کمرے میں بجلی نہیں تھی اور نازگل بچوں کو روشنی کے بارے میں پڑھا رہی تھی۔ اس نے تختۂ سیاہ پر ایک پودا بنایا، جڑوں کے نیچے چند ٹیڑھی لکیریں کھینچیں، اوپر دائرہ بنا کر سورج لکھا اور چاک سے تین کرنیں پتوں تک پہنچا دیں۔ اصل کمرے میں روشنی اتنی کم تھی کہ سفید لکیریں بھی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ پنکھے بند تھے۔ کھڑکی کے باہر سے آنے والی گرم ہوا ریت کے باریک ذرے میزوں، بالوں اور کھلی کتابوں پر بچھاتی جاتی تھی۔
“پودا پانی، ہوا اور روشنی کی مدد سے اپنی خوراک خود بناتا ہے،” نازگل نے کہا۔ “اس عمل کو ضیائی تالیف کہتے ہیں۔”
ہانی نے کھڑکی کے پاس رکھے مٹی کے گملے میں انگلی ڈال دی۔ اس میں کئی ہفتوں سے ایک باریک بھوری ٹہنی کھڑی تھی۔ پہلے اس پر دو سبز پتے تھے، پھر ایک زرد پڑا، دوسرا سکڑا اور دونوں جھڑ گئے۔ بچوں میں سے کوئی کبھی اسے پانی دے دیتا، کوئی اپنی بچی ہوئی بوتل الٹ دیتا، اور بعض دن وہ پوری طرح بھلا دیا جاتا۔
“یہ اپنی خوراک کیوں نہیں بناتا؟” ہانی نے پوچھا۔
“اسے پوری روشنی نہیں ملتی۔”
ہانی نے گملا اٹھا کر میز کے نیچے رکھ دیا۔
کلاس میں ہنسی پھیل گئی۔
“وہاں تو اور بھی کم روشنی ہے۔”
“میں دیکھ رہی ہوں کتنے دن چلتا ہے۔”
نازگل نے اسے گملا واپس کھڑکی کے پاس رکھنے کا حکم دیا۔ ہانی نے رکھ دیا، مگر ٹہنی کو یوں دیکھتی رہی جیسے اس کے ساتھ کوئی شرط باندھ آئی ہو۔
گھنٹی بجی تو بچے بستے بند کر کے باہر نکلنے لگے۔ میزوں کے نیچے پنسل کے چھلکے، مٹی کے ذرے اور پھٹے ہوئے کاغذ رہ گئے۔ نازگل چاک ڈبے میں رکھ رہی تھی کہ چپڑاسی نے دروازے سے سر اندر کیا۔
“دو عورتیں باہر صبح سے آپ کو پوچھ رہی ہیں۔”
وہ اسکول کی دیوار کے ساتھ تھوڑی سی چھاؤں میں بیٹھی تھیں۔ بڑی عورت کی گود میں شفاف پلاسٹک کا ایک لفافہ تھا۔ اس میں شناختی کارڈ کی دھندلی فوٹو کاپی، کسی درخواست کا ادھورا مسودہ اور شادی کی ایک اجتماعی تصویر رکھی تھی۔ تصویر میں پندرہ بیس مرد ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے۔ سامنے والوں کے چہرے صاف تھے، پیچھے والوں کے آدھے۔ عورت نے ناخن سے ایک ایسے نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس کی ایک آنکھ اور پیشانی کسی دوسرے شخص کے کندھے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔
“یہ جلال ہے۔”
نازگل نے تصویر اپنے جسم کے سائے میں کر لی۔
“کب سے گھر نہیں آیا؟”
“اسے لے گئے ہیں۔”
“کب؟”
“پیر کی رات۔”
ساتھ بیٹھی عورت بولی، “منگل شروع ہو چکا تھا۔”
“کتنے بجے؟”
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ بڑی عورت نے سوچ کر کہا، “میں آخری روٹی اتار چکی تھی۔ چھوٹا ابھی کھانا مانگ رہا تھا۔ مسجد کی عشا بہت پہلے ہو گئی تھی۔”
نازگل نے بیگ سے کاغذ اور قلم نکالا۔
“نام پورا بتائیں۔”
“جلال۔”
“والد کا نام؟”
“عبدالغفور۔”
“عمر؟”
“اکیس۔ بائیس لگ گئی ہوگی۔”
“شناختی کارڈ نمبر؟”
عورت نے ایک مڑا ہوا کاغذ آگے کیا۔ پنسل سے لکھے ہندسوں میں دو جگہ رگڑ کے نشان تھے۔
“اصل کارڈ؟”
“جلال کے پاس تھا۔”
