اردو ادب کے معاصر افق پر حفیظ خان ایک ایسے تخلیق کار بن کر ابھرے ہیں جن کا ہر نیا نقش پچھلے نقش سے مختلف، منفرد اور ایک اچھوتے جہانِ معنی کا امین ہوتا ہے۔ 2018ء میں جب ان کا پہلا ناول “ادھ ادھورے لوگ” منظرِ عام پر آیا، تو اس نے فکشن کی دنیا میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کا احساس دلایا، اور پھر 2025ء تک “ہر ایک جنم کی جانما” کی صورت میں ان کے سات شاہکار تخلیقی سفر کی ایسی منزلیں ثابت ہوئے جنہوں نے قاری کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ حفیظ خان کی سب سے بڑی فنی کامرانی یہ ہے کہ ان کے ہاں تکرار کا شائبہ تک نہیں ملتا؛ نہ کوئی پچھلا کردار لوٹ کر آتا ہے اور نہ ہی پرانی کہانیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، بلکہ ہر بار ایک نیا جنم اور ایک نیا تخلیقی ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔
لیکن فروری 2026ء کی وہ ساعت میرے لیے کسی حیرت کدے سے کم نہ تھی جب ان کا آٹھواں ناول میرے ہاتھوں میں پہنچا۔ اس کے سرورق پر کندہ محض ایک لفظ نے میرے وجود میں تجسس کا ایک تلاطم برپا کر دیا— “وِبھاج”۔
سنسکرت اور پالی زبان کی قدیم جڑوں سے کشید کیا گیا یہ لفظ محض ایک عنوان نہیں، بلکہ انسانی روح کے اس کرب کا استعارہ ہے جسے ہم ‘شناخت کا وجودی بحران’ کہتے ہیں۔ حفیظ خان کی جادو بیانی کو داد دینا بنتی ہے کہ انہوں نے پوری انسانی جبلت، پلاٹ کی گہرائی اور کرداروں کے بکھراؤ کو اس ایک جامع اور پرشکوہ لفظ میں سمو کر رکھ دیا ہے۔ “وِبھاج” صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ذات کے اندر ہونے والی اس تقسیم کی نوحہ گری ہے جو ہمیں خود سے بیگانہ کر دیتی ہے، اور یہی وہ اشتیاق ہے جو قاری کو اس ناول کے سحر میں ڈوب جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
وبھاج‘: روح کی کرب ناک ہجرت اور وجودی سچائی
’وبھاج‘ محض لغت کی ایک خشک اصطلاح یا فلسفے کی بے روح تقسیم نہیں ہے، بلکہ یہ اس ہولناک دراڑ کا نام ہے جو انسان کے بدن اور اس کی روح کے عین درمیان پڑ جاتی ہے۔ جب ہم سنسکرت اور پالی کی قدیم جڑوں میں اتر کر اس کے معنی تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں وہاں صرف ’تجزیہ‘ نہیں ملتا، بلکہ ایک ایسی چیر پھاڑ ملتی ہے جو انسان کو اس کی ظاہری کلیت سے جدا کر کے اسے اپنے ہی وجود کے ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے ہی بدن کو ایک اجنبی مکان کی طرح دیکھنا شروع کرتا ہے ایک ایسا مکان جہاں اسے زبردستی بسایا گیا ہے، مگر اس کی روح کسی اور نگر کی باسی ہے۔ یہ تقسیم
(Vibhaja)
مٹی اور گوشت کی دیواروں کے پیچھے چھپی اس سچائی کا ماتم ہے، جو پکار پکار کر کہتی ہے کہ میں وہ نہیں ہوں جو دکھائی دیتا ہوں۔
نفسیاتی طور پر ’وبھاج‘ اس لمحے کی پکار ہے جب ایک انسان اپنے بدن کی قید میں سسک رہا ہوتا ہے۔ یہ اس وجودی بحران کی انتہا ہے جہاں فرد اپنے ہی اعضاء کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیتا ہے۔
