پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی سکیورٹی صف بندیوں، ایران کے ساتھ تعلقات، امریکی دفاعی کردار اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے تزویراتی منظرنامے پر اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔ — ایسٹرن ٹائمز نیوز پریس
مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا نیا دفاعی بندوبست ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو جوڑتا ہے، جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکی کردار مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو نئی شکل دے رہے ہیں۔
تحریر: عامر حسینی
ایسٹرن ٹائمز نیوز پریس
مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک ایسے مشترکہ دفاعی بندوبست میں جوڑ دیا ہے جب ایران سے جڑا علاقائی تنازع، اسرائیلی فوجی طاقت اور امریکی کردار مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی نقشے کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف بازدار قوت ہے، امریکی دفاعی چھتری کا متبادل ہے یا خطے میں ایک نئے سکیورٹی نظام کی ابتدا؟
سات اگست کو جب سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف مکّہ کے قصر الصفا میں اکٹھے ہوئے تو انہوں نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس کا سب سے نمایاں جملہ بظاہر بہت سادہ تھا: تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے جاری کردہ سرکاری مشترکہ بیان کے مطابق
Makkah Joint Defence Agreement
کا مقصد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اجتماعی بازدار قوت مضبوط کرنا اور دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو وسعت دینا ہے۔ ترکیہ کے سرکاری اداروں نے بھی اسی اجتماعی دفاعی اصول کی تصدیق کی ہے۔
لیکن اس ایک جملے کی سیاسی اہمیت اس کی عسکری تعبیر سے کہیں زیادہ واضح ہے۔
ابھی تک جو سرکاری متن سامنے آیا ہے اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں باقی دو ممالک کس نوعیت کی فوجی مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مدد خودکار ہوگی یا سیاسی مشاورت کے بعد، یہ فیصلہ کون کرے گا کہ معاہدہ فعال ہوچکا ہے، کسی پراکسی گروہ کا حملہ بھی معاہدے کو متحرک کرے گا یا نہیں، اور کیا اس کے تحت کوئی مستقل مشترکہ فوجی کمان بھی قائم کی جائے گی۔

رائٹرز نے بھی اسی ابہام کی نشان دہی کی ہے کہ سرکاری بیان میں تینوں حکومتوں کی مخصوص عسکری ذمہ داریوں یا کسی لازمی فوجی ردعمل کی تفصیل موجود نہیں۔
یہ محض قانونی یا تکنیکی خلا نہیں۔ دراصل یہی ابہام اس معاہدے کی اصل سیاسی نوعیت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
مکّہ کا یہ معاہدہ آنے والے وقت میں کسی نئے علاقائی فوجی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن فی الحال یہ بیک وقت ایک دفاعی وعدہ، بازدار قوت کا سیاسی اعلان اور اس خواہش کا اظہار ہے کہ تین اہم ریاستیں اپنی سلامتی کو مکمل طور پر ان انتظامات پر منحصر نہیں رکھنا چاہتیں جو خطے کے باہر کی طاقتوں نے تشکیل دیے تھے۔
تین ممالک، تین مختلف تزویراتی حساب
اس معاہدے کو صرف تین سنی اکثریتی مسلم ممالک کا عسکری اتحاد قرار دینا معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان الگ الگ سکیورٹی خدشات، مختلف خارجی ترجیحات اور واشنگٹن و تہران کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات رکھتے ہوئے مکّہ پہنچے تھے۔
ان کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ضرور ہیں، لیکن یکساں نہیں ہیں۔
سعودی عرب: سلامتی، مگر کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کے بغیر
سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کا وقت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران سے جڑی عسکری کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کے سامنے ایک پرانا سوال نئے انداز میں لا کھڑا کیا ہے: کیا واشنگٹن ہمیشہ اور ہر بحران میں ان کی سلامتی کا قابل اعتماد ضامن رہے گا؟
ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیت، ایران نواز مسلح گروہوں کی موجودگی، یمن کے حوثی، عراق میں تہران سے قریب گروہ، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال اور توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات سعودی سکیورٹی سوچ میں مرکزی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
سات اگست کے اجلاس سے صرف ایک روز پہلے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی حکام کو شمال میں ایران نواز عراقی گروہوں اور جنوب میں حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خدشہ تھا۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے خلیج کی سلامتی بڑی حد تک امریکی فوجی طاقت، امریکی اسلحے، انٹیلی جنس، فضائی دفاع، بحری موجودگی اور سینٹ کام کے وسیع عسکری ڈھانچے پر کھڑی رہی ہے۔ امریکی سرکاری ریکارڈ سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ دفاعی تعاون کو کم از کم 1951ء کے باہمی دفاعی امدادی معاہدے تک لے جاتے ہیں۔
لیکن کیا مکّہ کا معاہدہ امریکی دفاعی چھتری کے اختتام کی علامت ہے؟
موجودہ شواہد اس نتیجے کی حمایت نہیں کرتے۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ نیا معاہدہ خلیجی، عرب یا بین الاقوامی سکیورٹی تعلقات کا متبادل نہیں۔ سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے اسے کسی عسکری محور یا مذہبی و فرقہ وارانہ بلاک کی تشکیل قرار دینے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ایسی پائیدار اور خود کفیل دفاعی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو سعودی عرب کو مختلف خطرات کے مقابل زیادہ خودمختار بنائیں۔
زیادہ قرینِ قیاس تعبیر یہ ہے کہ سعودی عرب سکیورٹی تنوع کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ریاض شاید واشنگٹن کو ترک نہیں کررہا، مگر وہ یہ خطرہ کم کرنا چاہتا ہے کہ اس کی سلامتی صرف ایک بیرونی طاقت کی سیاسی مرضی پر منحصر رہے۔ پاکستان اسے تجربہ کار فوج، انسانی وسائل اور دہائیوں پرانے عسکری تعلقات فراہم کرتا ہے۔ ترکیہ جدید ڈرون، میزائل، بحری ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور نیٹو معیار کا فوجی تجربہ لاتا ہے۔ سعودی عرب سرمایہ، جغرافیائی حیثیت اور علاقائی سیاسی اثر مہیا کرتا ہے۔
اس لیے اصل تاریخی تبدیلی شاید ایک مکمل “بعد از امریکہ مشرقِ وسطیٰ” نہیں۔
ممکن ہے ہم امریکی طاقت کے خاتمے کے بجائے امریکی اجارہ داری کے خاتمے کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔
ترکیہ: نیٹو کے اندر رہتے ہوئے تزویراتی خودمختاری
ترکیہ کی شمولیت ایک اور اہم سوال اٹھاتی ہے۔
اگر ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے اور اس کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج موجود ہے تو اسے ایک اضافی اجتماعی دفاعی بندوبست کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
صدر رجب طیب اردوان نے مکّہ معاہدے کو اجتماعی بازدار قوت اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاع سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کے ذریعے دفاعی صنعت، مشترکہ منصوبوں اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بڑھایا جاسکتا ہے۔
ترک حکام کے مطابق یہ معاہدہ نیٹو یا ترکیہ کے کسی دوسرے دوطرفہ یا کثیرالجہتی دفاعی عہد کو منسوخ نہیں کرتا۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ اردوان کے دور میں ترکیہ کی خارجہ پالیسی تیزی سے “متعدد دائرۂ تعلقات” پر کھڑی ہوئی ہے۔
