امین مغل اپنی تحریروں کے آئینے میں
محمد عامر حسینی
“In history you find no morals, only positions.”
’’تاریخ میں آپ کو اخلاقی فیصلے نہیں ملتے، صرف موقف اور تاریخی مقامات ملتے ہیں۔‘‘
امین مغل نے 20 فروری 2017ء کو اپنے بلاگ پر
Aphorisms
کے زیرعنوان یہ ایک جملہ لکھا تھا۔ بظاہر یہ چند الفاظ پر مشتمل ایک مختصر سا قول ہے، لیکن شاید امین مغل کے فکری مزاج تک پہنچنے کے لیے کسی طویل سوانحی تعارف سے زیادہ کارآمد ہے۔ اس میں وہ آدمی دکھائی دیتا ہے جو تاریخ کو نیکی اور بدی کے پہلے سے طے شدہ خانوں میں رکھ کر پڑھنے پر آمادہ نہیں؛ جس کے لیے تاریخی کرداروں اور تحریکوں کا محاکمہ اس سوال سے شروع نہیں ہوتا کہ کون فرشتہ تھا اور کون شیطان، بلکہ اس سے کہ کون کس تاریخی مقام پر کھڑا تھا، اس کے سامنے کون سے مادی، سیاسی اور سماجی امکانات موجود تھے، اس نے ان امکانات میں سے کیا چنا، اور اس انتخاب نے تاریخ کے اگلے مرحلے کو کس طرح متاثر کیا۔
امین مغل کو ان کے دوستوں، رفقا، شاگردوں اور معاصرین کی یادوں میں تلاش کیا جائے تو ہمارے سامنے ایک وسیع المطالعہ استاد، مارکسی سیاسی کارکن، صحافی، دانش ور، ادیبوں کا دوست اور کئی نسلوں کے ساتھ مکالمہ کرنے والا شخص سامنے آتا ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کا شاید زیادہ دل چسپ عکس وہاں بنتا ہے جہاں وہ خود بولتے ہیں۔ ان کا بلاگ
Amin Mughal Musings: Dialogue with you
اسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں باقاعدہ مضامین بھی ہیں، ادبی و سیاسی تبصرے بھی، پرانی تحریروں کی بازیافت بھی، کتابوں کے مقدمات بھی، یادداشتیں بھی، لطیفے اور طنزیہ فقرے بھی، اپنے ماضی سے اختلاف بھی، اور ایسی پوسٹس بھی جن میں وہ کسی دوسرے مصنف کا متن یا لنک اپنے قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔ اس لیے اس ذخیرے کو ان کی باقاعدہ تصنیفات کی کتاب سمجھنے کے بجائے ان کے ذہنی کارخانے کی کھلی کھڑکی سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ بلاگ کا نام ہی
“Musings. Dialogue with you”
ہے
غور و فکر، تم سے مکالمہ۔
اور یہی ’’مکالمہ‘‘ امین مغل کی شناخت کی کنجی معلوم ہوتا ہے۔ وہ پڑھتے ہیں، کسی پرانی رائے کو سامنے رکھتے ہیں، اس کے خلاف نئی دلیل آتی ہے تو اس پر غور کرتے ہیں، کبھی اپنی سابقہ رائے سے جزوی یا کلی اختلاف کرتے ہیں، اور پھر فیصلہ کن آخری کلمہ کہنے کے بجائے گفتگو کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک ایسا مارکسی جو اپنی پرانی کتاب بند نہیں کرتا
امین مغل کے فکری مزاج کی سب سے اہم خصوصیت شاید یہ ہے کہ وہ اپنی مارکسی شناخت کو ماضی کے کسی منجمد عقیدے کی طرح محفوظ نہیں رکھتے۔ ان کے ہاں مارکسزم ایک مکمل شدہ صحیفہ نہیں بلکہ مسلسل نظرثانی سے گزرنے والا تنقیدی طریقۂ فکر معلوم ہوتا ہے۔
آٹھ جون 2016ء کی تحریر
“Eric Rahim and Bernstein”
