چار بچوں کی موت کے بعد اسکول پھر کھل گیا: لٹل اسکالرز سانحے میں احتساب کہاں تک پہنچا؟

پمز سانحے میں چند گھنٹوں کے اندر اعلیٰ سطحی تحقیقات اور انتظامی کارروائی؛ ڈی جی خان میں چار بچوں کی ہلاکت کے ساڑھے تین ماہ بعد اسکول انتظامیہ نے تدریسی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کردیا، سرکاری پورٹل پر بلاک آر کے ’’دی اسکالرز‘‘ کے نام سے 31 مارچ 2028 تک عبوری برقی اجازت نامہ موجود؛ سوال یہ ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ کہاں ہے، ذمہ دار سرکاری اہلکار کون تھے اور اسکول کو دوبارہ چلانے کے لیے کس بنیاد پر اجازت دی گئی؟
محمد عامر حسینی | تحقیقاتی رپورٹ
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی پمز ہسپتال میں 26 اگست 2026 کو نرسری میں آتش زدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر پاکستان میں ہسپتالوں، اسکولوں اور دوسری عوامی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات اور سرکاری اداروں کی جواب دہی کا سوال سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ پمز سانحے کے چند گھنٹوں کے اندر وفاقی حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کردیں، انتظامی ذمہ داری کے تعین کا عمل شروع ہوا اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لے لیا گیا۔
لیکن پمز سے تقریباً ساڑھے تین ماہ پہلے جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں پیش آنے والا ایک دوسرا سانحہ آج ایک مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ سوال اٹھا رہا ہے۔
سات مئی 2026 کو لٹل اسکالرز اسکول، ڈیرہ غازی خان میں ایک کلاس روم کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ حادثے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے، مقدمۂ اول درج ہوا، اسکول مالک سمیت نجی افراد کے خلاف کارروائی ہوئی اور بعد میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بھی تحقیقات کا نوٹس لیا۔
اس وقت ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات نے معاملے کو محض ایک اتفاقی عمارت حادثہ نہیں رہنے دیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان محمد عثمان خالد سے منسوب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسکول کی باقاعدہ رجسٹریشن 2003 تک تھی اور بعد میں اس کی تجدید کے طریقۂ کار کے بارے میں سوالات موجود تھے۔ مزید اہم بات یہ سامنے آئی کہ نرسری سیکشن رجسٹرڈ ہی نہیں تھا۔ عمارت کی موزونیت اور مضبوطی کا تصدیقی سرٹیفکیٹ کس نے اور کن حالات میں جاری کیا، اس کی تحقیقات کا بھی اعلان ہوا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں تحقیقات کا رخ صرف اسکول مالک، ٹھیکیدار یا ملحقہ عمارت کے مالکان کی طرف نہیں بلکہ محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نگرانی اور قانونی ذمہ داری کی طرف بھی جانا چاہیے تھا۔
24 اگست: اسکول انتظامیہ کا دوبارہ کھولنے کا اعلان
ایسٹرن ٹائمز نیوز کو دستیاب ایک دستاویز نے اب اس معاملے کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔
لٹل اسکالرز/دا اسکالرز کی انتظامیہ کی جانب سے والدین کے نام جاری کردہ نوٹس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام کے بعد اسکول 24 اگست 2026 بروز پیر سے باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کے لیے کھلے گا۔

اسی اطلاع نامے میں مختلف شاخوں کے اوقات بھی دیے گئے ہیں اور والدین سے کہا گیا ہے کہ بچوں کو مقررہ وقت پر اسکول پہنچائیں۔
یعنی سانحے کے تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد اسکول انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر تدریسی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کردیا۔
25 اگست کا دوسرا خط
اس کے اگلے روز، 25 اگست 2026 کی تاریخ سے اسکول انتظامیہ کے نام سے ایک اور تفصیلی خط سامنے آیا۔ اس میں سانحے، سماجی ذرائع ابلاغ پر ہونے والی تنقید اور ادارے کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ دوسری دستاویز اس لیے اہم ہے کہ یہ اس امر کا مزید قرینہ فراہم کرتی ہے کہ ادارہ محض کاغذوں میں موجود نہیں بلکہ اپنی انتظامیہ، والدین اور تدریسی سرگرمیوں کے حوالے سے دوبارہ فعال حیثیت اختیار کررہا ہے۔