انقرہ نیٹو میں رہتا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ، قفقاز، مشرقی بحیرہ روم اور مسلم دنیا میں اپنی تزویراتی خودمختاری بڑھانا چاہتا ہے۔ مکّہ کا معاہدہ ترکیہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ خلیجی سرمایہ، پاکستانی فوجی صلاحیت اور اپنی دفاعی صنعت کو ایک نئے علاقائی نظام میں جوڑ سکتا ہے۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت اس بندوبست سے سب سے زیادہ فوری فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں سے ایک ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب پہلے ہی ترک ڈرونز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بحری جہازوں، تربیت، طیارہ سازی اور دفاعی پیداوار میں تعاون پہلے سے موجود ہے۔
اس لیے مکّہ معاہدے کو ترکیہ کے نیٹو سے دور جانے کی علامت قرار دینے کے بجائے شاید اسے اردوان کی متعدد اتحادوں کے ذریعے تزویراتی خودمختاری کی پالیسی کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔
یہی حقیقت اس دعوے کو بھی پیچیدہ بناتی ہے کہ یہ معاہدہ لازماً امریکی قیادت میں کسی ایران مخالف بلاک کا حصہ ہے۔
ترکیہ کے ایران کے ساتھ تنازعات ضرور ہیں، لیکن اسے ایران کے انہدام، غیر محدود علاقائی جنگ اور تہران کے ساتھ معاشی و سفارتی روابط کے مکمل خاتمے میں بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح اسرائیل کے ساتھ ترکیہ کے خراب ہوتے تعلقات اس تصور کو مزید کمزور کرتے ہیں کہ مکّہ کا اتحاد کسی امریکی اسرائیلی حکمت عملی کی سیدھی توسیع ہے۔
پاکستان: تزویراتی اثر و رسوخ، مگر اس کی قیمت بھی
اس پورے معاہدے میں شاید سب سے زیادہ پیچیدہ پوزیشن پاکستان کی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ سترہ ستمبر 2025ء کو محمد بن سلمان اور شہباز شریف نے Strategic Mutual Defense Agreement پر دستخط کیے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیان میں اس معاہدے کو مشترکہ بازدار قوت مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا۔
مکّہ کا نیا معاہدہ اسی تصور کو اب ترکیہ تک وسعت دیتا ہے۔
پاکستان اس اتحاد میں ایک ایسی فوجی صلاحیت لاتا ہے جس کی مکمل نقل باقی دونوں ممالک کے پاس نہیں۔ اس کے پاس ایک بڑی پیشہ ور فوج، طویل آپریشنل تجربہ، سعودی فوج سے پرانے ادارہ جاتی تعلقات، دفاعی صنعت اور جوہری صلاحیت موجود ہے۔
لیکن آخری نکتے پر غیر معمولی احتیاط ضروری ہے۔
ابھی تک سامنے آنے والے کسی سرکاری متن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان نے سعودی عرب یا ترکیہ کو کوئی جوہری دفاعی چھتری فراہم کردی ہے۔ پاکستانی حکام ماضی میں بھی اس تاثر کو کم کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی حکام نے بھی نئے معاہدے کو جوہری ہتھیاروں یا اسلحے کی دوڑ سے جوڑنے سے انکار کیا ہے۔
پاکستان کی جوہری صلاحیت اس کی تزویراتی حیثیت بڑھاتی ہے، لیکن ہر دفاعی معاہدہ خود بخود جوہری ضمانت نہیں بن جاتا۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کا روایتی عسکری کردار زیادہ واضح ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ علاقائی بحران میں پاکستان سعودی عرب میں فوجی اہلکار، لڑاکا طیارے، ڈرون اور فضائی دفاعی وسائل تعینات کرچکا ہے اور دہائیوں سے سعودی افواج کی تربیت اور تکنیکی معاونت کرتا آیا ہے۔
لیکن پاکستان جتنا زیادہ سعودی دفاعی نظام میں شامل ہوتا جائے گا، ایک بنیادی سوال اتنا ہی اہم ہوتا جائے گا:
اگر سعودی عرب کو جس ریاست سے خطرہ ہو وہ ایران ہو تو پاکستان کیا کرے گا؟
ایران: کیا معاہدے کا غیر اعلانیہ چوتھا کردار؟
مکّہ معاہدے کو سیدھا سیدھا ایران مخالف اتحاد کہنا آسان ہے، مگر ایسا کرنا تجزیاتی طور پر خطرناک ہوگا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ معاہدہ ایسے وقت ہوا ہے جب خطے کا بڑا سکیورٹی بحران ایران کے گرد گھوم رہا ہے۔
