امین مغل کے بعد پنجاب میں مارکس آگاہی اور ترقی پسند فکر ایک اجتماعی و ادارہ جاتی قوت کیوں نہ بن سکی؟
مشعلیں بہت، روشنی کہاں؟
امین مغل، پنجاب اور تنقیدی دانش کی ادارہ جاتی شکست
پروفیسر امین مغل کی وفات کے بعد پیدا ہونے والی کیفیت میں ایک عجیب تضاد چھپا ہوا ہے۔ ایک طرف ان کی موت پر لکھے جانے والے مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس، ذاتی یادداشتیں اور تعزیتی پیغامات ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ محض اپنی نسل کے آدمی نہیں تھے۔ ان سے بہت بعد میں آنے والے صحافی، ادیب، اساتذہ، طلبہ، سیاسی کارکن اور دانش ور بھی انہیں اپنا استاد، رہنما، فکری مربی یا کم از کم ایسا شخص قرار دے رہے ہیں جس کی صحبت نے ان کے سوچنے کا زاویہ بدل دیا۔ ڈاکٹر اکرام الحق نے ان کی وفات کے فوراً بعد لکھا کہ ان کا لندن کا گھر اور بعد میں ان کی سوشل میڈیا موجودگی نوجوان اہل علم کے لیے ایک غیر رسمی درس گاہ بن گئی تھی جہاں مسلمہ تصورات سے سوال کیا جاتا، کتابوں پر گفتگو ہوتی اور خیالات کی آزادی زندہ رکھی جاتی تھی۔ اسی تعزیتی مضمون میں امین مغل کو مختلف نسلوں کے لکھنے والوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کے لیے ایک مستقل ملاقات گاہ اور رہنما قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ان کے شاگرد، متاثرین اور فکری وارث اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں تو پنجاب کے شہری مراکز میں ان کا اجتماعی وجود کہاں ہے؟ لاہور کی یونیورسٹیوں، کالجوں، پریس، مزدور بستیوں، طلبہ حلقوں، ادبی اداروں اور شہری سیاسی زندگی میں وہ کون سا قابل شناخت فکری و تنظیمی ڈھانچہ ہے جسے ہم امین مغل کی ’’مارکس آگاہی‘‘ کا مادی تسلسل کہہ سکیں؟
یہ سوال امین مغل کی شخصیت کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کا تعلق اس سماج سے ہے جو غیر معمولی افراد پیدا تو کرسکتا ہے مگر ان کی فکر کو قابل تجدید اجتماعی روایت میں بدلنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایک معاشرہ کسی دانش ور کے انتقال پر ہزاروں تعزیتی کلمات لکھ سکتا ہے، اس کی تصاویر لگا سکتا ہے، اس کے اقوال نقل کرسکتا ہے، اس کے ساتھ اپنی ذاتی ملاقات کو یاد کرسکتا ہے اور اس کے باوجود اس شخص کی فکر کا کوئی پائیدار ادارہ، کوئی تحقیقی مرکز، کوئی مستقل جریدہ، کوئی تربیتی مدرسہ، کوئی علمی آرکائیو، کوئی عوامی مطالعہ گاہ اور کوئی ایسی سیاسی درس گاہ پیدا نہ کرسکے جو اگلی نسل میں اسی درجے کی تنقیدی ذہانت پیدا کرے۔ ایسے میں تعزیت خود ایک سوال بن جاتی ہے۔ اگر ہزاروں لوگ امین مغل سے متاثر ہوئے تو یہ اثر کہاں جمع ہوا؟ وہ کس اجتماعی صورت میں ڈھلا؟ اگر کہیں نہیں ڈھلا تو کیا ہم ’’فکری اثر‘‘ اور ’’فکری وراثت‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھنے کی غلطی کررہے ہیں؟
یہاں سے امین مغل کی وفات ایک شخصی سانحے سے بڑھ کر پنجاب کی دانشورانہ تاریخ کا ایک مقدمہ بن جاتی ہے۔
امین مغل مسئلہ: فرد موجود، روایت غائب
