فولادی بالوں والا رویا باف
آغا اسلم اسد اور ایک شہر کی گم شدہ یادداشت
ادبی خاکہ
خالد محمود (اس خاکے کے خالق ہیں انکا تعلق بھی گوجرانوالہ سے ہے )
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہروں کی بھی یادداشت ہوتی ہے، مگر وہ اپنی یادیں کتابوں میں محفوظ نہیں رکھتے۔ انہیں ریلوے اسٹیشنوں کی پرانی دیواروں، چائے کے کپوں کے کناروں، شکستہ بنچوں، بند پڑے پریسوں کی سیاہی، پمفلٹوں کے زرد ہوتے کاغذ اور ان آدمیوں کے چہروں میں چھپا دیتے ہیں جو وقت گزر جانے کے باوجود اپنے پہلے خواب سے پوری طرح دست بردار نہیں ہوتے۔
گوجرانوالہ بھی ایسا ہی شہر ہے۔
اس نے رنجیت سنگھ کی پیدائش سے صنعتی بھٹیوں، پہلوانوں، بازاروں اور سیاسی ہنگاموں تک کتنے ہی زمانے دیکھے ہیں، مگر اس کی ایک صورت اب شاید صرف چند بوڑھی آنکھوں میں باقی ہے: وہ گوجرانوالہ جہاں ریلوے اسٹیشن کے ایک چائے خانے میں چائے سے زیادہ خیالات کھولتے تھے؛ کسی میز پر مزدور تحریک زیرِ بحث ہوتی، کسی کونے میں تاریخ، کسی کرسی پر شاعری، اور چائے کے آخری گھونٹ کے ساتھ کسی بہتر دنیا کے امکان پر نئی بحث چھڑ جاتی۔
اسی شہر کی گم شدہ یادداشت کا ایک حصہ چالیس برس بعد ایک ایسے آدمی کے ساتھ واپس آیا، جس کے سر پر اب بھی فولادی بالوں کی وہی پرانی ضد باقی تھی۔
آغا اسلم اسد۔
میں ان سے ان کی جوانی میں نہیں ملا۔ میرے لیے آغا تک پہنچنے کا پہلا راستہ خود آغا نہیں، مختار احمد تھے۔ مختار ان لوگوں میں سے ہیں جن کے پاس بیٹھیں تو وقت سیدھی لکیر میں چلنا چھوڑ دیتا ہے۔ کبھی کسی پرانی گلی سے پلٹ آتا ہے، کبھی چائے کی بھاپ میں اٹھتا ہے اور کبھی اچانک سامنے والی خالی کرسی پر آ بیٹھتا ہے۔ ان کی گفتگو میں آغا کا نام بار بار آتا تھا: کبھی کسی سیاسی سرگرمی کے ضمن میں، کبھی مزدوروں کے کسی حلقے میں، کبھی کسی پمفلٹ کے حوالے سے، اور کبھی صرف ایک ایسے آدمی کے طور پر جس کے بغیر اس عہد کے گوجرانوالہ کی تصویر پوری نہیں ہوتی۔
مختار کے بیان میں آغا کی جوانی کے کئی رنگ تھے۔ ایک روز انہوں نے ان کے بالوں کا ذکر ایسے کیا جیسے وہ بھی شخصیت کا حصہ نہ ہوں بلکہ کوئی الگ داستان ہوں: گھنے، فولادی اور اپنی مرضی کے مالک۔ ان کے بیان میں اتنا رنگ تھا کہ میں نے اسے دوستی کا مبالغہ سمجھا۔ پھر آغا کی ایک پرانی تصویر دیکھی۔ تصویر سیاہ و سفید تھی، مگر بال اس کے رنگوں سے آزاد معلوم ہوتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی مجسمہ ساز نے دھات کو نرم کرکے ایک نوجوان انقلابی کے سر پر جما دیا ہو۔ چہرے پر وہ اعتماد تھا جو یا تو جوانی دیتی ہے یا نظریہ، اور آغا کے معاملے میں شاید دونوں نے مل کر دیا تھا۔
اس تصویر کے بعد ان کے بال میرے لیے محض ایک ظاہری وصف نہ رہے۔ وہ ایک علامت بن گئے: ایسی سرکشی کی علامت جسے وقت سفید تو کرسکتا ہے، پوری طرح سرنگوں نہیں۔