“اسے لے گئے تو کارڈ بھی ساتھ تھا؟”
“جیب میں کیا تھا، میں نے نہیں دیکھا۔”
“کون لے گیا؟”
“گاڑیوں والے۔”
“کس ادارے کے؟”
عورت نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ “گاڑیاں آئیں۔ لوگ اترے۔ دروازہ کھولا۔ اسے لے گئے۔”
“وردی تھی؟”
“کچھ کے کپڑے ایک جیسے تھے، کچھ کے نہیں۔”
“گاڑی کا نمبر؟”
“رات میں نمبر کون پڑھتا ہے؟”
“رنگ؟”
“اندھیرے میں سب گاڑیاں کالی ہوتی ہیں۔”
نازگل نے لکھا: نامعلوم افراد نامعلوم گاڑیوں میں ساتھ لے گئے۔ وہ یہ فقرہ کئی درخواستوں میں لکھ چکی تھی۔ ہر مرتبہ اسے محسوس ہوتا کہ نامعلوم کا لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے جنہیں اکثر سب پہچانتے ہیں، مگر کوئی نام نہیں لیتا۔
“قد؟”
عورت نے ہاتھ اپنے سر سے اوپر اٹھایا۔
“پانچ فٹ دس انچ؟”
“مجھ سے لمبا تھا۔ اپنے باپ سے چھوٹا۔”
“رنگ؟”
“جلال والا۔”
ساتھ والی عورت نے کہا، “گندمی لکھو۔”
“کوئی زخم، تل، جلنے کا نشان؟”
بڑی عورت نے فوراً کہا، “ہنستے ہوئے بائیں طرف کا دانت پہلے دکھتا ہے۔”
“جسم پر کوئی نشان؟”
“بازو پر بچپن میں جل گیا تھا۔ مگر دانت بھی لکھو۔ پہچاننے والا اسی سے پہچانے گا۔”
“درخواست میں اس کے لیے—”
“تم وہی لکھو جس سے وہ پہچانا جائے۔”
نازگل نے حاشیے میں لکھ دیا: ہنستے ہوئے بائیں طرف کا اگلا دانت نمایاں ہوتا ہے۔
“آپ کا نام؟”
“مہناز۔”
“پورا نام؟”
ساتھ والی عورت نے بتایا۔ نازگل نے لکھا۔ پھر آخری بار پہنے ہوئے کپڑوں کا سوال کیا۔
“گھر والی نیلی قمیص تھی۔ کالر کے اندر زردی رہتی ہے۔ دھلنے سے نہیں جاتی۔”
“شلوار؟”
“سفید ہوگی۔ یا خاکی۔”
“آپ نے دیکھا تھا؟”
“میں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ کپڑے نہیں۔”
درخواست مکمل ہوئی تو نازگل نے اسے پڑھ کر سنایا۔ مہناز ہر سطر پر سر ہلاتی رہی، مگر ایک لفظ پر رک گئی۔
“استدعا کیا ہے؟”
“درخواست۔”
“تو درخواست لکھو۔ استدعا کیوں؟”
نازگل نے لفظ کاٹ کر درخواست لکھ دیا۔
پھر مہناز نے پوچھا، “اب وہ واپس آ جائے گا؟”
نازگل نے کاغذ تہہ کیا۔ “یہ کمیشن، ڈپٹی کمشنر، پولیس اور دوسرے دفاتر میں جمع ہوگا۔ کیمپ میں بھی اس کا نام شامل ہوگا۔”
“میں نے دفتر نہیں پوچھا۔”
نیم کے درخت سے ایک سوکھا پتّا گرا اور پلاسٹک پر آ ٹھہرا۔ مہناز نے اسے ہٹایا نہیں۔
“آپ کو لگتا ہے وہ آئے گا؟”
نازگل نے جلال کے آدھے چہرے کو دیکھا۔
“ہم کوشش کریں گے۔”
“یہ بات میں بھی کہہ سکتی ہوں۔ آپ کیا کہتی ہیں؟”
نازگل نے جواب دینے سے پہلے اسکول کی دیوار کی طرف دیکھا۔ اندر کسی کلاس میں بچوں نے ایک ساتھ سبق دہرانا شروع کیا تھا۔
“ماں کو یہی سوچنا چاہیے کہ بیٹا آئے گا۔”
مہناز نے پوچھا، “میں ماں نہ ہوتی تو آپ کیا کہتیں؟”
نازگل خاموش رہی۔
مہناز درخواست چادر کے نیچے رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ جاتے جاتے اس نے اسکول کے دروازے کے پاس پڑے بچوں کے جوتے سیدھے کر دیے۔ پہلے ایک جوڑا، پھر دوسرا۔ اس کے ساتھ والی عورت نے بے زاری سے کہا، “چھوڑو، بچوں کے ہیں۔ پھر بکھر جائیں گے۔”
مہناز نے آخری چپل کو اس کے جوڑے کے قریب رکھتے ہوئے کہا، “بکھری چیز دیکھ کر میرا سر دکھتا ہے۔”