امین مغل کے بارے میں لکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ انہیں ایک ایسے آخری مارکسی دانش ور کے طور پر پیش کیا جائے جو ایک بہتر زمانے کی یادگار تھا۔ اس تعبیر میں کشش بہت ہے۔ وہ استاد تھے، ٹریڈ یونین سیاست سے وابستہ رہے، نیشنل عوامی پارٹی میں سرگرم رہے، صحافت کی، جیل گئے، شاہ حسین کالج جیسے غیر روایتی تعلیمی تجربے کا حصہ بنے، ویو پوائنٹ سے وابستہ رہے، بعد میں جلاوطنی میں بھی فکری طور پر پاکستان سے جڑے رہے۔ حالیہ تعزیتی تحریریں بھی ان کی زندگی کے انہی پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہیں۔ ڈان کے مطابق اسلامیہ کالج سے ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے سبب ان کی برطرفی شاہ حسین کالج کے قیام کے پس منظر میں اہم واقعہ بنی، اور بعد کے برسوں میں وہ ویو پوائنٹ سمیت مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ رہے۔ لیکن اگر ہم انہیں صرف ایک ’’آخری آدمی‘‘ کے طور پر دیکھیں تو اصل سوال ہماری نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے: وہ آخری کیوں محسوس ہوتے ہیں؟
اس سوال کا جواب یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کے بعد پنجاب میں ذہین، ترقی پسند یا مارکسی رجحان رکھنے والے لوگ پیدا نہیں ہوئے۔ ایسا دعویٰ مشاہدے کے خلاف ہوگا۔ لاہور، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں آج بھی ایسے اساتذہ، صحافی، وکلا، ادیب، فن کار، انسانی حقوق کے کارکن، طلبہ اور سماجی کارکن موجود ہیں جو سرمایہ دارانہ استحصال، مذہبی انتہا پسندی، ریاستی جبر، صنفی ناانصافی، قومی حقوق، طبقاتی تقسیم اور آزادی اظہار کے سوال اٹھاتے ہیں۔ طلبہ تنظیم سازی کی بحالی کے لیے حالیہ برسوں میں ترقی پسند طلبہ گروہوں نے مختلف شہروں میں مارچ، احتجاج اور مہمات بھی چلائی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی ایک تحریر کے مطابق 2018 کے بعد مختلف ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے پچاس سے زیادہ شہروں میں سرگرمیاں کیں اور یہ مہمیں بعد کے برسوں میں بھی جاری رہیں۔ لہٰذا مسئلہ مطلق عدم موجودگی نہیں ہے۔ مسئلہ انتشار، کمزور ادارہ بندی اور فکری بازتولید کی ناکامی ہے۔
یہاں ہمیں ایک اہم فرق قائم کرنا ہوگا۔ کسی شخص سے متاثر ہونا اور اس شخص کی فکر کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کرنا دو مختلف عمل ہیں۔ فکری اثر فرد کے اندر رہ سکتا ہے۔ وہ کسی صحافی کی تحریر میں، کسی استاد کے لیکچر میں، کسی شاعر کے استعارے میں، کسی کارکن کے اخلاقی مزاج میں یا کسی شہری کے سیاسی رویے میں موجود ہوسکتا ہے۔ لیکن ادارہ جاتی وراثت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہی اثر ایک ایسی منظم صورت اختیار کرے جو اپنے بانی سے آزاد ہوکر نئی نسل تیار کرسکے۔ ایک استاد مرجائے مگر اسکول باقی رہے۔ ایک مدیر چلا جائے مگر جریدہ زندہ رہے۔ ایک سیاسی کارکن نہ رہے مگر تربیتی روایت جاری رہے۔ ایک مفکر کی آواز خاموش ہوجائے مگر اس کا آرکائیو، اشاعتی سلسلہ، مطالعاتی مرکز اور عوامی تعلیم کا ڈھانچہ نئے افراد پیدا کرتا رہے۔
