”جدوں نھیرے چھا جاون تاں سُفنیاں وچ زندہ رہنا، آکھن نوں تاں سدھی سانویں گل اے پر ہے چوکھی عجیب بلکہ جھلیاں والی، بئی خواباں وچ کیویں زندہ رہیا جا سکدا اے؟“
(جب اندھیرے چھا جائیں تو خوابوں میں زندہ رہنا، کہنے کو تو سیدھی سی بات ہے پر ہے بہت عجیب بلکہ پاگل پن والی، کہ خوابوں میں بھلا کیسے زندہ رہا جا سکتا ہے؟)
” سدھراں دا بی مک جاوے تاں خاباں دی پنیری لائی جا سکدی اے، پر…… جے پنیری ناں پنگرے تاں……؟“
(خواہشوں کا بیج مارا جائے تو خوابوں کی پنیری لگائی جا سکتی ہے، پر…… اگر پنیری نہ پھوٹے تو……؟)
’’گل سُن اوئے، مینوں بے شکلا، بد صورتا، یا ہور جو مرضی آکھ پر بے سفنیا نہ آکھیں بھانویں میرے سفنے اپنی تعبیر توں وانجے ای نیں۔‘‘
(بات سن اوئے، مجھے بے شکلا، بدصورت، یا جو مرضی آئے کہہ پر بے خواب نہ کہنا، چاہے میرے خواب اپنی تعبیر سے محروم ہی ہیں۔)
’’بے سفنے بدنسلے ہوندے نیں جہیڑے کدی اپنی منزل تائیں نہیں اپڑدے۔‘‘
(بے خواب بدنسل ہوتے ہیں جو کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔)
’’سارا جگ سوالاں تے ای کھڑا اے۔ جے سوال جواب نہ ہوون تاں حیاتی دی کھیڈ اگے ٹردی نہیں۔‘‘ اوہنے اپنے ولوں دلیل دتی۔ ’’سوال وی تاں چج دا ہووے۔ یبلیاں مارن دا کیہ فیدا؟‘‘ ’’سبھ توں پہلا سوال بندے دی تخلیق تے ہویا سی۔‘‘ ’’سوال نہیں ہویا سی…… اوہ ساڑے دا شکار ہو گیا سی۔‘‘
(’’ساری دنیا سوالوں پر ہی کھڑی ہے۔ اگر سوال جواب نہ ہوں تو زندگی کا کھیل آگے نہیں بڑھتا۔‘‘ اس نے اپنی طرف سے دلیل دی۔ ’’سوال بھی تو چج کا ہو، حماقتوں کا کیا فائدہ؟‘‘’’ سب سے پہلا سوال تو انسان کی تخلیق پر ہوا تھا۔‘‘ ’’ سوال نہیں ہوا تھا… وہ حسد کا شکار ہو گیا تھا۔‘‘)
سلیم شہزاد کا پنجابی ناول ’’ورلاپ‘‘ اپنے نام ہی میں اپنے پورے فکری اور جمالیاتی جہان کا سراغ دے دیتا ہے۔ ورلاپ محض رونا نہیں، وہ بین ہے جو کسی ایک لاش پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس وقت پھوٹتا ہے جب پوری دھرتی، اس کے خواب، اس کی یادداشت، اس کے جوان، اس کی مائیں اور اس کی آنے والی نسلیں ایک ایسے تاریخی جبر میں گرفتار ہو جائیں جس کا کوئی چہرہ دکھائی نہ دے مگر جس کے پنجوں کے نشان ہر جسم، ہر گھر اور ہر راستے پر ثبت ہوں۔ یہ ناول کسی سیدھی، ہموار اور واقعاتی کہانی کے ذریعے اپنے معنی آشکار نہیں کرتا۔ اس کی نثر ٹوٹی ہوئی سانسوں، باطن میں گونجتی آوازوں، خود سے الجھتے سوالوں، لوک محاوروں، تاریخی زخموں اور سیاسی علامتوں سے اپنا بیانیہ تشکیل دیتی ہے۔ یوں اس کا آغاز قصے سے نہیں، ایک تاریک عہد میں زندہ رہنے کے بنیادی سوال سے ہوتا ہے۔

’’جدوں نھیرے چھا جاون تاں سُفنیاں وچ زندہ رہنا‘‘ (جب اندھیرے چھا جائیں تو خوابوں میں زندہ رہنا) ناول کی محض ابتدائی سطر نہیں، اس کی پوری فکری عمارت کی پہلی اینٹ ہے۔ یہاں اندھیرا قدرتی رات نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تاریکی ہے۔ یہ وہ عہد ہے جس میں حقیقت انسان کے لیے رہنے کے قابل نہ رہے تو وہ خواب کو عارضی پناہ گاہ بناتا ہے۔ مگر سلیم شہزاد خواب کو محض فرار نہیں بناتے۔ ان کے ہاں خواب جبر کے خلاف انسانی باطن کی آخری مورچہ بندی ہے۔ خواب وہ جگہ ہے جہاں وہ امکان زندہ رہتا ہے جسے حقیقت نے کچل دیا ہو۔ اسی لیے ناول خواب اور حقیقت کو ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک جدلیاتی تعلق میں دیکھتا ہے۔ حقیقت خواب کو جنم دیتی ہے، خواب حقیقت سے انکار کرتا ہے، اور یہی انکار کسی نئی حقیقت کی تمنا پیدا کرتا ہے۔
اس آغاز میں ’’خواباں دی پنیری‘‘ (خوابوں کی پنیری) کا استعارہ اپنی دیسی سادگی کے باوجود غیر معمولی فکری گہرائی رکھتا ہے۔ پنیری خود نہیں اگتی، اسے زمین، نمی، نگہداشت اور انتظار درکار ہوتا ہے۔ خواب بھی اسی طرح محض آنکھ بند کرتے ہی پیدا نہیں ہوتے۔ انہیں اجتماعی تجربے، محرومی، مزاحمت اور امید کے خون سے سینچنا پڑتا ہے۔ مگر ناول فوراً اس امید پر سوال اٹھا دیتا ہے: اگر پنیری نہ پھوٹے تو؟ اگر خواب کا بیج ہی زمین قبول نہ کرے تو؟ اگر دھرتی بانجھ بنا دی گئی ہو؟ یہی سوال ناول کے آغاز کو رومانوی خوش فہمی سے بچاتا ہے۔ یہاں خواب روشنی کا آسان وعدہ نہیں، ایک خطرہ ہے۔ خواب دیکھنا جبر کے خلاف پہلا قدم ہے، مگر اس کی قیمت بھی ہے۔
