ادارتی نوٹ
27 مارچ 1983 پاکستان کی تاریخ میں محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جب سچ نے آمریت کے جبڑوں سے خود کو چھڑا کر بولنے کی جرات کی۔ ضیاء الحق کی آہنی آمریت کے اندھیرے میں کراچی کی ایک فوجی عدالت کے کمرے میں جب بینظیر بھٹو بطور گواہِ صفائی کھڑی ہوئیں تو یہ صرف ایک عدالتی کارروائی نہیں تھی، یہ آمریت کے بیانیے کے خلاف ایک کھلا اعلانِ بغاوت تھا۔ اس ایک جملے—“جام ساقی محبِ وطن ہے”—نے ریاستی پروپیگنڈے کی پوری عمارت کو لرزا دیا۔ اس دن نے یہ ثابت کیا کہ جب نظریاتی اختلافات کے باوجود عوامی قوتیں آمریت کے خلاف متحد ہو جائیں تو جبر کے قلعے موم کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دن سندھ کے سیاسی شعور اور ملک گیر جمہوری مزاحمت کے درمیان ایک ایسا پل بن گیا جس پر چل کر سچ نے خود کو زندہ رکھا۔
جام ساقی کیس دراصل ایک مقدمہ نہیں تھا، ایک ڈھونگ تھا—ریاستی ڈھونگ۔ کمیونزم اور سوشلزم کے فروغ کے نام پر غداری اور بغاوت کے الزامات لگا کر ایک پوری فکری روایت کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت کو انصاف کا منبر نہیں بلکہ انتقام کا ہتھیار بنایا گیا۔ مگر 27 مارچ کو جب ایک نوجوان خاتون آمریت کے سامنے کھڑی ہو کر سچ بولتی ہے تو عدالت کی دیواریں بھی گواہ بن جاتی ہیں کہ ریاست جتنی بھی طاقتور ہو، نظریے سے ڈرنے لگے تو وہ اپنی کمزوری خود ظاہر کر دیتی ہے۔ یہ کیس آج بھی چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ جب ریاست کو اختلاف سے خوف آتا ہے تو وہ قانون کو ہتھکڑی بنا دیتی ہے—لیکن تاریخ اس ہتھکڑی کو توڑ دیتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ضیاء الحق کا دور ہم نے ظلم کی انتہا سمجھا تھا، مگر آج کا “جمہوری” منظرنامہ اس سے کہیں زیادہ بھیانک دکھائی دیتا ہے۔ آج آئین موجود ہے، پارلیمان بھی ہے، عدالتیں بھی سرگرم ہیں—مگر انصاف غائب ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان آج سیاسی جبر کی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قید قیادت ہو، علی وزیر ہو یا احسان علی—سب پر وہی پرانے الزامات، وہی غداری کے سرٹیفکیٹ، وہی ریاستی کہانی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ سب کچھ جمہوریت کے پردے میں ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار تو اور بھی خوفناک ہیں۔ جہاں ضیاء کے دور میں جبر کو گنا جا سکتا تھا، آج وہ بے شمار ہو چکا ہے۔ صرف بلوچستان میں گزشتہ دو برسوں میں ہزاروں جبری گمشدگیاں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ماورائے عدالت قتل—یہ وہ حقیقت ہے جس پر اجتماعی خاموشی کا کفن ڈال دیا گیا ہے۔ یہ خاموشی اتفاق نہیں، جرم ہے۔ اور اس جرم میں صرف ریاست نہیں، وہ سیاسی جماعتیں بھی شریک ہیں جو کبھی مزاحمت کی علامت ہوا کرتی تھیں۔
1983 میں بینظیر بھٹو نظربندی توڑ کر عدالت پہنچتی ہیں، آج کی قیادت اقتدار کے کمروں میں بیٹھ کر خاموشی کی سیاست کرتی ہے۔ وہ جماعت جو کبھی جام ساقی کے لیے گواہی دیتی تھی، آج اپنے دورِ حکومت میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے لیے ایک بیان تک دینے کو تیار نہیں۔ اصول سیاست سے غائب ہو چکے ہیں، اور ان کی جگہ مصلحت، مفاد اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی نے لے لی ہے۔ آج کی سیاست نظریے نہیں، نمبروں کی غلام ہے۔