ایرانی میزائل اور ڈرون صلاحیت، ایران نواز مسلح گروہ، یمن، عراق، خلیجی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کی صورت حال نے سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں کے سکیورٹی حساب تبدیل کیے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے معاہدے پر تنقیدی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب محض پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سمجھوتوں کے ذریعے سلامتی حاصل نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف بعض ایرانی تجزیہ کاروں نے اس معاہدے کو ایران کے خلاف براہِ راست جنگی بندوبست سمجھنے کے بجائے خطے میں امریکی سکیورٹی انحصار کم ہونے کی علامت قرار دیا۔
یہ اختلاف خود اہم ہے۔
ایران کے اندر بھی مکّہ معاہدے کی کوئی ایک تعبیر موجود نہیں۔
سعودی عرب کہتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ اتحاد نہیں۔ ترکیہ کہتا ہے کہ معاہدہ کسی ملک کو نشانہ نہیں بناتا۔ پاکستان تہران کے ساتھ سفارت کاری اور بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن تینوں کو ایرانی میزائلوں، ڈرونز، پراکسی گروہوں اور خطے میں بڑھتی عسکری کشیدگی سے حقیقی تحفظاتی خدشات بھی لاحق ہیں۔
اسی لیے زیادہ درست تعبیر یہ ہوسکتی ہے کہ معاہدہ ایران کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے، ضروری نہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کرنے کے لیے۔
اسی طرح یہ اسرائیلی عسکری برتری کو محدود کرنے کی خواہش رکھ سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اسے اسرائیل مخالف اتحاد کہا جائے۔
مشرقِ وسطیٰ اب دو مستقل کیمپوں میں تقسیم شطرنج کی بساط نہیں رہا۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کا مثلث
مکّہ معاہدے کی ایک نہایت اہم جہت یہ ہے کہ تینوں ممالک صرف ایران کی بڑھتی عسکری طاقت سے فکرمند نہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے عسکری اعتماد اور علاقائی طاقت کے استعمال پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ حقیقت معاہدے کو صرف امریکی قیادت میں بننے والے کسی نئے ایران مخالف نظام کے طور پر پیش کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔
سعودی عرب واشنگٹن کا اہم شراکت دار ہے، لیکن ابھی تک اس نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے لیکن اسرائیل کا نمایاں علاقائی ناقد بن چکا ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اسی وقت سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات اور ایران کے ساتھ عملی سفارت کاری دونوں برقرار رکھتا ہے۔
اس لیے مکّہ معاہدہ ایک غیر معمولی تزویراتی جگہ پر کھڑا ہے۔
امریکہ خوش ہوسکتا ہے کہ اس کے علاقائی اتحادی اپنی سلامتی کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں، لیکن ایک خودمختار سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی نظام واشنگٹن کی اس صلاحیت کو بھی محدود کرسکتا ہے کہ وہ ہر بحران کی سمت طے کرے۔
اسرائیل ایران کے خلاف نئی بازدار قوت کو اپنے حق میں دیکھ سکتا ہے، مگر وہ یہ فرض نہیں کرسکتا کہ ایک مضبوط ترک، پاکستانی اور سعودی سکیورٹی ڈھانچہ ہر صورت اسرائیلی مفادات کے مطابق کام کرے گا۔
ایران اس میں اپنے خلاف عناصر دیکھ سکتا ہے، لیکن سعودی عرب کی سفارت کاری اور پاکستان کی ثالثی اسے ایک مکمل ایران دشمن منصوبہ کہنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
نیا مشرقِ وسطیٰ شاید دو بلاکوں کے بجائے ایسے ملکوں کا نظام بن رہا ہے جو ایک معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ اور دوسرے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں۔
پاکستان، ریاض اور تہران کے درمیان
پاکستان کے لیے یہ ابہام محض سفارتی مسئلہ نہیں، بنیادی قومی مفاد کا سوال ہے۔