تصور کریں اس شدتِ جذبات کا، جب ایک جیتا جاگتا وجود اپنے بدن کی تراش خراش سے انکار کر دے اور محض اپنی ’تخلیق کردہ سچائی‘ کے سہارے پوری دنیا کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ یہ اپنی شناخت کو کسی جراحی یا طبی معجزے کی بھیک چڑھانے کے بجائے، اسے اپنے لہو اور اپنے احساس کے چراغ سے روشن رکھنے کا نام ہے۔ یہاں ’وبھاج‘ کا مطلب وہ اذیت ناک تجزیہ ہے جہاں ایک فرد اپنے بدن کو تو تسلیم کرتا ہے، مگر اسے اپنی روح کا حکمران ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ وہ ثبات ہے جو پہاڑوں سے زیادہ بھاری ہے، جہاں انسان اپنی جسمانی ہیئت کو بدلے بغیر اپنی صنف کے اس کرب کو جیتا ہے جو اسے دنیا کی نظر میں تماشا، مگر اپنی نظر میں معتبر بناتا ہے۔
اس موضوع پر عالمی ادب میں ہمیں بہت کم ایسے ناول ملتے ہیں جنھوں نے اس صنف کے ساتھ انصاف کیا ہو ۔
ادب کی کائنات میں جب ایسے کردار اس کرب سے گزرتے ہیں، تو وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جینڈر کوئی لباس نہیں جسے بدلا جائے، بلکہ یہ وہ آگ ہے جس میں انسان مسلسل جلتا ہے۔ ’وبھاج‘ یہاں اس مقدس آگ کا نام ہے جو ظاہری ڈھانچے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور پیچھے صرف وہ خالص ’ذات‘ چھوڑتی ہے جو صنف کی حدوں سے ماورا ہے۔ یہ احساس کی وہ آخری حد ہے جہاں بدن کی گواہی جھوٹی پڑ جاتی ہے اور صرف روح کا ’اعلان‘ سچا رہ جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کٹ کر، بٹ کر اور تقسیم ہو کر بھی اپنی اصل حقیقت میں سب سے زیادہ کامل اور جرات مند دکھائی دیتا ہے۔
اس حوالے سے جو میرے ذہن میں پہلا نام آتا ہے وہ ورجنیا وولف
(Virginia Woolf)
کا ہے ۔ وہ بیسویں صدی کی سب سے اہم اور بااثر انگریزی ادیبہ، ناول نگار، اور مضمون نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی تحریروں کے انوکھے اسلوب کی وجہ سے مشہور ہیں بلکہ صنفِ نازک اور انسانی شعور کی تہوں کو کھولنے میں ان کا کردار کلیدی رہا ہے۔ وبھاج اور صنفی شناخت کے باب میں وہ سب سے الگ تھلگ نظر آتی ہیں ۔
وولف نے روایتی کہانی کاری کے طریقے کو رد کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسانی زندگی واقعات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یادوں، احساسات اور خیالات کا ایک مسلسل بہاؤ ہے۔
ان کے ناولوں “ٹو لائٹ ہاؤس ” اور “مسز ڈالوئے ” میں کہانی باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ کرداروں کے ذہن کے اندر چلتی ہے۔یہ وہی “وبھاج” یا تجزیہ ہے جہاں وہ انسان کی بیرونی شخصیت کو توڑ کر اس کے اندرونی انتشار کو سامنے لاتی ہیں۔
جسمانی ساخت بدلے صنفی شناخت کے تعین اور وبھاج کے باب میں وولف کا ناول “اورلینڈو” اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ورجینیا وولف کے ناول
Orlando
میں مرکزی کردار ایک مرد کے طور پر زندگی کا آغاز کرتا ہے، صدیوں تک جیتا ہے اور پھر ایک دن عورت بن کر جاگتا ہے، مگر اس کی روح اور شناخت وہی رہتی ہے۔ وولف اس کے ذریعے یہ واضح کرتی ہیں کہ جینڈر محض ایک سماجی تعمیر ہے اور انسانی شخصیت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔
اپنے معروف مضمون
A Room of One’s Own
میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کو تخلیق کے لیے معاشی خودمختاری اور ذاتی جگہ درکار ہوتی ہے، کیونکہ تاریخ میں عورتوں کی آواز کو اسی لیے دبایا گیا کہ انہیں یہ آزادی میسر نہ تھی۔
اسی تناظر میں وہ “شیکسپیر کی بہن” کا تصور پیش کرتی ہیں تاکہ دکھا سکیں کہ سماجی رکاوٹیں کس طرح ایک عظیم صلاحیت کو بھی ابھرنے سے روک سکتی ہیں۔ وولف کا “اینڈروجنی” کا نظریہ اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ ایک مکمل تخلیقی ذہن میں مردانہ اور نسوانی دونوں خصوصیات کا امتزاج ہونا چاہیے۔ ان کی اہم تصانیف جیسے