امین مغل کا مسئلہ شاید یہی ہے: ان کے شاگرد موجود ہیں، مگر اجتماعی شاگردی نظر نہیں آتی۔
یہ فرق معمولی نہیں۔ اگر سو لوگ اپنے آپ کو کسی استاد کا شاگرد کہیں مگر وہ سو لوگ ایک دوسرے سے غیر مربوط ہوں، ان کے پاس کوئی مشترک ادارہ نہ ہو، کوئی فکری پروگرام نہ ہو، نئی نسل کی تربیت کا کوئی نظام نہ ہو اور کوئی ایسا اجتماعی منصوبہ نہ ہو جو ان کی انفرادی وابستگی کو معاشرتی قوت میں بدل سکے، تو استاد کا اثر بڑا ہونے کے باوجود اس کی تاریخی قوت محدود رہتی ہے۔ ایسی صورت میں فکری روایت ایک نیٹ ورک تو بن سکتی ہے، ادارہ نہیں۔ اور ادارے کے بغیر نیٹ ورک اکثر یادداشت پیدا کرتا ہے، تاریخ میں مداخلت کی مسلسل قوت نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امین مغل کی وفات پر سامنے آنے والی وسیع عقیدت کو صرف ان کی کامیابی کی شہادت سمجھنا کافی نہیں۔ شاید یہ ایک اور چیز کی شہادت بھی ہے: پنجاب میں موجود ایک غیر مرئی، منتشر اور ادارے سے محروم ترقی پسند حلقے کی۔ ایسے لوگ جو ایک دوسرے کے وجود سے پوری طرح واقف نہیں، کسی ایک شہر، تنظیم یا ادارے میں مرتکز نہیں، مگر ایک ہی نوع کی اخلاقی اور فکری نسبتیں رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انہیں پہلی مرتبہ ایک ہی موقع پر مرئی کردیا۔ ایک موت نے چند دنوں کے لیے ایک ایسا نیٹ ورک دکھا دیا جو معمول کی سیاسی زندگی میں منتشر رہتا ہے۔
اگر یہ مفروضہ درست ہے تو سوال ’’امین مغل کے شاگرد کہاں ہیں؟‘‘ سے بدل کر یہ ہوجاتا ہے: امین مغل کے شاگرد ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں ہیں؟
استاد سے ادارہ کیوں نہ بن سکا؟
امین مغل کی اپنی زندگی اس سوال کے لیے غیر معمولی مواد فراہم کرتی ہے، کیونکہ ان کا فکری عمل کبھی محض مطالعے اور تحریر تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے تعلیم، صحافت، سیاسی جماعت، ٹریڈ یونین اور آزاد تعلیمی تجربے کو ایک دوسرے سے الگ خانوں میں نہیں رکھا۔ شاہ حسین کالج اس سلسلے میں سب سے دلچسپ مثال ہے۔ اگر چند برطرف استاد ایک ایسا تعلیمی ادارہ بنا سکتے تھے جس کے اندر روایتی نصاب کے ساتھ پنجابی، فلم، نئی ٹیکنالوجی اور ترقی پسند علمی فضا کے تجربات کیے جاسکیں، تو یہ صرف نظریے کا اظہار نہیں تھا؛ یہ نظریے کی ادارہ جاتی صورت تھی۔ یعنی یہاں تنقیدی فکر پہلی مرتبہ عمارت، استاد، طالب علم، نصاب اور روزمرہ تعلیمی عمل میں منتقل ہورہی تھی۔ بعد میں اس ادارے کا قومیائے جانا اور بتدریج اپنی اصل فکری شناخت سے دور ہونا محض ایک کالج کی تاریخ نہیں بلکہ پاکستان میں آزاد ترقی پسند ادارہ سازی کے مسئلے کی علامت بھی ہے۔ آج شاہ حسین کالج ایک سرکاری کالج کے طور پر موجود ہے، مگر اس کی موجودہ ادارہ جاتی شناخت اس ابتدائی تجربے سے مختلف ہے۔
