
یہ ہرگز لازم نہیں کہ ہم بیرونی آقاؤں کے مقرر کردہ لوگوں کے محتاج بن جائیں؛ ایسے لوگ جنہیں وہ ہمارے لیے تیار کرتے ہیں اور ہمارے مقابل کھڑا کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے مفادات کے خادم اور غلام بنیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو، اور ہم امید کرتے ہیں کہ کبھی ایسا نہ ہو۔
میں اپنی ابتدائی گفتگو سعدی کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں:
کس نیاید به زیرِ سایهٔ بوم
ور همای از جهان شود معدوم
یعنی: اگر دنیا سے ہُما جیسا سعادت بخش پرندہ بھی ناپید ہو جائے تب بھی کوئی شخص اُلو کے سائے تلے پناہ لینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
آئیے ہم سب مل کر خلوصِ دل سے خداوندِ متعال کے حضور دعا کریں اور اس سے التجا کریں کہ وہ اس ملک کو ان ہولناک حوادث اور مہلک طوفانوں سے نکال کر سلامتی کے راستے پر لے آئے، اور اس کے لوگوں کو سکون اور آسودگی کی زندگی نصیب کرے۔
ہم نے بارہا حکومت کو، اور خصوصاً رہبرِ اعلیٰ کو، خبردار کیا تھا کہ ایک دن ایسے حالات پیدا ہوں گے۔ میں نے یہ باتیں کبھی نظم میں اور کبھی نثر میں بیان کیں، مگر افسوس کہ کوئی سننے والا نہ تھا۔ اقتدار کا غرور اور استبداد کی مسند انسان کے اندر غور و فکر کی صلاحیت کو ماند کر دیتی ہے؛یہاں تک کہ حوادث کے تازیانے ہی اسے بیدار کرتے ہیں۔ اب حوادث کی یہی ضرب حکومت کے کانوں پر پڑ رہی ہے۔ امید ہے کہ اس سے انہیں تنبہ، عبرت اور بیداری نصیب ہوگی؛ وہ غرور کی اس طویل اور سرد نیند سے جاگیں گے اور عوام کی حقیقی حالت پر نظر ڈالیں گے۔
خدا ہمارے ملک کو دروغ، دشمن اور قحط سالی سے محفوظ رکھے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔
نذیر بیسپا کراچی یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔ تہران یونیورسٹی ایران سے پڑھے ہیں ۔ انھوں نے سروش کی گفتگو کا ترجمہ اپنی فیس بک وال پر دیا ، یہ وہاں درج ذیل لنک پر دیکھا جاسکتا ہے :