یہ صرف سیاسی بحران نہیں، ایک فکری المیہ ہے۔ ہم اس مقام پر آ پہنچے ہیں جہاں جبر کو پہچاننے کی صلاحیت بھی مفقود ہو رہی ہے۔ ہم نے ظلم کو اس کی وردی سے نہیں، اس کے لبادے سے پہچاننا چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ سچ بہت سادہ ہے: جبر چاہے وردی میں ہو یا شیروانی میں، جبر ہی ہوتا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاسی اسیروں کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو ہم صرف حال سے نہیں، تاریخ سے بھی شکست کھا جائیں گے۔ کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ ظالم کون تھا—وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ
خاموش کون تھا۔
_________________________________
27 مارچ 1983: جیل کی ڈائری کا ایک اہم ورق
تحریر: ذوالفقار قادری (ترتیب و تدوین کے ساتھ)
14 اگست 1981 کی رات میری اور توصیف ملک کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ہمیں تھانہ قنبر میں حراست میں رکھا گیا، جہاں ہمارے خلاف مارشل لا ریگولیشن 13 کے تحت سازش، بغاوت، ملک دشمنی اور مسلح افواج کے خلاف نفرت پھیلانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ اس مقدمے کا چالان سمری ملٹری کورٹ لاڑکانہ میں پیش کیا گیا، جہاں تقریباً ایک سال تک کیس چلتا رہا۔ اس دوران ہم مختلف حراستی مراکز—پولیس لاک اپ قنبر، جوڈیشل جیل قنبر، تعلقہ تھانہ لاڑکانہ، سینٹرل جیل سکھر اور سینٹرل جیل لاڑکانہ—میں قید رہے۔
بالآخر ستمبر 1982 میں سمری ملٹری کورٹ لاڑکانہ نے ہمیں ریاست اور فوج کے خلاف سازش کے الزام میں ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ کم عمری کے باعث ہمیں جوینائل جیل لانڈھی، کراچی منتقل کر دیا گیا، جو بظاہر کم عمر قیدیوں کے لیے مخصوص تھی، مگر حقیقت میں سخت قید و بند کا مرکز تھی۔ وہاں ہمیں تنہائی کی کوٹھڑیوں (سیل) میں رکھا گیا۔
جیل میں معلوم ہوا کہ اسپیشل وارڈ میں کامریڈ جام ساقی، معروف صحافی سہیل سانگی اور شبیر شر بھی قید ہیں۔ سخت نگرانی کے باوجود قیدیوں کے ذریعے خفیہ پیغام رسانی اور کتابوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ پہلی کتاب جو مجھے خفیہ طور پر موصول ہوئی، میکسم گورکی کا شہرۂ آفاق ناول “ماں” تھا، جس نے جیل کی تاریکی میں ایک نئی روشنی پیدا کی۔
کچھ عرصے بعد جیل کی ڈیوڑھی پر ملاقات کے بعد واپسی کے دوران تلاشی کے مسئلے پر اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی، جس کے نتیجے میں ہمیں “بند وارڈ” کر دیا گیا۔ جب یہ خبر کامریڈ جام ساقی اور ان کے ساتھیوں تک پہنچی تو انہوں نے احتجاج کیا، جس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ قاسم علی خواجہ نے ہمیں سیل سے نکال کر ان کے وارڈ میں منتقل کر دیا۔ یوں ہم ایک ہی وارڈ میں مگر الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید ہو گئے۔
روزانہ صبح چھ بجے ہمیں سیل سے نکالا جاتا، اور دن بھر اسپیشل وارڈ میں مختلف موضوعات پر گفتگو، مطالعہ اور بحث و مباحثہ جاری رہتا۔ شام چھ بجے ہر قیدی کو دوبارہ اس کے سیل میں بند کر دیا جاتا۔ اسی دوران کامریڈ جام ساقی اور دیگر سیاسی اسیروں پر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے تحت معروف “جام ساقی کمیونسٹ کیس” کی سماعت جاری تھی۔

