کئی برس پہلے میں ڈی ایچ لارنس کے مضامین پڑھ رہا تھا۔ اس وقت تک میں اس کے ناولوں سے کسی حد تک واقف تھا، مگر اس کی مضمون نگاری میرے لیے ایک الگ دریافت تھی۔ ناول میں وہ کردار، منظر، مکالمہ اور واقعہ سامنے رکھ کر اپنی بات کہتا ہے، لیکن مضمون میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کرسی کھینچ کر قاری کے عین سامنے بیٹھ گیا ہو اور اب کسی سماجی مصلحت، علمی وضع داری یا تہذیبی جھجک کی پروا کیے بغیر گفتگو شروع کر دے گا۔
لارنس کی مضمون نگاری میں ایک مبلغ کی شدت، شاعر کی حسی بصیرت، فلسفی کی بے چینی اور جھگڑالو آدمی کی بے صبری اکٹھی ہوجاتی ہے۔ وہ پہلے ایک دعویٰ کرتا ہے، پھر خود ہی اسے استعارے میں بدل دیتا ہے، اچانک کسی پھول، پرندے، عورت، جانور یا انسانی عضو کو مثال بنا لیتا ہے اور آخر میں قاری کو وہاں لے جاتا ہے جہاں فلسفہ محض خیال نہیں رہتا بلکہ بدن میں محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی نثر میں ذہن، روح اور جسم الگ الگ کمروں میں نہیں رہتے۔ وہ ایک ہی گھر کے رہنے والے ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔
اس کی تحریر سے اختلاف کرنا آسان ہے، بعض مقامات پر ضروری بھی، مگر اسے بے حسی کے ساتھ پڑھنا مشکل ہے۔ وہ قاری کو یا تو اپنی طرف کھینچتا ہے یا غصہ دلاتا ہے۔ کبھی دونوں کام ایک ساتھ کرتا ہے۔
انہی دنوں میں نے محبت کے موضوع پر اس کا ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون کا ایک جملہ میرے ذہن میں اٹک گیا:
“And love is a travelling, a motion, a speed of coming together.”
یعنی محبت ایک سفر، ایک حرکت اور ایک دوسرے کے قریب آنے کی رفتار ہے۔ یہ عبارت لارنس کے مضمون
“Love”
سے منسوب ہے، جو بعد میں اس کے جنس، ادب اور سنسرشپ سے متعلق مضامین کے مجموعوں میں بھی شامل ہوا۔
مجھے اس جملے میں لفظ رفتار نے خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کیا۔ لارنس نے محبت کو کوئی جامد کیفیت نہیں کہا تھا۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ محبت ایک مقدس مقام ہے جہاں دو انسان پہنچ کر ہمیشہ کے لیے سکون سے بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے نزدیک محبت حرکت ہے۔ دو مختلف وجود ایک دوسرے کی طرف بڑھتے ہیں، رک جاتے ہیں، پیچھے ہٹتے ہیں، پھر قریب آتے ہیں۔ ان کی رفتاریں ہمیشہ یکساں نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک شخص تیزی سے آگے بڑھتا ہے اور دوسرا خوف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کبھی جسم قریب ہوتا ہے اور ذہن دور رہتا ہے۔ کبھی زبان انکار کرتی ہے اور بدن اقرار کر رہا ہوتا ہے۔
محبت کی یہی ناہموار حرکت میرے لیے دلچسپ تھی۔
لارنس کے ہاں محبت کوئی پاکیزہ، بے جسم اور آسمانی مادہ نہیں جو انسان کی حیاتیاتی زندگی سے الگ کہیں معلق ہو۔ وہ محبت کو جسم، خواہش، لمس، خوف، انا، تنہائی، کشش اور مزاحمت کے درمیان پیدا ہونے والا ایک زندہ تعلق سمجھتا ہے۔ اس کی تحریروں میں مرد اور عورت صرف ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے نہیں؛ وہ ایک دوسرے کی موجودگی کو اپنی جلد، اعصاب، سانس اور خون میں محسوس کرتے ہیں۔
