وہ ہمیشہ دوپہر کے وقت آتی تھی۔
ایسے وقت جب گلیاں اپنے ہی سناٹے میں جل رہی ہوتیں، دیواروں سے چونے کی بو اٹھتی، نیم کے پتے دھوپ کی تپش سے اپنی سبزی بھولنے لگتے اور صحن کے نل سے نکلنے والا پانی بھی ہاتھ پر پڑتے ہی نیم گرم محسوس ہوتا۔ میں اکثر کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا رہتا اور باہر پھیلے ہوئے سفید، بے رحم اجالے کو دیکھتا۔ اس اجالے میں کوئی شے چھپ نہیں سکتی تھی۔ نہ درخت کا زخم، نہ دیوار کی دراڑ، نہ آدمی کی تنہائی۔
اور پھر وہ آتی۔
دروازہ کھلنے کی آواز بہت معمولی ہوتی، مگر میرے اندر جیسے کوئی بند زمین پھٹ جاتی۔ میں اس کے قدموں کی چاپ کو پہچانتا تھا۔ دنیا کے تمام قدموں میں سے وہی ایک چاپ تھی جسے سننے کے لیے مجھے کانوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اس کی موجودگی پہلے میرے جسم کو معلوم ہوتی، پھر ذہن کو۔
وہ آ کر صحن کے کنارے کھڑی ہوجاتی۔ اس کے چہرے پر دھوپ کی زردی ہوتی اور کنپٹیوں کے پاس پسینے کی باریک نمی۔ وہ دوپٹے کے پلو سے پیشانی پونچھتی اور کہتی:
“اینی دھپ وچ بندہ مر وی سکدا اے۔”
میں اسے دیکھتے ہوئے سوچتا، دھوپ باہر کہاں ہے؟ دھوپ تو یہ عورت ہے جو میرے گھر میں داخل ہوئی ہے اور جس کے آنے سے میرے اندر کی ہر چھپی ہوئی چیز روشن ہونے لگی ہے۔
مگر میں یہ بات کبھی کہہ نہیں پاتا تھا۔
محبت کی سب سے گہری باتیں زبان پر آتے ہی چھوٹی ہوجاتی ہیں۔ زبان انہیں سماج کے قابل بناتی ہے، جبکہ محبت اپنی اصل میں سماج کے خلاف ایک خاموش بغاوت ہوتی ہے۔ وہ کسی ضابطے کو نہیں مانتی۔ وہ نام، عمر، رشتے اور مصلحت کے کاغذ پھاڑ کر آدمی کو اس کے سب سے قدیم وجود کے سامنے کھڑا کردیتی ہے۔
اس روز بھی وہ آئی تو میں نے میز پر پڑا ہوا اخبار تہہ کردیا۔ ملک میں کہیں بارشوں کی خبر تھی، کہیں خشک سالی کی، کہیں لوگوں کے جلوس تھے، کہیں لاشیں، کہیں اسمبلیوں میں تقریریں۔ مگر اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی تمام خبریں بے معنی ہوگئیں۔ مجھے لگا، دنیا کی اصل خبر یہی ہے کہ ایک عورت ایک مرد کے سامنے بیٹھی ہے اور دونوں وہ بات نہیں کہہ رہے جو ان کے درمیان مدت سے زندہ ہے۔
وہ کرسی پر نہیں بیٹھی۔ فرش پر بچھی دری کے کنارے بیٹھ گئی اور اپنی پشت دیوار سے لگا لی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے۔ ایڑیوں پر مٹی کی ہلکی سی تہہ تھی، جیسے وہ کسی دور کے کھیت سے چل کر آئی ہو۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوب صورتی چہرے میں کم اور آدمی کی بے خبری میں زیادہ ہوتی ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے پاؤں، اس کے ہاتھ، اس کی گردن پر ٹھہرا ہوا پسینہ اور سانس لیتے ہوئے اس کے سینے کی مدھم حرکت کس طرح میرے اندر کی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔
“تسی مینوں اینج کیوں ویکھدے او؟” اس نے اچانک پوچھا۔
میں نے نظریں ہٹا لیں۔
“کیویں؟”
“جیویں میں کوئی ہور شے آں۔”
وہ ٹھیک کہتی تھی۔ وہ میرے لیے صرف عورت نہیں رہی تھی۔ وہ کبھی دھوپ بن جاتی تھی جو میرے وجود کے منجمد حصوں کو پگھلاتی، کبھی بارش جو انہی حصوں پر برس کر انہیں ٹھنڈا کردیتی۔ میں اس سے محفوظ بھی ہونا چاہتا تھا اور اسی میں فنا بھی۔
میں نے کہا، “توں ہور شے ای ایں۔”
