کربلا: تاریخ سے زندہ اساطیری حافظے تک
مقتل، اجتماعی یادداشت، رسوماتی بازآفرینی، ادبی تشکیل اور سیاسی تعبیر کا ایک بین العلومی خطی مطالعہ
مصنف کا تشریحی نوٹ
زیرِ نظر خطوط کا مجموعہ واقعۂ کربلا کی تاریخی حقیقت، مذہبی تقدس اور صدیوں پر پھیلی ہوئی تہذیبی زندگی کے باہمی رشتے کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس مطالعے کا نقطۂ آغاز یہ بنیادی سوال ہے کہ ایک مخصوص تاریخ، مقام اور سیاسی صورتِ حال میں پیش آنے والا واقعہ کس طرح اپنے اولین تاریخی زمانے سے آگے بڑھ کر نسلوں کی مذہبی یاد، ادبی تخیل، رسوماتی عمل، اجتماعی شناخت اور سیاسی اخلاق کا مستقل حوالہ بن جاتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں یہاں “اساطیری حافظے” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، مگر اسے جھوٹ، غیر تاریخی حکایت یا من گھڑت داستان کے معنی میں نہیں برتا گیا۔ اس مجموعے کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ کربلا نے اپنی تاریخی حقیقت کھوئے بغیر اساطیری قوت حاصل کی۔
اساطیری قوت سے مراد کسی واقعے کی وہ تہذیبی و اخلاقی توانائی ہے جس کے ذریعے اس کے کردار، اشیا، مقامات اور بنیادی کشمکش اپنے اصل زمانے سے باہر بھی انسانی شعور کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ کربلا کے بعد پانی محض ایک طبیعی شے نہیں رہتا؛ وہ پیاس، محرومی، رحمت اور انسانی حق کا نشان بھی بن جاتا ہے۔ بیعت صرف سیاسی وفاداری کا رسمی عمل نہیں رہتی، بلکہ ضمیر، اقتدار اور انکار کے باہمی رشتے کا سوال بن جاتی ہے۔ قید صرف جسمانی گرفت نہیں رہتی، کیونکہ حضرت زینب اور امام علی بن حسین کی گواہی دکھاتی ہے کہ فاتح جسم پر قابو پاکر بھی واقعے کی تعبیر پر مکمل اختیار حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی طرح مشک، علم، خیمہ، تربت، سیاہ لباس، سبیل، تعزیہ اور خالی زین محض رسوماتی اشیا نہیں رہتیں؛ وہ اجتماعی حافظے کے مادی وسیلے بن جاتی ہیں۔
اس تحقیق میں کارل کیرینی کی کتاب دی گاڈز آف دی گریکس کو ایک تنقیدی نظری عدسے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کیرینی کی اساطیر کے زندہ بیان، روایت کی کثرت، سامع کی شرکت، بنیادی قصے، تصویری قوت اور مردہ مواد کو دوبارہ زندہ وسیلے میں منتقل کرنے سے متعلق بصیرتیں کربلا کی طویل تہذیبی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ تاہم اس نظری فریم کو کربلا پر کسی مکمل یا حتمی توضیح کے طور پر مسلط نہیں کیا گیا۔ یونانی کثیر خدائی اساطیر اور واقعۂ کربلا کے اسلامی، توحیدی، نبوی، امامتی، تاریخی اور اخروی سیاق میں بنیادی فرق موجود ہے۔ امام حسین کسی یونانی دیوتا یا مجرد اساطیری کردار کے مماثل نہیں، بلکہ ایک تاریخی اور مقدس شخصیت ہیں جن کی شہادت نے بعد میں غیر معمولی اساطیری، اخلاقی اور رسوماتی قوت حاصل کی۔