اس کی بہت عمدہ مثال ہے۔ امین مغل لکھتے ہیں کہ وہ کچھ عرصے سے مارکس اور اینگلز کی فکر کے ارتقا کا، ان کے اپنے لفظوں میں، قدرے ’’بھٹکتا ہوا‘‘ مطالعہ کر رہے ہیں۔ ایرک رحیم کی آنے والی کتاب کا مقدمہ پڑھتے ہوئے ان کی توجہ اس خیال پر جاتی ہے کہ تاریخ لازماً کسی پہلے سے مقرر آخری منزل، یعنی کمیونسٹ سماج، کی طرف نہیں بڑھ رہی۔ اسی دوران وہ ایڈورڈ برنسٹائن کی Evolutionary Socialism بھی پڑھ رہے تھے۔ پھر وہ ایک ایسا جملہ لکھتے ہیں جو کسی راسخ العقیدہ جماعتی مارکسسٹ سے آسانی سے متوقع نہیں: برنسٹائن کے اس خیال سے کہ تاریخ کی کوئی پہلے سے مقرر منزل نہیں، وہ بڑی حد تک متفق ہیں۔ مزید یہ کہ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جن خیالات کو کبھی برنسٹائن کی ’’ترمیم پسندی‘‘ کہہ کر مسترد کیا گیا تھا، ان میں سے کئی بعد میں عمومی مارکسی سیاسی عمل کا حصہ بن گئے: پارلیمانی راستہ، تشدد سے اجتناب، سرمایہ داری کے اندر محنت کش طبقے کے حقوق میں توسیع، پرولتاریہ کی تعریف کا پھیلاؤ اور سماجی ارتقا کا کھلا رہنا۔
یہاں اصل اہمیت برنسٹائن سے اتفاق یا اختلاف کی نہیں۔ اصل اہمیت اس ذہنی حرکت کی ہے جس کے ذریعے امین مغل اپنے ماضی کے نظریاتی ذخیرے کو دوبارہ کھولتے ہیں۔ وہ یہ کہنے پر تیار ہیں کہ جسے ہماری نسل نے کبھی انحراف سمجھا تھا، ممکن ہے تاریخ نے اس کے بعض سوالات کو دوبارہ جائز بنا دیا ہو۔
اسی فکری خود احتسابی کا زیادہ واضح اظہار علی جعفر زیدی کی کتاب باہر جنگل اندر آگ کے لیے لکھے گئے ان کے طویل تعارف میں ہوتا ہے۔ امین مغل اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ ’’روس پسند فکر کے سائے‘‘ میں گزارنے کے بعد وہ خود احتسابی کے ایک صبر آزما عمل سے گزر رہے ہیں، جس کی ایک جہت مسلسل تشکیکی اندازِ فکر ہے۔ وہ علی جعفر زیدی کی مارکسی لیننی اور ماؤ نواز وفاداری کا احترام کرتے ہیں لیکن صاف کہتے ہیں کہ ان کے لیے ان تمام آرا سے اتفاق ممکن نہیں۔ پھر سوویت تجربے، روسی انقلاب، سرمایہ داری کے تاریخی امکانات اور مزدور طبقے کے کردار کے بارے میں سوال پر سوال اٹھاتے ہیں اور نہایت معنی خیز طور پر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ وہ اپنی رائے تبدیل کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
:یہ چھوٹا سا اعتراف امین مغل کی فکری شخصیت کا شاید بڑا بیان ہے
’’میں اپنی رائے بدل سکتا ہوں۔‘‘
نظریاتی سیاست میں، خصوصاً اس سیاست میں جس نے بیسویں صدی کے بڑے حصے میں اپنے کارکنوں سے یقین، نظم اور وفاداری کا مطالبہ کیا، اپنی رائے بدلنے کے حق کو محفوظ رکھنا معمولی بات نہیں۔ یہاں امین مغل کا مارکسزم ’’یقین کی حفاظت‘‘ سے ’’سوال کی حفاظت‘‘ کی طرف سفر کرتا دکھائی دیتا ہے۔
انقلاب سے جمہوری جدوجہد تک
