قانون وہی ہے پرانا
محمد عامر حسینی
منگو کوچوان، گمراہ شعور اور منٹو کی طبقاتی بصیرت
سعادت حسن منٹو کے افسانے ’’نیا قانون‘‘ کی مارکسی و نوآبادیاتی بازقرأت
سعادت حسن منٹو کے افسانے ’’نیا قانون‘‘ کو ایک ان پڑھ کوچوان کی سیاسی سادہ لوحی کا لطیفہ سمجھ لینا آسان ہے۔ استاد منگو نے اسکول کا منہ نہیں دیکھا، اسپین کا جغرافیہ نہیں جانتا، سوویت نظام کو ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے تصور میں رکھتا ہے، سرخ پوش تحریک، اشتراکیت، بغاوت اور نئے آئینی بندوبست کی خبریں اپنے ذہن میں ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے، اور پھر یکم اپریل کو اس یقین کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر نکلتا ہے کہ آج سے ہندوستان بدل گیا ہوگا۔ آخرکار ایک انگریز سے اس کا تصادم ہوتا ہے، وہ اسے پیٹتا ہے، پولیس اسے گرفتار کرتی ہے، اور تھانے میں اس کی مسلسل پکار ’’نیا قانون، نیا قانون‘‘ کا جواب ایک ایسا جملہ بن کر آتا ہے جو پورے افسانے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے:
’’!قانون وہی ہے پرانا‘‘
مگر اسی بظاہر مضحکہ خیز واقعے میں ایک مشکل سیاسی سوال چھپا ہوا ہے۔ کیا منگو کی غلط فہمیاں واقعی اس بات کا ثبوت ہیں کہ منٹو غریب اور محنت کش عوام کو گاؤدی، کوتاہ نظر اور سیاسی طور پر کمتر سمجھتا تھا؟ کیا ’’نیا قانون‘‘ گمراہ شعور کی کہانی ہے، لیکن ایسا گمراہ شعور جس کا حامل منگو نہیں بلکہ خود منٹو ہے؟ اور کیا اس کے مقابل یہ دعویٰ درست ہے کہ سماج کے غریب ترین محنت کشوں کا سیاسی شعور لازماً متوسط یا حکمران طبقے سے بلند ہوتا ہے، لہٰذا کسی مزدور کو سیاسی طور پر غلط، متضاد یا ناپختہ دکھانا بذاتِ خود طبقاتی تعصب ہے؟ یہ اعتراض سنجیدہ ہے۔ کسی ادیب کو اس کی ادبی عظمت کی شہرت کے باعث طبقاتی تنقید سے استثنا نہیں دیا جاسکتا۔ یہ پوچھنا بالکل جائز ہے کہ تعلیم یافتہ شہری ادیب حاشیے کے، غیر تعلیم یافتہ اور محنت کش انسان کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کیا اس کے طنز میں ہمدردی ہے یا طبقاتی تحقیر؟ کیا وہ کردار کو اپنی زبان اور اپنی
agency
دیتا ہے یا اسے تعلیم یافتہ قاری کے لیے ایک مضحکہ خیز تماشا بنا دیتا ہے؟ لیکن اس اعتراض پر فیصلہ دینے سے پہلے ایک بنیادی ادبی فرق قائم کرنا ضروری ہے: کردار کا شعور، راوی کی آواز اور مصنف کے متن کی مجموعی نظریاتی حرکت ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ اگر یہ فرق مٹا دیا جائے تو افسانے کے ہر غلط خیال کو مصنف کا خیال سمجھنا پڑے گا، اور فکشن کی پوری جمالیاتی خودمختاری ختم ہوجائے گی۔
منگو: ان پڑھ، مگر بے خبر نہیں
