طاہر سندھو کا افسانوی مجموعہ ’’نیوندرا‘‘ معاصر پنجابی افسانے کی اس تخلیقی سمت کی نمائندگی کرتا ہے جہاں مقامی زندگی، لوک شعور، طبقاتی کش مکش، عورت کا تجربہ، مذہبی اختیار، تقسیمِ پنجاب کی یادداشت اور جدید سماجی بحران ایک دوسرے سے الگ موضوعات نہیں رہتے بلکہ ایک ہی تہذیبی تجربے کے مختلف رخ بن جاتے ہیں۔ 2024ء میں شائع ہونے والے اس مجموعے میں ’’اُڈیک‘‘ سے ’’مُکھ وکھالی‘‘ تک تیرہ افسانے شامل ہیں۔ یہ افسانے تکنیک اور موضوع دونوں اعتبار سے متنوع ہیں؛ کہیں حقیقت نگاری غالب ہے، کہیں سیاسی تمثیل، کہیں نفسیاتی خوف، کہیں لوک داستان اور کہیں خود فکشن اپنے وجود، مصنف اور قاری کے ساتھ مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
مجموعے کے عنوان کو سمجھنا اس کتاب کی تفہیم کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پنجابی معاشرت میں نیوندرا شادی، بارات یا ولیمے کی دعوت کے بعد رشتے داروں، دوستوں اور برادری کے افراد کی جانب سے دی جانے والی رقم کو کہا جاتا ہے۔ یہ محض تحفہ نہیں بلکہ ایک یاد رکھا جانے والا سماجی قرض ہوتا ہے، جسے وصول کرنے والا خاندان دینے والے کے گھر شادی کے موقع پر عموماً کچھ اضافہ کرکے واپس کرتا ہے۔ اس رسم میں لین دین، یادداشت، برادری، ذمہ داری اور باہمی انحصار سب شامل ہیں۔ اسی درست ثقافتی مفہوم کے تحت عنوانی کہانی کو پڑھا جائے تو کالُو کا گاؤں کے لیے شفاخانہ اور ایمبولینس قائم کرنا ایک وسیع تر اخلاقی نیوندرا محسوس ہوتا ہے: وہ اس معاشرے کو، جس نے اسے شناخت، تعلق اور یادیں دی تھیں، زندگی بچانے والی سہولت کی صورت میں کچھ زیادہ لوٹاتا ہے۔
عنوانی افسانہ ’’نیوندرا‘‘ مجموعے کی سماجی اور طنزیہ قوت کا عمدہ نمونہ ہے۔ کالُو رسمی معنوں میں نیک، متقی یا مثالی کردار نہیں۔ وہ شرارتی، بے قاعدہ اور مشکوک ذرائع سے دولت حاصل کرنے والا شخص ہے، مگر انسانی تکلیف کو پہچانتا ہے۔ اپنی ماں کی موت کے تجربے کے بعد وہ گاؤں میں مفت شفاخانہ اور ایمبولینس مہیا کرتا ہے، جب کہ مولوی جھانواں اسے ’’حرام کمائی‘‘ کا نتیجہ قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔ المیہ اور طنز اس وقت عروج پر پہنچتے ہیں جب مولوی کی اپنی بیوی کو زچگی کے دوران اسی ایمبولینس کی ضرورت پڑتی ہے۔ کہانی مذہبی عقیدے کے بجائے اس مذہبی اختیار کو ہدف بناتی ہے جو انسانی جان سے زیادہ اپنی تعبیر اور سماجی برتری کو اہم سمجھتا ہے۔
مجموعے کی ایک اور نمایاں کہانی ’’بِجُّو‘‘ ہے، جس میں قبرستان کا مردہ گوشت کھانے والا جانور رفتہ رفتہ انسانی درندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ کوثری مردہ عورتوں کے جسم نہلاتے ہوئے ان پر ثبت تشدد کے نشانات پڑھتی ہے۔ اس کے لیے جسم ایک خاموش دستاویز ہے، جب کہ اس کا شوہر شوکا قبریں کھود کر رازوں کو مٹی میں دفن کرنے کا عادی ہے۔ کوثری جب ایک قتل شدہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے آثار دیکھ کر پولیس کو اطلاع دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو افسانہ خاموشی اور گواہی کے اخلاقی فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ اصل بِجُّو وہ جانور نہیں جو مردوں کا گوشت کھاتا ہے بلکہ وہ انسانی درندے ہیں جو زندہ عورتوں کو اپنی جنسی، خاندانی اور طبقاتی طاقت کا نشانہ بناتے ہیں۔
’’رامن جدی‘‘ تقسیمِ پنجاب کے موضوع کو ایک اغوا شدہ عورت کی ٹوٹی ہوئی آواز میں محفوظ کرتی ہے۔ فسادات کے دوران ایک ہندو لڑکی کو اس کے خاندان کے قتل کے بعد زبردستی ایک مسلم گھر میں لایا اور نکاح میں باندھا جاتا ہے۔ وہ عمر بھر نئے خاندان کا حصہ رہتی ہے، مگر اس کی زبان سے بار بار ’’رامن جدی‘‘ کی پکار نکلتی رہتی ہے۔ گھر والے اس آواز کو ذہنی خلل سمجھتے ہیں، مگر کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ وہ عورت اپنے گم شدہ نام، خاندان یا سابقہ وجود کو پکار رہی ہے۔ افسانہ تقسیم کو سرکاری تاریخ، قومی فتح یا اجتماعی مظلومیت کے بجائے گھر کی چار دیواری میں موجود ایسے جرم کے طور پر دیکھتا ہے جو محبت، اولاد اور روزمرہ معمول کے نیچے دفن ہوگیا ہے۔