اسی مقام پر ناول انسانی شخصیت کو ایک وحدت کے بجائے ایک متصادم میدان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ’’پہلی سوچ‘‘ اور ’’دوجی سوچ‘‘ دراصل دو الگ کردار نہیں بلکہ ایک ہی ذہن کے دو رخ ہیں۔ ایک امید کی طرف جاتا ہے، دوسرا شک کی طرف۔ ایک خواب کو زندگی کہتا ہے، دوسرا اسے دھوکا سمجھتا ہے۔ ایک وجود کو جمع کرنا چاہتا ہے، دوسرا اس کی دراڑیں دکھاتا ہے۔ یہ منقسم شعور محض نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایسے سماج کا باطنی عکس ہے جہاں فرد کو مسلسل متضاد سچائیوں کے درمیان رہنا پڑے۔ اسے بتایا جائے کہ وہ آزاد ہے، مگر اس کے راستے بند ہوں؛ اسے کہا جائے کہ وہ خوش حال ہے، مگر اس کے گھر میں بھوک ہو؛ اسے بتایا جائے کہ وہ محفوظ ہے، مگر اس کا بچہ اچانک غائب ہو جائے۔ ایسی دنیا میں انسان کے اندر ایک ہی آواز کیسے باقی رہ سکتی ہے؟
ناول کی نثر میں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آنے والی آواز اس منقسم باطن کی بازگشت ہے۔ یہ کوئی خارجی ہم کلامی نہیں، خود اپنی ذات کا وہ حصہ ہے جسے انسان دبا نہیں سکا۔ یہی داخلی مکالمہ اسلوب کو ایک خاص اضطراب دیتا ہے۔ کردار اپنی سوچوں کا مالک نہیں رہتا، سوچیں اس پر قابض ہو جاتی ہیں۔ وہ خود سے بحث کرتا ہے، خود کو جھڑکتا ہے، خود پر ہنستا ہے اور خود ہی اپنے وجود کا مدعی اور منکر بن جاتا ہے۔ اس کیفیت میں ’’بے سفنے بدنسلے ہوندے نیں‘‘ (بے خواب لوگ بداصل ہوتے ہیں) ایک شدید اخلاقی اور سیاسی اعلان بن کر ابھرتا ہے۔ یہاں بدنسلی خون کی نسبت نہیں، انسانی جوہر کے زوال کا استعارہ ہے۔ جو فرد یا معاشرہ خواب کھو دے، وہ اپنی تاریخی منزل، اپنی اخلاقی سمت اور اپنے امکان سے محروم ہو جاتا ہے۔
خواب دیکھنے والے اور بے خواب انسان کے درمیان یہ فرق دراصل مطابقت اور انکار کا فرق ہے۔ بے خواب آدمی جبر کو دنیا کا فطری نظام مان لیتا ہے۔ وہ سوال اٹھانے، تصور کرنے اور بدلنے کی صلاحیت سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس خواب دیکھنے والا موجود حقیقت کو حتمی حقیقت تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ باب کے اختتام پر سوال محض سوال نہیں رہتا بلکہ ’’اوہ ساڑے دا شکار ہو گیا سی‘‘ (وہ حسد کا شکار ہو گیا تھا)۔ یہ حسد کسی طفلانہ ضد کا نام نہیں، اس نظامِ معنی کی نفی ہے جو ظلم کو معمول، خاموشی کو دانش اور اطاعت کو نجات بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہاں سے ناول خواب کی دنیا سے نیند کی دنیا میں داخل ہوتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ نیند بھی غائب ہو چکی ہے۔ جو کردار خوابوں کے ذریعے اندھیرے کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا، وہ اب ساری زندگی سکون کی نیند نہیں سو پاتا۔ نیند کی گولیاں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ بے خوابی صرف اس کی نجی بیماری نہیں بلکہ پورے عہد کا مرض ہے۔ ’’ساریاں دی نیند ای کھو لِتّی گئی اے‘‘ (سب کی نیند ہی چھین لی گئی ہے) ایک اجتماعی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس سماج میں خوف، مہنگائی، بے روزگاری، جنگ، گمشدگی اور مسلسل سیاسی اضطراب ہو، وہاں نیند ایک جسمانی عمل نہیں رہتی بلکہ طبقاتی امتیاز بن جاتی ہے۔ محفوظ محلوں کے لوگ سو سکتے ہیں، غیر محفوظ بستیوں والے نہیں۔
یہ اجتماعی بے خوابی انسان کو آسمان، دھرتی، چاند، چکور اور کونج کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ چکور کا چاند کے لیے تڑپنا یہاں محض روایتی عشقیہ علامت نہیں، ناممکن مثالی منزل کے تعاقب کا استعارہ ہے۔ وہ چاند تک نہیں پہنچ سکتا مگر اس کے بغیر زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔ یہی انسان کا المیہ ہے۔ وہ ایک بہتر دنیا کے تصور کے بغیر جی نہیں سکتا، مگر ہر سیاسی وعدہ اسے اسی تصور سے مزید دور لے جاتا ہے۔ کونج کی کرلاہٹ اس تنہائی کو اجتماعی نوحے میں بدل دیتی ہے۔ پرندوں کی یہ آوازیں ناول کے لوک اور فلسفیانہ جہان کو ایک ساتھ باندھتی ہیں۔ فطرت بھی اس ورلاپ میں شریک ہے۔