’’نیا قانون‘‘ کی پہلی سطریں ہی اس تصور کو مشکل بنا دیتی ہیں کہ منٹو نے منگو کو صرف ایک احمق کوچوان بنایا ہے۔ منٹو لکھتا ہے کہ منگو اپنے اڈے میں ’’بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا‘‘۔ اس کی رسمی تعلیم تقریباً صفر ہے، اس نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، لیکن اڈے کے دوسرے کوچوان دنیا کے حالات جاننے کے لیے اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ محض طنزیہ تعارف نہیں۔ یہاں منٹو دو مختلف قسم کے علم کے درمیان فاصلہ قائم کرتا ہے۔ ایک طرف رسمی، کتابی اور ادارہ جاتی علم ہے؛ دوسری طرف روزمرہ زندگی، سماعت، تجربے، بازار، کچہری، چھاؤنی اور سواریاں ڈھونے کے دوران حاصل ہونے والا عوامی علم۔ منگو کا علم منتشر ہے۔ اس میں افواہ ہے، توہم ہے، نامکمل معلومات ہیں۔ لیکن وہ سیاسی دنیا سے بے تعلق نہیں۔ اسپین کی جنگ، ہندو مسلم فساد، کانگریس، روس، سرخ پوش تحریک، سود خور، بیرسٹر، کالج کے نوجوان اور انگریز سپاہی سب اس کے ذہنی نقشے میں موجود ہیں۔ اس مقام پر پہلا بنیادی فرق سامنے آتا ہے: معلوماتی غلطی اور طبقاتی یا سیاسی بے شعوری ایک چیز نہیں۔
گمراہ شعور کی اصطلاح کا مسئلہ
یہاں ’’گمراہ شعور‘‘
(False Consciousness)
کی اصطلاح کو بھی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ اسے اکثر مارکس کی ایک مکمل اور متعین نظریاتی اصطلاح سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس ترکیب کی معروف صریح صورت اینگلز کے 14 جولائی 1893ء کے فرانز مہرنگ کے نام خط میں ملتی ہے۔ اینگلز کے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ نظریاتی سوچ رکھنے والا شخص اپنے خیالات کو حرکت دینے والی حقیقی مادی قوتوں سے ناواقف رہتے ہوئے انہیں خالص فکر کی پیداوار سمجھ لیتا ہے۔ بعد کی مارکسی روایت نے اس تصور کو طبقاتی شعور، غالب نظریے، ازخود فریبی اور سماجی تعلقات کی غلط شناخت کے مباحث تک وسیع کیا۔ اس لیے ہر معلوماتی غلطی کو گمراہ شعور کہنا نظریاتی طور پر بے احتیاطی ہوگی۔ منگو کو اسپین کا جغرافیہ معلوم نہیں۔ گاما چودھری پوچھتا ہے کہ اسپین کہاں ہے تو وہ پوری سنجیدگی سے جواب دیتا ہے: ’’ولایت میں اور کہاں؟‘‘ لیکن جس جنگ کی خبر اس نے سنی تھی، وہ چھڑ جاتی ہے اور اڈے کے دوسرے کوچوان اس کی ’’دانائی‘‘ کے مزید قائل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح منگو سوویت نظام کی سیاسی ساخت نہیں جانتا۔ وہ ’’روس والے بادشاہ‘‘ کی بات کرتا ہے اور روس، سرخ پوشوں، بغاوت کے مقدمات اور نئے آئینی قانون کو اپنے ذہن میں خلط ملط کردیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ منٹو کا راوی خود اس خلطِ مبحث کی نشان دہی کرتا ہے۔ کردار کی غلطی یہاں خود متن کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ تب سوال یہ نہیں رہتا کہ منگو کتنا جانتا ہے؛ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ وہ کیا نہیں جانتا اور کیا جانتا ہے۔
اسپین نہیں جانتا، استعمار جانتا ہے
منگو کی انگریز دشمنی کسی تجریدی قوم پرستانہ نعرے سے پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے روزمرہ نوآبادیاتی تذلیل کا مادی تجربہ ہے۔ چھاؤنی کے گورے اس سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے وہ انسان نہیں، کوئی کمتر مخلوق ہو۔ ایک مقام پر اس کے اندر کی پوری نوآبادیاتی نفرت چند غیر معمولی عوامی جملوں میں سمٹ آتی ہے:
’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔‘‘
’’یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں۔‘‘
منگو کے پاس ’’استعمار‘‘، ’’نوآبادیاتی تسلط‘‘ یا ’’نسلی درجہ بندی‘‘ جیسی اصطلاحات نہیں۔ لیکن اس نے تعلق کو پہچان لیا ہے: باہر سے آنے والی طاقت مقامی گھر کی مالک بن گئی ہے اور اصل باشندے کو نوکر کے درجے پر اتار دیا گیا ہے۔ اسے اسپین نہیں معلوم، مگر گورے کی بالادستی معلوم ہے۔ اسے سوویت ریاست کی ساخت معلوم نہیں، مگر اسے ایسی سیاسی تبدیلی میں کشش محسوس ہوتی ہے جو پرانے طاقتوروں کے خلاف ہو۔ اسے آئینی وفاقیت معلوم نہیں، مگر آزادی کی اس کی سب سے بنیادی تعریف نہایت مادی ہے: گورا مجھے ذلیل نہ کرسکے۔ کیا اسے سیاسی بے شعوری کہا جائے؟ یا یہ سیاسی شعور کی ایسی ابتدائی، تجرباتی صورت ہے جس کے پاس ابھی اپنی مکمل نظریاتی زبان نہیں؟
منگو کا متضاد شعور
یہیں انتونیو گرامشی زیادہ کارآمد معلوم ہوتا ہے۔ گرامشی عوامی عام فہم شعور
(Common Sense)
کو کوئی مربوط فلسفیانہ نظام نہیں سمجھتا۔ اس میں مختلف تاریخی زمانوں، مذہبی تصورات، توہمات، غالب نظریات اور عملی تجربات کے ٹکڑے ایک ساتھ موجود ہوسکتے ہیں۔ اسی عام فہم کے اندر وہ ایک ’’صحت مند مرکز‘‘ یا ’’اچھا فہم‘‘ (Good Sense) بھی تلاش کرتا ہے جو عملی زندگی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک محکوم طبقات کے متضاد شعور کو حقارت سے مسترد کرنے کے بجائے اس کی داخلی ساخت کو سمجھنا ضروری ہے۔ منگو شاید اسی متضاد شعور کی ایک غیر معمولی ادبی صورت ہے۔ وہ ہندو مسلم فساد کو کسی درویش کی بددعا سے جوڑ سکتا ہے۔ وہ ’’روس والے بادشاہ‘‘ کا تصور بھی رکھتا ہے۔ مگر اسی ذہن کے اندر انگریزی راج سے نفرت، سود خور سے غصہ، غریب کے لیے ہمدردی اور انسانی برابری کی شدید خواہش بھی موجود ہے۔ اس لیے منگو کو صرف ’’گمراہ شعور‘‘ کہنا اس کے شعور کے اندر موجود تضاد کو ایک ایسے خانے میں بند کرنا ہے جو افسانہ خود قبول نہیں کرتا۔
مگر مزدور ہونا بھی عصمتِ شعور نہیں
یہاں زیرِ بحث مارکسی تنقید کی دوسری انتہا بھی قابلِ اعتراض ہے۔ یہ کہنا کہ غریب ترین محنت کش کا سیاسی شعور لازماً متوسط اور حکمران طبقے کے شعور سے بلند ہوگا، مارکسزم سے زیادہ طبقاتی رومانویت ہے۔ طبقاتی مقام سیاسی بصیرت کا امکان پیدا کرتا ہے، خودکار طور پر مکمل سیاسی شعور نہیں۔ اگر محض مزدور ہونا صحیح نظریاتی شعور کے لیے کافی ہوتا تو بالادستی، تنظیم، سیاسی تعلیم، طبقاتی جدوجہد اور نظریاتی کشمکش کے تمام مارکسی مباحث غیر ضروری ہوجاتے۔ گرامشی کی بالادستی
(Hegemony)
کا تصور اسی لیے اہم ہے کہ محکوم طبقات بھی حکمران معاشرے کے مذہبی، قومی، اخلاقی اور ثقافتی تصورات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ریاست صرف پولیس، عدالت اور فوج سے حکومت نہیں کرتی؛ رضامندی، ثقافت، تعلیم اور عام فہم بھی اقتدار کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔
چنانچہ: غریب ہونا حقیقت تک ایک مخصوص مادی رسائی فراہم کرسکتا ہے؛ مگر غربت خود کوئی نظریاتی یونیورسٹی نہیں۔ منگو اس لیے قابلِ اعتبار کردار ہے کہ منٹو اسے مارکسی کتاب کا چلتا پھرتا اقتباس نہیں بناتا۔ وہ غلط بھی ہے۔ درست بھی۔ اسی لیے زندہ ہے۔
افسانے میں زیادہ باشعور کون ہے؟
یہاں ’’نیا قانون‘‘ کا طبقاتی ڈھانچا اپنی اصل قوت دکھاتا ہے۔ اگر منٹو واقعی متوسط طبقے کو منگو سے برتر سمجھتا ہوتا تو افسانے کے تعلیم یافتہ اور صاحبِ حیثیت کرداروں کا سیاسی افق لازماً منگو سے بلند ہونا چاہیے تھا۔ مگر مارواڑی نئے قانون کی خبر سنتے ہی یہ پوچھتا ہے کہ سود کے بارے میں بھی کوئی نیا قانون آئے گا یا نہیں۔ اس کے برعکس منگو اسی خبر میں سود خوروں کے خلاف غریب کی نجات کا امکان دیکھتا ہے اور انہیں ’’غریبوں کی کھٹیا میں گھسے ہوئے کھٹمل‘‘ کہتا ہے۔ اس کا نتیجہ غلط ہے، مگر طبقاتی سوال غلط نہیں۔
پھر دو بیرسٹر آتے ہیں۔ وہ
Federation
کی تکنیکی پیچیدگی پر بحث کررہے ہیں۔ منگو ان کی بیشتر انگریزی اصطلاحیں نہیں سمجھتا اور غلط نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ یہاں بیرسٹر معلومات میں اس سے کہیں آگے ہیں۔ مگر پھر گورنمنٹ کالج کے تعلیم یافتہ نوجوان آتے ہیں۔ نئے آئین سے ان کی بڑی امید کیا ہے؟ اسمبلی کے ذریعے کسی صاحب کی رسائی بڑھے گی، سرکاری ملازمتیں نکلیں گی، بے روزگار گریجویٹوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔
گویا مارواڑی کو سود دکھائی دیتا ہے، طالب علم کو نوکری، بیرسٹر کو آئینی ساخت، اور منگو کو گورے کی حکمرانی کا خاتمہ۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ معلومات رکھتا ہے۔ اس کا جواب صاف ہے: بیرسٹر۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کے مادی رشتے کو کون بنیادی مسئلہ سمجھ رہا ہے؟ اس لحاظ سے منٹو علم اور شعور کو ایک دوسرے کا مترادف نہیں بناتا۔ بیرسٹر زیادہ جانتا ہے، منگو زیادہ جھیلتا ہے، اور جھیلنے سے حاصل ہونے والا علم بھی علم ہے۔
جس قانون کو منگو دیکھنا چاہتا ہے
منگو ’’نئے قانون‘‘ کو آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے اپنے گھوڑے کا نیا ساز یاد آتا ہے، جس پر نکل چڑھی کیلیں چمکتی تھیں اور پیتل سونے کی طرح دمکتا تھا۔ لہٰذا ’’نیا‘‘ قانون بھی اسے کسی نہ کسی معنی میں چمکتا دکھائی دینا چاہیے۔ یہ افسانے کا بڑا مزاحیہ استعارہ ہے، مگر اس کے نیچے ایک گہرا مادی سوال ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی قانون کو متن میں پڑھتا ہے۔ منگو قانون کو بدن پر محسوس کرتا ہے۔
منگو کے لیے قانون پولیس، عدالت، گورے کی چھڑی، گرفتاری اور حوالات کی مادی صورتوں میں موجود ہے۔ اس لیے جب اسے بتایا جاتا ہے کہ قانون بدل گیا ہے تو وہ اس تبدیلی کو اسی دنیا میں تلاش کرتا ہے۔ یکم اپریل کی صبح بازار وہی، سڑک وہی، کھمبے وہی، دکانیں وہی اور لوگ وہی ہیں؛ صرف اس کے گھوڑے کے سر پر نئی کلغی ہے۔ ہم منگو پر ہنس سکتے ہیں کہ قانون کوئی رنگین عمارت نہیں، لیکن منٹو اسی ہنسی کے اندر دوسرا سوال رکھ دیتا ہے: اگر قانون واقعی نیا ہے تو منگو کی دنیا میں کیا نیا ہوا؟