یہ مقدمہ کرنل عتیق کی سربراہی میں قائم ایک خصوصی ملٹری کورٹ میں چل رہا تھا، جس میں کیپٹن افتخار جلیس اور ایک مجسٹریٹ بھی شامل تھے۔ چونکہ ہم سب ایک ہی جیل میں تھے، اس لیے مقدمے کی تیاری، حکمت عملی اور بحثیں ہمارے سامنے ہی ہوتی تھیں۔


ستائیس مارچ 1983 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن تھا۔ اس روز، جب ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی، محترمہ بینظیر بھٹو، جو خود کراچی میں نظر بندی کی حالت میں تھیں، ملٹری کورٹ کے سمن پر بطور گواہِ صفائی عدالت میں پیش ہوئیں۔ یہ ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ اقدام تھا۔

اس مقدمے میں جام ساقی، پروفیسر جمال نقوی، سہیل سانگی، شبیر شر، بدر ابڑو، کمال وارثی اور امر لعل پر بغاوت اور ملک دشمنی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایسے ماحول میں، جب کوئی بھی سرکاری انتقام کے خوف سے گواہی دینے کو تیار نہ تھا، بینظیر بھٹو کا عدالت میں پیش ہونا خود ایک سیاسی اعلان تھا۔
عدالت میں انہوں نے نہایت جرات کے ساتھ بیان دیا کہ:
“جام ساقی اور ان کے ساتھی محبِ وطن ہیں، ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ جمہوریت کے حامی اور آمریت کے مخالف ہیں۔”
انہوں نے ملٹری کورٹ کے اختیارات کو بھی چیلنج کیا اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہیں۔
اس واقعے کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے تحریکِ بحالیٔ جمہوریت- ایم آر ڈی کو نئی توانائی ملی، سندھ میں مختلف سیاسی نظریات رکھنے والی قوتوں خصوصاً پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کے درمیان ایک فکری اور عملی اتحاد مضبوط ہوا، اور عالمی سطح پر پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ مبذول ہوئی۔
ہمارے لیے وہ دن خاص طور پر یادگار تھا، جب کامریڈ جام ساقی، سہیل سانگی اور شبیر شر عدالت میں پیشی کے بعد واپس جیل آئے اور انہوں نے تفصیل سے عدالت کی کارروائی اور بینظیر بھٹو کی جرات مندانہ گواہی کا حال بیان کیا۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو نے ان سے جیل کے حالات دریافت کیے اور پوچھا کہ ان کے ساتھ اور کون قید ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کے دو نوجوان کارکن—ذوالفقار قادری اور توصیف ملک—بھی اسی جیل میں ہیں، تو انہوں نے پیغام دیا
“انہیں میرا سلام کہنا، اور یہ بھی کہنا کہ مشکل دن ہمیشہ نہیں رہتے، گزر جاتے ہیں۔”
یہ الفاظ ہمارے لیے امید، حوصلے اور یقین کی ایک نئی کرن تھے—جو آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔
ذوالفقار قادری پاکستان کے صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر اور تجربہ کار سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 27 مارچ 1983ء کے دن کی اہمیت ، اپنی گرفتاری کے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی جسے تاریخ اور واقعات کی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے مناسب ترتیب و تدوین کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ اورل ہسٹری اور پیپلز ہسٹری کے طور پر یہ آن لائن ریکارڈ کے طور پر دستیاب رہے ۔ تضاویر کے لیے ہم سینئر فوٹو جرنلسٹ زاہد حسین کے شکر گزار ہیں- ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز نیوز اردو