بے خوابی کے بعد ناول تاریخ کے زخم کی طرف بڑھتا ہے۔ ’’پونی صدی دا المیہ‘‘ (پون صدی کا المیہ) محض وقت کی پیمائش نہیں بلکہ اس پورے تاریخی دور کا محاکمہ ہے جو آزادی کے وعدے سے شروع ہوا مگر محرومی، تقسیم، ہجرت، طبقاتی استحصال اور ریاستی خوف میں ڈھلتا چلا گیا۔ ناول میں پونی صدی بار بار اس لیے لوٹتی ہے کہ وقت گزرا ضرور، تاریخ آگے نہیں بڑھی۔ تقویم کے صفحات بدلے، حاکم بدلے، نعرے بدلے، پر رعایا کی حالت نہیں بدلی۔ یہ ایک ایسی مدت ہے جس میں کئی نسلیں پیدا ہوئیں، جوان ہوئیں، بوڑھی ہوئیں اور مر گئیں، مگر انہیں بتایا جاتا رہا کہ منزل بس چند قدم آگے ہے۔
بوڑھی نسل کی آواز میں اعتراف اور پچھتاوا دونوں شامل ہیں۔ وہ مانتی ہے کہ اندھا بھروسا، خاموشی اور مصلحت اس تباہی میں شریک رہے۔ ’’سارا اساڈا ای قصور اے‘‘ (سارا قصور ہمارا ہی ہے) ایک نادر اعتراف ہے، کیونکہ محکوم سماج عموماً اپنی تاریخ کو مکمل طور پر باہر کے دشمنوں سے منسوب کر کے خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ سلیم شہزاد یہاں مظلومیت کو تقدس نہیں دیتے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ تاریخ صرف ظالم کی قوت سے نہیں بنتی، محکوم کی خاموشی، خوف اور غلط وفاداری بھی اس میں حصہ ڈالتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ناول کا وجودی انکار تاریخی خود احتسابی میں بدل جاتا ہے۔
نئی نسل کا دیس چھوڑنا اسی تاریخی ناکامی کا منطقی نتیجہ ہے۔ جب زمین روزگار، عزت اور مستقبل فراہم نہ کر سکے تو پردیس محض خواہش نہیں رہتا، مجبوری بن جاتا ہے۔ مگر ہجرت بھی نجات نہیں دیتی۔ روٹی کی تلاش میں نکلنے والے نوجوان گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سرحد یہاں جغرافیے کی لکیر نہیں، غریب کے جسم پر کھنچا ہوا زخم ہے۔ جو نوجوان کسی نظریاتی مہم، کسی جنگ یا کسی فتح کے لیے نہیں بلکہ پیٹ پالنے کے لیے نکلتا ہے، اس کی لاش ایمبولینس میں گھر پہنچتی ہے۔ ماں کے لیے وطن، سرحد، قانون اور قومی مفاد کے سارے الفاظ اس ایک لاش کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
ماؤں کا بازاروں میں ننگے پاؤں پھرنا، عیدوں کا ماتم میں بدل جانا اور جوان بیٹوں کی لاشوں پر سینہ کوبی ناول کے عنوان کو ایک جسمانی اور سماجی حقیقت بنا دیتا ہے۔ ورلاپ اب زبان کا استعارہ نہیں رہتا، ماؤں کے حلق سے نکلتی آواز ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ذاتی غم اور سیاسی تاریخ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ ریاستی پالیسی ایک ماں کے گھر میں لاش بن کر داخل ہوتی ہے۔ معاشی بحران ایک خالی چارپائی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ قومی سلامتی کی اصطلاح عورت کے بین میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
اسی تاریخی جبر کی ایک اور شکل ’’لوک گواچن لگ پئے‘‘ (لوگ لاپتہ ہونے لگے) میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ جملہ اپنی سادگی میں ہولناک ہے۔ لوگ مر نہیں رہے، غائب ہو رہے ہیں۔ موت کا کم از کم ایک جسم، ایک قبر اور ایک خبر ہوتی ہے۔ گمشدگی انسان کو زندگی اور موت کے درمیان معلق کر دیتی ہے۔ گھر والے ماتم بھی نہیں کر سکتے، امید بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ لاپتہ فرد صرف ریاستی تشدد کا شکار نہیں، اس کا پورا خاندان وقت، انتظار اور خوف کی نامعلوم قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔
یہ گمشدگی شعبدہ باز کے کھیل سے جوڑی جاتی ہے۔ جیسے مداری ٹوپی سے کبوتر غائب کرتا ہے، ویسے ہی اقتدار جیتے جاگتے انسانوں کو منظر سے مٹا دیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مداری کے کھیل میں کبوتر واپس آ جاتا ہے، سیاسی شعبدے میں انسان نہیں لوٹتا۔ ’’موجود وی غائب، ہجوم وچ وی اکلے‘‘ (موجود ہو کر بھی غائب، ہجوم میں بھی اکیلے) پورے سماج کی کیفیت بن جاتی ہے۔ انسان زندہ ہے مگر اس کی گواہی تسلیم نہیں، وہ بولتا ہے مگر اس کی آواز ریکارڈ نہیں، وہ ہجوم میں ہے مگر کسی شہری شمار میں موجود نہیں۔