اس مجموعے کا منہج بین العلومی ہے۔ اس میں تاریخ نویسی، مقتل نگاری، مذہبی مطالعات، اجتماعی حافظے کے نظریات، رسوماتی تحقیق، ادبی تنقید، علامتی بشریات اور سیاسی اخلاق کے سوال ایک دوسرے سے مربوط کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تاریخی مصادر اور بعد کے مذہبی و ادبی متون کو ایک ہی درجے کی شہادت نہیں سمجھا گیا۔ واقعۂ کربلا کے مطالعے میں یہ فرق مسلسل قائم رکھا گیا ہے کہ کیا تاریخی طور پر پیش آیا، ابتدائی راویوں نے کیا نقل کیا، بعد کے مقتل نگاروں نے کیا ترتیب دی، شاعروں نے کن خاموش مقامات کو تخلیقی زبان دی، مذہبی رسوم نے کس طرح واقعے کو جسمانی اور اجتماعی حاضری عطا کی، اور جدید سیاست نے اس حافظے کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
اس امتیاز کا مقصد مجلس، مرثیے، روضے، نوحے یا عوامی روایت کی معنوی قدر گھٹانا نہیں۔ کوئی متاخر روایت تاریخی شہادت کے طور پر کمزور، مگر مذہبی، ادبی یا تہذیبی دستاویز کے طور پر نہایت اہم ہوسکتی ہے۔ میر انیس یا مرزا دبیر کا تخلیق کردہ رخصت کا منظر پہلی صدی ہجری کے عینی شاہد کی رپورٹ نہیں، مگر وہ اس بات کی عظیم شہادت ضرور ہے کہ جنوبی ایشیائی تہذیب نے کربلا کے غم، خاندانی رشتوں، وفاداری اور شہادت کو کس زبان میں محسوس کیا۔ اسی طرح تعزیہ اصل روضہ نہیں، لیکن وہ مقدس مقام سے فاصلے پر رہنے والی جماعت کے لیے ایک علامتی جغرافیہ اور اجتماعی شرکت کا مادی وسیلہ ہے۔
ان خطوط میں ماخذی احتیاط کو عقیدت کی ضد نہیں سمجھا گیا۔ مقدس شخصیت سے محبت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہر مقبول جملہ، ہر ادبی منظر اور ہر بعد کی روایت بلا تحقیق اس شخصیت کی طرف منسوب کردی جائے۔ بلکہ تقدس زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ کسی قول کے تاریخی ثبوت پر سوال اٹھانا اس قول کی معنوی قدر کو لازماً منسوخ نہیں کرتا، مگر اس کی درست نسبت قائم کرنا علمی دیانت کا حصہ ہے۔ اس مطالعے میں اسی لیے تاریخی واقعے، ابتدائی روایت، ادبی تخلیق، رسوماتی بازآفرینی اور موجودہ سیاسی تعبیر کے درمیان امتیاز کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے۔
یہ مجموعہ کربلا کی سیاسی معنویت کو بھی نہ رد کرتا ہے اور نہ اسے کسی ایک جدید سیاسی نظریے میں محدود کرتا ہے۔ واقعۂ کربلا خود اقتدار، جانشینی، بیعت، ریاستی جبر، اجتماعی ذمہ داری اور اخلاقی انکار سے متعلق تھا، اس لیے اسے مکمل طور پر غیر سیاسی بنانا تاریخی تحریف ہوگی۔ لیکن ہر سیاسی جماعت کا خود کو حسینی اور اپنے مخالف کو یزیدی قرار دینا بھی کربلا کی اخلاقی قوت کا استحصال ہوسکتا ہے۔ اساطیری نام موجودہ سیاسی کرداروں کی خودکار اخلاقی شناخت نہیں بن سکتے۔ کسی گروہ کی مظلومیت اسے اپنے اندر کے ظلم، عورت کی خاموشی، طبقاتی جبر یا اختلاف کے عدم برداشت سے بری نہیں کرتی۔ کربلا کا سیاسی استعمال اسی وقت ذمہ دار ہوسکتا ہے جب وہ پہلے اپنے استعمال کرنے والے کے اعمال کو اس کے اخلاقی معیار کے سامنے رکھے۔