آغا کی جوانی پاکستان کے اس عہد میں گزری جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے ملک کو صرف سیاسی نہیں، ذہنی اور اخلاقی طور پر بھی اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ وہ برس اب تاریخ کی کتابوں میں چند عنوانوں، کوڑوں، گرفتاریوں، سنسرشپ اور آئینی ترامیم میں سمٹ جاتے ہیں، مگر جن لوگوں نے وہ زمانہ جیا، ان کے لیے وہ ایک لمبی سرد رات تھی۔ ایسی رات جس میں گھڑیاں چلتی رہیں مگر صبح کا کوئی بھروسا نہ تھا۔ کتاب شبہے کی چیز بن سکتی تھی، پمفلٹ جرم، سوال بغاوت اور خاموشی شہری فضیلت۔
آغا پاکستان سوشلسٹ پارٹی اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ رہے۔ صحافت، ادارت، پمفلٹ نویسی اور مزدوروں کے درمیان سیاسی و فکری کام ان کے اسی عہد کی شناخت کا حصہ تھے۔ وہ ان لوگوں میں شمار ہوتے تھے جن کے لیے سیاست پیشہ نہیں، زندگی گزارنے کا ایک اخلاقی طریقہ تھی۔ اس نسل کے بہت سے لوگوں کی طرح انہوں نے سیاست سے فائدہ کم اٹھایا، قیمت زیادہ ادا کی۔ آج سیاست اور پیشہ ایک دوسرے میں اتنی آسانی سے گھل جاتے ہیں کہ یہ بات سمجھانا دشوار ہے، مگر اس زمانے میں مزدور کے حق میں کھڑا ہونا، حکومت سے اختلاف کرنا یا پمفلٹ لکھنا آدمی کے روزگار، آزادی اور کبھی کبھی وطن تک کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔
پمفلٹ تب محض کاغذ نہیں تھا۔ آج ایک متن پل بھر میں براعظم پار کر جاتا ہے؛ تب ایک صفحہ چھاپنے کے لیے پریس، کاغذ، سیاہی، پیسہ، اسے بانٹنے والے ہاتھ اور پولیس سے بچنے کی تدبیر درکار ہوتی تھی۔ پمفلٹ تہہ کرکے جیب میں رکھا جاسکتا تھا، اس کے اندر کا خیال نہیں۔ شاید اسی لیے آمریتوں کو ہمیشہ شور سے کم، معنی سے زیادہ خوف رہا ہے۔ ہجوم منتشر کیا جاسکتا ہے؛ ایک درست سوال دیر تک تعاقب کرتا ہے۔
آغا ایسے ہی سوالوں کے آدمی تھے۔
مختار احمد کی روایتوں میں گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کا ٹی روم بار بار آتا ہے۔ میں نے اس کا ذکر اتنی مرتبہ سنا کہ اب وہ مجھے اپنی دیکھی ہوئی جگہ معلوم ہوتا ہے۔ شاید ادبی یادداشت اسی طرح بنتی ہے۔ آدمی دوسروں کی یادوں میں اتنی دیر بیٹھا رہتا ہے کہ ایک دن وہاں اپنی کرسی بھی دیکھنے لگتا ہے۔
محمود احمد قاضی، پرویز پال، ظفر کاظمی، عبدالرحمٰن شمیمی اور جانے کتنے لوگ وہاں بیٹھتے تھے۔ وہ رسمی درس گاہ نہ تھی، مگر وہاں سیاست، ادب، تاریخ اور مزدور تحریک کے وہ سبق پڑھے جاتے تھے جن کے لیے داخلہ فارم نہیں، سوال کرنے کی ہمت درکار تھی۔ چائے آتی، گفتگو شروع ہوتی اور اکثر چائے پہلے ٹھنڈی پڑ جاتی، بحث بعد میں۔
مختار کی یادداشت میں اس ٹی روم کے بارے میں کئی خوش مزاج روایات محفوظ ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے، ہنستے ہوئے، اسے یوں یاد کیا کہ آج کے کیفوں میں شاید پہلے تصویر بنتی ہے اور بعد میں کافی پی جاتی ہے، جبکہ وہاں چائے آتی تھی اور بحث شروع ہو جاتی تھی۔ انقلاب کے بارے میں انہوں نے ایک لطیف طنزیہ فقرہ بھی کہا تھا کہ وہ اکثر چائے سے پہلے ٹھنڈا پڑ جاتا تھا۔