یہیں ذرائع ابلاغ کا کردار سامنے آتا ہے۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اخبارات حقیقت آشکار کرنے کے بجائے اجتماعی بے حسی پیدا کرتے ہیں۔ لوگ خالی پردے کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، سرخیاں پڑھتے ہیں، شور سنتے ہیں، مگر حقیقت سے مزید دور ہوتے جاتے ہیں۔ خبر کی کثرت شعور کی روشنی نہیں بنتی، ذہنی دھند پیدا کرتی ہے۔ سچ بار بار اتنے متضاد بیانات میں لپیٹا جاتا ہے کہ قاری یا ناظر آخرکار فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یوں اطلاعات کی فراوانی علم کے بجائے جہالت کی ایک نئی صورت اختیار کرتی ہے۔
اس پروپیگنڈا نظام کو ناول ’’گوئبلز دے وارث‘‘ (گوئبلز کے وارث) کہتا ہے۔ یہ ترکیب محض تاریخی حوالہ نہیں بلکہ جھوٹ کی ادارہ جاتی پیداوار کی نشان دہی ہے۔ جھوٹ یہاں کسی فرد کا عیب نہیں، ایک صنعت ہے۔ اسے اخبار، تقریر، مذاکرے، عدالت، نصاب اور پردۂ سیمیں کے ذریعے مسلسل دہرایا جاتا ہے۔ جب جھوٹ کو ہزار بار کہا جائے تو وہ سچ نہیں بنتا، مگر سچ کی شناخت ضرور دشوار کر دیتا ہے۔ ناول کا سوال ’’کوڑ سچ نوں کیویں مار سکدا اے؟‘‘ (جھوٹ سچ کو کیسے مار سکتا ہے؟) دراصل اس پورے عہد کا سوال ہے۔ جھوٹ سچ کو مٹا نہیں سکتا، مگر اسے تنہا، مشکوک اور بے اثر بنا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ’’لفافیاں نوں قابو کرو‘‘ (لفافے لینے والوں کو قابو کرو) اقتدار اور ابلاغ کے تعلق کی مکروہ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بعض نمائندے خبر کے نگہبان نہیں رہتے، اقتدار کے کرایہ دار بن جاتے ہیں۔ اخبار سے لے کر سماجی رابطوں کی تحریر تک، ہر جگہ رائے سازی ایک منظم منصوبہ بن جاتی ہے۔ سچ کو پہلے دبایا جاتا ہے، پھر اس کا مذاق بنایا جاتا ہے، پھر اسے سازش کہا جاتا ہے، اور آخرکار اسے اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ لوگ خود ہی اس سے منہ موڑ لیں۔
اس پورے عمل کا ایک نہایت مہیب استعارہ ’’نہر وچ دو ڈیلے‘‘ (نہر میں دو ڈیلے) ہیں۔ نہر میں تیرتی انسانی آنکھیں محض خوف ناک منظر نہیں، گواہی کے قتل کی علامت ہیں۔ آنکھ دیکھتی ہے، پہچانتی ہے اور سچ کی شہادت دیتی ہے۔ جبر کی ہر مشین سب سے پہلے آنکھ کو نشانہ بناتی ہے، کیونکہ جو دیکھ لے وہ سوال کرے گا، اور جو سوال کرے گا وہ خاموش نہیں رہے گا۔ جسم غائب کر دینے کے بعد بھی آنکھیں تیرتی رہتی ہیں، گویا سچ کی گواہی پانی کی سطح پر واپس آ رہی ہو۔ مگر ان آنکھوں کا جسم موجود نہیں۔ دیکھنے والا مارا جا چکا ہے، صرف دید باقی ہے۔
نہر کا پانی بھی یہاں زندگی اور زرخیزی کی علامت نہیں رہتا۔ وہ کٹی ہوئی گواہیوں، خاموش لاشوں اور اجتماعی خوف کو بہا رہا ہے۔ جو نوجوان ان ڈیلوں کو باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل دفن کیے گئے سچ کو سطح پر لاتے ہیں۔ لوگوں کی حیرت دہشت میں بدل جاتی ہے، کیونکہ وہ اچانک جان لیتے ہیں کہ جبر صرف دوسروں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ نہیں، ان کی اپنی آنکھیں بھی کسی دن جسم سے جدا ہو سکتی ہیں۔
اس خوف کے بیچ کردار ’’پنڈ ‘‘ (گاؤں) کی طرف سفر کرتا ہے۔ یہ سفر محض مقام کی تبدیلی نہیں، اپنی جڑوں، اجتماعی حافظے اور اس دھرتی کی طرف واپسی ہے جہاں سے اس کا وجود تشکیل پایا۔ مگر واپسی پر اسے سالم زمین نہیں ملتی۔ دھرتی میں دراڑیں ہیں، راستے بکھرے ہوئے ہیں، رشتوں کی ساخت ٹوٹ چکی ہے۔ پنڈ کسی معصوم دیہی جنت کا نام نہیں، پامال تاریخ کا جغرافیہ ہے۔ وہاں ماضی محفوظ نہیں، زخمی حالت میں پڑا ہے۔