8 اگست 2017ء کی اردو تحریر ’’دور رس تبدیلی‘‘ اس سفر کو مزید واضح کرتی ہے۔ امین مغل فیبین سوشلزم اور کمیونسٹ روایت کے فرق سے گفتگو شروع کرتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ کمیونسٹ تحریک کے بعض ادوار میں تشدد کو ناگزیر، بلکہ بعض حلقوں میں پسندیدہ، سمجھا جاتا تھا، لیکن اب جب بیشتر کمیونسٹ قوتیں جمہوری جدوجہد کو اپنا راستہ قرار دیتی ہیں تو نئے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم اہم ہے، لیکن اسے عوامی سیاسی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جا سکتا؛ اور یہ جدوجہد صرف پارلیمنٹ کے اندر محدود نہیں رہتی بلکہ پارلیمان سے باہر کی جمہوری تحریکیں بھی اس کا حصہ ہیں۔
یہاں وہ اپنے سیاسی ماضی کا ایک اہم حوالہ بھی دیتے ہیں: آخری نیشنل عوامی پارٹی کے منشور کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی تشکیل میں ان کے سیاسی گروہ کی فکر اور ان کی اپنی کاوش شامل تھی، اور اس میں سوشلزم کو منزل جبکہ پارلیمانی اور غیر پارلیمانی جدوجہد دونوں کو ذریعہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک اور نتیجہ اخذ کرتے ہیں: اگر جمہوری جدوجہد کو واقعی قبول کر لیا جائے تو پرولتاریہ کی آمریت کا کلاسیکی تصور غیر متعلق ہونے لگتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں امین مغل کی تحریر کسی جماعتی کتابچے کی زبان سے باہر نکل آتی ہے۔ وہ نظریے کے دفاع میں تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے؛ تاریخ کے تجربے کی روشنی میں نظریے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
وہ انقلاب کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں ایسی تاریخی گھڑی پیدا ہو سکتی ہے جب عوامی طوفان موجودہ بندشوں کو توڑ دے اور ترقی پسند قوتوں کو سیاسی خلا پُر کرنا پڑے۔ لیکن پاکستان کے عمومی حالات کے لیے ان کی ترجیح واضح ہے: پارلیمانی اور بالائے پارلیمانی جمہوری جدوجہد اور خطر پسندی سے گریز۔ پھر مضمون ختم کرتے ہوئے وہ خود اپنے استدلال کی محدودیت بھی تسلیم کر لیتے ہیں: شاید میں فیبین سوشلزم، کمیونزم اور مارکسزم، کسی کے ساتھ پورا انصاف نہیں کر سکا؛
’’یار زندہ صحبت باقی۔‘‘
یہ آخری فقرہ بھی امین مغل کے طریقۂ فکر کا استعارہ ہے۔ فیصلہ نہیں، گفتگو باقی ہے۔
علم کے ساتھ ایک بے قرار رشتہ
چھبیس فروری 2016ء کی مختصر تحریر
“Knowing and not knowing”
میں امین مغل لکھتے ہیں کہ کسی ایک چیز کے بارے میں جتنا زیادہ جانتے ہیں، اتنا ہی احساس ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہے۔ وہ خود کو ’’جاننے اور نہ جاننے‘‘ کے ایک نہ رکنے والے جھولے پر محسوس کرتے ہیں؛ کبھی سرشاری، کبھی افسردگی۔ پھر کہتے ہیں: مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کوئی نئی بات نہیں کہی، اور یہ احساس مجھے مایوسی سے بھر دیتا ہے۔
ایک ایسے شخص کے لیے جسے دوسرے لوگ ’’چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا‘‘ کہہ سکتے تھے، یہ اعتراف قابل غور ہے۔ علم یہاں اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی لاعلمی کے نئے علاقوں کی دریافت بن جاتا ہے۔ شاید اسی لیے امین مغل کا مطالعہ عمر کے کسی مرحلے میں رک نہیں جاتا۔ مارکس اور اینگلز کی فکری تشکیل سے لے کر برنسٹائن، فلسفے کے مکاتب، مارکسی جمالیات، ہیرالڈ بلوم، وارث شاہ، ادونیس، محمود درویش، تاریخ، مذہب اور سائنس تک ان کی دلچسپی ایک ہی ذہنی بے قراری کی مختلف شکلیں معلوم ہوتی ہے۔ ان کی مارکسی ادب و ثقافت سے متعلق کتابوں کی فہرست بھی حتمی
