دکھ کا بھی کوئی چہرہ ہوتا ہے۔
یہ بات بظاہر عجیب لگتی ہے، کیونکہ دکھ خود کوئی جسم نہیں رکھتا۔ اسے چھوا نہیں جا سکتا، کسی ترازو میں تولا نہیں جا سکتا اور نہ آدمی اپنی انگلی اٹھا کر کہہ سکتا ہے کہ دیکھو، وہ سامنے دکھ کھڑا ہے۔ لیکن انسان ہمیشہ سے اپنے ناقابلِ برداشت تجربات کو کسی نہ کسی جسم، شے، آواز یا علامت میں ڈھالتا آیا ہے۔ وہ قبر بناتا ہے، صلیب تراشتا ہے، چراغ جلاتا ہے، نوحہ پڑھتا ہے، تصویر اٹھاتا ہے، چادر چڑھاتا ہے، راکھ بہاتا ہے، بین کرتا ہے یا خاموش بیٹھا رہتا ہے۔
کبھی آنسو دکھ کا چہرہ ہوتے ہیں۔
کبھی آنسو روکنے کا حکم۔
ڈی ایچ لارنس میونخ سے اٹلی کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے ٹائرول کے پہاڑوں میں سڑکوں، کھیتوں اور راستوں کے سنگم پر نصب مصلوب مسیحوں کو دیکھتا ہے۔ ابتدا میں وہ صلیبی مجسمے اسے دوسرے مذہبی نشانات کی طرح معمولی معلوم ہوتے ہیں۔ بہت سے مجسمے کارخانوں میں بنے ہوئے، یکساں اور بے روح ہیں۔ ان کے اندر عقیدے کی مقررہ صورت ہے، مگر کسی زندہ انسان کا دکھ نہیں۔
پھر اسے کسانوں کے ہاتھ سے تراشے ہوئے مسیح نظر آتے ہیں۔
وہاں ہر صلیب پر ایک مختلف مسیح لٹکا ہوا ہے۔
ایک مسیح ضدی کسان کی طرح صلیب سے نبرد آزما ہے۔ اس کے چہرے پر مقدس سکون نہیں، اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا غصہ ہے۔ دوسرا جوان اور توانا جسم رکھتا ہے، مگر اسے اپنی جوانی کے ضائع ہوجانے کی تلخی کھائے جا رہی ہے۔ کوئی مسیح اپنے حال پر ترس کھاتا معلوم ہوتا ہے، کوئی وقار سے اذیت سہتا ہے، کوئی چہرے پر بناوٹی المیہ سجائے ہوئے ہے اور کوئی گھٹنے پر کہنی رکھ کر یوں سوچ رہا ہے جیسے دکھ اس کے جسم سے نکل کر ایک فلسفیانہ مسئلہ بن گیا ہو۔
مسیح ایک ہے، لیکن اسے تراشنے والے انسان بہت سے ہیں۔
ہر فن کار نے شاید لکڑی میں مذہبی تاریخ کا چہرہ بنانے کی کوشش کی تھی، مگر چھینی چلتے چلتے اس کے اپنے اندر کا کوئی آدمی باہر نکل آیا۔ کسی کا خوف، کسی کی شکست، کسی کی ضد، کسی کی محرومی اور کسی کی خواہش کہ وہ ابھی مزید زندہ رہنا چاہتا تھا۔
لارنس اسی مقام پر لکھتا ہے:
“All tragic art is part of the same attempt.”
تمام المیہ فن اسی ایک کوشش کا حصہ ہے۔
یعنی انسان اپنے دکھ کو ایک ایسی شکل دینا چاہتا ہے جسے وہ اپنے سامنے رکھ سکے۔ جب درد بدن کے اندر بے نام پھرتا رہتا ہے تو اس سے معاملہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ آدمی نہیں جانتا کہ یہ کہاں سے شروع ہوتا اور کہاں ختم ہوگا۔ لیکن جب درد لکڑی میں جسم، پتھر میں قبر، آواز میں بین یا کپڑے پر تصویر بن جائے تو کم از کم اسے دیکھا اور پکارا جا سکتا ہے۔
دکھ کو چہرہ دینا اس پر فتح حاصل کرنا نہیں۔
یہ اس کی بے چہرگی سے بچنے کی کوشش ہے۔
لارنس کے ٹائرول میں یہ چہرہ زیادہ تر مصلوب مسیح کا تھا۔ لیکن پاکستان میں دکھ کی کوئی ایک نمائندہ شبیہ نہیں بن سکتی۔ اس ملک کا مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی، قومی، طبقاتی اور ذات پات کا نقشہ اتنا متنوع ہے کہ کسی ایک علامت کو پورے اجتماعی تجربے پر حاوی کردینا، دوسرے بہت سے زخموں کو ایک بار پھر غیر مرئی بنا دے گا۔
یہاں دکھ صلیب پر بھی دکھائی دیتا ہے، علم کے سائے میں بھی، مزار کے چراغ میں بھی، جنازے کی سادگی میں بھی، شمشان کی آگ میں بھی اور لاپتا انسان کی تصویر میں بھی۔
یہاں ایک شخص بیک وقت کئی دائروں میں رہتا ہے۔
ایک بلوچ شیعہ، سنی، ذکری یا کسی اور مذہبی روایت سے وابستہ ہوسکتا ہے۔ ایک سرائیکی عورت بریلوی، دیوبندی، شیعہ، مسیحی یا ہندو خاندان سے تعلق رکھ سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کا باشندہ شیعہ، سنی، اسماعیلی یا نوربخشی ہوسکتا ہے۔ سندھ کا کوئی شخص مذہبی طور پر ہندو اور سماجی اعتبار سے دلت ہوسکتا ہے۔ ایک پشتون خاندان مذہبی سوگ میں صبر اور ضبط کو ترجیح دے سکتا ہے، مگر اپنی قومی یادداشت میں جنگ، نقل مکانی اور ماورائے عدالت قتل کی ایسی زبان رکھتا ہو جو مذہبی تعزیت سے کہیں زیادہ سیاسی ہو۔