یہاں ہمیں فرد اور ادارے کے فرق کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فرد اپنی ذہانت، اخلاقی قوت اور شخصیت کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ ادارہ وہ کام کرتا ہے جو فرد اکیلا نہیں کرسکتا: وہ وقت کو شکست دیتا ہے۔ وہ فکری اثر کو محفوظ کرتا، منظم کرتا، منتقل کرتا اور دوبارہ پیدا کرتا ہے۔ امین مغل کے فکری اثر کا بڑا حصہ گفتگو، ملاقات، محفل اور ذاتی رشتے کے ذریعے منتقل ہوا۔ ڈاکٹر اکرام الحق نے بھی ان کے لندن کے گھر کو غیر رسمی درس گاہ کہا ہے۔ مگر غیر رسمی درس گاہ کی قوت ہی اس کی کمزوری بھی ہوسکتی ہے۔ جب استاد چلا جاتا ہے تو کلاس روم بھی ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کی کوئی الگ مادی ساخت موجود نہیں ہوتی۔
ہمیں شاید پنجاب کی ترقی پسند دانش کی پوری تاریخ کو اس زاویے سے دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں بڑے نام بہت ہیں، مگر ان ناموں کو دوبارہ پیدا کرنے والے ادارے کتنے ہیں؟ کتنی ایسی آزاد درس گاہیں ہیں جہاں ایک نوجوان باقاعدہ طور پر پنجاب کی سیاسی معیشت، مارکس، گرامشی، اقبال، نوآبادیاتی تاریخ، مذہب، قومی سوال، ذات، صنف، ماحولیات، مزدور تحریک اور جدید سرمایہ داری کو ایک مربوط تنقیدی نصاب کے طور پر پڑھ سکے؟ کتنے ایسے جریدے ہیں جن کے پاس بیس یا تیس برس کی ادارہ جاتی زندگی ہو اور جو ہر نسل میں نئے لکھنے والے پیدا کریں؟ کتنے آرکائیو ایسے ہیں جہاں پنجاب کی مزدور، طلبہ، کسان، خواتین، اقلیتوں اور ترقی پسند تحریکوں کے خطوط، پمفلٹ، اخبارات، تصاویر، مقدمات اور زبانی تاریخیں منظم طور پر محفوظ ہوں؟ کتنے علمی حلقوں کے پاس مستقل مالی وسائل ہیں؟ کتنے ادارے ایسے ہیں جو کسی ایک charismatic فرد کی موجودگی پر منحصر نہیں؟
یہ سوال اٹھاتے ہی ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے: شاید پنجاب میں تنقیدی ذہانت کی کمی نہیں، تنقیدی ذہانت کی تنظیم کی کمی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں امین مغل کا ’’مارکس آگاہی‘‘ کا تصور بہت اہم ہوجاتا ہے۔ اگر مارکسزم عقیدہ نہیں بلکہ سرمایہ، طاقت، محنت، طبقے اور تاریخ کے رشتوں کو سمجھنے کا طریقہ ہے تو اسے فرد کے ذہن میں مقید نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اجتماعی مطالعے، تحقیق، ترجمے، عوامی تعلیم، مزدور اور طلبہ سیاست اور روزمرہ ثقافتی عمل میں مادی صورت اختیار کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر ’’مارکس آگاہی‘‘ بھی ایک خوب صورت اخلاقی شناخت بن سکتی ہے: ہم خود کو dogmatic مارکسسٹ نہیں، آزاد خیال مارکسی ذہن سمجھتے ہیں، مگر اس ذہنی آزادی کا سماجی نتیجہ کیا ہے؟ اگر وہ کسی تنظیم، ادارے، اجتماعی تحقیق، عوامی تحریک یا نئی دانش ور نسل میں ظاہر نہیں ہوتی تو اس کے تاریخی اثر کی حدود واضح ہیں۔
گرامشی کا سوال: عضوی دانشور کس طبقے کا تھا؟
گرامشی کے ہاں دانش ور محض وہ شخص نہیں جو کتاب لکھتا ہے۔ ہر طبقہ اپنی تاریخی زندگی کے ساتھ ایسے دانش ور پیدا کرتا ہے جو اس طبقے کے تجربے کو زبان، نظریہ، تنظیم اور سیاسی شعور میں ڈھالتے ہیں۔ انہیں ’’عضوی دانش ور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس تصور کو پنجاب پر لاگو کریں تو فوری سوال پیدا ہوتا ہے: امین مغل کس طبقے کے عضوی دانش ور تھے؟