پاکستان اور ایران ایک طویل سرحد رکھتے ہیں۔ بلوچستان، سرحدی شدت پسندی، تجارت، توانائی، غیر قانونی نقل و حرکت اور علاقائی رابطہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے مستقل طور پر جوڑے رکھتے ہیں۔
پاکستان تاریخی طور پر کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران کی رقابت میں براہِ راست فریق نہ بنے۔ 2015ء میں جب سعودی عرب نے یمن جنگ میں پاکستانی فوجی تعاون کی خواہش ظاہر کی تو پاکستانی پارلیمان نے غیر جانب داری پر زور دیا، اگرچہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع کی حمایت بھی کی گئی۔
امریکی ادارۂ امن کے ایک تجزیے نے پاکستانی پالیسی کو کئی دہائیوں سے ایک ایسی کوشش قرار دیا جس میں اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خود کو کھلم کھلا ایران مخالف دکھانے سے بچتا رہا۔
2026ء میں یہی توازن مزید مشکل ہوگیا۔
پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت بھی کی اور سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، اردن اور دوسری خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا گیا۔
بعد ازاں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں ثالثی کا کردار بھی ادا کیا۔ اسلام آباد میمورنڈم سے متعلق پاکستانی وزارتِ خارجہ کی دستاویز پاکستان اور قطر کے ثالثی کردار کی تصدیق کرتی ہے۔
یہی پاکستانی حکمت عملی کا بنیادی تضاد ہے۔
اسلام آباد ایک ہی وقت میں سعودی عرب کا زیادہ قابل اعتماد دفاعی شراکت دار اور ایران کے لیے ایک قابل قبول سفارتی رابطہ بننا چاہتا ہے۔
جب تک مکّہ معاہدہ بنیادی طور پر بازدار قوت کا بندوبست رہتا ہے، دونوں کردار شاید ساتھ چل سکیں۔
براہِ راست سعودی ایران جنگ کی صورت میں یہ توازن ٹوٹ سکتا ہے۔
اگر سعودی عرب پر ایرانی حملہ ہو تو کیا پاکستان صرف سعودی فضائی حدود کا دفاع کرے گا؟ کیا حوثیوں یا عراق میں کسی ایران نواز گروہ کا حملہ ایران کی جارحیت تصور ہوگا؟ کیا پاکستان ایرانی سرزمین کے خلاف جارحانہ کارروائی میں شریک ہوگا؟ کیا پاکستانی پارلیمان کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے گا؟ کیا اسلام آباد دفاعی اور جارحانہ عسکری مدد کے درمیان لکیر کھینچ سکے گا؟
موجودہ معاہدہ ان سوالات کا جواب نہیں دیتا۔
ممکن ہے آنے والے وقت میں یہی سوال مکّہ کی تقریب سے کہیں زیادہ اہم ثابت ہوں۔
کیا پاکستانی شیعہ برادری داخلی قیمت ادا کرسکتی ہے؟
پاکستان کے لیے سب سے حساس سوال اس کی سرحدوں سے باہر نہیں بلکہ اندر موجود ہے۔
کیا سعودی مرکزیت رکھنے والے ایک دفاعی بندوبست میں پاکستان کی شرکت یہاں کی شیعہ برادری کو مزید غیر محفوظ بنا سکتی ہے؟
اس وقت ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مکّہ معاہدے نے پاکستان میں نئی anti-Shia تشدد کی لہر پیدا کردی ہے۔ یہ نتیجہ پہلے سے اخذ کرنا صحافتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔
سعودی عرب خود اس اتحاد کو فرقہ وارانہ یا مذہبی بلاک قرار دینے سے انکار کرچکا ہے۔ پاکستان نے ایران کو دشمن قرار نہیں دیا۔ ترکیہ کی شمولیت بھی بنیادی طور پر تزویراتی نوعیت رکھتی ہے۔
لیکن کسی معاہدے کے داخلی اثرات صرف حکومتوں کی نیت سے طے نہیں ہوتے۔
پاکستان کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے ہیں جب بیرونی جغرافیائی سیاست نے داخلی فرقہ وارانہ شناختوں کو متاثر کیا۔ پاکستان میں فرقہ واریت پر ہونے والی علمی تحقیق جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن، ایرانی انقلاب، افغان جنگ، خلیجی سرمائے اور بعد میں منظم شیعہ و سنی تنظیموں کے عروج کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی تحقیق نے پاکستان میں شیعہ اور سنی شناختوں کی سیاسی و تنظیمی شدت پسندی کے انہی تاریخی عوامل کا جائزہ لیا ہے۔