وہ ہنسی نہیں۔ اس نے صرف مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسا سوال تھا جو شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ پھر وہ آہستہ سے بولی:
“میں کی آں؟”
یہ وہ لمحہ تھا جب آدمی جھوٹ بول کر اپنی زندگی بچا سکتا ہے یا سچ بول کر اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔
میں اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ ہمارے درمیان اب صرف اتنا فاصلہ تھا جتنا دو سانسوں کے بیچ ہوتا ہے۔ باہر دھوپ اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ دور کہیں کسی پرندے نے ایک خشک، بے چین آواز نکالی اور خاموش ہوگیا۔
“توں ای دھپ ایں،” میں نے کہا، “تے توں ای میری برساتاں۔”
اس نے پلکیں جھکا لیں۔ اس کے ہونٹوں پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔ اس کا چہرہ اچانک اداس ہوگیا، جیسے محبت کا اعتراف خوشی نہیں بلکہ کسی پرانے دکھ کی تصدیق ہو۔
“دھپ ساڑ دی اے،” اس نے کہا۔
“برسات بچا وی لیندی اے۔”
“پر جے اوہی دھپ، اوہی برسات ہووے؟”
میں خاموش ہوگیا۔
یہی تو ہمارا المیہ تھا۔ وہ میری پیاس بھی تھی اور پانی بھی۔ اسے حاصل کرنے کی خواہش مجھے زندہ رکھتی تھی، مگر اسی خواہش کے پورا ہوجانے کا تصور مجھے خوف زدہ کردیتا تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ دنیا محبت کو اس کی پاکیزگی سے نہیں، اس کے تعلقات کے نام سے پرکھتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے: تم دونوں کا رشتہ کیا ہے؟ وہ یہ نہیں پوچھتی کہ تم دونوں کے اندر کیا بدل گیا ہے۔
وہ مجھ سے کئی برس چھوٹی تھی، مگر بعض لمحوں میں اس کی خاموشی میری تمام عمر سے زیادہ پرانی معلوم ہوتی۔ اس کی منگنی کہیں اور ہوچکی تھی۔ گھر والے تاریخ طے کرنے میں مصروف تھے۔ اس کے لیے کپڑے خریدے جا رہے تھے، زیور بن رہا تھا، جہیز کی فہرستیں لکھی جا رہی تھیں۔ ایک پورا خاندان اس کے مستقبل کو الماریوں، برتنوں، بستر کی چادروں اور رشتوں کی مصلحتوں میں ترتیب دے رہا تھا۔ کسی نے اس سے نہیں پوچھا تھا کہ اس کے جسم کے اندر کون سا موسم چل رہا ہے۔
شاید کسی نے کبھی کسی عورت سے یہ سوال نہیں پوچھا۔
عورتوں سے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کون سا رنگ پسند ہے، کس طرح کا جوڑا پہنیں گی، کتنے بچے چاہتی ہیں۔ مگر یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کس لمس سے زندہ ہوتی ہیں، کس آواز پر ان کا خون اپنی رفتار بدلتا ہے، کس آدمی کے قریب بیٹھ کر انہیں پہلی بار اپنے وجود کی مکمل حرارت محسوس ہوتی ہے۔
اس نے اپنا ہاتھ دری پر رکھا۔ میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے صرف چند انچ دور تھا۔ یہ معمولی فاصلہ ہمارے سماج کی پوری اخلاقیات سے زیادہ طاقتور تھا۔ میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا سکتا تھا، مگر محبت کبھی صرف آگے بڑھنے کا نام نہیں۔ بعض اوقات وہ خود کو روکنے کی اذیت میں زیادہ واضح ہوتی ہے۔
وہ شاید میری ہچکچاہٹ سمجھ گئی۔ اس نے اپنی چھوٹی انگلی میری انگلی سے چھو دی۔
بس اتنا۔