وہ چلی گئی۔
گھر پہنچی تو زر بی بی صحن میں بیٹھی مراد کی تصویر کے لیے کپڑے کا غلاف سی رہی تھی۔ گہرے نیلے کپڑے پر سرخ، سفید اور زرد دھاگوں سے چھوٹے مربع بنے تھے۔ ایک کونے میں نقش ادھورا تھا۔ زر بی بی ہر غلاف میں کوئی نہ کوئی خانہ چھوڑ دیتی تھی۔ پہلے میں دھاگا ختم ہوا تھا، دوسرے میں گنتی غلط ہوئی، تیسرے کو دیکھ کر کسی عورت نے کہا کہ خالی خانہ اس راستے کی علامت ہے جس سے لاپتا شخص واپس آئے گا۔ پھر کئی عورتوں نے تصویروں کے غلاف میں ایک خانہ خالی چھوڑنا شروع کر دیا۔
زر بی بی یہ بات سنتی تو ہنستی۔
“سوئی چھوٹ گئی تھی، کوئی راز نہیں چھوڑا تھا۔”
مگر وہ خانہ کبھی بھرتی بھی نہیں تھی۔
ماہ دیم تار سے کپڑے اتار رہی تھی۔ اس نے نازگل کو دیکھتے ہی کہا، “کل لوگ آ رہے ہیں۔”
“کون لوگ؟”
“خالہ نے جن کا ذکر کیا تھا۔ گوادر والے۔”
زر بی بی کی سوئی رک گئی۔ “کل ہم کیمپ جائیں گے۔”
“آپ جائیں۔ میں گھر ہوں گی۔”
“مردوں کے بغیر لوگوں سے بات کرو گی؟”
ماہ دیم نے گیلی چادر جھاڑی۔ “اس گھر میں مرد ہے کہاں؟”
زر بی بی نے سر اٹھایا۔
“میں جھوٹ کیا کہہ رہی ہوں؟ گیارہ سال ہوگئے۔ ہر فیصلہ مراد کے بعد، ہر خوشی اس کے واپس آنے پر، ہر کام اس کی تصویر کے نیچے۔ میری نوکری، میری شادی، امی کی آنکھ کا علاج، چھت کی مرمت—کیا سب اس کا انتظار کریں گے؟”
“بھائی کا نام ادب سے لو،” نازگل نے کہا۔
“میں نے نام ہی لیا ہے، گالی نہیں دی۔”
“بس کرو۔”
“کیوں؟ کیونکہ وہ نہیں ہے؟ جو یہاں ہے ہی نہیں، وہ ہم سب سے زیادہ جگہ کیوں گھیرتا ہے؟”
زر بی بی نے غلاف تہہ کیا، اندر گئی اور دیوار سے مراد کی تصویر اتار لی۔ تصویر کے پیچھے دیوار کا حصہ باقی دیوار سے صاف تھا۔ ایک روشن مستطیل نشان رہ گیا۔
ماہ دیم کے ہاتھ سے کپڑا گر گیا۔ شاید وہ اتنی بڑی تبدیلی نہیں چاہتی تھی۔
کھانے تک تصویر واپس نہیں آئی۔ صحن معمول سے وسیع دکھائی دیا، مگر کسی نے اس کشادگی سے فائدہ نہ اٹھایا۔ رات گئے زر بی بی نے تصویر دوبارہ وہیں لگا دی۔ صبح غلاف کا خانہ خالی تھا، البتہ اس کے گرد دو نئی ٹانکیں لگ چکی تھیں۔
اگلے دن ہانی گملے کی مٹی کرید رہی تھی۔
“کیا کر رہی ہو؟” نازگل نے پوچھا۔
“جڑ دیکھ رہی ہوں۔”
“نکالو گی تو مر جائے گی۔”
“اگر پہلے ہی مر گئی ہو؟”
“ہر چیز کو کھود کر فوراً نہیں دیکھا جاتا۔”
ہانی نے انگلی مٹی سے نکال لی۔ ناخن کے نیچے بھورا نشان بھر گیا۔
اسی روز ہیڈ مسٹریس نے نازگل کی چھٹی کی درخواست واپس کر دی۔ محکمہ تعلیم کا حکم تھا کہ سرکاری اساتذہ سیاسی اجتماعات میں شریک نہ ہوں۔
“آپ ہر چند ہفتے اسکول چھوڑ دیتی ہیں،” ہیڈ مسٹریس نے کہا۔ “بچوں کا نقصان ہوتا ہے۔”
“جن بچوں کے باپ اٹھائے جاتے ہیں، ان کا نقصان کس رجسٹر میں لکھا جاتا ہے؟”
“یہ اسکول ہے، سیاسی دفتر نہیں۔”
“وہ بچے بھی یہیں پڑھتے ہیں۔”
ہیڈ مسٹریس نے دروازہ آدھا بند کر دیا۔ “آواز کم کریں۔”
نازگل کے اندر ایک تیار جملہ اٹھا: آواز کم کرنے سے واقعہ ختم نہیں ہوتا۔ وہ اسے کہہ سکتی تھی۔ پھر اسے محسوس ہوا کہ اس کے اندر ایسے جملوں کا ذخیرہ بن گیا ہے جو ہر موقع پر خود باہر آنا چاہتے ہیں۔ اس نے چھٹی کی درخواست تہہ کی اور بیگ میں رکھ لی۔