canon
کے طور پر پیش نہیں ہوتی۔ وہ اسے اپنی ’’مختصر سی لائبریری‘‘ سے تیار کردہ عارضی فہرست کہتے ہیں اور قارئین سے مزید مشورے اور اضافے مانگتے ہیں۔
یعنی علم ان کے ہاں ملکیت نہیں، شراکت ہے۔
اپنی پرانی غلطی کو محفوظ رکھنے کا حوصلہ
امین مغل کے بلاگ کی ایک غیر معمولی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی پرانی تحریروں کو اس شرط کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں کہ قاری انھیں ان کی موجودہ فکر نہ سمجھے۔
انیس سو اٹھاسی میں اکتوبر انقلاب اور ادب پر دی گئی اپنی ایک پرانی پیش کش کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے وہ ابتدا ہی میں لکھتے ہیں کہ یہ تحریر اب
’’hopelessly dated‘‘
ہے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ 1988ء تک انھیں سوویت یونین اور سوشلسٹ بلاک کے ناقابل شکست ہونے پر یقین تھا۔ انقلاب اور ادب کے تعلق کے بارے میں ان کی بعض آرا اب بھی برقرار ہیں، لیکن سیاسی مفروضہ وقت کے ہاتھوں غلط ثابت ہو چکا ہے۔
ذرا غور کیجیے: کوئی شخص اپنی پرانی تحریر سے وہ حصے نکال سکتا تھا جو غلط ثابت ہوئے۔ اسے خاموشی سے نئے مقدمے کے ساتھ پیش کر سکتا تھا۔ مگر امین مغل پرانی غلطی کو حذف نہیں کرتے؛ اس کے اوپر اپنی بعد کی آگہی لکھ دیتے ہیں۔ یوں وہ تحریر صرف انقلاب اور ادب کا مضمون نہیں رہتی، ایک ذہن کے تاریخی ارتقا کی دستاویز بن جاتی ہے۔
وارث شاہ پر اپنی ایک پرانی تحریر کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے بھی ان کا یہی رویہ ہے۔ بتاتے ہیں کہ یہ مضمون غالباً 1980ء کی دہائی کے آخر یا 1990ء کے آغاز میں پڑھا گیا تھا، اور اب دوبارہ دیکھنے پر انھیں ’’خاصا طالبانہ‘‘ محسوس ہوتا ہے۔
اپنی نوجوانی یا درمیانی عمر کی تحریر کو بڑھاپے میں ’’طالبانہ‘‘ کہنے کے لیے ایک خاص قسم کی خود فاصلاتی نگاہ درکار ہوتی ہے۔ امین مغل خود کو اپنی فکری تاریخ کا مقدس ہیرو نہیں بناتے۔
غالبین کی تاریخ اور مغلوبین کی گم شدہ آواز
امین مغل کے یہاں تاریخ محض ماضی نہیں۔ وہ اس بات سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ تاریخ لکھی کیسے جاتی ہے، اور اس سے غائب کون کیا جاتا ہے۔
علی جعفر زیدی کی خود نوشت پر گفتگو کرتے ہوئے وہ انٹرنیٹ اور اطلاعاتی انقلاب کو علم کی ’’جمہوریت پذیری‘‘ سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی جبر کے زمانوں میں بائیں بازو کے کارکنوں کے لیے اجلاسوں کی کارروائیاں، یادداشتیں اور دستاویزات محفوظ رکھنا خطرناک تھا؛ چھاپوں کے خوف سے مواد تلف کرنا پڑتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کے بعد بڑی حد تک غالبین کا بیانیہ مرتب ہوا اور ’’مغلوبین تاریخ سے غیر حاضر‘‘ ہو گئے۔