وہ پیدائشی طور پر صنعتی مزدور نہیں تھے، نہ کسان۔ ان کی بنیادی سماجی جگہ تعلیم یافتہ شہری متوسط طبقہ تھی۔ لیکن ان کی سیاسی زندگی نے انہیں اس طبقے کی حدود سے باہر جانے پر مجبور کیا۔ استاد کی حیثیت سے اساتذہ کی تنظیم سازی، سیاسی کارکن کے طور پر بائیں بازو کی جماعت، صحافی کے طور پر ریاستی و طبقاتی طاقت پر تنقید، اور شاہ حسین کالج میں متبادل تدریسی تجربہ، ان سب نے انہیں ایسے دانش ور میں بدل دیا جو اپنے پیشہ ور طبقے اور وسیع تر محنت کش و جمہوری سیاست کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
یہی رشتہ بعد میں کمزور کیوں ہوا؟
یہ محض نظریاتی زوال کا مسئلہ نہیں۔ اس کے مادی اسباب ہیں۔ پنجاب کا شہری متوسط طبقہ گزشتہ نصف صدی میں بہت بدل چکا ہے۔ استاد، سرکاری ملازم، وکیل اور چھوٹا صحافی اب اس طبقے کی واحد یا غالب صورتیں نہیں۔ نجی یونیورسٹی، کارپوریٹ شعبہ، نجی میڈیا، پراپرٹی، بیرون ملک روزگار، ترقیاتی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں، ٹیکنالوجی اور خدمات کی معیشت نے نئی پیشہ ور پرتیں پیدا کی ہیں۔ تنقیدی دانش ور کے سامنے اب صرف پولیس یا جیل کا خطرہ نہیں؛ اس کے سامنے ایک پورا پیشہ ورانہ ڈھانچہ ہے جس میں ترقی، تنخواہ، بین الاقوامی وظائف، ادارہ جاتی شہرت، تحقیقاتی منصوبے، میڈیا شناخت اور ذاتی سماجی سرمایہ موجود ہیں۔
یہاں مسئلہ یہ کہنا نہیں کہ موجودہ متوسط طبقہ ’’بزدل‘‘ یا ’’مفاد پرست‘‘ ہوگیا ہے۔ ایسی اخلاقی زبان مارکسی تجزیے کے بجائے وعظ بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس طبقے کے مادی مفادات اور سماجی نقل و حرکت کے راستے کس نوع کی سیاست کو ممکن اور کس نوع کی سیاست کو مہنگا بناتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان استاد کی ملازمت قلیل مدتی معاہدے پر ہے، صحافی کی نوکری غیر محفوظ ہے، محقق کا مستقبل کسی منصوبے یا فیلوشپ سے وابستہ ہے اور متوسط طبقے کے خاندان کی پوری زندگی بچوں کی تعلیم، گھر کی قسط، بیرون ملک مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی پر منحصر ہے تو مستقل سیاسی تنظیم سازی کی قیمت پچھلی نسل سے مختلف ہوسکتی ہے۔ مگر اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ تنقیدی فکر اجتماعی خطرہ مول لینے والی سیاست کے بجائے فرد کا ثقافتی سرمایہ بننے لگتی ہے۔
یہی شاید آج کی سب سے اہم تبدیلی ہے۔
آپ مارکس پڑھ سکتے ہیں، فیض سن سکتے ہیں، بھگت سنگھ کی تصویر لگا سکتے ہیں، امین مغل کے بارے میں خوب صورت تعزیتی نوٹ لکھ سکتے ہیں، مذہبی انتہا پسندی اور آمریت پر تنقید کرسکتے ہیں اور اس کے باوجود ایسی کسی تنظیم سے وابستہ نہ ہوں جو آپ سے مسلسل وقت، پیسہ، نظم، جواب دہی اور خطرہ مانگتی ہو۔ یوں ترقی پسندی شناخت بن جاتی ہے، ادارہ نہیں۔ اسے ہم علامتی رادیکلیت کہہ سکتے ہیں: زبان اور شناخت کی سطح پر نظام سے فاصلے کا اعلان، مگر اس فاصلے کو مادی سیاسی عمل میں تبدیل کرنے کی محدود صلاحیت۔
اس کے مقابلے میں امین مغل کی نسل کے لیے نظریاتی وابستگی اکثر ایسے اداروں سے جڑی تھی جن کی اپنی روزمرہ مادی زندگی تھی: کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن، طلبہ یونین، سیاسی جماعت، مزدور تنظیم، رسالہ، اخبار، جلسہ، مطالعہ حلقہ۔ ان اداروں میں بہت سی کمزوریاں، فرقہ واریت اور غلطیاں تھیں، لیکن وہ ایک اہم کام کرتے تھے: فکر کو لوگوں کے درمیان منظم کرتے تھے۔