راستے میں سوچوں کے بھاری ہونے کا احساس اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں رہتی، انسان کے جسم اور ذہن پر وزن بن کر بیٹھتی ہے۔ سوچیں اگر پرکھی نہ جائیں تو انسان کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہیں۔ کردار اپنی سوچوں کو چھاننا چاہتا ہے، مگر ہر خیال کے اندر ایک اور صدمہ نکل آتا ہے۔ اپنی جڑوں کی تلاش اسے سکون نہیں دیتی، ایک پرانے قبرستان تک لے جاتی ہے۔
قبرستان کی خاموشی ناول کے اہم ترین صوتی استعاروں میں سے ہے۔ ’’چپ دی واج وی ہوندی اے تے چیک وی‘‘ (خاموشی کی آواز بھی ہوتی ہے اور چیخ بھی) اس پورے بیانیے کا خلاصہ بن جاتی ہے۔ خاموشی یہاں عدم آواز نہیں، دبی ہوئی آوازوں کا انبار ہے۔ قبروں میں وہ لوگ سو رہے ہیں جنہوں نے شاید سوال کیے تھے، مزاحمت کی تھی، یا محض غلط وقت میں غلط جگہ موجود تھے۔ ان کی زبان بند ہے مگر ان کی غیر موجودگی بولتی ہے۔ قبرستان کا سکوت ذرائع ابلاغ کے شور سے زیادہ سچا ہے۔
یہی خاموش چیخ بعد میں سڑکوں کے نعروں میں بدلتی ہے۔ جب خوف حد سے بڑھ جائے تو بعض اوقات وہ اطاعت کے بجائے بغاوت پیدا کرتا ہے۔ لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، جلوس بنتے ہیں، راستے بند ہوتے ہیں اور وہ اجتماعی غصہ جو برسوں سے اندر جمع تھا، زبان پا لیتا ہے۔ یہ احتجاج اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے بے خواب راتیں، لاپتہ بیٹے، خالی دسترخوان، جھوٹے وعدے اور ماؤں کے بین ہیں۔ سڑک پر ابھرنے والا نعرہ قبرستان کی خاموشی کا اگلا روپ ہے۔
اسی موقع پر تاریخ کے مسخ کیے جانے کا سوال سامنے آتا ہے: ’’اتہاس ہمیش پُورا ای تے بدلیا گیا اے‘‘ (تاریخ کو ہمیشہ مکمل طور پر بدل دیا گیا ہے)۔ مقتدر طبقہ صرف حال پر حکومت نہیں کرتا، ماضی کی تعبیر پر بھی قابض ہوتا ہے۔ نصاب، قومی یادداشت اور سرکاری تقریبات کے ذریعے وہ عوام کو ان کی اصل جدوجہد، شکستوں اور مزاحمتوں سے کاٹ دیتا ہے۔ جس قوم کو اپنی تاریخ کا علم نہ ہو، اسے ہر نیا دھوکا پہلی بار پیش آنے والا واقعہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ بار بار وہی غلطی کرتی ہے، وہی نعرہ سنتی ہے اور وہی قربانی دیتی ہے۔
ناول میں ’’پلاسٹک دی گڈی‘‘ (پلاسٹک کی گڑیا) سیاسی کٹھ پتلی پن کا نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ چہرے بدلتے ہیں، لباس بدلتے ہیں، تخت پر بیٹھنے والے بدلتے ہیں، مگر ڈوریاں کسی اور کے ہاتھ میں رہتی ہیں۔ پلاسٹک کی گڑیا خوب صورت ہو سکتی ہے، مسکرا سکتی ہے، عوام کے سامنے ہاتھ ہلا سکتی ہے، مگر اس کی اپنی خواہش، شعور اور اختیار نہیں ہوتا۔ یہ استعارہ شخصی سیاست کی سطحی چمک کو چیر کر اقتدار کے اصل ڈھانچے تک پہنچتا ہے۔
اسی ڈھانچے کو ناول ’’مداری تے سردار‘‘ (شعبدہ باز اور سردار) کی صورت میں دکھاتا ہے۔ مداری عوام کی توجہ منتشر کرتا ہے، سردار ان کے وسائل پر قابض رہتا ہے۔ ایک تماشا دکھاتا ہے، دوسرا حکمرانی کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ مداری کے بغیر سردار کا ظلم نمایاں ہو جائے، سردار کے بغیر مداری کے تماشے کی سرپرستی ختم ہو جائے۔ عوام کو کبھی دشمن کا خوف دکھایا جاتا ہے، کبھی ترقی کا خواب، کبھی مذہب، کبھی قوم، کبھی بحران۔ یوں اصل سوال، یعنی زمین، روٹی، اختیار اور انصاف، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
ناول اس سیاسی شعبدہ بازی کو طبقاتی تقسیم سے جوڑتا ہے۔ ایک ہوٹل میں لوگ آپس میں لڑتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے سر کیوں نہیں پھوڑتے جو ان کے دکھوں کے اصل ذمہ دار ہیں۔ جواب واضح ہے: انہیں جان بوجھ کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے۔ مذہب، فرقہ، زبان، نسل، برادری اور علاقہ ایسے خانے بن جاتے ہیں جن میں محکوم ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں ظلم اوپر سے نیچے آنے کے بجائے نیچے ہی نیچے پھیلتا ہے۔ یہی افقی یا باہمی تصادم ہے، جس میں مظلوم کی توانائی ظالم کے خلاف جانے کے بجائے دوسرے مظلوم کو زخمی کرتی ہے۔