یہاں ان کی دلچسپی زبانی تاریخ اور یادداشت
oral history and memoir
میں محض شخصی قصوں کی وجہ سے نہیں۔ ان کے نزدیک کسی کارکن کی چھوٹی سی یاد، کسی سیاسی جلسے کا اندرونی منظر، کسی رہنما کی خلوت کا ایک واقعہ، کسی شکست خوردہ تحریک کی غیر محفوظ دستاویز، سب مل کر اس متبادل تاریخ کا مواد بنتے ہیں جسے سرکاری آرکائیو
archive
محفوظ نہیں کرتا۔
اسی لیے وہ علی جعفر زیدی کی خود نوشت کو صرف ایک فرد کی زندگی نہیں سمجھتے بلکہ ایک دور، ایک سیاسی ماحول اور اجتماعی جدوجہد کی بازیافت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انفرادی زندگی کے چھوٹے واقعات بھی ’’تاریخ کا مواد‘‘ بن سکتے ہیں۔
امین مغل کا ایک جملہ کہ ’’تاریخ میں اخلاق نہیں، موقف ہوتے ہیں‘‘ اسی تناظر میں زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب اخلاقیات کا انکار نہیں، بلکہ تاریخی عمل کو اخلاقی قصے میں تبدیل کرنے سے انکار ہے۔ تاریخ میں فاتح اپنے آپ کو نیکی کا نمائندہ لکھتا ہے؛ امین مغل مغلوب کی فائل بھی کھلوانا چاہتے ہیں۔
عورت کا سوال اور پدر سری کا بحران
امین مغل کی 8 اگست 2017ء کی تحریر ’’پیش خیمہ‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سماجی تحلیل صرف روایتی طبقاتی سوال تک محدود نہیں رہی۔ بااثر مردوں کے خلاف عورتوں کی جانب سے امتیازی سلوک کی شکایات کے جواب میں پیدا ہونے والی گالی گلوچ اور جنسیت زدہ ردعمل کو وہ ’’بیمار معاشرے‘‘ کی علامت کہتے ہیں، لیکن اس کے بعد اسے ایک بڑے ساختی بحران کے اندر رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب کسی سماجی ڈھانچے کے اندرونی تضادات بڑھتے بڑھتے اس کی حدود سے ٹکرانے لگتے ہیں تو یا وہ ساخت ٹوٹتی ہے یا اس کی تشکیل نو شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کا پدر سری نظام اور مردانہ بالادستی پر قائم خاندان انھیں اسی قسم کے دباؤ سے گزرتا دکھائی دیتا ہے۔
وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، ای میل، سماجی ذرائع ابلاغ اور ٹی وی کو بھی اس تبدیلی کا اہم عامل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ لوگوں کو سوچنے اور اپنے فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن وہ ٹیکنالوجی کو کوئی جادوئی آزاد کنندہ نہیں بناتے؛ ساتھ ہی واضح کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سیاسی و معاشی عوامل زیادہ بنیادی ہیں، اور یہ عمل اس وقت تک نامکمل رہے گا جب تک نصابِ تعلیم اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلی نہ آئے۔
یہاں کلاس، جنس، خاندان، ابلاغ، تعلیم اور معیشت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے امین مغل مختلف سماجی ساختوں کی باہمی وابستگی سمجھتے ہیں۔
اور پھر اتنی سنجیدہ بحث کے بعد آخری سطر میں خود اپنی تقریر کا غبارہ پھوڑ دیتے ہیں: ’’اب خیال آتا ہے، خواہ مخواہ جھک مار دی۔ آپ لوگوں کو تو یہ سب کچھ پتا ہے۔‘‘
یہ خود طنزی امین مغل کے اسلوب کا مستقل حصہ ہے۔