یکم اپریل 1937ء اور آئینی نئے پن کی حد
یہ سوال تاریخی طور پر بھی بے بنیاد نہیں۔
Government of India Act 1935
کے تحت صوبائی خود مختاری کا نفاذ 1 اپریل 1937ء سے ہوا تھا۔ برطانوی پارلیمان کے جون 1936ء کے ریکارڈ میں اسی تاریخ کو باقاعدہ مقرر کیا گیا، اور 6 اپریل 1937ء کی پارلیمانی کارروائی میں تصدیق موجود ہے کہ
Provincial Autonomy
یکم اپریل سے نافذ ہوچکی تھی۔ لیکن یہ مکمل اقتدار کی منتقلی نہیں تھی۔ 1935 کے ایکٹ میں صوبائی گورنر کے پاس وزرا سے الگ اپنی صوابدید، انفرادی فیصلے اور متعدد ’’خصوصی ذمہ داریوں‘‘ کے اختیارات موجود رہے۔ گورنر امن و امان، بعض انتظامی معاملات اور مخصوص حالات میں اپنے اختیارات استعمال کرسکتا تھا؛ حتیٰ کہ یہ فیصلہ بھی کئی مواقع پر خود گورنر کے اختیار میں تھا کہ کوئی معاملہ اس کے صوابدیدی دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا منٹو کا یکم اپریل محض مزاحیہ تاریخ نہیں۔ یہ آئینی نئے پن اور اقتدار کے تسلسل کے درمیان تاریخی تضاد کا دن بھی ہے۔
قانون کتاب میں نہیں، تعلقِ اقتدار میں ہے
اس افسانے کی شاید سب سے اہم سطر وہ ہے جہاں منگو گزشتہ برس گورے سے ہونے والے جھگڑے کو یاد کرتا ہے۔ اس وقت وہ اسے پیٹ سکتا تھا، مگر رک گیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ایسے معاملات میں ’’عدالت کا نزلہ عام طور کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔‘‘ اس ایک جملے کے بعد منگو کو مکمل طور پر سیاسی احمق کہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ قانون نہیں جانتا۔ لیکن قانون کا طبقاتی اور نسلی اثر جانتا ہے۔ اسے قانونی مساوات کی تعریف نہیں آتی۔ لیکن معلوم ہے کہ گورا اور کوچوان عدالت میں برابر نہیں۔ یہی اس کے شعور کا ’’اچھا فہم‘‘ ہے۔ اس کا سوال یہ نہیں کہ آئینی وفاق کیسے کام کرے گا۔
کیا گورا اب بھی مجھے چھڑی مار سکتا ہے؟
اس سوال کے سامنے آئینی تکنیک اچانک ثانوی معلوم ہونے لگتی ہے۔
صحیح خواہش، غلط تاریخ
منٹو نے منگو کو فطرتاً جلد باز بنایا ہے۔ اس کی بیوی حاملہ ہوتی ہے تو وہ بچے کی پیدائش کا انتظار بھی مشکل سے کرتا ہے۔ گنگا دیوی کہتی ہے: ’’ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور پیاس سے نڈھال ہو رہے ہو۔‘‘ یہی بے صبری نئے قانون کے معاملے میں بھی موجود ہے۔ مگر محکوم کی سیاسی بے صبری کو محض نفسیاتی بچپنا سمجھنا کافی نہیں۔ منگو کی بنیادی غلطی یہ نہیں کہ وہ آزادی فوری چاہتا ہے۔ غلطی یہ ہے کہ وہ آئینی اصلاح کو آزادی سمجھ لیتا ہے۔ اسے مسئلہ درست معلوم ہے۔ اسے تاریخ غلط معلوم ہے۔ وہ حاکم سے نجات چاہتا ہے۔ مگر نجات کے واقع ہوجانے کا اعلان قبل از وقت کردیتا ہے۔
اس لیے منگو کے شعور کی زیادہ درست ترکیب یہ ہے: صحیح غصہ مگر غلط معلومات، حقیقی خواہش مگر غلط تاریخی نتیجہ، درست تجربہ مگر نامکمل نظریہ۔
’’اب ہمارا راج ہے بچہ‘‘
جب گورا دوبارہ اس کے سامنے آتا ہے اور پرانی اکڑ کے ساتھ چھڑی اس کی ران سے لگاتا ہے تو منگو کے اندر نئے قانون کا پورا وہم ایک جسمانی عمل بن جاتا ہے۔ وہ گورے کو پیٹتے ہوئے کہتا ہے:
’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں۔۔۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!‘‘
’’اب ہمارا راج ہے‘‘ حقیقتاً غلط ہے۔ لیکن اس غلط جملے میں ایک بڑا سیاسی سچ موجود ہے: منگو گورے کی حکمرانی کو اب فطری نہیں سمجھتا۔ غلامی کے نظریاتی استحکام کی سب سے گہری صورت یہ ہوتی کہ محکوم حاکم کی بالادستی کو قدرتی، جائز اور ابدی مان لے۔ منگو ایسا نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک راج بدل سکتا ہے۔ اس کی غلطی صرف یہ ہے کہ وہ سمجھ بیٹھا ہے کہ راج بدل چکا ہے۔
اور آخرکار قانون نظر آجاتا ہے
منگو صبح سے نیا قانون دیکھنے نکلا تھا۔ افسانے کے آخر میں قانون واقعی اسے نظر آتا ہے: دو پولیس والے آتے ہیں، گورا بچا لیا جاتا ہے، منگو گرفتار ہوتا ہے، تھانہ آتا ہے اور حوالات کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ پھر جواب ملتا ہے:
’’قانون وہی ہے پرانا۔‘‘
یہیں منٹو کا طنز فیصلہ کن طور پر اپنی سمت بدلتا ہے۔ اگر مسئلہ صرف منگو کی جہالت ہوتا تو پولیس کہہ سکتی تھی: تم قانون نہیں سمجھے۔ یہ آزادی نہیں ہے۔ تم غلط ہو۔ لیکن منٹو پولیس کے منہ سے کہلواتا ہے: قانون وہی ہے پرانا۔ یہ صرف منگو کی غلطی کی تصحیح نہیں۔ یہ ’’نئے‘‘ قانون پر بھی فیصلہ ہے۔ آئینی عنوان نیا ہوسکتا ہے۔ لیکن منگو کے جسم اور گورے کے اختیار کا تعلق ابھی پرانا ہے۔ یہاں افسانہ فرد کی خام خیالی سے اٹھ کر نوآبادیاتی اصلاح پسندی کے تضاد تک پہنچ جاتا ہے۔
گمراہ شعور کس کا تھا؟
اب ابتدائی سوال کی طرف واپس آیا جاسکتا ہے۔ کیا منگو کے شعور میں گمراہی ہے؟ یقیناً۔ وہ آئینی اصلاح کو اقتدار کی مکمل منتقلی سمجھ لیتا ہے۔ لیکن کیا اس کا پورا شعور گمراہ ہے؟ نہیں۔ نوآبادیاتی تحقیر، نسلی برتری، قانونی عدم مساوات اور غریب کے معاشی استحصال کے بارے میں اس کا تجرباتی شعور نہایت حقیقی ہے۔ اس لیے منگو کو گمراہ شعور سے زیادہ متضاد شعور کا کردار کہنا زیادہ مناسب ہے۔
اور افسانہ اس کے وہم کو مضبوط نہیں کرتا۔ اسے توڑ دیتا ہے۔ اس لحاظ سے ’’نیا قانون‘‘ گمراہ شعور کی توثیق نہیں بلکہ اس کے انہدام کا ڈراما ہے۔ نام اور حقیقت کے درمیان پردہ پھٹتا ہے۔ ’’نیا قانون‘‘ آخر میں اپنے نام ہی کے خلاف گواہی دینے لگتا ہے۔
طنز، تحقیر نہیں
یہاں منٹو کے حق میں ضرورت سے زیادہ وکالت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ منگو کی زبان، اس کی سیاسی خام خیالی، ’’روس والے بادشاہ‘‘ اور قانون کو چمکتی شے سمجھنے میں منٹو واضح مزاح پیدا کرتا ہے۔ تعلیم یافتہ قاری بعض مقامات پر خود کو منگو سے برتر محسوس کرسکتا ہے۔ یہ طبقاتی فاصلے کا جائز تنقیدی سوال ہے۔ لیکن طنز اور تحقیر ایک نہیں۔ تحقیر تب ہوتی اگر منٹو منگو سے انسانی معنویت چھین لیتا، اسے صرف مضحکہ خیز کردار بناتا، اس کے استعماری تجربے کو بے معنی قرار دیتا اور تعلیم یافتہ کرداروں کو اس کے مقابل اخلاقی و سیاسی برتری دے دیتا۔ افسانہ ایسا نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی طنزیہ تضاد کا کمال یہ ہے کہ قاری کی ابتدائی ہنسی آخر میں خود قاری کے محفوظ مقام کو توڑ دیتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ اسپین کہاں ہے، ہم جانتے ہیں کہ روس میں بادشاہ نہیں، اور ہم
