حالیہ امریکہ–اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ صرف جنگی کارروائیوں ہی نہیں بلکہ اس وسیع تر ریاستی، مالیاتی اور سیاسی نیٹ ورک کا بھی جائزہ لیا جائے جو اس پورے خطے کی عسکری معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ اس نظام میں متحدہ عرب امارات ایک مرکزی مقام رکھتا ہے۔ یہ صرف مغربی فوجی طاقت کا اسٹریٹجک اتحادی ہی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ، آمرانہ حکمرانی اور علاقائی سکیورٹی اتحادوں کو جوڑنے والا ایک اہم مالیاتی اور سیاسی مرکز بھی ہے۔
پاکستان کے مبصرین کے لیے یہ حقیقت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور ملک کی سول و فوجی نوکر شاہی کے متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندانوں کے ساتھ گہرے اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں کرپشن، سرپرستی کے نیٹ ورکس اور سیاسی مراعات کے ذریعے جمع کی گئی بڑی دولت امارات کی مالیاتی اور رئیل اسٹیٹ منڈیوں میں محفوظ پناہ گاہ حاصل کرتی رہی ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان کے حکمران حلقے اکثر یو اے ای کو معاشی کامیابی اور جدید حکمرانی کے ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرکزی اختیار، عالمی سرمایہ کے ساتھ قریبی تعلقات اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد تیز رفتار ترقی کی ضمانت ہیں۔
لیکن یو اے ای کی سیاسی معیشت کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ اماراتی ماڈل محض کاروباری کامیابی یا تکنیکی جدیدیت کی کہانی نہیں ہے۔ یہ دراصل عالمی سامراجی سرمایہ داری کی ساختوں میں گہرائی سے پیوست ہے، جس کی بنیاد مہاجر مزدوروں کے سخت نظام، مالیاتی رازداری اور مغربی فوجی و صنعتی کمپلیکس کے ساتھ گہرے اشتراک پر قائم ہے۔ یہی ریاست جو چمکتے ہوئے مالیاتی اضلاع اور عیش و عشرت کے عظیم الشان منصوبوں کی میزبانی کرتی ہے، خلیج میں امریکی قیادت میں قائم سکیورٹی نظام کا ایک اہم لاجسٹک اور اسٹریٹجک ستون بھی ہے—ایک حقیقت جو ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے دوبارہ واضح کر دی ہے۔
اس ماڈل کو سمجھنا صرف مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو سمجھنے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ پاکستان کے حکمران طبقات کے پھیلائے گئے نظریاتی بیانیے کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ یو اے ای کے معاشی نظام کے لیے ان کی تعریف دراصل ترقی کی حقیقی فکر سے کم اور ایک ایسے سیاسی معاشی ڈھانچے سے وابستگی کی عکاس ہے جس میں دولت کا ارتکاز، آمرانہ حکمرانی اور عالمی مالیاتی انضمام ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔
پاکستان کے عوام کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ جب تک ملک کی سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ اسی قسم کے طاقت اور دولت کے ماڈلز کے ساتھ جڑی رہے گی، ان سے سماجی انصاف، معاشی برابری یا حقیقی جمہوری احتساب کی توقع رکھنا ایک گہرے فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس یو اے ای کی مثال—اور اس کے پیچھے موجود عالمی نظام—یہ واضح کرتی ہے کہ حکمران اشرافیہ کے مفادات کس حد تک انہی ڈھانچوں کے تسلسل سے وابستہ ہیں جو عام شہریوں کو استحصال اور جبر کے دائرے میں قید رکھتے ہیں۔
تعارف
موجودہ عالمی نظام میں سرمایہ داری کو اکثر ایک ایسے معاشی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو آزاد تجارت، جمہوریت اور رضاکارانہ تبادلے پر مبنی ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں سرمایہ داری کی ترقی ریاستی جبر، فوجی طاقت، مزدوروں کے استحصال اور عالمی مالیاتی نیٹ ورکس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات اس رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں معاشی ترقی، آمرانہ سیاست اور عسکری اتحاد ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
کہتے ہیں۔ (Coercive Capitalism)”یہی وہ ماڈل ہے جسے ناقدین “جبری سرمایہ دا
متحدہ عرب امارات: ایک نوجوان مگر طاقتور ریاست