اس لیے پاکستان میں دکھ کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ کوئی شخص کس مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پوچھنا پڑے گا کہ وہ کس زبان میں روتا ہے، کس زمین پر دفن ہوتا ہے، کس ریاستی طاقت کے سامنے بے اختیار ہے، کس طبقے میں پیدا ہوا، اس کی ذات کیا ہے، اس کا جنس کیا ہے، اور اس کے گھر میں غم کو آواز دینے کا حق کس کے پاس ہے۔
پاکستانی مسیحی برادری کے لیے لارنس کے مصلوب مسیح سے ایک براہ راست رشتہ قائم ہوتا ہے۔ صلیب صرف نجات کا مذہبی نشان نہیں، جسمانی اذیت کی یاد بھی ہے۔ گڈ فرائیڈے کی عبادت، انجیل میں مصائبِ مسیح کی قرأت، گرجے کی خاموشی، سیاہ یا سنجیدہ پوشاک، حزنیہ بھجن اور مریم کے غم کی یاد، دکھ کو ایک مقدس جسم کے گرد جمع کرتے ہیں۔
یہاں خدا انسان بن کر درد سہتا ہے۔
مسیح کے ہاتھوں میں کیلیں ہیں، پہلو زخمی ہے، ماتھے پر کانٹوں کا تاج ہے اور ماں اس کے سامنے کھڑی ہے۔ یہ الوہی واقعہ ہونے کے ساتھ ایک ماں اور بیٹے کا المیہ بھی ہے۔ مریم کا غم کسی مابعد الطبیعیاتی زبان میں تحلیل نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سامنے بیٹے کا زخمی جسم دیکھتی ہے۔
پاکستانی مسیحی کے لیے یہ صلیب بعض اوقات موجودہ سماجی زندگی کے تجربات سے بھی جڑ جاتی ہے۔ کسی بستی پر حملہ، گرجے کی تباہی، مذہبی الزام کا خوف، صفائی کے پیشوں سے وابستہ طبقاتی تحقیر یا شہری مساوات سے محرومی، مصلوب مسیح کو محض قدیم مذہبی تاریخ نہیں رہنے دیتی۔ صلیب اس انسان کی بھی علامت بن سکتی ہے جسے اپنے ہی ملک میں بار بار ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ مکمل شہری ہے۔
لیکن پاکستانی مسیحی برادری کو صرف مظلومیت کے ایک جامد چہرے میں قید کرنا بھی درست نہیں۔ اس کی عبادت میں دکھ کے ساتھ قیامت، امید اور دوبارہ اٹھائے جانے کا تصور موجود ہے۔ گڈ فرائیڈے کے بعد ایسٹر آتا ہے۔ قبر آخری لفظ نہیں رہتی۔ یوں مسیحی سوگ میں اذیت اور امید ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔
صلیب پر جسم موجود ہے۔
قبر میں جسم غائب ہوجاتا ہے۔
پھر خالی قبر خود ایک نئی علامت بن جاتی ہے۔
پاکستانی سنی اسلام کی صوفی اور بریلوی روایت میں دکھ کا چہرہ بعض اوقات بالکل مختلف ہوجاتا ہے۔ یہاں موت ہمیشہ صرف اختتام نہیں؛ بعض مخصوص روحانی ہستیوں کے لیے اسے وصال کہا جاتا ہے۔ ولی کی وفات کا دن عرس ہے، یعنی محبوبِ حقیقی سے ملاقات کا دن۔
مزار پر چادر چڑھتی ہے، چراغ جلتے ہیں، قوالی ہوتی ہے، فاتحہ پڑھی جاتی ہے، کھانا تقسیم ہوتا ہے اور بعض مقامات پر دھمال بھی ہوتا ہے۔ بظاہر یہ رنگ، روشنی، موسیقی اور اجتماع کا منظر ہے، لیکن اس کے نیچے غیاب کا احساس موجود رہتا ہے۔ لوگ ایک ایسے شخص کے پاس آتے ہیں جو جسمانی طور پر وہاں موجود نہیں، مگر جس کی قبر کو روحانی موجودگی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہاں دکھ قبر کو بند دروازہ نہیں بناتا۔
قبر ملاقات کی جگہ بن جاتی ہے۔
صوفیانہ روایت موت کو مٹاتی نہیں، اس کے معنی بدلتی ہے۔ جدائی کو وصال میں، خاموشی کو سماع میں اور ذاتی محرومی کو اجتماعی حاضری میں منتقل کیا جاتا ہے۔ غم یہاں بعض اوقات آواز، لے اور جسمانی حرکت اختیار کرتا ہے۔ قوالی میں بار بار دہرایا جانے والا ایک مصرع، سننے والے کو اس مقام تک لے جا سکتا ہے جہاں وہ کسی مرے ہوئے انسان، کھوئے ہوئے محبوب اور خدا کے فراق کو ایک ہی جذبے میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
یہاں دکھ ہمیشہ سیاہ لباس نہیں پہنتا۔
کبھی وہ پھولوں کی چادر اوڑھتا ہے۔
کبھی ڈھول کی تھاپ پر اپنے جسم کو حرکت دیتا ہے۔
صوفی اور بریلوی ثقافت میں کربلا کی یاد بھی اہم ہے۔ سلام، منقبت، شہادت نامے، مجالس، نیاز اور بعض علاقوں میں تعزیہ و جلوس سے وابستگی، محرم کو صرف ایک فرقہ وارانہ حد میں بند نہیں رہنے دیتی۔ جنوبی ایشیا کی عوامی مذہبی تاریخ میں مختلف سنی، صوفی اور بعض غیر مسلم گروہوں نے بھی محرم کی رسوم میں مختلف صورتوں سے شرکت کی ہے۔
لیکن یہ اشتراک اس حقیقت کو مٹاتا نہیں کہ عزاداری کی منظم مذہبی، فقہی اور علامتی روایت بنیادی طور پر شیعہ اسلام کے اندر اپنی پوری ساخت حاصل کرتی ہے۔