“میں جاؤں گی۔”
“غیر حاضری لگے گی۔”
“لگا دیں۔”
ہیڈ مسٹریس نے اسے جاتے ہوئے کہا، “ہر وقت مضبوط رہنا بھی بیماری ہے۔”
قافلے کی تیاری میں نازگل نے عورتوں کے نام، شناختی کارڈ، دوائیں، فون نمبر، پانی، بچوں کے کپڑے، تصویروں کے غلاف، درد کی گولیاں اور سینیٹری پیڈ کی فہرست بنائی۔ زر بی بی نے بیگ میں جھانکا۔
“متلی کی دوا؟”
“بھول گئی۔”
“اپنے لیے کیا رکھا ہے؟”
“کپڑے ہیں۔”
“اپنا نام بھی کبھی فہرست میں لکھ لیا کرو۔”
روانگی کی صبح مہناز ایک کپڑے کی پوٹلی لائی۔ اس میں جلال کی ہلکی نیلی قمیص تھی۔
“یہ کیوں؟”
“تصویر صاف نہیں۔ کپڑے سے پہچان لیں گے۔”
“کون پہچانے گا؟”
مہناز نے اس سوال پر حیرت ظاہر کی۔ “جو اسے دیکھے گا۔”
بس میں عورتیں تصویریں گود میں لیے بیٹھی تھیں۔ بعض چہرے نئے اور صاف تھے، بعض اتنے پرانے کہ آنکھیں اور ناک کاغذ کے دھبوں میں مل گئے تھے۔ ایک بچے نے تصویر پر قلم سے مونچھیں بنانا چاہیں تو ماں نے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔ بچہ رونے لگا۔ مہناز نے اسے پاس بلایا، اس کے جوتے درست کیے، پھر اپنے تھیلے سے خشک کھجور دے دی۔ کچھ دیر بعد وہی بچہ نشست پر پاؤں رکھ کر بیٹھا تو مہناز نے اسے سختی سے نیچے اتار دیا۔
“کھانے کو دیتی ہو، بیٹھنے نہیں دیتی،” بچے کی ماں نے ہنس کر کہا۔
“گندا جوتا تصویر کے پاس اچھا نہیں لگتا۔”
پہلی چیک پوسٹ پر اہلکار نے بس کے اندر سر ڈالا۔
“کہاں جا رہے ہو؟”
عورتوں نے مختلف جواب دیے: شہر، کیمپ، عدالت، احتجاج۔
“کس مقصد سے؟”
نازگل نے فہرست آگے کی۔ اہلکار ایک ایک چہرہ نام سے ملانے لگا۔ مہناز کا نام غلط پڑھا تو وہ خاموش بیٹھی رہی۔
“یہ آپ کو بلا رہا ہے،” نازگل نے کہا۔
بس چلی تو مہناز نے پوچھا، “میرا نام غلط تھا؟”
“اس نے غلط پڑھا۔”
“کاغذ میں صحیح ہے؟”
“ہاں۔”
“جلال کا؟”
“وہ بھی۔”
راستے میں ایک بچی کو پیشاب آیا۔ عورتوں نے چادروں سے سڑک کنارے پردہ بنایا۔ اسی دوران ہوا سے جلال کی تصویر کا پلاسٹک پھٹ گیا۔ مہناز نے اسے سینے سے لگا لیا۔
“یہ خراب ہوئی تو میرے پاس اور نہیں۔”
نازگل نے نیا غلاف چڑھا دیا۔ پلاسٹک کے نیچے چہرہ مزید دھندلا گیا۔
“اب صاف ہے؟”
“ہاں۔”
یہ جھوٹ اس کے منہ سے اتنی آسانی سے نکلا کہ اسے اپنی آواز اجنبی لگی۔
نیٹ ورک بند ہوا تو اس نے زر بی بی کے لیے صوتی پیغام ریکارڈ کیا۔
“امّہ، ہم راستے میں ہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔”
پیغام نہ جا سکا۔ کچھ دیر بعد دوسرا بنایا۔
“پہنچنے والے ہیں۔ فکر نہ کرنا۔”
رات کے پڑاؤ پر اسے قے ہوئی۔ اس نے کسی کو نہ بتایا، پانی سے منہ دھو کر واپس عورتوں میں آ بیٹھی۔ پھر ایک اور پیغام ریکارڈ کیا۔
“امّہ، میں ٹھیک ہوں۔”
اپنی آواز سن کر اس نے اسے حذف کیا۔ دوبارہ ریکارڈ کیا، اس بار بولتے ہوئے مسکرائی، حالاں کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا تھا۔