یہ تقسیم خاندان کے اندر بھی داخل ہو جاتی ہے۔ باپ بیٹے سے، ماں بیٹی سے، بھائی بھائی سے الجھتا ہے۔ اختلاف کو فکر کے بجائے دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ رہتی ہے، غریب ایک دوسرے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہیں۔ ناول اس حقیقت کو نہایت سادگی سے آشکار کرتا ہے کہ عوام کا بکھراؤ حکمران طبقے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر دکھ کی وجہ پہچان لی جائے تو مداری کا کھیل ختم ہو سکتا ہے، اس لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ اصل سبب تک نہ پہنچیں۔
اس سماجی تقسیم کے ساتھ دیہات کا زوال بھی جڑا ہوا ہے۔ ’’پنڈاں وچ وی ہن اوہ گل نہیں رہی سی‘‘ (دیہاتوں میں بھی اب وہ بات نہیں رہی تھی) کوئی روایتی نوحہ نہیں جس میں ماضی کو مکمل پاکیزگی کے ساتھ یاد کیا جائے۔ یہاں دیہات کی مٹھاس کے خاتمے کا تعلق معاشی دباؤ، مہنگائی، بے یقینی اور سرمایہ دارانہ خود غرضی سے ہے۔ رشتے ضرورت اور فائدے کے تابع ہو گئے ہیں۔ لوگ بے غرض ملنا چھوڑ رہے ہیں۔ مہمان نوازی، سانجھ اور اجتماعی دکھ سکھ کی جگہ مالی حساب نے لے لی ہے۔
یہ اخلاقی زوال کسی فطری انسانی کمزوری کا نتیجہ نہیں۔ ناول اسے معاشی ڈھانچے سے جوڑتا ہے۔ جب ہر گھر بقا کی جنگ لڑ رہا ہو، جب روزمرہ ضرورتیں پہنچ سے باہر ہوں، جب ریاست شہری کو تحفظ کے بجائے صرف بوجھ دے، تو رشتوں پر بھی منڈی کا دباؤ آ جاتا ہے۔ انسان دوسرے انسان کو تعلق کے بجائے وسیلے کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ اس طرح معاشی استحصال صرف جیب خالی نہیں کرتا، اجتماعی اخلاق اور جذباتی دنیا کو بھی برباد کر دیتا ہے۔
اس تمام تاریکی کے باوجود ناول ایک مرحلے پر عوامی احتجاج کو ممکن دکھاتا ہے۔ ’’ساڈا تے حالیں اوہ سنتالی وی نہیں لنگھیا‘‘ (ہمارا تو اب تک وہ سن سینتالیس ہی نہیں گزرا) تقسیم اور آزادی کے سرکاری جشن پر کاری ضرب ہے۔ تقویم میں 1947ء گزر چکا ہے، مگر غریب کی زندگی میں نہیں۔ اس کے لیے آزادی کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ اس کے کچے گھر، بے زمین ہاتھ، بھوکے بچے اور خوف زدہ زندگی اس بات کی گواہی ہیں کہ سیاسی آزادی معاشی اور سماجی آزادی میں تبدیل نہیں ہوئی۔
احتجاجی گیت ’’ساڈے کچے کوٹھے ڈھان دیو، تہاڈے محل بچان دیو‘‘ (ہمارے کچے گھر گرا دو تاکہ تمہارے محل بچ سکیں) طبقاتی طنز کی انتہا ہے۔ غریب اپنے ہی استحصال کی منطق کو الٹ کر حاکم کے سامنے رکھتا ہے۔ ترقی کے منصوبے ہوں، جنگ کا بوجھ، قرض کی ادائیگی یا قومی بحران، قربانی ہمیشہ کچے گھروں سے مانگی جاتی ہے، محلات سے نہیں۔ یہ نعرہ اس نظام کو بے نقاب کرتا ہے جس میں عوام کی تباہی کو ریاستی بقا اور اشرافیہ کی آسودگی کو قومی مفاد کہا جاتا ہے۔
شہر کا کرلا اٹھنا اسی طبقاتی شعور کی بیداری ہے۔ مگر یہ بیداری مکمل فتح میں تبدیل نہیں ہوتی۔ ’’ورلاپ‘‘ کسی آسان انقلابی انجام پر یقین نہیں کرتا۔ احتجاج کے باوجود اقتدار عوامی توانائی کو ایک نئی سمت میں موڑ دیتا ہے۔ یہی ناول کا سب سے ہولناک مرحلہ ہے۔ جو لوگ سڑکوں پر نکلے تھے، وہ آخرکار ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیے جاتے ہیں جس کی منزل کسی کو معلوم نہیں۔
آخری باب کی اندھی دوڑ پورے ناول کے فکری سفر کو ایک مہیب دائرے میں بند کر دیتی ہے۔ مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے سب بھاگ رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہاں۔ کوئی رک کر پوچھتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ بس تھوڑا سا راستہ اور باقی ہے۔ اس دوڑ میں منزل ہمیشہ آگے سرکتی رہتی ہے۔ یہی ترقی، استحکام اور خوش حالی کا وہ سراب ہے جو ہر دور میں عوام کو دکھایا جاتا ہے۔ آج قربانی دو، کل سکون ملے گا۔ آج خاموش رہو، کل آزادی ہوگی۔ آج بھوکے رہو، کل معیشت سنبھل جائے گی۔ مگر کل کبھی نہیں آتا۔
اس اندھی دوڑ میں بچے کا جوان اور پھر بوڑھا ہو جانا وقت کے نگلنے کی لرزہ خیز علامت ہے۔ ایک نسل سوال کرتے ہوئے دوڑ شروع کرتی ہے، دوسری دوڑتے دوڑتے جوان ہوتی ہے، تیسری منزل دیکھے بغیر قبر تک پہنچ جاتی ہے۔ بال سفید ہو جاتے ہیں، ہاتھوں پر جھریاں آ جاتی ہیں، مگر قافلے کو اب بھی بتایا جاتا ہے کہ منزل قریب ہے۔ یہاں وقت خطی نہیں، ایک چکر ہے۔ ہر نسل وہی وعدہ سنتی ہے، وہی راستہ طے کرتی ہے اور وہی شکست ورثے میں چھوڑ جاتی ہے۔