شیعہ ثقافت میں کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں۔ وہ دکھ کو یاد کرنے، جسم میں اتارنے اور نسل در نسل منتقل کرنے کا ایک مکمل نظام ہے۔ مجلس میں واقعہ زبان اختیار کرتا ہے، مرثیے میں تخیل، نوحے میں لے، ماتم میں جسم اور جلوس میں اجتماعی جگہ۔
علم ایک کٹے ہوئے ہاتھ کی یاد بن سکتا ہے۔
ذوالجناح ایک غائب سوار کی موجودگی۔
جھولا ایک ایسے بچے کا نشان جس کا جسم وہاں نہیں۔
مشک ایک ایسی پیاس کی شے جسے پانی تک پہنچنے نہیں دیا گیا۔
یہاں غیاب خالی نہیں رہتا۔ شے، آواز اور جسمانی حرکت اسے بھر دیتے ہیں۔ ماتم کرنے والا صرف ایک تاریخی واقعہ سن نہیں رہا ہوتا؛ وہ اپنے جسم کو یادداشت کا وسیلہ بناتا ہے۔ سینے پر پڑنے والا ہاتھ اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش ہے جو حال کے انسان اور ماضی کے مقتول کے درمیان موجود ہے۔
مگر کربلا کی علامتوں کو پاکستان کے ہر دکھ کی واحد تشریح بنا دینا بھی مناسب نہیں۔ وہ ایک مخصوص مذہبی روایت کی گہری اور ترقی یافتہ زبان ہیں۔ ان کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب ان کی خصوصیت برقرار رکھی جائے اور انہیں دوسروں کے تجربات پر اس طرح مسلط نہ کیا جائے کہ ہر مظلوم حسین، ہر ظالم یزید اور ہر احتجاج کربلا کہلانے لگے۔
استعارہ جب ہر جگہ استعمال ہونے لگے تو بعض اوقات اصل تاریخی تجربے کی انفرادیت بھی دھندلا جاتی ہے اور دوسرے دکھوں کی اپنی زبان بھی۔
پاکستان کی دیوبندی اور اہل حدیث روایتوں میں غم کا رسمی چہرہ نسبتاً کم نمائشی اور زیادہ ضبط شدہ ہوسکتا ہے، اگرچہ دونوں کو ایک ہی مکتب یا یکساں رسوم میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے اندر بھی مقامی، خاندانی اور طبقاتی فرق موجود ہیں۔
یہاں نمازِ جنازہ، تدفین، دعا، تعزیت، صبر، تقدیر پر ایمان اور قبر کی سادگی کو مرکزی حیثیت مل سکتی ہے۔ نوحہ، جسمانی ماتم، قبروں کی آرائش یا طویل رسمی سوگ سے اجتناب کو مذہبی اخلاص سمجھا جا سکتا ہے۔
اس طرزِ سوگ کو بے حسی کہنا غلط ہوگا۔
یہاں دکھ کا چہرہ کبھی اپنے چہرے کو قابو میں رکھنا ہے۔
آنسو موجود ہوتے ہیں، مگر ان کی نمائش کو محدود کیا جاتا ہے۔ غم زدہ شخص کو یاد دلایا جاتا ہے کہ موت خدا کے حکم سے ہے، انسان نے واپس اسی کی طرف جانا ہے اور صبر اجر کا باعث ہے۔ مذہبی زبان درد کو ختم نہیں کرتی، مگر اسے ایک الٰہی نظم کے اندر رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
کبھی جسم کو پیٹنا دکھ کی رسم ہے۔
کبھی اسی جسم کو ساکت رکھنا۔
ایک روایت میں بلند آواز سے نوحہ تاریخی وفاداری کا اظہار ہوسکتا ہے، دوسری میں خاموش دعا ایمان کی علامت۔ دونوں کو ایک ہی پیمانے سے پرکھنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہر مذہبی روایت انسان کو اپنے ناقابلِ برداشت نقصان کے ساتھ رہنے کے لیے کون سی زبان فراہم کرتی ہے۔
لیکن ضبط کے اپنے مسائل بھی ہیں۔
ہر انسان ایک ہی طرح صبر نہیں کرسکتا۔ بعض اوقات مذہبی اور سماجی نظام غم زدہ فرد سے اتنی جلدی رضا اور سکون کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ اس کے دکھ کو پورا واقع ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ خاص طور پر مردوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ نہ روئیں، مضبوط رہیں، گھر کو سنبھالیں۔ یوں مردانہ ضبط کے نیچے ایک ایسا غم جمع ہوسکتا ہے جسے کوئی زبان میسر نہیں آتی۔
عورتوں کو رونے کی اجازت ہوتی ہے، مگر فیصلہ کرنے کی نہیں۔
مردوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، مگر رونے کی نہیں۔
دکھ کی رسوم میں جنس کی یہ تقسیم تقریباً تمام برادریوں میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سرائیکی وسیب کی بہت سی عوامی ثقافتوں میں عورتیں بین، وین، سیاپا اور ماتمی گیت کے ذریعے مرنے والے کی پوری زندگی کو آواز دیتی ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں کہتیں کہ ایک شخص مر گیا۔ وہ اس کے ساتھ اپنے تعلق، گھر کی معاشی حالت، بچوں کے مستقبل، رشتے داروں کی بے وفائی اور اپنی تنہائی کو بھی ماتم میں شامل کردیتی ہیں۔
عورت کا بین اکثر خاندان کی وہ تاریخ بیان کردیتا ہے جو سرکاری تعزیتی بیان میں جگہ نہیں پاتی۔