کیمپ دوسرے دن تک گھر کی نقل بن گیا۔ ترپال پر بستر، چادروں کے پردے، کونے میں چائے، ایک رسی پر تصویریں، دوسری پر گیلے کپڑے۔ عورتوں نے نگرانی، پانی، بچوں کے کھانے اور برتنوں کی باری مقرر کی۔ نجی دکھوں کے بیچ بھی کسی کو جھاڑو دینا، کسی کو چائے بنانا اور کسی کو گندے کپڑے سمیٹنا پڑتے تھے۔
نازگل درخواستیں لکھتی رہی۔ ایک عورت اپنے شوہر کی گرفتاری کی تاریخ بھول گئی، مگر اسے یاد تھا کہ اس رات دال میں نمک زیادہ تھا۔ دوسری نے بیٹے کی قمیص سفید بتائی، بہن نے سیاہ۔ دونوں میں جھگڑا ہوا۔ نازگل نے لباس کے خانے میں “نامعلوم” لکھا تو ماں نے اس کا قلم پکڑ لیا۔
“میرا بیٹا نامعلوم نہیں۔ قمیص نامعلوم ہے۔”
نازگل نے لفظ کاٹ دیا۔
مہناز کی درخواست کی نقل بناتے ہوئے اس نے اس کا نام مہتاب لکھ دیا۔ مہناز پڑھ نہیں سکتی تھی، مگر اپنے نام کی شکل پہچانتی تھی۔
“یہ میں ہوں؟”
“غلط ہو گیا۔”
“میرا غلط ہو تو کوئی بات نہیں۔ جلال کا صحیح لکھنا۔”
نازگل نے نیا کاغذ نکال لیا۔ اسی وقت ایک نوجوان منتظم اندر آیا اور تین درخواستیں اس کے سامنے رکھ دیں۔
“یہ پہلے کر دیں۔ میڈیا والے کل ان خاندانوں سے بات کریں گے۔”
مہناز کی درخواست نازگل کے ہاتھ میں تھی۔
“اس کا کیس نیا ہے۔”
“ان میں ایک طالب علم ہے، ایک ڈاکٹر کا بھائی اور ایک تصویر بہت صاف ہے۔ بات بن جائے گی۔”
نازگل نے اس کی طرف دیکھا، مگر اعتراض نہ کیا۔ مہناز کا کاغذ نیچے رکھ کر صاف تصویر والے نوجوان کی درخواست اوپر کر لی۔
اس رات مہناز اپنی درخواست لینے آئی تو نازگل نے کہا، “صبح مل جائے گی۔”
“آپ نے کہا تھا آج۔”
“کام زیادہ تھا۔”
مہناز نے کاغذوں کے ڈھیر کی طرف دیکھا۔ اوپر صاف چہرے والی رنگین تصویر تھی۔
“اس کا چہرہ پورا ہے،” اس نے کہا۔
نازگل نے جواب نہ دیا۔
مہناز نے جلال کی دھندلی تصویر اپنی چادر کے اندر کی اور چلی گئی۔
یہی نازگل کی وہ لغزش تھی جسے کسی نے جرم نہیں کہا۔ اگلی صبح جلال کی درخواست تیار ہوگئی، مگر رات کی تاخیر نازگل کے اندر رہ گئی۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے جلال کو نہیں، ایک خراب تصویر کو پیچھے رکھا تھا۔ اس فرق سے کوئی اخلاقی راحت نہیں ملتی تھی۔
اسی رات گل بانو کو درد شروع ہوا۔ حمل کا آٹھواں مہینہ تھا۔ ایمبولینس سے رابطہ نہ ہو سکا۔ عورتوں نے چادریں تان دیں۔ ایک بوڑھی دائی نے گرم پانی، صاف کپڑا اور رسی مانگی۔ گل بانو کی چیخیں کبھی باہر آتیں، کبھی دانتوں کے پیچھے دب جاتیں۔
ایک بوڑھی عورت نے ولادت کا پرانا آہنگ شروع کیا۔ دوسری عورتیں ساتھ ملیں تو آواز نے ترپال کے اندر ایک عارضی دیوار بنا دی۔ مہناز چند قدم دور جلال کی تصویر گود میں رکھے بیٹھی تھی۔ لالٹین کی روشنی پلاسٹک پر کانپ رہی تھی۔
نومولود کی پہلی آواز پر عورتوں نے خدا کا نام لیا۔ کسی نے کہا، “یہ امید کا بچہ ہے۔”
ایک نوجوان منتظم نازگل کے قریب آیا۔ “کل تقریر میں اس کا ذکر کریں۔ بہت طاقت ور تصویر بنے گی۔”
نازگل نے پردے کے پیچھے دیکھا۔ گل بانو پسینے میں بھیگی پڑی تھی۔ بچہ سرخ، سوجا ہوا اور دودھ تلاش کر رہا تھا۔
“وہ بچہ ہے، تصویر نہیں۔”
نوجوان نے کہا، “میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”