ایک اور اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی رقابت کو محض صدیوں پرانی سنی شیعہ دشمنی کہنا بھی غلط ہے۔ جدید تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ مذہبی شناخت اور طاقت کی سیاست ایک دوسرے سے جڑی ضرور ہیں، لیکن ریاض اور تہران دونوں نے مختلف ادوار میں فرقہ وارانہ زبان کو اپنے بدلتے سیاسی مفادات کے مطابق استعمال کیا ہے۔
پاکستانی تناظر میں یہی فرق بہت اہم ہے۔
پاکستان کے شیعہ شہری ایران کے نمائندے نہیں۔ کسی شہری کی مذہبی شناخت کو کسی خارجی ریاست سے سیاسی وفاداری کا ثبوت سمجھنا خود اسی منطق کو مضبوط کرتا ہے جس نے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں اور فرقہ وارانہ گروہوں کو بارہا غیر محفوظ بنایا ہے۔
اس لیے خطرہ لازماً معاہدے کی قانونی عبارت میں نہیں۔
خطرہ اس میں ہے کہ مذہبی شدت پسند تنظیمیں، سیاسی کاروباری عناصر، بعض خطیب یا سوشل میڈیا نیٹ ورک اس معاہدے کی کیا تعبیر کرتے ہیں۔
اگر اسے مسلسل “شیعہ ایران کے خلاف سنی اتحاد” کے طور پر پیش کیا گیا تو یہ پاکستان کی پرانی فرقہ وارانہ زبان کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ایران نواز سیاسی حلقے پاکستانی خارجہ پالیسی کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر بیان کرنا شروع کردیں تو پولرائزیشن دونوں سمت بڑھ سکتی ہے۔
اس خطرے کو قیاس سے نہیں بلکہ قابل پیمائش اشاریوں سے جانچا جانا چاہیے: anti-Shia نفرت انگیز مواد میں اضافہ، کالعدم یا انتہا پسند تنظیموں کا ردعمل، مذہبی اجتماعات کو دھمکیاں، سوشل میڈیا مہمات، فرقہ وارانہ خطبات اور سرکاری بیانیہ۔
اس کے ساتھ ایک دوسری حقیقت بھی موجود ہے۔
چھ اگست کو شائع ہونے والی رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں بعض سخت گیر مذہبی تنظیموں کے خلاف ریاستی کارروائی کے نتیجے میں توہینِ مذہب کے مقدمات اور مذہبی ہجوم کے تشدد کی بعض اقسام میں کمی آئی ہے، اور مسیحی، شیعہ اور احمدی برادریوں کے نمائندوں نے کچھ علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کی بات کی۔
اس کے باوجود بنیادی ساختی خطرات باقی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2026ء پاکستان رپورٹ مذہبی اقلیتوں کے لیے امتیازی قوانین، ہجومی تشدد اور ناکافی احتساب کی نشان دہی کرتی ہے۔
اس لیے صحیح سوال یہ نہیں کہ مکّہ معاہدہ لازماً شیعہ سنی تشدد پیدا کرے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی ریاست اور اس کے ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ خارجی تزویراتی اتحادوں کو داخلی فرقہ وارانہ شناخت کی جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں؟
“مسلم نیٹو” اور “سنی نیٹو” کیوں گمراہ کن اصطلاحات ہیں؟
یہ دونوں اصطلاحات سرخیوں کے لیے پرکشش ہیں۔
تجزیے کے لیے نہیں۔
نیٹو کے پاس مستقل سیاسی ادارے، مشترکہ فوجی کمان، طویل مدتی آپریشنل منصوبہ بندی، باہمی عسکری معیار، انٹیلی جنس نظام اور دہائیوں میں تیار ہونے والا مشترکہ فوجی نظریہ موجود ہے۔ مکّہ معاہدے کے بارے میں ابھی تک سامنے آنے والی معلومات میں ایسا کوئی مکمل ادارہ جاتی ڈھانچہ دکھائی نہیں دیتا۔
اسی طرح “سنی نیٹو” تینوں ممالک کی حقیقی سیاست کی بھی غلط تعبیر ہے۔
صرف چند برس پہلے ترکیہ اور سعودی عرب کئی علاقائی معاملات میں سخت حریف تھے۔ پاکستان ماضی میں سعودی ایران جنگوں میں براہِ راست داخل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے۔ ترکیہ ایران کے ساتھ بیک وقت مقابلہ اور تعاون کرتا ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ سعودی حکومت خود اس معاہدے کو فرقہ وارانہ بلاک قرار دینے سے انکار کرتی ہے۔
اس لیے شاید زیادہ مفید اصطلاح علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ ہے۔