وہ کہتی ہے کہ تم چلے گئے تو قرض کون اتارے گا۔
بیٹی کو رخصت کون کرے گا۔
چھت کی مرمت کون کرائے گا۔
میری بیماری میں دوا کون لائے گا۔
یوں ایک شخص کی موت پورے گھر کے معاشی اور جذباتی ڈھانچے کے ٹوٹنے کی آواز بن جاتی ہے۔
مرد جنازے کے انتظام، قبر، مہمانوں اور مذہبی رسم میں مصروف رہتا ہے۔ عورت اس نقصان کے ان حصوں کو زبان دیتی ہے جنہیں رسمی مذہبی بیان اکثر نظر انداز کردیتا ہے۔
پاکستانی ہندو برادریوں میں دکھ کی رسوم خود اندرونی طور پر بہت متنوع ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف ہندو گروہوں، ذاتوں اور مقامی روایتوں کو ایک ہی نمونے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پھر بھی آگ، راکھ، دیا، بھجن، چتا، آبائی یاد اور سوگ کی مدت، موت کو ایک مختلف علامتی جسم فراہم کرتے ہیں۔
قبر میں جسم زمین کے سپرد ہوتا ہے۔
چتا میں جسم آگ کے۔
آگ جسم کو تباہ بھی کرتی ہے اور اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرنے کی علامت بھی بنتی ہے۔ راکھ باقی رہ جاتی ہے۔ وہ بدن کی آخری مادی یاد ہے، مگر اسے بھی کسی مقدس پانی، دریا یا مخصوص مقام کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
یہاں مرنے والے کا جسم مستقل یادگار کی صورت میں زمین کے ایک قطعے کے نیچے باقی نہیں رہتا۔ یاد کو قبر کے بجائے گھر، تصویر، عبادت، روایت اور نسلوں کے اندر جگہ بنانی پڑتی ہے۔
دیا جلانا اندھیرے کو ختم نہیں کرتا۔
وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ اندھیرے میں بھی ہم نے ایک چھوٹی روشنی محفوظ رکھی ہے۔
ہندو مذہبی شناخت کے ساتھ دلت تجربے کو خلط ملط کرنا بھی خطرناک ہوگا۔ دلت بنیادی طور پر ذات، سماجی درجہ بندی اور تاریخی محرومی سے متعلق شناخت ہے۔ تمام ہندو دلت نہیں، اور تمام دلت خاندانوں کا مذہبی و ثقافتی تجربہ یکساں نہیں۔
دلت دکھ کا چہرہ صرف موت کی رسم میں نہیں؛ وہ زندہ جسم پر روزانہ لکھا جا سکتا ہے۔
کسی پیشے کو پیدائشی تقدیر قرار دینا، چھوت چھات، زمین سے محرومی، جبری یا نیم جبری محنت، عبادت گاہ، پانی، تعلیم یا سماجی احترام تک غیر مساوی رسائی، ایک ایسی مصلوبیت پیدا کرتے ہیں جس کے لیے کسی لکڑی کی صلیب کی ضرورت نہیں۔
یہاں دکھ کسی اچانک سانحے کا نام نہیں۔
زندگی کے مسلسل کم تر سمجھے جانے کا نام ہے۔
جب کسی انسان کو زندہ رہتے ہوئے مکمل عزت میسر نہ ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی موت بھی وہی اجتماعی وقار حاصل کرے گی جو کسی بالاتر ذات، طبقے یا برادری کے فرد کی موت کو ملتا ہے؟ کیا اس کے سوگ کے لیے جگہ ہوگی؟ کیا اس کا نام یاد رکھا جائے گا؟ کیا اس کی میت، چتا یا قبر تک وہی احترام پہنچے گا؟
دکھ کی طبقاتی ساخت بھی ہوتی ہے۔
امیر آدمی کی موت پر تعزیتی اشتہارات، بڑی مجلس، وسیع جنازہ اور اخبارات میں ذکر ہوسکتا ہے۔ غریب مزدور کی موت ایک کارخانے کی دیوار کے پیچھے واقع ہوتی ہے۔ اس کے ساتھی چندہ جمع کرکے لاش گاؤں بھیجتے ہیں۔ سرکاری کاغذ میں وہ ایک حادثہ ہے۔ گھر میں وہ واحد کمانے والا شخص تھا۔
کسی کان میں مرنے والے مزدور کا جسم کئی دن بعد نکلتا ہے۔
کسی گٹر میں اترنے والا صفائی کارکن زہریلی گیس سے مر جاتا ہے۔
کسی بھٹے پر کام کرنے والی عورت کا بچہ بیماری سے مر جاتا ہے کیونکہ دوا اور سواری میسر نہیں تھی۔
ان اموات کے گرد مذہبی رسوم ضرور ہوتی ہیں، مگر ان کا اصل سبب طبقاتی اور سماجی ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف فاتحہ، دعا، بھجن یا جنازہ دیکھیں اور اس نظام کو نہ دیکھیں جس نے موت پیدا کی تو ہم دکھ کے چہرے پر مذہبی پردہ ڈال رہے ہوں گے۔
کبھی کسی انسان کی موت تقدیر نہیں ہوتی۔
کسی دوسرے انسان کا منافع ہوتی ہے۔
پاکستان میں قومی اور علاقائی دکھ کی زبانیں مذہبی رسوم کے اندر مکمل طور پر نہیں سماتیں۔ بلوچ تجربے میں لاپتا انسان کی تصویر ایک نئی اور انتہائی طاقت ور علامت بن چکی ہے۔
یہاں جسم موجود نہیں۔
لاش بھی موجود نہیں۔
قبر بھی نہیں۔
موت کی سرکاری تصدیق بھی نہیں۔
گھر والے نہیں جانتے کہ سوگ کریں یا انتظار۔
روئیں یا واپسی کے لیے دروازہ کھلا رکھیں۔