یہاں لارنس کا تصورِ جسم سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے نزدیک جسم روح کا کم تر خادم یا محض حیوانی ظرف نہیں۔ جسم خود شعور کی ایک صورت ہے۔ انسان ایسی بہت سی باتیں بدن کے ذریعے جانتا ہے جنہیں ذہن بعد میں الفاظ فراہم کرتا ہے۔ اس کی نفسیاتی کتابوں سائیکو اینالیسس اینڈ دی ان کانشس اور فینٹیزیا آف دی ان کانشس میں بار بار یہ تصور سامنے آتا ہے کہ انسانی آگہی صرف دماغ میں نہیں رہتی؛ بدن کے مختلف مراکز اپنی سطح پر جانتے، قبول کرتے، رد کرتے اور تعلق قائم کرتے ہیں۔ لارنس ذہنی شعور کو زندگی کا مفید آلہ ضرور سمجھتا ہے، مگر اسے پوری انسانی حقیقت قرار نہیں دیتا۔
اسی لیے اس کے کردار اکثر اس سے پہلے کسی کشش، نفرت یا خطرے کو محسوس کر لیتے ہیں کہ ان کا ذہن اس احساس کی کوئی معقول وجہ تلاش کرے۔ آنکھ بعد میں دیکھتی ہے؛ بدن پہلے خبر دے دیتا ہے۔
لارنس کے ہاں جنسی خواہش بھی محض جسمانی بھوک نہیں۔ وہ اسے دو زندہ وجودوں کے درمیان توانائی کے بہاؤ، قبول و رد، سپردگی اور خود اختیاری کی کشمکش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا مسئلہ جنسی عمل کی فنی تفصیل فراہم کرنا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ قربت کے ایک لمحے میں انسان کی پوری ہستی کس طرح شامل ہوجاتی ہے۔ آدمی صرف اپنے جسم کے ایک حصے کے ساتھ محبت نہیں کرتا۔ اس کی یادیں، محرومیاں، طبقاتی مقام، خوف، انا، شکستیں اور خواب بھی بستر تک اس کے ساتھ آتے ہیں۔
اسی بنا پر لارنس اس جنسیت سے مطمئن نہیں جو صرف ذہن میں واقع ہوتی ہے۔ فینٹیزیا آف دی ان کانشس میں وہ جدید مرد اور عورت کے تعلق پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اکثر ذہنی ہم آہنگی، دوستی یا سماجی مناسبت کو مکمل محبت سمجھ لیتے ہیں، جبکہ ان کے وجود کے گہرے مراکز ایک دوسرے سے کوئی حقیقی رابطہ قائم نہیں کرتے۔ اس کے نزدیک ایسی رفاقت باہر سے خوش گوار دکھائی دے سکتی ہے، مگر اندر خواہش، تلخی اور نامکمل پن باقی رہتا ہے۔
یہاں لارنس کی بات ہمارے معاشرے پر بھی عجیب طرح صادق آتی ہے۔ ہمارے ہاں تو مرد اور عورت اکثر ذہنی رفاقت کے دعوے تک پہنچنے سے پہلے ہی نکاح نامے، خاندان، ذات، آمدن اور جہیز کی میز پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ دونوں کے جسم اور باطن بعد میں دریافت کرتے ہیں کہ جس شخص کے ساتھ زندگی باندھ دی گئی ہے، اس سے کوئی باطنی یا حسی مناسبت بھی موجود ہے یا نہیں۔
لارنس کے ہاں محبت کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ دو افراد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ محبت کرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو زندہ رہنے دیتے ہیں یا نہیں۔
اس کے مضمون “…Love Was Once a Little Boy” میں محبت کو زندہ چیزوں کے درمیان ایسا تعلق کہا گیا ہے جو انہیں ایک طرح کی ہم آہنگی میں باندھتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہر زندہ وجود اپنی انفرادی سالمیت محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ لارنس اسی کشمکش کی ایک چونکا دینے والی تعبیر پیش کرتا ہے: نفرت محبت کی اصل ضد نہیں؛ محبت کی حقیقی ضد خود میں بند انفرادیت ہے۔