اس قہقہے میں ایک پوری نسل کی خود شناسی تھی۔ برصغیر کے بائیں بازو کی تاریخ کا ایک رخ شاید اسی میں چھپا ہے: دنیا بدلنے پر اتفاق ہوجاتا تھا، طریقۂ کار طے کرتے کرتے ایک دوسرے سے ناراضی ہوجاتی تھی۔ انقلاب اپنی جگہ رہتا، دوستی زخمی ہوجاتی۔
مگر ان تمام تضادات کے باوجود اس نسل کے پاس ایک ایسی چیز تھی جو آج کمیاب معلوم ہوتی ہے: اجتماعی عمل پر یقین۔ یہ یقین کہ آدمی اپنے سے بڑے کسی مقصد کے لیے دوسرے آدمیوں کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے؛ مزدور صرف اپنی اجرت کا تنہا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی سوال بھی ہے؛ کتاب انفرادی شوق سے بڑھ کر اجتماعی فہم کا وسیلہ ہے؛ اختلاف بدتمیزی نہیں، شہری زندگی کی ایک شرط ہے۔
آغا اسی فضا کے آدمی تھے۔
کبھی انہیں اپنے تخیل میں اس زمانے کی کسی گوجرانوالوی سڑک پر دیکھتا ہوں۔ شام اتر رہی ہے۔ کارخانوں کی چھٹی ہو رہی ہے۔ ہوا میں لوہے، پسینے اور گرد کی بو ہے۔ ایک نوجوان کہیں مزدوروں کی میٹنگ کی طرف جا رہا ہے، بغل میں پمفلٹ، بال ہوا سے الجھتے ہوئے۔ سامنے سے کوئی شناسا آواز دیتا ہے۔ میں اس منظر کی کوئی لفظ بہ لفظ تاریخی سند نہیں دے سکتا، مگر اس عہد کی روح کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے: رات بڑھ رہی ہے اور ایک سیاسی کارکن ابھی کسی محنت کش حلقے کی طرف جا رہا ہے۔
یہیں خاکے کی حد بھی واضح رہنی چاہیے۔ جہاں مستند یادداشت ختم ہوتی ہے، وہاں تخیل کو دعویٰ نہیں بننا چاہیے۔ وہ صرف فضا، مزاج اور امکان کی بازآفرینی کرے۔
پھر وہ مرحلہ آیا جب آغا کو اپنا شہر چھوڑنا پڑا۔ جنوب مشرقی ایشیا اور بعدازاں مشرقی افریقہ نے ان کی زندگی کا وہ حصہ اپنے اندر لے لیا جسے ہم سہولت سے “جلاوطنی” کہتے ہیں، حالانکہ یہ لفظ اس تجربے کا بہت کم حصہ بیان کرتا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ انہوں نے گوجرانوالہ چھوڑتے ہوئے آخری بار کس طرف دیکھا تھا۔ یہ بھی نہیں کہ کسی دوست نے “جلدی واپس آنا” کہا یا نہیں۔ مگر ہر جلاوطنی کے اندر ایک ایسے وعدے کا سایہ ضرور ہوتا ہے کہ شاید حالات بدلیں گے اور آدمی لوٹ آئے گا۔
حالات شاذ ہی بہتر ہوتے ہیں۔
آدمی ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔
شہر چھوڑا جاسکتا ہے، اپنے اندر سے نہیں نکالا جاسکتا۔ ہوائی اڈوں پر اہلکار سوٹ کیس کھول سکتے ہیں، کتابیں الٹ سکتے ہیں، پاسپورٹ پر مہریں لگا سکتے ہیں، مگر یادداشت کے لیے کوئی کسٹم نہیں۔ گوجرانوالہ آغا کے ساتھ چلا گیا: ریلوے اسٹیشن کی سیٹی، ٹی روم کی آوازیں، کسی کارخانے کے باہر مزدوروں کا ہجوم، دوستوں کے قہقہے، پریس کی سیاہی اور پنجاب کی گرد۔
پھر ان کی زندگی میں کینیا آیا۔