Gulf Research Center کے سربراہ عبدالعزیز صقر نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی رابطہ ان کے اجتماعی سفارتی اور عسکری وزن میں اضافہ کرسکتا ہے اور ایک زیادہ علاقائی بنیاد رکھنے والے سکیورٹی نظام کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک نیا نیٹو بن گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومتیں جو کبھی اپنی سلامتی کے لیے بڑی حد تک بیرونی طاقتوں پر منحصر تھیں، اب پوچھ رہی ہیں کہ وہ آپس میں کیا تعمیر کرسکتی ہیں۔
کیا مکّہ واقعی مشرقِ وسطیٰ کو بدل دے گا؟
اصل امتحان دستخط کے بعد شروع ہوگا۔
اگر تینوں ممالک مشترکہ جنگی منصوبہ بندی، مربوط فضائی اور میزائل دفاع، انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی کمان، مستقل مشقیں، دفاعی پیداوار اور ہنگامی ردعمل کے واضح طریقۂ کار قائم کرتے ہیں تو مکّہ معاہدہ واقعی ایک نئے علاقائی دفاعی ادارے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اگر تعاون سیاسی مشاورت، ہتھیاروں کی فروخت، مشترکہ مشقوں اور سفارتی یکجہتی تک محدود رہتا ہے تو یہ زیادہ تر ایک تزویراتی انشورنس پالیسی ثابت ہوگا۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
اس معاہدے کی فوری طاقت شاید اس میں نہیں کہ کل کتنی فوج حرکت کرے گی، بلکہ اس میں ہے کہ آج اس نے ایران، اسرائیل، امریکہ اور دوسری طاقتوں کے تزویراتی حساب میں کتنی نئی غیر یقینی شامل کردی ہے۔
ایران کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ سعودی عرب کے خلاف دباؤ کہیں پاکستان اور ترکیہ کو زیادہ براہِ راست میدان میں نہ لے آئے۔
اسرائیل کو سوچنا ہوگا کہ ابھرنے والا علاقائی دفاعی نظام صرف ایران کو روکنے کے لیے ہے یا کسی مرحلے پر اسرائیلی عسکری آزادی کو بھی محدود کرسکتا ہے۔
واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ علاقائی خود انحصاری اس کے لیے مطلوبہ “burden sharing” ہے یا ایک ایسے نئے سکیورٹی نظام کی ابتدا جس پر امریکی کنٹرول کم ہوگا۔
ترکیہ کو نئے علاقائی وعدوں اور نیٹو ذمہ داریوں میں توازن رکھنا ہوگا۔
سعودی عرب کو طے کرنا ہوگا کہ امریکی انحصار سے فاصلہ کہاں تک بڑھایا جائے۔
اور پاکستان کے سامنے شاید سب سے مشکل سوال ہوگا: کیا وہ ایک ہی وقت میں سعودی عرب کا معاہداتی دفاعی شراکت دار، ایران کا ہمسایہ اور مذاکراتی ساتھی، چین کا تزویراتی اتحادی اور اپنے شیعہ و سنی شہریوں کے درمیان داخلی امن کا ذمہ دار رہ سکتا ہے؟
مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے ابھی کوئی نیا مشرقِ وسطیٰ پیدا نہیں کیا۔
لیکن اس نے شاید یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ نیا مشرقِ وسطیٰ کس سمت بڑھ رہا ہے۔
پرانا علاقائی نظام نسبتاً واضح صف بندیوں پر کھڑا تھا: امریکی تحفظ، ایرانی مزاحمتی محور، عرب ریاستوں کا بیرونی دفاعی انحصار اور غیر علاقائی طاقتوں کی عسکری موجودگی۔
نیا نظام کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
نیٹو کے رکن ملک غیر نیٹو دفاعی بندوبست بناتے ہیں۔ امریکہ کے اتحادی واشنگٹن کے دشمنوں سے مذاکرات کرتے ہیں۔ سعودی عرب امریکی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ سے تحفظ کا نیا انتظام کرتا ہے۔ پاکستان اجتماعی دفاعی معاہدہ بھی کرتا ہے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ثالث بھی بنتا ہے۔
شاید مکّہ کی اصل اہمیت یہی ہے۔
یہ معاہدہ دنیا کو بتاتا ہے کہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد اپنی سلامتی کے مستقبل کو ایک دوسرے سے زیادہ گہرائی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔
جو بات ابھی معلوم نہیں، وہ یہ ہے کہ جب کسی ایک ملک کی سلامتی باقی دونوں ممالک کے مفادات سے ٹکرائے گی تو ہر حکومت دوسرے کے لیے کتنی قیمت ادا کرنے پر تیار ہوگی۔
مکّہ کی دستخطی تقریب اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی۔
اس معاہدے کا پہلا حقیقی بحران دے گا۔