اس تصور کو سادہ لفظوں میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ محبت مجھ سے مطالبہ کرتی ہے کہ میں اپنے بند وجود سے باہر نکلوں، کسی دوسرے کو اپنی دنیا میں داخل ہونے دوں اور خود بھی اس کی اجنبی دنیا میں قدم رکھوں۔ لیکن میری انفرادیت چاہتی ہے کہ میں اپنی سرحدوں، اپنی عادات اور اپنی حاکمیت کو محفوظ رکھوں۔ یوں ہر گہری محبت میں دو مخالف خواہشیں بیک وقت کام کرتی ہیں: دوسرے میں شامل ہونے کی خواہش اور اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی ضرورت۔
لارنس نہ مکمل انضمام کے حق میں ہے، نہ مکمل خود مختاری کے۔ ایک شخص اگر دوسرے کو پوری طرح نگل لے تو تعلق مر جاتا ہے؛ اور اگر دونوں اپنی اپنی اناؤں کے قلعوں میں بند رہیں تو محبت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ اس کے نزدیک محبت ایسی آگ ہے جس کے قائم رہنے کے لیے دونوں وجودوں کو اپنی انفرادیت کا کچھ حصہ نرم کرنا پڑتا ہے، مگر کوئی ایک فریق خود کو مکمل طور پر مٹا دے تو آگ روشن رہنے کے بجائے دھواں دینے لگتی ہے۔
یہ لارنس کا سب سے قیمتی اور شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا تصور ہے۔ اسے عام طور پر محض جنسی آزادی کا پیامبر سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ اس کے ہاں اصل مسئلہ آزادی سے زیادہ تعلق کی صحت ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کیا دو انسان ایک دوسرے کے قریب آکر زیادہ زندہ ہوئے ہیں یا ایک نے دوسرے کو اپنے قبضے، خوف یا ضرورت کا ضمیمہ بنا لیا ہے؟
اس سوال کا تعلق عورت سے بہت گہرا ہے۔
لارنس کی عورت کوئی یک رنگ شخصیت نہیں۔ کبھی وہ اس کے ہاں زندگی کی گہری، تاریک اور زرخیز قوت کی نمائندہ بنتی ہے۔ کبھی وہ مرد کی ذہنی خود فریبی کو توڑنے والی ہستی ہے۔ کبھی وہ خود اپنی خواہش، آزادی اور جسمانی آگہی کی تلاش میں نکلتی ہے۔ دی رین بو، ویمن اِن لو اور لیڈی چیٹرلیز لور کی عورتیں محض مرد کی چاہت کا خاموش موضوع نہیں رہتیں۔ وہ چاہتی ہیں، فیصلہ کرتی ہیں، مزاحمت کرتی ہیں، تعلق کی نوعیت پر سوال اٹھاتی ہیں اور بعض اوقات مرد کے بنائے ہوئے جذباتی یا فکری نظام کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہیں۔
لارنس کی بڑی ادبی جرأت یہ تھی کہ اس نے عورت کی جنسی خواہش کو موجود تسلیم کیا۔ اس کے زمانے کی مہذب نثر عورت کو محبت تو کرنے دیتی تھی، مگر خواہش کرنے کا حق آسانی سے نہیں دیتی تھی۔ عورت انتظار کرسکتی تھی، قربانی دے سکتی تھی، پاک دامنی کی علامت بن سکتی تھی، مگر اپنے بدن کی آواز پہچاننے والی عورت اخلاقی اور ادبی دونوں نظاموں کے لیے خطرہ بن جاتی تھی۔
لارنس نے اسی خطرے کو اپنے ادب میں جگہ دی۔
اس کے ہاں عورت کا جسم محض مردانہ نگاہ کے لطف کا منظر نہیں بلکہ عورت کی اپنی آگہی کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔ وہ اپنے جسم کے ذریعے یہ معلوم کرتی ہے کہ وہ کس زندگی سے محروم ہے، کس رشتے میں اندر سے مر رہی ہے اور کس قربت میں اس کے وجود کے بند دریچے کھلتے ہیں۔ لیڈی چیٹرلیز لور میں جسمانی تعلق محض ناجائز معاشقہ نہیں رہتا؛ وہ صنعت، طبقاتی جمود، مردانہ معذوری، جذباتی بے حسی اور مشینی تہذیب کے خلاف زندہ بدن کی مزاحمت بن جاتا ہے۔