نیروبی۔
یہاں ایک سخت سیاسی کہانی کا لہجہ اچانک نرم پڑ جاتا ہے۔
جلاوطنی کے جغرافیے میں ایک عورت آئی، پھر محبت، پھر گھر۔ اس تعلق کی نجی تفصیلات کو افسانوی آرائش سے بھرنا مناسب نہیں۔ اتنا کافی ہے کہ مشرقی افریقہ، جو پہلے دوری اور بے وطنی کا جغرافیہ تھا، رفتہ رفتہ محبت اور خاندان کا وطن بن گیا۔ دو بیٹیاں ہوئیں، اور آغا نے بھی وہی کیا جو انسان صدیوں سے جلاوطنی میں کرتا آیا ہے: جہاں حالات اسے بے وطن کرنا چاہتے ہیں، وہاں وہ رشتوں سے گھر بنا لیتا ہے۔
یہاں آغا میرے لیے زیادہ مکمل انسان بن جاتے ہیں۔
تاریخ انقلابیوں کو روزمرہ زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔ ہم انہیں جلسے میں دیکھتے ہیں، جیل میں، پمفلٹ لکھتے ہوئے، تقریر کرتے ہوئے؛ کم سوچتے ہیں کہ تھکے تو کس کے پاس بیٹھے، بیمار ہوئے تو کس نے پیشانی چھوئی، بیٹی کی کس بات پر ہنسے، کس شام دنیا کے تمام سیاسی سوالوں سے زیادہ اہم گھر کا کوئی معمولی مسئلہ بن گیا۔
انسان نظریے سے بڑا ہوتا ہے۔
آغا بھی تھے۔
مجھے ان کا افریقی گھر دو براعظموں کے درمیان ایک چھوٹا سا پل معلوم ہوتا ہے۔ باہر افریقی آسمان، اندر بیٹیوں کی آوازیں، اور باپ کی کسی کہانی میں اچانک گوجرانوالہ۔ ممکن ہے ان گھریلو باتوں میں کبھی پرانا شہر بھی آتا ہو، اس کے دوست، اس کی بحثیں، اس کے ریلوے اسٹیشن کی چائے۔
دنیا نے ان کی نسل کی ہر بات نہیں سنی۔ کچھ خواب شکست کھا گئے، کچھ تحریکیں بکھر گئیں، کچھ ساتھی تھک گئے، کچھ مر گئے اور کچھ نظریات سے خاموشی کے ساتھ ریٹائر ہوگئے۔ زندگی بہرحال چلتی رہی۔ بچے بڑے ہوئے، موسم بدلے، وطن سے خبریں آتی رہیں۔ کبھی حکومت بدلی، کبھی کسی دوست کی بیماری کی اطلاع آئی، کبھی کسی کے انتقال کی۔
پردیس میں شاید سب سے بھاری خبر وہ ہوتی ہے جس کے بعد آدمی فون ہاتھ میں لیے کچھ دیر خاموش بیٹھا رہتا ہے۔
فلاں نہیں رہا۔
ایک پوری زندگی ایک جملے میں سمٹ جاتی ہے۔
ابھی ایک بحث باقی تھی۔
ایک کتاب واپس کرنی تھی۔
ایک چائے اور پینی تھی۔
موت کو ادھورے کاموں کی کوئی رعایت نہیں۔
ادھر گوجرانوالہ بھی بدلتا رہا۔ آبادی بڑھی، کارخانے پھیلے، پلازے، بازار، موٹر سائیکلیں، شادی ہال، موبائل فون اور پھر اسمارٹ فون آئے۔ شہر نے جدیدیت کی کئی نشانیاں حاصل کیں، مگر اجتماعی زندگی کی بہت سی پرانی جگہیں سکڑتی گئیں۔ ٹریڈ یونینیں کمزور ہوئیں۔ مزدور کی زندگی مہنگائی، غیر یقینی روزگار اور روزمرہ بقا کے دباؤ میں تقسیم ہوتی گئی۔
سرمایہ داری کو مزدور کا سیاسی شعور کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ پولیس درکار نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی بجلی کا بل کافی ہوتا ہے۔
جس آدمی کو ہر ماہ یہ طے کرنا پڑے کہ دوا خریدے، بچوں کی فیس دے، کرایہ پورا کرے یا راشن، اسے شام کے مطالعے کے حلقے میں نہ آنے پر سیاسی ملامت کرنا بھی ناانصافی ہے۔ بقا کی ریاضی سرد ہوتی ہے۔ وہ بڑے خوابوں کو چھوٹی چھوٹی قسطوں میں توڑ دیتی ہے۔