میت کے بغیر مذہبی رسم مکمل نہیں ہوتی اور خبر کے بغیر امید ختم نہیں ہوتی۔ یوں خاندان ایک معلق وقت میں رہنے لگتا ہے۔ کیلنڈر آگے بڑھتا ہے، بچے بڑے ہوتے ہیں، ماں کے بال سفید ہوجاتے ہیں، مگر لاپتا شخص کی تصویر میں عمر نہیں بڑھتی۔
احتجاجی کیمپ میں رکھی ہوئی تصویر صرف یادگار نہیں۔
وہ غائب جسم کی عارضی جگہ ہے۔
ماں اسے سینے سے لگاتی ہے، بہن اسے لانگ مارچ میں اٹھاتی ہے، بچہ اس تصویر کے نیچے نام لکھا ہوا پڑھتا ہے۔ تصویر گواہی بھی ہے، سوال بھی، الزام بھی اور ایک ایسے شخص کی شہری موجودگی بھی جسے طاقت نے عام نگاہ سے نکال دیا۔
کسی مقتول کی قبر سوگ کو ایک جگہ دیتی ہے۔
لاپتا انسان کا خاندان قبر سے بھی محروم رہتا ہے۔
اس لیے اس کا دکھ ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اسے اختتام کی اجازت نہیں ملتی۔
لارنس کے ٹائرول میں صلیب پر جسم لٹکا تھا۔ بلوچ احتجاج میں اکثر صرف چہرہ رہ گیا ہے، جسم طاقت کے قبضے میں یا مکمل نامعلوم۔
ایک میں اذیت دکھائی دیتی ہے۔
دوسرے میں اذیت کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔
پشتون خطے میں معاصر دکھ جنگ، دہشت گردی، فوجی کارروائی، بارودی سرنگ، نقل مکانی، ماورائے عدالت قتل، فرقہ وارانہ حملے اور نسلی شبہے کے تجربات سے بنتا ہے۔ یہاں مسجد، حجرہ، جنازہ، قبرستان، جرگہ اور احتجاجی جلسہ ایک دوسرے سے الگ مقامات نہیں رہتے۔
ایک جنازہ سوگ بھی ہوسکتا ہے اور سیاسی اجتماع بھی۔
ایک قبر خاندان کی یاد بھی اور ریاست سے سوال بھی۔
پشتون لوک شاعری، ٹپہ اور چار بیتہ نے طویل عرصے سے جدائی، جنگ، ہجرت اور جوان موت کو زبان دی ہے۔ مختصر سا ٹپہ کبھی پورے قبیلے، جنگ یا محبت کے المیے کو دو مصرعوں میں سمیٹ لیتا ہے۔ اس آواز میں عورت بھی بولتی ہے، محبوبہ بھی، ماں بھی اور وہ زمین بھی جہاں سے مرد جنگ، روزگار یا جلاوطنی کی طرف چلا گیا۔
مردانہ ثقافت بظاہر ضبط، غیرت اور حوصلے پر زور دے سکتی ہے، مگر لوک شاعری کے اندر مرد کے مرنے، نہ لوٹنے یا پہاڑوں میں کھو جانے کا وہ غم محفوظ رہتا ہے جسے روزمرہ گفتگو میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
بارودی سرنگ سے محروم ہونے والی ٹانگ بھی دکھ کا چہرہ ہے۔
خالی آستین بھی۔
وہ بچہ بھی جو دھماکے کی آواز پر چونک کر زمین پر لیٹ جاتا ہے، اگرچہ اس وقت کوئی دھماکا نہ ہوا ہو۔
جنگ صرف مرنے والوں کے جسم پر نہیں رہتی۔
زندہ بچ جانے والوں کے اعصاب میں بھی رہتی ہے۔
سرائیکی وسیب میں دکھ کی ایک بڑی زبان آواز ہے۔ وین، دوہڑا، کافی، نوحہ اور لوک گیت ذاتی نقصان کو زمین، دریا، ہجرت، غربت اور وسیب کی محرومی سے جوڑ دیتے ہیں۔
کسی عورت کا بین اپنے بیٹے یا شوہر کے لیے شروع ہوتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس میں سوکھا ہوا کھیت، قرض، جاگیردار، پردیس، سیلاب اور خالی گھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ مرنے والا شخص صرف ایک رشتہ نہیں تھا؛ وہ گھر کا معاشی سہارا، سماجی تحفظ اور آنے والے کل کی ایک صورت تھا۔
سرائیکی کافی میں محبوب، خدا، انسان اور وطن کے درمیان سرحدیں نرم ہوجاتی ہیں۔ ایک شخص کا فراق کبھی وسیب سے دوری کا فراق بن جاتا ہے۔ دریا محبوب بھی ہے، رزق بھی، تاریخ بھی اور وہ طاقت بھی جو سیلاب کی صورت میں گھر لے جاتی ہے۔
جنوبی پنجاب اور سرائیکی خطے میں سیلاب کے بعد مٹی میں دبی ہوئی چارپائی، بہہ جانے والی فصل، جانور کی رسی اور اسکول کی گیلی کتابیں بھی دکھ کی علامتیں ہیں۔ یہاں لاش کے ساتھ گھر، روزگار اور زمین بھی سوگ کا حصہ بنتے ہیں۔
کسی بڑے شہر کا آدمی مکان کھو کر دوسری جگہ کرائے پر رہ سکتا ہے۔
کسان زمین کھو دے تو اپنی معاشی زندگی کے ساتھ آبائی یاد بھی کھو دیتا ہے۔
زمین صرف ملکیت نہیں ہوتی۔
مردوں کی قبریں، عورتوں کے گیت، بچوں کے نام اور خاندان کی تاریخ بھی اسی میں ہوتی ہے۔
کشمیر میں دکھ کا ایک نمایاں چہرہ رکا ہوا یا نامکمل سوگ ہے۔ لاپتا انسان، نامعلوم قبر، تقسیم شدہ خاندان، بند راستہ، احتجاجی جنازہ، میت کی حوالگی کا انتظار اور وہ ماں یا بیوی جسے معلوم نہیں کہ وہ کس رشتے کی زبان اختیار کرے۔