مذہب: عقیدے سے زیادہ سوال
امین مغل کے مذہب سے متعلق مختصر نوٹس میں بھی یہی سوالیہ ذہن کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔
“Wages of apostasy”
میں وہ صرف ایک سوال اٹھاتے ہیں: اگر ارتداد کی سزا موت ہو تو کیا کبھی یقین سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ظاہراً مسلمان کہلوانے والا شخص منافق نہیں؟
یہ کسی مفصل علم الکلام کا متن نہیں۔ ایک سطر ہے، لیکن سوال کی ساخت اہم ہے۔ جب کسی عقیدے سے نکلنے کی قیمت زندگی ہو تو ظاہری اقرار کو باطنی ایمان کی قابل اعتماد شہادت کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ یہاں امین مغل مذہب کی مابعد الطبیعی صداقت ثابت یا رد نہیں کر رہے؛ وہ جبر اور عقیدے کے تعلق پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
:نمازِ استسقا کی خبر پر ان کا عنوان اس سے بھی زیادہ کاٹ دار ہے
“God asked to persuade Himself to change His mind”
، یعنی خدا سے کہا گیا کہ وہ خود کو اپنا فیصلہ بدلنے پر آمادہ کرے۔ یہ طنز مذہبی رسوم سے زیادہ اس ذہنی منطق کو نشانہ بناتا ہے جس میں الٰہی ارادے اور انسانی درخواست کے تعلق کو بغیر سوال کے قبول کر لیا جاتا ہے۔
اس کے بالمقابل دیوالی پر ان کا مختصر مضمون حیرت انگیز طور پر اثباتی ہے۔ اقبال کے ’’تو نے رات بنائی، میں نے چراغ بنایا‘‘ کے مفہوم سے وہ دیوالی کو انسان کی تخلیقی صلاحیت کا استعارہ سمجھتے ہیں اور اسے انسان دوستی
(Humanism)
کا استعارہ قرار دیتے ہیں۔
یوں مذہبی روایت ان کے لیے صرف تنقید کی چیز نہیں؛ وہ اس کے اندر موجود انسانی تخلیقی امکانات کو بھی بازیافت کر سکتے ہیں۔
تہذیب کی تعریف: انسان سے آگے
اٹھائیس مئی 2016ء کی ایک سطری پوسٹ
“Civilized”
میں وہ تہذیب کی اپنی تعریف دیتے ہیں: کوئی معاشرہ انسانوں، دوسرے جانداروں اور پورے ماحولیاتی نظام کو جتنا زیادہ اپنی اخلاقی نگہداشت میں شامل کرتا ہے، تہذیبی اعتبار سے اتنا ہی ترقی یافتہ ہے۔
یہ تعریف قابل توجہ ہے، خصوصاً ایک ایسے شخص کے ہاں جس کی بنیادی سیاسی تربیت بیسویں صدی کے طبقاتی مارکسزم میں ہوئی۔ یہاں انسانی آزادی کا دائرہ صرف مزدور، شہری یا قوم تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوسرے زندہ موجودات اور
ecosystem
تک پھیل جاتا ہے۔ اگر امین مغل کے فکری سفر کو صرف ان کے کمیونسٹ ماضی میں منجمد کر دیا جائے تو ان چھوٹے مگر معنی خیز تغیرات کو دیکھا ہی نہیں جا سکے گا۔
ادب: نظریے کی عدالت نہیں، تجربے کی دنیا
امین مغل ادب کو سیاست سے الگ نہیں کرتے، لیکن اسے سیاست کا تابع فرمان بھی نہیں بناتے۔ اکتوبر انقلاب پر اپنی پرانی تحریر کے تعارف میں وہ ادب کے ممکنہ وظائف کو ایک وسیع طیف کے طور پر یاد کرتے ہیں: زبان اور ہیئت میں محض تجربے سے لے کر تعلیمی یا نظریاتی ادب اور حتیٰ کہ
escapism
تک۔ یہ اشارہ اہم ہے کیونکہ اس میں ادب کے لیے ایک ہی جائز وظیفہ مقرر نہیں کیا گیا۔