معاشی تھکن سے بھی گہرا اثر مگر خوف نے ڈالا۔
ضیاء الحق کی آمریت کی سب سے دیرپا کامیابی شاید یہ نہ تھی کہ اس نے لوگوں کو خاموش کیا؛ یہ تھی کہ خاموشی کو ان کے اندر بسا دیا۔ بیرونی سنسر رفتہ رفتہ داخلی سنسر بن گیا۔ ایک چھوٹا سا تھانہ ذہن میں قائم ہوگیا۔
خیال آیا: رہنے دو۔
ناانصافی دیکھی: اپنے کام سے کام رکھو۔
بولنے کو دل چاہا: گھر میں بچے ہیں۔
سوال زبان تک آیا: کیا ضرورت ہے؟
ہمارے عہد کا شاید سب سے کامیاب سنسر یہی فقرہ ہے:
“کیا ضرورت ہے؟”
ضیاء مر گیا۔
یہ فقرہ زندہ رہا۔
پہلی آمریت کتاب ضبط کرتی تھی؛ دوسری کتاب پڑھنے کی عادت ختم کر دیتی ہے۔ پہلی کہتی تھی، مت بولو؛ دوسری یقین دلاتی ہے کہ بولنے سے کچھ حاصل نہیں۔ پہلی کے سپاہی باہر کھڑے ہوتے تھے، دوسری کے سپاہی ہم اپنے اندر لیے پھرتے ہیں۔
چالیس برس بعد آغا واپس آئے تو شاید سب سے بڑا فرق انہیں عمارتوں نے نہیں، اسی اندرونی خاموشی نے دکھایا ہوگا۔
شہر خاموش بھی نہیں تھا۔
یہی اس کا المیہ تھا۔
ہارن تھے، بازار تھے، ٹی وی، موبائل، ٹاک شو، مذہبی خطابت اور سوشل میڈیا تھا۔ ہر طرف شور تھا، مگر سوال کم تھے۔
شور سے بھری ہوئی خاموشی۔
اور اسی خاموشی میں فولادی بال پھر نمودار ہوئے۔
وطن واپسی شاید جلاوطنی سے زیادہ پیچیدہ تجربہ ہے۔ پردیس میں آدمی جانتا ہے کہ وہ اجنبیوں کے درمیان ہے۔ اذیت تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے شہر میں واپس آ کر دیکھے کہ شہر اسی جگہ ہے، مگر وہ شہر جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا، کہیں اور منتقل ہوچکا ہے۔
نام وہی۔
سڑک شاید وہی۔
ریلوے لائن وہیں۔
کسی پرانی عمارت کی پیشانی بھی پہچانی جاسکتی ہے۔
مگر یادداشت ہر جگہ کے اوپر ایک دوسری جگہ رکھ دیتی ہے۔
میں جس دکان کو صرف دکان دیکھتا ہوں، ممکن ہے آغا کو وہاں کسی ساتھی کا مکان دکھائی دے۔ جس چوراہے سے میں بے دھیانی میں گزر جاؤں، وہاں ان کے ذہن میں کسی جلوس کی آواز اٹھتی ہو۔ جس دیوار پر آج اشتہار لگا ہے، شاید کبھی وہاں مزدور یونین کا پوسٹر چسپاں ہوا ہو۔
آغا ایک ہی وقت میں دو گوجرانوالوں میں چلتے ہیں۔
ایک موجود۔
ایک غائب۔
شاید ان کے لیے سب سے تکلیف دہ بات پرانے شہر کا بدل جانا نہیں، نئے شہر کا اس تبدیلی سے بے خبر ہونا ہے۔ نئی نسل محمود احمد قاضی، پرویز پال، ظفر کاظمی یا عبدالرحمٰن شمیمی کے نام کیوں جانے؟ اس کے اپنے مسائل، اپنی زبانیں، اپنے ذرائع ہیں۔ مگر سیاسی اور تہذیبی روایت اگر منتقل نہ ہو تو ہر نسل کو اپنی ابتدا صفر سے کرنا پڑتی ہے۔
آغا کی واپسی اسی لیے اہم ہے۔ یہ فقط ایک شخص کی واپسی نہیں، چند ناموں، چند سوالوں اور ایک گم شدہ مزاج کی واپسی بھی ہے۔