Mrs. Dalloway
To the Lighthouse
Orlando
The Waves
انسانی شعور، وقت، رشتوں اور وجودی پیچیدگیوں کی گہری عکاسی کرتی ہیں۔ ذاتی زندگی میں شدید نفسیاتی مسائل کا شکار رہنے والی وولف نے 1941 میں خودکشی کر لی، مگر ان کی تحریریں آج بھی انسانی وجود اور صنفی آزادی کو سمجھنے کے لیے ایک روشن حوالہ بنی ہوئی ہیں۔
وبھاج کے باب میں دوسرا مثالی ناول جیفری یوگینیڈس
(Jeffrey Eugenides)
کا “دی مڈل سیکس”
(Middlesex)
ہے جو 2002 میں شائع ہوا اور جس نے پلٹزر پرائز
(Pulitzer Prize)
جیتا، صنفی شناخت
(Gender Identity)
اور جینیاتی وراثت کے موضوع پر ایک ہمہ گیر داستان ہے۔ یہ “وبھاج” (تقسیم/تجزیہ) کی ایک بہت ہی انسانی اور جذباتی تصویر پیش کرتا ہے۔
ناول کا راوی اور مرکزی کردار کیلی سٹیفنیڈس
(Calliope/Cal Stephanides)
ہے، جو ایک یونانی نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کہانی تین نسلوں پر محیط ہے جو یونان سے ہجرت کر کے امریکہ (ڈیٹرائٹ) منتقل ہوتی ہیں۔ کیلی ایک نایاب جینیاتی حالت
(5-alpha reductase deficiency)
کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے پیدائش کے وقت لڑکی سمجھا جاتا ہے اور اس کی پرورش ایک لڑکی کے طور پر ہوتی ہے۔
ناول میں وہ لمحہ سب سے اہم ہے جب بلوغت کے دوران کیلی کو احساس ہوتا ہے کہ اس کا جسم ان تبدیلیوں سے نہیں گزر رہا جن سے لڑکیوں کا جسم گزرتا ہے۔ یہاں سے اس کی ذات میں وہ “تقسیم” یا “وبھاج” شروع ہوتا ہے۔
ناول میں کیلی اپنی پیدائشی شناخت اور اندرونی احساس کے درمیان کشمکش کا شکار ہوتی ہے اور طبی نظام اسے ایک “کیس” بنا کر اس کی ذاتی سچائی کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ سرجری سے انکار کرکے “کال” کے طور پر جینے کا فیصلہ کرتی ہے اور بغیر جسمانی تبدیلی کے اپنی شناخت خود متعین کرتی ہے۔ ناول واضح کرتا ہے کہ جینڈر محض جسم نہیں بلکہ انسان کے انتخاب اور طرزِ زندگی سے بنتا ہے، جبکہ سماج کی دوٹوک تقسیم کے برعکس فرد اپنی شناخت خود طے کرنے کا حق رکھتا ہے۔اس کا کردار اپنے جسم کو “مسترد” نہیں کرتا، بلکہ اسے “دوبارہ سے بیان” کرتا ہے۔ وہ اپنی حیاتیاتی ساخت کو بدلے بغیر اپنی نفسیاتی اور صنفی حقیقت کو تسلیم کرواتا ہے۔
اردو ادب میں مجھے “وبھاج ” کے نفسیاتی پہلو سے معاملہ کرنے والا ناول اس سے پہلے کسی اور ادیب کے ہاں نہیں ملتا ۔
حفیظ خان کا ناول ‘وِبھاج’ معاصر اردو فکشن میں اس اعتبار سے ایک منفرد اور اہم مقام رکھتا ہے کہ یہ ورجینیا وولف کی ‘خالص شعور کی رو’
(Stream of Consciousness)
جیسی تجریدی تکنیک کا محض اسیر ہو کر نہیں رہ جاتا۔ اس ناول کی کہانی صرف کرداروں کے ذہن کے نہاں خانوں میں ہی نہیں چلتی، بلکہ اس میں جاندار واقعہ نگاری اور گہری کردار نگاری کا وہ متوازن امتزاج موجود ہے جو بیانیے کے ‘کہانی پن’ کو آغاز سے انجام تک برقرار رکھتا ہے۔ یہ ناول معنوی یا غیر معنوی ایہام نگاری کی کوئی مجرد مثال بننے کے بجائے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے پیچیدہ موضوعات کو سماجی حقیقت نگاری کے ساتھ اس طرح پیوست کر دیتا ہے کہ یہ مختلف فکری سطحوں کے قارئین کے لیے یکساں کشش اور مطالعے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ناول کے مرکزی کرداروں میں جلال ایک ایسا المیہ وجود ہے جو بچپن سے ہی اپنی ‘صنفی شناخت’ کے بدترین بحران میں مبتلا ہے۔ اس کی نفسیاتی الجھن اس وقت ایک ہولناک موڑ مڑتی ہے جب اس کا اپنا ملازم اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے، جس سے اس کے اندر مردانہ اور زنانہ شناخت کے حوالے سے شدید نفرت اور ابہام جنم لیتا ہے۔ یہ بحران اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب اسے انکشاف ہوتا ہے کہ وہ کمال احمد کی حیاتیاتی اولاد نہیں ہے، بلکہ اسے ایک اسٹور سے ایسی تصویریں ملتی ہیں جن میں اس کا باپ زنانہ لباس اور میک اپ میں ملبوس ہوتا ہے اور ان میں سے ایک شکل میں اسے اپنا عکس نظر آتا ہے۔ جلال کے لیے سب سے بڑا صدمہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ اپنے ظاہری باپ کمال احمد کو زنانہ لباس میں ایک اور مرد کے ساتھ رقص کرتے اور اپنی ماں نرگس کے ساتھ جنسی عمل میں شریک دیکھتا ہے۔ گھر چھوڑنے کے بعد جلال پر ایک اور قیامت اس وقت گزرتی ہے جب ریلوے اسٹیشن کے قلی اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس کی زندگی نشو اور شبنم جیسے کرداروں کے درمیان بھٹکتی رہتی ہے، جہاں وہ اپنی ماں کے لیے نفرت اور رحم کے متضاد جذبات میں گھرا رہتا ہے اور جنس کو محض جسمانی خدوخال کے سخت خانوں میں بانٹنے والوں سے شدید بیزاری محسوس کرتا ہے۔
دوسری جانب انارا ایک فلسطینی نژاد عورت ہے، جس کی شخصیت بیروت میں بچپن میں ہونے والی اجتماعی جنسی زیادتی کے زخموں سے چور ہے۔ وہ مردوں سے نفرت کے جذبے کے ساتھ پاکستان آتی ہے اور بھٹو دور میں میڈیکل کالج میں داخلہ لیتی ہے۔ یہاں وہ اپنی ذات کے گرد ایک حصار کھینچ لیتی ہے، لیکن اس کی روم میٹ جویریہ اس کے وجود میں ہم جنس پرستی کے مبہم احساسات بیدار کرتی ہے۔ جویریہ سے علیحدگی کے بعد وہ ‘خود لذتی’ اور تنہائی کے کرب سے گزرتی ہے، جہاں ریم نامی لڑکی بھی اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر انارا کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی اس کی اصل صنفی شناخت نہیں ہے۔ انارا اور جلال جب ملتے ہیں، تو دونوں کو ادراک ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جیسے وجودی بحران اور ‘وِبھاج’ (تقسیم) کا شکار ہیں۔ جلال کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اسے انارا کے ساتھ بدترین سلوک پر اکساتی ہے، مگر انارا اس سے جڑی رہتی ہے کیونکہ جلال کی صورت میں اسے اپنے ہی کرب کا آئینہ نظر آتا ہے۔
انارا کے کردار میں سب سے توانا پہلو وہ داخلی تصادم ہے جو اس کے اندر ‘دو عورتوں’ کی صورت میں موجود ہے۔ یہاں ‘وِبھاج’ یا تقسیم صرف سماجی رشتوں کے درمیان نہیں بلکہ انارا کے ‘دانشورانہ وجود’ اور ‘جذباتی وجود’ کے درمیان ہے۔ وہ جو برسوں سے مردانہ غلبے کے خلاف ایک فکری مورچہ سنبھالے ہوئے تھی، مونا کے جلال (مردانہ لمس) کی طرف جھکاؤ سے خود کو نظریاتی طور پر بے لباس محسوس کرنے لگتی ہے۔ یہ اس کی اس علمی انا کی شکست ہے جو انسان کو خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کی عادی تھی، لیکن جب زندگی کا عملی تجربہ سامنے آتا ہے تو وہ تمام کتابی بصیرتیں اسے ‘کچرا’ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ حفیظ خان نے اس تحریر میں جنسیت
(Sexuality)
کو ایک جامد حقیقت کے بجائے ایک سیال
(Fluid)
کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ انارا کا یہ اضطراب کہ کیا انسان اپنی صنف اور خواہش میں مستقل رہ سکتا ہے، دراصل سماجی طور پر طے شدہ ‘شناخت’ کے روایتی تصور پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ناول کا فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ حیاتیاتی جینیات
(Chromosomes)
شاید انسان کا ڈھانچہ تو مرتب کر دیں، لیکن اس کے باطن کی پیچیدگیاں اسے کسی بھی لمحے اپنے ہی طے کردہ اصولوں سے منحرف کر سکتی ہیں۔ آئینے کے سامنے انارا کی خود کلامی ایک کلاسیکی نفسیاتی علامت کے طور پر ابھرتی ہے، جہاں آئینہ محض عکس نہیں دکھاتا بلکہ وہ مقام بن جاتا ہے جہاں ‘وِبھاج’ (تقسیم) اپنے عروج پر پہنچ کر ایک ‘سرد روشنی’ میں بدل جاتی ہے۔ انارا کا خود سے یہ سوال کہ “میں کون ہوں؟” اس کے وجودی بحران
(Existential Crisis)
کی انتہا ہے۔ وہ خود کو کسی خاص صنف یا بدن کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسی شناخت کی تلاش میں ہے جو تمام سماجی اور جنسی حوالوں سے ماورا ہو۔ یہاں اندھیرا اور سناٹا مایوسی کے بجائے ایک ‘اطمینان’ کا پیش خیمہ بن کر ابھرتے ہیں، کیونکہ یہی وہ تنہائی ہے جہاں انسان اپنی جھوٹی پہچان کے خول اتار کر اپنی اصل ‘تقسیم شدہ’ حقیقت کا سامنا کرتا ہے۔
‘وِبھاج’: نفسیاتی گہرائی اور فنی کمال کا سنگِ میل
میرا یہ پختہ ذاتی خیال ہے کہ نفسیات کے اتنے پیچیدہ، گنجلک اور تہہ دار موضوع کو گرفت میں لینا کسی بڑے فنی جوکھم سے کم نہیں ہے۔ ایسے حساس موضوع پر ایک مختصر افسانہ یا کہانی تخلیق کرنا بھی کسی فنکار کے لیے پل صراط پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے، چہ جائیکہ اس پر ایک مکمل اور ضخیم ناول لکھ کر اس کے تمام تار و پود بکھیر دیے جائیں۔ حفیظ خان نے اس ناول میں جس تخلیقی جرات کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بلاشبہ انہیں معاصر فکشن نگاروں میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ اس شاہکار میں جلال، ریم اور مونا احمد جیسے کردار اردو ادب میں ان اچھوتے اور ممنوعہ مباحث کی راہ کھولیں گے جن پر اب تک مصلحتوں کی دبیز چادر تنی رہی ہے۔ خاص طور پر کمال احمد کا کردار اپنی نفسیاتی تہوں اور مبہم جہتوں کی وجہ سے قاری کے لیے گہری دلچسپی اور حیرت کا مستقل سبب بنا رہتا ہے۔
اس پورے تخلیقی سفر میں ‘انارا’ کا کردار ایک ایسا صدمہ ہے جو قاری کے بنے بنائے نظریاتی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ انارا کی ‘صنفی شناخت’ کا وہ پر آشوب سفر، جو اس کے وجود میں پڑنے والی ایک گہری ‘دراڑ’ کے ساتھ شروع ہوتا ہے، انسانی شعور کو ششدر کر دینے کے لیے کافی ہے۔ حفیظ خان نے جس بے رحمانہ سچائی اور فنی چابکدستی سے اس کردار کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے، وہ نفسیاتی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔ یہ کردار محض ایک کہانی کا حصہ نہیں لگتا، بلکہ انسانی جبلت اور سماجی جبر کے تصادم سے پیدا ہونے والا ایک جیتا جاگتا نوحہ بن کر ابھرتا ہے، جو ہمیں صنف اور پہچان کے روایتی تصورات پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