خطوط کی صورت اختیار کرنے کا سبب بھی محض ادبی آرائش نہیں۔ خط ایک ایسا اسلوب ہے جس میں نظری بحث، شخصی تردد، تاریخی تحقیق اور اخلاقی جواب دہی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔ عامر مستجاب حیدر اور فاطی کے درمیان مکالمہ اس تحقیق کو یک طرفہ علمی حکم بننے سے روکتا ہے۔ خط میں لکھنے والا اپنے دعوے کے ساتھ اپنا مقام بھی ظاہر کرتا ہے، اور مخاطب کی ممکنہ موجودگی اسے مسلسل یہ یاد دلاتی ہے کہ علم کسی بےجسم خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ کربلا جیسے موضوع پر یہ اسلوب خاص طور پر موزوں ہے، کیونکہ خود واقعۂ کربلا کی تاریخ میں خطوط، دعوت، جواب دہی، گواہی اور دیر سے پہنچنے والی ندامت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ کتاب نہ مکمل مقتل ہے، نہ روایتی مذہبی مناقب، نہ محض تاریخی تنقید اور نہ صرف ادبی تاثر۔ اسے ایک ایسے مکالماتی تحقیقی مطالعے کے طور پر پڑھا جانا چاہیے جو تاریخ اور مقدس حافظے کو ایک دوسرے کا دشمن نہیں، ایک دوسرے کا نگہبان سمجھتا ہے۔ تاریخ اساطیری حافظے کو یاد دلاتی ہے کہ مقتول جسم، تاریخی مقام، سیاسی حکم اور ماخذی حد کو علامت کے اندر غائب نہ ہونے دیا جائے۔ اساطیری حافظہ تاریخ کو یاد دلاتا ہے کہ انسان کا غم، وفاداری، جسمانی شرکت، مذہبی نسبت اور اخلاقی بازگشت محض حاشیہ نہیں۔ کربلا کی مکمل زندگی ان دونوں کے درمیان قائم اسی تناؤ میں دکھائی دیتی ہے۔
ان خطوط کی اشاعت قسط وار کی جارہی ہے، مگر ہر خط مکمل بحث کی ایک الگ منزل ہے۔ ایک خط تاریخی واقعے اور اسطورے کے لفظ کا مقدمہ قائم کرتا ہے، دوسرا اموی اقتدار، بیعت اور کوفی دعوت کی تاریخی زمین پر جاتا ہے، اگلے خطوط مقتل، راوی، گواہی، توابین، مختار، مجلس، تقویم، مرثیے، عورتوں کی مذہبی و تاریخی شرکت، علامتی اشیا، مقدس جغرافیے اور جدید سیاسی استعمال کو موضوع بناتے ہیں۔ ان تمام خطوط کے درمیان ایک ہی بنیادی سوال جاری رہتا ہے: کربلا کس طرح ایک تاریخی سانحہ رہتے ہوئے ایسا زندہ مقدس حافظہ بنی جو ہر نسل کو اپنے اخلاقی مقام کے تعین پر مجبور کرتا ہے؟
اس مجموعے کا مقصد کسی قاری کو پہلے سے تیار حسینی مقام عطا کرنا نہیں۔ اس کا مقصد اس یقین کو مشتبہ بنانا ہے جس کے تحت ہر شخص اپنے آپ کو ہمیشہ صحیح خیمے میں تصور کرتا ہے۔ کربلا کا حقیقی اخلاقی سوال یہ نہیں کہ ہم آج امام حسین سے محبت کا کتنی شدت سے اعلان کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اپنے زمانے کے غیر محفوظ، نامانوس اور ابھی غیر مقدس مظلوم کے سامنے ہمارا عمل کیا ہوتا ہے۔ کیا ہم پانی دیتے ہیں یا روکتے ہیں، راستہ کھولتے ہیں یا بند کرتے ہیں، گواہ کو بولنے دیتے ہیں یا اس کی آواز کو نظم و امن کے نام پر دبا دیتے ہیں؟ مقدس نام کسی جماعت کی پیشگی بےگناہی کی سند نہیں؛ وہ اس کے لیے زیادہ سخت اخلاقی امتحان ہیں۔
اسی مفہوم میں یہ کتاب کربلا کو مکمل کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ کربلا کسی ایک تاریخی، مذہبی، ادبی یا سیاسی زبان میں مکمل طور پر محصور نہیں ہوسکتی۔ یہ مطالعہ صرف اتنی کوشش کرتا ہے کہ اس کے تاریخی جسم کو اساطیری علامت کے اندر غائب ہونے سے، اور اس کی زندہ مذہبی و اخلاقی قوت کو سرد تاریخی خلاصے میں تحلیل ہونے سے بچایا جاسکے۔ کربلا کا واقعہ گزر چکا ہے، مگر اس کے سامنے انسان کی جگہ کا سوال ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہی اس مجموعے کے عنوان، منہج اور خطی ساخت کا بنیادی جواز ہے۔