اگلی صبح نازگل نے اپنی تقریر میں بچے کا ذکر کر دیا۔
یہ کہتے وقت کہ زندگی محاصرے کے درمیان بھی اپنا راستہ بناتی ہے، اسے معلوم تھا وہی کام کر رہی ہے جس پر رات کو ناراض ہوئی تھی۔ مجمع خاموشی سے سن رہا تھا، پھر تالیاں بجیں۔ اس مختصر خوشی کو وہ پوری طرح رد نہ کر سکی۔ اسے اچھا لگا کہ لوگ اس کے جملوں پر خاموش ہوئے، پھر اسے اپنی اس خوشی پر شرم آئی۔
ویڈیو پھیل گئی۔ شام تک اس کی تصویر کے ساتھ ایک قول لکھا جا چکا تھا:
جب انسان اپنے آپ سے بڑھ کر ایک مقصد کو اپناتا ہے، تو وہ خود دوسروں کے لیے امید کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
— ڈاکٹر شلی بلوچ
نیچے لکھا تھا: نازگل — ہماری امید
لوگ اس کے ساتھ تصویریں بنوانے لگے۔ ایک لڑکی نے کہا، “آپ کو دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔” ایک بوڑھی عورت نے اس کے ماتھے کو چوما۔ کسی نے کہا، “ایسی عورتیں تھکتی نہیں۔”
اسی رات اسے بخار ہوگیا۔
دو خاندان دور سے آئے تھے۔ وہ کمبل لپیٹ کر درخواستیں لکھنے بیٹھ گئی۔ پہلی درخواست میں دوسری عورت کی تاریخ درج کر دی۔ کاغذ پھاڑ کر دوبارہ لکھنا پڑا۔
مہناز پاس آ کر بیٹھی۔
“آپ کو یقین ہے جلال آ جائے گا؟”
نازگل نے اس عورت کو دیکھا جس کی درخواست اس نے صاف تصویر والے کیس کے نیچے رکھ دی تھی۔
“ہاں۔”
مہناز نے آنکھیں بند کر لیں۔
نازگل نے اس رات فون میں ریکارڈ کیا، “امّہ، میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
کچھ دیر اپنی آواز سنتی رہی، پھر اسے حذف کر دیا۔
نیا پیغام بنایا۔
“امّہ، میں ٹھیک ہوں۔”
نیٹ ورک بند تھا۔ جھوٹ فون میں محفوظ رہ گیا۔
چند روز بعد انتظامیہ کے افسر کیمپ آئے۔ عورتوں کو بتایا گیا کہ وقت کم ہے اور صرف چند نمائندے بات کریں گے۔ مہناز نے اصرار کیا کہ وہ خود بولے گی۔
“میں جلال کی ماں ہوں۔ بات بھی خود کروں گی۔”
افسر کے سامنے اس نے تصویر اٹھائی۔
“یہ میرا بیٹا ہے۔ اسے واپس کریں۔”
“درخواست دی ہے؟”
نازگل نے کاغذ آگے کیا۔
“یہ متعلقہ دفتر میں جمع ہوگی۔”
“میں بیٹا مانگ رہی ہوں، دفتر نہیں۔”
افسر کے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا، “زبان مناسب رکھیں۔”
مہناز نے حیرت سے پوچھا، “کون سی زبان؟”
“لہجہ دھمکی والا نہ ہو۔”
“میں رو بھی نہیں رہی۔”
چند عورتوں کے چہروں پر ہنسی آئی۔ ملاقات کے بعد سرکاری کیمرے کے سامنے بتایا گیا کہ خاندانوں کے تحفظات سن لیے گئے ہیں۔
مہناز نے نازگل سے پوچھا، “میری بات لکھی گئی؟”
“درخواست لے گئے ہیں۔”
“بات؟”
“سنی گئی۔”
“سننا اور لکھنا ایک ہی ہوتا ہے؟”
نازگل نے جواب نہ دیا۔
اسی شام ماہ دیم کا فون آیا۔ رشتے والے واپس جا چکے تھے۔ انہیں گھر کے حالات پیچیدہ لگے تھے۔
“کون سے حالات؟” نازگل نے پوچھا۔
“وہی جن پر تمہاری تصویریں بنتی ہیں۔”
“تم مجھے قصور وار سمجھتی ہو؟”
“میں کسی کو قصور وار نہیں سمجھتی۔ بس تھک گئی ہوں۔”
“سب تھکے ہیں۔”
“تم لوگ تھکن کو بھی مقصد بنا لیتے ہو۔ میرے پاس وہ بھی نہیں۔”
فون کٹ گیا۔