Federation
سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن منگو ہم سے ایک زیادہ سفاک سوال پوچھتا ہے: گورا اب بھی مجھ پر حاکم کیوں ہے؟
منگو کو انقلابی بت بھی نہ بنائیں
اسی طرح منگو کو طبقاتی رومانویت کے تحت کوئی فطری انقلابی دانشور بنا دینا بھی اس کے کردار سے ناانصافی ہوگی۔ وہ پورے ہندوستانی پرولتاریہ کا شماریاتی نمائندہ نہیں۔ وہ لاہور کا ایک مخصوص کوچوان ہے، اپنی نفسیات، جلد بازی، توہم، غصے، محدود معلومات اور مخصوص تجربات کے ساتھ۔ اس کی ہر غلطی پورے مزدور طبقے کی غلطی نہیں۔ اور اس کی ہر بصیرت پورے طبقے کی شعوری سطح کا ثبوت نہیں۔ ادب کی طاقت اسی انفرادیت میں ہے۔
اگر منٹو اسے ایسا کوچوان بناتا جو
Government of India Act
کی دفعات جانتا، سوویت نظام کی درست توضیح کرتا، فرقہ واریت کی مادی تاریخ بیان کرتا اور آخر میں سامراج پر ایک مکمل مارکسی تقریر کردیتا، تو وہ شاید سیاسی پمفلٹ کے لحاظ سے ’’صحیح‘‘ کردار ہوتا۔ لیکن افسانے کے لحاظ سے جھوٹا۔ منٹو اسے نظریاتی پوسٹر نہیں بناتا۔ وہ اسے انسان رہنے دیتا ہے۔
منٹو کے فن کا ایک وسیع تر قرینہ
منٹو کے دوسرے اہم حاشیائی کرداروں کو دیکھیں تو یہی فنی رویہ بار بار سامنے آتا ہے۔ ’’ہتک‘‘ کی سوگندھی سماجی اخلاقیات کی نگاہ میں حاشیے پر ہے، مگر توہین کا تجربہ اسی کے ذریعے انسانی وقار کا سوال بن جاتا ہے۔ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں ریاستی عقل بشن سنگھ کو پاگل قرار دیتی ہے، لیکن آخرکار قومی سرحد کی بے معنویت کو سب سے گہری صورت میں وہی ’’پاگل‘‘ ظاہر کرتا ہے۔ منٹو حاشیے کے آدمی کو لازماً زیادہ عقل مند نہیں بناتا۔ وہ کچھ زیادہ خطرناک کرتا ہے: وہ مرکز کی عقل کو حاشیے کے تجربے کے سامنے کھڑا کردیتا ہے۔ منگو کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔
زیرِ بحث مارکسی اعتراض کی اصل قدر
اس تنقید کو یکسر مسترد کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس کی سب سے اہم خدمت یہی ہے کہ وہ منٹو سے ایک ضروری سوال پوچھتی ہے: ادیب اپنے غریب کردار پر کیوں ہنس رہا ہے؟ اس ہنسی میں طبقاتی فاصلہ کتنا ہے؟ کیا تعلیم یافتہ راوی عوامی کردار کو exotic یا مضحکہ خیز شے بنا رہا ہے؟ یہ سوال قائم رہنے چاہئیں۔ لیکن تنقید وہاں کمزور ہوجاتی ہے جہاں وہ سوال کو پہلے سے طے شدہ جواب بنا دیتی ہے۔
اس تنقید کی بنیادی لغزشیں یوں سامنے آتی ہیں: کردار کے شعور کو مصنف کے شعور کے برابر رکھ دینا؛ معلوماتی جہالت کو طبقاتی بے شعوری سمجھ لینا؛ محنت کش طبقے کے شعور کو رومانوی مطلق بنا دینا؛ اور منگو کو مارواڑی، بیرسٹر، طالب علم، گورے اور پولیس کی مجموعی طبقاتی ساخت سے الگ کرکے پڑھنا۔ شاید سب سے بڑی لغزش یہ ہے کہ افسانے کے آخری جملے کو منگو کی حماقت کا فیصلہ سمجھ لیا جائے، جبکہ یہی جملہ خود نوآبادیاتی ’’نئے پن‘‘ کے خلاف فردِ جرم میں بدل جاتا ہے۔