محمد عامر حسینی
مصنف
کربلا: وہ واقعہ جو ختم نہیں ہوا
فاطی کے نام عامر مستجاب حیدر کے خطوط
پہلا خط: اپنے نام کی طرف واپسی اور اسطورے کے لفظ کا مقدمہ
گنجی بار کے نہری شہر سے
اس رات، جب میز پر رکھا پانی کسی پیاسے کے حصے کا معلوم ہونے لگا
،پیاری فاطی
اس بار میں تمہیں کرتار سنگھ سرابھا کے نام سے نہیں لکھ رہا۔ لفافے پر بھی نہیں اور خط کے آخر میں دستخط کرتے ہوئے بھی نہیں۔ میں نے کئی مرتبہ قلم اٹھایا اور حسبِ عادت “کرتار” کا پہلا حرف لکھنے لگا، مگر ہاتھ رک گیا۔ کاغذ پر صرف ایک مڑی ہوئی سیاہ لکیر بنی، ایسی لکیر جو کسی نام کا آغاز بھی ہوسکتی تھی اور اسے لکھنے سے انکار بھی۔ میں نے وہ صفحہ پھاڑا نہیں۔ وہ اب بھی میرے سامنے پڑا ہے اور اس کے کنارے پر روشنائی کا ایک قطرہ اس لفظ سے زیادہ گہرا ہوچکا ہے جو لکھا ہی نہیں گیا۔ بعض اوقات نام کی غیر موجودگی، لکھے ہوئے نام سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
کرتار سنگھ سرابھا بھی ایک مقتول کا نام ہے؛ ایک تاریخی جسم، ایک سیاسی جدوجہد، ایک پھانسی اور ایک ایسے نوجوان کی یاد سے وابستہ نام جس نے اپنی عمر سے کہیں بڑے عہد کے سامنے گواہی دی تھی۔ کربلا کے مقتولین کے بارے میں لکھتے ہوئے کسی دوسرے مقتول کا نام مستعار لے کر بولنا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ایک شہادت کو دوسری شہادت کے لباس میں پیش کررہا ہوں۔ ضروری نہیں کہ یہ احساس منطقی استدلال کی ہر شرط پر پورا اترتا ہو، مگر اخلاقی تردد ہمیشہ مکمل دلیل کے ساتھ نہیں آتا؛ بعض اوقات وہ صرف ہاتھ روک دیتا ہے۔ اسی لیے اس خط میں جو کچھ کہا جائے گا، اس کی ذمہ داری میں اپنے اس نام سے قبول کرنا چاہتا ہوں جس کے تحت میرا جسم درج ہے، جس سے میرے والد نے مجھے پکارا، جس پر میرے اساتذہ نے حاضری لگائی اور جس کے ساتھ میری وہ خطائیں بھی وابستہ ہیں جن سے میں کسی ادبی استعارے یا قلمی شناخت کے ذریعے الگ نہیں ہوسکتا۔ اس خط کا لکھنے والا عامر مستجاب حیدر ہے۔
کرتار سنگھ غائب نہیں ہوا۔ ممکن ہے وہ کمرے کے دوسرے سرے پر بیٹھا اس خط کو خاموشی سے سن رہا ہو، مگر اس بار اسے بولنے کا حق نہیں دیا گیا۔ شاید یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ میں نے پہلی مرتبہ بولنے کا وہ حق اپنے لیے واپس لیا ہے جسے برسوں سے ایک قلمی نام کے حوالے کررکھا تھا۔ بعض موضوعات انسان کو اپنے نام سے باہر نکلنے کی اجازت دیتے ہیں؛ بعض کے سامنے اسے اپنے نام کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔ کربلا میرے لیے دوسری قسم کا موضوع ہے۔ اس سے میرا رشتہ محض علمی یا نظریاتی نہیں؛ یہ مذہبی، تہذیبی، خاندانی، ادبی اور سیاسی حافظے کا رشتہ بھی ہے۔ یہی نسبت میری قرأت کو گہرا کرتی ہے اور اسی وجہ سے اسے جانب دار بھی بناتی ہے۔ میں اپنی وابستگی چھپانا نہیں چاہتا، لیکن اسے تاریخی دلیل کی جگہ بھی نہیں دینا چاہتا۔ محبت ماخذ نہیں ہوتی، مگر بعض اوقات وہ انسان کو ماخذ کے ساتھ زیادہ محتاط برتاؤ پر مجبور کرتی ہے۔