لارنس کے نزدیک جدید صنعتی تہذیب نے صرف جنگلات اور انسانی محنت کو برباد نہیں کیا، اس نے مرد اور عورت کے باہمی تعلق کو بھی مشینی بنا دیا ہے۔ انسان اپنے جسم سے شرمندہ، اپنی خواہش سے خوف زدہ اور اپنی محبت کے بارے میں حد سے زیادہ ذہنی ہوگیا ہے۔ وہ محسوس کرنے کے بجائے اپنے احساس کا تجزیہ کرتا ہے، چھونے کے بجائے لمس کا نظریہ بناتا ہے، اور محبت کرنے کے بجائے یہ طے کرنے لگتا ہے کہ ایک مہذب آدمی کو محبت کس طرح کرنی چاہیے۔
لارنس کے لیے یہ زندہ تجربے کی موت ہے۔
وہ جنس کو بازار، مذاق، طبی اصطلاح اور فحش خفیہ گفتگو کی گرفت سے نکالنا چاہتا تھا۔ اے پروپوز آف لیڈی چیٹرلیز لور میں اس کا مرکزی اصرار یہی ہے کہ مرد اور عورت جنس کے بارے میں پوری، دیانت دار اور صاف ذہنی کیفیت کے ساتھ سوچ سکیں۔ اس کے لیے بے باکی کا مطلب ابتذال نہیں تھا۔ وہ جنسی اعضا اور عمل کو گندی چیزیں سمجھنے کے خلاف تھا، لیکن اس جنسیت کے بھی خلاف تھا جس میں انسان، محبت اور تعلق غائب ہوجائیں اور صرف تحریک باقی رہ جائے۔
یہاں سے فحش نگاری اور لارنس کی جنس نگاری کا فرق بھی سامنے آتا ہے۔ فحش نگاری عموماً جسم کو ایک قابلِ استعمال شے میں بدل دیتی ہے۔ وہاں جسم کی داخلی زندگی، سماجی حالت، خوف، رضامندی، یاد اور اخلاقی پیچیدگی ثانوی ہوجاتی ہے۔ لارنس بدن کو الگ شے نہیں بناتا؛ وہ اسے پوری شخصیت کے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے ہاں لمس کا سوال رضامندی، اعتماد، خوف، طاقت اور وجودی تنہائی سے جڑا رہتا ہے۔
لیکن لارنس کے بارے میں یہاں رک کر ایک ضروری احتیاط بھی کرنی چاہیے۔
عورت اور مرد کے بارے میں اس کے تمام تصورات قابل قبول نہیں۔ اس کے بعض مضامین میں صنفی جوہریت بہت نمایاں ہے۔ وہ مرد اور عورت کو دو مستقل، فطری اور متضاد اصولوں کی طرح پیش کرتا ہے، جیسے مردانگی اور نسائیت کی کوئی ابدی تعریف موجود ہو۔ کہیں کہیں وہ عورت کی آزادی، تعلیم یا سماجی اختیار کو اس بنا پر مشکوک بناتا ہے کہ جدید عورت مرد کا کردار اختیار کر رہی ہے۔ بعض مقامات پر اس کی زبان مردانہ بالادستی اور عورت کی تابع حیثیت کے تصور کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ جدید نسائی تنقید نے بجا طور پر اس کے یہاں موجود ان تضادات، اضطراب اور حیاتیاتی تعین پسندی کو نشان زد کیا ہے۔
اسی لیے لارنس کو نہ عورت کا نجات دہندہ سمجھنا چاہیے، نہ محض عورت دشمن کہہ کر بند الماری میں رکھ دینا چاہیے۔ اس کے اندر دونوں سمتوں کی کشمکش موجود ہے۔ وہ عورت کی خواہش کو زبان دیتا ہے، مگر کبھی اسی عورت کے لیے ایک مقررہ فطری کردار بھی تجویز کرنے لگتا ہے۔ وہ مردانہ اقتدار کی بیمار شکلوں کو بے نقاب کرتا ہے، مگر بعض اوقات کسی دوسری قسم کی مردانہ پیشوائی کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔ وہ محبت میں توازن اور باہمی وجود کی بات کرتا ہے، مگر اس کی اپنی صنفی تمثیلیں ہمیشہ برابر نہیں رہتیں۔
یہ تضاد صرف لارنس کا ذاتی نقص نہیں؛ اس کے عہد کی کشمکش بھی ہے۔ وہ وکٹورین اخلاقیات، جدید صنعت، ابھرتی ہوئی نسائی آزادی، نفسیاتی نظریات اور جنگ سے ٹوٹتی ہوئی یورپی تہذیب کے درمیان کھڑا لکھ رہا تھا۔ وہ پرانے نظام سے بغاوت کرتا ہے، مگر ہر جگہ اس سے پوری طرح آزاد نہیں ہو پاتا۔
مجھے لارنس میں کسی مکمل نظریہ ساز سے زیادہ ایک ایسا ادیب دلچسپ لگا جو اپنے عہد کے بدن میں پھنسی ہوئی گرہیں ہاتھ سے محسوس کر رہا تھا۔ اس کی تشخیص کئی بار درست، علاج بعض اوقات خطرناک اور زبان اکثر غیر معمولی تھی۔