مگر اس ایک لمس میں میرے اندر برسوں سے بند موسم کھل گئے۔ میرے بدن میں حرارت کی ایک لہر اٹھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی سانس ذرا گہری ہوگئی تھی۔ وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ سامنے دیوار کی ایک دراڑ کو دیکھ رہی تھی، جیسے اس لمحے کی ذمہ داری قبول کرنے سے ڈر رہی ہو۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس کے ہاتھ میں حیرت انگیز طور پر ٹھنڈک تھی۔ باہر کی دھوپ کے باوجود اس کی ہتھیلی میں وہی نمی تھی جو پہلی بارش سے پہلے زمین کے اندر جمع ہوجاتی ہے۔ اس نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ صرف آنکھیں بند کرلیں۔
اس لمحے مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ خواہش بدن سے شروع ضرور ہوتی ہے مگر بدن پر ختم نہیں ہوتی۔ بدن تو ایک دروازہ ہے۔ اس کے پار خوف، یاد، محرومی، حیوانی قوت، معصومیت اور وہ قدیم تنہائی موجود ہوتی ہے جسے ہر انسان اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔
میں نے اس کا ہاتھ اپنے چہرے کے قریب کیا۔ اس کی انگلیوں سے مٹی، پسینے اور کسی معمولی سے صابن کی ملی جلی خوشبو آرہی تھی۔ وہ کسی بازار کے عطر کی خوشبو نہیں تھی۔ وہ زندہ جسم کی خوشبو تھی۔ سچی، بے ساختہ اور قدرے شرمناک۔ ایسی خوشبو جسے تہذیب چھپانا چاہتی ہے کیونکہ وہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ صرف عقل نہیں، گوشت اور خون بھی ہے۔
اس نے آنکھیں کھولیں۔
“مینوں ڈر لگدا اے،” وہ بولی۔
“میتھوں؟”
“نئیں۔ اپنے آپ توں۔”
اس کا جواب میرے اندر اتر گیا۔ ہم دوسروں سے کم اور اپنے اندر اٹھنے والی قوتوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہماری خواہش وہ پردہ نہ ہٹا دے جس کے پیچھے ہم نے اپنی شرافت، اطاعت اور معمول کی زندگی محفوظ کر رکھی ہے۔
میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
وہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ پھر اس نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا۔ اس حرکت میں نہ کوئی ڈراما تھا، نہ دعوت۔ صرف تھکن تھی۔ ایک عورت کی تھکن جو اپنی پوری زندگی دوسروں کی مرضی کے مطابق کھڑی رہی ہو اور پہلی بار کسی کے سامنے بیٹھ کر اپنے وزن کو آزاد چھوڑ رہی ہو۔
میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ نہیں پھیرا۔ میں نے اسے سینے سے نہیں لگایا۔ میں صرف بیٹھا رہا، اس کے سر کا بوجھ اپنے کندھے پر محسوس کرتا ہوا۔ یہ بوجھ ہلکا تھا، مگر اس کے اندر ایک پوری زندگی تھی۔
باہر اچانک ہوا چلی۔ نیم کے پتے ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ آسمان پر جانے کہاں سے بادلوں کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا آگیا۔ دھوپ کی شدت ذرا کم ہوئی۔ پھر صحن میں پانی کے دو تین قطرے گرے۔ زمین سے مٹی کی خوشبو اٹھی۔
وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔
“بارش؟”
ہم دونوں دروازے تک گئے۔ آسمان ابھی مکمل ابر آلود نہیں تھا۔ دھوپ موجود تھی اور اسی دھوپ میں بارش کے موٹے موٹے قطرے گر رہے تھے۔ صحن کی گرم اینٹوں پر پانی پڑتا تو ایک لمحے کے لیے بھاپ سی اٹھتی۔
وہ صحن میں چلی گئی۔
میں نے اسے روکنا چاہا مگر نہیں روکا۔ وہ بارش میں کھڑی ہوگئی۔ قطرے اس کے چہرے، بالوں اور لباس پر پڑنے لگے۔ اس نے آنکھیں بند کرکے چہرہ آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اس لمحے وہ کسی کی منگیتر، کسی کی بیٹی یا کسی سماجی منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔ وہ صرف ایک زندہ عورت تھی۔ اپنی جلد، اپنی سانس اور اپنی خواہش کے ساتھ۔