جس عورت کا شوہر لاپتا ہو، وہ بیوہ ہے یا منتظر بیوی؟
کیا وہ سوگ کے کپڑے پہنے؟
کیا دوسری زندگی شروع کرے؟
کیا دروازے پر آنے والی ہر دستک پر چونکے؟
اس کی زندگی کسی واضح مذہبی یا قانونی خانے میں نہیں سماتی۔
کشمیر میں جنازہ بھی محض موت کی رسم نہیں رہتا۔ وہ اجتماعی گواہی، مزاحمت اور شناخت کا مقام بن سکتا ہے۔ اسی لیے طاقت اکثر صرف زندہ جسم پر نہیں، مردہ جسم کی عوامی موجودگی پر بھی کنٹرول چاہتی ہے۔ میت کہاں دفن ہوگی، جنازے میں کتنے لوگ آئیں گے، کس نام سے پکارا جائے گا، قبر پر کیا لکھا جائے گا، یہ سب سیاسی سوال بن سکتے ہیں۔
کسی انسان کو قتل کرنا ایک عمل ہے۔
اس کے سوگ کو روکنا اس عمل کو اجتماعی یادداشت سے نکالنے کی کوشش۔
مگر روکا ہوا سوگ ختم نہیں ہوتا۔
وہ گیت، تصویر، قبرستان، دیوار، نعرہ اور نسلوں کی گفتگو میں واپس آتا ہے۔
گلگت بلتستان میں دکھ کو وہاں کے پہاڑوں، وادیوں اور مذہبی تنوع سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نوربخشی آبادیوں کی اپنی مذہبی یادیں اور رسوم ہیں۔ مختلف وادیوں کے مقامی رواج بھی ایک دوسرے سے جدا ہیں۔
پہاڑ سیاح کے لیے حسن ہے، مگر وہاں رہنے والے کے لیے کبھی راستہ، دیوار، خطرہ اور قبر بھی۔
برفانی تودہ، لینڈ سلائیڈنگ، حادثہ، دریا میں گاڑی گرنا، کئی روز سڑک بند رہنا یا کسی بیمار کو ہسپتال تک نہ پہنچا پانا، جغرافیے کو دکھ کا فعال کردار بنا دیتا ہے۔ یہاں فاصلے صرف میلوں میں نہیں ناپے جاتے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ سردیوں میں کون سا راستہ کھلا رہے گا، مریض کتنی دیر میں شہر پہنچے گا اور میت کو آبائی گاؤں واپس لانا ممکن ہوگا یا نہیں۔
فرقہ وارانہ تشدد کی یاد کسی خاص سڑک، بازار، محلے یا بس کے سفر سے چمٹ سکتی ہے۔ بعد میں وہ جگہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ بھی جائے، وہاں سے گزرنے والے جسم پرانی خبر اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔
گلگت بلتستان کا دکھ صرف حادثے اور فرقہ واریت کا نہیں۔ آئینی اور سیاسی شناخت کا معلق پن بھی اس میں شامل ہے۔ آدمی جس خطے کو اپنا وطن کہتا ہے، وہ نقشے میں موجود ہے، مگر اس کی مکمل سیاسی حیثیت مسلسل سوال میں رہتی ہے۔ یوں زمین مادی طور پر پاؤں کے نیچے ہے، لیکن شہری شناخت پوری طرح ہاتھ میں نہیں آتی۔
یہ بھی ایک قسم کا غیاب ہے۔
اپنے ہی وطن میں مکمل طور پر درج نہ ہونے کا غیاب۔
پاکستان کے سندھی، پنجابی، مہاجر اور دوسرے شہری و قومی تجربات بھی دکھ کی الگ زبانیں رکھتے ہیں۔ سندھ میں دریا، شاہ لطیف کی شاعری، وین، درگاہ، ہجرت، قحط، کاروکاری، جاگیرداری اور اقلیتی عدم تحفظ ایک دوسرے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ کراچی میں سمندر، لاش گھر، ہڑتال، ہجرت، بوری، شناختی کارڈ، بند فیکٹری اور نامعلوم قبر نے کئی نسلوں کے شہری خوف کو شکل دی ہے۔
پنجاب میں تقسیم کی یاد، خالی حویلی، سرحد کے پار رہ جانے والا گاؤں، ہجرت کے قصے، میلوں میں گائے جانے والے المیے، سیاپا اور مشترک قبریں دکھ کے تاریخی ذخیرے ہیں۔ لیکن غالب قومی بیانیہ بعض اوقات اکثریتی خطے کے دکھ کو پورے ملک کا دکھ بنا دیتا ہے اور دوسرے علاقوں کے زخم حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔
ریاست بھی طے کرتی ہے کہ کس موت کو قومی دکھ کہا جائے گا۔
کس کی تصویر سرکاری عمارت پر لگے گی۔
کس کے لیے پرچم سرنگوں ہوگا۔
کس کے جنازے کو براہ راست دکھایا جائے گا۔
کس کی ماں کو کیمرے تک رسائی ملے گی۔
اور کس کی لاش ایک پولیس فائل، ہسپتال کے رجسٹر یا نامعلوم قبر میں ختم ہوجائے گی۔
تمام اموات برابر نہیں سمجھی جاتیں۔
کچھ موتیں قومی یادگار حاصل کرتی ہیں۔
کچھ کو غداری، جرم، فرقہ، ذات یا دور دراز جغرافیے کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔
یہاں ادب اور فن کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
ریاست سنگ مرمر کی یادگار بناتی ہے۔ فن ان ناموں کو ڈھونڈتا ہے جو سنگ مرمر سے باہر رہ گئے۔
صحافت عدد بتاتی ہے۔ ادب عدد کو دوبارہ انسانوں میں تقسیم کرتا ہے۔
بیس آدمی مرے، یہ خبر ہے۔