اسے پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کیا اردو کی مضمون نگاری میں عورت، محبت، جسمانی کشش اور جنسی خواہش کو اس طرح سمویا جا سکتا ہے کہ مضمون اپنی فکری نوعیت بھی برقرار رکھے اور افسانے کی حسی زندگی بھی حاصل کر لے؟ کیا ایسی نثر لکھی جا سکتی ہے جس میں عورت اور مرد کے درمیان کشش محسوس ہو، مگر تحریر فحش نگاری میں نہ بدلے؟ جس میں بدن موجود ہو، مگر محض تماشے کی چیز نہ بنے؟ جس میں خواہش کو جرم بنا کر نہ چھپایا جائے، لیکن خواہش کے نام پر دوسرے انسان کو شے بھی نہ بنایا جائے؟
اردو شاعری میں عشق، ہجر، وصال، بدن، لب، آنکھ، زلف، آغوش اور بوسے کی پوری لغت موجود ہے۔ ہماری کلاسیکی شاعری تو بسا اوقات جدید نثر سے کہیں زیادہ جسمانی، تہ دار اور بے باک ہے۔ لیکن نثری مضمون میں داخل ہوتے ہی محبت عجیب طرح سے سنجیدہ، اخلاقی اور بے بدن ہوجاتی ہے۔
ہمارا مضمون نگار عشق پر لکھتے ہوئے یا تو صوفی بن جاتا ہے یا ماہرِ نفسیات۔ محبوب سامنے آئے تو اسے فوراً حسنِ ازلی کی علامت بنادیا جاتا ہے۔ عورت کا ہاتھ چھونے سے پہلے مصنف کائنات، روح اور ابدیت پر دو صفحات لکھ دیتا ہے۔ اگر اتفاق سے دو کردار ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو کھڑکی کے باہر بارش شروع ہوجاتی ہے، چراغ بجھ جاتا ہے، اگلی سطر میں کئی برس گزر جاتے ہیں۔
یوں محبت موجود رہتی ہے، مگر محبت کرنے والے انسان غائب ہوجاتے ہیں۔
میرے ایک فکشن نگار دوست اسے نیم دروں، نیم بروں کی نثر کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو فکشن اور نان فکشن میں محبت کا ذکر اکثر ایسا ہوتا ہے جیسے مصنف نے ایک پاؤں کمرے کے اندر اور دوسرا باہر رکھا ہوا ہو۔ وہ داخل ہونا چاہتا ہے، مگر ڈرتا ہے کہ لوگ اسے اندر دیکھ لیں گے۔ وہ باہر رہنا چاہتا ہے، مگر اندر سے آنے والی حرارت بھی چھوڑ نہیں پاتا۔
میرے دوست کہتے ہیں کہ وہ مرد اور عورت کے باب میں ڈی ایچ لارنس جیسی نثر پڑھنے کو ترس گئے ہیں؛ ایسی نثر جس میں جسم کو گناہ اور روح کو بہانہ نہ بنایا جائے۔ جس میں عورت خواہش کا محض موضوع نہ ہو بلکہ اپنی خواہش کی فاعل بھی ہو۔ جس میں مرد کی کشش کو رومانوی بہادری بنا کر پیش نہ کیا جائے بلکہ اس کی کمزوری، خود غرضی، خوف اور اخلاقی تذبذب بھی دکھائی دے۔
یہ باتیں سن کر میں نے نیم افسانوی عشقیہ مضمون لکھنے کا تجربہ شروع کیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ میرے پاس اس موضوع کے حوالے سے اپنے کوئی گہرے تجربات یا غیر معمولی مشاہدات نہیں تھے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں خواہش اور ہوس سے خالی تھا۔ ایسی پاکیزگی کا دعویٰ کرنا خود اپنے خلاف جھوٹی گواہی دینے کے برابر ہوگا۔ خواہش بہرحال موجود تھی، تخیل بھی خاصا سرگرم تھا، مگر عملی صورت حال وہی تھی جسے پرانی حکایت میں انگور کھٹے ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
البتہ میری حالت اور لومڑی کی حالت میں ایک فرق تھا۔
لومڑی چند چھلانگیں لگانے کے بعد انگوروں کو کھٹا قرار دے کر جنگل میں چلی گئی تھی۔ میں انگوروں کے نیچے بیٹھ گیا اور ان پر مضمون لکھنے لگا۔