’’فیصلہ‘‘ قانون اور انصاف کے فرق کو بے نقاب کرتی ہے۔ پسند کی شادی کرنے والی حاملہ عورت اور اس کے بچوں کو اس کے بھائی قتل کردیتے ہیں، مگر بعد میں مقتولہ کا شوہر رقم، زمین اور قاتل خاندان کی ایک لڑکی سے شادی کے بدلے خون معاف کردیتا ہے۔ عدالت قاتلوں کو بری کرسکتی ہے، لیکن مقتول بچے افسانے میں واپس آکر اپنے فیصلے کے منتظر رہتے ہیں۔ یہاں شرعی اور قانونی اختیار کے مقابل ایک اخلاقی عدالت قائم ہوتی ہے، جس میں سوال یہ ہے کہ کیا زندہ وارث کو مردہ عورت اور بچوں کے حقِ زندگی کا سودا کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے؟
طاہر سندھو کا فنی حوصلہ ’’کہانی دا جیون تے مرن‘‘ اور ’’مُکھ وکھالی‘‘ میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ پہلی کہانی میں مردہ کردار اپنے مصنف کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کہ اس نے ان کی کہانی ادھوری چھوڑ دی۔ مصنف خود اپنی کہانی کا کردار بن جاتا ہے، لیکن مکمل کیے گئے صفحات آخر میں خالی نکلتے ہیں۔ دوسری کہانی میں کتاب خود قاری سے گفتگو کرتی اور شکایت کرتی ہے کہ رونمائی کی تقریب میں سب نے اس کے سرورق، مصنف، فلیپ اور دیباچے کی تعریف کی، مگر کسی نے اسے پڑھا نہیں۔ ادبی تقریبات پر یہ طنز نہایت کاٹ دار ہے: کتاب مرکز میں ہوتی ہے، لیکن گفتگو کا اصل موضوع مقررین کی شخصیت، تعلقات اور باہمی تعریفیں بن جاتی ہیں۔
’’بھار‘‘، ’’ڈراکل‘‘، ’’جُگنوواں دا قتل‘‘، ’’آر دے نہ پار دے‘‘ اور ’’بگھیاڑی‘‘ بھی مجموعے کے فکری دائرے کو وسیع کرتی ہیں۔ ’’بھار‘‘ میں کوڑا اٹھانے والا بابا شہری ترقی کے نیچے دبائی گئی تاریخ کا چلتا پھرتا ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ’’ڈراکل‘‘ خون آشام اقتدار اور اجتماعی تشدد کو نفسیاتی صدمے سے جوڑتی ہے۔ ’’جُگنوواں دا قتل‘‘ روشنی کو قید کرنے کی خواہش کو بھوک، اختیار اور اجتماعی اخلاقی زوال کی تمثیل بناتی ہے۔ ’’آر دے نہ پار دے‘‘ دو متحارب بستیوں کے ذریعے دکھاتی ہے کہ سرحدیں اکثر جغرافیے سے زیادہ ذہن میں موجود ہوتی ہیں، جب کہ ’’بگھیاڑی‘‘ وفاداری، بیماری، خوف اور طاقت کے دوہرے معیار کا مطالعہ ہے۔
زبان اس مجموعے کی بنیادی قوت ہے۔ طاہر سندھو کے استعارے پنجاب کی مٹی، نہروں، قبرستانوں، دھریکوں، بھڑولوں، گٹھڑیوں، ایمبولینسوں، فٹ پاتھوں اور ادبی محفلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں نظریہ زمین سے کٹا ہوا نہیں؛ وجودیت چوکھٹ، آگ اور بدن سے نکلتی ہے، پوسٹ ماڈرنیت مردہ کرداروں کے احتجاج اور بولتی کتاب میں ظاہر ہوتی ہے، جب کہ سیاسی تنقید کوڑے، خون، پل اور جگنو کی صورت اختیار کرتی ہے۔
تاہم مجموعہ فنی ناہمواریوں سے خالی نہیں۔ بعض کہانیوں میں کردار اپنے تجربے کو جینے کے بجائے مصنف کے نظریاتی مؤقف کی تقریر کرنے لگتے ہیں۔ چند علامات کی تشریح ضرورت سے زیادہ کردی گئی ہے، جس سے قاری کی دریافت کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ بعض منفی کردار، خصوصاً مذہبی اور سیاسی مقتدر، نفسیاتی پیچیدگی کے بجائے واضح سماجی اقسام بن جاتے ہیں۔ ’’آر دے نہ پار دے‘‘ کی تاریخی اور معاشی تفصیل کہیں کہیں افسانے کو رپورٹاژ کے قریب لے جاتی ہے، جب کہ ’’مُکھ وکھالی‘‘ میں کتاب کا طویل خود تعارف خطیبانہ محسوس ہوتا ہے۔
ان تحفظات کے باوجود ’’نیوندرا‘‘ ایک سنجیدہ، جرات مند اور موضوعاتی اعتبار سے بھرپور مجموعہ ہے۔ یہ پنجابی افسانے کو محض دیہی نوستالجیا، رومان یا روایتی سماجی حقیقت نگاری تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے تاریخ، جنس، قانون، مذہب، ماحول، ہجرت اور خود ادب کے بحرانوں سے جوڑتا ہے۔ اس کتاب کی بہترین کہانیاں قاری کو صرف متاثر نہیں کرتیں بلکہ اس سے اخلاقی جواب طلب کرتی ہیں۔ یہی اس مجموعے کا حقیقی نیوندرا ہے: مصنف اپنے معاشرے سے حاصل کیے ہوئے دکھ، زبان، قصوں اور یادوں کو افسانے کی صورت میں کچھ اضافہ کرکے واپس کرتا ہے۔