حفیظ خان کا یہ ناول محض ایک بیانیہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی وجود، جنسیت اور نفسیاتی شکست و ریخت کا ایک عمیق فلسفیانہ مطالعہ ہے۔ اس تحریر میں ‘وِبھاج’ یعنی تقسیم کا تصور کئی سطحوں پر کارفرما نظر آتا ہے۔ یہ تقسیم صرف سماجی یا جنسی نہیں ہے، بلکہ یہ ذات کے اس بکھراؤ کا استعارہ ہے جہاں انسان اپنے ہی اندر کئی حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار، انارا اور جلال، زندگی کے اس کٹھن مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے برسوں پر محیط علمی نظریات، کتابی دانش اور جذباتی پناہ گاہیں ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ جب زندگی اپنے ننگے حقائق کے ساتھ سامنے آتی ہے، تو ان کی تمام فکری پناہ گاہیں منہدم ہو جاتی ہیں اور وہ خود کو اس وجودی خلا میں تنہا پاتے ہیں جہاں ‘وبھاج’ کی اذیت ناک حقیقت کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔
حفیظ خان نے ناول میں بڑی مہارت سے یہ واضح کیا ہے کہ انسان کا اصل المیہ خود کو حصوں میں بانٹ کر دیکھنا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ایک ایسا مسلسل بہاؤ ہے جسے کسی ایک نظریے یا صنف کی گرفت میں نہیں لایا جا سکتا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حفیظ خان کا ناول ‘وِبھاج’ محض ایک کہانی نہیں بلکہ اردو فکشن کے ماتھے پر ایک ایسا جھومر ہے جو اپنی چمک سے معاصر ادب کے کئی بند گوشوں کو منور کرتا ہے۔ یہ ناول ثابت کرتا ہے کہ حفیظ خان ان تخلیق کاروں میں سے نہیں جو شہرت کے سہارے ایک ہی ڈگر پر چلتے رہیں، بلکہ وہ ہر بار اپنی ذات اور فن کی نئی دریافت کرتے ہیں۔ ‘وِبھاج’ کے ذریعے انہوں نے اردو ناول کو اس جمود سے نکالا ہے جہاں نفسیاتی مباحث کو صرف علامات کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر پیش کیا جاتا تھا۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایک پیچیدہ وجودی بحران کو سماجی حقیقت نگاری کے پیراہن میں ڈھال کر ایک ایسی آفاقی کہانی کشید کی جا سکتی ہے جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ادبی اعتبار سے ‘وِبھاج’ کا مقام اس لیے بھی بلند ہے کہ یہ صنفی شناخت اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ جیسے حساس موضوعات کو کسی سستی جذباتیت یا مصلحت پسندی کا شکار ہوئے بغیر ‘خالص انسانی تناظر’ میں پیش کرتا ہے۔ حفیظ خان نے انارا اور جلال کے کرداروں کے ذریعے ‘تقسیم’ کا جو فلسفہ پیش کیا ہے، وہ صرف ان دو کرداروں تک محدود نہیں بلکہ یہ اس جدید عہد کے ہر اس انسان کا المیہ ہے جو اپنی جبلت اور سماجی توقعات کے درمیان معلق ہے۔ یہ ناول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھنے کے بجائے اسے اس کے تمام تر تضادات، محرومیوں اور سیال جذبوں کے ساتھ قبول کرنا ہی اصل دانش مندی ہے۔
حفیظ خان کی یہ تخلیق اردو ادب کے اس ذخیرے میں گراں قدر اضافہ ہے جہاں اب موضوعات کی قلت محسوس ہونے لگی تھی۔ فروری 2026ء میں شائع ہونے والا یہ آٹھواں ناول بلاشبہ ان کے تخلیقی سفر کا نقطہِ عروج قرار دیا جا سکتا ہے، جس نے نہ صرف ان کے مداحوں کے اشتیاق کو تسکین دی بلکہ ناقدینِ فن کو بھی نئے زاویوں سے سوچنے کی دعوت دی ہے۔ ‘وِبھاج’ پڑھنے کے بعد قاری اس احساس کے ساتھ کتاب بند کرتا ہے کہ حفیظ خان ایک ایسے جادوگر ہیں جن کے پاس انسانی روح کے ہر زخم کا بیان موجود ہے اور وہ اسے ایسے لفظوں میں ڈھالتے ہیں کہ وہ زخم ایک فن پارے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ناول آنے والے برسوں میں اردو فکشن کے طالب علموں کے لیے ایک درسی حوالے کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