چونکہ تجربہ محدود تھا، اس لیے تخیل کو کام پر لگانا پڑا۔ میں نے سوچا کہ ایسے کردار بنائے جائیں جن کے درمیان کشش ہو، لیکن کشش سیدھی لکیر میں نہ چلے۔ ان کے درمیان سماجی رکاوٹ، خوف، اخلاقی جھجک اور اپنی خواہش سے پیدا ہونے والی شرمندگی بھی موجود ہو۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں، لیکن کسی فلمی اعلان یا جسمانی فتوحات کے بغیر۔ ان کے ہاتھ، آنکھ، سانس، خاموشی اور فاصلے وہ بات کہیں جسے مصنف براہ راست کہتے ہوئے خود شرما رہا ہو۔
اس تجربے کے نتیجے میں تین مضمون لکھے گئے۔
تین کے بعد میری ہمت جواب دے گئی۔
شاید تخیل کے پاس بھی خون کی ایک محدود مقدار ہوتی ہے۔ اسے بار بار خواہش، بدن اور قربت کے علاقے میں بھیجا جائے تو وہ ہانپنے لگتا ہے۔ ممکن ہے اصل مسئلہ تخیل کی کمزوری نہ ہو، مصنف کا داخلی محتسب ہو جو ہر قدرے بے باک جملے کے بعد سیٹی بجانے لگتا ہے۔
میں نے وہ مضمون دوسرے نامکمل مسودوں کے ساتھ ایک فولڈر میں رکھ دیے۔ وقت گزرتا گیا۔ کمپیوٹر بدلے، فائلیں ایک ڈرائیو سے دوسری ڈرائیو میں منتقل ہوئیں اور آخرکار وہ تحریریں سابق کمپیوٹر کے محفوظ شدہ ڈیٹا کے ساتھ ایک الگ ہارڈ ڈسک میں دفن ہوگئیں۔
گزشتہ دنوں مجھے اپنی بعض پرانی تحریروں کی تلاش تھی۔ میں نے وہ ہارڈ ڈسک نکالی اور فولڈروں کے اندر موجود فولڈر کھولنے لگا۔ پرانے ڈیٹا کی تلاش بھی عجیب تجربہ ہے۔ آدمی صرف فائلیں نہیں ڈھونڈتا، اپنے گزرے ہوئے ذہن کے کمروں میں داخل ہوتا ہے۔ کہیں ادھورا مضمون پڑا ہوتا ہے، کہیں ایسے منصوبے کا خاکہ جس کے بارے میں اب یاد بھی نہیں رہتا کہ اسے شروع کیوں کیا تھا۔ کہیں ایسا جملہ ملتا ہے جس پر آج بھی رشک آتا ہے، اور کہیں ایسی تحریر سامنے آتی ہے جسے پڑھ کر آدمی چاہتا ہے کہ اس کا مصنف کوئی اور نکل آئے۔
اسی تلاش میں وہ تین عشقیہ مضمون سامنے آگئے۔
میں نے پہلے مضمون کو منتخب کیا اور اس کی تدوین شروع کردی۔ اس وقت پس منظر میں لکھویندر وڈالی کی آواز میں گیت “اساں تینوں رب منیا” چل رہا تھا۔ گیت کے ایک مصرعے نے تحریر کے اندر موجود موسموں کو جیسے نام دے دیا۔ میں نے اسے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ عنوان بنا لیا:
توں ای دھپ، توں ای میری برساتاں
یہ عنوان مجھے اس لیے موزوں لگا کہ محبت ہمیشہ سایہ اور سکون نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ دھوپ کی طرح انسان کو جلاتی اور بے نقاب کرتی ہے۔ وہ ہماری تہذیبی وضع داری، خود فریبی اور محفوظ زندگی کی اوپری جلد اتار دیتی ہے۔ پھر کبھی وہی شخص، جو ہماری بے قراری کا سبب بنا تھا، بارش کی طرح اسی تپش پر اترتا ہے۔
لیکن دھوپ اور بارش دونوں ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتیں۔ دھوپ زندگی اگاتی بھی ہے اور زمین جلا بھی دیتی ہے۔ بارش پیاس بجھاتی بھی ہے اور سیلاب بھی لاسکتی ہے۔ محبت بھی اسی دوہری فطرت کی حامل ہے۔ وہ انسان کو اپنے بند وجود سے نکال کر زیادہ زندہ کرسکتی ہے، مگر ملکیت، خوف اور انحصار میں بدل جائے تو اسی شخص کو اندر سے ویران بھی کرسکتی ہے۔
یہ نکتہ پھر مجھے لارنس کی طرف لے گیا۔ اس کے نزدیک دو انسانوں کا ملاپ اس وقت تخلیقی ہے جب دونوں ایک دوسرے سے توانائی حاصل کریں، مگر کسی ایک کی زندگی دوسرے میں جذب ہوکر ختم نہ ہوجائے۔ محبت نہ مکمل قبضہ ہے، نہ مکمل خود سپردگی۔ یہ ایسی قربت ہے جس میں فاصلہ بھی اپنی معنویت محفوظ رکھتا ہے۔
مضمون کی تدوین شروع کی تو مجھے واقعی دانتوں پسینہ آگیا۔