میرے سامنے پانی کا ایک گلاس رکھا ہے جسے میں نے ابھی تک نہیں پیا۔ یہ توقف کسی مذہبی رسم کا حصہ نہیں اور نہ میں اپنی اختیاری پیاس کو کربلا کے پیاسوں کی اذیت کے برابر رکھنا چاہتا ہوں۔ میرے کمرے میں پانی موجود ہے؛ ہاتھ بڑھاؤں تو پی سکتا ہوں۔ جس پیاس کے بارے میں آگے لکھوں گا، وہ اختیار سے باہر کی پیاس تھی۔ اسے چند لمحوں کی رضاکارانہ محرومی سے سمجھنے کا دعویٰ اس پیاس کی توہین ہوگا۔ پھر بھی گلاس میرے سامنے ہے اور ہر مرتبہ اس پر نظر پڑتی ہے تو پانی اپنی معمولی شفافیت کھو دیتا ہے۔ یہی شاید کسی تاریخی واقعے کے اساطیری حافظے میں داخل ہونے کی پہلی علامت ہے: روزمرہ کی کوئی شے اپنی مادیت چھوڑے بغیر ایک ایسے واقعے کا اثر قبول کرلیتی ہے جس کے بعد اسے پہلے کی طرح دیکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ پانی پانی رہتا ہے، مگر صرف پانی نہیں رہتا۔ ہمیں اسی “صرف” کے خاتمے کو سمجھنا ہے۔
یونانی اساطیر پر ہماری گفتگو اس مقام تک پہنچ چکی تھی جہاں مردہ مواد، زندہ قصہ گوئی، سامع کی شرکت، روایت کی تبدیلی اور دوسرے انسان کی آواز کو علم میں بدلنے کی اخلاقیات ایک دوسرے سے الجھنے لگی تھیں۔ تم نے اپنے سبز صندوق میں محفوظ ان فیلڈ نوٹس کا ذکر کیا تھا جن میں عورتوں کی وہ آوازیں موجود تھیں جو مقداری تحقیق کے صاف خانوں میں جگہ نہ پاسکیں۔ تم نے اس خواب کا ذکر کیا جو پہلے تمہارا ذاتی تجربہ تھا، پھر خط میں آیا، میری قرأت سے گزرا اور تمہاری یاد میں واپس جاکر اپنی پہلی صورت کھو بیٹھا۔ تم نے اپنے نانا کے اس ڈاک کارڈ کا بھی ذکر کیا تھا جس میں کنویں پر جالی لگانے کی ہدایت تھی، مگر جس کے گرد بعد میں ایک ایسے بچے کی موت کی کہانی بن گئی جو شاید کبھی اس کنویں میں گرا ہی نہیں تھا۔ ہم اس نتیجے تک پہنچے تھے کہ قصہ، تحریر، آواز اور اثر کسی سیدھی لکیر میں حرکت نہیں کرتے۔ ایک متن اپنی پہلی قرأت کے بعد بدلتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اپنے بعد کی دنیا کو بدل کر اپنے ہی ماضی کے معنی تبدیل کرسکتا ہے۔
اسی دوران میں نے کارل کیرینی کی کتاب دوبارہ کھولی۔ وہ اساطیری مواد کو اس کے زندہ وسیلے میں واپس لانے کی بات کرتا ہے؛ اس حالت میں جہاں قصہ محض درج نہ ہو بلکہ سنایا جائے، سامع کے اندر بازگشت پیدا کرے اور اسے یہ احساس دلائے کہ قدیم واقعہ کسی نہ کسی طور اس سے بھی متعلق ہے۔ کیرینی اساطیر کو نہ محض نفسیاتی علامتوں میں تحلیل کرنا چاہتا ہے اور نہ اسے بےجان تاریخی ٹکڑوں کی طرح میز پر رکھنا۔ وہ چاہتا ہے کہ مختلف روایتیں اپنی دراڑوں اور اختلافات سمیت باقی رہیں، مگر قصہ پھر بھی بولے۔ اس کے نزدیک اساطیر صرف قصوں کا ذخیرہ نہیں، قصہ کہنے کی ایک زندہ انسانی سرگرمی بھی ہے۔