سرکاری ’’پیپرس‘‘ ریکارڈ کیا بتاتا ہے؟
اس تحقیق میں سب سے اہم دستاویزی شہادت پنجاب حکومت کے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور معلومات کے نظام، یعنی ’’پیپرس‘‘ کے عوامی ریکارڈ کا عکس ہے۔

اس میں ڈی جی خان کے بلاک آر میں ’’دی اسکالرز‘‘ کے نام سے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اندراج موجود ہیں۔ دونوں کو ہائی اسکول درج کیا گیا ہے اور دونوں کے سامنے 31 مارچ 2028 کی تاریخ دکھائی دیتی ہے۔
لیکن یہاں ایک انتہائی اہم قانونی اور انتظامی فرق موجود ہے۔
ان دونوں اندراجات کے سامنے ’’عبوری برقی اجازت نامہ جاری کردیا گیا‘‘ درج ہے۔
اسی سرکاری نظام میں موجود وضاحت کے مطابق اس عبوری برقی اجازت نامے کا مطلب حتمی اجازت نامہ نہیں ہے۔ پورٹل پر دی گئی وضاحت بتاتی ہے کہ اسکول کے پاس عبوری اجازت نامہ ہے اور ضلعی رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بعد حتمی برقی اجازت نامہ جاری ہوگا۔
لہٰذا دستیاب دستاویز کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسکول کو مکمل اور حتمی اجازت نامہ مل چکا ہے۔ البتہ یہ ضرور سامنے آتا ہے کہ بلاک آر، ڈی جی خان میں ’’دی اسکالرز‘‘ کے نام سے ادارے کا عبوری برقی اجازت نامہ سرکاری نظام میں موجود ہے اور اس کے ساتھ 31 مارچ 2028 کی تاریخ درج ہے۔
یہی سرکاری ریکارڈ کئی نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔
عبوری اجازت نامہ کب اور کس بنیاد پر ملا؟
سب سے بنیادی سوال اس اجازت نامے کے اجرا کی تاریخ کا ہے۔
اگر یہ عبوری اجازت نامہ سات مئی کے سانحے کے بعد جاری کیا گیا تو ضلعی رجسٹریشن اتھارٹی کو واضح کرنا ہوگا کہ چار بچوں کی ہلاکت کے بعد ادارے کی رجسٹریشن یا اجازت نامے کے لیے کون سی نئی دستاویزات پیش کی گئیں؟
کیا عمارت کی موزونیت اور مضبوطی کی نئی رپورٹ تیار ہوئی؟
کیا عمارت کا حفاظتی معائنہ کیا گیا؟
کیا میونسپل کارپوریشن نے عمارت کو بچوں کے استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا؟
کیا محکمہ تعلیم نے جائے وقوعہ اور اسکول کی عمارتوں کا دوبارہ معائنہ کیا؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا سات مئی کے سانحے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کسی سرکاری اتھارٹی نے ادارے کو دوبارہ بچوں کے لیے کھولنے کی تحریری اجازت دی؟
اگر عبوری اجازت نامہ سانحے سے پہلے جاری ہوا تھا تو سوال مختلف لیکن اتنا ہی اہم ہے: چار بچوں کی ہلاکت کے بعد اس اجازت نامے کو معطل کیا گیا یا نہیں؟ اگر معطل کیا گیا تھا تو اس کی بحالی کا حکم کس نے دیا؟ اور اگر معطل ہی نہیں کیا گیا تو کیوں؟
ایک ضروری شناختی سوال
یہاں صحافتی احتیاط بھی لازم ہے۔ پیپرس کے فراہم کردہ عکس میں ادارے کا نام ’’دی اسکالرز‘‘ اور مقام بلاک آر، ڈی جی خان درج ہے، جبکہ مئی کے سانحے کی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں ادارے کے لیے ’’لٹل اسکالرز اسکول‘‘ کا نام بھی استعمال ہوا۔
مقام اور دستیاب دستاویزات دونوں کے درمیان تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہیں، لیکن حتمی طور پر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ پیپرس کا یہی اندراج حادثے والے ادارے یا اسی شاخ کا ہے، مالک یا منتظم کا نام، مکمل پتہ، رجسٹریشن یا درخواست نمبر اور ضلعی رجسٹریشن اتھارٹی کا اصل ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔
جاں بحق بچی کے والد کا اعتراض
معاملے میں ایک اور حساس پہلو متاثرہ خاندان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
سید کاشف رضا کی سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری کردہ ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ ان کی جاں بحق بچی کے نام پر کسی قسم کا تعلیمی وظیفہ پروگرام ان کی اجازت کے بغیر نہیں چلا سکتی۔ پوسٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر بچی کا نام اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا تو معاملہ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