ان بیس میں ایک شخص صبح اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑ کر گیا تھا؛ ایک کی جیب میں گھر کی دوائی تھی؛ ایک نوجوان نے شام کو دوست سے ملنے کا وعدہ کیا تھا؛ ایک عورت نے اس دن پہلی تنخواہ وصول کی تھی، یہ المیہ فن کا علاقہ ہے۔
عدد انتظام کے لیے ضروری ہے، مگر اس میں چہرہ نہیں ہوتا۔
فن چہرہ واپس لاتا ہے۔
لیکن چہرہ واپس لانے کے عمل میں بھی احتیاط درکار ہے۔ کسی دوسرے مذہب، قوم یا طبقے کے دکھ کو اپنی پسندیدہ علامت میں ترجمہ کردینا ہمیشہ ہمدردی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ اس کے تجربے پر قبضہ ہوتا ہے۔
بلوچ لاپتا شخص کو فوراً کربلا کا استعارہ بنا دینا، مسیحی مقتول کو محض قومی شہید کہنا، دلت محرومی کو صرف غربت میں تحلیل کردینا یا پشتون جنگ زدہ تجربے کو ایک عمومی انسانی المیے میں بدل دینا، ان مخصوص طاقتوں اور تاریخی حالات کو چھپا سکتا ہے جنہوں نے وہ دکھ پیدا کیا۔
انسانی دکھ میں اشتراک موجود ہے۔
لیکن تمام دکھ ایک جیسے نہیں۔
مصلوب مسیح، کربلا کا مقتول، ذات پات سے ذلیل کیا گیا دلت، لاپتا بلوچ، بارودی سرنگ سے زخمی پشتون، سیلاب میں بے گھر سرائیکی اور نامعلوم قبر کا منتظر کشمیری ایک دوسرے کے دکھ کو روشن کرسکتے ہیں، مگر ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے۔
اخلاقی مسئلہ یہی ہے کہ اشتراک کو پہچانا جائے، فرق کو مٹائے بغیر۔
پاکستان کی کثیر صوتی تہذیب میں دکھ کبھی بلند آواز سے بولتا ہے، کبھی خاموش رہنے کو عبادت سمجھتا ہے۔ کبھی بدن کو حرکت دیتا ہے، کبھی جسم کو قابو میں رکھتا ہے۔ کبھی قبر بناتا ہے، کبھی راکھ بہاتا ہے، کبھی تصویر اٹھاتا ہے اور کبھی مزار پر چراغ جلا کر کہتا ہے کہ غیر موجود انسان اب بھی کسی صورت میں موجود ہے۔
کبھی دکھ کے پاس لاش ہوتی ہے مگر انصاف نہیں۔
کبھی انصاف کا مطالبہ ہوتا ہے مگر لاش نہیں۔
کبھی قبر ہے مگر نام نہیں۔
کبھی نام ہے مگر قبر نہیں۔
کبھی انسان مر چکا ہوتا ہے اور رسم اسے زندہ رکھتی ہے۔
کبھی انسان زندہ ہوسکتا ہے مگر طاقت نے اسے دنیا سے غائب کردیا ہوتا ہے۔
لارنس نے ٹائرول کے پہاڑوں میں مسیحوں کی ایک پوری آبادی دیکھی تھی۔ باغی مسیح، تھکا ہوا مسیح، تلخ مسیح، خود ترس مسیح، سوچنے والا مسیح، بناوٹی مسیح اور وہ مسیح جو صلیب سے گر کر برفانی ہوا میں ٹوٹا پڑا تھا۔
پاکستان میں ہمیں کسی ایک مقدس چہرے کی آبادی نہیں ملتی۔
یہاں دکھ کے بہت سے چہرے ہیں۔
مصلوب جسم۔
خالی زین۔
پھولوں کی چادر۔
سادہ قبر۔
جلتی چتا۔
راکھ کا برتن۔
لاپتا شخص کی تصویر۔
بارودی سرنگ کے پاس پڑا ہوا جوتا۔
سیلاب کے پانی میں تیرتی اسکول کی کتاب۔
برف کے نیچے دبے ہوئے مسافر کا نام۔
کشمیر کی بند سڑک۔
سرائیکی عورت کا وین۔
پشتون ٹپے کا مختصر مگر گہرا زخم۔
گرجے کی خاموش گھنٹی۔
مسجد میں پڑھی جانے والی نمازِ جنازہ۔
مزار پر جلتا ہوا چراغ۔
ان میں سے کوئی ایک پاکستان کے دکھ کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔
یہ سب مل کر بھی شاید پوری تصویر نہیں بناتے۔
کیونکہ ہر گھر کے اندر ایک ایسی شے ہوسکتی ہے جسے کسی مردم شماری، مذہبی تاریخ یا قومی بیانیے میں جگہ نہ ملے: کسی مرنے والے کی عینک، ایک ادھورا خط، چارپائی کے نیچے رکھے جوتے، موبائل میں محفوظ آخری آواز، دوا کی خالی شیشی، کسی بچے کی کاپی یا دروازے کے پیچھے لٹکی ہوئی چھڑی۔
عوامی دکھ بڑی علامتیں بناتا ہے۔
ذاتی دکھ چھوٹی چیزوں میں پناہ لیتا ہے۔
شاید تمام المیہ فن اسی کوشش کا حصہ ہے کہ ان اشیا، آوازوں اور چہروں کو مکمل غیاب سے بچایا جائے۔ فن موت کو شکست نہیں دے سکتا، لاپتا شخص کو واپس نہیں لا سکتا، سیلاب میں بہا ہوا گھر دوبارہ نہیں بنا سکتا اور تاریخ کی ناانصافی کو محض ایک نظم سے ختم نہیں کرسکتا۔
لیکن وہ طاقت کو یہ حق دینے سے انکار کرسکتا ہے کہ جسے اس نے زخمی یا غائب کیا، اسے یادداشت سے بھی مٹا دے۔
وہ کہہ سکتا ہے:
یہ شخص یہاں تھا۔
اس نے زندگی گزاری۔
اس نے محبت کی۔
اسے خوف محسوس ہوا۔
اس کے ساتھ ظلم ہوا۔
اس کا دکھ تمھاری مقررہ قومی، مذہبی یا فرقہ وارانہ زبان سے بڑا یا مختلف تھا۔
اسے اسی کی زبان میں سنو۔