اس پورے سراب کا نچوڑ ’’اوکھا ویلا تے نازک موڑ‘‘ (مشکل وقت اور نازک موڑ) کی ترکیب میں آتا ہے۔ یہ محض سیاسی محاورہ نہیں، حکمرانی کی مستقل حکمت عملی ہے۔ عوام کو ہمیشہ بتایا جاتا ہے کہ ملک خطرے میں ہے، وقت نازک ہے، سوال اٹھانا مناسب نہیں، قربانی ناگزیر ہے۔ مگر نازک موڑ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس موڑ کو پچھلی نسل نے دیکھا تھا، نئی نسل بھی اسی کے سامنے کھڑی ہے۔ جو مشکل وقت باپ کے بچپن میں شروع ہوا تھا، بیٹے کے بڑھاپے تک جاری رہتا ہے۔
ناول کا طنز یہاں اپنی شدید ترین صورت اختیار کرتا ہے۔ رہنما خود نہیں جانتے کہ منزل کہاں ہے، مگر قافلے کو روکتے بھی نہیں۔ ’’سانوں ای نہیں پتا‘‘ (ہمیں خود بھی نہیں معلوم) کے باوجود دوڑ جاری ہے، کیونکہ دوڑ کا جاری رہنا ہی اقتدار کی ضرورت ہے۔ اگر لوگ رک گئے تو وہ راستہ دیکھیں گے، سوال کریں گے، پیچھے مڑ کر لاشوں اور ضائع شدہ نسلوں کو شمار کریں گے۔ اسی لیے انہیں مسلسل حرکت میں رکھا جاتا ہے۔ حرکت ترقی کا ثبوت نہیں، شعور سے فرار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس انجام کو ناول کے آغاز سے جوڑیں تو ایک خوف ناک دائرہ مکمل ہوتا ہے۔ آغاز میں انسان اندھیرے کے خلاف ’’سفنیاں وچ زندہ رہنا‘‘ (خوابوں میں زندہ رہنا) چاہتا تھا۔ پھر اس کی نیند چھینی گئی، خواب اغوا ہوئے، لوگ لاپتہ ہوئے، ماؤں کو لاشیں ملیں، آنکھیں نہر میں تیرتی رہیں، تاریخ بدلی گئی، ذرائع ابلاغ نے جھوٹ پھیلایا، عوام آپس میں لڑائے گئے اور پھر ایک لمحے کے لیے احتجاج نے خاموشی کو توڑا۔ مگر آخر میں اسی احتجاجی توانائی کو نئی دوڑ میں تبدیل کر دیا گیا۔
یوں ’’خواباں دی پنیری‘‘ (خوابوں کی پنیری) آخرکار خوابوں کے قبرستان تک پہنچتی ہے۔ مگر ناول مکمل مایوسی کی دستاویز بھی نہیں۔ اگر یہ صرف شکست کا بیان ہوتا تو اسے لکھنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس کا وجود خود گواہی ہے۔ جن آنکھوں کے ڈیلے نہر میں بہا دیے گئے، ناول انہی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ جن لوگوں کو غائب کیا گیا، ان کی غیر موجودگی کو زبان دیتا ہے۔ جن ماؤں کے بین کو خبر نہیں بنایا گیا، اسے ادبی حافظے میں محفوظ کرتا ہے۔
سلیم شہزاد کی سب سے بڑی فنی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے پنجابی زبان کے لوک ذخیرے کو جدید انسان کے پیچیدہ سیاسی اور وجودی تجربے کے اظہار کا وسیلہ بنا دیا ہے۔ ان کے ہاں فلسفہ کسی اجنبی اصطلاحی بوجھ کے ساتھ نہیں آتا بلکہ پنیری، نہر، قبرستان، مداری، سردار، چکور، کونج، کچے کوٹھے اور نازک موڑ جیسی مقامی علامتوں میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کا فکری جہان گہرا ہونے کے باوجود اپنی دھرتی سے کٹا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔
پنجابی کہاوتیں، دیسی محاورے اور روزمرہ کی آوازیں اس نثر کو ایسی مادی قوت دیتی ہیں جو مجرد خیال کو جسم عطا کرتی ہے۔ منہ سے جھاگ بہنا صرف ذہنی انتشار نہیں، سماجی دباؤ کی جسمانی صورت بن جاتا ہے۔ آسمان کی طرف تھوک کر اپنے چہرے پر گرنے والی پھوار انسانی غرور اور خود فریبی کی لوک دانش ہے۔ نہر میں آنکھوں کے ڈیلے گواہی کے قتل کا ایسا استعارہ ہیں جس کی ہولناکی کسی نظریاتی تقریر سے پیدا نہیں ہو سکتی۔
ناول میں شعور کی رو، داخلی خود کلامی، لوک علامت، تاریخی محاکمہ اور طبقاتی تنقید ایک دوسرے سے الگ عناصر نہیں رہتے۔ وہ ایک ہی ورلاپ کی مختلف آوازیں بن جاتے ہیں۔ فرد کی نفسیاتی شکست تاریخ کی شکست سے جڑی ہے۔ تاریخ کا جبر معاشی ڈھانچے سے، معاشی ڈھانچہ سیاسی شعبدہ بازی سے، اور سیاسی شعبدہ بازی ذرائع ابلاغ کے جھوٹ سے۔ یوں ناول بتاتا ہے کہ انسانی دکھ محض ذاتی نہیں ہوتا، اس کی جڑیں طاقت اور ملکیت کے تعلقات میں پیوست ہوتی ہیں۔