میں دروازے کے نیچے کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور ہاتھ بڑھا دیا۔
“آؤ۔”
میں صحن میں اتر آیا۔
بارش زیادہ نہیں تھی، مگر اس کی ہر بوند گرم جلد پر پڑتے ہی نمایاں محسوس ہوتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ اس کے بال گیلے ہوکر رخساروں سے چپک گئے تھے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے چہرے سے پانی کی ایک لکیر صاف کی۔ اس کی انگلی میرے ہونٹ کے کنارے سے گزری تو ہم دونوں کے درمیان ایک ایسی خاموشی آگئی جسے کوئی زبان برداشت نہیں کرسکتی۔
میں نے اسے اپنی طرف کھینچا نہیں۔ وہ خود ایک قدم آگے آئی۔
اس کا ماتھا میرے سینے سے لگا۔ میرے ہاتھ اس کے شانوں پر ٹھہر گئے۔ اس کے جسم کی حرارت بارش کے باوجود میرے بدن تک پہنچ رہی تھی۔ اس قربت میں شہوت بھی تھی، مگر شہوت اپنی ننگی، بھوکی صورت میں نہیں۔ وہ زندگی کی وہ قوت تھی جو دو الگ وجودوں کو ایک لمحے کے لیے ان کی تنہائی سے باہر نکالنا چاہتی ہے۔
ہم دیر تک اسی طرح کھڑے رہے۔
نہ کوئی بوسہ، نہ کوئی وعدہ۔
صرف دو جسم جو ایک دوسرے کی موجودگی سے واقف تھے۔ پوری طرح واقف۔ اتنے قریب کہ ایک کی دھڑکن دوسرے کے بدن میں سنی جاسکتی تھی، اور اتنے دور کہ دونوں جانتے تھے، یہ لمحہ ان کی زندگی نہیں بن سکے گا۔
بارش جلد ہی رک گئی۔
بادل کا ٹکڑا گزر گیا اور دھوپ پھر نکل آئی۔ صحن کی اینٹیں بھیگ کر سرخ ہوگئی تھیں۔ نیم کے پتے چمک رہے تھے۔ اس نے مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اپنا دوپٹا درست کیا۔ اچانک وہ پھر وہی عورت بن گئی جسے گھر واپس جانا تھا، جس کی شادی ہونے والی تھی، جسے اپنے چہرے سے بارش اور اپنے دل سے ایک ممنوع لمحے کے نشانات مٹانے تھے۔
دروازے پر پہنچ کر وہ رکی۔
“اج توں بعد میں شاید نہ آواں۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا، مگر میرے اندر اعتراض کی کوئی آواز پیدا نہ ہوئی۔ بعض فیصلے آدمی زبان سے پہلے جسم میں قبول کرلیتا ہے۔
“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“کیونکہ میں دھپ وی آں۔”
“تے میریاں برساتاں؟”
اس کی آنکھیں بھر آئیں، مگر آنسو نہیں گرے۔
“برسات ہمیشہ رہن لئی نئیں آندی۔ زمین نوں یاد کراؤن آندی اے کہ اوہ ہن وی زندہ اے۔”
وہ چلی گئی۔
اس کے بعد کئی برس گزر گئے۔ میں نے موسموں کو بدلتے دیکھا۔ سخت گرمیاں آئیں، لمبی بارشیں ہوئیں، شہر کی گلیاں تبدیل ہوگئیں، نیم کا درخت کاٹ دیا گیا، صحن کی اینٹوں پر سنگ مرمر لگ گیا۔ لوگ آئے، بیٹھے، چلے گئے۔ زندگی نے اپنے معمولی مگر مضبوط ہاتھوں سے ہر غیر معمولی بات کو ڈھانپ دیا۔
مگر آج بھی جب دھوپ میں اچانک بارش شروع ہوتی ہے، میں اس دروازے کی طرف دیکھتا ہوں۔
مجھے لگتا ہے، وہ ابھی اندر آئے گی۔ پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہے گی کہ اتنی دھوپ میں آدمی مر بھی سکتا ہے۔
اور میں اس بار اسے فوراً بتادوں گا کہ آدمی دھوپ سے نہیں مرتا۔
وہ اس وقت مرتا ہے جب اس کی زندگی سے وہ ہستی چلی جائے جو اسے جلاتی بھی ہو اور اسی جلن پر بارش بن کر برستی بھی ہو۔
توں ای دھپ۔
توں ای میری برساتاں۔
اس متن کو مزید پنجابی آمیز، زیادہ حسی یا زیادہ گہری نفسیاتی و شہوانی تہہ کے ساتھ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