متحدہ عرب امارات 1971ء میں برطانیہ کے خلیجی محافظتی نظام کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا۔ سات ریاستوں (امارات) پر مشتمل اس وفاق میں ابو ظہبی اور دبئی اصل طاقت کے مراکز ہیں جبکہ شمالی امارات نسبتاً کمزور ہیں۔
اس ریاستی نظام میں جمہوری نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پارلیمنٹ مشاورتی ہے اور انتخابات محدود اور ریاستی کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی بھی سخت نگرانی اور پابندیوں کے تحت ہے۔
اسی لیے اماراتی ریاست نے اپنی بقا کے لیے عالمی تجارت اور مغربی عسکری اتحادوں میں گہری شمولیت اختیار کی۔
کفالہ نظام: معاشی ترقی کی پوشیدہ قیمت
متحدہ عرب امارات کی شاندار اقتصادی ترقی کا ایک اہم پہلو کفالہ نظام ہے۔ اس نظام کے تحت غیر ملکی مزدور اپنے آجر کے ساتھ قانونی طور پر بندھے ہوتے ہیں۔
- لاکھوں مزدوروں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں
- بھاری بھرتی فیس کے قرضوں میں جکڑ دیا جاتا ہے
- یونین سازی پر پابندی ہے
جنوبی ایشیا سے آنے والے مزدور امارات کی آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ ہیں۔ یہی مزدور دبئی کی فلک بوس عمارتوں، بندرگاہوں اور سیاحتی منصوبوں کی بنیاد ہیں، مگر انہیں محدود حقوق اور سخت حالات کا سامنا رہتا ہے۔
آزاد تجارتی زون اور عالمی سرمایہ
دبئی اور ابو ظہبی نے خود کو عالمی سرمایہ داری کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔
- دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر
- ایمریٹس ایئر لائن
- ڈی پی ورلڈ بندرگاہی نیٹ ورک
جیسے منصوبوں نے امارات کو عالمی تجارت اور لاجسٹکس کا بڑا مرکز بنا دیا ہے۔
مگر اسی کے ساتھ یہ ریاست سرمایہ کے خفیہ بہاؤ، منی لانڈرنگ اور مالیاتی رازداری کے لیے بھی مشہور ہے۔ مختلف ممالک کے اولیگارچ، کرپٹ سیاست دان اور مالیاتی نیٹ ورکس یہاں محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ تلاش کرتے ہیں۔
عالمی عسکری نظام میں امارات کا کردار
امارات کی طاقت کا دوسرا ستون اس کا امریکی عسکری اتحاد ہے۔
- ابو ظہبی کا الظفرہ ایئر بیس امریکی فضائیہ کا اہم اڈہ ہے
- دبئی کی جبل علی بندرگاہ امریکی بحریہ کی بڑی لاجسٹک سہولت ہے
:امارات نے اربوں ڈالر کے امریکی اور یورپی ہتھیار خریدے ہیں جن میں شامل ہیں
- ایف 16 لڑاکا طیارے
- پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظام
- ڈرون اور ہیلی کاپٹر
اماراتی افواج نے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ افغانستان، کوسووو اور خلیجی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔
جنگ کا کاروبار اور علاقائی سیاست
محمد بن زاید کے دور میں امارات نے اپنی عسکری اور سیاسی سرگرمیوں کو مزید بڑھایا۔
اماراتی قیادت سیاسی اسلام اور جمہوری تحریکوں دونوں کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے عرب بہار کے بعد خطے میں مختلف مداخلتیں کیں۔
- بحرین میں احتجاجی تحریک کے خلاف کارروائی
- مصر میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی حمایت
- لیبیا، یمن اور سوڈان میں عسکری کردار
یہ تمام اقدامات مغربی طاقتوں کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
جبری سرمایہ داری کا ماڈل
متحدہ عرب امارات کی مثال یہ دکھاتی ہے کہ جدید سرمایہ داری اکثر آزاد منڈی کے بجائے طاقت، فوجی اتحاد اور مزدوروں کے جبر کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
:یہ ماڈل تین ستونوں پر کھڑا ہے
- غیر جمہوری سیاسی نظام
- مزدوروں پر سخت کنٹرول
- عالمی عسکری اتحاد اور مالیاتی نیٹ ورکس
نتیجہ
متحدہ عرب امارات آج عالمی سرمایہ داری کے ایک ایسے ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جہاں معاشی خوشحالی، آمرانہ سیاست اور عسکری طاقت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
یہ ماڈل بظاہر ترقی، جدیدیت اور عالمی رابطوں کی علامت نظر آتا ہے، مگر اس کے پیچھے مزدوروں کے استحصال، مالیاتی طاقت اور جنگی معیشت کا گہرا کردار موجود ہے۔
اسی لیے ناقدین کے مطابق حقیقی چیلنج صرف جغرافیائی تنازعات نہیں بلکہ جمہوری حکمرانی، معاشی انصاف اور عوامی خودمختاری کی وہ تحریکیں ہیں جو اس پورے نظام کو بنیادی سطح پر سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں۔