میں جب انہیں آج دیکھتا ہوں تو پرانی تصویر کا نوجوان اور موجودہ آغا ایک دوسرے پر منطبق ہونے لگتے ہیں۔ چہرہ وقت سے گزر چکا ہے۔ آنکھوں کے گرد برسوں کی باریک تحریر ہے۔ دوستوں کی فہرست میں خالی جگہیں بڑھ گئی ہیں۔ جلاوطنی، محبت، بچوں کی پرورش، سیاسی شکستیں اور ذاتی تجربے، سب نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔
بالوں میں مگر اب بھی سرکشی کی کوئی نہ کوئی شہادت باقی ہے۔
کچھ آدمیوں کے بال بھی نظریاتی ثابت ہوتے ہیں۔
آغا سے گفتگو میں سب سے اہم بات یہ نہیں کہ وہ ماضی کو کتنی شدت سے یاد کرتے ہیں؛ یہ ہے کہ وہ ماضی میں رہنے پر آمادہ نہیں۔ اگر وہ صرف نوستالجیا ہوتے تو ان کے ساتھ بیٹھنا آسان تھا۔ پرانے دن یاد کرتے، مرے ہوئے دوستوں کے نام لیتے، ضیاء کو برا کہتے، ٹی روم کا ماتم کرتے، چائے ختم کرتے اور گھر لوٹ آتے۔
ماضی بہت آرام دہ جگہ ہے۔
وہ ہم سے کوئی عملی ذمہ داری نہیں مانگتا۔
آغا اس آرام میں خلل ڈالتے ہیں۔
وہ اب بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شہر میں ادبی سرگرمی ہو، نوجوان اکٹھے ہوں، پڑھیں، بات کریں، سوال اٹھائیں۔ ہمارے عہد میں “کچھ کرنا چاہیے” خود ایک غیر معمولی فقرہ ہے، کیونکہ شاید سب سے مقبول نظریہ اب “کچھ نہیں ہوسکتا” ہے۔
تعلیم؟
کچھ نہیں ہوسکتا۔
صحافت؟
کچھ نہیں ہوسکتا۔
مزدور؟
کچھ نہیں ہوسکتا۔
سیاست کا ذکر کریں تو بعض لوگ یوں ہنس دیتے ہیں جیسے کسی مردہ رشتے کی دوبارہ شادی کی بات کردی گئی ہو۔
آغا کی گفتگو سے ایک بات بار بار ابھرتی ہے: وقت خود نہیں نکلتا، نکالنا پڑتا ہے؛ حالات خود اجازت نہیں دیتے، ان کے بیچ راستہ بنانا پڑتا ہے۔
یہ خیال میرے ساتھ رہ گیا۔
غلامی آزادی کے لیے مناسب موسم کا اعلان نہیں کرتی۔ آمریت اختلاف کے لیے خوشگوار دن مقرر نہیں کرتی۔ غربت فرصت کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتی۔ خوف خود دروازہ کھول کر نہیں کہتا: اب آپ آزاد ہیں۔
انسانی تاریخ کا بڑا حصہ ناموزوں حالات میں کیے گئے کاموں کی تاریخ ہے۔
آغا کی زندگی بھی اسی کا ایک ثبوت ہے۔
انہیں آج بھی کتاب پر یقین ہے۔ یہ یقین ہمارے زمانے میں کچھ پرانا سا محسوس ہوتا ہے۔ ہم مطالعے سے زیادہ فوری ردِعمل، دلیل سے زیادہ کلپ، اور کتاب سے زیادہ اس کے چند منٹ کے خلاصے کے عادی ہیں۔ رفتار بہت ملی، فہم ہر جگہ ساتھ نہ آیا۔ جھوٹ تیس سیکنڈ میں پھیل سکتا ہے؛ حقیقت کو سمجھنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
آغا کا رویہ، کم از کم میری سمجھ میں، شکست کو آخری دلیل مان لینے والا نہیں۔ اگر زمانہ دس منٹ کی توجہ دیتا ہے تو شاید دس منٹ ہی سے آغاز کیا جائے۔ طریقہ بدل سکتا ہے، ضرورت نہیں۔
اگر جوان آغا آج کے زمانے میں ہوتے تو شاید پمفلٹ کے بجائے ڈیجیٹل نیوز لیٹر نکالتے، پوڈکاسٹ بناتے، کوئی چھوٹا سا چینل چلاتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آخرکار وہ انسانوں کو ایک میز کے گرد ہی بٹھانا چاہتے۔ آمنے سامنے اختلاف ایک الگ اخلاقی تجربہ ہے۔ سامنے والا صرف نام یا پروفائل نہیں رہتا۔ اس کی آنکھیں، آواز، جھنجھلاہٹ، مسکراہٹ اور ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ اسے بلاک کرنے کے بجائے سننا پڑتا ہے۔