شاید پاکستان کے المیہ فن کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ کسی ایک صلیب، علم، قبر، مزار، چتا یا تصویر کو سب پر حاوی کیے بغیر ان سب کے درمیان ایک ایسی جگہ بنا سکے جہاں مختلف دکھ ایک دوسرے کے سامنے موجود رہیں۔
نہ ایک دوسرے میں تحلیل ہوں۔
نہ ایک دوسرے سے بے خبر۔
ایک مسیح دوسرے مسیح جیسا نہیں تھا، حالاں کہ سب ایک ہی صلیب کی یاد سے تراشے گئے تھے۔
اسی طرح ایک ماں کا بین دوسری ماں کے بین جیسا نہیں، اگرچہ دونوں نے بیٹا کھویا ہو۔ ایک مذہبی شہادت، ایک ریاستی گم شدگی، ایک ذات پات کی ذلت اور ایک طبقاتی حادثے کو صرف “انسانی دکھ” کہہ دینا کافی نہیں۔
دکھ انسانی ہے۔
لیکن اسے پیدا کرنے والی طاقت ہمیشہ عمومی نہیں ہوتی۔
اس کا کوئی نام ہوتا ہے۔
کوئی ادارہ۔
کوئی عقیدہ۔
کوئی طبقہ۔
کوئی فوج، منڈی، ذات، خاندان یا ریاستی قانون۔
سچا المیہ فن صرف آنسو نہیں دکھاتا۔ وہ اس ہاتھ کو بھی دیکھتا ہے جس نے زخم لگایا۔
اور شاید اسی لیے ہم اپنے عہد کے دکھ کے پورے چہرے تراشنے سے ڈرتے ہیں۔
ہمیں خوف ہوتا ہے کہ اگر چہرہ مکمل ہوگیا تو قاتل بھی تصویر میں آجائے گا۔
اگر لاپتا انسان کی آنکھیں ہم پر ٹھہر گئیں تو ہمیں یہ بھی پوچھنا پڑے گا کہ اسے کس نے غائب کیا۔
اگر صفائی کارکن کا زخمی جسم سامنے آگیا تو صرف دعا کافی نہیں رہے گی، ہمیں ذات، پیشے اور شہری برابری پر بات کرنا پڑے گی۔
اگر سیلاب زدہ کسان کی مٹی سے بھری ہوئی چارپائی دکھائی دی تو ہمیں قدرتی آفت کے ساتھ زمین، ریاستی ترجیحات اور طبقاتی ناانصافی کو بھی دیکھنا ہوگا۔
اگر کسی مذہبی اقلیت کے جلے ہوئے گھر کی دیوار سامنے رہی تو بین المذاہب ہم آہنگی کے رسمی جملے ناکافی ہوجائیں گے۔
شاید اسی لیے ہمیں دکھ کی ایسی تصویریں پسند ہیں جن میں ظلم کا سبب غائب ہو۔
خوب صورت مصلوب جسم۔
بے نام شہید۔
مقدس قربانی۔
قومی سانحہ۔
قدرتی آفت۔
ان الفاظ میں درد موجود ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دھندلا جاتی ہے۔
لارنس کے کسانوں نے اپنے مسیحوں کو بہت زیادہ انسان بنا دیا تھا۔ کسی کے چہرے پر غصہ تھا، کسی پر نفرت، کسی پر بے بسی۔ وہ مقدس نمونوں کی ہموار خوب صورتی سے نکل کر مقامی آدمیوں جیسے ہوگئے تھے۔
پاکستانی فن کو بھی اپنے دکھ کو اتنا ہی مقامی، جسمانی اور انسانی بنانا ہوگا۔
ایسا مسیح جو پاکستانی مسیحی کی سماجی تنہائی سے بات کرسکے۔
ایسی کربلا جو اپنی شیعہ مذہبی خصوصیت برقرار رکھتے ہوئے دوسرے مظلوموں کو ان کی اپنی زبان سے محروم نہ کرے۔
ایسا مزار جہاں وصال کی روشنی کے ساتھ غریب زائر کی زندگی بھی دکھائی دے۔
ایسا جنازہ جس میں صبر کے وعظ کے نیچے دبے ہوئے خوف کو بھی سنا جائے۔
ایسی چتا جس کی آگ مذہبی رسم کے ساتھ دلت سماجی محرومی کو بھی روشن کرے۔
ایسی تصویر جسے اٹھائے ہوئے بلوچ ماں کو محض صبر کی تلقین نہ کی جائے۔
ایسا پشتون ٹپہ جس میں جنگ کے ساتھ جنگ پیدا کرنے والی طاقتوں کا ذکر بھی ہو۔
ایسا سرائیکی وین جو ذاتی موت کے ساتھ وسیب کی محرومی بول سکے۔
ایسی کشمیری قبر جو صرف شہادت نہیں، نامکمل شہریت اور روکے ہوئے سوگ کی گواہی بھی دے۔
ایسا گلگتی پہاڑ جو سیاحتی حسن کے پیچھے چھپی ہوئی دوری، خطرے اور سیاسی معلق پن کو سامنے لائے۔
تب شاید دکھ کسی ایک فرقے، مذہب یا قوم کی ملکیت نہیں رہے گا۔
اور نہ اپنی تاریخی خصوصیت کھو کر ایک بے ضرر عمومی جذبہ بنے گا۔
وہ بہت سی زبانوں میں بولے گا۔
کبھی دعا کی طرح۔
کبھی نوحے کی طرح۔
کبھی گیت، نعرے، خاموشی یا عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کی طرح۔
کبھی صرف ایک تصویر کی طرح، جس کے نیچے نام اور تاریخ لکھی ہو۔
لارنس کے ٹائرول میں مسافر صلیب کے سامنے ٹوپی اتار کر آگے بڑھ جاتا تھا۔
ہمارے لیے صرف سر جھکا کر آگے بڑھ جانا کافی نہیں۔
ہمیں رک کر یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ یہ دکھ کس نے پیدا کیا، کس زبان میں اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے اور ہم کہیں اسے اپنی پسندیدہ علامت میں ترجمہ کرکے اس کی اصل آواز تو نہیں چھین رہے۔
دکھ کا احترام صرف اس پر رونا نہیں۔
اسے اس کے اپنے نام سے پکارنا بھی ہے۔
اور شاید تمام سچا المیہ فن اسی نام کو مٹنے سے بچانے کی کوشش ہے۔