جہاں قلم کو ذرا بے باک کرنے کی کوشش کرتا، خود اپنے آپ سے شرما جاتا۔ کردار ایک دوسرے کے قریب آتے تو میں ان کے درمیان میز رکھ دیتا۔ میز ہٹاتا تو کھڑکی کھول دیتا۔ کھڑکی بند کرتا تو باہر نیم کا درخت اگ آتا۔ ہاتھ ہاتھ کے قریب پہنچتے تو فلسفہ شروع ہوجاتا۔ جسم کی حرارت نمایاں ہوتی تو بارش برسنے لگتی۔
مجھے محسوس ہوا کہ میں بھی اسی نیم دروں، نیم بروں روایت کا قیدی ہوں جس کا میرا دوست شکوہ کرتا تھا۔
یہ صرف معاشرے یا قاری کا خوف نہیں تھا۔ اصل رکاوٹ میرے اندر بیٹھی ہوئی اخلاقی پولیس تھی۔ باہر کا محتسب شاید تحریر شائع ہونے کے بعد سوال اٹھاتا؛ اندر کا محتسب ہر جملہ لکھے جانے سے پہلے ہی روک لیتا تھا۔ وہ پوچھتا تھا: لوگ اسے تمھارا ذاتی تجربہ سمجھیں گے؟ کیا کوئی کردار کسی حقیقی عورت سے منسوب کیا جائے گا؟ کیا خواہش کا بیان مصنف کا اعتراف سمجھا جائے گا؟ کیا یہ ادب رہے گا یا فحش نگاری بن جائے گا؟
ان سوالوں سے گزرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ خواہش کے بارے میں لکھنے کی سب سے بڑی مشکل الفاظ کی کمی نہیں، اپنے آپ سے سامنا ہے۔
تخیلی قربت بھی کبھی کبھی اعتراف محسوس ہونے لگتی ہے۔ مصنف جانتا ہے کہ کردار اس نے ایجاد کیے ہیں، واقعہ بھی خیالی ہے، مگر جس جھجک، خواہش یا خوف سے وہ انہیں بناتا ہے، اس کا مواد کہیں نہ کہیں اسی کے اندر سے آتا ہے۔ تخیل خارج سے مکمل انسان درآمد نہیں کرسکتا۔ وہ ہمارے اندر موجود ٹکڑوں، محرومیوں، امکانات اور دبی ہوئی آوازوں سے اپنے کردار بناتا ہے۔
اس لیے جب قلم کسی عورت کی گردن پر ٹھہری ہوئی نمی، کسی ہاتھ کی ہچکچاہٹ یا دو جسموں کے درمیان کم ہوتے ہوئے فاصلے کو بیان کرتا ہے تو مصنف خود بھی تحریر کے کمرے میں موجود ہوتا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے پیچھے چھپ سکتا ہے، مگر مکمل طور پر غائب نہیں ہوسکتا۔
یہیں لارنس کی اہمیت پھر سامنے آتی ہے۔ اس نے نثر کو یہ حوصلہ دیا کہ انسان اپنے زندہ جسم سے فرار اختیار نہ کرے۔ ہاتھ کو ہاتھ، جلد کو جلد اور خواہش کو خواہش کہا جائے۔ مگر اس کا بہتر سبق محض بے باکی نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ بدن کو پوری انسانی پیچیدگی کے ساتھ لکھا جائے۔
اردو نثر کو بھی یہی فرق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بے باکی کا مطلب یہ نہیں کہ جنسی عمل کی ہر حرکت کو تفصیل سے لکھ دیا جائے۔ ابہام کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دو انسانوں کے درمیان جو کچھ ہوا اسے موسم، پردے اور استعارے کے پیچھے اس قدر چھپا دیا جائے کہ قاری کو صرف مصنف کی گھبراہٹ دکھائی دے۔ اچھی عشقیہ نثر وہ ہے جس میں عمل سمجھ میں آئے، احساس نمایاں ہو، خواہش کی شدت بھی باقی رہے، لیکن انسان جسمانی اعضا کے مجموعے میں تبدیل نہ ہو۔
خصوصاً عورت کو لکھتے ہوئے اس احتیاط کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ اگر عورت کی خواہش کو زبان دینا مقصود ہے تو اسے مردانہ تخیل کی سہولت کے مطابق خواہش مند نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی اپنی سماجی صورت حال، رضامندی، خوف، ماضی، خطرات، اخلاقی کشمکش اور اقتدار سے نسبت بھی تحریر میں موجود ہونی چاہیے۔ عورت صرف اس لیے آزاد کردار نہیں بن جاتی کہ مصنف نے اسے جنسی خواہش دے دی۔ اصل آزادی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنی خواہش کے معنی، حدود اور نتائج کے تعین میں بھی شریک ہو۔