اسی لیے ’’ورلاپ‘‘ کو صرف وجودی ناول کہنا ناکافی ہوگا، جیسے اسے صرف سیاسی یا طبقاتی ناول کہنا بھی اس کے دائرے کو محدود کر دے گا۔ یہ فرد کے باطن اور اجتماعی تاریخ کے درمیان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں خواب، بھوک، محبت، خوف، ہجرت، گمشدگی، پروپیگنڈا اور مزاحمت ایک ہی تجربے کے مختلف نام بن جاتے ہیں۔ اس کا فرد تنہا ہے مگر اس کی تنہائی سماجی ہے۔ اس کا خوف نفسیاتی ہے مگر اس کے اسباب سیاسی ہیں۔ اس کا ورلاپ شخصی ہے مگر اس کی بازگشت پوری دھرتی میں سنائی دیتی ہے۔
ناول کا سیاسی شعور اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب وہ براہِ راست نعرے کے بجائے منظر، محاورے اور علامت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ’’پلاسٹک دی گڈی‘‘، ’’مداری تے سردار‘‘، ’’گوئبلز دے وارث‘‘، ’’نہر وچ دو ڈیلے‘‘،’’ساڈا تے حالیں اوہ سنتالی وی نہیں لنگھیا‘‘ اور ’’اوکھا ویلا تے نازک موڑ‘‘ محض عبارتیں نہیں، پورے سیاسی عہد کی تشریح بن جاتی ہیں۔ ہر ترکیب کے پیچھے تجربے کی ایک مکمل تاریخ موجود ہے۔
’’ورلاپ‘‘ کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ عوام کیوں روتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا رونا کب شعور میں بدلتا ہے اور کب پھر کسی نئے تماشے میں جذب کر لیا جاتا ہے۔ احتجاج کے باوجود شکست کا امکان، بیداری کے باوجود نئی فریب کاری، اور خواب کے باوجود قبرستان، اس ناول کو سادہ امید پرستی سے بچاتے ہیں۔ سلیم شہزاد جانتے ہیں کہ اقتدار صرف جسموں کو نہیں دباتا، وہ خواب، زبان، یادداشت اور احتجاج کی صورتیں بھی اپنے قابو میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی لیے آخری اندھی دوڑ ناول کا محض مایوس کن اختتام نہیں، ایک سیاسی انتباہ ہے۔ جو قوم اپنی منزل خود متعین نہیں کرتی، اسے دوسروں کی بتائی ہوئی سمت میں دوڑایا جاتا ہے۔ جو اپنے دکھ کے اصل سبب کو نہیں پہچانتی، وہ دوسرے مظلوم سے لڑتی ہے۔ جو اپنی تاریخ نہیں پڑھتی، وہ ہر نئے مداری کو نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ اور جو ’’نازک موڑ‘‘ کے استعارے کو نہیں پہچانتی، اس کی نسلیں اسی موڑ کے گرد چکر کاٹتے ہوئے فنا ہو جاتی ہیں۔
اس معنی میں ’’ورلاپ‘‘ ماتم کے اندر چھپا ہوا سوال ہے۔ یہ قاری کو رونے پر نہیں چھوڑتا، اسے اپنی بے خوابی، اپنی خاموشی، اپنے خواب اور اپنی دوڑ کا حساب مانگنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ پوچھتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، کس کے اشارے پر دوڑ رہے ہیں، کن لوگوں کے محل بچانے کے لیے اپنے کچے گھر گرا رہے ہیں، اور کیوں ہر نسل کو وہی مشکل وقت ورثے میں ملتا ہے جسے پچھلی نسل نے عارضی سمجھ کر قبول کیا تھا۔
سلیم شہزاد نے پنجابی ناول کو محض لوک زندگی کی تصویر کشی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تاریخ، سیاست، طبقے، وجود، یادداشت اور مزاحمت کے بڑے سوالوں کے روبرو لا کھڑا کیا ہے۔ ان کی نثر اپنی دھرتی کی خوش بو رکھتی ہے، مگر اس کے سوال آفاقی ہیں۔ دنیا کے ہر اس سماج میں جہاں عوام کو مستقبل کے وعدے پر حال کی قربانی دینے کو کہا جاتا ہے، جہاں ذرائع ابلاغ جھوٹ کو حقیقت کا لباس پہناتے ہیں، جہاں لوگ غائب ہوتے ہیں اور جہاں نسلیں منزل کے بغیر دوڑتی ہیں، ’’ورلاپ‘‘ اپنی معنویت کے ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
بالآخر یہ ناول اس دھرتی کا مرثیہ ضرور ہے، مگر ایسا مرثیہ جس کے اندر احتجاج کی چنگاری زندہ ہے۔ یہ خوابوں کے قتل کی گواہی دیتا ہے، مگر خواب دیکھنے کو جرم نہیں مانتا۔ یہ انکار سے شروع ہوتا ہے اور سوال پر ختم ہوتا ہے۔ اس کی آخری اندھی دوڑ قاری کو خود رکنے، مڑ کر دیکھنے اور راستہ پوچھنے کی دعوت دیتی ہے۔ شاید ناول کی اصل مزاحمت یہی ہے کہ وہ ’’نازک موڑ‘‘ کے سراب کو پہچان لینے کے بعد بھی خواب کی پنیری لگانے کی ضرورت سے انکار نہیں کرتا، کیونکہ بے خواب معاشرے واقعی اپنی منزل تک نہیں پہنچتے، وہ صرف دوڑتے ہیں، بوڑھے ہوتے ہیں اور تاریخ کے قبرستان میں اتر جاتے ہیں۔