معاشرہ صرف معلومات کے تبادلے سے نہیں بنتا۔
باہمی موجودگی سے بنتا ہے۔
آغا کے اندر یہی رومانویت زندہ ہے۔ نیروبی والی رومانویت نہیں، بلکہ انسان کے بارے میں رومانویت: یہ یقین کہ آدمی کو سمجھایا جاسکتا ہے، پڑھنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے، اس کے اندر سوال جگایا جاسکتا ہے، اور کچھ منتشر لوگوں کو دوبارہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔
تجربہ ہمیشہ اس یقین کے حق میں شہادت نہیں دیتا۔
مگر بڑی انسانی جدوجہدیں اکثر اسی ضد سے شروع ہوتی ہیں۔
ہر معاشرہ ایک وقت کے بعد اپنے سمجھوتوں کو دانش مندی کا نام دے دیتا ہے۔ پھر کوئی ایسا شخص واپس آجائے جسے یاد ہو کہ کبھی انہی چیزوں کے خلاف لڑا جاتا تھا تو بے آرامی پیدا ہوتی ہے۔
آئینہ کبھی مقبول سیاسی آلہ نہیں رہا۔
خاص طور پر جب چہرہ بدل چکا ہو۔
آغا گوجرانوالہ کے لیے شاید ایسا ہی آئینہ ہیں۔ وہ شہر کو صرف اس کا موجودہ چہرہ نہیں دکھاتے، اس کے ساتھ پرانا چہرہ بھی رکھ دیتے ہیں۔
یہ شہر کبھی بحث کرتا تھا۔
اب اکثر بچتا ہے۔
کبھی تنظیم بناتا تھا۔
اب روابط بناتا ہے۔
کبھی اختلاف شناخت تھا۔
اب احتیاط قابلیت سمجھی جاتی ہے۔
کبھی نوجوان بغل میں کتاب دبا کر مطالعے کے حلقے میں جاتا تھا۔
آج پوری دنیا اس کے فون میں ہے، سوائے اس فرصت کے جس میں دنیا کو سمجھا جائے۔
پھر بھی تصویر یکسر تاریک نہیں۔ نئی نسل کے پاس سوال ہیں، غصہ ہے، بے چینی ہے، اپنی زبانیں اور اپنے ذرائع ہیں۔ ضروری نہیں کہ 2026ء کا نوجوان 1980ء کے پمفلٹ کی زبان بولے۔ وہ وڈیو، نظم، گیت، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل اخبار، عدالت یا سڑک سے بول سکتا ہے۔
اصل چیز وسیلہ نہیں۔
آواز ہے۔
آغا شاید اسی آواز کی واپسی چاہتے ہیں۔
شہر کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے ہوئے مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ ان کے لیے واپسی محض جغرافیائی نہیں۔ شہر بدل جائے تو اسے چھوڑ دینا واحد راستہ نہیں؛ اسے دوبارہ اپنا بنانا بھی محبت کی ایک صورت ہے۔
وطن کو بے عیب سمجھنا محبت نہیں۔ اس کی خرابیوں کے باوجود اس پر اپنا شہری حق قائم رکھنا، اس سے سوال کرنا، اس کے کمزور آدمی کے ساتھ کھڑا ہونا، اس کی گم شدہ آوازیں تلاش کرنا اور اس کی یادداشت کو طاقت کے سرکاری نسخے کے حوالے نہ کرنا، شاید محبت کی زیادہ مشکل صورت ہے۔
اور محبت، اگر سچی ہو، تو ہمیشہ تھوڑی سی غیر معقول ہوتی ہے۔
خواب کی طرح۔
انقلاب کی طرح۔
اسی لیے آغا اسلم اسد کے اس خاکے کا اختتام میں کسی جلسے، نعرے یا تعریفی جملے پر نہیں دیکھتا۔