کچھ دیر بعد نازگل اسٹیج پر گئی اور کہا کہ کسی شخص کو اٹھانے والے صرف اسے نہیں لے جاتے، گھر میں رہ جانے والوں کی زندگیاں بھی اپنے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ لوگ تالیاں بجاتے رہے۔ اسے محسوس ہوا وہ ماہ دیم کی نجی اذیت مجمعے کے سامنے خرچ کر رہی ہے، جیسے کل نومولود اور اس سے پہلے مہناز کی دھندلی تصویر کو خرچ کر چکی تھی۔
گرفتاری کے دن وہ تقریر کرنے نہیں، دوا لینے نکلی تھی۔ کیمپ کے ایک بچے کو تیز بخار تھا۔ فہرست میں پیراسیٹامول، او آر ایس، گل بانو کے لیے سینیٹری پیڈ اور زر بی بی کی آنکھوں کے قطرے تھے۔
میڈیکل اسٹور والے نے اسے پہچان لیا۔
“ویڈیو میں آپ ہی تھیں نا؟ بہت حوصلہ ہے آپ میں۔”
“دوا دیں۔”
باہر ایک سفید گاڑی آ کر رکی۔ دو مرد اور ایک عورت اترے۔ عورت نے اس کا نام لیا۔
“کچھ سوالات ہیں۔”
“کون سا ادارہ؟”
“ساتھ چلیں، معلوم ہو جائے گا۔”
“یہ دوا پہنچانے دیں۔”
ایک مرد نے تھیلا اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ “پہنچ جائے گا۔”
گاڑی کا دروازہ بند ہوتے وقت تھیلا سڑک پر گر گیا۔ دوا کے ڈبے، سینیٹری پیڈ اور قطرے بکھر گئے۔ موٹر سائیکل کے پہیے سے قطرے کی شیشی ٹوٹ گئی۔ عورت اہلکار نے ایک لمحہ سینیٹری پیڈ کے کیچڑ میں پڑے پیکٹ کی طرف دیکھا، پھر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
سڑک کنارے کھڑی ایک نامعلوم عورت نے جھک کر بخار کی دوا اٹھا لی۔
تفتیشی کمرے میں نازگل کا فون کھولا گیا۔ نہ بھیجے گئے صوتی پیغامات چلائے گئے۔
“امّہ، ہم راستے میں ہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔”
“فکر نہ کرنا۔ سب ٹھیک ہے۔”
“امّہ، میں ٹھیک ہوں۔”
افسر نے پوچھا، “ہر پیغام میں ایک ہی جملہ کیوں؟”
“میری ماں فکر کرتی ہے۔”
“بھیجے کیوں نہیں؟”
“نیٹ ورک بند تھا۔”
“پھر ریکارڈ کیوں کیے؟”
“شاید اس لیے کہ مجھے بولنا تھا۔”
ایک حذف شدہ پیغام بھی سامنے آگیا۔
“امّہ، میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
“یہ کیا تھا؟”
“سچ۔”
“اور باقی؟”
“جھوٹ۔”
افسر نے قلم اٹھایا۔ “آپ تسلیم کرتی ہیں کہ جھوٹی اطلاعات ریکارڈ کرتی تھیں؟”
“اپنی ماں کے لیے۔”
“جھوٹ کا مقصد؟”
“اسے سلانے کے لیے۔”
افسر کا قلم ایک لمحے کو رک گیا۔ اس نے نازگل کی طرف دیکھا، پھر اسی رفتار سے لکھنے لگا۔
عورتوں کی بیرک میں شبّو نے اسے پلاسٹک کا کپ دیا۔
“اپنا سنبھال کر رکھنا۔ کوئی چائے پی لے گا تو پانی بھی اسی میں پینا پڑے گا۔”
شبّو نے اسے پہچانا نہیں۔ دوسری قیدی نے بتایا کہ یہ وہی عورت ہے جس کی تصویر باہر لگی ہے۔
“اچھا،” شبّو نے کہا اور اسے فرش صاف کرنے کا کپڑا پکڑا دیا۔
وہ نازگل کو برتن صحیح نہ دھونے پر دوبارہ دھلواتی، رات کو زیادہ جگہ گھیرنے پر چادر پاؤں سے سمیٹ دیتی اور ہر جمعرات صبح اپنے بال احتیاط سے سنوارتی۔ نازگل نے ایک دن پوچھا، “جمعرات کو کیا ہوتا ہے؟”
“میری بیٹی ملنے آتی تھی۔”
“اب نہیں آتی؟”
“چار جمعرات سے نہیں آئی۔”
“کیوں؟”
“پوچھنے کے لیے آئے تو بتاؤں گی۔”
پانچویں جمعرات بھی وہ نہ آئی۔ شبّو نے بال سنوارے، دوپٹہ درست کیا اور ملاقات کا وقت گزرنے تک دروازے کی طرف نہ دیکھا۔ شام کو اس نے کنگھی توڑ کر کچرے میں پھینک دی۔