سید کاشف رضا کے متاثرہ بچی کے والد ہونے کی آزاد دستاویزی تصدیق اس رپورٹ میں فی الحال شامل نہیں، اس لیے صحافتی احتیاط کا تقاضا ہے کہ اس بیان کو متاثرہ خاندان کی جانب سے سامنے آنے والا دعویٰ اور اعتراض قرار دیا جائے۔
تاہم یہ بیان اس بڑے سوال کو ضرور نمایاں کرتا ہے کہ سانحے کے متاثرہ خاندان اور اسکول انتظامیہ کے درمیان معاملات ابھی ختم نہیں ہوئے۔
پمز اور ڈی جی خان: احتساب کے دو مختلف منظرنامے؟
یہیں پمز اسلام آباد کا تازہ سانحہ ڈی جی خان کے واقعے کے ساتھ تقابل کا ایک اہم پیمانہ فراہم کرتا ہے۔
پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے چند گھنٹوں کے اندر معاملہ وفاقی حکومت کی اعلیٰ سطح تک پہنچا۔ تحقیقات، آگ سے بچاؤ کے انتظامات، انتظامی ذمہ داری اور متعلقہ حکام کے کردار کو بیک وقت تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا۔
ڈی جی خان میں بھی ابتدائی حکومتی ردعمل غیر معمولی طور پر سست نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر متحرک ہوئے، پولیس نے مقدمۂ اول درج کیا، گرفتاریاں ہوئیں اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بھی مداخلت کی۔
اصل فرق ابتدائی ردعمل کا نہیں، بلکہ اس ردعمل کے انجام کا ہے۔
ساڑھے تین ماہ بعد بھی عوامی سطح پر کئی بنیادی سوالات کے واضح جوابات دستیاب نہیں ہیں۔
چار بچوں کی موت کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کہاں ہے؟
عمارت کی موزونیت اور مضبوطی کا تصدیقی سرٹیفکیٹ کس نے جاری کیا تھا اور اس افسر یا ادارے کے بارے میں تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا؟
اگر نرسری سیکشن غیر رجسٹرڈ تھا تو اسے چلنے دینے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوئی؟
میونسپل کارپوریشن، ضلعی تعلیمی اتھارٹی یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے اہلکار کی غفلت ثابت ہوئی یا نہیں؟
کسی سرکاری افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی، معطلی، اظہارِ وجوہ کا نوٹس یا مقدمہ ہوا؟
اور اب سب سے اہم سوال:
چار بچوں کی ہلاکت کے بعد اسی ادارے کو دوبارہ بچوں کے لیے کھولنے سے پہلے کس اتھارٹی نے حفاظتی منظوری دی؟
یہ محض ایک اسکول کی کہانی نہیں
کسی سانحے کے بعد مقدمۂ اول، گرفتاری اور تحقیقاتی کمیٹی بنانا احتساب کا آغاز ہوسکتا ہے، انجام نہیں۔
اصل احتساب اس وقت ہوتا ہے جب تحقیقات مکمل ہوں، رپورٹ عوام کے سامنے آئے، ذمہ داری نجی افراد کے ساتھ ساتھ ان سرکاری اداروں تک بھی پہنچے جن کا کام شہریوں اور بچوں کی حفاظت یقینی بنانا تھا، اور جس ادارے میں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہوں اسے دوبارہ کھولنے سے پہلے حفاظتی شرائط کی تکمیل شفاف طریقے سے ثابت کی جائے۔
لٹل اسکالرز سانحے میں اب سب سے اہم دستاویز شاید اسکول کا دوبارہ کھولنے کا اطلاع نامہ نہیں، بلکہ وہ سرکاری منظوری نامہ ہے جس کی بنیاد پر بچوں کو دوبارہ اسکول آنے کی اجازت ملی۔
اگر ایسی منظوری موجود ہے تو ضلعی انتظامیہ اور ضلعی تعلیمی اتھارٹی کو اسے عوام کے سامنے لانا چاہیے۔
اور اگر ایسی کوئی منظوری موجود نہیں تو سوال کہیں زیادہ سنگین ہوجاتا ہے:
چار بچوں کی قبروں کے صرف ساڑھے تین ماہ بعد اسکول کے دروازے دوبارہ کس اختیار کے تحت کھلے؟
اب کن سرکاری دستاویزات کا سامنے آنا ضروری ہے؟
اس رپورٹ میں سامنے آنے والے سوالات کی حتمی تصدیق کے لیے ضلعی تعلیمی اتھارٹی ڈی جی خان، دفتر ڈپٹی کمشنر، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ ضلعی رجسٹریشن اتھارٹی کو کم از کم چھ بنیادی دستاویزات عوام کے سامنے لانی چاہییں: سانحے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ، اسکول کی موجودہ رجسٹریشن اور اجازت نامے کا مکمل ریکارڈ، عبوری برقی اجازت نامے کی اصل تاریخِ اجرا، عمارت کی موزونیت اور مضبوطی کا تازہ تصدیقی سرٹیفکیٹ، تازہ حفاظتی معائنے کی رپورٹ اور اسکول کو دوبارہ کھولنے کی سرکاری منظوری یا حکم نامہ۔
جب تک یہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، چار بچوں کی موت کے بعد ہونے والے احتساب اور اسکول کے دوبارہ فعال ہونے کے درمیان موجود خلا ایک جائز عوامی اور صحافتی سوال رہے گا۔