میرے ذہن میں بار بار ایک ہی جگہ آتی ہے۔
گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن۔
شام۔
اور وہ ٹی روم۔
ریلوے اسٹیشن مجھے ہمیشہ کسی پرانے تھیٹر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ لوگ آتے ہیں، کچھ دیر اپنے اپنے کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں سامان، کسی کے کندھے پر بچہ، کسی کے چہرے پر انتظار، کسی کی آواز میں جلدی۔ پھر سیٹی بجتی ہے، منظر بدل جاتا ہے۔
پلیٹ فارم وہیں رہتا ہے۔
کردار دوسرے آ جاتے ہیں۔
شاید یادداشت کے لیے اس سے بہتر جگہ کوئی نہیں۔
میں اس آخری منظر کو دستاویزی حقیقت نہیں، ایک ادبی بازآفرینی کے طور پر دیکھتا ہوں۔
آغا ٹی روم میں بیٹھے ہیں۔
ممکن ہے پرانی میز نہ ہو۔
کرسیاں بدل چکی ہوں۔
کپ نئے ہوں۔
مگر جگہوں کی یادداشت فرنیچر سے بڑی ہوتی ہے۔
چائے کے دو کپ میز پر ہیں۔
وہ خاموش ہیں۔
میں سوچتا ہوں، اس خاموشی میں کتنے نام ہوں گے۔
محمود احمد قاضی۔
پرویز پال۔
ظفر کاظمی۔
عبدالرحمٰن شمیمی۔
وہ شامیں جب چائے کم پڑ جاتی تھی اور موضوع ختم نہیں ہوتے تھے۔ وہ عمر جب آدمی کو یقین ہوتا ہے کہ تاریخ تھوڑی سی مدد مانگ رہی ہے اور چند کتابیں، کچھ پمفلٹ اور تھوڑا سا حوصلہ دنیا کو درست سمت میں دھکیلنے کے لیے کافی ہوگا۔
جوانی کا سب سے خوب صورت عیب یہی ہے۔
وہ ناممکن کے اعداد و شمار نہیں جانتی۔
مجھے لگتا ہے، اگر کوئی اس لمحے چائے کا ذائقہ پوچھے تو شاید جواب یہی ہو کہ پہلے اس میں بحث زیادہ ہوا کرتی تھی۔
یہ خیال آتے ہی خالی کرسیاں بھرنے لگتی ہیں۔
محمود احمد قاضی آ بیٹھتے ہیں۔
پرویز پال کسی بہتر کل کا خاکہ کھینچ رہے ہیں۔
ظفر کاظمی طنز اچھال رہے ہیں۔
عبدالرحمٰن شمیمی بحث میں شامل ہیں۔
مختار احمد ایک طرف پوری یادداشت سنبھالے بیٹھے ہیں۔
کوئی چائے والے کو آواز دیتا ہے۔
کوئی حوالہ غلط دیتا ہے، دوسرا فوراً درست کرتا ہے۔
اور جوان آغا اپنے فولادی بالوں کے ساتھ ذرا آگے جھک کر کسی کو سمجھا رہے ہیں کہ دنیا جیسی ہے، ویسی رہنا اس کی تقدیر نہیں۔
پلک جھپکتی ہے۔
کرسیاں پھر خالی ہیں۔
یادداشت کا یہی ظلم ہے۔
وہ مرنے والوں کو لمحہ بھر کے لیے واپس لاتی ہے، پھر دوسری مرتبہ چھین لیتی ہے۔
باہر ریل آتی ہے۔ مسافر اترتے ہیں، چڑھتے ہیں۔ کوئی ہاتھ ہلاتا ہے، کوئی دوڑتا ہے، کسی ماں نے بچے کی کلائی مضبوط پکڑی ہوئی ہے۔ گاڑی پھر چل پڑتی ہے۔
مجھے آغا کا سفر یاد آتا ہے۔
گوجرانوالہ۔
دور کے ملک۔
نیروبی۔
محبت۔
دو بیٹیاں۔
چالیس برس۔
پھر واپسی۔
کتنی ریلیں آدمی کو ان منزلوں تک لے جاتی ہیں جو کبھی اس کے نقشے میں نہیں تھیں۔
تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آغا کے اندر اب کئی وطن آباد ہیں۔ ایک پیدائش کا، ایک زبان کا، ایک محبت کا، ایک بچوں کا، ایک یادداشت کا۔ انسان کے اندر ایک سے زیادہ گھر ہوسکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کو مٹا دیں۔