اسی مقام پر ہمیں لارنس سے سیکھنے کے ساتھ اس سے اختلاف بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس نے عورت کے بدن اور خواہش کو ادب میں نئی شدت کے ساتھ جگہ دی، مگر ہمیں اس سے آگے جاکر عورت کی سماجی اور سیاسی خود اختیاری کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ اس نے مرد اور عورت کے درمیان زندہ قطبیت تلاش کی؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہر مرد اور ہر عورت کسی ایک ابدی صنفی نقشے کے مطابق نہیں بنتے۔ انسانی خواہش، شناخت اور تعلق لارنس کے بعض دوئی پر مبنی تصورات سے کہیں زیادہ متنوع ہیں۔
اس کے باوجود اس کا بنیادی سوال آج بھی زندہ ہے:
کیا ہماری محبت ہمیں زیادہ زندہ بناتی ہے؟
یہ سوال جنس سے بڑا ہے، مگر جنس کو خارج کرکے اس کا جواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ محبت اگر بدن سے نفرت سکھاتی ہے، خواہش کو مستقل جرم بناتی ہے یا ایک انسان کو دوسرے کے سامنے بے اختیار کرتی ہے تو وہ کتنی ہی مقدس زبان استعمال کرے، اندر سے بیمار ہوسکتی ہے۔ اسی طرح محض جسمانی آزادی بھی اس وقت تک انسانی آزادی نہیں بنتی جب تک اس میں رضامندی، باہمی احترام، ذمہ داری اور دوسرے وجود کی سالمیت شامل نہ ہو۔
توں ای دھپ، توں ای میری برساتاں اسی کشمکش سے پیدا ہونے والا مضمون ہے۔
اس میں جتنی بے باکی نظر آتی ہے، اس سے زیادہ جھجک اس کے حذف شدہ جملوں میں موجود ہے۔ جہاں کردار ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، وہاں مصنف کئی مرتبہ پیچھے ہٹا ہے۔ جہاں ہاتھ نے ہاتھ کو چھوا ہے، وہاں قلم نے پہلے کئی چکر لگائے ہیں۔ جہاں بدن کا ذکر آیا ہے، زبان نے بیک وقت دو معرکے لڑے ہیں: اسے فحش نگاری سے بھی بچانا تھا اور بے جسم پاکیزگی کی مصنوعی روایت سے بھی۔
میں نہیں جانتا کہ یہ تجربہ کہاں تک کامیاب ہوا۔ ممکن ہے یہ اب بھی دروازے کے اندر مکمل طور پر داخل نہ ہوسکا ہو۔ ممکن ہے اس کا ایک پاؤں ابھی باہر ہی ہو۔ لیکن میرے لیے یہ اس سمت میں اٹھایا گیا ضروری قدم ہے جہاں اردو کا عشقیہ مضمون صرف محبت کے نظریے پر گفتگو نہ کرے بلکہ محبت کی حرارت بھی اپنے جملوں میں محسوس کرا سکے۔
ہمیں ایسی نثر کی ضرورت ہے جس میں عورت دیوی، معشوقہ، فتنہ، مظلومہ یا ماں کے مقررہ خانوں سے باہر نکل کر مکمل انسان بن سکے۔ ایسا انسان جو محبت کرتا ہے، خواہش رکھتا ہے، کبھی فائدہ اٹھاتا ہے، کبھی استعمال ہوتا ہے، کبھی انکار کرتا ہے، کبھی خود اپنی چاہت سے خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مرد کو بھی عاشق، فاتح یا شکاری کے خانے سے نکال کر ایسا وجود لکھنا ہوگا جو کمزور، جھجکتا ہوا، خود غرض، حساس اور اپنے جسم سے الجھا ہوا ہوسکتا ہے۔
شاید تب اردو نثر میں محبت کا ذکر نہ نیم دروں رہے گا، نہ نیم بروں۔
وہ پوری طرح اندر بھی نہیں ہوگی، کیونکہ مکمل انضمام محبت کی موت ہے۔ وہ مکمل طور پر باہر بھی نہیں ہوگی، کیونکہ کامل فاصلہ تعلق کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتا۔ وہ اسی دہلیز پر زندہ رہے گی جہاں دو الگ انسان ایک دوسرے کی طرف بڑھتے ہیں، اپنی رفتاروں، خوفوں اور خواہشوں کے ساتھ۔
وہیں کہیں دھوپ بھی ہوگی۔
وہیں کہیں بارش بھی۔