ساقی فاروقی اور حارث خلیق کی نظموں پر مختصر نوٹ میں وہ دونوں مختلف شعری سیاقوں کی ’’تحتانی سطح‘‘ پر ایک دردناک طنزیہ کیفیت کو شناخت کرتے ہیں اور ان شاعروں کو ان لوگوں کی بازیابی کا وسیلہ سمجھتے ہیں جو سماجی منظرنامے سے غائب کر دیے گئے تھے۔ یوں ادبی متن بھی ان کے لیے تاریخ کے حذف شدہ انسان کو دوبارہ مرئی بنانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
لیکن انھیں نظریاتی پولیس مین سمجھنا غلط ہوگا۔ ان کی اپنی مارکسی جمالیات کی کتابوں کی فہرست ’’حتمی نصاب‘‘ نہیں، مشورے کے لیے پیش کیا گیا ابتدائی خاکہ ہے۔ یہی فرق اہم ہے: وہ نظریے کو ادب کھولنے کی کنجی بناتے ہیں، ادب پر لگایا جانے والا تالہ نہیں۔
یادگاری تقریر میں بھی تنقید؟
امین مغل کی شخصیت کا شاید سب سے دل چسپ عکس
“No Anis Nagi, I”
میں بنتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں یادگاری اور تعزیتی اجتماعات میں عام طور پر مرحوم کی خوبیوں کا ذکر اور\ خوش گوار واقعات سنائے جاتے ہیں؛ تنقیدی جائزہ بدذوقی سمجھا جاتا ہے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس مدحیہ روایت کو سمجھتے تو ہیں، لیکن اب اس سے اتفاق نہیں کر سکتے، اسی لیے ایسی تقریبات میں بولنے سے کترانے لگے ہیں۔
پھر اپنے اوپر ہنستے ہیں۔ ایک زمانے میں انھوں نے مزاحمتی نوعیت کی ایک کتاب کا مقدمہ لکھا۔ مقدمہ تقریباً مکمل طور پر مدحیہ تھا، مگر توازن کے لیے ایک تنقیدی جملہ شامل کر دیا۔ مصنف نے یاد دلایا کہ ’’یہ تو صرف تعارف ہے‘‘۔ امین مغل کہتے ہیں، میں نے فوراً تنقیدی جملہ نکال دیا: ’’میں بہادر آدمی نہیں۔ میں انیس ناگی نہیں۔‘‘
یہاں خود طنزی بھی ہے، اعتراف بھی اور ادبی تنقید کا ایک اصول بھی: محبت اور احترام تنقید کو معطل نہیں کر سکتے۔
شاید امین مغل پر لکھتے ہوئے خود انہی کا یہ اصول سب سے زیادہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہتر طریقہ انھیں بے عیب شخصیت بنا دینا نہیں، بلکہ ان کے فکری سفر، تبدیلیوں، سوالوں اور تضادات کو محفوظ رکھنا ہے۔
طنز: ایک باریک نشتر
امین مغل بعض اوقات وہ بات ایک جملے میں کہہ جاتے ہیں جس پر کوئی دوسرا پورا کالم لکھ دے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریر پر لکھا کہ یہ
clichés
کی ایسی زنجیر تھی جس میں ہر کلیشے پچھلے کلیشے کی بازگشت تھا اور پہلا کلیشے آخری کلیشے کی بازگشت۔
ٹرمپ کی انتخابی فتح پر ان کا زیادہ سنجیدہ تبصرہ تھا کہ یہ ’’عقل اور تعاون کے مقابل خوف اور جارحیت کی فتح‘‘ ہے، اور دماغ کے عقلی حصے پر جبلی حصے کی فتح۔
یہاں سیاست پر ردعمل بھی ہے، نفسیات کا حوالہ بھی، روشن خیالی کا تصور بھی، اور جملے کی کاٹ بھی۔
اپنے بارے میں بھی یہی انداز ہے۔ بڑھاپے میں دوستوں کی جانب سے تحائف آنے پر پنجابی میں انھیں ’’نالائق، بے ہدایت، فضول خرچ‘‘ کہہ کر لکھتے ہیں کہ شاید اب مجھے اپنی طے شدہ مدتِ حیات بڑھانا پڑے۔ علم اور سیاست کے نیچے ایک ایسا آدمی موجود ہے جو زندگی سے تعلق کو مزاح کے ذریعے ہلکا بھی رکھتا ہے۔
تو پھر اپنی تحریروں میں امین مغل کون ہیں؟