یہ پڑھتے ہوئے مجھے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ میں یونانی اساطیر کے بارے میں کتنی سہولت سے نظری گفتگو کرسکتا ہوں۔ اوکیانوس، نکس، گائیا، کرونوس یا زیوس کے درمیان علمی فاصلہ رکھنا میرے لیے مشکل نہیں۔ میں ان کے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ یہ اساطیری کردار ہیں، ان کی روایتیں مختلف زمانوں میں بنتی اور بدلتی رہی ہیں، اور ان کے قصے اجتماعی نفسیات، رسوم، مذہبی تجربے اور فن کے درمیان حرکت کرتے ہیں۔ ان ناموں کے ساتھ میری وہ ذاتی اور تہذیبی بےقراری وابستہ نہیں جو میری اپنی مذہبی یاد کے بعض ناموں سے ہے۔ اسی مقام پر ایک سوال نے مجھے روکا: میں اساطیر کو سمجھنے کا دعویٰ کس طرح کرسکتا ہوں، اگر میں اس واقعے کے سامنے ٹھہرنے کو تیار نہ ہوں جو میری اپنی دنیا میں ایک تاریخی سانحہ، ایک مقدس یاد، ایک سالانہ رسوماتی حاضری، ایک ادبی کائنات، ایک سیاسی زبان اور لاکھوں انسانوں کی اخلاقی خود فہمی کا مرکز ہے؟
میں کربلا کی بات کررہا ہوں، اور مجھے آغاز اسی لفظ سے کرنا ہے جس کے استعمال پر سب سے پہلا اعتراض ہوگا: اسطورہ۔
اردو کی عام مذہبی اور روزمرہ گفتگو میں “اسطورہ” کو اکثر جھوٹ، خیالی حکایت، من گھڑت قصے یا ایسی بات کا مترادف سمجھا جاتا ہے جس کی تاریخی حقیقت ثابت نہ ہو۔ جب کوئی کہتا ہے کہ فلاں بات محض اسطورہ ہے تو عموماً اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ واقعہ پیش نہیں آیا، لوگوں نے اسے بعد میں گھڑ لیا۔ اگر اسی معنی میں کہا جائے کہ “کربلا اسطورہ بن گئی” تو یہ جملہ نہ صرف غلط بلکہ توہین آمیز ہوگا۔ کربلا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس میں تاریخی انسان، تاریخی فیصلے، خطوط، سفر، سیاسی وفاداریاں، ریاستی احکام، فوجی صف بندیاں، جسمانی پیاس، زخم، قتل، اسیری اور قتل کے بعد دی جانے والی گواہی شامل تھی۔ اس کی جزئیات کے بارے میں مصادر مختلف ہوسکتے ہیں؛ بعض روایتیں ابتدائی، بعض متاخر، بعض نسبتاً مضبوط اور بعض کمزور ہوسکتی ہیں۔ بعض متون تاریخی بیان، بعض مذہبی تعبیر اور بعض ادبی تشکیل کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر تفصیلات کا اختلاف واقعے کی تاریخی بنیاد کو ختم نہیں کرتا۔
اس لیے یہاں اسطورہ تاریخ کی ضد نہیں۔ میرا سوال یہ نہیں کہ کربلا واقع ہوئی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ایک واقعہ جو ایک مخصوص تاریخ، جغرافیے اور سیاسی صورتِ حال میں پیش آیا، اپنے ابتدائی تاریخی وقت سے باہر نکل کر ایسی زندہ معنوی ساخت کیسے بن گیا جس کے اندر ہر نئے عہد کے انسان اپنے ظلم، وفاداری، پیاس، انکار، توبہ، گواہی، شکست اور امید کو پڑھنے لگے۔ یہ انتقال تاریخ سے جھوٹ کی طرف نہیں، تاریخ سے طویل زندگی کی طرف ہوا۔ کربلا کا اساطیری قوت حاصل کرنا یہ نہیں کہ وہ “کیا ہوا” کے سوال سے آزاد ہوگئی؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس سوال کے ساتھ “انسان کیا کرے؟”، “کس اقتدار کے سامنے جھکے؟”، “کس لمحے انکار کرے؟”، “تعداد اور حق کا کیا رشتہ ہے؟”، “کیا جسمانی شکست اخلاقی فتح بن سکتی ہے؟”، “قتل کے بعد کون بولے گا؟” اور “جو وہاں موجود نہ تھا، وہ اس واقعے کے سامنے اپنی جگہ کس طرح متعین کرے؟” جیسے سوالات بھی پیدا کردیے۔