یہی ڈھانچے بتدریج کمزور ہوئے۔
دو نسلیں جن سے سیاست کا مدرسہ چھین لیا گیا
اس سوال میں طلبہ یونین پر 1984 کی پابندی کو محض ایک تاریخی واقعہ سمجھنا غلط ہوگا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی 2023 کی ایک تحریر اسے نوجوانوں کے جمہوری اور سیاسی تربیتی راستوں کے خاتمے سے جوڑتی ہے۔ اس کے مطابق طلبہ یونین صرف نمائندگی کا ادارہ نہیں تھیں بلکہ انتخاب، مباحثے، تنظیم سازی اور مختلف طبقاتی و نسلی پس منظر کے نوجوانوں کے درمیان سیاسی تعامل کی جگہ بھی تھیں؛ پابندی نے ان راستوں کو مسلسل کئی نسلوں کے لیے محدود کیا۔
اس نقطے کا امین مغل کے سوال سے براہ راست تعلق ہے۔ اگر کسی معاشرے میں آپ دو یا تین نسلوں تک ایسے ادارے ختم کردیں جہاں نوجوان دلیل، انتخاب، تنظیم، اختلاف، تقریر، پمفلٹ، احتجاج اور اجتماعی فیصلہ سازی سیکھتے ہیں، تو پھر آپ یہ توقع نہیں کرسکتے کہ صرف اچھے اساتذہ کی ذاتی صحبت سے ایک مضبوط سیاسی دانش ور طبقہ خود بخود پیدا ہوتا رہے گا۔ استاد بیج دے سکتا ہے، مگر اسے اگنے کے لیے زمین بھی چاہیے۔
امین مغل جیسے لوگ دراصل ایک ایسی شہری سیاسی دنیا کے پیدا کردہ تھے جہاں کالج اور سیاست کے درمیان مکمل دیوار نہیں تھی، استاد تنظیم بناتا تھا، طالب علم انتخاب لڑتا تھا، اخبار نظریاتی مباحثے کا میدان تھا، مزدور تنظیم شہری سیاست کی باقاعدہ قوت تھی اور ادبی انجمنیں محض شاعری کی نشستیں نہیں بلکہ وسیع سیاسی ثقافت کا حصہ ہوسکتی تھیں۔ یہ دنیا مثالی نہیں تھی۔ اس میں تشدد بھی تھا، جماعتی سخت گیری بھی، سوویت و چین نواز تقسیم بھی، مذہبی طلبہ تنظیموں کے ساتھ شدید کشمکش بھی۔ مگر اس میں سیاسی تربیت کی مادی جگہیں موجود تھیں۔
جب یہ جگہیں کمزور ہوئیں تو ان کی جگہ کیا آیا؟
یونیورسٹی تو رہی، مگر طالب علم بطور سیاسی شہری کمزور ہوا۔ میڈیا پھیلا، مگر ادارتی صحافت کا اجتماعی ماحول سکڑتا گیا۔ ترقی پسند فکر رہی، مگر اس کی بڑی مقدار یونیورسٹی، ادبی میلے، غیر سرکاری شعبے، انفرادی کالم، سوشل میڈیا اور چھوٹے حلقوں میں منتشر ہوگئی۔ اس انتشار میں خیالات مرے نہیں؛ ان کی تنظیمی کثافت کم ہوئی۔
اسی لیے امین مغل کی وفات پر ہزاروں لوگ ایک لمحے کے لیے ایک دوسرے کو پہچان سکتے ہیں، مگر روزمرہ سیاسی زندگی میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ منظم نظر نہیں آتے۔
یہ شاید پنجاب کے موجودہ ترقی پسند شعور کا سب سے بڑا تضاد ہے: ضمیر موجود ہے، جسم غائب ہے۔
اور اگلا سوال اسی سے پیدا ہوتا ہے: یہ جسم کیوں نہیں بن سکا؟ کیا صرف ریاستی جبر نے اسے روکا؟ یا خود پنجاب کے بائیں بازو نے بھی ایسی غلطیاں کیں جنہوں نے مارکس آگاہی کو زندہ عوامی شعور بننے کے بجائے چھوٹے نظریاتی حلقوں، شخصیات اور یادگاروں میں مقید کردیا؟
یہیں سے اس محاکمے کا دوسرا اور زیادہ تکلیف دہ حصہ شروع ہوتا ہے: ریاست کے بعد خود بائیں بازو کا مقدمہ۔
(جاری)