امین مغل کی ان منتشر تحریروں کو ایک ساتھ پڑھتے ہوئے کوئی مکمل اور بے تضاد نظریاتی نظام سامنے نہیں آتا۔ اور شاید یہی ان کی اصل خوبی ہے۔
یہاں ایک نوجوان اور درمیانی عمر کا کمیونسٹ ہے جسے سوویت یونین کے استحکام پر گہرا یقین تھا؛ پھر وہی آدمی بوڑھا ہو کر اپنی پرانی تحریر کے اوپر لکھ دیتا ہے کہ یہ تصور اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ یہاں مارکسزم سے طویل وابستگی رکھنے والا کارکن ہے جو برنسٹائن کو دوبارہ پڑھتا ہے، تاریخی ناگزیریت پر شک کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سماج کی کوئی پہلے سے طے شدہ آخری منزل نہیں۔ یہاں وہ شخص ہے جو سوشلزم کو ترک نہیں کرتا مگر پرولتاریہ کی آمریت کی معنویت پر سوال اٹھاتا اور جمہوری، پارلیمانی اور غیر پارلیمانی جدوجہد کو زیادہ متعلق سمجھتا ہے۔ یہاں ایک تاریخ شناس ہے جو فاتحین کی لکھی تاریخ کے مقابل مغلوبین کی یادداشتیں جمع کرنا چاہتا ہے۔ یہاں ادبی قاری ہے جو وارث شاہ پر اپنی پرانی تحریر کو خود ’’طالبانہ‘‘ کہہ سکتا ہے۔ یہاں ایک مرد مارکسی دانش ور ہے جو پدر سری خاندان کی ساخت کے بحران کو نئی ابلاغی ٹیکنالوجی، تعلیم اور معیشت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہاں مذہبی تصورات کے بارے میں بے خوف سوال کرنے والا ذہن ہے، مگر یہی ذہن دیوالی میں انسانی تخلیقیت کا جشن بھی دیکھ لیتا ہے۔ اور یہاں ایک ایسا شخص ہے جو اپنی لاعلمی کے بڑھتے ہوئے احساس کو علم کی شکست نہیں سمجھتا بلکہ مزید پڑھنے کی وجہ بنا لیتا ہے۔
امین مغل نے اپنی تحریروں کو بڑے دعوے سے
’’Collected Works‘‘
:نہیں کہا۔ بلاگ کے نام میں ایک نرم سا لفظ رکھا
Musings،
غور و فکر۔ لیکن ان افکار و خیالات کو زمانی ترتیب سے پڑھیں تو یہ محض منتشر خیالات نہیں رہتے۔ ان میں ایک طویل فکری زندگی کے نشانات محفوظ ہیں: یقین کے، غلطیوں کے، شکستوں کے، نظرثانی کے، کتابوں کے، دوستوں کے، سیاسی خوابوں کے، طنز کے، اور سب سے بڑھ کر سوال کرنے کی ضد کے۔
شاید ان کی اصل فکری میراث کسی ایک سیاسی موقف، جماعتی وابستگی یا نظریاتی فارمولے میں نہیں۔ وہ اس حقِ نظرثانی میں ہے جسے وہ اپنے لیے زندگی کے آخر تک محفوظ رکھتے ہیں۔
وہ اپنی پرانی رائے کے مقابل نئی کتاب رکھ سکتے تھے۔ اپنی محبوب نظریاتی روایت کے سامنے تاریخ کا ناخوش گوار ثبوت رکھ سکتے تھے۔ اپنے ہی ماضی پر شک کر سکتے تھے۔ اپنی غلطی کو archive سے مٹا دینے کے بجائے اس پر تاریخ درج کر سکتے تھے۔ اور جب کوئی جواب حتمی معلوم ہونے لگتا تو شاید اگلی کتاب کھول لیتے تھے۔
:اسی لیے ان کے بلاگ کا ذیلی عنوان محض ویب سائٹ کا نام نہیں، ان کے فکری طریقۂ کار کا خلاصہ محسوس ہوتا ہے
Dialogue with you
تم سے مکالمہ
امین مغل اپنے قاری کو عقیدے کے حلقے میں داخل ہونے کی دعوت نہیں دیتے۔ وہ اسے میز کے دوسری طرف ایک خالی کرسی دیتے ہیں۔
بات شروع کرتے ہیں۔
دلیل رکھتے ہیں۔
کبھی خود اپنی دلیل کاٹ دیتے ہیں۔
:پھر شاید مسکرا کر کہتے ہیں
یار زندہ، صحبت باقی۔