قانون آخر کہاں رہتا ہے؟
’’نیا قانون‘‘ کی عظمت یہ نہیں کہ منٹو منگو کو سیاسی طور پر درست ثابت کرتا ہے۔ منگو درست نہیں، مگر وہ محض غلط بھی نہیں۔ وہ دنیا کو آدھا جانتا ہے اور اپنی ذلت پوری جانتا ہے۔ وہ تاریخ کی اصطلاح نہیں جانتا، مگر تاریخ اس کے جسم پر لکھی ہوئی ہے۔ وہ آئین نہیں پڑھ سکتا، لیکن جانتا ہے کہ عدالت کا نزلہ کس پر گرتا ہے۔ وہ سوویت نظام نہیں سمجھتا، مگر ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جس میں پرانا حاکم اپنے آپ کو ابدی مالک نہ سمجھ سکے۔ اسے آزادی کی آئینی تعریف معلوم نہیں، مگر اسے معلوم ہے کہ آزادی کا کوئی ایسا مطلب ضرور ہونا چاہیے جس میں گورا اسے چھڑی نہ مار سکے۔
یہیں ’’نیا قانون‘‘ کا سب سے گہرا مارکسی سوال پیدا ہوتا ہے: سیاسی شعور کا پیمانہ یہ ہے کہ آدمی
Federation
کی درست تعریف جانتا ہو، یا یہ کہ اسے معلوم ہو کس کا ہاتھ کس کے جسم پر اختیار رکھتا ہے؟ منگو پہلی آزمائش میں ناکام ہے، دوسری میں نہیں۔ اسی لیے اس کا شعور نہ خالص انقلابی شعور ہے، نہ محض گمراہ شعور۔ وہ متضاد شعور ہے جس میں توہم اور تجربہ، افواہ اور حقیقت، غلط تاریخ اور صحیح غصہ، سیاسی خام خیالی اور انسانی وقار کی شدید خواہش ایک ساتھ موجود ہیں۔
منٹو اس تضاد کو کسی نظریاتی تقریر سے حل نہیں کرتا۔ وہ ایک گورا سامنے لاتا ہے، ایک چھڑی، منگو کا گھونسہ، دو پولیس والے، ایک تھانہ اور حوالات کا دروازہ۔ پھر ایک جملہ:
’’قانون وہی ہے پرانا۔‘‘
اس کے بعد سوال منگو کی جہالت کا نہیں رہتا۔ سوال یہ ہے: اگر آئین بدلنے کے باوجود محکوم جسم پر اختیار رکھنے والا ہاتھ وہی رہا، اگر ’’نئے‘‘ قانون کے دن بھی گورا محفوظ اور کوچوان حوالات میں تھا، تو واقعی گمراہ شعور کس کا تھا؟
حواشی و مراجع
1. سعادت حسن منٹو، ’’نیا قانون‘‘۔ اس مضمون کی بنیادی قرأت مکمل افسانوی متن پر مبنی ہے، خصوصاً منگو کے ابتدائی تعارف، انگریزوں کے بارے میں اس کے رویے، نئے آئین سے متعلق سنی ہوئی گفتگو، یکم اپریل کے مناظر اور اختتامی تصادم پر۔
2. Friedrich Engels, Letter to Franz Mehring, 14 July 1893. ’’False Consciousness‘‘ کی معروف صریح تعبیر کے تاریخی استعمال کے لیے۔
3. Antonio Gramsci, Prison Notebooks؛ نیز Stanford Encyclopedia of Philosophy, “Antonio Gramsci.” عام فہم شعور، اچھے فہم، متضاد شعور، بالادستی اور force/consent کے تعلق کی توضیح کے لیے۔
4. Stanford Encyclopedia of Philosophy, “Ideology.” مارکس، اینگلز اور بعد کی مارکسی روایت میں ideology اور گمراہ شعور کے مختلف استعمالات اور ان کے نظریاتی مسائل کے لیے۔
5. Government of India Act, 1935. صوبائی انتظام، گورنروں کے صوابدیدی اختیارات اور خصوصی ذمہ داریوں کے تاریخی سیاق کے لیے۔
6. UK Parliament, Hansard, 12 June 1936; 6 April 1937. صوبائی خود مختاری کے 1 اپریل 1937ء سے نفاذ کی تصدیق کے لیے۔