جب کوئی تاریخی واقعہ اس سطح پر پہنچتا ہے تو وہ محض ماضی کی ملکیت نہیں رہتا۔ مگر یہی بات خطرناک بھی ہے، کیونکہ ماضی سے نکل کر حال میں آنے والا واقعہ ہر نئے عہد کے ہاتھوں استعمال بھی ہوسکتا ہے۔ ہر جماعت خود کو حسین اور اپنے مخالف کو یزید کہہ سکتی ہے۔ ہر جنگ کربلا، ہر قتل عاشورا، ہر سیاسی رہنما امام حسین اور ہر نعرہ گواہی کے مقام پر بٹھایا جاسکتا ہے۔ یوں اساطیری قوت اخلاقی بصیرت بھی بن سکتی ہے اور خود فریبی کا سب سے طاقت ور وسیلہ بھی۔ اس لیے کربلا کے اساطیری حافظے کا مطالعہ عقیدت کے جوش میں ہر بعد کی تبدیلی کو تقدیس عطا کرنے کا نام نہیں؛ یہ ایک دوہری ذمہ داری ہے جس میں واقعے کی تاریخی مخصوصیت بھی محفوظ رکھی جائے اور اس کی صدیوں پر پھیلی ہوئی مذہبی، ادبی، رسوماتی اور سیاسی زندگی کو بھی سمجھا جائے۔
تاریخ کو اسطورے سے بچانا کافی نہیں؛ اسطورے کو تاریخ سے کاٹ دینا بھی اسے مسخ کرتا ہے۔ اگر کربلا صرف تاریخی کتابوں کے چند ابواب میں بند رہتی تو شاید وہ اہلِ علم کے لیے اہم مگر عام انسان کی زندگی سے دور واقعہ بن جاتی۔ مجلس، مقتل، مرثیہ، نوحہ، زیارت، گریہ، ماتم، سبیل، تربت، علم، ذوالجناح، سیاہ لباس اور گھر گھر منتقل ہونے والی روایت نے اسے ایسا حافظہ بنایا جو صرف ذہن میں نہیں، جسم، آواز، شے، شہر اور تقویم میں زندہ رہتا ہے۔ لیکن یہی زندہ حافظہ بعض اوقات تاریخ کے خاموش خلا کو تخلیقی تفصیل سے بھر دیتا ہے۔ کرداروں کو مکالمے ملتے ہیں، رخصت کے منظر پھیلتے ہیں، کسی نگاہ، حرکت یا آخری جملے کو ایسی قوت ملتی ہے کہ بعد کی نسلیں اسے ابتدائی تاریخی شہادت سمجھنے لگتی ہیں۔
یہاں مشکل یہ نہیں کہ ادب نے تاریخ کو جھوٹا کردیا۔ ادب نے واقعے کو محسوس کرنے کے قابل بنایا۔ مگر احساس اور شہادت ایک چیز نہیں۔ کوئی مجلس میں سنایا گیا جملہ سامع کی پوری اخلاقی زندگی بدل سکتا ہے، مگر اس اثر سے وہ لازماً پہلی صدی ہجری کا مستند قول نہیں بن جاتا۔ اسی طرح کسی روایت کا متاخر ہونا اسے معنوی طور پر بےقدر نہیں کرتا، لیکن اس کی تاریخی حیثیت ضرور بدل دیتا ہے۔ ہمیں مسلسل فرق قائم رکھنا ہوگا: جو واقع ہوا؛ جو ابتدائی طور پر نقل ہوا؛ جو بعد میں بیان کیا گیا؛ جو ادب نے تخلیق کیا؛ جو مذہبی رسوم میں جسمانی صورت اختیار کرگیا؛ اور جو ہم اپنے موجودہ زمانے کی ضرورت کے تحت اس واقعے کے اندر رکھ رہے ہیں۔ ان سطحوں کو الگ کرنا کربلا کو ٹکڑوں میں بانٹنا نہیں، محبت کو بددیانتی سے بچانا ہے۔
بعض اہلِ عقیدت کے لیے ماخذی سوال ایک سرد عمل معلوم ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ محقق آنسو کے سامنے کاغذ مانگ رہا ہے، شہید کے ذکر کے درمیان سند پوچھ رہا ہے اور اس مجلس میں جہاں دل گواہی دے رہا ہے، وہ متن کی تاریخ دریافت کرنے میں مصروف ہے۔ تحقیق واقعی بےحسی بن سکتی ہے، مگر ہمیشہ نہیں۔ کبھی سوال عقیدت کی توہین نہیں، اس کے نام پر کیے جانے والے اضافے کی حد قائم کرتا ہے۔ اگر ہر مقبول قول، ہر جذباتی منظر اور ہر بعد کی تخلیق کو بلاامتیاز مقدس شخصیت کی طرف منسوب کردیا جائے تو محبت اس شخصیت کی اپنی تاریخی آواز پر غالب آجاتی ہے۔ ہم جسے بلند کرنا چاہتے ہیں، اپنے الفاظ سے اسے ڈھانپ دیتے ہیں۔