اگلی جمعرات صبح اس نے ٹوٹی کنگھی کے دونوں حصے جوڑ کر دوبارہ بال سنوارے۔
نازگل نے تب سمجھا کہ شبّو انتظار کا مذاق کیوں اڑاتی ہے۔ وہ اس لیے نہیں کہ امید کو احمقانہ سمجھتی تھی، بلکہ اس لیے کہ وہ خود ہر جمعرات اس کے سامنے ہار جاتی تھی۔
وکیل نے بتایا کہ باہر نازگل کی مسکراتی تصویر اٹھائی جا رہی ہے۔ فون میں پوسٹر دکھایا: امید کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
“اس دن مجھے بخار تھا،” نازگل نے کہا۔
وکیل نے سمجھا وہ موضوع بدل رہی ہے۔ “بین الاقوامی سطح پر بھی آواز اٹھ رہی ہے۔”
“یہ تصویر کیوں؟”
“صاف ہے۔ اچھی لگتی ہے۔”
شبّو نے بعد میں پوسٹر دیکھا۔
“یہ تم ہو؟”
“لوگ کہتے ہیں۔”
“گال تو کسی اور کے ہیں۔”
نازگل ہنس پڑی۔
شبّو نے تصویر واپس کر دی۔ “قیدی جلدی بوڑھا ہوتا ہے، تصویر نہیں۔”
ایک روز ملاقات کے وقت زر بی بی اور ماہ دیم آئیں۔ لوہے کی جالی کے دونوں طرف بیٹھتے ہی زر بی بی نے کہا، “تم کمزور ہوگئی ہو۔”
نازگل نے جواب دیا، “میں ٹھیک ہوں۔”
ماہ دیم نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ “یہ جملہ اب بھی امی کے لیے ہے؟”
نازگل خاموش ہوگئی۔
زر بی بی نے بیٹی کے ہاتھوں کو جالی کے پار چھونے کی کوشش کی، مگر انگلیاں پوری نہ پہنچیں۔
“مراد کی تصویر اتار دی تھی ایک دن،” ماہ دیم نے کہا۔
“پھر لگا دی،” زر بی بی نے فوراً بتایا۔
“اس بار نازگل کی تصویر بھی لگ گئی ہے،” ماہ دیم نے کہا۔ “اب دیوار پر دو لوگ ہیں جو گھر میں نہیں۔”
اس کے لہجے میں غصہ نہیں تھا۔
“رشتے والے؟” نازگل نے پوچھا۔
“نہیں آئے دوبارہ۔”
“مجھے افسوس ہے۔”
ماہ دیم نے سر ہلایا۔ “تمہیں ہر چیز کا افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔”
پھر اس نے کپڑے کے اندر سے نازگل کی وہی مسکراتی تصویر نکالی جو پوسٹر پر تھی۔ اس کا اوپر والا حصہ کاٹ دیا گیا تھا؛ قول اور نعرہ غائب تھے، صرف چہرہ باقی تھا۔
“امی پوری تصویر لگانا چاہتی تھیں۔ میں نے اوپر کا حصہ کاٹ دیا۔”
“کیوں؟”
“گھر میں ہمیں امید نہیں، تمہاری تصویر چاہیے تھی۔”
ملاقات ختم ہونے کا اعلان ہوا۔ زر بی بی نے جلدی سے کہا، “میں ٹھیک ہوں۔”
تینوں ایک لمحے کے لیے ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں، پھر ماہ دیم ہنس دی۔ نازگل بھی۔ زر بی بی نے پہلے ناگواری سے دیکھا، پھر اسے بھی سمجھ آگئی کہ جملہ کس قدر بے کار اور ضروری تھا۔
اس ملاقات کے کئی دن بعد نئی استاد نے کلاس میں ضیائی تالیف پڑھائی۔ ہانی کھڑکی کے پاس رکھے گملے کی مٹی دیکھ رہی تھی۔ ٹہنی خشک تھی۔ استاد نے کہا، “اسے پھینک دو، نیا پودا لائیں گے۔”
ہانی نے دونوں ہاتھوں سے گملا اٹھایا، مگر کچرے تک نہ لے گئی۔ اسے کلاس کے پچھلے کونے میں رکھ دیا جہاں دوپہر کے ایک مخصوص وقت میں روشن دان سے باریک سی روشنی فرش پر پڑتی تھی۔
پھر اپنی کاپی کھولی۔ پرانے سبق کے نیچے اس کا سوال لکھا تھا:
اگر اندھیرا بہت لمبا ہو تو؟
نازگل نے جواب میں صرف ایک چھوٹا سا دائرہ بنایا تھا۔
ہانی نے اگلے صفحے پر لکھا:
اور پھر؟