اسی لیے میں اب یہ جملہ زیادہ احتیاط سے لکھوں گا: کربلا اسطورہ نہیں بنی کہ تاریخ سے نکل گئی؛ کربلا نے اپنی تاریخی حقیقت کھوئے بغیر اساطیری قوت حاصل کی۔ یہ قوت اس بات میں ہے کہ اس کا نام سنتے ہی ایک پوری اخلاقی کائنات حرکت کرنے لگتی ہے۔ پانی غیر جانب دار نہیں رہتا، بیعت صرف سیاسی رسم نہیں رہتی، تعداد حق کی ضمانت نہیں رہتی، جسمانی شکست فتح کی واحد تعریف نہیں رہتی، قید خاموشی کا مترادف نہیں رہتی اور گواہی محض واقعے کی رپورٹ نہیں بلکہ مقتول کے معنی کی حفاظت بن جاتی ہے۔
مگر یہی قوت اس وقت خطرہ بن جاتی ہے جب ہم دوسری تاریخوں کی مخصوصیت چھین کر انہیں کربلا کی نقل بنادیتے ہیں۔ ہر مظلوم کو عظمت دینے کے لیے اسے حسینی کہنا ضروری نہیں، ہر مزاحمت کرنے والی عورت کو زینبی کہنا اس عورت کی اپنی تاریخ مٹا سکتا ہے، اور ہر قاتل کو یزید کہہ دینا ہمیں اس کے اصل ادارہ جاتی، معاشی اور سیاسی کردار کو سمجھنے سے روک سکتا ہے۔ جو گروہ خود کو پہلے ہی حسین کا خیمہ قرار دے چکا ہو، وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کیوں کرے گا؟ اساطیری شناخت کبھی اخلاقی سوال پیدا کرتی ہے اور کبھی جواب پہلے ہی مہیا کرکے سوال کا امکان ختم کردیتی ہے۔
اس خط میں میں نے ابھی واقعۂ کربلا کی تاریخی زمین پر قدم نہیں رکھا۔ اگلے خط میں ہمیں اموی جانشینی، بیعت کے مطالبے، مدینہ سے مکہ، کوفہ کے خطوط، مسلم بن عقیل، عبیداللہ بن زیاد، حر کے دستے، محاصرے، پانی کی بندش، عاشورا، قتل، اسیری اور گواہی کے تاریخی رشتے میں داخل ہونا ہوگا۔ مگر اس سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ میں “اسطورہ” کیوں کہہ رہا ہوں اور اس لفظ سے میری مراد کیا نہیں۔ میں کربلا کی تاریخی حقیقت پر سوال نہیں اٹھارہا؛ میں اس کی طویل زندگی کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں، اور اس طویل زندگی میں جماعت، ادب، عقیدے اور سیاست نے جو کچھ واقعے کو دیا، اسے نہ مکمل طور پر جھوٹ کہنا چاہتا ہوں اور نہ بلاامتیاز اولین تاریخ۔
میز پر رکھا پانی اب بھی نہیں پیا۔ گلاس کے باہر نمی کے قطرے جمع ہوگئے ہیں۔ میں ہاتھ بڑھا سکتا ہوں، اور یہی اختیار مجھے اس پیاس سے الگ رکھتا ہے جس کے بارے میں آگے لکھوں گا۔ علامت مجھے قریب لاتی ہے، مادیت اپنی حد یاد دلاتی ہے۔ کربلا کی پیاس کو سمجھنے کے لیے پانی کو علامت کہنا ضروری ہے، مگر یہ یاد رکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہاں پیاس استعارہ بننے سے پہلے جسم کا عذاب تھی۔
،تمہارا
عامر مستجاب حیدر
گنجی بار کے اس نہری شہر سے جہاں پانی نہروں میں تقسیم ہوتا ہے، اور ایک قدیم پیاس اب بھی زبانوں، مجالس اور یادداشت میں اپنا حصہ مانگتی ہے۔